953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 22

“یہ بابا سائیں کیا ہوتا ہے؟؟؟

“ڈیڈ بولو نا “آریان شیر نے سنہری کو کہا ۔۔۔

“مجھے یہی بولنے کی عادت ہے ۔اتنی آسانی سے نہیں جائے گی ۔

وہ ناک سکوڑ کر بولی۔

“ڈیڈ جب مجھے پتہ چلا تھا کہ میں بابا سائیں کی اصل بیٹی نہیں تو مجھے بہت برا لگا تھا ۔میں نے کبھی بھی کسی سے نہیں کہا کہ میرا دل کرتا ہے۔کاش میرے والدین میرے ساتھ ہوتے تو وہ مجھے بھی پیار کرتے بہت زیادہ اور میں ان کے ساتھ کھیلتی ۔۔۔میں نے اپنے بچپن میں آپ کو بہت مِس کیا “وہ حسرت بھرے لہجے میں بولی۔

“تو کیا ہوا ہم اپنی بیٹی کے ساتھ اس عمر میں نہیں کھیل سکتے ؟؟؟شیر زمان نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“ڈیڈ یہ نا انصافی ہے۔!!!

شیر زمان کے ٹرپلز نے بیک وقت احتجاج بلند کیا ۔۔۔

“ہمارے ساتھ تو آپ کبھی بھی نہیں کھیلے “…

وہ تینوں یک زبان ہو کر چلائے ۔۔ ۔حویلی کے سب مکین ان کی محبت بھری جنگ سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔۔

“اچھا بتاؤ کیا کھیلیں ؟؟شیر زمان نے پوچھا ۔۔۔

“اممم۔۔۔۔

سنہری گال پہ انگلی پہ رکھ کر سوچنے کے انداز میں بولی ۔

“کہ ایسی کون سی کھیل ہے جو وہ اسکے ڈیڈ اور تینوں بھائی بھی کھیل سکیں ۔

“ڈیڈ وہ کھیلیں ۔۔۔یسو۔پنجو ۔ہار۔کبوتر ۔ڈولی ۔ہم پانچ ہیں۔اور اس گیم میں بھی پانچ لوگ درکار ہیں۔

“یہ کونسی گیم ہے ؟؟

میں نے تو پہلے کبھی نہیں سنا اس کے بارے میں ۔؟؟؟شیر زمان نے ہیر کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ہیر نے جوابا نفی میں سر ہلاتے ہوئے شانے اچکائے ۔۔۔جیسے وہ بھی نہیں جانتی تھی اس بارے میں ۔

“ڈیڈ ہمارے گوٹھ میں سب بچے کھیلتے تھے۔میں بتاتی ہوں ۔۔آپ کو

سب اپنی مرضی کی انگلیاں درمیان میں رکھتے ہیں۔اور کاوئنٹ کرتے ہیں۔جس کا نام آئے وہ جیت گیا اور سائیڈ پہ ہوگیا ۔۔آخر میں جن دو لوگوں میں مقابلہ ہوگا ۔جو ہارے گا اسے اپنے ہاتھ جوڑنے ہوں گے اور پھر سب اس کے دونوں ہاتھوں پہ زور سے تھپڑ لگائے گے۔کیسا ؟؟؟

“ہے نا انٹرسٹنگ؟؟؟وہ پرجوش انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔۔

“Let’ start boys “

شیر زمان نے ان تینوں کو اشارہ کیا اور کھیل شروع ہوا ۔۔۔

پہلے راؤنڈ میں سب جیت گئے اور آخر پہ آریان رہ گیا ۔۔۔

کبھی تو وہ پھرتی دکھا کر سامنے والے کے تھپڑ سے بچ جاتا اور کبھی اسکے ہاتھ پہ لگ جاتا ۔۔۔شیر زمان نے اسکو مارتے ہوئے ہاتھ زرا ہلکا رکھا ۔۔۔

“یہ چیٹنگ ہے ڈیڈ”منان شیر اسے دیکھ کر چلایا۔۔۔

“ڈیڈ ماریں اسے زور سے “

شیر زمان نے آریان کو آنکھ ونگ کی تو اس نے فورا ہاتھ پیچھے کھینچ لیے ۔۔۔اسطرح شیر زمان کا نشانہ چوک گیا اور آریان کی جان خلاصی ہوئی ۔۔۔۔

