Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 11
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 11
“دلنشین ۔۔۔مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے “فجر نے بالآخر ہمت کیے اس سے بات کرنے کی ٹھان لی ۔۔۔
“جی کہیے بھابھی “وہ کچن میں پانی لینے کی غرض سے آئی تھی کہ پیچھے سے فجر نے آکر کہا ۔۔۔
“فجر نے ادھر ادھر دیکھا وہاں ان دونوں کے علاؤہ کوئی اور موجود نہیں تھا ۔۔۔۔
“دلنشین تمہیں پتہ ہے اذلان جی کو جو میڈیسن دی جا رہی ہیں وہ ان کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ۔مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں ۔۔۔تم ہی مجھے کچھ مشورہ دو “فجر نے اسے ساری بات تفصیلی طور پر بتائی ۔۔۔
“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں بھابھی ۔۔۔۔مجھے بھی کبھی کبھی ایسا شک ہوتا تھا ۔۔۔مگر میں کچھ نہیں جان سکی ۔۔۔
ایسا کرتے ہیں میں شہر شاپنگ کرنے کے بہانے آپ کے اور اذلان بھائی کے ساتھ چلتی ہوں وہاں اذلان بھائی کا ٹیسٹ کرواتے ہیں۔پھر جو سچائی ہوگی پتہ چل جائے گی ۔۔۔۔
اس کے بعد کیا کریں گے ؟؟؟فجر نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا ۔۔۔
“بھابھی آگے کا لائحہ عمل بعد میں ترتیب دیں گے ۔فی الحال ٹیسٹ کرواتے ہیں پہلے “
“ہاں ٹھیک ہے”اس نے حامی بھری ۔
دلنشین میں نہیں چاہتی کہ اذلان جی کو کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش بھی کرے۔میں انہیں کچھ بھی ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔اگر انہیں کچھ ہوا ۔۔۔ یہ سوچ ہی میری روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔
اُس کی بات پر دلنشین دھیمے سے ہنس دی۔۔۔لگتا ہے ہماری کیوٹ سی بھابھی کو ہمارے بھیا سے پیار ویار ہوگیا ہے “,دلنشین نے شرارتی انداز میں کہا۔۔۔۔
“دل نشین !!!وہ اسے مصنوعی غصیلی گھوری ڈال کر بولی ۔۔۔
“بھابھی نکاح کے رشتے میں بہت طاقت ہوتی ہے تبھی تو آپ میرے بھیا سے اس قدر اٹیچ ہو گئی ہیں۔کہ انکا اتنا خیال رکھتی ہیں۔ ویسے ہے کہاں جناب نظر نہیں آرہے۔۔۔
وہ اِدھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے بولی
دلنشین وہ اپنے روم میں ہیں۔ کوئی کارٹون دیکھ رہے ہیں۔چلیں میں بھی ان سے مل لوں آپ روم میں چلیں میں جگ میں پانی بھر کہ آپکے پیچھے آتی ہوں ۔
“دلنشین ! وہ جاتے ہوئے ایک بار پھر مڑی ۔۔۔
“جی بھابھی !!
