Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 20
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 20
“حماد سمھجا دو.. بہو کو ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا “وہ اشتعال انگیزی سے کہتے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے..
وہاں موجود سب خاموشی سے بیٹھے تھے…جن میں واجد ،فیروز اور حماد شامل تھے ۔
“نا تو شہرام نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ۔۔۔اس کی لاپرواہی سے میرے بڑے بیٹے کی جان چلی گئی ۔۔ اب جب شہرام یہاں نہیں ہے تو قاعدے سے دستار میرے بیٹے ارحام کے سر پر سجے گی…
سبرینہ بیگم نے اپنا مدعا رکھا۔۔
ارحام سبرینہ کے بلانے پر وہاں آیا ۔۔۔وہ انکا اکلوتا بیٹا انکی آنکھوں کا نور چشم نظر سنجیدگی سے اندر داخل ہوا..
آو بیٹا تمہارا ہی انتظار تھا ۔
وہ آکر سبرینہ بیگم کے پاس بیٹھ گیا ۔۔
“قاعدہ کیا ہے اب یہ تم ہمیں سکھاؤ گی ؟؟؟
“ابھی ہم زندہ ہیں ۔ہمارے بعد دستار حماد کو ملی اور اب اذلان کو ملنی تھی مگر اب شہرام کو مل چکی ہے ۔اور وہی اسکا اصل حقدار ہے ۔۔۔۔
“اصل حقدار صرف ارحام ہے ۔شہرام کی نا اہلی تو آپ سب کے سامنے ہے ۔۔۔۔
سبرینہ بیگم نے ایک اور پانسہ پھینکا ۔۔۔
جلال الدین لاجواب رہ گئے۔۔۔
“دادا سائیں یہ دستار اور گدی ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑنا ابھی مجھے… ” وہ بولا..
میں انسانیت کی خدمت کرنا چاہتا ہوں مجھے ان سب چیزوں سے دور کی رکھیں ۔۔۔وہ صاف صاف انکار کر گیا ۔۔۔
سبرینہ بیگم تو جیسے غصے سے آگ بگولہ ہو گئی۔۔۔
****….*****…..*****….
باہر بارش بہت زور و شور سے برس رہی تھی۔۔! جبکہ وہ اپنے کمرے میں بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ کسی گہری سوچ میں محو تھی ، معاذ اپنے آفس سے ابھی تک نہیں آیا تھا ، اس کے بغیر کمرہ خالی خالی سا لگ رہا تھا ، اس نے بیڈ کی طرف دیکھا معاذ والی ساٸیڈ خالی تھی۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی اور باہر دیکھنےلگی۔
”دعا ہم نئی شروعات کریں گے ۔۔۔۔ “ اچانک ہی سرگوشی سی اس کے کانوں میں گونجی ، اس نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔۔اس کو اپنی فیلنگز کی خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔،
”کیا مجھے معاذ سے محبت ہوگٸی ہے۔۔؟“ اس نے خود سے سوال کیا۔لیکن جو جواب اس کو اپنے اندر سے ملا وہ اس پر ششدر ہوگئی ۔۔۔
”نن نہیں ایسا نہیں ہے۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟“ اس نے اپنے جواب کی خود ہی نفی کی۔۔
”مجھے اس سے محبت کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔؟“ وہ خود سے الجھ رہی تھی۔خود سے لڑ رہی تھی ۔۔لیکن پھر بھی اک ہی جواب آ رہا تھا اس کے اندر سے۔
”یہ محبت ہی ہے۔۔۔“ اس کے دل سے پھر سے آواز آٸی ۔۔
”نن نہیں میں مانتی۔۔“ دل ضد پر اڑ گیا۔۔
”ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔! تمہارے نہ ماننے سے کیا ہوگا ۔۔ میں جانتا ہوں یہ محبت ہی ہے۔۔۔“
“تو پھر جو میں ارحام کے لیے بچپن سے محسوس کرتی آئی وہ کیا تھا ۔۔۔۔؟؟؟
“وہ تمہارا آئیڈلزم !!!! اندر سے جواب ملا “
پھر کوٸی بہت زور سے اس پر ہنسا تھا،
یکدم سے اس کا دل گھبرانے لگا ، اس نے جلدی سے کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دیٸے، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا ، لیکن وہ اس کی پرواہ کٸیے بغیر باہر دیکھنے لگی ،
دوسری طرف معاذ بھی اپنی گاڑی کا سائیڈ ڈور کا شیشہ کھولے برستی بارش کے قطروں کو دیکھ رہا تھا، اس کے اندر بھی ایسے ہی طوفان برپا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ جس سے سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ، اور اس کی دعا کو پانے کی دعا قبولیت کی سند پا جائے۔ لیکن اتنا سوچنے کے بعد بھی کوٸی سرا اس کے ہاتھ نہیں آیا۔۔ اس نے سائیڈ ڈور کا شیشہ واپس چڑھا دیا ۔۔۔اور گاڑی گھر کی طرف موڑ دی ۔۔۔اس نے صبح بالکل ٹھیک فیصلہ لیا تھا جو دعا کے ردعمل پہ اسکو پیکنگ کرنے کا بول دیا تھا ۔۔اب وہ اپنے فیصلے پہ عمل کرنے والا تھا ۔۔۔ دعا نے تھک ہار کر کھڑکی کے پٹ بند کر دیٸے اور بستر پر آگٸی۔لیکن نیند اس دونوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔!
