Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307

Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Last Episode Last Part

953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Last Episode Last Part

دعا نے معاذ کے بازو پر ہاتھ رکھا…

معاذ نے اپنے قریب آتے ہوئے شہرام کی جانب دیکھا… اور آنکھوں پر ایک سرد پن سا اتر ایا…

“ہیلو !اس نے دوستانہ انداز میں ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔معاذ نے حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔پھر دعا کو ۔۔۔

“اسلام و علیکم بھائی !دعا نے کہا ۔۔

وعلیکم اسلام شہرام نے دعا کو اپنے ساتھ لگا کر اسکے سر پہ بوسہ دیا ۔۔۔

“کیسی ہو ؟

میں بالکل ٹھیک “اس نے جواب خوش دلی سے کہا ۔

معاذ ابھی تک خاموش کھڑا تھا ۔۔۔

“مجھے بہت افسوس ہے تمہارے والد کا مگر قسمت کو شاید یہی منظور تھا ۔میں تمہیں صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارے بابا سائیں کو میرے والد نے نہیں ۔۔۔فیروز نے مارا تھا ۔یہ جو بھی ہوا سب انہیں کا کیا دھرا تھا ۔تمہیں یہ سب بتانے کا یہی مقصد تھا کہ تم ہماری اور دعا کی طرف سے دل صاف کرلو ۔”شہرام نے دل کی بات زبان پہ لائی ۔۔۔

“میں چاہتا ہوں کہ ہم سب دلی کدورتیں بھلا کر دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ۔۔۔شہرام نے ہاتھ آگے کیا ۔۔۔

معاذ ابھی بھی خاموش تھا پھر چند لمحوں میں فیصلہ لیتے ہوئے اپنی جینز کی پاکٹ میں سے ہاتھ نکال کر شہرام کے ہاتھ کو تھام کر زور سے ہلایا ۔۔۔

سب مسکرانے لگے ۔۔۔

“مگر میں۔۔۔۔ دعا کو واپس نہیں کروں گا “اس نے دعا کو اپنی پشت کے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔جیسے وہ اسے سب سے چھپانا چاہتا ہو کسی قیمتی متاع کی طرح۔

“نہیں اب یہ تمہاری بیوی ہے۔ہم کیوں لے گے اسے واپس ؟شہرام نے مسکرا کر کہا۔۔۔

دعا کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ۔۔۔

“اسلام و علیکم بھیا کیسے ہیں آپ ؟؟؟فجر معاذ کے شانے سے لگ کر پوچھنے لگی ۔۔۔

“میں بھی ٹھیک ہوں “

“اذلان نے آگے ہاتھ بڑھایا ۔۔تو ان دونوں میں بھی رسمی سلام دعا ہوئی۔۔۔

“یہ میرا چھوٹا بھائی ارحام “اذلان نے پیچھے کھڑے ہوئے ارحام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاذ کو بتایا ۔۔

معاذ نے ساتھ کھڑی دعا کو دیکھا ۔۔۔اس کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا ۔۔۔۔

ارحام نام کو معاذ کیسے بھول سکتا تھا ۔یہی نام لے کر اسکی بیوی نے پہلی دفعہ اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔

پھر ارحام کو دیکھا ۔۔۔جس کے چہرے پہ ڈھونڈھنے سے بھی کسی قسم کا کوئی شائبہ نہ ملا ۔۔۔

معاذ نے مسکرا کر دعا کی طرف ابرو اچکا کر دیکھا ۔۔۔

اس کے دل میں دعا کو لے کر کوئی کثافت کوئی شک و شبہ موجود نہیں تھا سب کثافت دعا کی بے پناہ محبت سے دُھل چکی تھی ۔

دعا ،،معاذ کے چہرے کے نارمل تاثر دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئی اور بھی دل ہی دل میں خوش ہوگئی ۔۔۔اس کے مجازی خدا نے اس کا مان رکھا اس پہ اعتبار کیا کہ وہ پچھلی باتوں کو بھلا کر اسکے ساتھ آگے بڑھ چکی تھی ۔۔۔اس نے بھی مسکرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

وہ میں میں اپ سے ایک بات کہنی ہے” سوہا نے کچھ جھجھکتے ہوئے ارحام سے کہا

جبکہ معاذ اب ان کیطرف سے پیٹھ کر چکا تھا… اور اذلان سے باتوں میں مصروف تھا ۔

حکم کرو “اسنے آنکھوں پر.. گاگلز لگا کر اسکو دیکھا..

وہ میں دعا سے… کچھ بات کر لوں؟”وہ آنکھیں جھکائے پوچھنے لگی..

