Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 3
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 3
وہ ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی ۔اپنے بابا سائیں اور معاذ بھائی کے گھر واپس آنے کی راہ تک رہی تھی ۔نجانے آج پنچایت کیا فیصلہ کرنے والی تھی ۔۔۔یہی سوچ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔۔۔۔
وہ اس بات سے انجان تھی کے قسمت اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے ۔وہ دل ہی دل میں اپنے بھائی کی سلامتی کے لیے ڈھیروں ڈھیر دعائیں کر رہی تھیں
لیکن ہوتا وہی ہے جو مقدر میں لکھا جا چکا ہوتا ۔۔۔
پلوشہ بیگم ایک طرف جائے نماز بچھائے نوافل ادا کر رہی تھیں ۔اور اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہی تھیں۔۔۔۔
انہوں نے بھی دل ھی دل میں اس نے کتنی دعائیں کر ڈالی تھیں۔۔۔
جب فجر کو پنچایت کے فیصلے کا پتہ چلا ۔۔۔۔تو اسکے اوسان خطا ہوگئے۔۔۔ اسے یہ علم نہیں تھا کے اسکے جان سے عزیز بھائی کی زندگی تو بچ جائے گی
لیکن اسکی اپنی زندگی ایک کڑے امتحان میں پڑ جائے گی ۔
گھر میں اس وقت موت کا سا سناٹا تھا ۔۔۔۔
کہ گھڑی کی سوئیوں کی ِٹک ٹِک کی آواز بھی صاف طور پر سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی صبح ہی کی تو بات تھی جب سبرینہ بیگم نے سب کو ناشتے پر اپنے بھائی فیروز کے آنے کی اطلاع بہم پہنچائی تھی کہ شام کو سب جلدی حویلی آجائیں کیونکہ وہ اپنے بیٹے صائم کا رشتہ دلنشین کے لیے لا رہے ہیں۔
یہ بات سنتے ہی ناجانے کیوں شہرام نے بہت برا محسوس کیا ۔۔۔دل کی عجیب سی کیفیت پر وہ صبح کا باہر نکلا ہوا تھا ۔۔۔
یونہی ادھر ادھر گھومتا رہا ۔۔۔شام کی تاریکی نے چہار سو اپنے پنکھ پھیلا دئیے وہ اپنے دل کی زیر و زبر حالت پہ تنہا بیٹھا حواس باختہ تھا،وہ پاس پڑے کنکر اٹھا کر ندی میں پھینک رہا تھا ۔۔۔جس سے اس کی لہروں میں چند پل کے لیے ارتعاش پیدا ہوتا پھر گہرا سکوت چھا جاتا۔وہ اس کی دوست تھی اس سے بڑی بھی تھی تو پھر اس سے محبت کیسے ہو سکتی تھی ۔پھر اس نے خود ہی اپنے سوال کا جواب تلاشا۔۔۔محبت نا عمر کا فرق دیکھتی ہے نا ذات پات وہ تو روح سے ہوتی ہے ۔اور بس ہو جاتی ہے ،اس نے اپنے دل کو اچھے سے ٹٹولا کہیں یہ وقتی کشش یا حسد تو نہیں ۔۔۔مگر اس سوال پر اس کے دل نے اسے اچھے سے ڈپٹ دیا ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔یہ محبت تو بچپن سے اس کے دل پیدا ہوچکی ہے تب سے جس دن سے اس کی دل نے اسے اپنے پیار کا احساس دلایا اس کا خیال رکھا ۔۔۔تب سے اس کا دل خواہش کرنے لگا تھا کہ اپنی اس خیال رکھنے والی دل کو وہ ہمیشہ ایسے ہی اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہے اپنا خیال رکھتے ہوئے ۔اسے اپنی قید میں رکھ کر اس پر ہمیشہ اپنا حق جمانا چاہتا ہے ۔اس پر صرف شہرام کا حق ہے ۔۔۔اس کے دل نے گواہی دی ۔۔۔دل میری ہے اور ہمیشہ میری ہی رہے گی۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ دلنشین کو خود سے کہیں دور نہیں جانے دے گا ۔ان کے درمیان اگر کوئی بھی آیا تو شہرام اپنے راستے کے درمیان میں آنے والی ہر روکاوٹ کو دور کردے گا ۔