معاذ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو اس کی کلائی کھینچ کر باہر کا رخ کیا ۔۔۔
“معاذ یہ آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں ؟؟؟
اس نے اپنی کلائی معاذ کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی۔۔۔
“جب پہنچ جاؤ گی تو خودی پتہ چل جائے گا “
“پلیز معاذ مجھے بتائیں تو سہی “
“جہاں تم جانا چاہتی تھی وہیں چھوڑنے کا رہا ہوں “
“مگر معاذ ۔۔۔۔ایک بار میری بات ۔۔۔تو ۔۔۔
“بس خاموش۔ !! ایک لفظ بھی اور نہیں …..
اس نے دعا کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر اسکی طرف کا دروازہ بند کیا پھر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔
گاڑی میں گھمبیر خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔
معاذ سپاٹ انداز میں گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔مینہ ابھی بھی چھم چھم برس رہا تھا ۔۔۔۔
گاڑی کے ونڈ سکرین پر لگے ہوئے وائیپرز دائیں سے بائیں حرکت کر رہے تھے ۔۔۔اور بارش کی برستی ہوئی بوندیں ونڈ سکرین پر گر رہی تھیں ۔۔۔۔
دعا نے دیکھا گاڑی کچھ جانے پہچانے راستے پر گامزن تھی ۔۔۔
بالآخر حویلی کے سامنے گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔۔۔
دعا نے حیرت انگیز نظروں سے معاذ کو دیکھا ۔۔۔کہ نجانے وہ کیا کرنے والا تھا ۔۔۔
“جاؤ دعا جی لو اپنی من پسند زندگی آج سے تم آزاد ہو میری طرف سے ہر اس بندھن سے جو تمہیں مجھ سے جوڑتا ہے “
وہ سنجیدگی سے بولا۔
دعا نے معاذ کو دیکھا جسکے جبڑے سختی سے بھنچے ہوئے تھے اور پیشانی کی رگیں پھولیں ہوئیں تھیں ۔جیسے وہ ضبط کے آخری مراحل سے گزر رہا تھا۔
“مگر معاذ میری بات تو !!!اس نے درمیان میں مداخلت کرنی چاہی ۔۔۔
“بہت جلد تمہیں طلاق کے کاغذات مل جائے گے۔اور تم اس نام نہاد رشتے سے آزاد ہو جاؤ گی ۔۔۔میں تمہیں مزید فورس نہیں کروں گا اس زبردستی کے بندھن کو نبھانے کے لیے ۔۔۔۔معاذ نے تھوڑا سا آگے ہو کر اسکی طرف کا ڈور کھول دیا ۔۔۔
معاذ کے قرب سے اٹھتی محسور کن پرفیوم کی مہک دعا کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔
وہ دم سادھ گئی ۔۔۔
“جاؤ !!!وہ زور سے دھاڑا ۔۔۔
دعا اس کی درشت آواز سن کر فورا گاڑی سے باہر نکلی ۔۔۔
“معاذ !!!وہ اس سے پہلے کہ وہ اپنی صفائی میں کچھ کہتی ۔۔۔
معاذ نے اسکے باہر نکلتے ہی گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔
بارش کی رفتار میں مزید تیزی آگئی ۔۔۔دعا راستے میں ساکت کھڑی بھیگ رہی تھی ۔۔۔۔
*****….*****….*****….
دستار سر پر سجائے.. وہ.. مردان خانے میں داخل ہوا.. تو.. سب کے چہرے.. کھلے ہوئے تھے.. جلال الدین کے چہرے پہ بھولی بسری مسکراہٹ آٹہری ۔۔۔
آخر وہ بھی تو ان کا پوتا ہی تھا ۔۔۔ارحام کی اس سب میں مرضی شامل نہیں تھی سبرینہ بیگم نے اسے اس گدی پر زبردستی بٹھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
ان سب کے علاوہ باقی.. علاقے کے لوگ بھی تھے ارحام کا صدقہ کیا جا رہا تھا ۔۔۔ارحام سفید کھدر کے شلوار قمیض میں ملبوس شانوں پہ خاکی رنگ کی شال اوڑھے ہوئے ۔۔۔۔ خاموش بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا….
لوگ اس سے مل رہے تھے…
اپنے نئے سردار… کی خوشامد کر رہے تھے اسے رتی بھی ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا.. اور ہوا بھی پھر کچھ یوں ہی کہ… کچھ دیر تو.. وہ یہ سب برداشت کرتا رہا پھر وہ ایکدم اٹھ گیا۔۔۔
سردار حماد نے لوگوں کی موجودگی میں اسے اسے تنبیہی نظروں سے گھورا.. مگر وہ.. اگنور کر گیا.. دستار سر پر سے اتاری..اور مردان خانے سے نکل کر حویلی میں آگیا .
“اف یہ جاہلانہ رسم و رواج ۔۔۔میری برداشت سے باہر ہیں “وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔.
“دادا سائیں۔ اور اماں سائیں!! ارحام نے جلال الدین اور سبرینہ بیگم کو مخاطب کیا ۔۔
“میں نے نا چاہتے ہوئے بھی آپ کی بات مانی ۔۔۔اب جب میں سردار اور گدی نشین بن چکا ہوں تو میرا فیصلہ بھی آپ سب کو ماننا پڑے گا ۔۔۔
وہ اٹل انداز میں بولا ۔۔۔
“آپ لوگوں نے جو مظالم فجر پہ کیے ہیں ۔میں اس کے خلاف احتجاج بلند کرتا ہوں “
“وہ بے قصور ہیں۔انہیں کال کوٹھری سے نکالا جائے اور انہیں پہلے کی جیسے عزت دی جائے ۔۔۔ورنہ !!!وہ دھمکی آمیز انداز میں انگلی اٹھا کر بولا ۔۔۔
“وہ اسی جگہ کے قابل ہے جہاں وہ ہے۔تم اس معاملے سے دور رہو “
سبرینہ بیگم نے کاٹ دار آواز میں کہا ۔۔۔
“وہ ونی ہے۔اور ہمارے بیٹے کی قاتل “سبرینہ بیگم نے کڑے تیوروں سے دیکھتے ہوئے تلخ لہجے میں بتایا ۔۔۔
“اذلان بھائی کے ساتھ جو ہوا وہ شاید انکی قسمت میں لکھا تھا ۔۔زندگی اور موت کا اختیار صرف اس واحد ذات کے ہاتھ میں ہے ۔
اور رہی بات ونی کی ۔۔۔تو ونی کیا ایک عورت نہیں ۔۔ایک جیتی جاگتی انسان ہے وہ بھی انہیں بھی اپنے روئیے سے دکھ ہوتا ہے “
“کیسے آپ انہیں اتنی ٹھنڈ میں بغیر بستر کے رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔زرا ترس نہیں آ رہا آپکو ان معصوم پر ۔۔۔
“ارحام اپنی زبان کو لگام دو “
“وہ اذلان کی بیوہ ہے ۔اور بیوہ ایسے ہی رہتی ہے۔”
سبرینہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بولیں ۔۔۔اب ان سے مزید برداشت نہیں ہوا ۔۔۔
“ٹھیک ہے تو اب وہ بیوہ نہیں رہیے گی ۔۔۔میں نکاح کروں گا ان سے “
وہ فیصلہ کن نظروں سے دیکھتے ہوئے سپاٹ انداز میں بولا۔۔۔۔
“ارحام !!!
جلال الدین کا خون کھول اٹھا جبکہ ان کی بارعب آواز سے چاروں طرف سناٹا چھا گیا…
حماد !!!.. انھوں نے اپنے بڑے بیٹے کو پکارہا.. ایک للکار تھی انکے انداز میں ۔۔۔جلال الدین کا چہرہ سرخی مائل دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
ارحام ایسا نہیں ہوسکتا “سردار حماد نے اسے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔
“کیوں نہیں ہو سکتا؟؟؟” بابا سائیں”
“کس کتاب میں لکھا ہے کہ بیوہ کی دوبارہ شادی نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔؟؟؟
“غلامو !!!!