دوسرے راؤنڈ میں آخر پہ سنہری اور شیر زمان رہ گئے۔۔۔

سنہری نے دو انگلیاں رکھ کر جیت اپنے نام کی ۔

تو شیر زمان نے ہاتھ آگے جوڑے کیوں کہ اس بار مار کھانے کی باری شیر زمان کی تھی ۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح سنہری کے آگے ہاتھ جوڑتا ۔۔۔سنہری نے اپنے ڈیڈ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ان پر جھک کر اپنی آنکھوں کا عقیدت بھرا بوسہ دیا ۔۔۔

“میرے ڈیڈ کے ہاتھ کسی کے سامنے جوڑنے کے لیے نہیں بنے ۔۔۔۔

“I love you Dad ❤️“

وہ محبت بھرے انداز میں بولی۔۔۔ان چند دنوں میں اس گھر کے تمام لوگوں نے اسے بہت پیار دیا ۔۔۔جسے پا کر وہ سرشار تھی۔۔۔

شیر زمان نے اس کے شانے کے گرد بازو پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔اور اسکے سر پہ پیارا بھرا بوسہ دیا۔۔۔۔

My little princess”

یہ منظر دیکھتے ہوئے ہیر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

“اسلام و علیکم!

تبھی لاونج میں کسی کی آمد پہ سب نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔۔۔

“آؤ بیٹا ! ہیر نے شماس بن ضماد کو سامنے سے آتے دیکھ کر صوفے پہ بیٹھنے کے لیے کہا۔

سنہری نے اسے نظر بھر کر دیکھا گرے کلر کے کھدر کے شلوار قمیض میں ملبوس،شانوں پہ سیاہ شال اوڑھے،چہرے پہ دلکش دھیمی سی مسکراہٹ سجائے وہ سبک رفتار قدموں سے چلتے ہوئے اسکے ساتھ والے صوفے پہ بیٹھا ۔۔۔کچھ دیر رسمی سی گفتگو کے بعد وہ مدعے کی طرف آیا ۔

“دراصل میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں “

اس نے ادب کے دائرے میں رہ کر اپنی بات سامنے رکھی ۔

“ابھی ہم اور وقت گزارنا چاہتے ہیں اپنی بیٹی کے ساتھ”شیر زمان اسکی بات سن کر سپاٹ انداز میں بولا۔

“جسطرح آپ کو اپنی بیٹی سے ملنے کا انتظار تھا ویسے میرے والدین کو بھی اپنی بہو سے ملنے کا انتظار ہے”

وہ باوقار انداز میں اپنی بات مکمل کرگیا ۔۔۔

شیر زمان اسکی بات پر کچھ لمحے خاموش ہوگیا ۔۔۔اور سوچنے لگا ۔۔۔

“میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں سنہری کو آپ سے ملوانے لاتا رہوں گا “

“ٹھیک ہے “شیر زمان فیصلہ کن انداز میں بولا ۔۔۔

کیوں کہ وہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں جلتے ہوئے دئیے دیکھ چکا تھا جو شماس بن ضماد کو سامنے دیکھ کر روشن ہوئے تھے ۔۔۔

******….*****…..****

اذلان نے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے شرٹ سے دبوچ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔اسے فجر کے ساتھ دیکھ کر اس کےغصےکا گراف مزید ہائی ہوا تھا۔وہ مزید آگے بڑھا تھا اور صائم دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔

صائم کو اندازہ نہیں تھا کہ اذلان وہاں سچ میں پہنچ جائے گا وہ اسے اچانک سامنے دیکھ کر بوکھلا گیا۔۔۔اور ہولڈر سے اپنے گن نکال کر اذلان پہ تانی ۔۔استہزائیہ انداز میں اس کا مذاق اڑایا ۔۔۔اذلان نے چند پل خاموش رہ کر اس کے غرور کو اور بڑھنے دیا ۔۔۔اب اس کے پیچھے دیوار تھی اور صائم اسے تمسخر سے دیکھ رہا تھا۔اس کے خیال میں اذلان پوری طرح اس کے نرغے میں آ چکا تھا ۔۔

“تم نے خود یہاں آکر اپنی موت کو دعوت دی ہے۔

“اب یہاں سے تمہارا بچ کر نکنا ناممکن ہے ۔وہ طاقت کے نشے میں چور رعونت آمیز انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھا تھا۔

جبکہ اذلان ایک جست میں چھلانگ لگا کر اچھلا پھر ایک قدم دیوار پر رکھ کے پلٹ کر گھومتے ہوئے دونوں پاؤں صائم کے سینے پر مارے۔وہ زور سے پیٹھ کے بل نیچے گرا تھا ۔اور گن اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری ۔۔۔

