Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 12
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 12
“آؤ بیٹا اندر آؤ …صابر حسین اسے اپنے ساتھ اندر لے آیا ۔۔۔اور صحن میں بچھی ہوئی چارپائی پر بیٹھنے کے لیے کہا ۔۔۔۔
وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھ گیا ۔۔۔
“بیٹا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ تم میرے کون سے دوست کے بیٹے ہو ؟؟؟
“چچا سائیں ۔۔۔۔میں ضماد کا بیٹا ہوں ۔۔۔
اب وہ اس دنیا میں نہیں ۔۔۔میں پیر سید۔۔۔۔۔۔۔کی درگاہ پر کام کرتا ہوں ۔۔۔۔آپ چاہیں تو میرے بارے میں سب پتہ کروا سکتے ہیں “
“بیٹا مگر معزرت خواہ ہوں کہ میں آپ کو اپنے گھر میں جگہ نہیں دے سکتا “
وہ سانس لینے کو چند لمحوں کے لیے رکے پھر بولے ۔۔۔۔
“میری جوان بیٹیوں والا گھر ہے لوگ سو سو باتیں بنائیں گے “
“روپے پیسوں کی مجھے لالچ نہیں ۔تم بے شک میرے جاننے والے اور نیک بچے ہو مگر میری مجبوری کو سمجھنا ۔۔۔
“چچا سائیں آپ معزرت کر کہ مجھے شرمندہ مت کریں ۔مجھے اچھا نہیں لگتا ایسے ۔۔۔آپ بڑے ہیں ۔بس حکم کریں “
“مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا آپ کا انکار کرنا ۔۔۔بلکہ مجھے تو خوشی ہو رہی ہے کہ آپ نے مجھے اپنا سمجھا اور اپنے بلا جھجھک مجھے سب کہہ دیا ۔۔۔
“چچا سائیں میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں “
اس نے با ادب طریقے سے کہا ۔
“ہاں بتاؤ بیٹا ۔۔۔اب تمہیں اپنا بیٹا کہا ہے تو اس کا مان بھی رکھنا ہے “
وہ اس کا شانہ تھپتھپاکر کر بولے ۔۔۔۔
“چچا سائیں۔ میں بات گھما پھرا کر کرنے کا عادی نہیں اسی لیے صاف صاف بات کرتا ہوں ۔۔۔۔اصل میں میرا یہاں آنے اور رہنے کا ایک خاص مقصد تھا “
شبانہ اور صابر حسین نے جانچتی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
“میرے بابا سائیں چاہتے تھے کہ میرا آپ کے خاندان سے رشتہ جڑ جائے ۔۔۔۔
اس کی بات سن کر شبانہ اور صابر حسین نے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
اور نا سمجھی سےکندھے اچکائے ۔۔۔
“میں آپکی چھوٹی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔میرے سر پہ کوئی بڑا نہیں جو یہ سب معاملات طے کرے اسی لیے خود عرض لے کر حاضر ہوا ہوں ۔۔۔پیشگی معذرت اگر آپکو برا لگا ہو ….
صابر حسین اور شبانہ اس کی بات سن کر خاموش ہوگئے ۔۔۔۔
“تم ہماری بیٹی حسنا سے شادی کے خواہشمند ہو ؟؟؟صابر حسین نے پوچھا ۔۔۔
حسنا اور شاہانہ جو کمرے کے دروازے کی اوٹ میں چھپ کر ان کی باتیں سن رہی تھیں ۔۔۔ایک دوسرے کو کہنیاں مارکر چھڑنے لگیں ۔۔۔۔اور مسکرانے لگیں ۔۔۔۔حسنا کے دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے اس وقت ۔۔۔۔
“میں آپکی بیٹی ماہ کی بات کر رہا ہوں “
اس نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر بتایا پھر نظریں جھکا لیں ۔۔۔
“مگر بیٹا ۔۔۔۔وہ تو ابھی پڑھ رہی ہے “صابر حسین نے کہا ۔۔۔
“نا جی میں تو سمجھ رہی تھی کہ شاہانہ اور حسنا کے بارے میں بات کر رہے ہو ۔۔۔مگر یہ تو وہ منحوس ماری ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ شماس کے سامنے اپنی زبان کے جوہر دکھاتی ۔۔۔۔