ارحام نے حویلی کے خاص ملازم کو آواز دی۔۔۔
“جی چھوٹے سردار !وہ مؤدب انداز میں سر جھکائے ہوئے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔
“جا کر فجر بی بی ۔کو کال کوٹھری سے نکالو اور باہر کھڑی میری گاڑی میں بٹھاؤ ۔۔۔
“میں آج ہی نکاح کروں گا “
وہ حتمی انداز میں کہتے ہوئے باہر کی طرف نکل گیا ۔۔۔
جلال الدین اپنے اس پوتے کی ہٹ دھرمی دیکھ کر اپنے دل پہ ہاتھ رکھے صوفے پر بیٹھتے چلے گئے۔۔۔۔
سبرینہ بیگم کے سینے پر تو سانپ لوٹنے لگے ۔۔۔۔
سردار حماد اس کی ہٹ دھرمی پر گنگ سے کھڑے تھے وہ تو سوچ رہے تھےکہ ارحام ان کی غصے میں کی ہوٸی بات مان جاۓ گا ۔لیکن وہ غلط تھے انہیں خود پر افسوس ہونے لگ گیا۔اک دم سے جلال الدین کا سر چکرایا.لیکن انہوں نے سر کو جھٹک کر خود پر کنٹرول کیا
”ارحام کو سردار بنانے کا فیصلہ تمہارا ہی تھا نا اب بھگتو “ انہوں نے چکراتے سر کو سمبھالتے ہوۓ غصے سے سبرینہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا۔
سردار واجد نے دکھ بھری نگاہوں سے اپنے بابا سائیں کی طرف دیکھا تھا۔
حماد ان کے سامنے شرمندہ سا کھڑا تھا ۔ وہ اس کی نگاہوں کو نظر انداز کر کے پاس سے گزر کر جانے لگے تبھی ان کا سر زور سے چکرایا اور وہ گرنے ہی والے تھے کہ سردار واجد نے بھاگ کر ان کو اپنے مضبوط بازوں میں تھام لیا لیکن تب تک وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔سردار حماد ، جلال الدین کو ایسے بے ہوش دیکھ کر بہت ذیادہ گھبرا گئے۔۔ ان سب کے تو پاٶں تلےسے زمین سرک گٸی تھی ۔کیونکہ جلال الدین جب بھی غصہ کرتے تھے یا ٹینشن لیتے تھے ان کا بی ہائی ہو جاتا تھا اور شوگر لیول بھی بڑھ جاتا ۔آج بھی ایسے ہی ہوا تھا۔سردار حماد اور واجد دونوں نے ملکر انہیں باہر لائے ۔۔۔اور ڈرائیور کو نکالنے کو کہا۔۔۔۔ انہوں نے جلدی سےگاڑی نکالی اور گوٹھ کے قریبی ہسپتال پہنچ گٸے تھے۔وہاں ایک ماہر ڈاکٹر اور رات کی ڈیوٹی پر ہونے والے ڈاکٹرز موجود تھے وہ سب کے سب حرکت میں آگٸے انہوں نے جلال الدین کو ایمرجنسی میں لے جا کر ان کا چیک اپ شروع کردیا۔۔۔
سردار حماد اور سردار واجد دونوں اپنے بابا سائیں کے لیے دعا گو تھے۔
فیروز خود بھی پریشان تھا اور وہ دونوں کی بے چینی اور بے قراری بھی دیکھ رہا تھا ۔وہ چلتے ہوۓ ان کے پاس گیا اور انہیں تسلی دینے لگا۔
سبرینہ نے حماد کے شانے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
”حماد۔۔۔! حوصلہ رکھیں کچھ نہیں ہوگا بابا ساٸیں کو۔اگر آپ ہمت ہار گٸے تو واجد کو کون سہارا دے گا ۔“
وہ یخ بستہ کوریڈور میں ٹہلتے ہوۓ ڈاکٹرز کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھے ۔۔ تب ہی ایمرجنسی کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آۓ۔۔وہ دوڑ کر ان کے پاس گئے ۔۔ اور بڑی بے تابی سے ان سے استفسار کیا۔
”ڈاکٹر صاحب! میرے بابا سائیں کی کیسی طبیعت ہے اب ،پلیز بتاٸیں۔؟“
”ان کا بی ۔پپ ہوئی ہوگیا تھا اور ساتھ میں شوگر لیول بھی کافی بڑھ گیا تھا ۔لیکن اب وہ کچھ ٹھیک ہیں ۔۔“ انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں اس کو بتایا۔اور حماد کے کندھے کو تھپتھپا کر انہیں تسلی بھی دی۔
”کیا میں اپنے بابا سے مل سکتا ہوں۔؟“انہوں نے بڑی بےتابی سے پو چھا۔
”نہیں ابھی نہیں۔کچھ دیر کے بعد۔“ انہوں نے ان کی بے تابی دیکھ کر کہا۔