“دلنشین میں سوچ رہی تھی کہ وہ میڈیسن اب میں اذلان جی کو نا دوں ۔۔۔لیکن یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ وہ اس میڈیسن کے عادی ہوچکے ہیں۔اسکے بغیر انہیں نیند نہیں آتی ۔۔۔۔یہ نا ہو اگر میں انہیں وہ میڈیسن نا دوں تو وہ آپے سے باہر ہو جائیں اور کوئی نقصان کردیں اپنا ۔۔۔
“آج آپکا امتحان ہے بھابھی کوشش کریں کہ اذلان بھائی اس میڈیسن کے بغیر سو جائیں ۔۔۔”
“اچھا کوشش کر کہ دیکھتی ہوں “,
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔
فجر اندر آئی تو دیکھا اذلان بیڈ کے قریب کھڑا ہاتھ میں ریموٹ لیے ٹی ۔وی کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“اذلان جی زیان کیا کر رہے ہیں آپ ؟؟؟آپ کو بتایا ہے نا کہ ٹی ۔وی کی سکرین کو اتنے قریب سے دیکھنے پر آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں ۔آئی سائٹ پر فرق پڑتا ہے”
“چلیں زرا دور ہو کر بیٹھیں “
اسکے کہنے کے مطابق اذلان بیڈ پر ٹھیک سے بیٹھ گیا ۔۔مگر نظریں ٹی وی سکرین پر مرکوز تھیں ۔۔۔۔
“فجر نے ٹی وی سکرین پر دیکھا ۔۔۔۔ جہاں ایک كسنگ سین چل رہا تھا ۔۔۔
“آ۔۔۔۔آپ تو کارٹون دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔یہ ۔۔۔کونسا چینل لگا رکھا ہے آپ نے ؟؟؟
وہ اذلان جانب حیرت انگیز نظروں سے دیکھ کر بولی ۔۔۔ جو بہت اشتیاق سے پوری آنکھیں کھولے ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔۔۔
“گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے ۔۔۔۔ بھی ایسے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فجر کی جانب دیکھ کر کہا جس پر فجر نے حیرت سے اُسے دیکھا
“ایسی باتیں نہیں کرتے اذلان جی ۔۔۔ ابھی آپ بچے ہیں ۔اور بچے ایسی گندی باتیں نہیں کرتے ۔۔۔۔
“گڑیا تم میری بات نہیں مانو گی ؟؟؟؟
“اذلان جی پلیز ضد مت کیا کریں ۔۔۔۔
“تم کرو گی یا نہیں گڑیا ؟؟ “
“دیکھیں اذلان بات کو سمجھا کریں یہ سب اچھی بات نہیں اور آپ تو گڈ بوائے ہیں نا ؟؟؟
“وہ دونوں بھی تو کر رہے ہیں نا وہ تو گڈ ہیں تو پھر ہم کیوں نہیں “,
اس نے حد درجہ معصومیت سے منہ پھلائے ہوئے کہا ۔۔۔
“اذلان جی !!!فجر نے اسکے ضدی انداز کو دیکھ کر زور سے چلائی ۔۔۔
اذلان نے ہاتھ مار کر غصے سے ڈریسر پہ پڑی ساری چیزوں کو زمین بوس کردیا ۔۔۔
دلینشین جو ان کے کمرے میں داخل ہورہی تھی ۔اذلان کو مشتعل انداز میں دیکھ کر وہیں کھڑی رہ گئی ۔۔۔
“کیا ہوا اذلان بھیا سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔
دلنشین اس کے پاس آئی اور تشویش بھرے انداز میں پوچھا ۔۔۔
“گڑیا میری بات نہیں مان رہی مجھے بھی ایسا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
اذلان ٹی وی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دلنشین کو بتایا ۔۔۔۔
دلنشین نے پہلے ٹی وی کو پھر نظریں چراتی ہوئی فجر کو دیکھا ۔۔۔۔
“بھابی جی پہلے مرحلے میں ہی فیل مت ہوجائیے گا “,پلیز میرے بھائی کی فرمائش پر غور ضرور کیجیے گا “
دلنشین نے اُس کے پاس آکر شرارت بھرے لہجے میں کہا
“دلنشین اب تم بھی اذلان جی کی طرح مجھے تنگ کرو گی ؟؟؟وہ روہانسی ہو کر رہ گئی۔۔۔
دلنشین مسکراتے ہوئے ان دونوں کو تنہائی فراہم کرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
“اذلان جی چلیں اب بہت وقت ہوگیا ہے ۔۔۔اچھے بچوں کی طرح وقت پر سوجائیں ۔
وہ دروازہ بند کیے ۔۔۔
اب بستر پر آکر لیٹ گئی ۔۔۔
“مجھے نہیں سونا “
وہ اپنی جگہ پر ہی کھڑا رہا ۔۔۔
“اذلان جی مجھے آپکو ایک گڈ نیوز بتانی ہے۔وہ پرجوش آواز میں بولی ۔
وہ اس کی بات سن کر پھر بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔۔
“آئیے نا اذلان جی “,
وہ منہ ٹیرھا کیے دھپ سے بستر پہ آکر بیٹھا ۔۔۔
“آپ کو روزانہ رات کو میڈیسن لینا اچھا نہیں لگتا نا تو آج سے ہم وہ گندی میڈیسن نہیں کھائیں گے ۔۔۔اچھی بات ہے نا ؟؟؟وہ پرجوش انداز میں پوچھنے لگی ۔۔۔
“چلیں آپ لیٹ جائیں “
