953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 17

معاذ گھر آیا تھا۔۔۔۔!
اور ہمیشہ کی طرح سیدھا کمرے میں ہی آیا ‘ اور پھر جیسے ہی اس نے کمرے میں قدم رکھا ٹھٹک کر رک گیا، کیونکہ اندر گھپ اندھیرا تھا۔اس نے تیزی سے سوٸچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لاٸیٹس روشن کیں ، پلک جھپکتے ہی پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔وہ آگے بڑھا، لیکن دعا کو بیڈ پر چاروں شانے چت بازو پھیلا کر لیٹے چھت کو گھورتے دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا وہ سرعت سے چند قدموں کا فاصلہ طے کر کے اس کے سر پر پہنچ گیا۔
”کیاہوا ایسے کیوں لیٹی ہو۔۔۔۔۔؟“ لیکن جواب ندار۔۔۔
وہ اس کو ایسی کنڈیشن میں دیکھ کر کافی پریشان ہوگیا تھا۔لیکن اس کے وجود میں کوٸی جنبش نہ ہوٸی۔ وہ فکرمندی سے اس پر جھکا اور اس کے چہرے کو تھپتھپا کر پوچھنے لگا۔۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری ۔۔۔؟“ اس نے تھوڑا سا سر گھما کر معاذ کی طرف دیکھا۔اس کو اپنے لیے فکرمند دیکھ کر دعا کی آنکھوں میں نمی آگٸی، لیکن بولی پھر بھی کچھ نہیں۔شاید اس میں بولنے کی سکت ہی نہیں تھی۔
”کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہو ؟ کچھ بتاو توہی پتہ چلے گا نا ۔۔“ اس نے دعا کے بالوں میں آہستہ سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ ملاٸمت سے پوچھا۔
”دکھ ہو رہا ہے مجھے۔۔۔“ وہ دھیرے سے بولی۔
”کس بات کا دکھ۔۔۔؟“ وہ زیادہ پریشان ہوا۔۔
” میں آپ کو دھوکا دے رہی ہوں ۔۔۔“
”کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔۔؟ کس دھوکے کی بات کر رہی ہو۔۔؟ صاف صاف بتاو۔۔ “ وہ اس کی باتوں سے الجھ گیا تھا۔
”یہی کہ میں اسے بھلا نہیں پا رہی اور آپ اتنے اچھے ہیں ۔پھر بھی آپ کو اپنا نہیں پا رہی ۔۔۔۔“ وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولی۔۔۔
”سب بھول جاؤ دعا بس آج کو یاد رکھو زندگی سہل ہو جائے گی ۔“
”جی۔۔!۔۔۔“ اس نے مختصر جواب دیا اور اٹھ کر بیٹھ گٸی۔
”مجھے تمہارا ساتھ چاہیے میرا پیار ہم دونوں کے لیے کافی ہوگا ۔“وہ اس کو اپنے ساتھ لگاۓ پیار بھرے انداز میں بولا ۔۔
دعا نے اسے جھٹکے سے خود سے پیچھے دھکیلا ۔۔۔۔
معاذ نے اسے حیرت انگیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
اور سرعت سے اٹھتے ہوئے ایک تلخ نگاہ اس پہ ڈالتے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
دعا نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر زبان نے ساتھ نا دیا ۔۔۔۔وہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔
جبکہ وہ باہر جاتے ہی زور سے دروازہ بند کرنا نا بھولا ۔۔۔