اذلان نے ایک پاؤں اس کے سینے پر مارا ۔۔۔

وہ اپنی جگہ سے اچھلا اور تڑپ کر رہ گیا ۔۔۔

اور دونوں ہاتھ زمین پہ رکھ کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔تاکہ دور پڑی ہوئی گن پکڑ سکے ۔۔۔مگر۔۔۔

اذلان نے اسے کوئی موقع دیے بنا بازو فولڈ کیے کہنی سے اس کی کمر پر ایک ایسا وار کیا کہ وہ کئی لمحے اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ایک پاگل یہ کیسے کر سکتا تھا۔وہ اتنا طاقتور تھا کہ مقابل کو ایک منٹ میں اپنے سامنے ڈھیر کر دیتا تھا ۔۔۔صائم حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ کیا چیز تھا وہ ۔اسے شکست پر شکست دے رہا تھا۔

جبکہ اذلان اس کے چہرے کے حیرت زدہ تاثرات دیکھ کر محذوذ ہوتے ہوئے سینے پر بازو باندھے تمسخرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا۔وہ جان چکا تھا کہ صائم اسے ابھی بھی پاگل سمجھ رہا ہے ۔۔۔۔وہ کچھ دیر تو زمین پر پڑا رہا اور پھر ایک دم سے اٹھا اور طیش میں آتے ہوئے ہاتھ کا مکا بنا کر اذلان کے چہرے کا نشانہ لیا لیکن اذلان پہلے ہی اسکے وار کے لیے تیار کھڑا تھا۔وہ آگے کی جانب نیچے جھکا اور صائم کا وار خالی گیا۔

اب کی بار وہ حیران نہیں ہوا تھا۔اسے پتہ چل گیا تھا مقابل بھی ٹکر کا ہے۔اور پاگل نہیں تھا ۔۔۔

اذلان نے سیدھے ہوتے ہوئے اس کا دوسرا مکا اپنی کلائی پہ روکا ۔۔۔پہلی دفعہ تو وہ جھک کر بچ گیا تھا۔۔۔

اب کی بار صائم کے وار کرنے سے پہلے اس نے صائم کے سینے پہ ایک لات ماری اور زور دار پنچ اسکے منہ پہ ۔صائم کو سینے پر تو اتنا درد نہ ہوا لیکن اس کا منہ جھنجھنا کر رہ گیا اور سر چھت کی زمین سے ٹکرا گیا۔

اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ مقابل بھی ٹکر ہے۔اور اب اس میں مزید لڑائی کرنے کی سکت نہیں بچی تھی ۔اس نے اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ جانے کا سوچا ۔۔۔اور وہ تیزی میں چھت پھیلانگنے لگا ۔۔۔مگر ۔۔۔۔

جیسے ہی اس نے دوسری چھت پھیلانگنے کی کوشش کی اس کا دوسرا پاؤں ہوا میں معلق ہوا ۔۔۔اور وہ ہوا میں لہراتا ہوا چھت سے نیچے گرا ۔۔۔۔

نیچے شاید گھر کی تعمیر کے لیے تعمیراتی اوزار پڑے ہوئے تھے ۔۔۔صائم ان سے رگڑ کھاتا ہوا ۔۔۔پہلے ایک ٹرالی پر اور پھر اس سے بل کھا کر زمین پہ گرا ۔۔۔وہاں گرتے ہی اس کے سر اور منہ سے خون کا فوارہ چھوٹا۔۔۔۔

اور اس کی کھلی ہوئی آنکھوں کی پتلیاں پہلے تو پھیلیں پھر ساکت ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ بند ہوگئیں ۔۔۔۔

اذلان نیچے آیا تو فجر اپنی چادر درست کرتی ہوئی ایک طرف کھڑی تھی ۔۔۔وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ سے چلتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟

فجر نے اذلان کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر سوال کیا ۔۔۔

“ہم حویلی میں جا رہے ہیں۔”

“مگر آپ نے تو کہا تھا کہ ہم اب کبھی حویلی نہیں جائیں گے “فجر نے اسکی بات کی اس کو یاد دہانی کروائی جو کل رات اس نے کی تھی ۔

“ہاں کہاں تھا ۔۔۔مگر اب پانی سر کے اوپر ہو چکا ہے۔اب میں مزید خاموش نہیں رہوں گا “

وہ اٹل انداز میں کہتے ہوئے اپنے قدم حویلی کے راستے پر بڑھانے لگا ۔۔۔۔

“اماں سائیں !!!!

وہ جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا وہ بلند آواز میں چلایا ۔۔۔۔

اذلان کی آواز سن کر سب اپنے اپنے کمروں میں سے باہر نکل آئے ۔۔۔۔

“اذلان ..!!!

