Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 6
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 6
دوپہر میں فیروز کو حویلی بلا کر جلال الدین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ۔۔۔
پہلے تو وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر کچھ سوچتے ہوئے صائم اور سوہا کے رشتے کے لیے حامی بھر لی ۔۔۔اسی ہفتے دونوں نکاح طے پائے تھے ۔۔۔شہرام نے ہی جلال الدین کو اتنی جلدی سب نبٹا دینے کے لیے فورس کیا تھا ۔۔۔
**********
” بابا سائیں آپ نے بلایا تھا ۔۔۔۔۔”؟
وہ دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو سردار حماد بیڈ پر لیٹے ہوئے کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھے۔
” ہاں آؤ بیٹا ۔۔۔۔۔ بیٹھو ۔۔۔۔۔”
وہ کتاب الٹی کیے ایک طرف رکھتے ہوئے اب اپنے سامنے بیٹھی دلنشین کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔
” بیٹا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔ “
دلنشین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سردار حماد نے بغیر لگے لپٹے شہرام سے اسکا رشتہ طے ہونے کی بات کر دی۔۔۔
” بابا سائیں ۔۔۔۔ مجھے شاہو ۔۔۔می۔۔میرا مطلب ہے شہرام سے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔۔۔!!۔۔۔”
دلنشین نے تو سنتے ہی صاف انکار کر دیا
اس نے انکار کر تو دیا تھا مگر
اب وہ اپنے سامنے بیٹھے اپنے بابا سائیں کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کی بات سن کر اس کے بابا سائیں کا کیا ردعمل ہوگا
” ہممم اچھا ۔۔۔۔۔۔۔مگر کوئی وجہ تو ہوگی اس رشتے سے انکار کی ۔وہ بتاؤ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔”
” بابا سائیں وہ چھوٹا ہے مجھ سے کافی ۔۔۔۔۔اور میں نے اسے ہمیشہ اپنا چھوٹا بھائی مانا ہے “
دلنشین نے انکار کا جواز پیش کیا
” زیادہ چھوٹا نہیں دو سال کا ہی فرق ہے۔اور ویسے دیکھنے میں تو وہ ہماری نازک سی بیٹی سے کافی بڑا لگتا ہے ۔۔میں مانتا ہوں کہ شوہر کو میچوئر ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ شہرام کو عہدہ مل گیا ہے اور میرے خیال میں وہ کافی میچوئر ہو گیا ہے “
“میں بابا سائیں کے سامنے تمہاری طرف سے اقرار کرچکا ہوں ۔مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے وہ کبھی اپنے بابا سائیں کا مان نہیں توڑے گی ۔۔۔سچ بتاؤں تو میری ہمیشہ سے یہی خواہش تھی کہ میری اکلوتی بیٹی ہمیشہ میری نظروں کے سامنے رہے ۔۔اس لیے حامی بھر لی ۔۔۔۔بابا سائیں تو اس حق میں نہیں کے بیٹیوں سے رائے لی جائے مگر میں پھر بھی تم سے پوچھ رہا ہوں ۔بلکہ سمجھا رہا ہوں ۔شہرام ہماری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔اس میں کوئی خامی نہیں ۔۔۔جبکہ صائم کو تو ہم ٹھیک سے جانتے بھی نہیں ۔۔۔۔
“بتاؤ اب تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟؟؟
وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑتے ہوئے مخمصے کا شکار ہوئی تھی۔۔۔۔سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھی ۔۔آنسو لڑیوں کی مانند آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔
“تمہیں اپنے بابا کا فیصلہ منظور نہیں۔۔۔۔؟؟؟کیا تم مجھے میرے بابا سائیں کے سامنے رسوا کروادو گی ۔۔۔؟؟؟
“نہیں بابا سائیں ایسی بات نہیں “وہ آنسو پونچھ کر بولی۔۔۔
“جاؤ اپنے کمرے میں آرام کرو اللّٰہ پاک سب بہتر کریں گے “انہوں نے دلنشین کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔تو وہ ان کے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔
” اوہ آج رات تو چین کی نیند آنے والی ہے سونے سے پہلے اس علاقے کی ہونے والی نئی سردارنی کا حسین چہرہ جو دیکھ لیا ۔۔۔۔!!!۔۔۔۔ “
شہرام نے شانوں پر اوڑھی ہوئی براؤن رنگ کی شال کو اٹھا کر دوسرے کاندھے پر پٹخ کر کہا ۔۔۔
اور اپنے سامنے کھڑی اس نرم و نازک کلی کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا دیکھنے میں کس قدر نازک تھی وہ ،رنگ سفید و گلابی ، آنکھیں بھورے رنگ کی ، جن پر گھنی پلکیں ، ہونٹ گلابی ، بھورے بال جو کافی لمبے اور خوبصورت تھے ، جن کا ڈھیلا سا جوڑا بنا کر چھوڑا گیا تھا چہرے کے اطراف میں بے پرواہ لٹیں جھول رہی تھیں ،
آنکھیں بُجھی بُجھی ہوئی نم سی لگیں ۔۔۔جیسے ابھی کچھ دیر پہلے رونے کا شغل فرمایا گیا ہو ۔۔۔۔
اپنے سامنے رات کے اس پہر شہرام کو سامنے دیکھ کر اس کے حسین چہرے پر بیزاری واضح دکھائی دی ۔۔۔ وہ اس وقت شہرام سے تو کیا کسی سے بھی مخاطب ہونا نہیں چاہتی تھی اسی لئے اسے مکمل نظر انداز کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب شہرام نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روکا
“کہا تھا نا تم صرف میری ہو ۔۔۔۔ “
وہ اپنی کلائی شہرام کے ہاتھ سے ایک جھٹکے سے وہ آزاد کرواتی ہوئی ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے وہ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
“اپنی حد میں رہو “
جب تک مجھے تمہاری ان گندی نظروں اور بے حیا سوچ کا اندازہ نہیں تھا ۔تب تک تمہیں بچہ سمجھنے کی بھول کرتی رہی ۔۔۔مگر اب اور نہیں “وہ پھنکاری ۔۔۔۔
“حدود میں تو آپ میرے آنے والی ہیں ۔ایک بار میری حدود میں داخل ہوجائیں تو ان حدود سے نکلنے نہیں دوں گا ۔۔۔جائیں ساری نیندیں پوری کر لیں بعد میں موقع ملے نا ملے ۔۔۔۔وہ خمار زدہ آواز میں بولا۔
“گھٹیا انسان ۔۔۔تمہاری ان خصوصیات کا تو مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کب سے بے راہروی کے راستے پر چل نکلے “
وہ نخوت زدہ آواز میں بولی۔
“Correct it….
بے راہ روی نہیں محبت کی راہ “
وہ استہزایہ انداذ سے ہنسا۔۔۔
“تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے “,
وہ پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
اس کی پشت دیکھ شہرام کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔
دادا جان کے اصولوں اور حکم کے برخلاف وہ نہیں جا سکتی رات دیر تک جاگتی رہی تھی شہرام سے شادی کے بارے میں سوچتے اسے نیند آ ہی نہیں رہی تھی لائیٹ آف کر کے بھی وہ سوچوں میں گم رہی
شہرام سے شادی اس کو کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
***********
“چل اپنے بابا سائیں کو روٹی ڈال دے۔۔۔
شبانہ نے ماہ سے کہا جو اپنے صبح کالج میں ہونے والے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی ۔۔
“جی اماں سائیں ابھی دیتی ہوں وہ کتاب ایک طرف رکھ کر اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔
اور کھانا ڈال کر صابر حسین کے سامنے رکھا ۔۔۔
“مالکن نے کہا ہے شادی شروع ہونے والی ہے حویلی میں تو گھر میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے جاؤں کام کرنے کے لیے ۔۔۔۔
“ہاں تو لے جا ۔۔۔نا سہانا یا شاہانہ میں سے کسی کو “صابر حسین نے میں ڈالا ہوا لقمہ ختم کیے کہا ۔
“اماں میں نہیں جاؤں گی ابھی کل ہی ملتانی مٹی لگا کر اپنا منہ اور ہاتھ صاف کیے ہیں ۔۔وہاں برتن دھو کر میرے ہاتھ کالے ہو جائیں گے ۔۔۔سہانہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اماں میں بھی نہیں جاؤں گی کام کرنے ۔۔۔مجھ سے نہیں ہوتا کوئی بھی کام “