ساری رات وہ یونہی بلاوجہ سڑکوں پہ گاڑی دوڑاتا رہا ۔۔۔دعا کا رویہ یاد آتے وہ بہت ریش ڈراٸیونگ کر کے واپس گھر پہنچا تھا اور پھر گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے زور سے دروازہ کھول کر باہر نکل کر اندر آیا وہ لاونج میں صوفے پہ بیٹھی تھی شاید اسی کے انتظار میں معاذ بغیر کچھ بولے اور اس کی طرف دیکھے بنا اندر چلا گیا، وہ بہت غصے میں تھا ۔۔۔۔اس کا رخ بھی اپنے کمرے کی طرف تھا۔ وہ کمرے میں آٸی تو معاذ وہاں نہیں تھا،اس نے واش روم میں دیکھا وہاں بھی کوٸی نہیں تھا وہ پریشان ہو گٸی۔۔
وہ ایسے ہی پریشانی میں دوڑتی ہوٸی نیچے آٸی۔۔
”ریشماں ۔۔۔! ریشماں ۔۔۔! کہاں ہو تم ۔۔۔۔؟“ اس نے اونچی آواز میں ریشماں کو پکارا۔۔
”جی چھوٹی بی بی جی کیا ہوا۔؟“ وہ بھی اس کی پریشان سی آواز سن کر کچن سے بھاگی آٸی۔۔
”تم نے سردار معاذ کو کہیں دیکھا ہے ۔۔؟“ وہ پھولی ہوٸی سانسوں کے ساتھ بولی۔۔
”جج جی دیکھا ہے بی بی۔۔! وہ بڑے غصے میں سٹڈی روم کی طرف گٸے ہیں۔۔۔“ریشماں کچھ اور بھی بول رہی تھی لیکن وہ اس کی پوری بات سنے بغیر تیزی سے سٹڈی روم کی طرف بھاگی،
اس نے سٹڈی روم کے دروازے کا ہینڈل گھمایا وہ کھل گیا۔۔اس نے اندر قدم رکھا لیکن وہاں کوٸی نہیں تھا۔وہ تیزی سے سٹڈی روم سے ملحقہ کمرے کی طرف بڑھی، لیکن وہ اندر سے لاکڈ تھا اسے شاک لگا۔اب وہ کیا کرے پلوشہ بیگم کو بتاۓ۔”نہیں انہیں بتانا مناسب نہیں ۔۔۔۔“ اس نے سوچا اور پھر خود ہی ہمت کر بولی۔۔
”معاذ دروازہ کھولیں پلیز۔۔“ لیکن جواب ندار۔۔
”پلیز معاذ ! نہ دیں خود کو اتنی اذیت۔نہ دیں خود کو تکلیف۔۔کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا ۔۔۔اگر سزا دینی ہی ہے تو مجھے دیں میں ہوں آپ کی گنہگار ۔۔۔۔۔“وہ زور زور سے دروزاہ بجاتے ساتھ بول بھی رہی تھی۔۔لیکن اندر سے کوٸی جواب نہیں آیا۔۔
”کیا ہوا چھوٹی بی بی۔۔؟“ ریشماں بھی اس کو پریشانی سے اوپر کی طرف بھاگتے دیکھ کر اس کے پیچھے ہی بھاگتی ہوٸی اوپر آٸی تھی۔۔
”ریشماں اس کمرے کے لاک کی کوٸی اور چابیاں ہیں ۔۔؟“ وہ پریشانی سے بولی۔۔
”جج جی بی بی چابیاں تو ہیں۔۔! لیکن ڈھونڈنی پڑیں گی۔۔۔۔“ وہ بھی گھبرا گٸی ۔۔
”تو پھر ڈھونڈ کر لاٶ میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو،جاٶ جلدی سے ۔۔“وہ پھٹ پڑی۔ریشماں بھاگ کر نیچے گٸی۔
تقریباً دس منٹ بعد وہ چابیاں ڈھونڈ کر لانے میں کامیاب ہوگٸی تھی، دعا نے اس کے ہاتھ سے چابی جھپٹ کر جلدی سے دروازہ کھولا۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اک ناگوار سی بو اس کےنتھنوں سے ٹکراٸی،فرش پر کانچ کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھرے پڑے تھے ، وہ سمجھ گٸی کہ معاذ ڈرنک کر چکا تھا، وہی ہوا جسکا اس کو ڈر تھا۔وہ تیزی سے آگے بڑھی۔معاذ فرش پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا۔اس کو فرش پر گرے دیکھ کر دعا کی چیخ نکل گٸی۔
”معاذ ۔۔۔۔!۔۔۔۔۔“ لیکن وہ نشے میں دھت بے سدھ پڑا تھا۔نشہ اس کے اعصاب پر سوار ہو چکا تھا۔۔
” کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا معاذ ۔۔۔؟“وہ دوزانو ہوکر اس کے پاس بیٹھ گٸی اور روتے ہوۓ بولنے لگی۔۔۔معاذ نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا۔۔اور پھر یکدم سے غصے میں دھاڑا۔۔۔
”دفع ہو جاٶ تم یہاں سے۔۔۔۔!میں کسی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔ہمیشہ مجھے ہی کھونا پڑتا ہے ۔کیوں ۔۔۔آخر کیوں ؟؟؟“آج اک بار پھر سے وہ اپنے آپ میں نہیں تھا۔ اس کے زخم ہرے ہو گٸے تھے اور وہ بظاہر بھر پور اور مکمل نظر آنے والا انسان اس وقت ٹوٹ کر پھر سے بکھر چکا تھا۔۔۔ وہ اس وقت بلکل چھوٹے سے ضدی بچے کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔اس کی خودداری اور عزت نفس کو مان کو دعا نے بری طرح سے مجروح کیا تھا ، کوٸی بھی شخص برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی عزت، یقین اور پیار کا مذاق بنائے ۔۔۔
“جاؤ یہاں سے “
وہ دھاڑا ۔۔۔
”لیکن میں آپ کو اس حالت میں چھوڑ کر کہیں نہیں جاٶں گی۔۔۔“اس نے ہمت کر کے معاذ کو بازو سے پکڑ کر اٹھانے کی سعی کی۔۔
”گیٹ لاسٹ فرام ہٸیر۔۔۔۔۔“معاذ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑا ہوا تو اس کو زور سے دھکا لگا ، وہ جو اس کے لیے تیار نہیں تھی اس کے قدم لڑکھڑاۓ اور وہ فرش پر منہ کے بل گر گٸی،ریشماں جو کہ دروازے میں ہی کھڑی یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی وہ تیزی سے آگے بڑھی۔۔
” بی بی جی ۔۔۔! سردار ابھی بہت غصے میں ہیں، وہ کہیں آپ کو کوٸی نقصان نہ پہنچا دیں۔آپ جلدی سے باہر آجاٸیں۔۔۔۔“
”نہیں میں ٹھیک ہوں تم جاٶ یہاں سے۔۔۔“ وہ اٹھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا اس میں سے خون نکلنے لگ گیا ،اس کا بازو بھی درد کر رہا تھا لیکن پھر بھی وہ برداشت کر رہی تھی،کیونکہ اس وقت اس سے بھی ذیادہ تکلیف میں معاذ تھا،کیونکہ اسے تکلیف میں مبتلا دعا نے خود کیا تھا اپنے الفاظ اور روئیے سے
”چھوٹی بی بی مگر ۔۔۔۔۔“ وہ پھر بولی۔۔
”کہا نہ تم سے جاٶ یہاں سے۔۔۔۔“وہ اٹھ کر معاذ کے پاس آگٸی وہ سرخ آنکھوں سے اس کو ہی گھور رہا تھا۔
“اٹھیں چلیں یہاں سے “
”شٹ اپ جسٹ شٹ اپ دعا !!۔۔“ اس نے ہاتھ میں پکڑا گلاس زور سے دیوار پر دے مارا۔۔ اس کے کانچ پورے کمرے میں بکھر گٸے، دعا ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔
”اپنی بیوی کو کسی غیر نا محرم کے غم میں گُھلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔نہیں برداشت کرسکتا ۔“وہ نشے میں دھت بولتا ہوا لڑکھڑاتے قدموں سے چلتا بیڈ پر ڈھے گیا ۔۔
”معاذ پلیز مجھے معاف کردیں ۔۔۔میں بہت بری ہوں ۔۔“وہ آہستہ سے چلتی ہوٸی اس کے پاس آکر بیٹھ گٸی ، اس وقت معاذ بہت بکھرا ہوا تھا ۔۔۔


“سائیں !!!!
صابر حسین تیزی سے بھاگتے ہوئے سردار حماد کی جیپ کے پاس پہنچا ۔۔۔۔وہ جو زمینوں کا چکر لگا کر اب واپس حویلی کی طرف جارہے تھے ۔جیپ وہیں روک کر اسے دیکھنے لگے ۔۔۔
“سلام سائیں !
اس نے مؤدب انداز میں جھک کر کہا ۔۔۔
“ہممم۔۔۔و علیکم!