”لیکن کیوں ابھی کیوں نہیں۔؟“انہوں نے غصے سے جھنجلا کر پوچھا۔اور سوالیہ انداز میں ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
”ابھی وہ انڈرابزرویشن ہیں۔ اور پلیز نیکسٹ ٹاٸم خیال رکھیے گا۔ان کو کسی بھی قسم کی کوٸی پریشانی نہ ہو اور نہ ہی وہ کوٸی سٹریس لیں پلیز ،ورنہ ان کے لیے خطرہ بڑھ جاۓ گا، پہلے ہی ٹینشن کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا ہے۔دوسرا عمر کے اس حصے میں آپکو ان کا خاص خیال رکھنا ہوگا “ انہوں نے تفصیل سے جلال الدین کی حالیہ کنڈیشن بتاٸی اور وہاں سے چلے گٸے۔لیکن سردار حماد شرمندگی سے وہ وہاں سے ہل بھی نہیں سکے تھے آج ان کے بیٹے کی وجہ سے اس کےبابا سائیں اس حالت میں پہنچ گٸے تھے وہ ایسے ہی سوچوں میں گم کھڑے تھے جب فیروز نے ان کے پاس آکر ان کو بتایا ۔
”بڑے ساٸیں کو کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے آپ ادھر کمرے میں ان سے مل لیں۔“ وہ ان کی بات سن کر جلدی سے روم کی طرف دوڑے ۔
جیسے ہی حماد اور واجد اندر داخل ہوئے ۔ سامنے جلال الدین بستر پر بے سدھ سے پڑے تھے۔وہ چند گھنٹوں میں ہی صدیوں کے بیمار لگ رہے تھے۔وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوا ان کے پاس آگئے اور ان کے پاس بیٹھ کر ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر چومنے لگ گئے۔۔۔
”حماد !میں ٹھیک ہوں، مجھے حویلی لے چلو پلیز۔ “ انہوں نے بس اتنا ہی کہا اور خاموش ہوگٸے۔
”لیکن باباسائیں ! ابھی آپ کی۔۔۔۔۔۔“ اس نے کچھ کہنا چاہا تو جلال الدین نے اس کو اشارے سے منع کر دیا اور گھر چلنے کو کہا۔
۔
”ٹھیک ہے بابا۔“انہوں نے کہا اور جلدی سے باہر نکل گئے اور ڈاکٹرز سے ان کی طبیعت کے بارے میں ڈسکس کر کے ان کو گھر لے کر جانے کی اجازت لے کر واپس آئے ۔۔۔
کچھ دیر تک وہ ان کو لے کر حویلی آگئے تھے ۔اور ان کو ان کے کمرے میں بیڈ پر لٹاکر اوپر کمبل اوڑھا دیا۔۔
*****….******…..******
“یہ کہاں لے جا رہے ہو تم مجھے ارحام ؟؟؟”
فجر زور سے چلائی۔۔۔
“بی بی جی سردار ارحام آپ سے شادی کرنے والے ہیں”
غلامو جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے گاڑی چلا رہا تھا ارحام کو خاموش دیکھ کر فجر کو بتانے لگا ۔۔۔
“غلامو کی بات سن کر فجر کے رہے سہے اوسان خطا ہو گئے ۔۔۔۔
اس کا چہرہ زردی مائل دکھائی دینے لگا ۔۔۔ایسے جیسے اس کے چہرے سے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو ۔۔۔
“۔۔ت۔۔ت۔تم۔۔۔۔نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ۔۔۔میں تم سے ۔۔۔
“چھی۔۔۔۔مجھے تو بولتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے۔میں نے تمہیں اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھا اور تم ؟؟..وہ چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح نفرت آمیز آواز میں پھنکاری ۔۔۔
“میں صرف اذلان کی ہوں اور مرتے دم تک صرف اسی کی رہوں گی ۔۔۔۔
“کسی سے بھی شادی کرنے سے بہتر میں مر جانے کو ترجیح دوں گی”
اپنے اندر کا سارا غبار تیز آواز میں نکال کر وہ ہانپنے لگی ۔۔۔
جبکہ ارحام بہت آرام سے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔۔ایسے جیسے اس کے نزدیک کوئی بات ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