“م۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔ت ۔۔۔تو ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔تو ۔۔۔زن۔۔زندہ ۔۔۔ہے۔

سب سے پہلے جلال الدین اذلان کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذندہ سلامت دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے اور ٹوٹے بکھرے انداز میں بولے ۔۔۔

اپنے لاڈلے پوتے کو ذندہ دیکھ کر انکی بوڑھی ہڈیوں میں طاقت سی بڑھ گئی اور چہرے کی زردی میں خوشی کی چمک بھر گئی ۔۔۔۔

وہ بے اختیار اسکے قریب آئے اور اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔

اذلان نے ان کے گرد اپنی بازو باندھ دیں ۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں دادا سائیں!

اس نے تسلی آمیز انداز میں کہا۔۔۔تو وہ مسرت سے لبریز انداز میں مسکرانے لگے ۔۔۔۔اور اذلان کی پشت اپنے ہاتھ سے تھپتھپانے لگے ۔۔۔

فیروز اور سبرینہ اکٹھے سبرینہ بیگم کے کمرے سے باہر نکلے ۔۔۔۔

تو سردار واجد اور ارحام بھی دونوں ہی آگئے ۔۔۔

سب کی آنکھوں میں حیرت تھی اذلان کو سامنے دیکھ کر ۔۔۔

“دیکھا میں نے سچ کہا تھا نا ۔۔۔کہ اذلان زندہ ہے “

“مگر کسی نے میری بات پہ بھروسہ نہیں کیا ۔۔۔۔

وہ سب کو مخاطب کیے اونچی آواز میں بولیں ۔۔۔

“اذلان میرے بچے تو ٹھیک ہے نا “؟وہ فکرمندی سے اذلان کی طرف بڑھیں ۔۔۔۔

“بس کردیں یہ پیار محبت دکھانے کے جھوٹے ڈرامے کرنا ۔۔۔میں آپکی اصلیت سے بخوبی واقف ہوں ۔۔۔میں اتنا عرصہ چپ رہا تو اسے میرا احسان سمجھیے ۔۔۔۔”

“شرم آتی ہے مجھے آپکو اپنی ماں کہتے ہوئے ۔۔۔

کیسا رشتہ نبھایا آپ نے ماں کا ؟”

. آپ لوگ صرف گدی کے لالچ میں اسقدر گر جائیں گے کہ مجھ سے میری بیوی کو بھی ۔۔۔۔ “

اذلان کی دماغی حالت کے باعث اس کی صحت کے لیے اتنا غصہ کرنا ٹھیک نہیں تھا ۔مگر ان لوگوں کی حرکت دیکھ کر اس کا پارہ چڑھ گیا تھا.

” اذلان !!!!!.”

سردار حماد جو کل رات سے ڈیرے پر گئے ہوئے تھے اور آج ہی لوٹے تھے.

وہ دہلیز پہ حیران اور ساکت کھڑے تھے ۔۔۔۔

اذلان کو صحیح سلامت دیکھ کر اور اس کا لب و لہجہ انہیں حیران کر گیا ۔۔۔اور پھر اس کا یوں سبرینہ پہ غصہ کرنا اُنہیں پریشان کر گیا تھا.

“ہوا کیا ہے ؟؟؟سردار حماد نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا ۔

” کیا ہوا ہے. پچھلے پندرہ سال سے یہ مجھے ایسی دوائیں کھلا رہیں . جس سے میں دماغی طور پر کبھی صحت یاب نہ ہوسکوں. اور مزید اپنے حواس کھو دوں.

“یہ کیا بکواس کر رہے ؟؟؟

“اور کس کہ بارے میں کر رہے ہو ؟؟؟

“سوچ سمجھ کر بولو اذلان ؟؟؟سردار حماد نے اسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“آپ کو میری بات پہ یقین نہیں نا تو یہ لیں اپنے کانوں سے سنیں سب “

اذلان نے ارحام کی طرف دیکھا تو ارحام نے اپنا موبائل اذلان کی طرف اچھال دیا ۔۔۔جسے اذلان نے بروقت کیچ کر کی اس میں سے ریکارڈنگ والا بٹن پریس کیا ۔۔۔۔

. “فیروز بھائی !!!!!! اذلان زندہ ہے “

سبرینہ بیگم نے رازدارنہ انداز میں کہا۔

“ایسے کیسے ہوسکتا ہے بہنا ۔۔۔

لگتا ہے پی میں نے ہے اور سر پہ تمہارے چڑھ گئی ہے “

ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔اتنے سالوں تک ہم اس گدی پر ارحام کو بیٹھانے کے لیے کوششیں کرتے رہے اور وہ اذلان واپس آکر سب لے جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ایسا میں کبھی ہونے نہیں دوں گی “

