Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 21
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 21
“آگئے تم ؟؟؟
سبرینہ بیگم لاونج میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔ارحام کو اکیلے اندر آتے ہوئے دیکھ کر اس پہ سوال داغ گئیں ۔
“جی آگیا “
وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
“وہ کہاں ہے جس سے تم شادی رچانے گئے تھے ؟؟
وہ طنزیہ انداز میں بولیں۔
“فجر اب یہاں نہیں رہے گی ۔میں نے اس کے لیے ایک الگ گھر کا بندوست کرلیا ہے۔
یہاں تو اسکے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔یہاں وہ محفوظ نہیں ۔”
“ارحام !! سبرینہ بیگم بلند آواز میں بولیں ۔۔۔
“بس اماں سائیں اب میں تھک چکا ہوں آرام کروں گا ۔مزید اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا چاہتا “
وہ سپاٹ انداز میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
سبرینہ بیگم اس کے انداز و اطوار پہ بل کھا کر رہ گئیں ۔۔۔
******….*****……*****
دعا بارش میں بھیگتے ہوئے ساکت کھڑی تھی جیسے ہی معاذ کی گاڑی کچھ فاصلے پر گئی تھی دعا ہوش میں آئی اور بنا رکے اس گاڑی کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے لگی ۔۔۔۔۔
بھاگتے ہوئے اسکے پاؤں سے جوتی اتر چکی تھی ۔۔۔
وہ ایک ہاتھ گاڑی کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
“معاذ رک جائیں !!!
“مجھے آپکے ساتھ رہنا ہے !!!
وہ اونچی آواز میں چلائی ۔۔۔
مگر بارش کی تیز آواز میں اس کی آواز دب کر رہ گئی۔۔۔
اچانک معاذ نے گاڑی لے سائیڈ مرر میں دیکھا جہاں دعا اسکے پیچھے بھاگتی ہوئی آ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ کر بریکس لگائے ۔۔۔گاڑی جھٹکے سے رک گئی ۔۔۔
دعا ہانپتے ہوئے اپنی گیلی شال سنبھالے ہوئے اس تک پہنچی ۔۔۔تو معاذ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور دعا اس میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
دعا نے معاذ کی طرف دیکھا ۔۔۔معاذ بھی اسکی طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
واپسی کا راستہ خاموشی سے گزر گیا ۔وہ دونوں چلتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور پھر آگے پیچھے اپنے کمرے میں ۔۔۔
معاذ کبرڈ سے اپنے کپڑے نکال کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
تو دعا بھی اپنے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔
معاذ تھوڑی دیر بعد باہر آیا اور ٹیرس میں کھڑا ہوگیا ۔۔۔
دعا بھی چینج کیے باہر نکلی ۔۔۔
“معاذ ۔۔۔” اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔۔۔ اور مضبوط قدموں سے چلتا ہوا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
“کچھ بولیں گے نہیں ۔! “
“آج آپکے سامنے میں حاضر ہوں’جو مرضی سزا دیں آپ۔۔ سزا کی حق دار ہوں میں ۔۔ اففف تک نہیں کہوں گی ۔۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی نیچے فرش پر پنجوں کے بل اس کے قریب ہو کر بیٹھ گئی۔۔ اتنا قریب کہ اس کی سانسوں کی آواز بھی معاذ کو سنائی دینے لگی۔اسے عجیب سے احساس نے گھیر لیا۔۔ وہ وہاں سے جانے لگا۔ لیکن اس نے معاذ کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا۔۔
” بولیں پلیز۔۔۔”
“آپ نے مجھے معاف کیا “
