953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 8

“جعفری میں نے تجھ سے پہلے بھی کہا تھا کہ مجھ سے پنگا مت لینا ۔۔۔ہمارے گوٹھ کے کھیتوں کا پانی رکنا نہیں چاہیے “واجد خان نے جعفری کو مردان خانے میں شادی میں شرکت کیے دیکھ کر بات یاد آتے ہی کہا ۔۔۔۔

سردار جلال الدین نے فجر کے والد سردار جعفری کو بھی سوہا اور شہرام کے نکاح میں مدعو کر رکھا تھا ۔۔۔۔

اب وہ دونوں آمنے سامنے تھے ۔۔۔۔

”دیکھو سردار واجد !!! میری تمہارے ساتھ کوٸی دشمنی نہیں،میری بیٹی تمہارے گھر ہے ۔ ۔۔تم خود بھی دیکھ سکتے ہو ہمارے کھیتوں میں پانی کل کا لگ چکا ہے۔ میں نے سرکاری کام کروایا ہے ۔۔حکومت سے اجازت لی ہے میں نے سردار جعفری نے کہا “

“میں نہیں جانتا کسی سرکاری کھاتے کو ۔۔۔یہاں ہمارے کھاتے ہیں ہماری مرضی وہ رعونت آمیز انداز میں بولا اس وقت سردار واجد ۔۔غصے میں آگ بگولہ ہو چکے تھے ۔۔۔۔

”اگر تم نے کچھ الٹا سیدھا کیا تو پھر یاد رکھنا مجھ سے برا بھی کوٸی نہیں ہوگا سردار واجد (شہرام کے والد )۔۔۔تم بھی مجھ سے پنگا لینے کی جراءت مت کرنا یہ میں بھی آخری بار کہہ رہا ہوں تمہیں، اگر دوبارہ ایسا ہوا تو زمہ دار تم خود ہو گے۔۔“سردار جعفری کا غصہ بھی اسکی بے تکی بات سن کر کسی بھی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

**********

“اذلان جی پلیز لیٹ جائیے نا فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس لیٹانا چاہا لیکن اس نے بنا دیکھے فجر کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔جس پر فجر بہت حیران ہوئی

کیا ہوا اذلان جی۔۔۔۔۔ ناراض ہے آپ مجھ سے۔۔۔۔۔؟؟؟کچھ کہا کیا میں نے جو آپ کو برا لگا ؟؟؟

وہ جب غصّے میں ہو تب ہی ایسی حرکتیں کرتا تھا فجر اس کے قریب بیٹھی اور ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا

د۔۔دور رہو مجھ سے

اذلان نے نا صرف اس کا ہاتھ جھٹکا بلکہ اُسے خود سے پیچھے دھکا بھی دیا وہ اذلان نہیں کوئی اور تھا جس کے چہرے پر نہ معصومیت تھی اور نا ہونٹوں پر مسکان

“اذلان جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

فجر گھبرا گئی کے آخر اُسے اب کیا ہوا؟؟؟

“میں کہہ رہا ہوں نا دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔دور رہو۔۔۔۔۔دور رہو”

اذلان نے سر پکڑتے ہوئے زور سے چلانا شروع کر دیا

“کیا ہو گیا اذلان جی آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں ادھر دیکھیے

فجر نے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا لیکن اذلان فوراً اپنی جگہ سے اٹھ گیا

“جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔دور ہو جاؤ ۔۔۔۔۔مجھ سے ۔۔۔۔۔”

وہ دیوانہ ور اپنا سر پکڑے چلاتا رہا اور آنکھیں بند کیے سر کو زور سے دبانے لگا جیسے اس کا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر فجر کو ڈر لگنے لگا تھا ۔۔۔وہ لڑکھڑا کر گرنے والا تھا کے فجر نے اُسے پکڑ لیا اور بازو سے کھینچ کر بیڈ پر لٹایا وہ ہوش میں نہیں تھا

“اماں سائیں ۔۔۔اذلان جی کی طبیت ٹھیک نہیں”آپ پلیز میرے ساتھ آئیں ۔

فجر نے فورا باہر آکر سبرینہ بیگم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“فجر میں سارا شادی کا بکھراؤ سمیٹوا رہی ہوں ملازمین سے ۔۔۔تم ایسا کرو ۔۔

