Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
⭐ You already rated this novel. Thank you!
Deewana Kar Gaya Roop Sunehra
By Hina Asad
یہ حویلی کے ہال کامنظر تھا،،یہاں کی ہر چیز یہاں کے مکینوں کے بہترین ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ نہایت قیمتی فانوس اس ہال کے وسط میں لگا جگمگ کرتا اسکی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔یہاں موجود لکڑی سے بنے شاہانہ طرز کے خوبصورت اور نفیس صوفے ، اور سجاوٹ کی ہر چیز اپنی مثال آپ تھی۔ یقینا اس کئی کنال پر بنی یہ حویلی جتنی دلکش اندر سے تھی باہر سے بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ حویلی کے مکین اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ۔ "یہ شہرام کدھر رہ گیا ؟؟؟ سردار جلال الدین نے نے اپنی بارعب آواز میں پوچھا ۔بے شک وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے مگر آواز میں ابھی بھی وہی آن بان تھی ۔سردار جلال الدین صاحب جدی پُشتی مُرشد و پِیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی وہ اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھے ہوئے تھے ۔ "ہمیشہ کی طرح سویا ہوگا "۔سبرینہ بیگم نے سادہ انداز میں کہتے ہوئے ہاٹ پاٹ سے پراٹھا نکال کر اپنی پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا ۔ "میں دیکھتی ہوں "دلنشین اپنی جگہ سے اٹھ کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شہرام کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔ سردار حماد اور سردار واجد دونوں کی بیویاں سگی بہنیں تھیں ۔ایک دن وہ دونوں شاپنگ کرنے ایسی نکلیں کہ واپس نا آئیں ۔ایک خطرناک کار ایکسیڈنٹ میں ان دونوں کی جان چلی گئی ۔۔۔۔ تب ان کے بچے کافی چھوٹے تھے ۔۔۔سردار جلال الدین نے اپنے بڑے بیٹے سردار حماد کی دوسری شادی اپنے خاندان کی ایک لڑکی سبرینہ سے کروا دی ۔۔۔۔حماد کے پہلی بیوی سے دو بچے دلنشین اور اذلان تھے ۔جبکہ دوسری بیوی سبرینہ سے ایک بیٹا سردار ارحام تھا ۔ دلنشین سیڑھیوں سے اوپر آئی اوپر والے حصے میں چار کمرے تھے ایک ارحام کا جو فی الحال خالی تھا۔ایک لائیبریری تھی جہاں بے شمار کتابیں تھیں ۔ تیسرا سوہا اور دعا کا اور چوتھا اور آخری کمرہ کارنر والا جو سب سے شاندار تھا شہرام کی طرح ،،،،وہ دروازہ کھول کر اندر آئی ۔ کمرے میں نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔اس نے کمرے میں موجود کھڑکی سے پردے ہٹائے تو سورج کی روشنی چھن چھن آندر آنے لگی ۔۔۔ اس نے بستر پر دیکھا جہاں شہرام محو استراحت تھا ۔منہ پر سورج کی روشنی محسوس کیے اس نے ناگواری سے چہرے پر بازو رکھ کر اس روشنی کو روکا ۔۔۔۔ وہ زیر لب مسکراتی ہوئی بستر کی طرف آئی ۔ "شاہو ُاٹھ جاؤ !!! اس نے آواز دی ۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ "شاہو اٹھ جاؤ ورنہ !!!اس بار دھمکی دینے کے ساتھ دلنشین نے اس پہ سے کمفرٹر کھینچا ۔۔۔ کمفرٹر کھینچ کر وہ پچھتائی ۔۔۔اور سٹپٹا کرفورا رخ موڑ گئی ۔۔۔ شہرام آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ چکا تھا ۔۔۔ "کیا ہوا دل ۔۔۔؟؟؟چہرہ کیوں پھیر لیا ؟؟؟ "میں اٹھ رہا تھا نا اب ناراض تو مت ہو " وہ اس کی خفگی کے خیال سے ڈر کر بولا ۔۔۔ "شاہو میں ناراض نہیں ۔۔۔اور پلیز تم پورے کپڑے پہن کر سویا کرو ۔۔نکلو جلدی بستر سے باہر میں تمہارے کپڑے نکال رہی ہوں ۔۔۔آج جناب کی دستار بندی ہے اور مہاراجا صاحب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔۔۔