“شبانہ !! صابر حسین نے اسے اونچی آواز میں گُھرکا۔۔۔۔
وہ منہ نخوت سے چہرہ پھیر گئی ۔۔۔
“اچھا بیٹا تم نے اپنی بات مکمل کردی ہے ۔۔۔اب مجھے تھوڑا وقت دو سوچنے کے لیے ۔۔۔کچھ دنوں تک جواب دوں گا “صابر حسین نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا ۔۔۔
“جی ٹھیک ہے چچا سائیں مجھے انتظار رہے گا ۔۔۔اپنا بہت سا خیال رکھیے گا۔۔۔پھر ملیں گے “اس نے صابر حسین سے ملکر الوداعی کلمات ادا کیے اور باہر نکل گیا ۔۔۔
ماہ چھت سے کپڑے اتار کر نیچے آ رہی تھی اس نے باہر نکلتے ہوئے شخص کی پشت دیکھی ۔۔۔۔
پھر نیچے آکر کپڑے تہہ کرنے لگی ۔۔۔۔
“یہ کیا میرے سر پہ رکھ دئیے کپڑے ۔۔۔۔اندر رکھ انہیں “وہ تنفر زدہ آواز میں ماہ کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔
ان کا اس وقت بس نہیں چل رہا تھا کہ ماہ کا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دیتی اگر اس وقت صابر حسین وہاں موجود نہ ہوتا ۔۔۔۔
“ڈائن ۔۔۔کلموہی ۔۔۔۔میری بچیوں کا حق مار رہی ہے ۔ابھی تو نا شکل ہے نا صورت ۔۔۔گھر بیٹھے بٹھائے اس منحوس کا رشتہ آگیا ۔۔۔وہ دل ہی دل میں جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگی ۔۔۔۔کیونکہ اونچی آواز میں کہتی تو صابر حسین سے سننے کو مل جانی تھیں ۔۔۔۔
شفق نے اپنے لالی پھیلائی اور نیا دن طلوع ہوا ۔۔۔سب اپنے اپنے معمول کے مطابق اپنے مشاغل میں مصروف تھے ۔۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر سب ناشتے میں مشغول تھے ۔۔۔
“اماں سائیں وہ آج شاہو شہر جا رہے ہیں اپنے کسی کام کے سلسلے میں مجھے بھی ان کے ساتھ شہر سے کچھ شاپنگ کرنی ہے”دلنشین جو شہرام کی کرسی کے پیچھے کھڑی تھی ۔سبرینہ بیگم سے مخاطب ہوکر بولی ۔
“مجھے تو بتایا ہی نہیں کہ تم بھی میرے ساتھ جانے والی ہو ؟؟؟شہرام حیرت سے پلٹ کر بولا ۔۔۔
دلنشین نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں گھوری ڈال کر دیکھا ۔۔۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے تیار ہو جاؤ واپسی پر شاپنگ کروادوں گا “
وہ گلاس میں جوس کا گھونٹ بھر کہ بولا ۔
“دراصل میں چاہ رہی تھی کہ فجر بھابھی اور اذلان بھائی کو بھی ساتھ لے جاتے ۔ان کی بھی زرا آوٹنگ ہوجاتی اسی بہانے ۔۔۔۔
شہرام کے حلق میں سے جوس کا گھونٹ گزرنا مشکل ہوگیا ۔۔۔وہ جو اپنا اور دلنشین کا اکیلے میں یاد گار سفر گزارنے کے بارے میں نئی ترکیب سوچ رہا تھا ۔واپس پلٹ کر دلنشین کو دیکھنے لگا ۔۔۔
“ان دونوں کو کوئی ضرورت نہیں ساتھ لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں “انہوں نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
فجر دلنشین کی طرف اترے ہوئے چہرے سے دیکھنے لگی ۔۔۔
“ایسا کرو تم سب گھر ہی ٹہرو ۔۔۔مجھے بتا دو کیا چاہیے تم لوگوں کو مجھے بھی شہر سے کچھ ضروری سامان خریدنا ہے۔میں شہرام کے ساتھ چلی جاؤں گی تم سب اپنے اپنے سامان کی لسٹ بنا کر مجھے دے دو “سبرینہ بیگم نے ان کا پلان ناکام بناتے ہوئے اپنا نیا پلان ترتیب دیا ۔۔۔
دلنشین اور فجر ان کے انکار پہ دل مسوس کر رہ گئیں ۔۔۔
“اسلام و علیکم اماں سائیں !
