Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 2
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 2
“اماں دیکھو نا وہ کیسے ہمارے بابا کے ساتھ چپکی ہوئی تھی؟؟؟شبانہ جو روٹیاں بنا کر ابھی فارغ ہوئی تھی شاہانہ اور حسنا نے اسے بجھے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔
“ابھی بتاتی ہوں اس کلموہی ڈائن کو میری بچیوں کا حق مارتی ہے ۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی ۔۔۔
“شبانہ تو بھی میرے ساتھ نکل حویلی چھوڑتا جاؤں تجھے ۔۔۔باہر نکلتے ہوئے صابر حسین کی آواز سن کر شبانہ دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔۔
اور تنبیہی نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔۔۔
“ہم سنبھال لیں گے اماں آپ جاؤ “شاہانہ نے کہا تو وہ صابر حسین کے پیچھے پیچھے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
ماہ اپنے کپڑے استری کرنے لگی تھی کالج کے ٹرپ پر جانے کے لیے ۔۔۔۔
شاہانہ اور حسنا دونوں نے مڈل تک ہی پڑھا تھا ۔ان دونوں کی پڑھائی سے جان جاتی تھی ۔ہر روز بس نت نئے فیشن کرتی تھی ۔۔۔۔صابر حسین کو بہت خواہش تھی کہ اس کی بیٹیاں تعلیم حاصل کریں ۔۔۔ماہ کو پڑھنا بہت پسند تھا ۔۔صابر حسین کی خواہش اس کے روپ میں پوری ہو رہی تھی ۔اس گاؤں میں سردار جلال الدین نے سکول اور ایک پرائیویٹ کالج بنوا دیا تھا جہاں اس گاؤں کی بچیاں تعلیم حاصل کرتیں تھیں ۔۔۔
“تو نے میرے بابا سائیں کو اسی بازو سے چھوا تھا نا “شاہانہ نے گرم استری اس کے بازو پر لگا دی ۔۔۔
ماہ کی چیخوں سے سارا گھر گونج اٹھا ۔۔۔
بازو جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا چند لمحوں میں ہی اسکے بازو کی جلد جھلس کر سرخ اور نیلی ہوچکی تھی۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔
وہ بھاگ کر گھر کے صحن میں لگے ہوئے ہینڈ پمپ کے پاس گئی اور اس ایک ہاتھ سے اسے دباتے ہوئے پانی نکال کر بازو اس کے نیچے کیے کھڑی رہی ۔۔۔ٹھنڈا پانی پڑنے کے باوجود بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔
وہ آنسو پونچھ کر اپنے کپڑے لیے تبدیل کرنے چلی گئی۔۔۔۔
جاتے ہوئے شکوہ کناں نگاہ شاہانہ اور حسنا پر ڈالنا نا بھولی جو اسے استہزایہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
***********
حویلی کے مالک سردار جلال الدین تھے انکی شریک حیات وفات پا چکی تھیں۔
ان کے تین بیٹے تھے
سب سے بڑے سردار حماد جنہوں نے سردار جلال کے سب سے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے اپنے والد کا عہدہ سنبھالا۔۔۔انکی تین اولادیں تھیں سب سے بڑی دلنشین ،جو تعلیم مکمل کیے ابھی حویلی میں ہی امور خانہ داری سیکھ رہی تھی۔۔وہ ایک کم گو اور حساس لڑکی تھی سب کا خیال رکھنے والی ۔۔۔ پھر سردار اذلان جو سرد مزاج انسان تھا اپنے روئیے سے مقابل موجود شخصیت کی سانسیں خشک کردیتا تھا وہ بچپن میں ایسا سخت مزاج نہیں تھا ۔۔بس وقت کے ساتھ ساتھ اس کی نیچر میں غصہ اور سرد مہری پیدا ہوتی گئی ،آخر میں سردار ارحام جو فی الوقت ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم تھا ۔