“اسے لے کر جائیں جس کے ہاتھ منہ پہلے ہی کالے ہیں۔تھوڑے اور ہوجائیں گے تو اسے کیا فرق پڑے گا “وہ حقارت زدہ نظروں سے ماہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
اس کی بات سن کر ماہ کہ آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں ۔۔۔
جسے وہ چہرہ جھکا کر چھپا گئی ۔۔۔
“بس کرو تم سب ۔۔۔۔کتنی بار کہا ہے ماہ کے بارے میں الٹا سیدھا نا بولا کرو ۔۔۔۔دوبارہ کچھ بھی سنا تو زبان کاٹ دوں گا “
صابر حسین نے انہیں گُھرکا ۔۔۔
“ماہ نے چہرہ صاف کیے صابر حسین کے آگے سے خالی برتن اٹھائے ۔۔۔
“رات کے کھانے کے برتن باہر صحن میں جا کر دھو لے ۔۔۔
پھر پڑھنا باقی کا ۔۔۔اور ہاں کل سے میرے ساتھ حویلی چلنا ہے تو نے “وہ گندے برتن اٹھا کر باہر نکلتی ہوئی ماہ کو پیچھے سے آواز دے کر بولی۔
وہ صحن میں بیٹھ کر سارے برتن دھونے لگی ۔۔۔
چاند اپنی خوبصورت روشی چاروں طرف بکھیر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کچھ دیر بعد برتن سمیٹ کر اندر رکھ آئی اور اپنی کتاب اٹھا کر باہر آگئی ۔۔۔
اس چاند کی چاندنی میں بھی کتاب پر تحریر الفاظ دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔
وہ چار پائی پر بیٹھ گئی ۔۔۔
ان کے مٹی سے بنے ہوئے صحن میں ایک بڑا سا پرانا بوڑھ کا درخت تھا ۔۔جس کی شاخیں ادھر ادھر لٹکی ہوئی تھیں ۔
اور اس درخت پر صابر حسین نے اپنی بیٹیوں کے لیے ایک جھولا ڈال رکھا تھا ۔۔۔
ماہ منہمک انداز میں پڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا اس کا دھیان بھٹکا گیا ۔۔۔۔
اس نے کتاب پر جھکا ہوا سر اٹھاکر سامنے دیکھا ۔۔۔
درخت پر لگا ہوا جھولا ہل ہل کر اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا وہ کسی ٹرانس کی صورت اپنی جگہ سے اٹھ کر اس جھولے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔اور جا کر اس جھولے پر بیٹھی ۔۔۔۔
جھولے کی دونوں رسیوں کو اپنی ہاتھوں کی مٹھی میں بھرے ہوئے تھی ۔۔۔
چاندنی رات تھی لیکن ہلکے ہلکے بادلوں نے اسکی روشنی کو پراسرار سا بنا دیا تھا۔ مدھم روشنی میں پرسکوت بوڑھ کے درخت کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔مٹی کی خوشبو ہر سو بکھری پڑی تھی ۔۔۔وہ کھلے آسمان تلے بیٹھے یک ٹک اس درخت کے عکس دیکھنے لگی اور پھر سر اٹھا کر اس چمکتے ہوئے چاند کو نظر بھر کہ دیکھا ۔۔۔ اسکے دیکھتے ہی دیکھتے بادل چاند کے گرد پہرا چھوڑ کر دور ہونے لگے تھے۔ چاند کی دودھیا روشنی ہر جگہ پھیلنے لگی ۔۔۔
نجانے کتنی ہی دیر وہ کھوئے ہوئے چاند کو دیکھتی رہی۔
کہ ایک دم اس کا جھولا خود بخود جھولنے لگا ۔۔۔۔
وہ اس منظر میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اسے جھولا جھولنے کی خبر تک نا ہوئی ۔۔۔
ایک دن تیز ہوا کا جھونکا اسے پھر سے ہوش دلا گیا ۔۔۔
کتنا پر لطف احساس دے گیا اس حبس زدہ گرمی کہ موسم میں ایسا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ۔۔۔
ہولے ہولے اس کا جھولا اور تیز ہو گیا ۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیے اس سرور میں ڈوب چکی تھی ۔۔۔۔
اب اس کے پاؤں تیز جھولے کے باعث درخت کی اونچی ٹہنیوں کو چھونے لگے تھے ۔۔۔
جھولے کی اتنی تیزی پر اس نے جھٹ اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔
اور اسے احساس ہوا کہ اس نے تو ایک بار بھی پاؤں جھلا کر خود جھولا لینے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔تو پھر کس نے اسے جھولا جھولایا۔۔۔۔؟؟؟.