“سائیں آپ سے ایک گزارش کرنی تھی “وہ ہنوز جھکے ہوئے بولا ۔
“بولو”
“سائیں کل میری بیٹی کا نکاح ہے تو کل میں سامان شہر نہیں پہنچا پاؤں گا ۔ایک دن کی چھٹی چاہیے تھی ۔
صابر حسین کی بات سن کر وہ وہ پل کے لیے خاموش ہوئے پھر بولے ۔
“ٹھیک ہے کرلینا چھٹی مگر پرسوں وقت سے آجانا “
شکریہ سائیں ۔۔۔میں وقت پہ آ جاؤں گا “
“یہ لو کچھ پیسے رکھ لو “سردار حماد نے اس کی طرف کچھ نوٹ بڑھائے “
“سائیں !! اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔اس کے اندر کہ خوداری نے جوش مارا ۔۔۔
“رکھ لو صابر حسین بیٹی کی شادی کا تحفہ سمجھ کر “
انہوں نے زبردستی اس کے ہاتھ میں وہ پیسے رکھ کر جیپ سٹارٹ کر دی ۔۔۔۔
اور کچھ دیر میں ان کی جیپ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔۔۔
صابر حسین وہاں سے سیدھا بازار چلا گیا اور ماہ کے لیے شادی کا خوبصورت جوڑا خریدا چوڑیاں ،کاجل اور ایک لپسٹک خرید کر وہ گھر آیا۔۔۔
اور آتے ہی دروازہ ماہ نے کھولا ۔۔۔تو صابر حسین نے وہ چیزیں اسے تھما دیں ۔۔۔
“ماہ بیٹا ایک گلاس پانی تو پلا دو “
“جی بابا سائیں ابھی لائی “وہ چیزیں اندر رکھ کر پانی لینے چلی گئی ۔۔۔


”کیسی طبیعت ہے اب آپ کی۔۔؟“دوپہر کے گیارہ بجے کے قریب شاہ کی آنکھ کھلی تھی ، رات کو ذیادہ ڈرنک کرنے کی وجہ سے اب بھی اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا ، اور آنکھیں بھی سرخ اور بوجھل ہو رہی تھی ، اس نے اک نظر نارمل کھڑی دعا کے چہرے پر ڈالی اور پھر اس کے ہونٹ پر لگے زخم کا نشان دیکھ کر نظریں چرا گیا۔
”مجھے کیا ہونا۔۔؟ایم فاٸن۔۔۔۔“
”لیکن مجھے آپ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔“ وہ ایسے نارمل انداز میں بول رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔
”تمہیں غلط لگ رہا میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔“ وہ اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔۔،جبکہ وہ وہیں ٹک گٸی۔۔
”ایم سوری ۔۔۔“ وہ سوچو میں گم وہیں بیٹھی تھی جب معاذ کی شرمندہ سی آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔
”سوری کس لیے۔۔۔؟“ وہ اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھتے ہوۓ انجان بن کر بولی۔۔۔
”ہر بار تمہیں میری وجہ سے دکھ ملتا ہے اس لیے ۔“ وہ تولیے سے اپنے گلے بالوں کو صاف کرتے ہوۓ بول رہا تھا ،لیکن اسکے چہرے پر کسی بات کے اثار نہیں تھے۔۔
”دکھ تو میں نے آپ کو دیا ہے ۔۔“ وہ جانے کیسے کہہ گی تھی۔پھر یکدم خاموش ہوگٸی۔۔
”ہوں جانتا ہوں میں۔۔“ وہ اعتراف کر رہا تھا۔دعا کو حیرت نے گھیرا۔۔
”تو کیا آپ واقعی شرمندہ ہیں اپنے کیے پر۔۔؟“وہ بالکل اسکے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ۔اور سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔
”ہممم ۔۔!۔۔۔۔جھوٹ بولنا میری عادت نہیں۔“ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی ۔
”تو پھر آپ میری بات مان لیں اک بار۔۔۔“ معاذ کا موڈ بہتر تھا اس لیے اس نے بات کرنے کا سوچا۔۔
کون سی بات۔۔۔؟“ اس نے الجھن بھری نظروں سے معاذ کی طرف دیکھا۔۔
”نئی شروعات کرنے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔”
“یہ ۔۔۔آ۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟؟وہ انگلیاں چٹخانے لگی۔۔۔۔
“ٹھیک ہے نہیں ۔۔۔تو تمہاری مرضی ۔۔۔۔اب جو تم چاہتی ہو وہی ہوگا “اس ٹاول بستر پر پھینکا ۔۔۔
“اپنا سامان پیک کر لو “
“ل۔۔لیکن ۔۔۔میری بات ۔۔۔تو ۔۔۔سنیں ۔۔۔
”اب میں تمہاری کوٸی بھی فضول بات سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔ تم تیاری کرلو ہم نے کچھ دیر تک جانا ہے اور ہاں یہاں جو بھی ہوا اس کے بارے میں کچھ مت بتانا اماں سائیں کو۔۔۔۔“ وہ اپنی بات کہہ کر زورسے دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا۔۔
اور وہ بس بند دروازے کو دیکھتی رہ گٸی۔۔۔۔!


ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔۔وارڈ میں کرونا وائرس کے باعث زندگیاں سسک رہی تھیں۔
“سب ڈاکٹرز کو کال کر کہ یہاں بلا لیا ہے نا “
“,جی سر سب کو کال کر دی گئی ہے۔بس پہنچنے والے ہی ہوں گے “ماتحت ڈاکٹر نے بتایا ۔۔۔۔
فجر جو کب سے ہسپتال کے کاریڈور میں چکر کاٹ رہی تھی پھر دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے مسلسل قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی۔۔کیونکہ آپریشن تھیٹر کی لائٹ پھر سے جل چکی تھی ۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی ڈاکٹر ۔۔” آئی سی یو سے باہرآتے ہوئے ڈاکٹر کو فجر نے روک کر کہا
“ڈا۔۔ڈاکٹر ۔۔وو وہ اندر۔۔۔۔!” اسکے آئی سی یو کی جانب اشارہ کرنے پر ڈاکٹر نے فوراً پوچھا۔
” اس پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں کیا۔۔۔؟”
” جی میرے ہزبینڈ ہیں۔۔۔؟”
“انہیں ابھی تک باہر کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔
“ان کا… آپریشن ابھی چل رہا ہے “
“مگر ڈاکٹر نے تو کہا تھا کہ ان کا آپریشن کامیاب رہا “فجر نے دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھے تشویش بھرے انداز میں کہا۔
“انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی تھی انہوں نے دوسرے پیشنٹ کو آپکا پیشنٹ سمجھ کر اطلاع دی ۔۔۔پہلے والے مریض کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔۔۔۔
“ڈاکٹر سب ٹھیک تو ہے۔؟؟؟
“آپ دعا کیجیے پیشنٹ
” پیشنٹ کی حالت ٹھیک نہیں وہ رسپانس نہیں دے رہے ۔۔۔
He loses his hope …..
ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا ۔۔۔
“ڈاکٹر وہ میری ہزبینڈ ہیں پلیز انہیں بچالیں ۔۔۔انہیں کچھ بھی کر کہ بچا لیں ۔۔۔انہیں کچھ نہیں ہونا چاہیے'”
فجر کی آنکھیں پھٹ پڑیں’وہ ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر منت پر اتر آئی تھی۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کا ریلا ہنہوز جاری تھا۔۔
“ان کے لیے دعا کیجیے ۔۔۔!”ڈاکٹر نرم لہجے میں بولتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکل گئے ۔۔۔
فجر کی پانیوں سے لبا لب آنکھوں نے دور تک ان کا پیچھا کیا، جب وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تو اسنے ایک درد بھری نگاہ آئی سی یو کے ڈور پر ڈالی اور کاریڈور سے باہر بھاگی ۔ غروب آفتاب کا وقت تھا۔۔سورج ہر دن کی طرح اس وقت بھی ہر سُو پھیلی سُہنری کرنوں کو اپنے پروں میں سمیٹے منزل کی طرف رواں دواں تھا۔۔ڈوبتے ہوئے سورج کا یہ منظر جہاں ایک دلکش، حسین نظارہ رکھتا ہے ،وہیں اندھیروں میں گم ہوتا روشنیاں بکھیرتا سورج آخر کار ڈوب رہا تھا ۔۔۔اذلان کی حالت کے بارے میں سن کر اسے اس ڈوبتے سورج کی طرح اپنی زندگی بھی اندھیروں میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ ہسپتال کے باہر کھلے میدان میں کھڑی دونوں ہاتھوں پر دوپٹہ پھیلائے گڑگڑاتے ہوئے اس پروردگار سے اپنے شوہر کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ‘آسمان پہ موجود سورج کی آنکھوں میں اپنی سرخ انگارہ بنی زار زار برستی آنکھیں گاڑھے دعا گو تھی ۔۔۔
”مجھے باہر نکالو یہاں سے “وہ اندھیرے کمرے میں تنہا چیخ رہا تھا۔
”باہر نکالو مجھے۔۔ڈر لگتا ہے اندھیرے سے ۔۔۔”وہ زار و قطار رو رہا تھا۔ غصہ،خوف،دہشت بری طرح اُسکی آواز سے جھلک رہا تھا ۔۔۔
ہلکی ہلکی سی سسیکاں وقفے وقفے پورے کمرے ابھر رہی تھیں۔۔۔
”باہر نکالو مجھے۔۔۔“ اب کی بار اس آواز میں ایک اذیت سی گھلی تھی۔ رات کی ہولناکی میں وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی یہ آواز مزید ہولناک لگتی تھی۔
اچانک ایک پھڑپھڑاہٹ کی آواز ابھری اور دروازہ کھلا ۔۔ جس میں وہ بند تھا۔۔۔
“کیوں مار رہے ہو مجھے ؟؟”اس کا بدن زخموں سے چور تھا ۔۔۔مقابل شخص اسے بازو سے پکڑے تقریباً گھسیٹتا ہوا ایک اندھیرے کمرے میں لے آیا ۔۔۔
اسکے سوکھے حلق سے بمشکل الفاظ نکلے۔
“آنکھیں اوپر مت اٹھانا ورنہ ان آنکھوں میں جلتے کوئلے ڈال دوں گا جو نظر اٹھا کر بھی دیکھا “
اس شخص نے اسے کرخت آواز میں دھمکایا ۔۔۔
“پلیز۔چھوڑو۔۔مجھے۔۔جانے۔۔دو۔۔” وہ سخت مزاحمت کی کوشش کرنے لگا۔۔۔اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نظریں جھکائے رکھیں ۔۔۔
اس آدمی نے اسے جھٹکا دے کر فرش پر پھینکا ۔۔۔۔ فرش پر گرتے ہی اس کے خشک حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی ۔
“آواز بند ۔۔۔۔!!!!