بالکل اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے ؟؟؟وہ بہن ہے آپکی اور بھلا میں کیوں روکوں گا آپ کو کسی سے بات کرنے کے لیے “وہ نرم لہجے میں کہتے ہوئے شہرام کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

“کیا میں تم سے بات کر سکتی ہوں” سوہا نے دعا کے پاس آکر اس سے کہا… دعا جو معاذ کے پیار بھرے انداز کے بارے میں سوچ رہی تھی چونک کر سوہا کو دیکھنے لگی ۔۔۔

معاذ بھی اسی کیطرف دیکھ رہا تھا.. دعا کنفیوز لگ رہی تھی…

“مجھے معاف کردو ۔مگر بابا سائیں کہ کہنے پہ میں نے ارحام سے نکاح کرلیا ” سوہا نے دعا کا ہاتھ دبا کر معزرت کی جبکہ دعا نے اسکیطرف دیکھا..

“سوہا تمہیں معزرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں معاذ کے ساتھ ۔۔۔

سوہا نے جھکی ہوئی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔

“میں پچھلی باتیں بھلا چکی ہوں ۔تم بھی بھلا کر آگے بڑھ جاؤ ۔۔۔مجھے پتہ چل گیا ہے کہ کبھی ہم اس چیز کی تمنا کر بیٹھتے ہیں ۔جو پہلے سے کسی اور کے مقدر میں لکھی جا چکی ہوتی ہے۔پھر چاہے ہم لاکھ دعائیں مانگ لیں وہ ہمیں نہیں ملتی۔

لیکن خدا کے ہر کام میں مصلحت پنہاں ہے۔اس نے ہمارے لیے بہترین کا انتخاب کیا ہوتا ہے۔جسے ہم پہلے تو نہیں پہچان پاتے مگر صحیح وقت آنے پر جان لیتے ہیں۔

مجھے بھی پتہ چل چکا ہے۔معاذ میرے لیے خدا کا بہترین انتخاب اور تحفہ ہیں۔جسکا میں تاعمر بھی شکر بجا لاؤں تو کم ہوگا ۔۔۔۔وہ آسودگی سے مسکرا اٹھی ۔۔۔

دونوں بہنیں مسکراتے ہوئے ایک ساتھ سب کے پاس آئیں جہاں سب آپس میں یوں گھل مل گئے تھے جیسے ان میں کبھی کوئی دشمنی رہی نا ہو ۔۔۔۔

سب کپلز نے وہاں کئی یادگار دن ایک ساتھ گزارے اور پھر واپس اپنے گھر لوٹ آئے ۔۔۔۔

“دادا سائیں! آپ کی اجازت درکار ہے “اذلان نے جلال الدین کے پاس بیٹھ کر کہا ۔۔۔

“وہ کس لیے ؟انہوں اچنبھے سے پوچھا۔

“میں نے فجر سے وعدہ لیا تھا کہ میں اسکی ہر خواہش پوری کروں گا ۔اور آج اس نے اپنی خواہش میرے سامنے رکھ دی ۔جو میں کسی بھی صورت پوری کرنا چاہتا ہوں “

جلال الدین خاموشی سے اسکی بات سن رہے تھے ۔

“دادا سائیں اس کی خواہش ہے۔کہ ہم یہاں سے کہیں دور چلے جائیں ۔جہاں یہ جاہلانہ رسم و رواج نا ہوں ۔

“اذلان !!!وہ اپنی طرف سے گرجدار آواز میں بولے ۔۔۔مگر بیماری کی وجہ سے اب ان کی آواز میں پہلے جیسا رعب و دبدبہ مفقود ہوچکا تھا ۔

“یہ ہمارے بڑوں کے بنائے ہوئے رسم و رواج ہیں۔ہمیں وارثت میں ملے ہیں۔اور ہم ان سے منحرف نہیں ہو سکتے “وہ قطعیت سے بولے ۔۔۔

“آپ کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے۔میں آپکی بات سے انکار نہیں کر رہا ۔۔۔نا ہی آپ کو فورس کروں گا کہ آپ انہیں میرے کہنے پہ چھوڑ دیں۔

اگر آپ ان فضول رسموں کو نہیں چھوڑ سکتے تو اپنے پوتے کو بھی بھول جائیں

“یہ تم گھما پھرا کر مجھے دھمکی ہی دے رہے ہو “وہ تلخ انداز میں بولے ۔

“میں پہلے بھی یہاں نہیں رہنا چاہتا تھا ۔۔۔مگر اب جب میں باپ اور فجر ماں بننے والے ہیں۔تو ۔۔۔۔۔