جلال الدین کے دوسرے بیٹے سردار واجد جن کی تین اولادیں تھیں ۔سوہا ،دعا اور سردار شہرام،شہرام انتہائی نرم دل اور خوش اخلاق انسان واقع ہوا تھا سب سے ہنسی مزاح کرنا یہ سب خوبیاں اسکی شخصیت کا خاصہ تھی ۔۔۔اور خاص طور پر دلنشین سے اس کی گاڑھی چھنتی تھی ۔سوہا نے گریجویشن کرنے کے بعد پڑھائی کو خیر آباد کہہ دیا تھا آج کل حویلی میں اسکی شادی کے متعلق بات ہو رہی تھی ۔دعا بھی شہر سے ایم ۔بی ۔بی ایس کر رہی تھی ۔
سردار شہرام نے ایگریکلچر میں ڈگری حاصل کیے اب اپنے گوٹھ کے لیے کام کرنے کا سوچا کیونکہ اسکے والدین اور دادا جان کی یہی خواہش تھی ۔۔۔
جلال الدین کے سب سے آخری بیٹے سردار ماجد نے شادی نہیں کی تھی ۔وہ کافی عیاش قسم کے انسان تھے ۔۔۔ان کا ماننا تھا کہ جب ضرورتیں ویسے ہی پوری ہوجائیں تو شادی کا طوق گلے میں کون لٹکائے ۔۔۔۔
دیکھا جائے تو اس عہدے پر سردار حماد کے بڑے بیٹے سردار اذلان کا حق تھا ۔
لیکن اسکی ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے سردار جلال الدین نے اس عہدے کے لیے اپنے دوسرے بیٹے واجد کی اولاد سردار شہرام کو منتخب کیا ۔۔۔۔
سب اپنی اپنی زندگیوں میں مطمئن اور خوشحال تھے ،ان کی زندگی معمول کے مطابق اپنی ڈگر پہ رواں دواں تھی۔ان سب کی زندگیوں میں سب کچھ اتھل پتھل ہونے والا تھا جس سے وہ اب انجان تھے قسمت کیا کھیل رچانے والی تھی یہ تو خدا ہی بہتر جانتا تھا۔کہ کس کی زندگی میں کیا موڑ آنے والا تھا ۔
**********
جھیل سیف الملوک پاکستان کے شمال میں واقع ہے ناران کے علاقے میں،،، پہاڑوں اور برف سے گھری یہ جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔اس جھیل کی گہرائی کا اندازہ آج تک کوئی بھی نہیں لگاپایا۔اور جس نے پتہ لگانے کی کوشش کی وہ کبھی واپس نہیں آسکا۔کہتے ہیں یہ جھیل آج سے تین لاکھ سال پہلے وجود میں آئی جب کاغان کا وجود عمل میں آیا تھا۔۔۔چاند کہ چودھویں رات میں وہاں پریاں غسل کے لیے آتیں ہیں ۔صبح کے وقت تو اس جھیل کے قریب بہت سے لوگ اور ٹورسٹ دکھائی دیتے ہیں مگر رات ہونے سے پہلے ہی سب وہاں سے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں کی ہیبت ناک خاموشی کسی کو بھی وہاں زیادہ دیر تک ٹکنے نہیں دیتی ۔
آج چودھویں کی رات تھی۔چاند اپنے جوبن پر تھا اپنی چاندنی ہر سو بکھیر رہا تھا ۔۔۔۔پانی پر اس کی چاندنی عجب جھب دکھلا رہی تھی ۔۔۔
وادی نیلم میں ایک پہاڑ جسے ملکہ پربت کے نام سے جانا جاتا ہے۔وہاں جنوں کا بسیرا تھا ۔یہ ایسی مخلوق ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔ان کا وجود دنیا میں موجود ہے۔مگر یہ مخلوق عام انسان کی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے ۔کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کو تنگ نہیں کرتے ان کی اپنی دنیا ہوتی ہے ۔
“”شماس چلو نا آج جھیل کے کنارے وہاں حسین پریاں غسل کے لیے اتر آئی ہوگی ۔۔۔اس کے ایک ساتھی نے کہا ۔۔۔۔
“نہیں !!!!اس نے اپنی بڑی بڑی سرمئی آنکھوں سے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
“اچھا تم نا دیکھنا ۔۔۔مجھے پتہ ہے تمہیں یہ سب پسند نہیں ۔۔۔مگر ہمارے ساتھ تو چلو نا تم وہیں کہیں پیچھے بیٹھ جانا “اس کے ساتھی نے اصرار کیا ۔۔۔۔
وہ پہاڑ سے اتر کر جھیل کے قریب آئے ۔۔۔
شماس ایک ٹیلے کے نیچے لیٹ گیا اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا ۔۔۔۔