چاہے وہ روکاوٹ کوئی بھی ہو ۔وہ اٹل فیصلہ لیتے ہوئے وہاں سے اٹھا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا جو کچھ فاصلے پر موجود تھی ۔دل کی دنیا بدلی تو ساری دنیا حسین لگنے لگی تھی ۔آج وہ اپنے دل کی آواز سن کر سرشار تھا۔۔۔
جونہی اس نے حویلی میں قدم رکھا سب لوگ اسے سامنے بیٹھے ہوئے دکھائی دئیے ۔۔۔۔
“تو پھر سردار صاب ہم پھر صائم اور دلنشین بیٹی کا رشتہ پکا سمجھیں “فیروز کی آواز سن کر شہرام کا تن من جھلسنے لگا ۔۔۔۔
دلنشین جو انہیں چائے پیش کر رہی تھی ۔اس کے لبوں پہ دھیمی سی مسکراہٹ شہرام کے دل پر جلتی ہوئی چنگاری کا کام کرگئی ۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا دلنشین کے پیچھے پیچھے کچن میں آیا ۔۔۔جہاں وہ شیلف پر چیزیں ترتیب سے واپس رکھنے لگی تھی ۔۔۔۔
“آپ خوش ہیں اس شادی پر ؟؟؟وہ شکستہ آواز میں بولا ۔۔
دلنشین نے حیرت سے اسکی طرف مڑ کر دیکھا۔
“ظاہر سی بات ہے۔خوش ہوں یہ فیصلہ۔بابا سائیں اماں سائیں اور دادا سائیں نے لیا ہے اور ان کا ہر فیصلہ مجھے دل و جان سے قبول ہے ۔
“آپ کو صائم سے محبت ہے “وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا۔
“یہ کیسا سوال ہے شاہو ؟؟؟ایک مشرقی لڑکی کو شادی کے بعد اسکے شوہر سے محبت ہو ہی جاتی ہے ۔مجھے بھی ہو جائے گی “
“دل کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ہمیشہ اسی گھر میں رہیں میرے سامنے ؟؟؟آپ اس رشتے سے انکار کردیں ….پلیز ۔۔۔۔وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولا ۔
“کیسی باتیں کر رہے ہو شاہو باہر سب رشتہ طے کر چکے ہیں۔اور میں بڑوں کی بات سے منحرف کیسے ہو سکتی ہوں ۔ویسے بھی ایک نا ایک دن تو مجھے اس گھر سے رخصت ہونا ہی تھا ۔میں شادی کے بعد ملنے آتی رہوں گی نا “وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی ۔
“میں نے کہہ دیا نا کہ آپ یہ شادی نہیں کریں گی تو بس نہیں کریں گی ۔۔۔۔
وہ ضدی انداز میں بولا ۔
“یہ کیا بچپنا ہے شاہو ؟؟؟
“میں کسی صورت اس شادی سے انکار نہیں کروں گی “
“شادی ۔۔۔شادی ۔۔۔شادی ۔۔۔۔
شادی نا ہوگئی وبال جان ہوگئی “
وہ بپھرے ہوئے شیر کی مانند دھاڑا ۔۔۔۔
شادی کا اتنا ہی شوق ہے تو میں کروں گا آپ سے شادی ۔۔۔بھول جائیں اس صائم کو ۔۔۔
“دل آپ میرے ساتھ کیوں ایسا کر رہی ہیں ۔پہلے مجھے اپنے پیار کا عادی بناڈالا اور اب مجھے چھوڑ کر جانے کی بات کرتی ہیں۔میں مر جاؤں گا آپکے بغیر ۔۔۔نہیں جی سکتا ایک پل بھی آپکے بنا “وہ آتش فشاں لاوے کی مانند پھٹ پڑا اور راز دل عیاں کر گیا ۔۔۔
“شاہو ۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔
“تم کچھ زیادہ ٹچی ہو رہے ہو مجھے لے کر اسی لیے ایسی بیوقوفانہ باتیں کر رہے ہو ۔۔۔۔
“میں ۔۔۔۔میں تمہاری بڑی بہن تمہاری دوست ہوں سمجھنے کی کوشش کرو “وہ پیار سے پچکارتے ہوئے بولی۔
“نہیں ہیں آپ میری بہن ۔۔۔سمجھ میں آئی آپکے ۔۔۔
اور نا ہی دوست ۔۔۔۔
“آپ سمجھتی کیوں نہیں محبت کرتا ہوں آپ سے بے انتہا محبت ۔۔۔۔۔م۔۔۔۔میں بہت خوش رکھوں گا آپ کو ۔۔۔اس دنیا میں مجھے آپ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے وہ دل کو بازوؤں سے جھنجھوڑ کر بولا ۔۔۔۔