“ورنہ گلا دبا کر اسے ہمیشہ کے لیے بند کردوں گا !!!۔”
وہ اسے درد دے کر چیخنے چّلانے کا موقع بھی نا دے رہا تھا ۔ مقابل موجود شخص اسکی آواز سن کر ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر مارتے ہوئے۔اسکے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر جھٹکا دیتے بولا۔۔
“آہہہ۔۔” اسکی درد بھری سسکاری فضا میں منتشر ہوئی۔۔۔
وہ پہ در پہ اس معصوم بچے پر تھپڑوں کی بوچھاڑ کرتا گیا ۔۔۔۔۔پیچھے سے کسی اور کے ہنسنے کی آواز آئی ۔۔۔۔مگر جسم میں جان باقی نا تھی کہ وہ سر اٹھا کر دیکھتا اپنے ساتھ اس قدر بےرحمانہ تشدد کرنے والوں کون تھے ۔
“اس آدمی نے اس کا سر دیوار سے مارا ۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام کر رہ گیا ۔۔۔
درد کی شدت سے بلبلاتے ہوئے وہ پھر سے ڈھ گیا ۔۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔۔۔۔وہ جانے کیسے برداشت کر رہا تھا اگر اسکی جگہ کوئی اور اسکا کب کا دم نکل چکا ہوتا ۔۔۔۔
جیسے ہی وہ نیچے گرا ۔۔۔اس کی کھلی ہوئی آنکھوں نے ایک دھندھلا سا نا واضح منظر دیکھا ۔۔۔۔پھر دھیرے دھیرے اس کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔۔۔
پاس کھڑا آدمی ابھی بھی اس کو لاتوں سے پیٹ رہا تھا ۔۔۔
“چھوڑو ۔۔۔۔۔۔
وہی برسوں پہلے کا منظر اسکے دماغ میں گھوم رہا تھا ۔۔۔اس کے چہرے پہ شدید قسم کے ڈر کے آثار نمایاں تھے ۔۔۔۔آئی ۔سی ۔یو میں موجود ڈاکٹرز نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔۔
مشینری پر اوپر تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہوئی لائنز ایک دم بالکل سیدھی ہوگئیں ۔۔۔
ہارٹ بیٹ رک گئی ۔۔۔۔
پیشنٹ کی باڈی نے رسپانس دینا چھوڑ دیا ۔۔۔۔
آپریشن تھیٹر کی لائٹ آف ہوگئی ۔۔۔۔
ڈاکٹرز ہاتھوں سے گلوز اتارے باہر آئے ۔۔۔۔
فجر جو ان کی آمد کی منتظر تھی ۔۔۔ان کے پریشان چہروں سے اندازہ لگا رہی تھی ۔۔۔۔
“اذلان ٹھیک ہیں نا ڈاکٹر ….؟؟؟؟
I am sorry….
But….