اذلان کی بات سن کر جلال الدین کے چہرے پہ خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔

“ہم دونوں نہیں چاہتے کے ہمارے بچے ان رسموں رواجوں کے بھینٹ چڑھیں۔

وہ اٹل انداز میں کہہ کر اپنی سے اٹھ گیا۔۔۔

“اذلان کل تمہاری دستار بندی ہے۔قاعدے کے لحاظ سے تم ہی اس گوٹھ کے سردار بنو گے .پھر دستار بندی میں جو بھی فیصلہ لو گے مجھے اپنے ساتھ کھڑا پاؤ گے “

اذلان پہلے تو شاک کی کیفیت میں مبتلا ہوا ۔۔۔کچھ دیر بعد حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں سرعت سے اٹھ کر جلال الدین کے سینے سے لگا ۔۔۔

“سچ دادا سائیں ؟؟؟؟

اس نے حیرت انگیز آواز میں پوچھا ۔۔۔

جلال الدین نے ہلکے سے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔

“تو پھر کل اس گوٹھ میں ونی کی رسم کے خاتمے کا اعلان کردیا جائے گا “

وہ پر جوش آواز میں بولا ۔۔۔

شہرام اور دلنشین،ارحام اور سوہا ۔معاذ اور دعا ۔اذلان اور فجر سب اس وقت ایک خوشگوار اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے ۔۔۔۔جبکہ سبرینہ بیگم کو انکی حالت کے زیر اثر جیل سے پاگل خانے منتقل کر دیا گیا تھا۔کل وہ کسی کو اس جگہ بھیجنا چاہ رہی تھی ۔۔۔مگر قسمت نے ایسا پانسہ پلٹ دیا کہ آج وہ خود اسی جگہ پر تھی ۔اسے کہتے ہیں مکافات عمل۔۔۔۔جو اس زندگی میں بویا اسی زندگی میں کاٹ کر جانا پڑے گا ۔۔۔۔

فیروز بھی جیل میں اپنی زندگی کے باقی دن کاٹ رہا تھا۔

****…..*****……******

” ملکہ کو تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ایک سفید پوشاک والی عورت نے سر جھکائے ہوئے مؤدب انداز میں آکر کہا

“ٹھیک ہے۔۔۔۔ لے جاؤ انہیں ساتھ “۔

شماس بن ضماد نے اسے سنجیدہ انداذ میں کہا ۔۔۔. “

” دھیان سے “

“جیسا آپکا حکم میرے آقا “

شماس بن ضماد نے نہایت پیار سے اسے مخاطب کیا.

” اپنے کمرے میں آپ کا انتظار کریں گے ۔ آپ کو تیار ہونے میں وقت لگے گا. اپنا خیال رکھیے گا۔. “

شماس بن ضماد یہ کہہ کر سنہری کہ پیشانی پہ بوسہ دیا ۔پھر اس کا رخ کمرے کی کی طرف تھا۔وہ عورت سنہری کے ساتھ کسی دوسرے کمرے کی طرف بڑھنے لگی

سنہری اس شاندار محل کو غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔اس کا چکمتا فرش ۔۔۔روشن بڑے بڑے فانوس ۔۔۔اس کی عمدہ نقش و نگار سے مزین دیواریں سب بہت خیالی سا لگا تمام لوگوں کے لباس شاہی طرز کے تھے جو پرانے دور میں شہزادیاں پہنا کرتی تھیں یا شہزادے . یا اس نے قصے کہانیوں میں پڑھا تھا بالکل ویسے تھے۔

”ملکہ آپ کیا پہننا پسند کریں گی۔”؟

اس نے سر جھکا کر ہی سوال کیا۔

“کچھ بھی “وہ مختصرا بولی ۔۔۔

اس نے اتنے زیادہ قیمتی لباس پہلی بار دیکھے تھے ۔۔۔

“ملکہ ۔۔۔۔ہم یہ سنہری پوشاک آپ کے لیئے نکال دیں۔”

سنہری نے اس لباس کو دیکھا جو ایسے جگمگا رہی تھی جیسے ستارے ۔۔۔۔وہ جلھمل کرتی پوشاک اسکی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔۔

“نکال دیں۔”وہ آہستگی سے بولی۔

“آئیں غسل کیجیے “وہ اسے ایک خوبصورت نیلے شفاف پانی والے بڑے سے حوض کے پاس لے گئی ۔۔۔

جس میں سے کافوری معطر خوشبوئیں اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔

کچھ عورتیں اس کے جسم پہ پانی ڈال رہی تھیں تو کچھ اس کے بالوں کو خوشبووں سے نہلا رہی تھیں۔

غسل کے بعد وہ سنہری پوشاک میں ملبوس کر قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ایک عورت اس کے بال دلکش ڈیزائن ُچٹیا میں باندھ کر اس میں موتیے کی کلیاں پرو رہی تھی ۔۔۔۔اور کچھ اس کے آرائش و زیبائش میں مگن تھیں ۔۔۔۔

ایک عورت نے ہیروں اور نیلم سے جڑا تاج اسکے سر پہ رکھا ۔۔۔۔سنہری نے جب آئینے میں اپنا آپ نہارا تو اسے اپنی آنکھوں پہ یقین کرنا نا ممکن لگا۔۔۔۔وہ خود کو چھو کر دیکھنے لگی ۔۔۔

“کیا یہ واقعی میں ہوں “؟اس نے خود سے سوال کیا ۔۔۔اس قیمتی پوشاک جو پیچھے سے زمین پہ بکھری ہوئی تھی ۔۔۔

اس میں وہ بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی بالکل کسی ریاست کی شہزادی کی طرح ۔۔۔۔سنہرے رنگ کی یہ پوشاک مخملیں تھی ۔۔سر پر پیارا سا نیٹ ورک کا دوپٹہ خوبصورتی سے رکھا تھا ۔۔ جبکہ ہاتھوں میں اسے خوبصورت سونے اور ہیرے کے کنگن اور یاقوت سے جڑی انگوٹھیاں پہنائی۔۔پاوں میں خوبصورت پائل ۔۔۔

” ملکہ آپ تیار ہیں ۔اب آپ کمرے میں جا سکتی ہیں ۔بادشاہ سلامت آپ کے منتظر ہیں. “

وہ کہتے ہی اس کی پوشاک پیچھے سے سنبھالتے ہوئے اسے چلنے میں مدد دے کر اس کے کمرے تک چھوڑنے آئی ۔۔۔اس کمرے کا دروازہ خوبصورت لکڑی کا بنا ہوا تھا۔

سنہری نے اندر آکر دروازہ بند کیا اور کمرے پہ نگاہ ڈالی ۔۔۔

بہت ہی شاندار کمرہ تھا ۔۔۔

اس کے بیچ و بیچ ایک جہازی سائز کا بیڈ لگا تھا ۔۔۔جس پہ سفید مخملیں چادر بچھی تھی ۔۔۔سارا کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔۔۔مگر کمرے میں تو کہیں پھول دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔۔۔اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی سامنے ہی ایک بڑی سی کرسٹل کی کھڑکی نظر آئی وہ اپنی بڑی سی پوشاک بمشکل سنبھالتے ہوئے سہج سہج کر قدم اٹھاتے ہوئے اسی طرف بڑھی ۔۔۔۔اس نے باہر دیکھا ۔۔۔وہاں کا موسم بہت خوبصورت تھا برفباری اپنی شدت اختیار کر چکی تھی.برفباری عجیب طرح کہ تھی بہت تیز ۔۔۔اس نے کھڑکی کھولی تو ایک تیز ہوا ٹھٹھرا دینے والا جھونکا اندر داخل ہوا ۔۔۔وہ کپکپا کر رہ گئی ۔۔۔۔

“یہ کیا کر رہی ہیں ملکہ ! ؟”

“یہاں کی سردی آپ اکیلے برداشت نہیں کر پائیں گی ۔۔۔

بیمار پڑ جائیں گی ۔۔اگر میں آپکے پاس نا ہوا تو “

شماس نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا۔اس کی سرسراتی ہوئی انگلیاں اپنی کمر سے ہوتے ہوئے پیٹ پہ محسوس کرتے سنہری کا رواں رواں کانپ اٹھا اس سے پہلے کہ وہ چونک کر کچھ بولتی شماس کی خمار زدہ آواز سن کر ساکت رہ گئی۔۔۔۔

کچھ شماس کے قرب سے اٹھتی ہوئی محسور کن مہک اس کے حواس سلب کر رہی تھی ۔۔۔۔

کمرے میں جابجا جلتے دئیے اس ماحول کو فسوں خیزی بخش رہے تھے ۔۔

وہ اس کے شانے پہ تھوڑی رکھے اپنے حصار میں لیے باہر کا منظر دیکھنے لگا

“ہم کون سی جگہ پہ ہیں ؟”