اس کے ساتھیوں نے اسے تاسف سے دیکھا اور خود دریا کی طرف بڑھ گئے جہاں پریاں غسل کر رہی تھیں ۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے صبح ہوگئی سب واپس لوٹ گئے مگر شماس ایسا سویا کہ ابھی تک وہیں اکیلا پڑا رہا ۔۔۔۔
دھوپ سر پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔
“ماہ کہاں جا رہی ہو ؟؟؟اس کی دوست فاریہ نے پوچھا ۔۔۔
“بس فاریہ میں تو چل چل کر تھک گئی ہوں “
“سب ٹیچر اور سٹوڈنٹس آگے جھیل کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔ماہ اپنے کالج ٹرپ پر کاغان ویلی گھومنے آئی تھی ۔۔۔
“اچھا میں بھی تمہارے ساتھ رکتی ہوں یہیں ۔۔کچھ دیر پاؤں کو ریسٹ دو پھر آگے چلتے ہیں ۔
فاریہ نے اپنی ٹیچر کو ان دونوں کے یہاں پر بیٹھنے کے بارے میں آگاہ کیا ۔۔۔۔تو انہوں نے اجازت دے دی ۔
فاریہ وہاں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی جبکہ ماہ مٹی سے بنے ٹیلے پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
“ماہ تمہیں ہے ٹیچر بتا رہی تھیں کہ یہاں وادی نیلم میں ایک مٹی سے بنا پرانا قلعہ ہے کافی اونچا سنا ہے وہاں جنات کا بسیرا ہے وہاں چلیں گے کچھ دیر بعد “وہ اپنی ہی دُھن میں بولے جا رہی تھی کہ اچانک ماہ پر نظر پڑی جو ٹیلے پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی ۔۔۔۔
“کیا ہوا ماہ ؟؟؟
“کہیں وہ تمہاری اماں سائیں نے تو نہیں کچھ کہا ۔۔۔؟
ماہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“پھر اس شاہانہ اور حسنا نے ؟؟؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی قمیض کا بازو تھوڑا اونچا کیا تو اس کی جھلسی ہوئی سکن دیکھ فاریہ آگ بگولہ ہوگئی ۔۔۔۔
“یہ ان دونوں نے کیا ہے ؟؟؟
“ہاں بہت درد اور جلن ہو رہی ہے ابھی بھی “اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی مانند ٹوٹ کر کسی پر گرے ۔۔۔۔
وہ جو گہری نیند میں تھا۔۔
اپنے پیٹ پر موجود نشان کو چکمتے اور بھڑکتے ہوئے محسوس کیا ۔۔۔۔جھٹ سےاس نے اپنی سرمئی آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔۔
ماہ جو زارو زار رو رہی تھی ۔۔۔اچانک اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔جہاں اسے بازو سے بھی زیادہ جلن محسوس ہوئی ایسے لگا کہ وہ ابھی جل جائے گی ۔۔۔۔
اس کا پورا وجود پسینے سے تربتر ہوگیا ۔۔۔وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔۔
اسے آج تک پتہ نہیں چلا تھا کہ اس کے پیٹ پر یہ نشان کیسا تھا ۔۔۔ںچپن سے لے کر آج تک کبھی اس نشان پر کچھ محسوس نہیں تھا ۔۔۔مگر آج ایسا کیا ہوا کہ اسی جگہ سے جسم دھڑ دھڑ جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔وہ فورا دریائے نیلم کی طرف بھاگی ۔۔۔۔اور وہاں کا ٹھنڈا پانی مٹھی میں بھر کر اپنے پیٹ پر پھینکا مگر جانے وہ کیسی آگ تھی کو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔
شماس انسانی نظر سے اوجھل جو کب سے دور کھڑا اس کی کیفیت سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسے سامنے دیکھ کر خوشی منائے یا اس کی حالت دیکھ کر غم ؟؟؟؟