دلنشین اس کی آنکھوں میں چھائی وحشت اور دیوانگی کو سراسیماں نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔یکدم خوف کی لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔۔۔
“چھوڑو مجھے “دلنشین کا ہاتھ اٹھا اور شہرام کے گال پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔۔
وہ اپنے سنسناتے ہوئے گال پر ہاتھ رکھے بے یقین نظروں سے دلنشین کو درزیدہ نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو ہمیشہ اس سے نرمی سے پیش آتی اس سے ہمہ وقت پیار جتلاتی تھی آج اس نے پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔۔۔
دلنشین کو اس کی آنکھوں میں شرم یا اپنے کیے کا پچھتاوا دکھائی نا دیا ۔۔۔
بلکہ کچھ کر دینے کا جنون دکھائی دیا ۔۔۔۔وہ خون آشام نظریں اسی پر جمائے ہوئے تھا ۔۔۔۔
“تمہیں ہمیشہ میں نے اذلان کی طرح ایک چھوٹے بھائی ایک بچے کی طرح ٹریٹ کیا ۔
تمہارا خیال رکھا ۔اور تم نے میرے پیار کا اتنا غلط مطلب نکالا ۔۔۔۔شرمندگی ہورہی ہے مجھے یہ سب سوچتے ہوئے بھی کہ تمہاری سوچ اتنی غلیظ ترین ہے۔
“آج تم نے مجھے حقیقت کا وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ۔۔۔سچ کہا تم نے ہم حقیقی بہن بھائی نہیں ۔سچ کہا تم نے ہم دوست بھی نہیں ۔
ایک نا محرم رشتے کو فوقیت دی ۔۔۔صرف تمہیں بچہ سمجھ کر ۔۔۔تمہاری نظروں میں مجھے ہمیشہ معصومیت اور پاکیزگی دکھائی دی ۔۔۔۔
مگر آج تمہاری نظروں نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔میں کتنی غلط تھی ۔۔۔
“دل پلیز ایسا مت کہیں ۔۔۔۔میں کیا کروں میرا خود پر بس نہیں ۔۔۔اس میں میرا کیا قصور ۔۔۔محبت ہوگئی مجھے آپ سے ۔۔۔۔وہ بےبسی سے بولا ۔۔۔
“مجھے اپنے آپ سے دور کر کہ مجھے محبت کرنے کی سزا تو مت دیں ۔۔۔۔وہ اس کے پاس ہوا ۔۔۔
دلنشین الٹے قدم لینے ہوئے پیچھے ہوئی ۔۔۔
“اپنی یہ حوس زدہ نظروں ہٹاؤ مجھ سے شاہو ورنہ میں کچھ کر گزروں گی “وہ درشت آواز میں بولی۔
“آپ میری محبت کی اس طرح توہین نہیں کرسکتی “
“ٹھیک ہے آپ نے بڑوں کے فیصلے پر سر جھکایا ہے نا ۔۔۔
اب بھی آپ وہی کیجیئے گا۔۔۔مکرئیے گا مت ۔۔۔۔اپنی بات سے “
وہ انگلی اٹھا کر بولا ۔۔۔
“بڑوں کا فیصلہ کیسے اپنے حق میں کروانا ہے یہ مجھے اچھی طرح آتا ہے ۔۔۔
وہ وارننگ دینے کے انداز میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
آج وہ گھڑی بھی آن پہنچی تھی جب فجر اور سردار اذلان کا نکاح تھا ۔۔۔۔
سردار جعفری کے گاؤں میں ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔۔
رات کے ساۓ گہرے ہوتے جا رہے تھے سیاہی ہر طرف پھیل رہی تھی اس گاؤں کی ہر گلی سنسان تاریک اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی
اکا دکا گھروں کے آگے ٹیوب لائٹس جلی ہوئی تھیں آوارہ کتے بھونک رہے تھے جن کی وجہ سے وحشت سی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔فجر اپنے تعلیم مکمل کرنے کےخوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھ اور پھر اپنے تاریک مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہوچکی تھی ۔۔۔۔یہ سوا ماہ اس نے جس اذیت میں کاٹا تھا یہ اس کا دل ہی جانتا تھا ۔۔۔۔وہ اپنی ماں کی آغوش میں سسک رہی تھی ۔۔۔آج اس کی زندگی بدلنے والی تھی ۔۔۔اس نے کیا سوچا تھا اور اسکے ساتھ کیا ہونے جا رہا تھا۔۔۔۔