بالآخر اس نے شماس سے سوال پوچھ لیا ۔۔۔

“ہم کوہ قاف میں ہیں۔یہ ہماری ریاست ہیں۔اور ہم یہاں کے بادشاہ ۔۔۔

ان کا محل سب سے اونچے پہاڑ پر واقع تھا ۔۔۔ایک قلعہ نما جہاں سے باقی کا سارا علاقہ دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔

“یہ گھر دیکھ رہی ہیں ؟؟؟

‘”یہ ہماری رعایا کے ہیں”

اس نے نیچے دکھائی دیتے گھروں کی طرف اشارہ کر کہ بتایا۔جہاں تک آپکی نظر جائے گی وہاں تک ہماری ریاست کی حد ہے ۔۔۔اور ۔۔۔۔

کوہ قاف یورپ اور ایشیاء کے درمیان واقع ہے۔اس کی بلند ترین چوٹی کا نام البروس ہے جو سطح سمندر سے 5642 میٹر بلند ہے۔ جغرافیائی طور پر ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ کوہ قاف یورپ میں ہے یا ایشیا میں اس لیے ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں کہ یورپ کا سب سے بلند پہاڑ البروس ہے یا ایلپس جو سطح سمندر سے 4808 میٹر بلند ہے۔ مختلف ممالک میں کوہ قاف کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ کبھی اس پراسرار پہاڑ کا شمار روس میں ہوتا تھا لیکن روس کے حصے بخرے ہونے کے بعداب اس کا زیادہ حصہ چیچنیا میں شامل ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی عظمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی لمبائی گیارہ سو اور چوڑائی ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں پانچ ہزار میٹر سے بلند کئی پہاڑ موجود ہیں۔ جن میں مذکورہ بالا پہاڑ البروس کے علاوہ کازبیک کا پہاڑبھی شامل ہے جس کی بلندی پانچ ہزار تینتیس میٹر ہے۔ یہ دونوں پہاڑ درحقیقت مردہ آتش فشاں ہیں جن پر برف کی چادر بچھی ہوئی ہے۔ ان کی ڈھلوانوں پر کہیں کہیں آج بھی گرم گیسوں کااخراج ہوتا ہے۔ معدنی پانی کے سرچشمے بھی جابجا موجود ہیں۔ ان کی شکلیں مخروطی ہیں۔ یہ تمام آثار ان آتش فشانوں کے گزرے زمانے میں پھٹنے کی یاد دلاتے ہیں۔

یہاں کے بلند پہاڑ آب و ہوا کے اعتدال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے باعث جنوب کی گرم ہوائیں یہاں نہیں پہنچ پاتیں۔

۔ پوری دنیا کے کوہ پیمائوں کے لیے اس پہاڑی سلسلے کے بلند پہاڑوں کو سر کرنا شروع ہی سے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

انسان یہاں تک نہیں پہنچ پاتے کیوں کہ ہم ایسا نہیں چاہتے ۔”

سنہری نے کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا ۔۔۔کھڑکی کے ساتھ لگی ایک لمبی سی بیل جو محل کے بیرونی احاطے پر لپٹی ہوئی تھی اس سے سوندھی سوندھی خوشبو اٹھ رہی تھی ۔۔۔جو سنہری کے سانسوں کو مہکا رہی تھی۔

. یہ بے انتہا خوبصورت تھی اس پہ سفید پھول لگے تھے جو عام پھولوں سے بہت مختلف دکھائی دے رہے تھے ۔

پھول رات کے اس پہر بھی کھلے ہوئے تھے اور بالکل تروتازہ تھے ایسے جیسے ابھی ابھی نئے نکلے ہوں۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو یہ محل زمین سے بہت زیادہ اونچائی پر تھا اس کے سامنے ہی خوبصورت بہتا ہوا دریا تھا. اس نے پہلی بار زندگی میں کوئی منظر دیکھا تھا کیونکہ سامنے دریا کے اردگرد ویسے ہی سفید رنگ کے بے شمار پھولوں والے درخت لگے تھے۔۔۔

شماس بن ضماد کا ہاتھ سنہری کی کمر سے سرکتا ہوا اب پیٹ کی اس جگہ تھا جہاں وہ شعلے کا نشان تھا۔

اس شعلے میں سے شعاعیں پھوٹنے لگیں ۔۔۔اسے ایسا لگا کہ وہ ابھی جل جائے گی ۔۔۔

“آپ یہ پھول دیکھ رہی ہیں ؟اس نے گھمبیر آواز میں سوال کیا۔۔۔

سنہری نے دیکھا پہلے تو کمرے میں کہیں بھی پھول موجود نہیں تھے مگر اچانک کیسے سارا کمرہ انہیں سفید کلیوں سے سج گیا ۔۔۔