یہ میرا فون لو اس میں تمہیں میں اذلان کے ڈاکٹر کا نمبر ملا دیتی ہوں اسے تم اذلان کی کنڈیشن کے بارے میں بتاؤ پھر جو وہ کہیں تم وہی کرنا “

انہوں نے کہتے ہوئے اپنے فون سے ڈاکٹر کا نمبر ملا کردیا ۔۔۔

فجر فون لے کر کمرے میں آگئی اور ڈاکٹر کو اذلان کی ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔

میں بہت ڈر گئی تھی ڈاکٹر۔۔اذلان جی نے پہلے کبھی ایسا برتاؤ نہیں کیا اُن کا غصّہ اُن کے بولنے کا انداز بہت عجیب تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب انہیں ہوش آیا تو اُنہیں کچھ یاد ہی نہیں تھا وہ بلکل نارمل تھے۔کبھی بچوں سا برتاؤ کرتے ہیں ۔کبھی نارمل لگتے ہیں ۔اور کبھی تو بالکل آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتے ہیں ۔

وہ ڈاکٹر کو کچھ دیر پہلے والا واقع بتارہی تھی ۔

“میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس پیشنٹ کو مینٹل اسائلم میں ایڈمٹ کر دیں۔۔۔وہاں ہر وقت ہر وقت اُسکا دھیان بھی رکھا جائے گا اور ٹریٹمنٹ بھی اچھے سے ہو پائیگا

“یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ڈاکٹر “پاگل خانے میں داخل کروانا “وہ ان کی بات سن کر پہلے تو بھونچکا رہ گئی پھر تلخ لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔

“آپ پلیز مجھے کوئی میڈیسن بتائیں تاکہ میں انہیں دے دوں ایسے وقت میں “

“جو میڈیسن وہ کھا رہے ہیں اس میڈیسن سے اچھی اور کوئی میڈیسن نہیں آپ اسے کی جاری رکھیں ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے “,اس نے بے دلی سے کال کاٹ دی ۔اور فون واپس سبرینہ بیگم کو بھجوا دیا ایک ملازم کے ہاتھوں ۔

اذلان پھر سے سو چکا تھا ۔۔۔۔

اس نے وہ میڈیسن نکال کر اس کا نام پڑھا ۔۔۔عجیب سا نام تھا اسکا ۔۔۔

“جب بھی یہ میڈیسن کھاتے ہیں فورا سو جاتے ہیں کہیں یہ نیند کی میڈیسن تو نہیں یا پھر اور کچھ ۔۔۔کئی سوال اس کے زہن پر ابھرنے لگے ۔۔۔

وہ سوچوں کے تانے بانے بننے لگی ۔۔۔۔

ارحام سے پوچھوں اس میڈیسن کے بارے میں “؟

اس نے دل میں سوچا ۔۔۔

“نہیں وہ کیا سمجھے گا کہ میں دوائی کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہوں “

اس سے پوچھنا مناسب نہیں رہے گا ۔۔۔۔

“کچھ اور سوچتی ہوں “

وہ کچھ دیر سوچتی رہی ۔۔۔

“اممم۔۔۔۔۔۔ایسا کرتی ہوں اس میڈیسن کے بارے میں سرچ کرتی ہوں نیٹ پر کچھ نا کچھ تو انفارمیشن مل جائے گی ۔۔۔مگر کیسے ۔۔۔۔”؟

“ارحام کے روم میں لیپ ٹاپ موجود ہے “

“کل اس سے پوچھ کر استعمال کر لوں گی “اس نے کل کا پروگرام بنایا۔۔۔اور خود ڈریس تبدیل کیے اب بستر پر لیٹ گئی ۔۔۔۔

*************

دلنشین ڈریسر کے سامنے کھڑی اس کے آنے سے پہلے ہی اس دلہن کی آرائش و زیبائش سے چھٹکارا پانے کے لیے کھڑی ہوئی دوپٹہ پنوں سے آزاد کروا کر شانے پر رکھا اور بالوں کے جوڑے کو کھول کر ان میں برش کیا پھر انہیں کیچر میں مقید کردیا ۔۔۔اب وہ اپنی چوڑیاں اتار کر تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتی جا رہی تھی ۔۔۔

اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا ۔۔۔

دلنشین نے ایک بار بھی اندر آنے والے شہرام پر ایک نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کیا اور اپنے کام میں مگن رہی ۔۔۔

“کیا کر رہی ہو ؟؟؟

شہرام نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے ایسا کرنے سے روکا ۔

“آنکھیں ادھار پہ دے آئے ہو ؟؟؟؟

“نظر نہیں آتا اس ان چاہے بوجھ سے آزاد ہو رہی ہوں “

وہ تلخ انداز میں گویا ہوئی ۔

“میرا انتظار کرتی نا ۔۔۔۔ان سب سے ۔۔۔۔آج آپ کو۔۔۔ اپنے انداز میں آزاد کروانا چاہتا ہوں “وہ ذومعنی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

“بہت ہی کوئی گھٹیا اور واہیات انسان ہو تم ۔۔۔۔”مجھے امید نہیں تھی جسے میں بچہ سمجھ کر ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی شہرام اسکی بات کاٹ کر بولا ۔۔۔

“کیا بار بار ہر بات میں بچہ ۔۔۔بچہ۔۔۔کی رٹ لگا رکھی ہے ؟؟؟

“نا تو میں آپکا بچہ ہوں اور ۔۔۔۔نا ہی بچہ رہا ہوں ۔۔۔اگر آپ چاہیں تو اس بات کا ثبوت ابھی پیش کرسکتا ہوں ۔۔۔بشرطیکہ آپ میں سہنے کی ہمت ہو “وہ غصے میں کہتے ہوئے آخری الفاظ پر یکدم لہجہ اور انداز بدل گیا ۔۔۔

دل کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر پھیلیں۔۔۔

“اتنا ہی بچہ بچہ کہنے کا شوق ہے تو آپ کی یہ خواہش ابھی پوری کیے دیتا ہوں ۔۔پھر کھلاتی رہیے گا ہمارے بچوں کو گود میں اور جتنا مرضی انہیں بچہ بچہ پکارتی رہیے گا ۔۔۔وہ ذومعنی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے آنچ دیتے لہجے میں بولا۔۔۔

“۔پاگل ہو چکے ہو تم کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔ کچھ پتہ بھی ہے؟؟؟؟

وہ چلائی ۔۔۔۔

شہرام کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھا دیا ۔۔۔ اسکی اطراف اپنے ہاتھ رکھ دئے۔۔۔

“یہ کس طرح بات کر رہی ہیں آپ مجھ سے جانتی ہیں نا میں اس علاقے کا سردار ہوں ۔۔۔اور اب آپ کا شوہر بھی ۔۔۔تو لہجہ درست کریں “

انا پر چوٹ ہوئی تو سردراوں کے خون میں جوش مارا ۔۔۔۔

“ہنہہہ۔۔۔۔دلنشین نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا ۔۔۔

“صحیح کہا۔۔۔تم ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔سوری !!!! آپ نے ۔۔۔۔

شہرام سائیں !!!!

استہزایہ انداذ سے بولی ۔۔۔

“کہیے کیا حکم بجا لاؤں آپکی خدمت میں ؟؟؟وہ ہلکا سا سر کو خم دئیے جھکا کر بولی ۔۔۔

شہرام پر اس کا لب ولہجہ سر پہ لگا تلوں پر بجھا ۔۔۔۔

مگر وہ اپنے اشتعال پر قابو کیے گہری سانس کھینچ کر خود کو پرسکون کرتے بولا ۔۔۔

“دل سرکار !!!!

“سردار شہرام نے اپنا دل تو دل نشین کے قدموں تلے رکھ دیا ہے۔اب یہ دل سرکار پر ہے وہ میرے دل کو سر پہ تاج کی طرح سجاتی ہیں یا اپنے قدموں کی دھول سمجھ کر اڑا دیتی ہے۔”,

وہ مدھم لہجے میں اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور دلنشین کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔۔۔۔

اسے شہرام کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔

“چھوڑو مجھے “وہ گھور کر بولی ۔۔۔

“چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔!!!