اذلان رخ موڑ کر لیٹ گیا ۔۔۔مطلب وہ ناراض تھا اور اسکی کسی بھی بات کا جواب نا دینا اسکی ناراضگی کو ظاہر کر رہا تھا ۔۔۔۔
“اذلان جی آج آپ نے سونے سے پہلے کی دعا بھی نہیں پڑھی “وہ تھوڑا سا سر اٹھا کر بولی اور اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
اذلان نے بنا کچھ کہے سر کو جھٹکا دیا ۔۔۔۔
فجر واپس اپنی جگہ لیٹ گئی ۔۔ان دونوں کو یونہی جاگتے ہوئے قریبا ایک گھنٹہ گزر گیا مگر دونوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔
اذلان تو میڈیسن نا کھانے کی وجہ سے جاگ رہا تھا ۔مگر فجر اسکی خفگی کے خیال سے ۔۔۔
فجر نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آف کردیا ۔۔۔
“گڑیا !!!!
“گڑیا یہ لائٹ کیوں چلی گئی ۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے نا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے” وہ رخ موڑ کر فورا فجر کو بازو سے زور سےپکڑ کر بولا ۔۔۔۔
“میں آپ کے پاس ہوں “
اُس نے اذلان کو تسلی دی
اذلان اسے اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔ اور اسکا چہرہ فجر کے اتنے قریب تھا کے وہ اُس کی سانسوں کی ہلکی سی آواز بھی سن سکتی تھی اُس نے دھیرے سے لمحہ بھر کے لیے اذلان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے
پھر فورا پیچھے ہوتے ہوئے سائیڈ لیمپ آن کردیا ۔۔۔۔
“اب تو ناراض نہیں ؟؟؟اس نے اذلان کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“نہیں “وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
ساتھ ہی لائٹ چلی گئی ۔۔۔
“گڑیا اذلان کو پھر سے ڈر لگ رہا ہے ؟؟؟
وہ فجر کا شانہ تھپتھپاکر کر بولا ۔۔۔
اس بار لیمپ آف نہیں ہوا بلکہ سچ مچ میں لائٹ چلی گئی تھی ۔۔۔۔
“اذلان جی میں آپ کے پاس ہوں نا ۔۔۔۔
“میں آپ کو آیت الکرسی سناتی ہوں ۔آپ کو میری آواز بھی آتی رہے گی ۔اور پھر ڈر بھی نہیں لگے گا “
فجر نے اسے آیت الکرسی پڑھ کر سنائی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کمرے میں پھر سے خاموشی ہوگئی ۔۔۔۔
اذلان نے ڈر کے باعث فجر کے گرد اپنی بازو پھیلا دی ۔۔۔اور کانپتے ہوئے اسے جکڑ لیا ۔۔۔
فجر اسکے ڈر کے خیال سے اسے روک نا سکی ۔۔۔۔اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔۔۔کچھ دیر بعد اذلان اس کی نرم گرم آغوش میں سو گیا ۔۔۔اور فجر کو بھی پتہ نا چلا کہ کب لائٹ آئی اور کب وہ سو گئی ۔۔۔۔
نکاح کے بعد وہ گاؤں میں رکا نہیں تھا۔۔ ‘ سیدھا شہر آ گیا تھا۔۔۔! وہاں اس کے ایم بی اے کے لاسٹ سمیسٹر کے پیپرز تھے ۔اس نے بے دلی سے پیپرز دئیے اور آج وہ آخری پیپر دے کر فارغ ہوا
آج وہ اپنے کمرے واپس لوٹ آیا تھا اور گھپ اندھیرا کیے کارپٹ پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا خلاؤں میں گھور رہا تھا اُسکے سامنے مختلف قسم کے مشروبات کی بوتلیں کھلی پڑی تھیں۔جن سے نکلنے والی عجب سی بُو نے پورے کمرے کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔لیکن وہ دنیا جہاں سے بے خبر گلاس پر گلاس چڑھائے جا رہا تھا۔اس کو کسی بات کا کوئی ہوش نہیں تھا۔۔
سب کے سامنے تو وہ مضبوط بن کر پھرتا رہتا تھا۔لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ وہ بھرپور نوجوان اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔اس نے تو ایسا خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔جیسے ہوگیا تھا۔۔ اسکی بہن کی زندگی تباہ ہوگئی اسکے بابا۔ سائیں اس سے بچھڑ گئے ۔۔۔سردار جعفری کی موت نے جہاں اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا’وہیں اس توڑ پھوڑ کے نتیجے میں اک نئے معاذ جعفری نے جنم لیا تھا ‘نرم مزاج کی بجائے اکھڑ مزاج’پروقار تحمل مزاج۔۔۔ دھیمے لجہے کی بجائے ضدی ‘ غصیل’ خود غرض اور وحشی درندہ صفت بن گیا تھا جس پر اپنے بابا سائیں کے قاتلوں کو اس کے انجام تک پہنچانے کا جنون سوار ہوچکا تھا ۔۔۔۔!