سوہا نے حویلی میں داخل ہوتے ہی کہا ۔۔۔
“کہاں کی تیاریاں ہیں ؟؟؟
وہ خوشدلی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
“بس شہر جانے کی تیاری ہے۔چلو اب تم بھی آگئی ہے ان سب کے ساتھ یہیں رکو اور کچھ چاہیے تو بتا دینا ۔۔۔
میں لے آؤں گی ۔
صائم بھی سب کو سلام کرتے ہوئے وہیں بیٹھ گیا ۔۔۔
“جلال الدین اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ سردار حماد اور سردار واجد زمینوں کی طرف نکل گئے ۔۔۔۔
شہرام اور سبرینہ بیگم شہر جانے کے لیے باہر نکل گئے ۔۔۔۔
“آج شبانہ نہیں آئی ؟؟؟
دلنشین نے ایک ملازمہ سے پوچھا ۔۔۔
“نہیں بی بی جی ابھی تک نہیں آئی ۔۔۔بس آنے والی ہی ہوگی ۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کرتی ہوں “,وہ صائم اور سوہا کے لیے دوپہر کے کھانے کا اہتمام کرنے کے لیے کچن میں چلی گئی۔۔۔۔
“ماہ !!!
“او ماہ !!!!سن لے میری آواز ۔۔۔۔کہیں مر مرا تو نہیں گئی ۔۔۔؟؟؟وہ اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔
“آئی اماں سائیں …اس نے جوابا کہا اور تیز رفتار قدموں سے چلتے ہوئے شبانہ کے پاس آئی ۔۔۔
“کہاں مر گئی تھی ۔؟؟؟
“میری آواز سنائی دیتی ہے کہ نہیں ؟؟؟
“اماں میں وہ کالج جانے کے لیے بیگ تیار کررہی تھی ۔۔۔۔
اس نے منمناتے ہوئے اپنی کاروائی بیان کی ۔۔۔
“آج میرا سر بڑا دُکھ رہا ہے “وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں کو دباتے ہوئے بیزاری سے بولیں ۔
“جا آج تو حویلی چلی جا میرے حصے کا کام نپٹا آ۔۔۔۔
“ورنہ بڑی بیگم صاحبہ ناراض ہوں گی “
“اماں مگر میرا کالج ؟؟؟
اس نے ڈرتے ہوئے اپنا مدعا رکھا ۔۔۔
“جاتی ہے …..یا لگاؤں جوتیاں دوسر پہ “”
وہ تڑخ کر بولیں ۔۔۔۔
ماہ بے دلی سے کمرے میں واپس آئی ۔۔۔۔
اور چادر نکال کر سر پہ اوڑھے باہر نکلی ۔۔۔۔
“اماں میں جا رہی ہوں “,وہ انہیں بتاتے ہوئے گھر سے باہر نکلی ۔۔۔۔
کچے پکے راستوں سے گزر رہی تھی ۔۔۔۔
یکدم اسے اپنے آس پاس وہی صندلی محسورکن مہک محسوس ہوئی ۔۔۔
اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اس مہک کو اپنی سانسوں میں اتارا ۔۔۔۔
“کیسی ہو ؟؟؟
وہی دلکش لب و لہجہ”
کچھ اسکی سحر انگیز آواز کا اثر تھا اور کچھ دھوپ کی تمازت کا ۔۔۔اسکے گال دہک کر اناری ہوئے ۔۔۔۔
“آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے آپ کی یاد آ رہی تھی “
اس نے آہستہ آواز میں پوچھا ۔۔۔وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا صرف اسکی آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
“بس پتہ چل جاتا ہے ۔’
“تم بس آنکھیں بند کر کہ مجھے یاد کرنا میں فورا وہیں آجاؤں گا “
“آپ آئیں گے نا “؟
“ملکہ کہے اور غلام حاضر نا ہو ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟؟
سامنے اسے حویلی نظر آنے لگی ۔۔۔وہ تیز قدم اٹھا کر وہاں پہنچ گئی آواز بھی سنائی دینا بند ہوچکی تھی ۔۔۔۔
وہ اندر داخل ہوگئی ۔۔۔۔
“ارے ماہ تم کیوں آئی “؟دلنشین نے اسے کچن میں دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“وہ دراصل اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے انہوں نے مجھے بھیج دیا ۔آپ کام بتادیں میں سب کردوں گی ۔۔۔۔
“ماہ میں کھانا تیار کر لی ہوں ۔۔۔تم ایسا کرو سارے برتن دھو لو ۔۔۔۔اور کچن کی صفائی کرلینا ۔۔۔اب میں تھوڑا سا آرام کروں گی ۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے “ماہ ادب سے بولی اور برتن دھونے لگی ۔۔۔
جبکہ دلنشین اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
وہ برتن دھو کر جیسے ہی پلٹی اچانک کسی چٹان نما وجود سے ٹکرائی۔اپنے آپ کو گرنے سے بچانے کے لیے مقابل کے کندھے پر ہاتھ جمائے وہ ڈگمگاتے ہوئے رکی ،
جبکہ مقابل نے موقع دیکھ اسے اپنی بازوؤں میں بھرنے کی کوشش کی ۔۔۔
حویلی کے نئے داماد کو وہ اپنے سامنے دیکھتی ہوئی سہمی تھی۔۔دھڑکنیں رک گئیں ۔۔۔
“صاب جی!!