“بہنا اگر اسے بچپن میں ہی مار دیا ہوتا تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔۔”

“ویسے تجھے کیوں لگتا ہے کہ اذلان زندہ ہے ؟؟؟

“کیوں کہ ہم نے کونسا اس کی شکل دیکھی تھی دفنانے سے پہلے ۔۔۔۔ارحام نے آکر بتایا تھا کہ اسکے دماغ کا آپریشن ہو رہا تھا جو ناکام ہوگیا اور اسی آپریشن کے دوران وہ مر گیا ۔

اس ہسپتال میں کرونا وائرس کے بہت زیادہ مریض تھے ۔اس لیے ڈاکٹر نے مُردے سے دور رہنے کا کہا ہے۔کہ کوئی بھی اسکے قریب گیا یا اسے چھوا تو اسے وہ وائرس لگ جائے گا ۔۔۔اور ہم اپنی جان سے جائیں گے ۔۔۔اسی ڈر سے کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔اور آپ سب لوگ اسے جلدی دفنا آئے تھے ۔۔۔

“ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہے تو “

فیروز نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔

“ویسے تو تم بڑی سیانی بنتی ہو لیکن اگر وہ زندہ ہے تو بہت بڑی گیم کھیل گیا ہم سے “

” چپ کر جاو فیروز میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں میرے جلے پر نمک مت چھڑک ۔۔۔ “وہ تلملاتے ہوئے بولی

“ریلیکس بہنا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی تیرا بھائی سلامت ہے۔یاد ہے نا تیرے لیے کیا کیا کانڈ کیے ؟؟؟

وہ اپنے احسانات یاد کرواتے ہوئے بولا ۔۔۔

سبرینہ بیگم نے ابرو اچکا کر سپاٹ انداز میں اسے دیکھا ۔۔۔

“تیرے کہنے پہ اذلان کو بچپن میں کتنا ڈرایا دھمکایا۔۔مارا پیٹا ۔۔یہاں تک کہ اس کی یاداشت چلی گئی ۔۔۔

سب نے دھیان سے ریکارڈنگ سنتے ہوئے سبرینہ بیگم اور فیروز پہ نظر ڈالی ۔۔۔

پھر اسے وہ موذی ادوایات دیں ۔۔۔

اور تو اور تیرے کہنے پہ میں نے سردار جعفری پر گولی چلائی اور نام اس واجد پہ لگا دیا تاکہ شہرام پھنس جائے اور جرگے میں غلط فیصلہ لے۔۔۔معاذ سے اس کی ہاتھا پائی ہو اور شہرام کو بھی جعفری کی طرح ہمیشہ کی نیند سلا دیتے ۔۔۔

مگر اسکی قسمت اچھی تھی شہرام بچ گیا ۔۔۔

اور بہنا تیرے کہنے پر اس شہرام کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ بھی کروایا شہر میں ۔۔۔مگر سالے کی قسمت وہاں بھی اسے بچا گئی ۔۔۔۔

“اور وہ کیا نام تھا تیرے دیور کا ۔۔ہاں ماجد اس کو بھی معاذ نے نہیں صائم نے مارا “

” فیروز بھائی بس کر !!!

“دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں “وہ محتاط انداز میں بولی ۔

“اگر اذلان زندہ ہے تو وہ ضرور ہم سے بدلہ لے گا “

“تو پھر کیا کرنا ہے ؟؟؟

“تو بتا بہنا ۔۔۔ایسے کاموں میں تیرا دماغ ہی کام کرتا ہے۔”وہ استہزایہ انداذ سے ہنسا۔۔۔

“اس کی جان اسکی بیوی میں قید ہے ۔۔۔مگر ارحام نے تو اسکی بیوی سے نکاح کرلیا ۔۔۔

وہ گال پہ انگلی رکھ کر سوچنے کے انداز میں بولی ۔

“تو نے کونسا ان کا نکاح ہوتے دیکھا ؟؟؟

“مجھے تو لگتا ھے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے “

وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے سبرینہ کو ٹونٹ مار رہا تھا۔

“فیروز !!!