معاذ نے سردار جلال الدین کے فیصلے کے خلاف جانے کی اپنے بابا سائیں سردار جعفری کو کہا مگر سردار جعفری جانتے تھے کہ سردار جلال الدین کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتے اور اگر انہوں نے ایسا کچھ کرنے کا سوچا بھی تو اس کا انجام بھی ان کے پورے خاندان کو بھگتنا پڑے گا۔
انہوں نے دور اندیشی اور سے کام لیا ۔۔۔آخر کو فجر انکی بھی تو جان کا ٹکرا تھا ۔۔۔اس فیصلے سے ان کا بھی دل دُکھا تھا ۔۔وہ بھی سردار کے ساتھ ساتھ ایک نرم دل باپ تھے ۔مگر پنچائیت کے فیصلے کے آگے بے بس تھے۔
دروازے پر کھٹکھٹاہٹ کی آواز سنائی دی تھی فجرنے اپنے والدین اور بھائی کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔
“بابا سائیں۔۔۔بھیا وہ لوگ مجھے لینے آگئے ۔۔۔۔۔مجھے نہیں جانا کہیں بھی ۔۔۔مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے “وہ کپکپاتی آواز سے فریاد کرنے لگی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو زارو قطار بہہ رہے تھے
پلوشہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اسکی پیشانی پر آخری بوسہ دیا ۔
“فجر مجھے معاف کر دینا بابا سائیں کی قسم کے آگے میں ہار گیا ۔۔۔تمہارے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا پایا ۔۔۔میں قصور وار ہوں اس سب کا اور بھگتان تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔۔۔۔معاذ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولا
“نہیں بھائی ایسا مت کریں “فجر نے اس کے جُڑے ہوئے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔
“میں نے کہا تھا نا کہ آپکی خاطر میں اپنی جان بھی دے دوں گی ۔تو شاید آپ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کا وقت آگیا ہے ۔
معاذ نے فجر کی بات پر تڑپ کر اسے دیکھا۔
دروازہ پھر سے زور سے کھٹکھٹایا گیا ۔۔۔تو سردار جعفری نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔
گھر کے باہر حویلی کی جیپ کھڑی تھی ۔۔۔۔
کچھ آدمی اور عورتیں کھڑی تھیں ۔۔۔
“سردار جلال الدین سائیں کا حکم ہے کہ بی بی جی کواپنے ساتھ لے آئیں “ایک عورت نے کرخت آواز میں کہا ۔۔۔
“میری جان تمہیں اللّٰہ کے امان میں دیا “
سردار جعفری نے اس کے۔ سر پر ہاتھ رکھ کر نم آواز میں کہا ۔۔۔
فجر اپنے سر پر چادر اوڑھے ان عورتوں کے ساتھ باہر نکل گئی اور جاتے جاتے آخری نگاہ اپنی فیملی پر ڈالنا نا بھولی جو گھر کی دہلیز پر شکستہ حالت لیے کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔
“فجر جعفری ولد جعفری آپکو سردار اذلان ولد سردار حماد کے نکاح میں دیا
جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟
قاضی صاحب پوچھ رہے تھے لیکن فجر بت بنی بیٹھی تھی
وہ اس بات سے قطعی نا بلد نہ تھی کہ ایک خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کو کن کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
یہ نکاح کرنا اسکے لئے زہر پینے کے مترادف تھا
اسنے اپنی بھاری پلکوں کی جھالر اٹھا کر ایک نظر قاضی صاحب کو دیکھا تھا
کیانہیں تھا اس کی نظروں میں التجا بے بسی کا ہر رنگ قاضی صاحب بھی نظریں چرا گئے تھے ۔
بتاؤ ۔۔۔۔ بیٹی ۔۔۔۔
قاضی صاحب نے پوچھا
“ق۔۔۔ قبول ہے . . .