He is no more……
وہ نظریں جھکائے ہوئے افسردگی سے بولے ۔۔۔۔
“یہ ۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں آپ ڈاکٹر ۔۔۔۔؟؟؟
“وہ اذلان نہیں ہوگا ۔۔۔
“وہ میرے اذلان جی نہیں ہوں گے ۔۔۔ہے نا ڈاکٹر ؟؟؟؟
“آپ کو پھر سے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ….ایسا ہی ہے نا ؟؟؟
وہ وہ اونچی آواز میں بولی۔۔۔
“اذلان آپریشن کے دوران ہی دم توڑ گئے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے کہتے ہوئے لب بھینچ لیے ۔۔۔۔
“آپ نے تو کہا تھا کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
پھر ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں آپ ؟؟؟.وہ ڈاکٹر کا کالر پکڑ کر جھنجوڑتے ہوئی چلائی ۔۔۔۔
نرسس نے اسے بازووں سے کھینچ کر فورا ڈاکٹر سے پیچھے کیا ۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا میرے اذلان جی کو ۔۔۔دیکھنا وہ ابھی اٹھ جائیں گے ۔۔۔اور کہیں گے گڑیا دیکھو میں ٹھیک ہوگیا ۔۔۔
وہ کہتے ہوئے آئی سی یو کی طرف بھاگی ۔۔۔۔اس کی نظر اذلان کی باڈی پہ پڑی ۔۔۔۔ سٹریچر پہ بند آنکھوں سے لیٹے جس کو سفید چادر سے ڈھک دیا گیا تھا۔۔۔اس حالت میں دیکھ کر فجر کی زبان گنگ، آنکھیں ساکت ہوئیں دونوں بازو ایک دم سے پہلو میں گرے ‘
اسے ساتوں آسمان قیامت بن کر اپنے سر پہ ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔ ۔ایک ساتھ آنسوؤں کی بے شمار لڑیاں لٹھے کی مانند سفید پڑتے اسکے چہرے پر پھسلنے لگیں ۔۔۔
“اذلان جی !!!!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ وہ دوڑتے ہوئے اس کے قریب گئی اور سفید چادر اتار کر زمین پہ پھینک دی ۔۔۔اسے بازو سے جھنجھوڑتی حلق کے بل چیخی تو اسکے شل ہوتے احساسات جاگ اُٹھے۔۔
“آنکھیں کھولیں اذلان جی !!!۔۔
آنکھیں کھولیں ۔۔۔
فجر نے اسکے گال تھپتھپاکر کر چلّاتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں معافی مانگتی ہوں ۔۔
اذلان !!!!
اذلان جی۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں نا میں جو بھی کیا آپ کے لیے کیا ۔۔۔
آپ کے ٹھیک ہونے کے لیے کیا۔۔۔
میں آپ کو کچھ کرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
ہوش میں آئیں پلیز اذلان جی ہوش میں آئیں ۔۔۔
اسکی کرب ناک چیخوں سے ہسپتال کے در و دیوار بھی کانپ اٹھے ۔۔۔۔
میں آپکے بغیر نہیں جی سکوں گی اذلان جی ۔۔۔ہوش میں آجائیں ۔۔۔۔۔
وہ اسکے بنا دھڑکن کے سینے پہ سر رکھے آہ و بکا کرتے ہوئے بری طرح کپکپا رہی تھی ۔۔۔۔
“بہت ناز اٹھائے ہیں آپکے میں ۔۔۔اب میری باری ہے نخرے دکھانے کی آپ یوں منہ نہیں موڑ سکتے ۔۔۔اذلان جی ۔۔۔
اٹھیں نا !!! ۔۔۔۔
“آپ مجھے روتا نہیں دیکھ سکتے نا ۔۔۔
“دیکھیے میں رو رہی ہوں ۔۔۔
آپ کی گڑیا رو رہی ۔۔۔
اٹھیں نا آنسو پونچھیے میرے ۔۔۔۔
اذلان جی سانسیں لیں ۔۔۔
وہ اسکے سینے پہ کان لگا کر دھڑکنوں کو سننے کی تگ و دو کر رہی تھی مگر ناکام رہی ۔۔۔
میں مر جاؤں گی آپ کے بنا ۔۔۔
واپس آئیں اذلان جی ۔۔۔
“آپ کے بنا میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔۔۔
نا دھڑکن ۔۔نا سانس۔۔۔نا ہلچل ۔۔۔محسوس کیے وہ پاگلوں کی طرح اسکی شرٹ دبوچ کر چیخنے لگی ۔۔۔
“چھوڑ کر جاؤ گے مجھے ؟؟؟
“چھوڑ کر جاؤ گے ؟؟؟؟
“کیسے ۔۔۔۔؟؟؟؟
“اپنے دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کہاں لے جاؤں کس کو دکھاؤں ۔۔۔۔؟؟؟؟
“آپکے بنا یہ دل پتھر ہو جائے گا ۔۔۔۔لوٹ آئیں۔۔۔۔
“لوٹ آئیں ….