وہ آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“دعا مجھے بہت افسوس ہوتا تھا جب جب میں سب بھلا کر تمہاری طرف پیش قدمی کرتا تم نے ہر بار میری حوصلہ شکنی کی ۔مجھے دھتکارا ۔۔۔میں بھی انسان ہوں مجھے بھی دھتکارے جانے کا دکھ ہوتا ہے۔۔تم نے ہر موقع پر مجھے ہرٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آپ انتہائی سیلفش ہو ۔تم صرف اپنے بارے میں سوچتی ہو ۔ بس اپنی فیلنگز کی پرواہ ہے اور کسی کی نہیں۔۔۔” وہ ہذیانی انداز میں بولا
” ٹھیک ہے میں کہ میں چپ تھی ۔۔۔ایک لڑکی کیسے اتنی بے باکی سے اپنے جذبات کا اظہار کردیتی ؟؟؟
“آپ کو میرے انداز میں بدلاؤ نظر نہیں آیا ۔۔۔کہ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں واپس کہیں نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔بجائے اس کے کہ آپ مجھے مناتے ‘ مجھ سے بات کرتے۔۔ آپ نے تو الٹا مجھے اپنی زندگی سے ہی نکال دیا۔لیکن اب اک بات میری بھی کان کھول کر سن لیں آپ۔۔میں یہاں سے چلی تو جاؤں گی’ لیکن آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی اور نہ ہی اب آپ میرے سامنے آنا۔کیونکہ اب آپ سے بات کرنا تو دور کی بات۔میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔” اس نے ہچکیوں سے روتے ہوئے انتہائی غصے میں اسے دھمکی دی ۔
۔۔
اور واپس باہر نکلنے لگی کہ یکدم پاؤں میں چبھن جو کافی دیر سے محسوس ہو رہی تھی اب تو شدید قسم کا درد اٹھا ۔۔۔وہ پاؤں پکڑ کر کراہنے لگی ۔۔۔
“آہ ۔۔۔اس کی منہ سے سسکی نکلی۔۔۔
”یہ سب کیسے ہوا۔۔۔؟“ اس نے پاٶں کی طرف اشارہ کیا۔اور اس کے پاس ہی دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔
”پپ پتا نہیں۔۔۔“درد سے اس کی آواز بھی نہیں نکل کر رہی تھی۔۔
”اِدھر دکھاٶ مجھے۔۔۔“
”نن نہیں۔۔۔۔۔“ اس نے پاٶں فوراً پیچھے کھینچا ۔۔۔
”آہ ۔۔۔۔۔“ پھر سے درد کی اک لہر اس پورے جسم میں سرایت کر گٸی۔۔
”ادھر دکھاٶ اور خبر دار جو اب تمہاری ذرا سی آواز بھی نکلی تو۔۔ ۔۔۔“ اس نے غصے سے تنبہہ کی۔۔
دعا نے آنسو بھری آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ۔
معاذ کی آنکھوں میں اپنے لیے جذبات دیکھ کر وہ شرمندہ ہوئی ۔۔۔
”آپکی مسیحائی میرے لیے انمول ہے معاذ ۔۔“ اس نے معصومیت سے کہا اورآنکھیں بند کر کے اپنا پاٶں آہستہ سے اس کے آگے کر دیا۔۔
معاذ نے اک نظر اس کی طرف دیکھا وہ آنکھیں بند کیے ہونٹ بھینچے درد کو کنٹرول کرنے کی سعی کر رہی تھی۔۔
اس نے پاٶں کو دیکھا اور پھر آہستہ سے کانچ کو پکڑ کر کھینچ دیا،سڑک پہ شاید ننگے پاؤں بھاگنے کی وجہ سے کچھ پاؤں میں چبھ گیا تھا ۔۔۔اور اٹھ کر کھڑا ہوا ۔۔۔وہ درد کی شدت کو کنٹرول کرتے کرتے وہ بالآخر سہارا دیکھ کر معاذ کے گلے لگ گٸی،
معاذ نے اسکے گرد اپنی دونوں بانہوں کا حصار کھینچا ۔۔۔
آج برستی بارش ان دونوں کے درمیان تمام رنجشوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ۔۔۔۔تمام کدورتیں دھل گئیں ۔۔۔آگے کا منظر بہت شفاف ہونے والا تھا ۔جیسے بارش کے بعد قوس قزح اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی ہے۔ویسے ان دونوں کی زندگی میں بھی خوشیوں کے دلفریب رنگ بکھرنے والے تھے ۔۔۔۔وہ دونوں دنیا و جہاں سے غافل ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے تھے ۔۔۔
******…..*****……*****
رات کا تیسرا پہر تھا جب سبرینہ بیگم کی آنکھ کسی کھٹکے کی آواز سن کر کھلی ۔