وہ حیرت انگیز نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔

وہ مبہم سا مسکرایا۔۔۔

جب ہمارا ملن ہوگا یہ کلیاں کھل کر پھول بن جائیں گی ۔

آپ پوری طرح سے اس ریاست کی ملکہ بن جائیں گی ۔”

کہتے ہوئے وہ اس اپنے بازوؤں میں اٹھائے ہوئے اس شاہانہ طرز کے سجے خوبصورت بیڈ کی طرف بڑھا ۔۔سنہری اس دیو ہیکل کی بانہوں میں بالکل ننھی سی بچی لگ رہی تھی ۔

شماس بن ضماد نے اسکا تاج اتار کر ایک طرف رکھا ۔۔۔

“صبح جب یہ آپکے سر پہ سجے گا تو اس میں سے ایک الگ قسم کی روشنی نکلے گی ۔جو آپکے ملکہ بن جانے کی گواہ ہو گی ۔”

پھر اسکی انگلیوں سے انگوٹھیاں نکال کر ایک طرف رکھ دیں ۔۔۔

سنہری سر جھکائے خاموشی سے اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔۔

شماس کے ایک اشارے سے کمرے کی روشنی تاریکی میں بدل گئی ۔۔۔

اس کے سرسراتے ہوئے ہاتھ اس کی پوشاک کی زپ کی طرف بڑھے ۔۔۔۔

وہ اپنے وجود پہ اسکے لبوں کا لمس محسوس کرتی بے بس ہو رہی تھی۔جیسے ہی اس کے لب شعلے کے نشان پہ محسوس ہوئے سنہری کو ٹھنڈک سی محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔

اس نے آنکھیں کھول کر شماس کو دیکھنا چاہا ۔۔۔

وہ اس کے بہت قریب تھا ۔۔۔کمرے میں روشن دئیے کی روشنی میں اس نے دیکھا شماس کی سرمئی آنکھوں میں سے سفید روشنی نکل رہی تھی ۔۔۔۔اور اس کا چہرے کی ہئیت تبدیل ہو چکی تھی ۔۔۔وہ پہلے والا شماس نہیں تھا ۔۔۔

سنہری نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلا ۔۔۔اور سرکتی ہوئی پوشاک کو خود پہ لپیٹ لیا ۔۔۔

“آ۔۔۔۔آپ ۔۔۔کون ہیں ؟؟؟

“۔۔د۔۔دور۔۔۔ر۔۔۔رہیں مجھ سے “وہ خوف سے ذردی مائل دکھائی دینے لگی ۔۔۔۔

“ملکہ یہ میں ہی ہوں شماس ۔۔۔۔

“آپ کا شماس بن ضماد”

“جسے آپ چھو کر دیکھنا چاہتی تھیں۔

“آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ مجھ سے نہیں ڈرتی ۔۔۔آپ جلنا چاہتی ہیں میرے ساتھ ۔۔۔

“پھر اب یہ دوری کیوں ؟؟؟

“آ۔۔۔۔آ۔۔۔پ وہ شماس نہیں ہیں جس سے میں نے پیار کیا “

“سنہری ہمارے ملن کا وقت نکل جائے گا ۔۔۔

آج چودھویں کی رات ہے۔چاند اپنے جوبن پہ ہے۔

ہمارے شہزادے کی آمد کا مناسب وقت ۔اگر یہ وقت نکل گیا تو ہم ایک بار پھر سے ادھورے رہ جائیں گے ۔۔

تمہیں جب کبھی ملیں ‘ فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتاردو

میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

“ڈرئیے مت ۔۔۔۔۔۔۔میرے پاس آئیں “

وہ بیڈ کے کراؤن سے لگی سمٹی ہوئی سنہری کو اپنی طرف کھینچ کر محبت بھرے انداز میں بولا۔۔۔

اسکے جسم پہ بھی ویسا ہی شعلے کا نشان تھا جیسا سنہری کا تھا ۔۔۔۔وہ اسے دیکھ کر حواس باختہ ہو چکی تھی ۔۔۔

“ملکہ ہماری صالح اولاد کہ لیے یہ دعا پڑھیں “اس نے کچھ الفاظ سنہری کو آہستہ آواز میں بتائے ۔۔۔۔”

سنہری کی گالوں پہ لرزتی ہوئی پلکوں پہ اپنے لب رکھے . اس کے دونوں ہاتھ شماس نے اپنے ایک ہاتھ میں تھام رکھے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے کمر سے اسے نزدیک کیا .سنہری اس کی جان لیوا قربت پر سخت گھبرا رہی تھی۔شماس اس سے الگ ہوا تو سنہری کو دیکھا۔وہ نیجے دیکھ رہی تھی۔

کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ

میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو’ میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو

“ہماری آنکھوں میں دیکھئے ملکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قربت کا ہر لمحہ آپ کی آنکھوں میں بس جائے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔اب آپ کو ہمارا ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا خود آپ بھی نہیں “

سنہری نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو اس کا روم روم کانپ گیا۔شماس کی آنکھوں کی پتلیاں سفید رنگ کی ہوچکی تھی۔اس کی آنکھیں ابھی تک سرمئی نہیں ہوئیں تھیں۔۔۔

وہ ڈر سے اپنی آنکھوں کو زور سے میچ گئی ۔۔۔۔

” یہاں کی ہر چیز ہماری قربت کی گواہ رہے گی۔آپ وہ پہلی صنف نازک ہیں جسے ہم یہ حق دے رہے ہیں کہ وہ ہمارے نزدیک آئے. اور ،،،آپ ہی وہ آخری بھی رہیں گی جسے ہم یہ حق دیں گے. “

شماس بن ضماد کی بڑھتی ہوئی گستاخیوں پر سنہری نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

“نہیں “۔۔۔وہ تڑپ کر بولی ۔۔۔

“ششششش۔۔۔۔اب فرار کا کوئی راستہ نہیں ملکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت آچکا ہے کہ ہم ایک ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دل کی ملکہ آپ صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے دل کی دھڑکنوں کی دُھن سنیں جو صرف آپ کے نام کی مالا پرو رہی ہیں۔”

مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نے

مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا’ مری دھڑکنوں کو قرار دو

وہ اس کے کان کے قریب چہرہ کیے سرگوشی نما آواز میں کہتے ہوئے اس کے کان کی لو کو دانتوں تلے دبا گیا ۔۔۔۔

سنہری جی جان سے کانپ کر رہ گئی ۔۔۔۔وہ اس پر حاوی ہونے لگا۔برف باری زور سے شروع ہوگئی۔اس سے کئی زیادہ شدت شماس کے لمس میں آرہی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد سنہری آنکھیں کھول کر جب دوبارہ دیکھا تو اس کی سفید آنکھیں واپس سرمئی رنگ میں تبدیل ہوچکیں تھیں۔زمین پہ بکھری کلیاں کھل کر پھول بن چکیں تھیں ۔۔۔۔

اس کے پیٹ پہ ٹھنڈی پھوار محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔سب جلن مٹ چکی تھی۔۔وہ واپس آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔

*****…..****…..****…..

تہجد کے وقت وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے سے ملحقہ واش روم کی طرف بڑھ گیا اور باوضو ہوکر سر پہ ٹوپی پہنے ٹیرس میں آکر جائے نماز بچھائی ۔۔۔۔اور پورے خشوع خضوع سے تہجد ادا کی ۔وہ کیسے بھول جاتا تہجد پڑھنا ۔۔اسی تہجد کی نماز کی دعاؤں میں تو اس نے سنہری کو اپنے خدا سے مانگا تھا ۔۔۔

اس نے سجدہ شکر بجا لایا پھردعا میں ہاتھ بلند کرتے ہوئے اس نے صدق دل سے خدا کی اس پاک ذات کا شکریہ ادا کیا اور اس سے صالح اولاد اور اپنی سلطنت کی خیر وعافیت کی دعا کی ۔۔۔۔پھر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا ۔۔۔

اس کی سحر انگیز آواز سنہری کے کانوں میں سنائی دی تو اس نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

مگر رونے کی وجہ سے آنکھیں اور سر بھاری محسوس ہو رہا تھا ۔۔اسے اذان فجر سنائی دی ۔۔۔اس نے اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نا ہل سکی ۔۔۔اسے اپنے وجود میں تبدیلی کا احساس ،اور پھر نیند کا غلبہ اس قدر حاوی تھا کہ وہ پھر سے ایک بار نیند میں ڈوب گئی۔

شماس نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ پہ آکر لیٹ گیا ۔۔۔

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو دنیا کا سب سے حسین منظر اسکی آنکھوں نے دیکھا اسکے دل اور ریاست کی ملکہ اسکی محبتوں کے رنگ میں رنگی اس کے کشادہ سینے سے لگی پرسکون نیند سورہی تھی۔جیسے کسی چیز کا خوف نہ ہو اس کے اٹھنے کے بعد کا ردِعمل سوچتے شماس بن ضماد نے سوچا پھر مسکراتے ہوئے بستر سے باہر نکل گیا ۔وہ جانتا تھا کہ رات کو اس کی اس قدر مزاحمت کے باوجود اپنی تمام شدتیں اس نے اس نازک پھول جیسے وجود پہ لٹائی تھیں۔۔۔۔