اسے شروع سے ہی یہ دقیا نوسی رسم ورواج نہ پسند تھے’بے وہ کسی بھی طرح کے لڑائی جھگڑوں سے ہمیشہ ہی دور رہتا تھا لیکن سردار جعفری کی موت کے بعد اب وہ پہلے والا معاذ نہیں رہا تھا جسے خون بہا جیسی رسم و رواج سے چڑ تھی۔جو خاندانی دشمنیوں اور لڑائیوں سے دور بھاگتا تھا۔وہ کیسے اپنے بابا سائیں کے قاتلوں کے خاندان میں سے کسی ایک کہ ساتھ ایک گھر میں رہ پاتا ۔۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر اس کا دماغ دن بدن ماؤف ہو رہا تھا ۔۔۔اس کے اندر بھڑکتی انتقام کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔لیکن جب اپنی بیوہ ماں کا رنجیدہ چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہراتا وہ اپنی دشمنی کو بھول جانے کا قصد کرتا کیونکہ وہ اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا۔۔! اس نے گلاس میں مشروب انڈیلا اور لبوں سے لگا لیا ۔ وہ اس وقت ہوش و خرد سے بیگانہ ہوا جا رہا تھا ۔جس نے کبھی زندگی میں شراب کو ہاتھ تک نا لگایا تھا اپنا غم بھلانے یا یوں کہہ لیں کہ اپنا آپ بھلا دینے کے لیے اس نے اسکا سہارا لیا تھا ۔۔۔۔تاکہ کچھ دیر کے لیے وہ دنیا کے ہر غم سے آزاد ہو جائے ۔۔۔۔
“کیوں کیا تم لوگوں نے میرے ساتھ ایسا۔؟ ۔۔”اس نے ٹوٹے لہجے میں شکوہ کیا اور پھر سے گلاس لبوں کو لگا لیا۔۔
“بہت غلط کیا ہے تم سب نے میرے ساتھ اس نے ہاتھ میں پکڑا مے سے بھرا شیشے کا جام سامنے دیورا سے دے مارا ایک زودرا چھناکے کی آواز ابھری اور اس کے کانچ پورے کمرے میں جا بجا بکھر گئے تھے۔۔۔ پھر اس نے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا اور زور زور سے چلانے لگا۔۔ اس وقت اس کی حالت پاگلوں جیسی تھی۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑا۔
“میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں سردار واجد ۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔۔” وہ غصے سے غرایا ‘ بہت زیادہ ڈرنک کرنے کی وجہ سے اس کا سر درد سے بھاری اور آنکھیں سرخ انگارے ہو چکی تھیں۔اس کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔۔آج وہ گھر لوٹ آیا تھا اپنی ماں سے ملے بغیر حویلی کے تنہا گوشے میں پڑا تھا ۔۔۔جہاں پہ کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔آج تنہائی ملتے ہی وہ بھرپور نوجوان خود اپنے ہی سامنے ٹوٹ کر بکھرگیا ۔کیونکہ اس کا غم بانٹنے والا کوئی نا تھا ۔۔۔۔بالآخر وہ بھی ایک جیتا جاگتا انسان تھا اس کے اندر بھی دل تھا ‘ جسے تکلیف ہوتی تھی۔ اس نے سنا تھا مرد کبھی روتے نہیں ‘ لیکن یہ غلط بات بلکل تھی ‘ کیونکہ مرد بھی بہت روتے تھے اُنہیں بھی تکلیف ہوتی تھی ‘ لیکن یہ بھی سچ تھا وہ سب کے سامنے نہیں بلکہ تنہائی میں اپنا دُکھ کم کرتے تھے جیسے اب وہ اندھیرے میں بیٹھا اپنا دکھ کم کر رہا تھا۔۔۔۔!