انہوں نے کسی احساس کے تحت اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر بمشکل اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں۔۔۔
لیکن کمرے میں اندھیرا ہونے کے باعث کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ روشن کرنا چاہا مگر یہ کیا لائٹ ندارد؟؟؟
انہوں نے اس گہرے چھائے ہوئے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے ٹٹول کر سائیڈ ڈراور سے موم بتی نکالی اور جلائی ۔۔۔
باہر سے کھیتوں سے جانوروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو رات کے اس پہر سننے میں بھیانک لگیں ۔۔
سبرینہ بیگم نے اپنے ساتھ کی جگہ کو دیکھا جو خالی تھی آج سردار حماد شاید ڈیرے سے ابھی تک واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔اس خوفناک ماحول میں انہیں اپنا حلق خشک ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
انہوں نے پانی کا جگ دیکھا جو خالی تھا ۔۔۔۔
وہ پانی لینے کی غرض سے باہر نکلیں ہاتھ میں موم بتی اٹھا رکھی تھی ۔۔۔
حویلی میں لگے ہوئے سفید ریشمی پردے تیز ہوا کے دوش پر پھڑپھڑا رہے تھے ۔۔۔
ان کے ہاتھ میں موجود موم بتی کی لو بھی تیز ہوا کے باعث بل کھا رہی تھی ۔کبھی مدھم ہو کر بجھنے کے قریب ہوتی تو کبھی روشنی بڑھ جاتی ۔۔۔
یکلخت ہوا کے ایک تیز جھونکے نے اس موم بتی کی روشنی کو بجھاتے ہوئے ماحول کو اندھیرے میں بدل دیا ۔۔۔
کھلی ہوئی کھڑکیوں سے آتی چاند کی روشنی میں بُجھی ہوئی موم بتی کا دھواں ہوا میں تحلیل ہوتا ہوا نظر آیا ۔
انہوں نے سفید لباس میں ملبوس کسی ہیولے کو اپنے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔۔۔
انہیں لگا کہ یہ ان کی آنکھوں کا دھوکہ تھا ۔۔۔مگر پھر سے کوئی اسکے بہت قریب سے گزرا ۔۔۔۔
اب کی بار ان کا جسم خوف کے باعث اس ٹھنڈے موسم میں بھی پسینے سے شرابور ہو گیا ۔۔
اس ہیبت ناک خاموشی میں انکی ٹانگیں کپکپانے لگیں اور اپنی جگہ سے ہلنے سے انکاری ہوئیں ۔۔۔
اس بار وہ اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی اور اردگرد نظریں دوڑا رہی تھیں
کہ اچانک سامنے اذلان کو دیکھ ان کی پیشانی عرق آلود ہوگئی اور گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
“ہا۔ہا۔ہا۔۔۔اس کے ہنسنے کی آواز سن کر وہ لرز کر رہ گئیں ۔۔۔
“ت۔۔۔۔ت۔۔۔۔تم ۔۔۔۔؟؟؟
“ت۔۔تم کیسے ۔۔۔؟؟؟
“تم ۔۔۔تو ۔۔۔مر ۔۔۔چکے ۔۔۔ہو ۔۔۔
ان کے گلے سے ٹوٹے ہوئے الفاظ برآمد ہوئے۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اسے چھو کر دیکھتی ایک بار وہ پھر سے ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا ۔۔۔۔
“اذلان !!!!
“اذلان !!!
وہ اسے زور زور سے آوازیں دینے لگیں ۔۔۔۔
ان کی آواز حویلی میں گونجنے لگی ۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ساری حویلی روشنی سے چکا چوند ہوگئی ۔۔۔۔
سب شور کی آواز سن کر اپنے اپنے کمروں میں سے باہر نکل آئے ۔۔۔۔
“کیا ہوا بھابھی ؟؟؟سردار واجد نے پوچھا ۔۔۔۔
“واجد وہ اذلان ۔۔۔
“میں نے ابھی اذلان کو دیکھا ۔۔۔۔وہ پھولی ہوئی سانسوں پر قابو پانے کی سعی کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔
“بھابھی کسی باتیں کر رہی ہیں ؟؟؟
“لگتا ہے اذلان کی موت کا صدمہ پہنچا ہے…آپ ابھی تک بھلا نہیں پا رہی ۔۔۔۔
مجھے پتہ ہے آپ کو اذلان ارحام سے بھی زیادہ پیارا تھا ۔۔۔مگر اب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔بھابھی پلیز خود کو سنبھالیں “واجد نے کہا ۔۔۔