اسکی درد بھری گریہ و زاری سے زمین و آسماں بھی تّھرا اٹھے ۔۔۔۔
سب کچھ کھو دینے کے بعد اسے اپنا تن من تپتی ہوئی بھٹی میں جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
بھری دنیا میں تنہا ہونا کسے کہتے ہیں اسے اس بات کا اندازہ آج ہوا تھا ۔۔۔
وہ اذلان کے بے جان وجود کو دیکھتے ہوئے شکستہ حال وہیں ڈھے سی گئی ۔۔۔۔
“اذلان جی !!!!وہ زمیں بوس ہوئے بلند آواز سے چلائی ۔۔۔۔۔
“یہ کون ہے ڈاکٹر ؟؟؟
اس سوٹڈ بوٹڈ شخص جس نے سفید اوور آل پہنے سٹتھو سکوپ گلے میں ڈال رکھا تھا ۔سرجن سے پوچھا ۔۔۔
“ایک پیشنٹ کی وائف ہیں۔ابھی ابھی پیشنٹ کی ڈیتھ ہوگئی ۔۔۔۔دراصل ان کے دماغ میں کوئی پرانی چوٹ لگنے کی وجہ سے میمیوری لوس ہو چکی تھی ۔۔۔انہیں کا آپریشن تھا آج ۔۔۔مگر پیشنٹ نے رسپانس نہیں دیا ۔۔۔۔اور انفارچونیٹیلی ان کی ڈیتھ ہوگئی ۔۔۔۔انہوں نے اس کو تفصیل سے آگاہ کیا۔۔۔۔
اس شخص کے قدم خود بخود ہی اسی جانب اٹھنے لگے ۔۔۔
وہ چلتے ہوئے آئی سی یو کے اندر آیا اور اس روتی بلکتی ہوئی لڑکی کے شانے پہ تسلی کے لیے ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
فجر نے اپنی گریہ و زاری سے سرخ ہوئی نظریں اٹھا کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔اور اپنی جگہ ساکت رہ گئی ۔۔۔۔
ابھی اصل قیامت آنا تو باقی تھی ۔۔۔۔اس کے دماغ نے خطرے کی گھنٹیاں بجائیں ۔۔۔
وہ سکتے کی کیفیت میں دم روک گئی ۔۔۔۔۔


ایمبولینس کے سائرن کی آواز سن کر حویلی کے ملازمین باہر نکل آئے ۔۔۔۔
جلال الدین جو مردان خانے میں موجود تھے وہ اپنے چھڑی سے سہارا لے کر چلتے ہوئے باہر دروازے پہ کھڑے ہوئے دیکھنے لگے کہ آخر ماجرا کیا ہے ۔۔۔سبرینہ بیگم بھی حویلی کی دہلیز پر کھڑی تھیں ۔۔۔۔
فجر جو جانے کب سے ساکت ایک ہی حالت میں بیٹھی تھی ۔اسے کچھ خبر نا ہوئی کہ کب وہ ایمبولینس میں آئی اور کب راستہ گزر گیا ۔۔۔
ہوش تو تب آیا جب ایمبولینس ایک جھٹکے سے حویلی کے باہر آکر رکی ۔۔۔
جونہی ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا اور اس میں سے سفید یونیفارم والے دو لوگ برآمد ہوئے اور ان کے ہاتھ میں ایک سٹریچر تھا جس میں سفید کپڑوں میں لپٹا ہوا کسی کا مردہ وجود تھا جو دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
وہ لوگ اسے حویلی کے اندر لا رہے تھے ۔۔۔۔فجر ہمت کیے ایمبولینس سے نیچے اتری ۔۔۔
اس کے کپکپاتے ہوئے پاؤں زمین پر رکھتے ہوئے لڑکھڑائے ۔۔۔۔جسم جیسے مٹی کا ڈھیر بن گیا۔۔۔۔رو رو کر اب تو حلق بھی خشک ہوچکا تھا ۔۔۔۔سب کی حیران نظریں فجر پہ تھیں ۔۔۔وہ تو شہرام اور دلنشین کے ساتھ گھومنے گئی تھی ۔پھر شہرام اور دلنشین کہاں تھے ۔اور اس سٹریچر پہ کس کا مردہ وجود تھا ۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ تو اس کو زندہ سلامت ٹھیک ہونے کے لیے لے کر گئی تھی ۔اس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا ۔
اسے کیا پتہ تھا کہ اس کی یہ نیک نیتی اس کے ہی گلے پڑنے والی تھی ۔تنہا اٹھایا جانے والا اتنا بڑا قدم اس سے اسکا سب کچھ چھین لینے والا تھا ۔اسے اگر اس بات کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی ایسا قدم نہیں اٹھاتی ۔ہونا وہی تھا جو قسمت اس کے مقدر میں لکھ چکی تھی ۔اور لگتا کچھ یوں تھا کہ ابھی اسکی قسمت میں اور امتحان باقی تھے ۔
کیا سردار اذلان کے دل کا راز دل میں ہی دفن ہوجانا تھا یا کبھی اس راز سے پردہ اٹھے گا ؟؟؟