اس کی سرمئی آنکھوں میں سرخ ڈورے نمایاں ہوئے۔۔۔۔ایسے جیسے ان فشار خون بلند ہوا ۔۔۔۔اس کی فنا کردینے والی نظریں پل بھر کے لیے بند ہوئیں پھر پھر کھل گئیں ۔۔۔۔
ماہ جو پیٹ پر ہاتھ رکھے تڑپ رہی تھی پل بھر میں نارمل ہوگئی ۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو نا ؟؟؟فاریہ نے اسے گہری سانس لیتے ہوئے دیکھ کر تفکر بھرے انداز میں پوچھا
“ہاں اب ٹھیک ہوں “
ماہ جہاں جہاں جا رہی تھی وہ دو سرمئی آنکھوں اس کے ساتھ ساتھ تھیں ۔مگر ماہ اس سے بے خبر تھی ۔
********
“یہ حویلی کے سارے ملازم کدھر مر گئے ہیں ؟؟؟”سبرینہ بیگم نے اونچی آواز میں کہا ۔
“ج۔۔۔۔جی ۔۔”سب گرتے پڑتے ان کے پاس پہنچے ۔۔اور مؤدب انداز میں سر جھکائے ہاتھ باندھے لائن سے کھڑے تھے ۔
“میرا ارحام اپنی ڈاکٹری مکمل کیے واپس آ رہا ہے اس کے کمرے کی اچھے سے صفائی کرو ۔۔ایک ایک چیز مجھے چمکتی ہوئی ملے ۔۔۔زرہ بھی مٹی کا نظر آیا تو تم سب کی خیر نہیں “
وہ حکمیہ انداز میں بولیں ۔
“جی ۔۔۔۔
آج تو یہ خبر سن کر سبرینہ کے لیے عید کا سماں تھا ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری حویلی میں چراغاں کردیتی ۔۔۔
********
شام ڈھل چکی تھی جشن شروع ہوا ۔۔۔۔۔
“ارے تم کہاں چلے ؟؟؟سردار ماجد (چچا)نے شہرام کو وہاں سے باہر نکلتے دیکھ کر پوچھا ۔
“چچا سائیں بہت تھک گیا ہوا اب حویلی جا کر ریسٹ کرنا چاہتا ہوں “وہ پیشانی مسلتے ہوئے بولا ۔
“پر یہ رقص و سرور کی محفل تو تمہارے لیے سجائی گئی ہے “
“چچا سائیں آپ لوگ انجوائے کریں میرے سر میں شدید قسم کا درد ہے ۔”
“اچھا چلو ٹھیک ہے تم جاؤ میں سنبھال لوں گا یہاں “سردار واجد نے مسکرا کر کہا ۔۔۔شہرام وہاں سے حویلی کے لیے نکل گیا ۔۔۔۔
*******
شہرام جیسے ہی حویلی پہنچا سامنے صوفے پر بیٹھ کر اون سے سویٹر ُبنتی ہوئی دلنشین نظر آئی تو اس کے پاس آکر اسکی گود میں سر رکھے لیٹ گیا ۔۔۔
دلنشین اچانک اس پڑنے والی افتاد پر بوکھلا کر رہ گئی ۔۔۔۔
مگر جب شہرام پر نظر پڑی تو سکون بھرا سانس لیا ۔۔۔
“شاہو بچہ یہ کیا طریقہ ہوا بھلا ؟؟؟وہ اون ،سلائیاں اور ادھ بُنا سویٹر ایک طرف رکھ کر اسے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔
“سر دبا دیں نا دل سچ میں بہت درد ہے “وہ آہستہ آواز میں بولا۔
“کیا ہوا شاہو بخار تو نہیں “دلنشین نے اس کی پیشانی کو چھو کر پوچھا ۔۔۔۔
“بس سر میں درد ہے “
“آج صبح سے اتنے لوگوں سے ملا ان کے مسائل سنے اتنا کام کیا “وہ اپنی درد بھری داستان سنانے لگا ۔۔۔
دلنشین ہمدردی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“۔او۔۔۔۔۔و۔۔۔میرے بچے نے اتنا کام کیا ۔۔۔
وہ اس کا سر دباتے ہوئے پیار بھرے انداز میں بولی ۔
“میڈیسن لا دوں ؟؟
“نہیں آپکے یہ ہاتھ ہی میری میڈیسن ہیں دبائیں نا سکون مل رہا ہے “وہ واپس اس کا نرم ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔
“دلنشین !!!یہ سب کیا ہے بیٹا ؟؟؟سبرینہ نے دلنشین کی گود میں سر رکھ کر سوئے ہوئے شہرام کو دیکھا تو اس سے پوچھے بنا نا رہ سکیں ۔۔۔
“اماں سائیں ۔۔۔وہ شاہو کے سر میں درد تھی ۔اس کا سر دبا رہی تھی ابھی سویا ہے “
حویلی میں سب اس بات سے واقف تھے کہ شہرام اور دلنشین کی دوستی کے بارے میں ۔
