394.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 10

“ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے “جلال الدین معاذ کی بات سن کر اونچی آواز میں بولے ۔۔۔
وہاں موجود تمام افراد خاموش ہوگئے اور ان کی بات سننے کے منتظر تھے ۔
“ہم اپنی پوتی کو اس رسم کے خلاف ونی میں دیں گے مگر اس کا نکاح یہاں چوپال میں نہیں حویلی میں پورے عزت و مان کے ساتھ ہوگا “
ان کی بات سن کر معاذ تلملا کر رہ گیا ۔۔۔مگر موقع کی مناسبت سے اس نے فی الحال خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔
“جی ٹھیک ہے اس میں کیا اعتراض بھلا ۔نکاح ہی ہونا ہے وہ یہاں ہو یا حویلی میں کیا فرق پڑتا ہے “سر پنچوں میں سے ایک بزرگ و معتبر شخص نے کہا ۔۔۔
وہ سب ایک ساتھ حویلی کی بیٹھک میں پہنچ گئے تھے ۔
صرف معاذ جعفری ہی نکاح خواں کے ساتھ اندر آیا ۔۔۔سردار واجد ،سردار حماد ۔جلال الدین ۔فیروز۔صائم ۔اور شہرام سب حویلی کے مرد حضرات وہاں موجود تھے ۔
حویلی میں ہلچل دیکھ اذلان اور فجر بھی اپنے کمرے سے نکل کر باہر آئے ۔۔۔
سامنے اپنے بھائی کو دیکھ فجر بلا اختیار بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس کے گلے لگ کر رونے لگی ۔۔۔
“معاذ ۔۔۔!!! بابا سائیں!!!
معاذ نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی ۔۔۔
وہاں کا ماحول دیکھ فجر اذلان کے ساتھ صوفے کے پیچھے کھڑی ہوگئی ۔۔۔
میں کہیں بھی نہیں جاؤں گی سوہا !”اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟؟؟کیوں میری زندگی کو میرے خوابوں کو نوچ لیا گیا ۔۔۔۔”
دعا کی سسکاریاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ سچ کہہ رہی ہے لیکن سوہا اسکی درد بھری آہیں سن کر منہ پھیر کر بے آواز رونے لگی ۔
“کیوں سوہا کیوں “وہ کیسے میرے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کر سکتے ہیں جسے میں جانتی تک نہیں ۔۔۔
“کیا ساری زندگی اتنی آسانی سے ایک ان چاہے ان دیکھے شخص کے ساتھ گزر جاتی ہے ؟؟؟کیسے یقین کرلیا سب نے کہ وہ ایک سلجھا ہوا انسان ہے ،کیا ساری زندگی وہ ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی سے نرمی اور شفقت سے پیش آئے گا ۔؟؟؟
“آخر مجھے ہی کیوں اپنی دشمنی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے ۔۔ “وہ باقاعدہ اونچی آواز میں رونے لگی تھی ۔
“سوہا !”