نظام کیا چلائیں گے "وہ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔ شہرام نے خود کو شرٹ لیس دیکھ کر اس کی احتراز کی وجہ پہچان لی ۔۔۔اپنی انگلیاں بالوں میں پھیر کر وہ بستر سے نکل کر واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ اس نے الماری کا دروازہ بند کیا ۔۔۔اور اس کے کپڑے نکال کر بستر پر رکھتے جیسے ہی مڑی سامنے شہرام کی انلارج تصویر دیکھ کر خود کو سرزنش کرنے لگی ۔۔۔ "دلنشین تو بھی نا .....اب شہرام تیرا پہلے والا بچہ نہیں رہا وہ بڑا ہوچکا ہے " وہ اس کے لیے آج کی مناسبت سے شوز اور شال نکال کر باہر رکھنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ ٹاول سے بال رگڑتا ہوا باہر آیا۔ جب ان دونوں کی والدہ کا ایک حادثے میں انتقال ہوا تھا بے شک دلنشین خود چھوٹی تھی مگر شاہو ، سوہا اور دعا تو اس سے بھی چھوٹے تھے ۔۔۔اس نے اپنا غم بھلا کر انہیں سنبھالا ۔۔۔ اسطرح شہرام اپنی تایا زاد دلنشین کے بہت نزدیک آگیا تھا ۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہمہ وقت اسکی ہر چیز کا خیال رکھتی تھی ۔ دھیرے دھیرے شہرام بھی اس کا عادی ہوچکا تھا ۔ "آج مجھے آپ کے ہاتھ کا بنا ناشتہ چاہیے تبھی میرا دن اچھا جائے گا ۔۔۔ وہ اس کے شانے پر سر ٹکائے لاڈ سے بولا ۔۔۔۔ کہاں سردار شہرام کا چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد اور کہاں دلنشین پانچ فٹ چار انچ کی دبلی پتلی کامنی سی لڑکی ۔۔۔ "اُف میرا کندھا گیا """ وہ دہائی دے کر تھوڑا پیچھے ہوئی ۔۔۔۔ "دل۔۔۔۔وہ پیار سے دلنشین کو " دل " بولتا تھا ۔کہتے ہوئے مصنوعی خفگی سے دیکھنے لگا ۔۔۔ "آپ سب کے لیے اتنا سب بناتی ہیں اپنے لیے بھی کچھ اچھا بنایا کریں جس آپ میں جان آئے ۔۔۔اور قد بھی بڑھے ۔۔۔ وہ اسکے کم قد پر چوٹ کیے مذاق سے ہنس کر بولا ۔ "میری چھوڑو اپنی فکر کرو یہ جو تم دن بدن کھمبے کی طرح لمبے ہوتے جا رہے ہو ۔۔اپنے ساتھ کی کہاں سے ڈھونڈو گے ؟؟؟یہ نا ہو کوئی بونی ہی ملے جو تم میرا مذاق اڑا رہے ہو "وہ بھی اس کا جواب بھرپور انداز میں لوٹا گئی ۔۔۔ شہرام پچیس سال کا تھا ،دلنشین سے دو سال چھوٹا مگر اپنے قد اور ورزشی جسامت کے اعتبار سے اس سے کافی بڑا لگتا تھا ۔ "مجھے لگتا ہے جسطرح آپ میرا خیال رکھتی ہیں ۔میرے لیے لڑکی بھی کوئی اپسرا ہی ڈھونڈیں گی ۔"وہ شرارت سے مسکرا کر بولا ۔ "شاہو میرا بچہ ۔۔۔۔ناشتہ میں نے ہی بنایا ہے اب تم جلدی سے تیار ہو کر نیچے آجاؤ ۔۔۔وہ بات ختم کرتے ہی کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی کہ ۔۔۔شہرام نے اس کی کلائی سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے سینے سے ٹکراتی دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر خود کا توازن قائم کیا ۔۔۔ "یہ کیا حرکت تھی شاہو۔۔ابھی گر جاتی میں ؟؟؟ وہ گھور کر بولی ۔۔۔ "آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کا شاہو آپکو کبھی گرنے دیتا "وہ اس کی سیاہ رات جیسی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے بولا ۔۔۔۔ "نہیں ۔۔۔مجھے پورا یقین ہے میرا بچہ مجھے کبھی گرنے نہیں دیتا "وہ اس کا گال تھپتھپاکر کر بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔ شہرام نے اسے باہر جاتے ہوئے دیکھا تو دل کی عجیب سی کیفیت پر جھنجھلا کر رہ گیا ۔۔۔کیوں اس کے جاتے ہی کمرے کی رونق ختم ہوگئی تھی ؟؟؟وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔ **********