مسجد کے سامنے گاڑی رکی ۔۔۔
“غلامو تم یہیں گاڑی کے پاس رکو ہم نکاح کر کہ آتے ہیں “
ارحام نے سپاٹ انداز میں کہا اور گاڑی سے باہر نکل کر پچھلی طرف کا دروازہ کھولا۔۔۔
فجر اپنی جگہ پر جمی رہی ۔۔۔
“باہر نکلو فجر “اس نے کرخت آواز میں کہا۔
فجر نے ان سنی کرتے رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔
“نکلو باہر “ارحام نے مجبورا اس کی کلائی سے کھینچ کر اسے باہر نکالا ۔۔۔
“چھوڑو مجھے گھٹیا انسان “وہ اس کی مضبوط گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی ۔۔۔
مگر وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اندر لے گیا ۔۔۔
“مولانا صاحب پڑھائیے نکاح “
وہ سامنے بیٹھے ہوئے مولانا صاحب سے مخاطب ہوئے بولا ۔۔۔۔
فجر اس کی گرفت پر جھٹپٹا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ تو جیسے پہلے ہی اس کاروائی کے لیے تیار تھے ۔۔۔
“جی تو فجر جعفری آپ کو ۔۔۔
اس سے پہلے کہ مولانا صاحب اپنا فقرہ مکمل کرتے ۔۔۔فجر کی نظر سامنے بیٹھے ہوئے وجود پر پڑی ۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔اور سانس لینا بھول گئی ۔۔۔۔
پلکیں جھپکنے سے انکاری ہوئیں ۔۔۔
سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس،جس میں اس کا دراذقد نمایاں ہو رہا تھا ،لبوں پہ دلکش مسکراہٹ لیے،آنکھوں سے پھوٹتی الوہی چمک ،پیشانی پہ بکھرے ہوئے بال،،،
پھر یکلخت نجانے کیا ہوا کہ وہ ان لمحات کی تاب نا لاتے ہوئے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر گرنے ہی والی تھی کہ کسی کی مضبوط بانہوں نے اسے اپنے حصار میں لے کر گرنے سے روک دیا ۔۔۔
“اچھا خاصا نکاح ہونے جا رہا تھا اور دلہن صاحبہ بیہوش ہوگئی ۔۔۔ارحام مسکرا کر بولا ۔۔۔
“جب ہمارا پہلا نکاح میرے پورے ہوش و حواس میں ہوا تھا تو اس دوسرے نکاح کا کیا تٗک بنتا تھا ؟؟؟اس کی بھاری آواز سن کر ارحام کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔۔۔
“میں نے سوچا دو بار نکاح ہوجائے گا تو آپکی آپسی محبت بھی ڈبل ہوجائے گی “اس نے شرارت سے کہا ۔۔۔
“محبت پہلے ہی ڈبل ہے۔اب اس محبت کے زریعے ٹرپلز کی باری ہے “
“بس وہ دن بھی بہت قریب ہے جب ہم دو سے تین ہوجائیں گے “اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا ۔۔۔
“یہ تو آپ خواب میں ہی سوچیں کیونکہ۔۔۔۔۔۔ آپ کو اتنی جلدی معافی تو ملنے سے رہی “
“اس کی تم فکر مت کرو میں خودی معاملہ سلجھا لوں گا ۔
کہتے ہوئے وہ فجر کو اپنی بانہوں میں لیے پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اور مسجد کے پیچھے بنے ایک خالی کچے گھر میں داخل ہوا۔۔۔
بارش ابھی بھی جاری تھی ۔۔۔دونوں صحن میں کھڑے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔۔۔
فجر کو بارش کہ تیز بوندیں اپنے چہرے پر گرتی ہوئی محسوس ہوئی ساتھ ساتھ کسی کی گرم سانسیں اسکی گردن کو دہکا رہی تھیں ۔۔۔
اس نے ہوش میں آتے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔۔
خواہ یہ سچ ہے یا محض اسکا خواب ۔۔۔
وہ اسکے بالکل قریب کھڑا تھا۔
فجر کو اِس ڈرامے باز شخص پر بہت غصہ تھا. اُس کا استحقاق بڑھا انداز اور قریب آنا اُس کی دھڑکنیں بے ترتیب کرنے کے ساتھ ساتھ مزید طیش دلا گیا تھا. اُس نے اذلان کے سینے پر ہاتھ رکھتے پیچھے کی جانب دھکیلنا چاہا تھا.