دور کہیں سے اذانِ فجر کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔
آج اس نے پہلی بار میں ہی کچھ زیادہ ہی پی لی تھی اس کی وجہ سے اب اس کے سر میں درد ہو رہا تھا آنکھیں سرخ اور پپوٹے بھاری ہو رہے تھے۔ وہ اندازے سے اندھیرے میں ہی چل رہا تھا ۔چلتے ہوئے اپنے کمرے میں آیا اور بیڈ پر سوئے ہوئے وجود پر غور کیے بنا ‘ ہاتھ میں پکڑا سیل صوفے پر اچھالا ‘ جوتے اتار کر دور پھینکے اور دُکھتے سر کو دباتا واڈروب سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔اور پھر شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑا ہو گیا۔۔!
کچھ دیر بعد شاور لے کر خود کو فریش محسوس کیا تو آکر اوندھے منہ اپنے بستر پہ گرا ۔۔۔
ہاتھ کسی نرم سی چیز سے ٹکرایا تو اس کی آنکھیں اندھیرے میں پوری کی پوری کھل گئیں ۔۔۔
اس نے غور کیا ۔۔۔مگر کچھ سمجھ نہیں آیا اس نے ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل پر موجود ٹیبل لیمپ روشن کیا تو اس کی مدھم روشنی اس صنف نازک کے دودھیا چہرے پہ پڑ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے پلکیں چھپکا کر اس پری وش کے چہرے کے نقوش کا جائزہ لیا ۔۔۔۔کھڑی ستواں ناک ۔۔۔۔بڑی بڑی آنکھیں جن پہ مڑی ہوئی خمدار پلکیں گالوں پہ بوسہ دے رہی تھیں۔کٹاو دار لب ۔اور تھوڑی سے نظر ہوتی ہوئی شہ رگ پہ جا ِٹکی۔
جہاں شہ رگ پہ ایک بھورا تل تھا ۔اس نے اپنے انگوٹھے کی پور اسے اس تل کو سہلایا۔۔۔۔
شاید ابھی تک وہ پورا ہوش میں نہیں تھا جو اپنے قاتل کی بیٹی کی طرف مائل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا جھکا اور اس کے بھورے تل پہ اپنے لب رکھ گیا ۔۔۔۔اسکے لب اب شہ رگ سے گالوں کا سفر طے کر رہے تھے کہ جب مونچھوں کی چبھن سے دعا نیند میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔
“ارحام !!!!