“واجد ممم۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا ہے۔
“بھابھی فی الحال آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں “
*****……*****……*****
“کتنا ارمان تھا میرا چاندنی رات میں سمندر کنارے بہتی ہوئی لہروں پہ ننگے پاؤں چہل قدمی کرنے کا آج پہلی بار موقع ملا ہے اور وہ بھی صرف آپکی وجہ سے “
“آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے،میرے دل کی باتیں ،میری خواہشات ،میری چاہتیں ،۔۔۔وہ محبت سے چور آواز میں بولی۔۔۔۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پتھروں سے ہو کر اب گیلی ریت پہ اتر گئے ۔۔۔
سنہری سفید ریشمی دوپٹے کو سنبھال رہی تھی جو ہوا سے بار بار اڑ رہا تھا ۔۔۔
اس نے دوپٹے کو جکڑتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔
چاند کی چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی
یہ چمک سحر انگیز کسی طلسماتی دنیا کا نا آشنا سا اسرار معلوم ہو رہی تھی ۔چاند کی کرنیں سمندر کی آتی جاتی ہوئی لہروں پہ پڑتے ہوئے انہیں مزید جاذب نظر بنا رہی تھیں۔
وہ سفید دوپٹے کے ہالے میں اس چکمتی ہوئی چاندنی کا ہی کوئی حصہ معلوم ہو رہی تھی ۔شفاف گلاب کے مانند تروتازہ کھلے ہوئے چہرے پہ سادگی میں بھی عجیب دلکش و ملکوتی حسن جھلک رہا تھا ۔بہتی ہوئی لہروں کے مدھم شور نے اک طلسم کدے کا روپ دھارا ہوا تھا ۔۔۔
“آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ؟؟؟
وہ شماس کو یک ٹک اپنی جانب تکتا پا کر بولی ۔۔۔
“آپ میری محرم بن چکی ہیں…. اب کیسی پابندی دیکھنے کی “؟
“پابندی تو کوئی نہیں ۔۔مگر ہم کونسا دیکھنے کی چیز ہیں۔عام سی شکل و صورت ہے۔اور رنگت بھی سانولی بھی ۔۔۔
شماس نے چاندنی کے پھیلے ہوئے غبار میں اسکے حسین سراپے کو اپنی آنکھوں میں قید کیا ۔۔۔گلابوں کی سی رنگت والا چہرہ ،ستواں ناک ،تیکھے دل موہ لینے والے نقوش ،باہم پیوست یاقوتی لب ،اسے لگا جیسے چاند کی ساری جگمگاہٹ ستاروں کی چمک اس ساحرہ کی انکھوں میں اتر آئی ہو ،اس چاندنی کا سارا حسن اسکے چہرے پہ سمٹ آیا ہو۔
سنہری کی خوبصورتی اسکے سراپے کی رعنائیاں اسے اپنا اسیر بنا رہے تھے ۔جس طرح سمندر کی لہروں نے شور مچا رکھا تھا ۔اسے سامنے دیکھ اسکے جذبات نے بھی دل میں عجب طلاطم برپا کر رکھا تھا۔
شماس بن ضماد خاموش تھا ۔صرف اسے محسوس کر رہا تھا۔کیونکہ جذبات کی زبان نہیں ہوتی اسے صرف محسوس کیا جاتا ہے۔
“مجھ سے پوچھیے ملکہ !!!
“آپ اپنے حسن و جمال میں ایک ساحرہ کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔جو اپنے حسن کے جلووں سے خود کو دیکھنے والوں کو پتھر کا بنا دے “
وہ فسوں خیز آواز میں بولا۔
پہلی بار اپنے لیے اتنے خوبصورت ترین الفاظ سن کر سنہری کے لبوں کو دھیمی سی مسکراہٹ نے چھو لیا ۔۔۔
سمندر کی لہریں جو دن کے وقت نگاہوں کو سرور اور ترواٹ بخشتی تھیں ۔رات کی اس مہیب تاریکی میں وہ ازحد ہیبت ناک لگ رہی تھیں۔
ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے سے اس کے بال اڑ اڑ کر اسکے گالوں سے اٹھکھیلیاں کر رہے تھے ۔۔۔
شماس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گستاخ بالوں کو اسکے کان کے پیچھے اڑسا ۔۔۔
“شکر ہے گھر میں سب سو رہے تھے ورنہ کیا کہتے سب کو ؟؟؟وہ شماس کی سرمئی آنکھوں میں دیکھ کر پریشانی سے بولی ۔
“ملکہ !!!