“تم تو سب جانتی ہو نا ۔۔۔میرا دل درد سے پھٹ جائے گا ۔۔میں کیسے اسے اپنی زندگی میں جگہ دوں گی ؟؟؟۔”
دعا کے یوں روتے ہوئے بات کرنے پر سوہا کے دل کو کچھ ہوا اس نے رخ پھیر کر اس کی طرف دیکھا ۔
“ٹھیک ہے تم بھی کچھ نہیں کرسکتی نا میرے لیے جیسے باقی سب خاموش سے میری قربانی دے رہیں ہیں ویسے ہی تم بھی چپ رہو ۔۔۔دعا یہیں مر گئی اس حویلی میں۔یہاں سے صرف اس کا وجود جائے گا ۔۔۔قتل کردیا تم سب نے ملکر آج میرے احساسات کا ۔مر گئے تم سب آج میرے لیے ۔”
سوہا کو اسکی باتوں سے خوف محسوس ہونے لگا ۔
“دعا یہاں صرف مردوں کا ہی قانون ہوتا ہے بے ضرر سی عورتیں نا کبھی پہلے اپنے حق میں آواز اٹھا پائی ہیں ۔اور شاید نا کبھی آگے اٹھا پائیں گی ۔”
“یہاں ماں باپ خود اپنی جان سے عزیز بیٹیوں کو کبھی مجبوری تو کبھی ونی جیسی رسم کے نام پر درندوں کو سونپتے آئے ہیں اور شاید آگے بھی سونپتے رہیں گے ۔”
“سوہا !” نجانے وہ میرے ساتھ کیا کرے گا ؟؟؟
دعا کی روتے ہوئے ہچکی بندھ گئی تھی ۔
“دعا اللّٰہ پر بھروسہ رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا “
سوہا نے دعا کو گلے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔
اس نے دعا کے سر پہ سیاہ بڑی شال اوڑھا دی اور اسے اپنے ساتھ لیے باہر نکل آئی ۔۔۔
سوہا اور سبرینہ بیگم دعا کو اپنے ساتھ لے کر آئیں اور اسے ایک صوفے پر بٹھا دیا ۔۔۔
اس کے سر پر سیاہ شال تھی جو گردن تک تھی ۔جس سے اسکا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
معاذ نے ایک بار بھی اس لڑکی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔۔۔
“گڑیا ۔۔۔!اذلان نے فجر کا شانہ ہلا کر کہا ۔۔۔
“جی اذلان جی ؟؟؟
“یہاں کیا ہو رہا ہے “؟
“یہاں شادی ہو رہی ہے جیسے ہماری ہوئی تھی “فجر نے اسے آہستہ آواز میں تفصیل بتائی۔
“شادی ۔۔۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا ۔۔۔مزہ آئے گا ۔۔۔۔گڑیا ہم بھی آج اپنے گڈے اور گڑیا کی پھر سے شادی کریں گے “
ہا..ہا..ہا .کتنا مزہ آئے گا”اذلان اونچی آواز میں کہتے ہوئے زور زورسے تالیاں بجانے لگا ۔۔۔۔
معاذ نے حیرانگی سے اپنے بہنوئی کو دیکھا جو بظاہر تو خاصا خوبرو تھا ۔مگر تب تک قابل قبول تھا جب تک وہ چپ تھا ۔۔۔اسکی باتوں اور انداز معاذ کو بہت کچھ سمجھا گئے ۔۔۔۔
معاذ نے ایک جانچتی ہوئی نظر ساتھ کھڑی ہوئی اپنی بہن فجر پہ ڈالی ۔۔۔
وہ خود کو اور بھی پستی میں گھڑھتا ہوا محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اسی کی وجہ سے آج اسکی بہن ایک ذہنی مریض کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور تھی ۔۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا اس وقت سامنے موجود ہر چیز کو آگ لگا دے ۔۔۔اسے اپنی ضبط کی طنابیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔مگر وہ مٹھیاں بھینچ کر خود کو سنبھال رہا تھا ۔۔۔۔گہرا سانس لیتے ہوئے وہ نکاح خواں کی طرف متوجہ ہوا جو اس شال میں ملبوس بلکتے اور ہٹکورے لیتے ہوئے وجود سے اس نکاح کے لیے اقرار لے چکا تھا ۔اب معاذ کی باری تھی ۔۔۔
اس کی پیشانی پر شکنوں کا جال بچھا ہوا تھا ۔اور رگیں پھولیں ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔دونوں طرف سے ایجاب و قبول کا سلسلہ ختم ہوا تو معاذ بنا کچھ کہے بنا اپنی منکوحہ کو ساتھ لیے ایک اچٹتی ہوئی نظر فجر پی ڈال کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔
شہرام نے اس کی حرکت پر دانت پیستے ہوئے اسکے پیچھے جانا چاہا تاکہ اس حرکت پہ اسے مزہ چکھا سکے ۔۔۔مگر جلال الدین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایسا کچھ بھی کرنے سے روک دیا ۔۔۔۔
انہوں نے سوہا اور سبرینہ کو اشارہ دیا ۔۔۔۔
وہ دونوں اسے اپنے ساتھ لیے باہر آئیں ۔
معاذ اپنی جیپ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا ۔
سبرینہ نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر دعا کو اس کے اندر بٹھایا اس سے پہلے کہ وہ اسے الودع دعا دیتی ۔معاذ کے اشارہ کرنے پر ڈرائیور نے جیپ دوڑا دی ۔۔۔
وہ دونوں دعا اور معاذ کی دھول اڑاتی ہوئی جیپ کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔


“اماں سائیں میں نے کئی بار ماہ کو اس بوڑھ کے درخت کے پاس کھڑے اکیلے کسی سے باتیں کرتے دیکھا ہے ۔۔”کہیں اس پر کوئی جن تو عاشق نہیں ہوگیا ؟؟حسنا نے شبانہ کو آ کر رازدارانہ انداز میں بتایا ۔۔۔
“یہ بھی تو نے خوب کہی حسنا ۔۔۔!!!بھلا جن کو بھی عاشق ہونے کے لیے ایک وہی ملی تھی کالی کلوٹی ڈائن۔۔۔”
شاہانہ نے استہزایہ انداذ سے ہنس کر کہا ۔۔۔۔
“تم دونوں چپ کر جاؤ ۔اتنے سالوں سے وہ بوڑھ کا درخت ہے پہلے تو کبھی کچھ نہیں ہوا ۔۔۔اب کیا ہونا ہے ۔؟تیرا وہم ہوگا “شبانہ نے ماتھے پر شکن نمودار کیے انہیں ڈپٹا ۔۔۔
“اماں اگر ایسا سچ میں ہوا تو کیاہوگا “شاہانہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
“چل آج تم دونوں کو کچھ باتیں بتاتی ہوں ۔ہمارے بڑے بزرگ بتاتے تھے ۔تم بھی انہیں پلو سے باندھ لو ۔۔۔۔
شبانہ نے نا صحانہ انداز میں بات کا آغاز کیا۔۔
جتنے ہم انسان ہیں نا اس دنیا میں اس سے کہیں زیادہ جنات ہیں ۔۔۔مگر وہ ہماری آنکھوں کے سامنے دکھائی نہیں دیتے ۔کہتے ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بیچ سوئی بھی پھینکو تو نا ملے ۔اور بتاتی ہوں تمہیں ۔۔۔
جب کپڑے تبدیل کرو تو ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھ لیا کرو تاکہ جن آپ کو برہنہ حالت میں نہ دیکھیں۔
دوسری بات
جب بستر میں جاو تو ہمیشہ دائیں طرف پہلو بدل کر سوو جاؤ اور ’المعوذتان‘ (قرآن مجیدکی آخری دو سورتیں) پڑھ کر سوجاو ۔ کیونکہ جن صرف آپ کو تنگ کرنے کے لیے آپ کے اوپر سوسکتے ہیں، ایسی صورت میں اپنا کا دم گھٹے گا یا آپ کو ڈراﺅنے خواب آئیں گے۔
ایسی پتلیوں اور گڑیاﺅں میں سوئی یا ناخن چبھانے کی کوشش مت کریں جن کے لیے جن وہاں رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے جنات کو تکلیف پہنچے گی اور وہ آپ سے انتقام لیں گے۔
وہ کچھ دیر سانس لینے کے لیے رکیں ۔
اور سنو ۔۔۔وہ کچھ دیر توقف کے بعد پھر سے بولیں۔
رات کے درمیانی پہر میں بلند آواز میں بات مت کرو کیونکہ اس طرح آپ جنات کو پریشان کریں گے، جس پر وہ آپ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
کبھی اکیلے بیٹھ کر مت رونا کیونکہ اس طرح آپ کا جن بھی دکھی ہو جاتا ہے اور وہ آپ کو گلے لگانے کا انتظار کرتا ہے جس سے آپ کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
ایک اور بات ۔۔۔
کوئی چیز پھینکنے یا خود بلند جگہ سے نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے اللہ کا نام لیا کریں۔ ہو سکتا ہے اس جگہ پر جن سو رہا ہو اور آپ اسے انجانے میں پریشان کر بیٹھو اور وہ آپ سے انتقام لینے پر اتر آئے۔
نہانے والے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے یہ دعا” اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث“لازمی پڑھا کرو، کیونکہ ایسی جگہ جنات کے ٹھہرنے کی پسندیدہ جگہ ہوتی ہے۔