وہ خواب اور حقیقت دونوں میں بھی شاید اسی کا تصور کرتی تھی ۔اسی لیے اسی کا نام پکار گئی ۔۔۔۔
جبکہ ارحام کا نام سن کر اصل ہوش تو معاذ جعفری کو اب آیا تھا ۔۔۔۔
اس نے جھٹکے سے دعا کو بستر سے دھکا دے کر نیچے پھینکا ۔۔۔۔
دعا اس افتاد کے لیے قطعا تیار نا تھی ۔۔۔یکدم بستر سے نیچے فرش پہ گری اور کمر بری طرح سے درد ہونے لگی ۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس نے اسے یوں نیند میں دھکا دیا ۔۔۔
سامنے ہی معاذ جعفری کے تنے نقوش والے چہرے کو دیکھ کر دعا کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔۔۔
وہ پہلی نظر میں ہی معاذ کو پہچان چکی تھی ۔کیونکہ ان دس دنوں میں وہ اسکے کمرے میں لگی ہوئی انلارج تصویر میں اسے روزانہ دیکھتی رہی تھی ۔۔۔۔
“م۔۔۔۔۔مع۔۔۔معاذ آپ !” وہ کراہتے ہوئے اُسے پُکار اُٹھی تھی جو لہو رنگ آنکھیں لیے اُسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
بستر سے اٹھ کر اسکے پاس آیا جو اب کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
“تُمہاری ہمّت کیسے یوئی ایسا کرنے کی؟” وہ اُس کے ڈرے سہمے چہرے پر نظریں گاڑھتا ہوا پوچھ رہا تھا۔جبکہ دعا کی کلائی اسکی آہنی گرفت میں جکڑی جا چکی تھی ۔۔۔اسکا لہجہ حد درجہ سرد تھا کہ وہ کُچھ بول بھی نا پا رہی تھی۔
“درد۔۔۔۔ درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔ چھوڑیں پلیز!” وہ اٹک اٹک کر کہتی اپنا بازو چُھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر گرفت اِنتہائی سخت تھی۔ بے بسی اور درد کے مارے اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے۔ معاذ نے اُس کے آنسو دیکھتے بے بس پڑتے اُسے جھٹکے سے چھوڑا تھا کہ وہ پیچھے کو جا گِری تھی۔
“درد؟ بہت درد ہو رہا ہے نا تُمہیں۔۔۔۔۔تو اُس درد کا کیا جو تُم نے اور تمہارے خاندان نے مُجھے دیا ہے؟” وہ چیخ اُٹھا تھا جبکہ دعا اب حیرت سے گنگ اُسے دیکھ رہی تھی۔
“میں نے کچھ نہیں کیا”وہ اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“ہنہہ۔۔۔۔وہ زہر خند لہجے میں ہنکارا بھر کر بولا ۔۔۔۔
“تم لوگوں سے اچھے کی امید بھی کہاں کی جاسکتی ہے۔جتنی مرضی نرمی دکھا لو ۔۔۔مگر تم لوگوں سے بدلے میں ملے گا کیا صرف دھوکا ۔۔۔۔
جیسے آج تم نے دے کر اس بات کو ثابت کردیا ۔۔۔۔
سانپ کو چاہے جتنا مرضی دودھ پلا دو وہ کبھی اپنی فطرت سے باز نہیں آتا ۔کبھی نا کبھی آپ کو ڈس ہی لیتا ہے
ان دس دنوں میں تم میرے گھر میں میرے کمرے میں رہ رہی ہو۔میری بیوی کی حثیت سے مگر دل میں یادیں لبوں پہ نام کسی نا محرم کا ۔….
ہمارے رشتے کی پہلی سیڑھی پہ اتنا بڑا دھوکا ۔۔۔۔
“شِرک کیا ہے تُم نے! ہمارے رِشتے میں!
شادی مجھ سے کر کے تُم نے کِسی اور کو دِل میں بسایا بھی کیسے؟
میرے اور تُمہارے بیچ تُم کِسی تیسرے کو کیسے لا سکتی ہو؟” وہ اُس کو شانوں سے تھام کر جھنجھوڑ گیا تھا ۔دعا کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح اسکی مضبوط بانہوں میں جھول گئی ۔۔۔
“اٹھو!”معاذ نے دعا کا بازو غصے سے پکڑا اور وہ بیچاری مشکل سے آنکھیں کھول کر کھڑی ہوئی۔جو ذہنی کشمش کی وجہ سے اپنے آپ ہی بند ہوئی جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