ارحام میرا بیٹا ہے وہ دشمنوں کا ساتھ کبھی نہیں دے گا “

سبرینہ بیگم نے مان بھرے انداز میں کہا۔

“چل وہ تو بعد میں دیکھ لینا ۔۔۔

“یہ بتا اب کرنا کیا ہے ؟؟؟

“ایسا کر صائم کو کہہ کہ اس فجر کو اٹھوا لو ۔۔۔

دیکھنا اس کو بچانے کے لیے چوہا خود بل سے باہر نکل آئے گا ۔”

وہ تمسخرانہ انداز میں بولی ۔۔۔

جلال الدین تو وہ گفتگو سن کر اور خاص کر اپنے تیسرے بیٹے کی موت کا سن کر غم سے نڈھال ہوتے ہوئے قریبی صوفے پہ گر سے گئے ۔۔۔۔

“یہ سب کس نے کیا ہے.اب آپ سب کو پتہ تو چل گیا ہوگا اِن دونوں نے کیا ہے . “

اذلان نے ان کی سازشوں کو بے نقاب کیے سب کو حقیقت کے پہلو سے روشناس کرایا۔۔۔

سچ سامنے آنے پر مصنوعی ندامت کے احساس سے اُن دونوں کی نظریں جھکی تھیں.وہ دونوں کسی کے سامنے کچھ بھی کہنے کے قابل نا رہے ۔۔۔

وہیں باقی سب بھی شاک ہوئے یہ سب سننے کے بعد .

” اذلان بیٹا ایک بار میری…”

سبرینہ بیگم نے ایک نظر اپنے شوہر سردار حماد پر ڈالی تھی. جو افسوس بھری نظروں سے اپنی بیوی کی اپنے بیٹے کے لیے نفرت دیکھ رہے تھے. اُنہیں تو شروع سے یہی لگتا آیا تھا. کہ سبرینہ بیگم ان کی پہلی بیوی سے بچوں کو اپنا مانتی ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ غلط تھے ۔۔اُن کی بیوی اُن کے بیٹے کی بربادی کا سبب بنیں گی.

“تبھی پولیس حویلی میں داخل ہوئی ۔۔۔۔

“Arrest him”

شہرام اور دلنشین جو پولیس کو اپنے ساتھ لے کر اندر آئے تھے ۔۔۔

شہرام نے انسپکٹر کو فیروز کو اریسٹ کرنے کا کہا ۔۔۔

” آپکے منہ سے بیٹا لفظ کچھ جچتا نہیں ۔۔۔میں صرف اور صرف بابا سائیں کا لحاظ کررہا ہوں. ورنہ اب تک ان کے ساتھ آپ کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہوتا.”

اذلان سبرینہ بیگم کی بات بیچ میں ہی کاٹتے غصے سے دھاڑا تھا. اپنے قریبی لوگوں کا ایسا رُوپ دیکھ کر اُس کا دماغ آؤِٹ آف کنٹرول ہو چکا تھا

اُس نے اپنی ساتھ تو کی گئی زیادتیاں انہیں معاف کردیں تھیں ۔مگر جب ان کی باقی سازشوں کے بارے میں سنا کہ کس طرح سبرینہ بیگم نے فیروز کے ساتھ ملکر ان کے گھر کو برباد کر ڈالا۔وہ اس لیے فی الحال چپ تھا کیونکہ وہ. بنا تصدیق کے کوئی قدم نہیں اُٹھانا چاہتا تھا۔۔۔ اُس ریکارڈنگ نے اذلان کا خون کھولا کر رکھ دیا تھا. سبرینہ بیگم کے ساتھ ساتھ فیروز بھی پورا پورا شریک تھا. جس کا مقصد تھا صرف گدی حاصل کرنا ۔. حسد کی آگ انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا جاتی ہے یہ بات آج سبرینہ بیگم اور فیروز کے ندامت بھرے انداز دیکھ کر سمجھ آرہی تھی.

” میری طرف سے مکمل اجازت ہے تمہیں اذلان . اِن کے ساتھ جو مرضی سلوک کرنا چاہتے ہو کر لو. اِس عورت نے نہیں مجھے برباد کردیا کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا .”سردار حماد ندامت بھرے لہجے میں اذلان کو مخاطب کرتے وہاں سے نکل گئے تھے.

اذلان کا غصہ اِس وقت آسمانوں کو چھو رہا تھا۔۔۔

ہمیشہ اُس کے سامنے اتنا مسکرانے والا معصوم دکھائہ دینے والا اندر سے اتنی تکلیف کے زیرِ اثر تھا.فجر نے سوچا ۔۔۔

” ارحام بھائی آپ روکیں نا اذلان کو.”

فجر نے ارحام کے پاس آتے بولی جو خود بھی اذلان کا غصہ دیکھ کر کافی پریشان لگ رہا تھا.

” اذلان کو اِس وقت میرا روکنا مزید غصہ دلا جائے گا. اور اُس کا اِس وقت مزید غصہ کرنا اُس کی ذہنی کنڈیشن کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا.”