“دلنشین بیٹا اب شہرام بڑا ہوگیا ہے اور ایک دن تم بھی اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔۔۔اسے اپنا اتنا عادی مت بناؤ کہ وہ تم سے دور نا ہوسکے ۔۔۔۔یہی تم دونوں کے لیے بہتر ہے ۔۔۔
تمہارے ماموں ہیں نا فیروز ۔۔۔میرے بھائی صاحب ۔۔۔ان کا بیٹا ہے صائم ۔۔۔بہت ہی اچھا لڑکا ہے ۔۔۔بھائی نے اس کے رشتے کے لیے مجھ سے بات کی تھی ۔۔۔تمہارے لیے ۔۔۔کچھ دنوں میں وہ لوگ باقاعدہ طور پر تمہارا رشتہ لائیں گے ۔۔۔تمہیں پہلے سے بتانے کا مقصد یہی ہے کہ اپنے ذہن کو تیار کر لو ۔۔۔
“جی اماں سائیں “وہ سر جھکائے ہوئے بولی ۔۔۔۔
“شہرام کے سر کے نیچے کشن رکھ دو اور تم جاؤ اپنے کمرے میں رات بہت ہوگئی ہے “
“جی اچھا “اس نے سبرینہ کی بات سن کر ان کے حکم کی تعمیل کی ۔۔۔۔
********
تمام لوگ وہاں جشن میں موجود تھے معاذ بھی وہاں پہنچ چکا تھا مگر زرا ایک طرف ہوکر خاموش بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔
اسے اس ماحول سے سخت گھن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
سب لوگ شراب کے نشے میں چور وہاں ناچتی ہوئی رقاصہ کے رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔
وہاں کے ایک کامے کی بیٹی جو شاید انجانے میں ادھر آ نکلی تھی ۔۔۔۔
اسے دیکھ سردار واجد کا ٹھرک پن جاگ پڑا ۔۔۔
وہ جو رقاصہ کے ساتھ مے پیتے ہوئے جھوم رہا تھا ۔۔۔اس نو عمر لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر درمیان میں لایا ۔۔۔۔اور اسے بھی ڈانس کرنے پر مجبور کرنے لگا ۔۔۔
معاذ جو پہلے ہی اس ماحول سے متنفر ہو کر بے دلی سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔سردار واجد کی حرکت دیکھ اشتعال انگیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے پاس آیا ۔۔۔
“خبردار جو اس لڑکی کو چھوا بھی تو ۔۔۔۔۔۔جانے دو اسے “معاذ نے سردار واجد کا ہاتھ پکڑ کر اسکے ہاتھ سے اس لڑکی کی بازو آزاد کروائی ۔۔۔
“تو روکے گا مجھے “؟؟
وہ ابرو اچکا کر رعونت آمیز انداز میں بولا۔۔۔۔
“میرے سامنے تو اس رقاصہ کا بھی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا ،جو ایسے کام کرتی ہے ۔۔۔یہ لڑکی تو دور کی بات ہے “معاذ چیلنجنگ انداز میں دھاڑا ۔۔۔
“تو کل کا بچہ آیا مجھے پاٹ پڑھانے ابھی نکالتا ہوں تیری اکڑ “سردار واجد اس پر جھپٹا ۔۔۔۔تو معاذ کا بھی ہاتھ اٹھ گیا ۔۔۔۔
وہ پل بھر میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے ۔۔۔۔
سب نے بیچ بچاؤ کیے انہیں چھڑوایا ۔۔۔
مگر سردار واجد اپنی ضد پر قائم تھا وہ اس لڑکی کا ہاتھ کیھنچ کر اسے زمین پر گراتے ہوئے اس پر جھکا ۔۔۔۔
“تیرے کیا ساری دنیا کے سامنے وہ کروں گا جو میں چاہتا ہوں “وہ تنفر زدہ آواز میں بولا ۔۔۔۔
معاذ کی حد یہاں تک ہی تھی ۔۔۔۔اس نے سردار واجد کے گن مین سے ہی گن کھینچ کر واجد پر فائر کیا ۔۔۔۔
دھاڑ کی آواز گونجی تو ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔۔۔
یہ چیخ و پکار اور فائر کی آواز پاس موجود حویلی تک پہنچی تو اس کا بڑا گیٹ کھل گیا ۔۔۔۔۔اور گاڑیاں تیز رفتاری سے باہر نکلیں۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب سردار واجد کی لاش حویلی میں آئی تو آپ و بکا کا کہرام مچ گیا۔۔۔
ہر آنکھ اشکبار تھی ۔اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر جلال الدین کے دل میں انتقام کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ۔۔۔۔