“اماں سائیں ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ جن ہمارے آس پاس ہے ؟؟حسنا نے من میں آیا سوال کیا ۔
“اگر تمہارے کے کانوں میں بغیر کسی وجہ کے سیٹیاں بجنے لگیں، یا خود کو بیمار محسوس کرنے لگو اور تمہیں آگ کی بو آرہی ہو تو آپ جان لو کہ تمہارے کے سامنے کوئی جن کھڑا ہے۔
اگر تم کسی جانور کو دیکھو اور اس سے تمہیں خوف آئے یا پھر تم اسے ڈرانے کی کوشش کرو لیکن وہ کوئی حرکت نہ کرے تو سمجھ لو کہ وہ جن ہے۔
آئینے کے سامنے برہنہ حالت میں کبھی کھڑے مت ہونا اور ایسی حالت میں کبھی خود کو آئینے میں نا دیکھنا۔۔ کیونکہ اس طرح جن تم پر عاشق ہو سکتے ہیں اور تمہارے ساتھ تعلق کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اور کوئی بھی آپ کے پاس آئے گا تو وہ اسے نقصان پہنچائیں گے۔۔۔۔
“ہائے اماں سائیں اب تو مجھے سچ مچ خوف آنے لگا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو میں تو نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔”شاہانہ نے خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا اور شبانہ کے بستر میں ہی دُبک کر لیٹ گئی


جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
سارے کمرے میں دھواں بھرا تھا اور دھویں کی وجہ گلاس وال کے سامنے کھڑا تھا سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس شانوں پر سیاہ شال ڈالے میں اپنے عام حلیے میں وہ ماحول پر چھایا ہوا تھا لبوں میں دبا سیگریٹ گہری بھوری آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں پیشانی پر بکھرے بال وہ کھڑکی کے پٹ پر اپنا ایک ہاتھ ٹکائے کسی گہری سوچ میں گم تھا آنکھوں میں موجود ڈورے اشتعال کے گواہ تھے ۔۔۔۔۔
ہونٹوں میں دبی سگریٹ سے اس نے ایک گہرا کش لیا اور دھوئیں کا مرغولہ بناتے ہوئے ہوا کے سپرد کیا ۔۔۔۔اس کی سنجیدہ آنکھیں اسوقت حدردرجہ سرخی مائل ہو رہی تھیں ۔۔۔اس کا چہرہ اسکے اندرونی خلفشار کی غمازی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“شہرام !”نام کی پکار کہیں قریب سے آئی تھی،ساتھ ہی کسی کے کھانسنے کی آواز پر وہ سگریٹ فرش پر پھینک کر اپنی کھیڑی سے مسلتا پلٹا،جہاں دلنشین سامنے کھڑی ہوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے دھواں جھٹک کر بری طرح کھانس رہی تھی ۔۔۔۔
وہ لمحوں میں فاصلہ طے کرتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔
“تم نے یہ سب کب سے ۔۔اور کیوں شروع کیا ۔؟؟؟ “۔
وہ تشویش اور غصہ بھرے انداز میں بولی ۔۔
“تم سے مطلب ؟”
“تمہیں کوئی کام تھا کیا ؟”وہ اس کا سوال نظر انداز کر کے سنجیدگی سے بولا۔
“کیوں بنا کام کہ نہیں آ سکتی اپنے کمرے میں “؟
دلنشین نے تحیر بھری نظروں سے اسے دیکھا کہ آج سے پہلے وہ یوں مخاطب نہ ہوا تھا۔ہمیشہ اسکے آگے پیچھے منڈلاتا ہوا ہی نظر آیا تھا ۔۔اور آج اسکی لہجے میں بیگانگی دلنشین کو بُری طرح کِھلی ۔۔۔
“تمہاراذہنی توازن درست نہیں جو شاید اپنے ہوش و حواس میں اس کمرے کو اپنا کہہ رہی ہو ۔۔۔”؟
“اس سگریٹ کو دربارہ ہاتھ مت لگانا “اس نے شہرام کے کی انگلیوں میں دبی ہوئی سگریٹ چھیننی چاہی ۔۔۔
میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدید۔
کچھ ایسا کر ،مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے “
وہ ذومعنی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے خمار زدہ آواز میں بولا۔۔۔
“سو جاو جا کر ۔لگتا ہے تمہارے بھی دماغ پہ اثر ہوگیا ۔نیند پوری کرو گے تو ہوش میں آجاؤ گے “!
شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر وہ اس کا ہاتھ ہٹاتی منہ بسورے رخ موڑ گئی۔
“کیا ہوا؟”اس نے اچھنبے سے پوچھا۔
“آپ میری خواہش پوری کردیں میں آپکی کردوں گا “
“تو کیا حکم ہے میرے لیے؟”وہ درمیان میں موجود دو قدموں کا فاصلہ ایک ہی جست میں طے کرتے اس کے قریب ہوتا ،آنکھوں میں جھانکتا معنی خیزی سے پوچھنے لگا۔
اس پری وش نے پلکوں کی جھالر اٹھاتے مقابل کی نگاہوں سے نگاہیں ملائیں ،جس کا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
خوف سے کپکپاتے ہونٹ سانسوں کی تیزی سے لرزتی جھلمل کرتی نتھلی۔۔۔یہ دلکش منظر شہرام کے وجود میں بے چینیاں بھر گیا اسی بے چینی میں جلتا سیگریٹ مٹھی میں دبوچ لیا ۔۔۔پر ہاتھ میں ہوتی جلن سے بے پرواہ تھا کہ یہ جلن اس جلن کے سامنے کچھ نہ تھی جو اس کے سینے میں لگی تھی ۔۔
“دعا کی وجہ سے ڈیپریشن میں مبتلا تھا۔بس اسی لیے “اس نے اپنے تئیں اپنے عمل کی وضاحت دینے کی کوشش کی ۔
“لیکن اگر دل سرکار کہیں یہ سگریٹ تو کیا یہ دنیا چھوڑ دیں ۔بشرطیکہ آپکا ساتھ یقینی ہو “
وہ مدھم آواز میں بولا مگر لہجے میں بلا کی جنوں خیزیاں تھیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر دور ہوجاتی شہرام نے جلدی سے اسکاہاتھ تھام لیا….اور نہ جانے کیسے دلنشین کا ہاتھ اٹھا.. اور کھینچ کر تھپڑ.. اسکے منہ پر پڑا…
تم ایک آوارہ اور.. گھٹیا… انسان ہو…میں تمہارا دل بہلانے کا سامان قطعی نہیں بنوں گی “وہ چلائی ۔۔۔
جبکہ شہرام تو آپے سے باہر ہوتا.. اسکے نازک پنکھڑیوں جیسے لبوں پر اپنے ہاتھ کی سخت گرفت رکھ گیا.. کہ وہ پیچھے دیوار سے جا لگی..
اور خوفزدہ ہرنی کے مانند اسکو ہراساں نظروں سے دیکھنے لگی ۔
“اتنا غصہ دل سرکار ۔۔۔؟؟”
“دل سرکار آپ پر اتنا غصہ کرنا کچھ جچتا نہیں …
“آپکو میرے غصے کا بھی خوب اندازہ ہے۔ایک بار برداشت کیا کیونکہ تب شاید غلطی میری تھی ۔میں نامحرم تھا آپکے لیے ۔۔۔
“تب آپکا غصہ جائز تھا میں خاموش رہا “”
“مگر اس بار کچھ زیادہ ہوگیا دل سرکار۔۔۔۔وہ اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ گیا ۔۔۔
وہ سرد لہجے میں اسکے کان کے قریب پھنکارا ۔۔۔۔
دلنشین اس کی سخت گرفت سے جھٹپٹانے لگی ۔۔۔کیونکہ اسے اب سر میں درد ہونے لگا تھا ۔۔۔۔
“اس بار اس تھپڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا دل سرکار “
.