“آپ میری محرم بن چکی ہیں۔آپ پہ صرف میرا حق ہے۔میں آپ کو کہیں بھی لے جانے کا حق رکھتا ہوں ،
“مگر میرے لیے آپکی مرضی سے زیادہ کچھ اہم نہیں “
“آپ میرے ساتھ نہیں آنا چاہتی تھیں ؟؟وہ ابرو اچکا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
“ن۔۔نہیں ۔۔ایسی ۔۔بات نہیں ۔۔۔وہ دفعتاً گھبرا کر بولی معا کہیں وہ اسکی بات کا غلط مطلب لے کر ناراض نا ہوجائے ۔
شماس بن ضماد اسکی حالت دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
“ملکہ ایک بات کہوں ؟؟
“بولیں نا ……میں سن رہی ہوں “
“میں وہ سب دیکھ رہا تھا جو آپکی سوتیلی بہنیں آپکے ساتھ سلوک کر رہی تھیں۔مگر میں خاموش رہا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔۔۔
“کیونکہ بدلہ لینا اور حسد رکھنا میری سرشت میں شامل نہیں ۔۔۔”,
سنہری کی آنکھوں میں حیرت اتری ۔۔۔
“مجھے پتہ ہے کہ آپ کیا سوچ رہی ہیں۔۔۔۔
“یہی نا کہ پھر اس صائم کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟؟؟ہیں نا ؟؟؟
“سنہری اس کے سوفیصد درست اندازے پہ تحیر آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
“اس نے آپکی عزت پہ حملہ کیا تھا ۔اور آپکی عزت میری عزت ۔اور اپنی عزت پہ آنچ میں کیسے برداشت کرتا ؟؟؟
“بس اسی لیے ۔۔۔۔
“خدا خود ان حاسدوں اور گنہگاروں کو سزا دے گا ۔
ہم تو خود گناہ کے پتلے ہیں۔۔۔۔۔۔کسی کو اسکے گناہوں کی سزا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے “
“میں چاہتا ہوں کہ ہم یہاں سے کہیں دور چلے جائیں ۔۔۔جہاں حسد،جلن،مکاری ،جھوٹ،اور گندی ذہنیت کا کوئی واسطہ نہ ہو “
“ملکہ !!!!
“آپ چلیں گی میری دنیا میں میرے ساتھ ؟؟؟
وہ اپنا ہاتھ اسکے آگے پھیلائے فسوں خیز آواز میں بولا۔۔۔
“سنہری نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا تو شماس بن ضماد نے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں اسکے نازک ہاتھ کو نرمی سے قید کر لیا ۔۔۔
سنہری کے پیٹ پہ بنے شعلے کے نشان پہ آگ بھڑکنے لگی ۔۔۔
اس نے فورا اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالتے ہوئے پیٹ پہ رکھا جہاں جلن برداشت کرنا اب دوبھر ہونے لگا ۔۔۔
“ایسا کیوں ہوتا ہے میرے ساتھ جب بھی آپ کو محسوس کرتی ہوں “؟؟بالآخر اس نے من میں آیا سوال پوچھا۔
“آج آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا “وہ سوچنے کے انداز میں گھمبیر آواز سے بولا ۔
اسکی نظریں سمندر کی لہروں پہ جمیں تھیں۔۔۔
“جب آپ پیدا ہونے والی تھیں۔تب شاید آپ زندہ نہ رہتیں۔میں نے اپنی ساری ریاضت اور طاقت دے دی تھی ۔۔۔میری طاقتیں آپ میں منتقل ہو گئیں اور آپ اس دنیا میں آئیں۔آپ پہ جو نشان ہے۔وہ آگ کا ہے۔اور ہم جن زاد آگ سے بنے ہیں۔آپ بھی میری وجہ سے جن زادوں میں سے ہوگئی۔۔۔میرے والدین میرے اس عمل سے مجھ سے ناراض ہیں۔اسی لیے میں یہیں زمین پہ رہتا ہوں ۔آپ کو ساتھ لے کر جاؤں گا تو انکی ناراضگی ضرور ختم ہو جائے گی ۔۔۔میں اپنی ریاست کا شہزادہ ہوں ۔میری ریاست کو میری طاقتوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ جسطرح زمین پہ اچھے اور برے لوگ موجود ہیں۔اسی طرح ہماری دنیا میں بھی اچھے اور برے جنات موجود ہیں۔جو ہماری ریاست کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں۔ہم دونوں ملکر اپنی طاقتوں سے ان شر پسندوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ جب ہم ایک ہو جائیں گے ۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے شماس نے نظر اٹھا کر سنہری کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ جو خاموشی اور دھیان سے اسکی باتیں سن رہی تھی آخری بات پہ اسکے چکمتے چہرے پر گلال ٹوٹ کر بکھرا ۔۔اسکے گال دہک کر اناری ہوئے۔۔۔۔ایسے جیسے سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔
“میرا مطلب جب ہم اپنے حلال رشتے کی شروعات کریں گے تو مجھے میری طاقتیں آپ سے واپس مل جائیں گی ۔اور آپ بھی پوری طرح جن زادی بن جائیں گی ۔پھر آپکے پاس بھی طاقتیں ہوگی ۔اور آپکو درد بھی نہیں ہوگا ۔۔۔
“مگر۔۔۔۔۔
وہ ایک دم بولتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے رکا ۔۔۔پھر بولا ۔۔
” اس دنیا میں ہمارا ملن نہیں ہوسکتا ۔۔۔
“کیونکہ آگ جب آپ سے ٹکرائے گی تو بہت تباہی ہوگی ۔اور آپکو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔اس لیے آپ کو ہمارے ساتھ جانا ہوگا “
“بولیے آپ ہمارے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں ؟؟؟
وہ سوالیہ انداز میں بولا۔۔۔
*****……*****……*****
“فیروز بھائی !!!!!! اذلان زندہ ہے “
سبرینہ بیگم نے رازدارنہ انداز میں کہا۔
“ایسے کیسے ہوسکتا ہے بہنا ۔۔۔
لگتا ہے پی میں نے ہے اور سر پہ تمہارے چڑھ گئی ہے “
فیروز مے کا گلاس ایک ہی سانس میں پورا حلق میں انڈیلتے ہوئے بولا ۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔اتنے سالوں تک ہم اس گدی پر ارحام کو بیٹھانے کے لیے کوششیں کرتے رہے اور وہ اذلان واپس آکر سب لے جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ایسا میں کبھی ہونے نہیں دوں گی “وہ دانت پیس کر غصے میں بولی۔
“بہنا اگر اسے بچپن میں ہی مار دیا ہوتا تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔۔”
وہ گلاس ٹیبل پر رکھ کر سبرینہ بیگم کو اسکی
غلطی یاد دلاتے ہوئے بولا ۔۔۔
“ویسے تجھے کیوں لگتا ہے کہ اذلان زندہ ہے ؟؟؟
“کیوں کہ ہم نے کونسا اس کی شکل دیکھی تھی دفنانے سے پہلے ۔۔۔۔ارحام نے آکر بتایا تھا کہ اسکے دماغ کا آپریشن ہو رہا تھا جو ناکام ہوگیا اور اسی آپریشن کے دوران وہ مر گیا ۔
اس ہسپتال میں کرونا وائرس کے بہت زیادہ مریض تھے ۔اس لیے ڈاکٹر نے مُردے سے دور رہنے کا کہا ہے۔کہ کوئی بھی اسکے قریب گیا یا اسے چھوا تو اسے وہ وائرس لگ جائے گا ۔۔۔اور ہم اپنی جان سے جائیں گے ۔۔۔اسی ڈر سے کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔اور آپ سب لوگ اسے جلدی دفنا آئے تھے ۔۔۔
“ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہے تو “
فیروز نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔
“ویسے تو تم بڑی سیانی بنتی ہو لیکن اگر وہ زندہ ہے تو بہت بڑی گیم کھیل گیا ہم سے “
” چپ کر جاو فیروز میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں میرے جلے پر نمک مت چھڑک ۔۔۔ “وہ تلملاتے ہوئے بولی
“ریلیکس بہنا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی تیرا بھائی سلامت ہے۔یاد ہے نا تیرے لیے کیا کیا کانڈ کیے ؟؟؟
وہ اپنے احسانات یاد کرواتے ہوئے بولا ۔۔۔
سبرینہ بیگم نے ابرو اچکا کر سپاٹ انداز میں اسے دیکھا ۔۔۔
“تیرے کہنے پہ اذلان کو بچپن میں کتنا ڈرایا دھمکایا۔۔مارا پیٹا ۔۔یہاں تک کہ اس کی یاداشت چلی گئی ۔۔۔
پھر اسے وہ موذی ادوایات دیں ۔۔۔
اور تو اور تیرے کہنے پہ میں نے سردار جعفری پر گولی چلائی اور نام اس واجد پہ لگا دیا تاکہ شہرام پھنس جائے اور جرگے میں غلط فیصلہ لے۔۔۔معاذ سے اس کی ہاتھا پائی ہو اور شہرام کو بھی جعفری کی طرح ہمیشہ کی نیند سلا دیتے ۔۔۔
مگر اسکی قسمت اچھی تھی شہرام بچ گیا ۔۔۔
اور بہنا تیرے کہنے پر اس شہرام کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ بھی کروایا شہر میں ۔۔۔مگر سالے کی قسمت وہاں بھی اسے بچا گئی ۔۔۔۔
اور تیرے دیور وہ کیا نام تھا اسکا ماجد ۔۔۔۔اس بیچارے کی موت تو صائم کے ہاتھوں ہوگئی ۔۔۔۔
وہ تمسخرانہ انداز میں ہنس کر بولا ۔۔۔
اسے وہ لڑکی پسند آگئی تھی ۔اور ماجد نے اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہا ۔۔۔اس کے اور معاذ کے بیچ لڑائی ہوگئی اس لڑکی کی وجہ سے ۔سب سمجھے معاذ نے مارا ماجد کو اور فجر ونی بن کر حویلی آگئی ۔۔۔جبکہ ماجد کو تو صائم نے غصے میں آکر مارا تھا ۔۔۔اور الزام بے قصور معاذ پہ لگا ۔۔۔۔
” فیروز بھائی بس کر !!!
“دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں “وہ محتاط انداز میں بولی ۔
“اگر اذلان زندہ ہے تو وہ ضرور ہم سے بدلہ لے گا “
“تو پھر کیا کرنا ہے ؟؟؟
“تو بتا بہنا ۔۔۔ایسے کاموں میں تیرا دماغ ہی کام کرتا ہے۔”وہ استہزایہ انداذ سے ہنسا۔۔۔
“اس کی جان اسکی بیوی میں قید ہے ۔۔۔مگر ارحام نے تو اسکی بیوی سے نکاح کرلیا ۔۔۔
وہ گال پہ انگلی رکھ کر سوچنے کے انداز میں بولی ۔
“تو نے کونسا ان کا نکاح ہوتے دیکھا ؟؟؟
“مجھے تو لگتا ھے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے “
وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے سبرینہ کو ٹونٹ مار رہا تھا۔
“فیروز !!!
ارحام میرا بیٹا ہے وہ دشمنوں کا ساتھ کبھی نہیں دے گا “
سبرینہ بیگم نے مان بھرے انداز میں کہا۔
“چل وہ تو بعد میں دیکھ لینا ۔۔۔
“یہ بتا اب کرنا کیا ہے ؟؟؟
“ایسا کر صائم کو کہہ کہ اس فجر کو اٹھوا لو ۔۔۔
دیکھنا اس کو بچانے کے لیے چوہا خود بل سے باہر نکل آئے گا ۔”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی ۔۔۔
“جی بابا سائیں!
فیروز نے صائم کو کال ملائی تو اس نے جوابا کہا۔
“فجر کو اٹھوا لو “
“مگر بابا سائیں مجھے کیا پتہ کہ وہ کہاں ہے ؟
“تو پتہ لگاؤ نا !!!
“ارحام غلامو کے ساتھ اسے لے کر گیا تھا ۔اس سے پوچھو کہ اس نے آخری بار فجر کو کہاں دیکھا تھا ۔
“مگر بابا سائیں وہ غلامو کا بچہ مجھے کیوں بتائے گا سب ؟؟؟
“بس کچھ پیسے دو اور کام پورا آجکل ایمان بکتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔۔”فیروز نے اسے آزمودہ طریقہ کار بتایا ۔۔۔
بس کچھ وقت تک انتظار۔۔۔۔
پھر سب ہمارے ہاتھ میں ہوگا ۔۔۔وہ سوچنے کے انداز میں بولی۔
*****……*****……*****
اسے اپنے سر اور آنکھوں پر ایک نا محسوس سا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتے اسنے نہایت دقت سے آنکھیں واہ کیں۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے ماحول سے مانوس ہوتے۔۔۔ لیکن سب یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔کچھ دیر پہلے ہی اذلان اسے اس گھر میں چھوڑے کسی ضروری کام سے باہر باہر نکلا تھا ۔۔۔وہ گھر میں اکیلی تھی کہ کسی نے پیچھے سے آکر اسکے سر پہ وار کیا ۔۔۔وہ وار اتنا جاندار تھا کہ وہ خود کو سنبھال نا سکی اور اپنے سر پہ ہاتھ رکھے ہوئے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی ۔۔۔۔اور اب جب اسے ہوش آیا تو اسنے ہراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا وہ ایک ویران جگہ تھی جس میں ایک خستہ ہال اور سیلن زردہ دیواروں کے حامل کمرے میں وہ سخت پتھریلی زمین پر موجود تھی ساتھ ہی کچھ لکڑیوں کے گٹھے پڑے ہوئے تھے۔۔۔
وہ خوفزدہ نگاہوں سے کسی سہمی ہوئی ہرنی کی مانند اردگرد دیکھ رہی تھی جب اپنے پیچھے پڑنے والے قہقے کی آواز پر اسنے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