اس نے فورا پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔
جھولے کی رفتار آہستہ ہوگئی ۔۔۔اور وہ زمین پر پاؤں رکھ کر جھولے سے نیچے اتر گئی ۔۔۔۔
وہ اسی درخت سے ٹیک لگائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
اسے اپنے کان کے پاس کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئیں تو اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی بھی دیکھائی نا دیا ۔۔۔
وہ اسے اپنا وہم سمجھتے ہوئے سر جھٹک چارپائی پر واپس آئی اور وہیں لیٹ گئی ۔۔۔
کتاب اپنے سینے پر رکھ کر وہ بادلوں کے ساتھ انکھ مچولی کھیلتے ہوئے چاند کو تکتے تکتے جانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی اسے خود بھی خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔
***********
“مجھے چھوڑ دو “
“ن۔۔نہ۔۔نہیں ۔۔۔۔مجھے جانے دو “
“مجھے مت مارو …
“مجھے درد ۔۔۔۔میں ۔۔۔م۔۔۔میں ۔۔۔مر جاؤں گا ۔۔”
وہ سر کو زور سے دائیں بائیں ہلاتے ہوئے کرب زدہ آواز میں چلانے لگا ۔۔۔
“اذلان ..!!!!
“اذلان ۔۔۔۔اٹھیں پلیز ہوش میں آئیں ۔۔۔۔”ساتھ لیٹی ہوئی فجر نے اسے نیند میں بڑبڑاتے ہوئے سنا تو اس کی فورا آنکھ کھل گئی ۔۔۔
اس نے اذلان کا گال تھپتھپاکر کر اسے ہوش دلایا ۔۔۔
اذلان نے جھٹ اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔اس کا جسم پسینے سے شرابور اور ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔۔۔
فجر نے اپنے دوپٹے سے اس کے تر چہرے کو صاف کیا ۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں “؟اس نے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔
مگر اذلان بنا پلکیں جھپکائے اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ اُسے حیرت سے دیکھتا رہا یقین کرنے کے لئے کے وہ سچ میں وہاں موجود ہے یہ اُس کا خواب ہے اذلان نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے گال کو چھونا چاہا اور جیسے ہی اُس کے گال کو اذلان نے چھو کر محسوس کیا فوراً ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔
“ت۔۔۔تم میرے پاس ہو گڑیا سچ میں ؟؟؟
“م۔میں اکیلا نہیں ؟؟؟وہ سہمی ہوئی آواز میں بولا۔
“نہیں۔۔۔اذلان جی آپ اکیلے نہیں ۔۔۔میں آپ کے پاس ہوں “
وہ اس کی حالت کے باعث اسے دلاسہ دینے کے لیے نرم لہجے میں بولی ۔۔۔
“گڑیا ۔۔۔۔وعدہ کرو تم مجھے کبھی اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤ گی ۔۔۔
“نہیں جاؤں گی اذلان جی “
“پرامس ؟؟؟اس نے فجر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
فجر اس کی امید بھری نظروں کے جواب میں سر اثبات میں ہلا گئی ۔۔۔۔
“پرامس ۔۔۔میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی “
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔۔۔
“گڑیا تمہیں پتہ ہے مجھے نا رات کو اکیلے میں اندھیرے کمرے سے بہت ڈر لگتا ہے “