ارحام کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے.

جب فیروز کی ریکارڈنگ پر بکواس سن کر مزید برداشت نہ کر پاتے اذلان نے ایک زور دار مکہ اُس کے منہ پر مارتے اُس کا جبڑا ہلا کر رکھ دیا تھا.

” اذلان یہ کیا کررہے ہو. چھوڑو اُسے. “

ارحام اور شہرام بھاگ کر اذلان کو روکنے کے لیے آگے بڑھے تھے. مگر اذلان تو بپھرا ہوا شیر بنا اُن کے قابو میں ہی نہیں آرہا تھا.

آج اتنے سالوں بعد سب اذلان کا یہ غصے سے بھرا غضبناک رُوپ دیکھ رہے تھے

اس سے پہلے کہ فیروز کو انسپکٹر ہتھکڑیاں لگاتا ۔۔اس نے کمال ُپھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی گن نکالی خود کے بچاؤ کے لیے “

“فیروز مرنا تو ہے ہی ہم نے مگر مرنے سے پہلے میں اپنے دشمن کو ختم کر کہ مروں گی ۔۔۔لا ادھر دے مجھے یہ گن ۔۔۔”سبرینہ بیگم نے فیروز کے ہاتھ سے گن کھینچ لی ۔۔۔

“سچ کہا تھا فیروز نے تجھے بچپن میں ہی مار دیا ہوتا تو آج مجھے یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔

“دیکھ آج تیری وجہ سے میرے شوہر اور میرے بیٹے کی نظروں میں میرے لیے نفرت اور حقارت ہے۔”

صرف تیری وجہ ……..سے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی ” وہ گن کا رخ اذلان کی طرف کرتے ہوئے زور سے چلا کر بولیں ۔۔۔

فجر نے تاسف بھری نظروں سے فیروز اور سبرینہ بیگم کی جانب دیکھا تھا. جن پر ابھی بھی اپنی غلطی کا کوئی خاص اثر نہیں لگ رہا تھا۔

“نہیں سبرینہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی “سردار حماد نے اسے ایسا کچھ بھی غلط کرنے سے منع کیا ۔مگر وہ بولٹ چڑھاتے ہوئے استہزایہ انداذ سے ہنسنے لگیں ۔۔۔

“نہیں اماں سائیں آپ کچھ نہیں کریں گی “ارحام نے آگے ہوکر کہا ۔۔۔

“ارحام تم نے میرا مان توڑ دیا ۔۔۔ان دشمنوں کا ساتھ دے کر “

“اماں سائیں۔ وہ میرا دشمن نہیں میرا بھائی ہے “

“نہیں ہے وہ تمہارا کچھ بھی ۔۔۔۔تم صرف میرے بیٹے ہو ۔۔۔وہ نہیں ۔۔۔

“مگر میرے اندر میرے باپ سردار حماد کا خون دوڑتا ہے۔اور وہی خون اذلان بھائی میں بھی ۔۔۔۔

میں صرف سچائی کا ساتھ دوں گا ۔۔۔اور سچ یہی ہے کہ آپ نے ظلم کیا ہے ۔اور ظلم کی سزا اس دنیا میں بھگتنی پڑے گی۔۔۔

“ارحام نادان ہو تم میرے راستے میں مت آو۔۔۔۔

کہتے ہوئے انہوں نے سیدھا نشانہ اذلان کے دل کا لیا۔۔۔

اس سے پہلے کہ گولی اذلان کو لگتی ارحام اذلان کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔۔

اور گولی سیدھی ارحام کے سینے میں لگی ۔۔۔

یہ سب بس لمحوں میں ہوا کہ کسی کو کچھ بھی پتہ نا چلا ۔

ارحام کے سینے سے خون کا فوارہ ابل پڑا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ لہراتے ہوئے زمین بوس ہوتا پیچھے کھڑے اذلان نے اسکی کاروائی پہ حیرت زدہ ہوتے ہوئے اسے بازووں سے تھام لیا اور گرنے سے روکا ۔۔۔

“ارحام تم نے ایسا کیوں کیا “؟

اذلان نے اسکا گال تھپتھپاکر کر کہا جسکی آنکھیں بند ہونے کی کاگار پہ تھیں ۔۔۔

“اللّٰہ اکبر!