وہ کھڑکی سے پردے ہٹاتا ہوا واپس بیڈ کے قریب آیا تھا اور بیڈ پہ نیم دراز ہوتے اس کی بند آنکھوں پہ ہولے سے لب رکھے تھے۔اب وہ مزید منمانیوں پہ اترتے ہوئے اس کے چہرے کے پرکشش نقوش کو نرمی سے اپنی لبوں سے محسوس کررہا تھا۔اپنے چہرے پہ شدت بھرے لمس محسوس کیے وہ جھٹ آنکھیں کھول گئی ۔۔۔۔

وہ اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ۔اسے اہک بار پھر سے سٹپٹانے پہ مجبور کرگیا ۔۔۔۔ ساری رات اس پہ شدتیں لٹانے کے بعد وہ پھر سے اسے اپنی قید میں لینے کا ارادہ کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔ سنہری کو رات کا سارا واقعہ دوبارہ یاد آیا اس نے کس قدر مزاحمت کی تھی مگر اس نے ایک نہیں سنی ۔۔۔۔وہ سب یاد آتے اس کا چہرہ شرم کے باعث ایک بار پھر قندھاری انار کے مانند دہکنے لگا ۔۔۔۔پلکیں شرم سے لزرتے عارض پہ جھک آئی تھی۔لزرتے گلابی لب ایک حسین منظر پیش کررہے تھے۔اسے اپنے وجود سے بھی وہی مہک آ رہی تھی جو شماس کے قریب ہونے پہ آتی تھی ۔وہ اسکے وجود پہ اپنی چھاپ چھوڑ کر اسے پور پور اپنا بنا چکا تھا ۔۔۔۔

۔

“شماس !!!۔”وہ روہانسی آواز میں بولی اور دل یکبارگی سے دھڑکنے لگا۔۔۔

تمہیں صبح کیسی لگی کہو’ مری خواہشوں کے دیار کی

جو بھلی لگی تو یہیں رہو’ اسے چاہتوں سے نکھار دو

وہ ایک بار پھر اپنی شدتوں سے شرمانے پہ مجبور کر رہا تھا ۔۔۔

“اب آپ پوری طرح سے ہماری ملکہ کے روپ میں ڈھل چکی ہیں تو یہ شرمانا کیسا ؟؟؟

وہ اس کے ہاتھ کی مخروطی انگلیوں پہ لب رکھتے ہوئے خمارآلود لہجے میں بولا ۔۔۔

سنہری نے اس کی معنی خیز بات پہ تکیے کے نیچے اپنے چہرے کو چھپا لیا ۔۔۔کیونکہ اسکی جذبات سے چور سرمئی آنکھوں سے فرار پانا اور کسی صورت دکھائی نا دیا ۔۔۔۔

“چلیں پھر آپ تیار ہوجائیں آج ہم اپنی رعایا سے ان کی ملکہ کو ملانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”

وہ ایک اونچے مینار پہ کھڑی تھی اور وہاں عجیب و غریب قسم کے لوگ تھے کچھ لوگ انسانوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے کچھ کے آدھے دھڑ انسانوں کے تھے اور آدھے جانوروں جیسے ۔۔۔کچھ تو سانپ اور جانور ہی کی طرح لگ رہے تھے ۔۔۔۔اس نے جھرجھری سی لی۔۔۔۔

“بادشاہ سلامت !!!سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں ۔۔۔اور کسی کے استقبال کے لیے نعرے لگا رہے تھے ۔۔۔۔

سنہری نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی ان لوگوں کی طرح ۔۔۔۔مگر نظریں اس منظر پہ ساکت رہ گئیں ۔۔۔۔

وہ اور کوئی نہیں اس کا شماس بن ضماد ہی تھا ۔۔۔۔

کتنے روپ تھے اس کے ۔۔۔یہی سوچ کر اسکے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔۔

وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کیے اپنے اعصاب کو قوت بخشنے لگی ۔۔۔۔

اس کے پنکھ تھے ۔۔۔اور وہ اڑ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ اڑتے ہوئے اسی کی طرف آیا ۔۔۔۔

جیسے ہی وہ سنہری کے پاس آیا ۔۔۔سنہری ڈرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔

وہ سنہری کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے نیچے اترنے لگا ۔۔۔

اب رعایا ان پہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھی ۔۔۔