“اذلان جی میں آپ کے پاس ہوں اور دیکھیں سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ بھی جل رہا ہے ۔اندھیرا بھی نہیں ہے آپ سو جائیں ۔
“گڑیا میں تمہیں پکڑ کر سو جاوں ؟؟؟
اذلان نے معصومانہ انداز میں کہا۔۔۔
فجر اسکی سب باتوں کے مثبت جواب دے رہی تھی مگر اس بات پر چپ کی چپ رہ گئی۔۔۔
“تم ناراض ہو مجھ سے ؟؟؟اذلان نے فجر کو خاموش دیکھ کر سوال کیا ۔۔۔
“وہ کیوں ؟؟؟فجر نے پوچھا ۔
“میں نے تمہارے منہ پر دہی لگایا تھا نا شاید اسی لیے ۔۔۔
“نہیں اذلان جی میں ناراض نہیں ہوں “
“تو پھر مجھے گڈ نائٹ کس دو “میری بڑی بہن ہے نا دلنشین وہ روز دعا پڑھ کر مجھ پر پھونک مارتی ہے اور مجھے یہاں کس کرتی ہے پھر مجھے ڈر بھی نہیں لگتا “وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔۔۔
اذلان کی بات پر وہ عجیب مخمصے کا شکار ہوئی۔۔۔
“اذلان جی یہ دیکھیں “وہ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کے ڈراور سے اس کی پرانی گڑیا نکال کر اسے پکڑاتے ہوئے بولی ۔۔۔
“یہ آپکی گڑیا میں نے ٹھیک کردی تھی ۔ایسا کریں آپ اسے پکڑ کر سوجائیں ۔۔۔۔
پھر فجر نے دھیمی آواز میں آیت الکرسی پڑھ کر اس پہ پھونک ماری ۔۔۔
اذلان نے اس گڑیا کو خود میں بھینچ لیا اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔
فجر نے اس پر کمفرٹر درست کیا کیونکہ ائیر کنڈیشنڈ کی وجہ سے کمرے میں خنکی کافی بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔
***********
ماہ روز کی طرح کالج جانے کی تیاری کرنے لگی تو شبانہ جو حویلی کی طرف جا رہی تھی اسے کالج کا یونیفارم پکڑے دیکھ کر اسے ڈانٹنے لگیں ۔۔۔
“تمہیں رات کو ہی بتا دیا تھا کہ آج حویلی جانا ہے “اسکو چھوڑو اور چلو میرے ساتھ ۔۔۔
“اماں سائیں آج میرا ایک بہت ضروری ٹیسٹ ہے کل سے چلی جاؤں گی “,وہ منمناتے ہوئے آہستہ آواز میں بتانے لگی کہ ماہ کو اپنی بات کی نفی کرتے دیکھ شںبانہ کو غصہ آیا اور اس نے ماہ کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا ۔
“مفت کی روٹیاں توڑتے ہوئے شرم نہیں آتی تجھے ۔۔۔۔؟؟؟چل کام پہ ۔۔۔بہت ہوگیا تیرا پڑھنا پڑھانا ۔۔۔۔
ماہ اپنے بالوں پر ہاتھ رکھ کر درد کے باعث رونے لگی۔۔۔
صابر حسین بھی ٹرک لیے کام پر نِکل گئے تھے۔ ایسے میں وہ گھر کیں اکیلی رہ گئی تھی۔شبانہ کے عتاب کا نشانہ بن کر ۔۔۔۔ ۔
وہ دونوں ایک ساتھ حویلی آئیں تو سبرینہ نے شبانہ کو اس کے معمول کے کام نبٹانے کے لیے ہی کہا اور ماہ کو حویلی کے باہر بنے ہوئے باڑے کی طرف بھیج دیا تاکہ وہاں کی صاف صفائی کرسکے ۔۔۔۔
ماہ باڑے کی طرف آگئی ۔۔۔ایک طرف بکریاں ،بھینسیں ،اور گائے کھڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔
وہ شاید بھوک سے اونچی اونچی آوازیں نکال رہیں تھیں ان کی بھوک کا احساس کرتے ہوئے ماہ باڑے سے باہر نکلی اور وہاں لگے الیکٹرانک چارہ کاٹنے والی مشین سے مویشیوں کے لیے چارہ نکالنے لگی ۔۔۔