وہ اسپر چھانے لگا۔۔
جبکہ دلنشین کو اپنی کمر کے گرد اسکی سرسراتی انگلیاں محسوس ہوئیں.. وہ تڑپ اٹھی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے ۔۔۔ شہرام اسکی بے بسی محسوس کیے محذوذ ہوا ۔۔۔
“ارے آپ تو ابھی ڈر گئیں !!!
لگتا تھا جس جراءت سے تھپڑ مارا ہے اسی جراءت سے باقی کی لڑائی بھی لڑیں گی ۔۔۔
“مگر آپ تو پہلے مرحلے پر ہی ہار گئیں ۔۔۔۔”
کس حال میں رکھیں گی رفاقتیں تیری
ہوگئیں ہیں مجھ کو اب عادتیں تیری
منزل دیں گی یا دربدر رکھیں گی
میں کسطرح بھلا پاؤں گا محبتیں تیری
ہر سو پھیلے ہیں خوشبوؤں کے جھونکے
اک خمار سا دے رہی ہیں چاہتیں تیری
میرا دل میری آنکھیں اے جانِ جاں
اب ہوگئیں ہیں امانتیں تیری
مت توڑنا یہ سلسلہ محبتوں کا دل سرکار
سہہ نہ پاؤنگا میں اذیتیں تیری۔
” اب وہ اسکے بالوں کو چھیڑنے لگا..
دلنشین سٹپٹا کر نظریں چرا گئی۔۔۔
مگر شہرام کی گرفت بہت سخت تھی۔نا چھوٹنے والی ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں بے بسی دیکھ کر شہرام آہستگی سے ہنس دیا…
“دل سرکار پیار سے معافی مانگ لیں ۔۔یہ نا چیز دل کا اتنا برا بھی نہیں ۔جھٹ معاف کردے گا ” وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے بے حد نزدیک کر گیا۔۔۔
دلنشین کے تن بدن میں برقی رو دوڑ گئی ۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے” وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکیلنے لگی ۔۔۔
“نا دل سرکار ۔۔۔اتنا چلانا آپکی ناتواں صحت پر گراں گزرے گا “
“مجھے اب اندازہ ہوا ہے کہ تم ایک انتہائی خود سر اور مغرور انسان ہو…. “وہ اس سے الگ ہونے کی تگ و دو میں تھی
“ہنہہہ۔۔۔۔اس نے ہنکارا بھرا”
“ہاں مغرور ہوں مگر تمہاری محبت میں ۔۔۔۔
“معافی مانگیں دل سرکار !!!!
اس بار اس کے جلتے ہوئے گال کو ابھی بھی قرار نہیں ملا تھا ۔۔۔۔وہ دلنشین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر.. غرایا
“مر کر بھی نہیں مانگوں گی تم سے معافی کیونکہ تم اسی تھپڑ کے لائق ہو “وہ بھی اکڑ کر بولی..