“چھوڑنے ۔۔چھڑوانے کی باتیں چھوڑ کر ۔۔۔صرف پکڑنے پکڑانے کی باتیں کریں “وہ اس دلنشین کی دونوں بازو اپنی گردن کے گرد باندھ کر خمار زدہ آواز میں بولا۔۔۔۔

“دل سرکار !!!! آپ صرف میری ہیں۔۔۔۔اور ہمیشہ میری رہیں گی ۔

“میں خود بھی جانتا کہ کب آپ میرا عشق بن گئیں۔۔۔جانے کب میرا دل آپکے دل کا طلب گار بن گیا۔۔۔۔میں ہمیشہ آپکو اپنے قریب دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔قریب ۔۔۔۔بہت قریب ۔۔۔۔۔ وہ جنونی انداز میں کہتے ہوئے اسکے کیچر میں مقید بالوں کو کھول گیا اور کیچر ہوا میں اچھال دیا ..اسکے لمبے کالے بالوں میں چہرہ چھپا گیا ۔۔۔۔.بولتے ہوئے اسکے ہونٹ دلنشین کے کان کی لووں کو چھو رہے تھے. .. اس کی اتنی سی قربت پر وہ مرنے والی ہوئی تھی. .. دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. .جیسے وہ پیچھے نا ہوا تو اسکا دل اچھل کر ابھی باہر آجائے گا. ….

“ش۔ش۔۔۔شہ۔۔۔شاہو ۔۔۔۔پلیز ہوش میں آؤ ۔۔۔وہ کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی..

“ہوش میں ہی تو نہیں آنے دے رہی آپکی یہ قربت دل سرکار ۔۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس چہرہ کیے گھمبیر لہجے میں سرگوشی نما آواز میں بولا .. اور اپنی پوروں سے اسکا مخملی گال سہلا رہا تھا ۔۔۔۔

“یہ کیا کر رہے ہو ؟؟؟اس کے لمس پر دلنشین کو اپنے حواس ُسن ہوتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔

“وہی جو ایک شوہر اپنی بیوی سے کرتا ہے . … وہ بول کر لبوں سے اسکے مخملیں گال پر لمس چھوڑ گیا ۔۔۔۔

صیحیح معنوں میں دلنشین کی جان لبوں پہ آئی ۔۔۔گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔

“پیچھے ہٹو ۔۔۔وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ اسے دھکا دیتے ہوئے دھڑ دھڑ کرتے دل سے بولی ۔۔۔۔

“اپنے نئے مزاجی خدا کی نا فرمانی کر کہ اس کا دل توڑیں گی۔۔۔تو گناہ ملے گا ۔۔۔۔

وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے نرم لہجے میں بولا۔۔۔۔

اب وہ اسکا محرم بن چکا تھا رشتہ بدل چکا تھا ۔۔۔۔مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو اسے اس سب کو اتنی جلدی قبول کرنے سے انکاری تھا ۔۔۔

“مممم۔۔۔میں تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دوں گی “

وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی۔

“تو ایسا کیا کریں گی دل سرکار خود کو مجھ سے دور کرنے کے لئے ذرا مجھے بھی تو بتائیں..”

اس کے دوپٹے کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔دل نشین نے اپنے دوپٹے پر پکڑ مضبوط کی ، اگر وہ سرعت سے اپنے دوپٹے کو نہ پکڑتی تو وہ پوری طرح اس کے وجود سے سرک جاتا..

شہرام نے اس کے دوپٹے والے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کے ڈر کی وجہ سے دلنشین کا ہاتھ بالکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔۔۔

“کیا میں اتنا ڈراؤنا ہوں کہ تم یوں ٹھنڈی پڑ گئی ؟؟..”

“ویسے آج تو اورنج کلر میں بالکل مرنڈا کی بوتل لگ رہی ہو ۔۔۔اور وہ بھی بالکل ٹھنڈی ۔۔۔۔۔”وہ شرارتی انداز میں ایک آنکھ ونگ کیے بولا ۔۔۔

“دل کرتا ہے ایک ہی گھونٹ میں ساری پی جاؤں “

وہ خمار آلود آواز میں اسے اپنے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔۔

شہرام نے اس کی شفاف آنکھوں میں دیکھا جہاں نمی تیرنے لگی تھی ۔۔۔ اس کی نظریں دل کی ناک میں جھولتی سادہ سی نتھلی پر جا ٹِکیں ۔۔ جو اس کے بولنے یا حرکت کرنے پر اس کے لپ اسٹک سے مزین ہونٹوں سے مس ہو جاتی، اس کی نتھلی اور ہونٹوں کا یہ ملن اس کے جذبات کو اتھل پتھل کر رہا تھا، اس کا دل کیا ہاتھ بڑھا کر اس کی حرکت کرتی نتھلی کو چھو لے ۔۔۔

وہ مزید وقت ضائع کیے بنا اسے اپنی بانہوں میں بھر کر بستر پہ لے گیا ۔۔۔

دلنشین نے اسکے شانے پر مکوں کو برسات کردی مگر اسے تو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔

وہ اسے اپنے ساتھ لیے بستر پر گرا ۔۔۔۔

دلنشین اپنا توازن برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے اس کے اوپر لڑھک گئی، یہ حملہ بالکل اچانک ہوا تھا، اسے شہرام سے ایسی کسی بے باکی کی بالکل امید نہیں تھی..

“یہ کیا کر رہو پاگل انسان ..؟” اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی..

“اپنی نئی نویلی دلہن کو قریب سے دیکھ رہا ہوں..” یونہی لیٹے ہوئے اس کی کمر پر اپنے بازوؤں کا گھیراؤ مزید تنگ کیا .

اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی جسارت کرتا ۔۔۔

اس کے موبائل پہ ہوتی بیل نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنا موبائل کان سے لگایا ۔۔۔

اور دلنشین کو پیچھے کیے وہاں سے اٹھا ۔۔۔۔

اور تیزی سے اپنے دوسرے کپڑے لیے ڈریسنگ روم میں جا کر تبدیل کیے واپس آیا ۔۔۔

اس کی نظر بستر پر گئی جہاں دلنشین سر سے پاؤں تک کمفرٹر اوڑھ کر سونے کا ڈرامہ کر رہی تھی ۔۔۔

کیونکہ کمفرٹر میں بھی اس کا لرزتا ہوا وجود شہرام کی آنکھوں سے مخفی نہ رہ سکا ۔۔۔۔

دلنشین نے اس وقت اس فون کال کرنے والے کو ڈھیروں ڈھیر دعائیں دے ڈالیں ۔۔۔اس کی لب خلاصی پر وہ اس انجان کی تہہ دل سے مشکور ہوئی ۔۔۔

شہرام تاسف سے سر ہلاتے ہوئے شانوں پر شال پھیلائے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد کمرے میں کسی کی بھی موجودگی محسوس نا کیے دلنشین نے کمفرٹر کو چہرے سے ہٹایا ۔۔۔

پھر سکون بھری گہری سانس کھینچ کر خود کو نارمل کیا ۔۔۔۔

“آنے والا وقت بہت مشکل ہونے والا ہے میرے لیے ۔۔۔

شاہو تمہیں اللّٰہ ہی پوچھے گا”

وہ تلخی سے کہتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔لباس تبدیل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔۔۔۔کچھ دیر پہلے کی گئی اس کی بیہودہ باتوں کو سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہوتے ہوئے بالآخر نیند کی وادیوں میں اتر گئی ۔۔۔۔

***********

ان دونوں گوٹھ کی زمینیں ساتھ ساتھ تھیں۔۔!

ان دونوں کی زمینوں کے درمیان سے ایک نہر گزرتی تھی ۔۔۔جس سے دونوں گوٹھ کسانوں کی زمین سیراب ہوتی تھیں۔سردار جعفری نے وہاں ٹیوب ویل لگوا کر پانی کا رخ بدل دیا ۔۔۔۔جس کی وجہ سے ان دونوں میں جھگڑا ہو رہا تھا ۔۔۔

دونوں آپس میں اس بات کو لے کر گتھم گتھا ہو گئے۔۔۔۔

تب ہی فضا میں فاٸر کی آواز گونجی اور سردار جعفری کے جسم کو اک زوردار جھٹکا لگا ‘ اس کے ہاتھ سے ریوالور ِگر گیا اور سینے سے خون کا فوارہ ابل پڑا، سردار واجد نے بے یقنی سے اس کی طرف دیکھا ۔اس کے ہاتھ سے بھی ریوالور چھوٹ کر نیچے گر گیا۔