وہ حویلی کے باہر آیا تو ٹیکسی ڈرائیور کو وہیں روکنے کے لیے کہا ۔۔۔جب وہ ائیر پورٹ سے نکلا تھا تو شدید گرمی اور حبس تھا ۔جیسے ہی وہ سفر طے کرتے ہوئے حویلی پہنچا موسم کے اچانک بدلتے ہوئے تیور دیکھ ٹھٹھکا ۔۔۔کچھ تو مافوق الفطرت لگا اسے اپنے ارد گرد۔۔۔۔اچانک آسمان سیاہ بادلوں سے گِھر گیا ۔۔۔۔
ایک طوفانی ہوا کا تھپیڑا اس کے منہ سے ٹکرا گیا اس کے وجود کو ایک زوردار جھٹکا لگا ۔۔۔اسے اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں ۔
کچھ دیر بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اندر کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔۔۔ عام سا مردانہ رنگ ،ڈریس پینٹ اورشرٹ پر جیکٹ پہنے ۔ہاتھ میں سفری بیگ تھامے ۔۔۔۔
ماہ تیزی سے سارے کام نِپٹا رہی تھی۔ آج موسم نے جانے کیسے انگڑائی لی۔ اِنتہا کی گرمی میں بادلوں نے آسمان کا بسیرا کیا ہوا تھا۔ ٹھنڈی مہکتی ہوائیں بھی چل رہیں تھیں۔ موسم ابر آلود ہو رہا تھا جیسے بارِش ہونے والی ہو۔ اچانک یاد آنے پر وہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگی۔۔وہ چارہ ہاتھوں میں بھرتی جا رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چھائے سفید بادلوں میں اب کالے بادل گِھرنے لگے تھے۔ وہ واپس باڑے کی طرف جانے لگی کہ ابھی وہ مڑی کی تھی کہ کسی سے زور سے ٹکرائی ۔۔۔۔ یکدم بارِش کی تیز بوچھاڑ ان دونوں پہ برسنے لگی ۔۔۔سامنے موجود شخص اپنی مسحور کن شخصیت کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ سامنے کسی انجان شخص کو دیکھ تیزی سے پیچھے ہوئی ۔۔۔
باڑے میں بندھی بھینسیں اب بھوک کی وجہ سے تیز آوازیں نِکالنے لگیں ۔۔۔بارش کی آواز میں ان کی آواز بھی شامل ہونے لگی۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اُس شخص نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔
وہ ٹیکسی سے اتر کر حویلی میں داخل ہونے لگا تھا ۔۔۔جب بارِش شروع ہو گئی۔ وہ بارِش سے بچنے کو یہیں رُک گیا۔
اسے بھیگے کپڑوں میں دیکھ کر اُسے ناگوار گُزرا تھا۔ وہ اس وقت اپنے سراپے سے دعوت نظارہ بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔
نظریں اُس کے سراپے کا جائزہ لے رہیں تھیں جو مُکمّل بھیگ گئی تھی اور اُس کے کپڑے اُس کے جِسم کے ساتھ چِپکے ہوئے تھے۔ اُس کا دوپٹہ بھی گیلا ہو چُکا تھا جِس میں سے پانی نُچڑ رہا تھا۔ چہرے پر کُچھ گیلے بال بھی چِپکے ہوئے تھے جِنہیں وہ اپنے چہرے سے پیچھے ہٹا رہی تھی۔ یہ لڑکی ہر بار ایک نئے انداز میں اُس سے مِلتی تھی۔پہلی بار روتے ہوئے تو کبھی ہنستے ہوئے کتنے روپ تھے اسکے ۔۔۔حساس نرم دل ،صبر کرنے والی ،سہنے والی ،پاکیزہ دل ۔۔۔ اُس کے دل نے اس سے برملا اعتراف کیا کہ یہ لڑکی اُس کے دِل پر قابض ہو گئی ہے۔ آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں پہلے سے “
“آپ کون ہیں ؟؟؟!ماہ نے اس ڈرتے ہوئے اس سے دھیمی آواز میں پوچھا ۔۔۔
” میں کون ہوں یہ تمہیں جلد ہی پتہ چل جائے گا “
“اور ہاں !!!!وہ باہر جاتے ہوئے پلٹا ۔۔۔۔
“اس حالت میں حویلی کے اندر مت جانا ۔۔۔۔۔