“سب سے پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کیا کر رہی تھی میرے کمرے میں میرے بستر پر۔۔۔تمہاری اوقات ہے اتنی ؟؟؟؟” ایک ایک لفظ چبا کر بولتا وہ دعا کے ہوش اُڑا گیا۔ دعا کو جب اس کے سوالات کی سمجھ آئی تو ڈر سے کانپنے لگی۔
“معاذ میں۔۔۔۔۔!” ابھی دعا کچھ بولتی کے معاذ ایک بار پھر درشت آواز میں چیخا۔ “چپ ایک دم چپ! یہ معاذ کیا ہوتا ہے؟
“اپنی پسند سے بیاہ رچا کہ نہیں لایا تمہیں ۔۔۔
بھولو مت کہ ونی میں آئی ہو تم ۔۔۔۔ اور ایک قاتل کی بیٹی ہو،
سردار جی کہو مجھے اور آئندہ میرا نام مت لینا۔ورنہ زبان کاٹ کر کتوں کے آگے پھینک دوں گا ” معاذ نے کہ کر جھٹکے سے اُسکا بازو چھوڑا اور واپس مڑا۔
دعا کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔۔۔
“کس نے کہا تمہیں کمرے باہر جانے کو ٫؟
معاذ ابرو اچکا کر سپاٹ انداز میں بولا۔
دعا حیرت سے دوچند ہوئی۔۔۔
“ابھی تو آ۔۔۔آپ نے کہا کہ میں من پسند لائی بیوی نہیں ۔۔۔۔اسی لیے ۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی صفائی پیش کرنے لگی ۔۔۔
“اچھا تو تمہیں من پسند بیوی بننا ہے!” ؟؟؟
واہ تم جیسے دوغلے لوگوں کا کیا کہنا دل میں لبوں پہ نام کسی کا اور رشتہ کسی اور نبھانے کی چاہ ۔۔۔۔معاذ پلٹ کر دوبارہ آیا۔
کبھی کبھی اپنے منہ سے نکل جانے والے الفاظ سے انسان کو کتنی شرمندگی اٹھانی پڑتی یہ پہلی بار آج دعا کو پتہ چلا تھا ۔۔۔۔
بے دھیانی میں اسکے منہ سے نکلے ارحام کے نام کو اسکے مجازی خدا نے پکڑ ہی لیا تھا ۔اور اسے ہی بار بار استعمال کیے الفاظ کے زہر بھرے نشتر اسے خوب ُڈبو ُڈبو کر مار رہا تھا ۔۔۔
“بولو کیا کہ رہی تھی؟”
معاذ اس کے قریب آیا اور وہ ڈر سے الٹے قدم لیتے ہوئے پیچھے کوہونے لگی ۔ دل میں خیال آیا کیا ضرورت تھی شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے کی مگر کیا کرتی اب تو الفاظ منہ سے پھسل چکے تھے ۔۔۔
یہاں تک کہ دعا الٹے قدم لیتے ہوئے دیوار کے ساتھ جا لگی۔ معاذ نے دیوار کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اُسکا راستہ بند کیا۔ دعا کو لگا کہ ابھی وہ پیچھے نا ہٹا تو اُسکی سانس ڈر کے مارے بند ہو ہی جائیں گی۔
“آئندہ میرے سامنے زبان درازی کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لینا نہیں تو سمجھانا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے ۔۔۔۔
لیکن میں تمہیں اس قابل بھی نہیں سمجھتا ۔”معاذ نے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“میں ۔۔کچھ ۔بھی ۔۔۔نہیں ۔۔۔کہوں گی ۔” دعا آنسو بہاتے ہوئے۔۔۔لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی ۔
“تم میرے سامنے بول سکتی بھی نہیں۔ تمہاری زندگی تو میں جہنم بناؤں گا۔
معاذ نے دیورا گیر کلاک پر نظر ڈالی جہاں اب صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہوئے تھے ۔۔۔
نیچے جاؤ اور ناشتہ تیار کرو سب کا ۔۔۔
میرے لیے ۔میری والدہ اور تمام ملازمین کے لیے ۔۔۔
مجھے اپنے کام میں ایک منٹ کی بھی تاخیر پسند نہیں ۔باقی کے کام تمہیں آکر بتاتا ہوں ۔۔۔۔بہت کر لی عیاشیاں ۔۔۔
پہنچو اپنی اصل جگہ ۔۔۔۔
جو میرے بستر پر تو قطعا نہیں ۔۔۔۔”
وہ آخری بات کہتے ہوئے استہزایہ انداذ سے ہنسا۔۔۔