انہیں اپنے ضبط کی طنابیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
*********
آج جرگہ بیٹھنا تھا اس انہونے واقعہ کو لے کر ۔
سارے گوٹھ کے سردار وہاں موجود تھے عینی شاہدین نے سارا واقعہ من وعن سناڈالا ۔۔۔۔
سب نے معاذ کے خلاف گواہی دی اور بتایا کہ گولی معاذ نے چلائی جس کی صورت میں سردار واجد کی جان چلی گئی ۔۔۔۔
سردار جلال الدین عالم طیش سے سے معاذ اور اسکے والد سردار جعفری کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ایسے جیسے انہیں کچا چبا جانے کا ارداہ ہو ۔آخر کو انکے بیٹے کے قاتل تھے وہ ۔
“سردار جلال الدین حتمی فیصلہ تو آپ کا ہی ہوگا ۔۔۔
ایک بزرگ نے کہا ۔
“دل ہے اپنے بیٹے کے قاتل کا قتل کردوں “وہ دانت پیس کر ہلکی آواز میں بولے مگر ساتھ بیٹھے ہوئے سردار شہرام نے ان کی بات سن لی ۔
شہرام نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے کہا ۔۔۔
“دادا سائیں آرام سے ۔۔۔آپ کا ایک غلط فیصلہ سارے گوٹھ میں ہمیں ۔۔۔۔۔
“ہم ۔۔۔۔سمجھ گیا ۔۔۔۔وہ ہلکی آواز میں بولے ۔۔۔
“سردار جلال الدین پھر آپ نے کیا فیصلہ کیا خون کے بدلے خون ،زر ،یا زمین ؟؟؟اسی بزرگ نے پوچھا ۔۔۔۔
“یہ سارے گوٹھ کی زمین ہم سرداروں کی ہے ۔زر زمین یا خون نہیں چاہیے ہمیں زن چاہیے ۔۔۔۔
سردار جعفری کی بیٹی “انہوں نے اپنی گرجدار آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنایا ۔۔۔
“ان کا مطالبہ تھا یا گویا پگھلا ہوا سیسہ جو سردار جعفری اور معاذ کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ دونوں ہکا بکا ایک دوسرے کو تکنے لگے ۔۔۔۔
“فجر “۔۔۔۔۔۔معاذ کی جان اے عزیز بہن اور جعفری کی چہیتی بیٹی “
سردار جعفری نے سردار جلال الدین کی طرف دیکھا جن کی آنکھوں میں اپنی بات سے پیچھے نا ہٹنے کا عزم و جنون تھا ۔۔۔۔
ان سے منت سماجت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔۔۔جعفری نے سوچا ۔۔۔
سردار جلال الدین کے فیصلے نے ساری عوام کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا ۔۔۔۔
“اس نے ہمارے جان سے پیارے بیٹے کو چھینا ہے نا ہم نے بھی ان دونوں کی کمزوری پر ہاتھ ڈالا ۔۔۔کہو کیسی لگی ؟؟؟سردار جلال الدین نے آہستگی سے شہرام کے کان کے قریب اپنا چہرہ کیے کہا ۔۔۔۔
“مگر دادا جان اس خون بہا میں آنے والی سے نکاح کرے گا کون “وہ اچنبھے سے انہیں دیکھ کر اپنے من میں اٹھتا ہوا سوال پوچھ گیا ۔۔۔۔اسے تو فی الوقت اپنی فکر لاحق تھی ۔کہیں دادا جان اسے یہ نکاح کرنے پر مجبور نا کردیں ۔۔۔اور وہ اپنے دادا جان کی حکم عدولی کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“ہم خون بہا میں آئی ونی کا نکاح اذلان سے کروائیں گے ۔۔۔اس کی دماغی حالت کی وجہ سے اسے کوئی اپنی لڑکی نہیں دے گا ۔۔۔اس لڑکی کی یہی سزا ہوگی وہ تاعمر ایسے ہی تڑپتی رہے “
شہرام ان کی بات سن کر ساکت رہ گیا۔مگر ان کے سامنے بولنے کی جراءت نہیں کی ۔۔۔۔
“ابھی میرے بیٹے کے قبر کی مٹی سوکھی بھی نہیں اس کے چالیسویں کے بعد نکاح ہوگا ۔جعفری کی بیٹی سے میرے پوتے اذلان کا “وہ گھمبیر آواز میں کہتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے ۔۔۔۔