یہ آخری الفاظ تھے جو اسکے منہ سے نکلے اور اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔۔۔

گولی اس کے سینے پہ لگی تھی ۔۔۔۔۔

سبرینہ بیگم کے ہاتھوں سے گن چھوٹ کر نیچے گری ۔۔۔

وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔۔

جس بیٹے کے لیے وہ نے اتنی برائیوں کی گناہوں کی مرتکب ہوئی آج وہی ان کے اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔۔۔

ان کی تو دنیا ہی لٹ گئی تھی ۔۔۔۔وہ شکستہ وجود لیے ارحام کے بے ہوش وجود کے پاس آئیں اور اسے گلے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ۔۔۔

وہ اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے کھینچنے لگیں ۔۔۔۔

کبھی زمین پہ سر پٹخ کر رونے لگتی تو کبھی ہنسنے لگتی ۔۔۔اس وقت ان کی حالت کسی پاگل دیوانی کی سی تھی ۔۔۔۔

پولیس فیروز اور سبرینہ دونوں کو اریسٹ کیے اپنے ساتھ لے جا چکی تھی ۔۔۔۔

اذلان اور شہرام دونوں ارحام کو اٹھائے باہر نکلے اسے ہسپتال لے جانے کے لیے۔۔۔۔

ادھر صائم کی لاش کو بھی پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا جا چکا تھا ۔۔۔

شہرام بھی آج ہی واپس آیا تھا ابھی وہ راستے میں تھا جب اسے غلامو زخمی حالت میں ملا ۔۔۔غلامو نے اسے بتایا کہ صائم فجر کو اغواء کر کہ اپنے ساتھ لے گیا ہے ۔۔۔

شہرام نے فورا ارحام کو کال کر کہ سارا معاملہ جانا ۔۔۔

اور صائم نے جس جگہ فجر کو رکھا غلامو جانتا تھا ۔۔۔اس نے غلامو سے جگہ کا پوچھ کر ارحام کو بتا دیا ۔۔۔۔

ارحام اس دوران گھر پہ ہی رہا تاکہ سبرینہ اور فیروز پہ نظر رکھ سکے اس نے اذلان کو ساری اطلاع بھیجی ۔۔۔تو اذلان فجر کو صائم کے ُچنگل سے آزاد کروانے کے لیے پہنچ گیا ۔۔۔۔

شہرام وہاں آچکا تھا. اور ارحام سے اتنی بڑی خبر سن کر وہ بُری طرح شاک میں آچکا تھا. دلنشین سے کیا گِلا کرتا جب اُس کے گھر کے اپنے لوگ ہی اُس کے خلاف تھے.

.

” دادا سائیں آپ روئیں مت پلیز.”

جلال الدین کو پہلی مرتبہ روتے دیکھ شہرام اُن کے قریب آتے ہوئے دلگرفتگی سے بولا .

دلنشین خود اپنی جگہ سہم چکی تھی. اُس نے اپنے بھائی اذلان کا غصہ دیکھا تو تھا. مگر آج یہ کونسا رُوپ تھا.

” میرے بچے نے آج تک کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑا. تو سب لوگ اِن کے دشمن کیوں بنے ہوئے تھے. پہلے ہی اذلان نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں. ہم سب جب اُس کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کررہے تھے. میری ہی بہو میرے بچے کو مارنے کی کوششیں کررہی تھی. میرا بچہ پہلے اپنی سگی ماں کی جدائی کی وجہ سے اندر سے ٹوٹا ہوا ہے. اب اپنوں کے ایسے دھوکے پر یہ مزید بکھر جائے گا.”

“آج میں نے اپنے ایک اور پوتے کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا اور میں کچھ نا کر سکا ۔۔۔۔”وہ کرب زدہ آواز میں بولے تو سب ٹوٹ کر رونے لگے ۔۔۔ایک ارحام کی حالت پہ اور دوسرا جلال الدین کے غمناک آواز میں بین کرنے پہ ۔”

جلال الدین کی جھریوں زدہ چہرے پر کرب تھا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔ان کی یہ حالت دیکھ سب کا دل بھی دکھ سے بھر گیا .

******……*****……****

“اسلام و علیکم !

شماس بن ضماد نے مؤدب انداز میں تھوڑا سا جھک کر اپنے والدین کو سلام پیش کیا ۔

“وعلیکم السلام !

دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا ۔۔۔

ان دونوں نے شماس کے چہرے پہ الوہی چمک دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ آج واپس لوٹ آیا ہے اور ساتھ انکی ناراضگی دور کرنے کی وجہ کو بھی ساتھ لایا ہے۔

“آپ سے معافی کا خواستگار ہوں”

“ہم آپ سے ناراض نہیں “

سنہری نے بھی انہیں سلام کیا تو جوابا انہوں نے بھی اسے ڈھیروں ڈھیر دعاؤں اور بیش قیمتی تحائف سے نوازا ۔۔۔۔کچھ دیر