“ٹھیک ہے تو پھر آج آپ اپنے کہے کہ خود ذمہ دار ہیں ۔۔۔آپ کو مرنا ہے نا ؟؟؟
وہ سنگین لہجے میں بولا…
دلنشین کی جان ہوا ہونے لگی اسکی بات سن کر ۔
“آج پھر میرے ہر عمل پر آپ ہر بار مریں گی “
وہ اسے بستر پہ دھکا دے کر سرد مہری سے بولا ۔۔۔
“سو۔۔۔سوری شہرام ۔۔۔۔
“شاہو مجھے جانے دو “
اس کے تیور دیکھ دلنشین کو ہار ماننی ہی پڑی ۔۔
“دل سرکار وہ کیا ہے صبح سے کان میں ٹھیک اے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا زرا اونچی بولیں نا کچھ کہا کیا آپ نے ؟”
دلنشین دانت پیس کر پھر سے بولی ۔۔۔۔
” میں نے کہاسوری “
“چلیں جائیں کیا یاد کریں گی آپکے عاشق نے آپ کو معاف کیا دل سرکار “
“جا کر میرے لیے اپنے ان نازک ہاتھوں سے چائے بنا کر لائیں “
وہ کہتے ہوئے بستر پر دراز ہوا تو دلنشین لب خلاصی ہر گہرے سانس لیتے ہوئے بھاگتے کے انداز میں کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔


ٹھک۔۔ ٹھک۔۔ ٹھک۔
باہر دروازے پر دستک ہوئی تو شبانہ خود اٹھ کر دروازہ کھولنے گئی ۔۔۔
“جی آپ کون ہے “؟
“جی یہ صابر حسین کا گھر ہے ؟
باہر کھڑے ہوۓ وجیہہ نوجوان نے مودبانہ انداز میں کہا۔ ۔۔۔”
”جی ہاں ! یہ ان کا ہی گھر ہے۔۔۔۔۔۔کیا کام ہے آپ کو ُان سے؟ “
“دراصل میں ان کے دوست کا بیٹا ہوں “
شبانہ نے اسے سرتا پا دیکھا، وہ چھ فٹ کا خوبصورت جوان تھا، اس نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ بال گھنے اور سیاہ تھے۔ ناک تیکھی، آنکھیں بڑی بڑی سرمئی رنگ کی اور شفاف، چہرے کا رنگ صاف اور معصومیت ایسی بلا کی کہ شبانہ کو اسے گھر کے اندر لاتے ہوۓ ایک بار بھی نہیں سوچنا پڑا۔ دونوں اندر آئے تو میں شبانہ نے سہانہ کو چائے بنانے کے لیےکہا۔
” آپ چاۓ کا تکلف نہ کریں”اس نوجوان نے ہچکچاتے ہوۓ کہا ۔۔
دراصل ۔۔۔۔مقابل موجود نوجوان نے بات کا آغاز کیا۔۔۔
”میرا نام شماس بن ضماد ہے، میں اس شہر کے قریبی گاؤں کا رہنے والا ہوں کسی کام کے سلسلے میں اس شہر میں رہنے آیا ہوں پر رہائش نہیں مل رہی۔ اسی سلسلے میں، میں آپ کے پاس آیا ہوں۔”
“میں کچھ سمجھی نہیں ، اس معاملے میں، میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں بھلا ؟؟
سہانہ نے چاۓ اس نوجوان کے آگے رکھتے ہوۓ اسے نظر بھر کر دیکھا ۔۔۔اسکی آنکھوں میں اس وجیہہ نوجوان کے لیے پسندیدگی کی چمک ابھری ۔۔۔
” میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے گھر کا ایک کمرہ مجھے کرائے پر دے دیں”
“لو بھئی ہمارے پاس تو خود دو کمرے ہیں ایک تمہیں دے دیں گے تو خود کہاں جائیں گے۔بس چھت پہ ایک دھارا سا بنایا ہے ۔اس میں کچھ لکڑیاں وغیرہ رکھی ہیں۔مگر ۔۔۔۔۔ “
”میں ضرورت مند ہوں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ کو دس ہزار روپے ماہانہ دوں گا، صرف ایک ماہ کی بات ہے۔ جونہی میرا کام ہو گا، میں چلا جاؤں گا “
شماس نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
اس کی کرائے کی بات سن کر شبانہ فورا واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور تحمل سے بولی۔
” دیکھو بیٹا! اگر میں تمہاری مجبوری سمجھ بھی لوں تو میں اپنی مجبوری کا کیا کروں گی”؟
آنٹی میں آپ کے بیٹے جیسا ہوں آپ مجھ سے کھل کے بات کر لیں۔‘‘
شماس کے لہجے کی اپنائیت نے شبانہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس سے اپنے من میں چھپی بات کہہ سکے۔ “
“بیٹا گھر میں جوان بچیاں ہیں اور پھر صابر حسین سے بھی نہیں پوچھا ایسے کیسے ہاں کردوں تمہیں ؟”
“چلیں جیسے آپ کو مناسب لگے ۔میں کل پھر آؤں گا آپ کا جو بھی جواب ہوگا مجھے بتادیجیے گا ۔”وہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔
چائے کا کپ جوں کا توں ہی پڑا رہ گیا ۔۔جو اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔۔۔۔