” سردار اذلان مجھے کوئی عام بزدل لڑکی سمجھنے کی غلطی بالکل بھی مت کرنا. جو تمہاری پرسنیلٹی اور حیثیت دیکھ تم پر مرمٹے گی. اور تمہاری ہر فضول حرکت برداشت کرے گی.میں فجر جعفری ہوں جس کو اپنی خوشی اور حق کے لیے لڑنا اچھے سے آتا ہے.تم جیسے جھوٹے اور ظالم انسان سے میرا کوئی لینا دینا نہیں .”
فجر مقابل موجود شخصیت کی گہری تپش ذدہ نظروں سے گھائل نہیں ہونا چاہتی تھی. اِس لیے چیختے چلاتے اُسے خود سے دور رکھنے کی ناکام کوشش کررہی تھی. جبکہ اذلان اُس کے اردگرد بازو جمائے آرام سکون سے کھڑا اُس کی خفگی سے محذوذ ہو رہا تھا.
پچھلے کچھ دنوں سے اِس شخص کی وجہ سے اسکے گھر والوں نے اُس کا جو جینا حرام کرکے رکھا ہوا تھا. کیا وہ سب یونہی بھول جاتی اس کی ایک مسکراہٹ کے بدلے ۔۔۔۔۔.
” میری جان تمہاری یہی باتیں تو مجھے تمہارا دیوانہ بناتی ہیں. میں جانتا ہوں تمہیں میری شخصیت میری دولت جائیداد سے پیار نہیں ہے. اور نہ ہی کبھی ہوگا. کیونکہ مجھے یقین ہے تمہیں میری روح سے محبت ہے۔اسی لیے تو میرے لیا جانے کیا کیا قدم اٹھا گئی “مجھے اپنی گڑیا کی محبت پہ کوئی شک نہیں.
“مت کہو مجھے گڑیا “
“اس گڑیا کو تم نے اسی روز مار دیا تھا جس نے میرے کہنے پہ تم نہیں اٹھے تھے ۔۔۔کتنا روئی تھی میں ۔۔۔۔گڑگڑائی تھی میں ۔۔۔
“مگر تمہیں کیا ؟؟؟
“میں جیوں یا مروں!!!
“تمہیں ایک بار مرے دیکھ کر میں زندہ رہتے ہوئے بھی ہزار بار مری ہوں ۔۔۔۔احساس ہے تمہیں میرا زرا سا بھی بولو ۔۔۔وہ اسکا کالر جھنجھوڑ کر بولی ۔۔۔ ساتھ ساتھ آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو بارش کے پانی کے ساتھ اسکے گالوں میں جذب ہو رہے تھے ۔۔۔
اذلان نے اس کے بھیگے گالوں پہ محبت بھرا لمس چھوڑا ۔۔۔
“مت چھووو مجھے “
“ارے چھوا کہاں ہے اذلان جی کی جان جی !!!
“بہت مس کر رہا ہوں آپ کا اذلان جی کہنا ۔۔۔ایک بار ان لبوں سے سننے کا متمنی ہوں “
ہاں !!! اور میں تو بس تھوڑا سا پیار کرکے اُن تمام خدمتوں کا معاوضہ ادا کرنا چاہتا تھا. جو میری گڑیا میرے لیے کر رہی تھی..”
“ہماری لڑائی میں جس کا سب سے زیادہ نقصان ہوا وہ صرف تم ہو “
“میں تمہارے اس نقصان کی بھرپائی تو نہیں کر سکتا ،مگر وقت آنے پہ کچھ بھی مانگ لینا اذلان شاہ کی جان بھی حاضر ہے”وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا جھک کر بولا ساتھ ساتھ آنکھوں نے بھی جھک کر جیسے سلامی پیش کی ہو “
اذلان جب بھی اِس کے قریب ہوتا تھا. اُسے اپنی روح تک میں سکون اُترتا ہوا محسوس ہوتا۔
” مگر میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مجھے نہ ہی تم سے کوئی پیار محبت کرنی ہے. اور نہ ہی مجھے اُن خدمتوں کا صلہ چاہیے.