جبکہ دعا انگلیاں مڑوڑتے ہوئے اب تک وہیں کھڑی مخمصے کا شکار ہوئی تھی۔۔۔
اب وہ اس کو کیسے بتاتی کہ اس نے تو کبھی کچن کا رخ ہی نہیں کیا تھا ۔حویلی میں ملازمین سب کام کرتے تھے یا دلنشین ہی سب کرتی تھی ۔اس نے ہمیشہ پڑھائی پر توجہ دی ان کاموں کے لیے تو اسے کبھی فرصت ہی نہیں ملی ۔۔۔
جتنا بڑا دکھ ارحام سے دوری کا تھا اتنا ہی بڑا دکھ اپنی ایم۔ بی ۔بی ۔ایس کی پڑھائی نامکمل رہ جانے پہ بھی تھا ۔۔۔وہ دل مسوس کر رہ گئی۔۔۔
“جاؤ !! اس کی دھاڑ سن کر دعا اچھل کر رہ گئی ۔۔۔اور دھڑکتے دل سے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔
سارا گھر سنسان پڑا تھا ۔۔۔
جس دن سے وہ یہاں آئی تھی ۔۔۔۔ایک بار بھی پلوشہ بیگم سے نہیں ملی ۔نا تو وہ اسکے کمرے میں آئیں اور نا دعا نے ان سے ملنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
پلوشہ بیگم تو صدمے کے زیر اثر اپنے کمرے تک محدود تھیں۔جبکہ دعا تو ڈر کے مارے جب سے آئی تھی اسی کمرے میں قید ہو کر رہ گئی تھی باہر جانے کی ہمت نا تھی ۔ملازمین آتے اور اسے کھانا وقت پر اسکے کمرے میں ہی دے جاتے ۔مگر آج اس گھر اور کمرے کا اصل مالک لوٹ آیا تھا اور اسے اس کی اصلی اوقات اچھی طرح باور کروایا تھا ۔۔۔۔
جن کا لغوی معنی۔ چھپی ہوئی مخلوق۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ایسی نظر نہ آنے والی مخلوق جس کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے۔ جب کہ انسان اور ملائکہ مٹی اور نور سے بنائے گئے ہیں۔ جنوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے روپ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جنات کا ذکر آیا ہے۔ قرآن شریف میں جنات کے نام پر ایک پوری سورت ”سورہ جن“ موجود ہے۔
اللہ تعالی نے اپنی عزت والی کتاب میں جنوں کی اصلی خلقت کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتے ہے- “اور اس سے پہلے ہم نےجنوں کو لو والی آگ سے پیدا کیا ” الحجر 65
اور ارشاد باری تعالی ہے :
“اور جنات کو آگ کےشعلے سے پیدا کیا ” الرحمن 15
اور عائشۃ رضی اللہ عنہا سے صحیح حدیث میں مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم ( علیہ السلام ) کی پیدائش کا وصف تمہیں بیان کیا گیا ہے ۔ )
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے ۔ ( 5314 )
اللہ تعالی نے جنوں کی مختلف اقسام پیدا فرمائی ہیں جو کہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے شماس بن ضماد انسانی روپ میں وہاں آیا تھا ۔
جسطرح انسانوں کی مختلف اقسام ہیں ۔کچھ نیک کچھ بد اسی طرح جنات میں بھی کچھ برے جنات ہیں۔جو شیطان کے پیروکار ہیں۔جبکہ کچھ نیک نوری جنات بھی ہیں۔جن کا مقصد اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنا ان کی عبادت کرنا ہے۔شماس بن ضماد بھی انہیں میں سے ایک تھا ۔وہ ایک نیک اور رحمدل جن زاد تھا ۔جس نےماہ (سنہری )کے لیے دعا کی ،، اپنی ساری ریاضت کے بدلے اس نے سنہری کو بچالیا ۔۔۔۔
صابر حسین دستک کی آواز سن کر دروازہ کھولا ۔۔۔
“اسلام و علیکم!
اس نے مؤدب انداز میں سلام پیش کیا ۔۔۔
“وعلیکم السلام!
صابر حسین نے جوابا کہا۔
“ارے یہ تو وہی ہے جس کے بارے میں کل رات آپ سے بات کی تھی ….شبانہ نے پیچھے سے آکر بتایا ۔۔۔