اسکی آنکھوں کے سامنے اسکے بھائی اور بابا سائیں کا چہرہ لہرا یا تھا ۔۔۔ان کی سلامتی کے لیے اسے اس زہر کا کڑوا تریاق پینا ہی تھا ۔۔۔۔
اس نے اپنی کپکپاتی ہوئی آواز میں نکاح قبول کیا ۔۔۔مگر اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اپنی زندگی کے نئے مالک کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔
اور پھر دوسری طرف سے بھی اسی طرح ایجاب و قبول کے مراحل سے گزر کر وہ فجر جعفری سے فجر اذلان گئی ۔۔۔۔
آج ایک بار پھر ایک بہن قربان ہوگئی تھی ۔
“جاؤ یہ پہن کر آؤ “ایک عورت نے اسے عروسی لباس تھمایا تو اس نے پہلے تو حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھا مگر مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق پر عمل پیرا کرتے ہوئے لباس زیب تن کیا ۔۔۔
تو کچھ عورتیں اسے دلہن کا روپ دینے لگی ۔۔۔۔
وہ نڈھال سا وجود لیے خود کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب نظر اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔۔
پل بھر کو ٹھٹھک گئی۔۔۔
وہ خود کو پہچان ہی نا پائی ۔۔۔
“کیا یہ میں ہوں “وہ ہلکی سی آواز میں منمنائی ۔۔۔آواز اتنی آہستہ تھی کہ اسکے اپنے کانوں تک بھی بمشکل سنائی دی۔۔۔۔
اس زرق برق لباس نے اسکی جھب ہی بدل کر رکھ دی تھی ۔۔۔۔
وہ عورتیں اسے اپنے ساتھ لیے کسی کمرے کے طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔اور وہ اپنا مردہ وجود لیے ان کے ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
“چلو ادھر بیٹھو “انہوں نے اس کا لہنگا بستر پر پھیلائے اسے بیڈ پر بٹھا دیا ۔۔۔۔
جانے کتنی ہی دیر یونہی گزر گئی ۔۔۔۔
بیڈ پر بیٹھی ہوئی وہ کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ جو بڑی ہی خوبصوتی سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا دیواروں پر آف وایئٹ پینٹ کے ساتھ بلیو ٹچ دیا گیا تھا ایک اور دیوار کی جگہ شیشے کا سلائڈنگ ڈور تھا جو بالکونی میں کھلتا تھا اس پر ڈارک بلیو اور آف وائٹ رنگ کے ڈیزائنر پردے لگے تھے سارا سامان حویلی کے باقی سامان کی طرح پرانی طرز کی بجائے جدید طرز کا قیمتی اور خوبصورت تھا ہر چیز سے سامنے والے کی پسند اور حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔ کنگ سائز بیڈ پر وہ پچھلے ایک گھنٹہ سے بیٹھی تھی دلہن کے روپ میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی رونے کی وجہ سے ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
خون بہا میں آنے والی لڑکی کے ساتھ ایسا نرم سلوک اور اسے اتنے شاہانہ کمرے میں عزت سےبیٹھانے کے پیچھے ان کا کار فرما مقاصد سے الجھتی ہوئی وہ سوچوں کے تانے بانے بننے میں مصروف تھی ۔۔۔۔ چہرے پر الجھنوں کے آثار نمایاں تھے۔۔۔شام سے وہ اپنے نازک وجود پر اتنے بھاری کپڑے اور زیور کا بوجھ برداشت کررہی تھی۔بھوک تو جیسے مر گئی تھی ۔۔۔
اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کرسیدھی ہوگی گھونگٹ کو اور زیادہ لمبا کھینچ لیا دایاں ہاتھ دل پر رکھ کر بڑھتی اور گھٹتی ہوئی دھڑکنوں کو قابو کرنے کی جدو جہد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
وہ دروازہ بند کرکے بیڈ کے قریب آیا ۔۔۔
“تم میرے بیڈ پر کیا کر رہی ہو ؟؟؟
ایک گرجدار آواز سنائی دی تو فجر نے گھونگھٹ پلٹ دیا ۔۔۔
وہ کوئی ان پڑھ لڑکی نہیں تھی جو یوں کسی سے دب جاتی خواہ سامنے اس کا نیا مجازی خدا ہی کیوں نا ہو ۔
وہ آنکھیں کھولے اسے تند نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
“میری گڑیا کو دیکھا ہے ؟؟؟
وہ زمین پر گری ہوئی ایک گڑیا کی طرف اشارہ کر کہ بولا ۔۔۔
فجر نے اسکے اشارے کے تعاقب میں دیکھا ۔۔۔
“جب میری گڑیا میری بات نہیں مانتی میں ایسے ہی اس کا بازو توڑ دیتا یا ٹانگ ۔۔۔