“یہاں سے سیدھا گھر جاؤ ” اُس نے اپنے اوپر پہنی ہوئی جیکٹ اُتارتے ہوئے اُس کی طرف قدم بڑھائے جبکہ وہ اُسے اپنی طرف آتا حیرانی سے دیکھنے لگی۔
“جی وہ مالکن سائیں نے یہ کام کرنے کا کہا تھا ۔” اُس نے جلدی سے بتایا تو وہ سر ہلا کر اُس کے قریب دو قدم کے فاصلے پر رُکا۔ اپنی جیکٹ اتار کر اس نے ماہ کے شانوں پر ڈال دی ۔ وہ اُس کی جیکٹ میں چُھپ سی گئی تھی۔ ماہ نے حیرت زدہ نظریں اُٹھا کر بے ساختہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا جو خُود بھی اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“م۔ممم۔۔۔۔م۔میں آپ کی جیکٹ کیسے ؟؟” اُس نے ہکلا کر کہا تھا۔ اُس کی گہری اور عجیب سی نظریں ماہ کو نروس کر رہیں تھیں۔ دِل میں میٹھی میٹھی کسک پیدا ہو رہی تھی جو اُسے بھلی تو لگ رہی تھی مگر گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی۔
“جیکٹ کی فکر مت کرو ۔۔یہ تمہاری عزت سے زیادہ قیمتی نہی۔ ” اُس نے ماہ کو جیکٹ اُتارتے دیکھ کر روکا اور ساتھ میں ہدایت کی تو وہ جلدی سے سر ہلا گئی۔
وہ اس اجنبی کی نظروں سے پریشانی ہو رہی تھی جو نجانے اُس کے چہرے میں کیا کھوج رہا تھا ۔وہ مقابل موجود شخصیت کی آنکھوں میں دیکھتی ہی رہ گئی جہاں نجانے کونسی کشش تھی جو اُسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
“اپنا خیال رکھا کرو کسی بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ “
“کیوں۔۔؟”
“آپ ہوتے کون ہیں مجھے صلاح دینے والے وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔
“میری اصلیت جاننے میں تمہیں اتنی دلچسپی کیوں ہے ؟؟؟ “
“۔” اُس نے ماہ کی روشن آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ کر کہا۔
“کیوں؟آپ مجھ پر اپنا حکم چلائیں اور میں پوچھوں بھی نہیں ” اُس کا سوال پھر وہی تھا۔
“تمہیں اسی لیے صلاح دی کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں اس حالت میں کوئی نا محرم دیکھے ۔” اُس نے جواب دیا۔
” تو کیا ہوا ؟”
“آپ بھی تو میرے لیے نا محرم ہیں….
“نامحرم سے محرم بننے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے ؟؟؟؟؟۔صرف تین منٹ اور تین الفاظ پھر عمر بھر کا ساتھ ۔” اُس نے بھی اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔
“تمہاری عمر کتنی ہے ؟” اس نے پوچھا تھا۔ دونوں ابھی بھی ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
“میں کیوں بتاؤں “وہ بضد انداز میں بولی ۔
“میں بتاتا ہوں اٹھارہ کی ہونے میں صرف ایک ماہ “
وہ ٹہرے ہوئے انداز میں بولا ۔
ماہ نے چونک کر اسکی گہری آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔
“آپ کو کیسے پتہ ؟؟؟
اس نے جاتے ہوئے انسان سے پوچھا ۔۔۔۔
مگر اس نے پلٹ کر نا دیکھا ۔۔۔
وہ رم جھم برستی ہوئی تیز بارش میں بھیگتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔اور جاتے ہوئے اپنا سفری بیگ اٹھانا نہیں بھولا ۔۔۔۔
*************