“شروع دن سے ہی تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔کتنے چالاک ہو تم ۔۔۔میں تمہیں معصوم سمجھ کر جانے کیا کیا ….وہ بولتے ہوئے ایک دم رکی ۔۔۔۔جب اسے اندھیرے والا منظر یاد آیا ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر اذلان دل کھول کر مسکرایا ۔۔۔
“ایک کس مانگی تھی اور تم نے اتنی چھوٹو سی ِکسی دی قسم سے پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔
اصل کس وہ تھی جو کچھ دن پہلے میں نے کی تھی ۔۔کچھ یاد آیا “وہ سرگوشی نما آواز میں اسکے کان کے قریب چہرہ کیے بولا ۔۔۔
فجر کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے دوچند ہوئی. اذلان اب اُس کے اُوپر جھکا اپنا چہرا فجر کے چہرے کے بہت قریب کیے ہوئے تھا.
اذلان کی سانسوں کی مہک اس پہ دلفریب احساس چھوڑ رہی تھی.
“اذلان ہمیشہ اپنی گڑیا کی بے لوث محبت سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔اور کرتا رہے گا ۔جیسے وہ اس کے لیے کسی کی پرواہ کیے بنا دنیا سے ٹکراگئی ۔ویسے ہی میں بھی اسے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دوں گا
“مجھے تمہاری ان جھوٹی باتوں پہ یقین نہیں بہت بڑے ڈرامے باز انسان ہو تم “,فجر کا غصہ کسی طور بھی کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
اذلان کو اُس کا غصہ دیکھ کر اس پہ مزید پیار آرہا تھا.
اذلان نے جھک کر اپنے دل کی خواہش پر عمل کرتے باری باری فجر کے غصے سے دہکتے ہوئے گلابی گالوں پر ہونٹ رکھے۔۔۔فجر اسکی بے باکی پہ ساکت رہ گئی.
” تمہیں اب تمہارا اذلان جی پسند ہو یا نہ ہو .
چاہے تمہیں میں جھوٹا لگوں یا ڈرامے باز رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہے یہ بات تو طے ہے.”
اذلان ،فجر کے گالوں کی نرمی اپنی اُنگلی کی پوروں سے سہلاتا ہوا بولا ۔۔۔
” تم پاگل نہیں تھے ۔۔۔
اصل میں تو تم مجھے پاگل بنا رہے تھے ۔ایک بار کہہ دیا نہ میں تمہارے ساتھ قطعا نہیں رہوں گی ۔۔۔وہ پھر سے یاد آتے اس کے سر پہ چڑھ دوڑی ۔۔۔
“ہاں پاگل بنا رہا تھا تمہیں مگر اپنے پیار میں دوسری بات میں نے جب ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا کہ تم صرف میری ہو اور مرتے دم تک میرے ساتھ ہی رہو گی .”
وہ اسکی شہہ رگ پر لب رکھے بولا اب حدود تجاوز کرنے لگا ۔۔۔
“چھوڑو مجھے “
فجر اس کی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر غصے سے چیختے ہوئے بولی. جبکہ اُس کا آخری جملہ کب سے اُسکی گستاخیاں اور بدتمیزیاں برداشت کرتے اذلان کے غصے کو ہوا دے گیا تھا.
اذلان نے فجر کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا. اتنا کہ دونوں کے چہرے ایک دوسرے کہ بہت قریب تھے.فجر بالکل اُس کے کسرتی سینے کے ساتھ لگ گئی .
فجر کو اذلان کی سرخی مائل آنکھیں اور چہرا اتنا قریب دیکھ کر اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اذلان نے جھک کر فجر کے ہونٹوں کواپنی قید میں لیتے ہوئے اسکی چلتی زبان کو بریکس لگا گیاتھا. فجر اُس کے حصار میں بالکل کانپ کررہ گئی تھی. اُسے اذلان سے اِس وقت اس قدر جرأت کی اُمید بالکل نہیں تھی.
” یہ لفظ پہلی اور آخری بار اِن ہونٹوں سے نکلا ہے. اگر دوباہ یہ الفاظ یہاں سے ادا ہوئے تو میری سزا سہنا تمہارے بس کی بات نہیں رہے گی۔اذلان جی کی جان جی !!!. آج تمہاری پہلی اور آخری غلطی مان کر چھوڑ رہا ہوں .”
اذلان کے ہونٹوں کی گستاخیاں عروج پر تھیں.اور فجر بری طرح کپکپا رہی تھی یہ شخص واقعی عنقریب اسے پاگل کردینے والا تھا۔۔؟
**************