وہ گھورتے ہوئے سخت گیر لجہے میں بولا ۔۔۔۔
“اگر تم نے میری بات نا مانی تو میں تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کروں گا “وہ انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے انداز میں بولا ۔
اس کی بات پر فجر کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیلیں۔۔۔۔۔
“اماں سائیں نے کہا ہے ۔اب سے تم میری نئی گڑیا ہو ۔وہ پرانی والی تو خراب ہوگئی نا ۔۔۔۔۔۔اب میں تم سے کھیلوں گا “
وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ اس کے پاس آتا جا رہا تھا ۔۔۔فجر اپنا ڈھیلا وجود گھسٹتی ہوئی بیڈ کے کراؤن سے جا لگی ۔۔۔
اس کے ہلنے سے اس کی چوڑیوں اور پائل کی جھنکار سے پورا کمرہ جھنجھجنا اٹھا۔۔۔۔
وہ پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بستر پر بیٹھا ۔۔۔اور فجر کے پاؤں پر بندھی گھنھرووں والی پائل کو اپنی انگلی سے کھینچا ۔۔۔
جو ایک جھٹکے سے کھل کر اس کے ہاتھ میں آگئی ۔۔۔۔
“واؤ یہ کتنی پیاری ہے ۔۔۔اور اس کی آواز بھی “
وہ اسے اپنے کان کے قریب کیے زور زور سے ہلانے لگا ۔۔۔
فجر نے اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبایا۔۔۔
“کیا اس لیے مجھے ؟؟؟؟
وہ اپنی قسمت پر ماتم کناں ہوئی ۔۔۔اور دھندھلائی ہوئی آنکھوں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو سفید کھدر کی شلوار قمیض پر ساہ واسکٹ پہنے اپنی سحر انگیز شخصیت سے کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنانے کا ہنر رکھتا تھا ۔۔۔۔مگر دماغ سے ۔۔۔۔۔
یہ سوچتے ہی اسے اپنے اعصاب شل ہوتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔
“گڑیا !!!اس نے فجر کو کھوئے ہوئے دیکھا تو مخاطب کیا۔۔۔
فجر نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور چونک کر اسے دیکھا ۔
“آؤ تمہیں چینج کرواؤں “
وہ سادہ سے انداز میں بولا ۔
مگر فجر کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوئے ۔۔۔
“میں روز اپنی گڑیا کو اپنے پسند کو ڈریس پہناتا ہوں ۔
“امم۔۔ ۔۔۔۔تم کونسا پہنو گی ۔۔۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے اٹھ کر کبرڈ کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
فجر اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی ۔۔۔۔
“فجر تم کم ہمت نہیں ایک ویل ایجوکیٹڈ لڑکی ہو ۔۔۔یوں ہمت نہیں ہار سکتی ۔۔۔مقابلہ کرو ان حالات کا “اس نے خود میں ہمت مجتمع کی اور بستر سے اٹھی ۔۔۔۔۔
“کہاں جا رہی ہو ؟؟؟
فجر کو کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی ۔۔۔
پیچھے سے اپنے مجازی خدا کی بھاری آواز سن کر اسکے بڑھتے ہوئے قدم وہیں رکے ۔۔۔
وہ ایک تلخ نگاہ اس پر ڈال کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔۔اور باہر سے دروازہ بند کردیا ۔۔۔۔
پیچھے سے اذالان نے دروازہ پیٹ ڈالا ۔۔
سب سونے کے لیے اپنے اپنے کمروں کی طرف جانے ہی والے تھے کہ ۔۔۔۔۔
فجر کو سیڑھیوں سے نیچے آتے دیکھ وہیں رک گئے ۔۔۔۔
دلنشین فورا اذلان کے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔
اور دروازہ کھول کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی جو اپنے جلالی روپ میں آچکا تھا ۔۔۔۔سبرینہ بھی بھاگتی ہوئی اذلان کے کمرے میں گئیں۔ اور اسے رات کی میڈیسن نکال کردیں تو وہ کچھ دیر بعد پرسکون ہوا۔۔۔
دلنشین وہیں اس کے پاس بیٹھ گئی اور سبرینہ روم سے باہر نکل آئیں ۔۔۔فجر کو دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔
“آپ لوگ مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی بھی مت کرنا ۔۔۔۔آپ نے دھوکے سے ایک پاگل انسان کے ساتھ میرا نکاح کروا دیا ۔۔۔۔
میں ایک لمحہ بھی یہاں نہیں رکوں گی ۔۔۔سب کو چیخ چیخ کر بتاؤں گی آپ کی کرنی “وہ اونچی آواز میں چِلا کر بولی ۔
“اے لڑکی آواز نیچی !!!!