وہ سہمی ہوئی ہرنی کے مانند سانسیں روکے منمنائی ۔۔۔
شش !! مقابل نے بےباکی سے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔
ماہ!!! نے تڑپ کر فاصلے پر ہونا چاہا
مگر اسکی گرفت اس کے بازوؤں پر مضبوط ہوئی ۔۔۔
اس نے تعجب سے اس شخص کودیکھا۔
چہرے پر شدید ناگواری نمودار ہوئی جبکہ وہ لمبے چوڑے وجود کامالک شخص اس کے سراپے کو دیکھ اپنی آنکھوں کو سیراب کر رہا تھا ۔۔۔
آپ؟؟ آپ چھوڑیں مجھے ؟؟ چہرے کی ناگواری سرخی میں ڈھلی تھی۔
وہ اس کی بازوؤں کوجھٹک کر جانے کے لیے بڑھی ہی تھی کہ ۔لیکن اس نے جاتی ہوئی ماہ کی کلائی سے کھینچ کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔ماہ کا دل اچھل کر حلق میں آیا،
وہ تڑپ کر مڑی ،نیلے سمندر جیسے نینوں میں ڈر ہلکورے لینے لگا،
“تمہاری یہ سنہری رنگت بہت دلکش ہے۔آنکھوں سے سیدھا دل پر اثر کرتی ہے”۔اس کی گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائے اسکے دل کا حال عیاں کرگئی تھی۔
آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں سرکار ۔کلائی کو چھڑوانےمیں سرگرداں وہ اپنی سانولی سی بازو سرخ کرواچکی تھی۔
ضبط کی سرخی رخساروں پر نمایاں تھی۔آنکھوں سے موتیوں کا سیلاب امڈ آیا۔۔۔
“جب سے تمہیں شادی میں دیکھا تھا ایک بار اس سنہری رنگت کے چہرے کو چھو لینے کی خواہش من میں آ بسی تھی اسی خواہش کی تکمیل کے لئے ہی یہاں آیا تھا” اس کے دمکتے ہوئے گال کو چھونے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھایاہی تھا کہ ۔۔۔۔
“شرم نہیں آتی ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا ہماری شادی کو ۔۔۔
اور آپ یہ سب کرنے لگے “پیچھے سے سوہا کی آواز آئی ۔۔۔
اس نے فورا مقابل کا حصار توڑا ۔۔۔۔
آ۔۔۔آئی ایم سس سوری!! سوہا بس غلطی سے ۔۔۔صائم نے ماہ سے دور ہوتے ہوئے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔۔۔
سوہا نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔۔۔
“کیا نظر آیا تمہیں اس کام والی کالی کلوٹی ماسی میں ؟؟؟
“تف ہے تمہاری چوائس پر “
وہ نخوت سے بولی۔
“تمہارا سٹینڈرڈ اتنا گرا ہے ۔۔۔
وہ کم عمر ،سانولی رنگت والی کام کرنے والی کو سر تا پا تنفر زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے دھاڑی ۔۔۔
“سوہا میری بات تو سنو !!!صائم نے اسے پیچھے سے آواز لگائی مگر وہ ان سنی کرتے ہوئے غصے سے پیر پٹختی ہوئی باہر نکل گئی ۔۔۔۔
“چلو اچھا ہوا کباب میں ہڈی نکل گئی ۔۔۔۔
وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا کر خباثت سے بولا ۔۔۔
اور ماہ کی طرف بڑھا ۔۔۔
اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ ماہ نے ڈر سے فورا اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔۔
“”تم بس آنکھیں بند کر کہ مجھے یاد کرنا میں فورا وہیں آجاؤں گا “
اس کی وہی سحر انگیز آواز اسکے کانوں میں سنائی دی۔۔۔
ماہ نے اسے یاد کیا ۔۔۔۔
“پلیز دور رہیں مجھ سے “وہ اسے اپنے بالکل قریب دیکھ کر دھمکی آمیز انداز میں بولی ۔۔۔
“تم مجھے منع کر رہی ہو مجھے !”