“صا۔۔۔صائم ۔۔۔۔۔ سامنے موجود کرسی پر کروفر سے بیٹھے شخص کو دیکھتے اسکی آنکھیں حیرت سے وا ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
ہاں میں۔۔۔ کیسا محسوس ہو رہا ہے تمہیں میری قید میں آ کر جان من ۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ میں اتنی جلدی تمہارا انکار اور اپنی بے عزتی بھول جاوں گا۔۔ ۔۔۔ تم سے آج تمہاری ذات کا غرور نہ چھین لیا نہ تو میرا نام بھی صائم نہیں ۔۔۔ آج یہاں سے تم نکلو گی تو تمہارے وجود پر وہ سیاہی مل دوں گا کہ تم خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہو گی ۔۔۔ تم جیسی لڑکی کے کرتوتوں پہ سب لوگ تھو تھو کریں گے۔۔تم نے مجھے انکار کیا تھا نا ۔۔آج میں تمہیں ذلیل و خوار کر کہ اپنا بدلہ لوں گا ۔۔۔
صائم متکبرانہ انداز سے کہتے ہوئے اسکی جانب پیش قدمی کرنے لگا ۔۔۔۔فجر نے اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھا وہ سہمی ہوئی ہرنی سرعت سے اٹھی تھی۔۔۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھیں پانیوں سے بھری تھی۔۔۔
“اپنی عزت گنوانے سے بہتر اسے اپنی جان گنوا دینا زیادہ بہتر آپشن لگا ۔۔۔اور جب مرنا طے تھا تو لڑ کر مرنے کو ترجیح دی ۔۔۔۔ فجر کے اندر کی عورت میں عزت نفس نے انگرائی لی تھی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اس پر جھپٹتا فجر نے اپنی پوری قوت سے ٹانگ اس شخص کے پیٹ کے نچلے حصے پر ماری تھی وہ شخص درد سے بلبلاتا جھک کر دونوں ہاتھ مخصوص جگہ پر رکھتا کچھ قدم پیچھے ہٹا تھا وہ اس دھان پان سی لڑکی سے اتنی جرات کی امید نہیں رکھتا تھا۔۔۔
” تجھ جیسے گھٹیا انسان سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے۔۔۔تو کون ہوتا ہے مجھے عزت اور ذلت دینے والا ۔۔۔۔؟؟؟کیا تو فرعون ہے۔۔۔جو اللّٰہ کی واحدنیت سے انکاری ہے۔اسکے احکامات سے انکاری ؟؟؟
“جو ایک مسلمان نا محرم عورت کی عزت کو روندنا چاہتا ہے ۔۔۔
“کیا تو جانتا نہیں کہ وہی اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے اسے ذلت دے۔۔۔
“خدا سے ڈرو “
وہ خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھتی ۔۔تنبیہی انداز میں دھاڑی ۔۔۔۔
تبھی کوئی تیزی سے اس بوسیدہ دروازے کو ایک ہی وار میں توڑتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
اور صائم کو اسے سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر سامنے پڑی لکڑیوں میں سے ایک مضبوط لکڑی اٹھا کر پوری قوت سے اس پہ وار کرنا چاہا ۔۔۔
صائم نے کمرے میں سے ہی اوپر جاتی ہوئی ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں کو عبور کرتے ہوئے اوپری منزل پر جانے لگا ۔۔۔وہ اسکے پیچھے پیچھے اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔۔۔
فجر کا سانس بری طرح پھولنے لگا تھا ماتھے پر پسینے کے ننھنے قطرے چمک اٹھے تھے۔۔۔جسم سوکھے پتے کی مانند تھر تھر کانپ رہا تھا بظاہر تو وہ بہادری کا مظاہرہ کر رہی تھی مگر دل زوروں سے دھڑک رہا