سردار جعفری کا وجود لرزنے لگا اور پھر جھٹکا کھا کر پوری قوت سے نیچے جا گرا۔۔۔

سردار واجد تیزی سے دوڑ کر اس تک پہنچا اور اس کے جھٹکے کھاتے وجود کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالا۔

”میں نے۔۔ میں نے ۔۔ نہیں مارا تمہیں جعفری ۔۔“وہ پوری قوت سے چلایا۔اس کے ہاتھ جعفری کے خون سے رنگین ہو گٸے تھے،

“میں نے تمہیں نہیں مارا ۔۔۔سردار واجد نے اسے پھر سے کہا ۔۔۔سردار جعفری کی آنکھیں بند ہونے لگی اور پھر بند ہوتی آنکھوں سے آخری چہرے جو اس نے دیکھے تھے وہ اسکے بیٹے معاذ ،بیٹی فجر اور بیوی پلوشہ کا تھا۔۔اس کے بعد اس کی آنکھیں ساکت ہو گٸیں اور جاندار وجود بے جان ہو کر پل دو پل میں ہی خاک میں مل گیا۔۔۔۔مٹی سے بنا وجود مٹی میں ملنے کے لیے تیار تھا ۔۔۔۔

***********

“معاذ بیٹا اپنے بابا سائیں کا نمبر ایک بار پھر سے ملاؤ” میرا دل بڑا گھبرا رہا ہے۔۔۔” پلوشہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھ کر تفکر بھرے انداز میں بولی ۔۔۔

معاذ نے اپنے بابا سائیں سردار جعفری کو کال ملائی۔لیکن ان کا سیل آف جا رہا تھا۔۔۔وہ بے چین ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔

”کیا ہوا بات ہوئی ۔؟؟؟

“پلوشہ بیگم نے معاذ کے تنے چہرے کیطرف دیکھ کر فکرمندی سے دریافت کیا۔۔۔

” اماں سائیں بابا فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔ان کا نمبر کافی بار ٹرائی کیا جو کہ مسلسل بند جا رہا ہے ۔”

تب ہی معاذ کے ہاتھ میں پکڑا اس کا فون بجا۔

“معاذ بیٹا تمہارا فون بج رہا ہے۔۔”وہ جو گہری سوچ میں گم تھا ۔۔۔پلوشہ نے بےچینی سے اُسے اطلاع دی۔اس نے نمبر دیکھا وہ انجان نمبر سے آ رہا تھا ۔۔۔

“کس کا فون ہے ۔۔۔؟” پلوشہ نے اس کو پریشان دیکھ کر پوچھا ۔۔

”اجنبی نمبر سے کال ہے ‘ پتہ نہیں کس کی ہے اس وقت ؟۔۔” اس نے پریشانی سے کہتے ہوئے وہ ہی کال اٹینڈ کر کے سیل کان سے لگا لیا۔۔۔۔

” يس سردار معاذ جعفری اسپیکنگ ۔۔”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا ۔۔۔

“وہاٹ۔۔۔! ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔؟ بابا سائیں ٹھیک تو ہیں ۔۔؟” آگے سے جو خبر اسے سنائی گئی تھی’ اُس نے اس کے ساتھ ساتھ اس گھر کی درودیوار بھی ہل کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔سیل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا ۔۔۔۔

معاذ جعفری جیسا مضبوط ، بندہ بھی خود کو سنبھال نہیں پایا تھا وہ پاس پڑے صوفے پہ ڈھ سا گیا ۔۔۔

“بتاو معاذ کیا ہوا ہے ۔۔۔؟”

پلوشہ تقریبا بھاگنے کے انداز میں اسکے پاس پہنچی ۔۔۔

“اماں سائیں بابا ۔۔۔۔۔۔

وہ صرف اتناہی کہہ پایا تھا کہ یہ روح فرسا خبر سن کر پلوشہ بیگم کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔

کھڑے کھڑے ان کی دنیا اندھیر ہوگئی ۔۔۔۔ان میں تو ہلنے کی سکت باقی نہیں رہی۔۔۔۔۔

***********

“بابا سائیں !!!!