سردار جلال الدین کی بارعب گرجدار آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔
فجر نے مڑ کر انہیں دیکھا جن کے ضعیف چہرے کے اعصاب تنے ہوئے تھے سفید کلف لگی شلوار قمیض پہنے کندھوں پر مہرون رنگ کی شال ڈالے بھوری آنکھیں جن میں ایک سرد تاثر دکھائی دیا ۔۔ گھنی مونچھیں اور داڑھی جو انکی شخصیت کو مزید رعب دار بنارہی تھیں۔
وہ اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ وہاں موجود تھے ۔فجر کی بات سن کر انکی
کی تنی ہوئی رگیں مزید تن گئی تھیں۔۔۔۔
کچھ لمحے وہاں سکوت چھاگیا تھا اور سردار جلال الدین کی سرد آواز نے اس سکوت کو توڑا تھا
“تمہیں عزت دی مان دیا جو ایک ونی کو نہیں دیا جاتا اور تم ہوکہ ہمارے ہی سر پر چڑھ کر ناچنے لگی ۔۔۔۔
“مت بھولو اپنی اوقات۔۔۔۔تم خون بہا میں آئی ہوئی ایک ونی ہو ۔۔اور ونی کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا وہ تم ہمیں کرنے پر مجبور نا ہی کرو تو وہ تمہارے لیے ہی اچھا ہے “
وہ کرخت آواز میں بولے ۔۔۔
“ہمیں ہمارا پوتا عزیز ہے ۔تم اس کی خدمت کرو بدلے میں ہم سے اپنی عزت کی امید رکھنا ۔۔۔
اگر تم نے ہمارے پوتے کے کسی بھی کام میں کوئی کوتاہی کی تو سزا کے لیے تیار رہنا ۔۔۔۔
وہ دھمکی آمیز انداز میں درشت آواز میں بولے ۔۔۔
فجر ان کے انداز و اطوار پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی ۔۔۔
اسکے والدین نے اسے بڑوں کی عزت کرنا سکھایا تھا ۔۔۔اسی وجہ سے اس نے سردار جلال الدین کے سامنے مزید زبان چلانا مناسب نہیں سمجھا۔
“ہاں اور تم لوگ بھی کان کھول کر سن لو ۔۔۔آج سے سردار اذلان کے سب کام اس کی بیوی کرے گی ۔۔۔کوئی بھی اسکے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائے گا ۔۔۔آئی بات سمجھ میں ؟؟؟انہوں وہاں موجود ملازمین سے کہا ۔۔۔
انہوں نے مؤدب انداز میں سر ہلایا۔۔۔۔
سردار حماد ،سردار واجد بھی چپ چاپ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
“جاؤ اب۔۔۔۔ اپنے اپنے کمروں میں “انہوں نے کہا تو سب اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دئیے ۔۔۔۔
“دادا سائیں۔!! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے “,شہرام نے کہا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم آؤ میرے ساتھ کمرے میں “وہ گھمبیر آواز میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل دئیے اور شہرام ان کی تقلید میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔۔۔۔
فجر وہیں سیڑھیوں میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔وہاں بیٹھے بیٹھے جانے کتنی دیر گزر گئی تھی ۔۔۔وہ اپنی قسمت پر ماتم کرنے کے سوا کچھ نا کر سکی ۔۔۔اور اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر بہنے کے لیے چھوڑ دیا ۔۔۔۔
فجر جب رات گئے اپنے کمرے میں واپس آئی تو دیکھا اذلان بستر پر لیٹ کر سو چکا تھا ۔۔۔
اس کے گھر سے لایا سوٹ کیس شاید کوئی ملازم اس کمرے میں رکھ کر جا چکا تھا ۔۔۔اس نے سوٹ کیس کھول کر اس میں سے قدرے ایک سادہ سا سوٹ نکال لیا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی تاکہ اس زرق برق سے نجات حاصل کرسکے ۔۔۔۔