سردار حماد کی اونچی آواز سن کر سبھی اپنے اپنے کمروں سے باہر نکلے ۔۔۔فجر جو ابھی سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ شور سن کر باہر نکل آئی ۔۔۔

“سردار جلال الدین بھی نکل آئے ۔۔۔

“سردار جعفری کو مار دیا ‘ واجد نے۔۔” سردار حماد کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سنتے ہی فجر کی بلند و بالا چیخوں نے حویلی کے درودیوار ہلا دیئے تھے وہ روتے بلکتے ہوئے وہیں فرش پر گر گئی اسں کی چیخ و پکار کی آواز سن کر سارے ملازمین اور باقی سب لوگ بھی دوڑے چلے آئے تھے۔۔

“حماد آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔؟” سبرینہ بیگم نے فجر کو فرش پر بیٹھے چیخ چیخ کر روتے دیکھ کر حماد کی طرف بڑھیں ۔۔ اور ان سے پوچھا ۔۔۔

“کچھ بولیں حماد ۔۔ ” سبرینہ بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

“ہاں سچ ہے “,

“میرے بابا سائیں مم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔۔۔ ایسے کیسے مم مجھے تنہا چھ چھوڑ کر جا سکتے ہیں وہ ۔۔” وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور شکستہ لہجے میں بولی ۔۔۔

سبرینہ بیگم اور جلال الدین بھی اس کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر ساکت رہ گئے۔۔۔ تھیں۔اپنے بابا کی موت کی جان لیوا خبر سنتے ہی وہ دھڑام سے فرش پر جا گری اور۔ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی ۔۔۔۔

ادھر معاذ اور پلوشہ پر یہ خبر کسی گہرے صدمے سے کم نا تھی اور ادھر خوشیوں بھرے گھر میں یکدم سوگ کا سماں پیدا ہوگیا تھا ۔۔۔۔

شہرام اپنے ساتھ اپنے بابا سائیں سردار واجد کو صحیح سلامت واپس حویلی لے آیا ۔۔۔۔مگر آگے کے بارے میں سوچ سوچ کر ان سب کا برا حال ہوگیا تھا۔۔۔۔وہ سب بیٹھک میں جمع تھے ۔۔۔

جن میں سردار جلال الدین۔سردار حماد ،سردرا واجد اور فیروز بھی شامل تھا ۔وہ صائم کی رخصتی کے بعد سردار حماد کے کہنے پر یہیں رک گیا تھا۔۔۔شہرام وہیں بیٹھک میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔

کیونکہ اب وہ سردار تھا اور اس واقعہ کا فیصلہ اسے لینا تھا ۔۔۔

خون ُان لوگوں کا ہوا تھا ۔۔۔

مگر اس بار خون بہا دینے کی باری ِان لوگوں کی ۔۔۔یہی سوچ اسے پاگل کیے دے رہی تھی ۔۔۔۔

“شہرام فکر مت کرو “, جلال الدین نے اسے پرسکون کرنے کے لیے اسے تسلی دی ۔

“کیسے فکر نا کروں ؟؟؟

پنچائیت میں فیصلہ مجھے کرنا ہے “

“نجانے وہ جعفری کے خون بہا میں ہم سے کیامانگے ؟؟؟

“اور خون بہا دینے سے ہم انکار بھی نہیں کر سکتے ۔۔۔یہ فضول رسم و رواج آپ لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔آخر ختم کیوں نہیں کردیتے آپ لوگ اسے “

وہ تنفر زدہ آواز میں دھاڑا ۔۔۔

“شہرام !!!

جلال الدین کی غضب ناک آواز سن کر وہ دھیما پڑا ۔۔۔

“یہ رسم و رواج ہمارے باپ دادا سے ہمیں وارثت میں ملی ہیں اور انہیں ابھی تک ہم نے قائم رکھا ہے ۔تمہیں عہدہ اسی لیے دیاہے کہ تم ان کی حفاظت کرو نا کہ اسے سرے سے ہی ختم کردو ۔۔۔اگر تم نے کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو یہ عہدہ واپس لینے میں مجھے ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا ۔مت بھولو کہ ابھی زندہ ہیں ہم “

وہ خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے بارعب آواز میں بولے ۔۔۔

شہرام گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں ایک صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔اور سب ملکر صبح ہونے والی پنچائیت کے بارے میں سوچنے لگے ۔۔۔۔