وہ اسکی کلائی کھینچ کر بولا ۔۔۔۔
“پلیز مجھے جانے دیں ۔۔۔میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ؟”
اس بار وہ اسکے تیور دیکھ منت سماجت پر اتر آئی ۔۔۔
صائم بغیر رکے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اُس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“دیکھیں میں کہہ رہی ہوں وہی رہیں۔ ورنہ۔۔ ورنہ میں انہیں بلا لوں گی۔” ماہ نے پل پل اپنی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھتے ہوئے کمزور لہجے میں دھمکی دی۔
“اوہ! تو بلاؤ جس بھی ُطرم خان کو بلانا ہے بلاؤ ۔۔۔۔۔” غضبناک اور چبھتے ہوئے لہجے میں کہتا وہ مسلسل اس کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔
“میں بھی دیکھتا ہوں آج تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟؟؟؟
وہ اسکو اپنی بانہوں میں بھرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
“آپ کو ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی کیا…دور رہیں مجھ سے ؟”
“نہیں آتی!” وہ مکار ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
اسکے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ کوئی اسے گھسیٹتا ہوا دیوار کے ساتھ لگا گیا ۔۔۔۔وہاں کوئی ایسا تھا جو صائم کو دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔کسی نے اسے انجانی ان دیکھی فولادی گرفت میں دبوچ کر دیوار سے لگا دیا ۔۔۔
“آہہہہ!!!!”
وہ اب گردن بھی نہیں ہلا پا رہا تھا ۔۔۔۔
کسی نے اسے دیوار کے ساتھ لگے اتنا اوپر اٹھا دیا کہ اس کے پاؤں ہوا میں معلق ہوگئے ۔۔۔زمین سے کئی فٹ اونچے ۔۔۔۔
وہ حیرت انگیز نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا مگر اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔
ب۔۔۔۔ب۔۔بچ۔۔۔بچا۔۔۔و۔۔۔کی گھٹی گھٹی آواز بھی حلق سے برآمد نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔۔
ماہ جو اُس سے بچنے کے لیے تیزی سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی بوکھلاہٹ میں دوسری طرف بھاگی تھی،جہاں صائم کا ہاتھ لگنے سے فرش پہ بکھرے کانچ کے ٹکڑے پاؤں میں چبھنے پر کراہ کر نیچے گری۔
شماس جس نے صائم کو اپنے ہاتھ میں قابو کر رکھا تھا ماہ کے درد سے کراہنے پہ اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے خون آلود پاؤں کو دیکھ کر صائم کو چھوڑے فورا اُس کی طرف گیا ۔۔۔
صائم اپنی گردن پہ ہاتھ رکھے بری طرح کھانسنے لگا ۔۔۔
سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی ۔۔۔۔
تنفس بری طرح بگڑ چکا تھا ۔۔۔وہ وہیں گر گیا ۔۔۔۔اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔۔
“آئیں گھر چلیں ملکہ “
ماہ کو اسکی آواز بہت قریب سے سنائی دی ۔۔۔
شماس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔
ماہ کو ایسا لگا کہ اس نے اپنا ہاتھ جیسے کسی دہکتے ہوئے کوئلے پر رکھ دیا ۔۔۔۔
شماس کو فورا اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے فورا اپنا ہاتھ ماہ کے ہاتھ سے نکال لیا جو اسے سہارا دے کر اٹھانے کے لیے استعمال کیا تھا ۔۔۔۔
ماہ لڑکھڑاتے ہوئے آہستگی سے چلنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ اب حویلی سے باہر نکل گئے تھے ۔۔۔چلتے چلتے فصلوں کے بیچ و بیچ پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔
“بہت شکریہ “ماہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
“یہ میرا فرض تھا “
“آپ سامنے آئیں پلیز “اس نے التجائیہ انداز میں کہا۔۔۔
“جیسا آپ کا حکم ملکہ !!!
وہ اس کے سامنے ظاہر ہوا ۔۔۔
ہر بار کی طرح اسے سامنے دیکھ ماہ کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔۔۔۔
وہ تھا ہی اتنا وجیہہ کہ اسے دیکھتے آنکھوں میں دیپ جل اٹھتے ۔۔۔۔
“ایک بات پوچھوں آپ سے ؟؟؟وہ اسے نگاہوں میں بھر کر بولی ۔۔۔
“جی۔۔۔ پوچھیں ملکہ !!!
“آپ کون ہیں ؟؟؟”
“میں جن زاد ہوں”
شماس بن ضماد نے نتیجے کی پروا کیے بنا۔۔۔اسے حرف بہ حرف سچائی سے روشناس کرایا۔۔۔۔
ماہ اسے یک ٹک دیکھتی رہی یہاں تک کے شماس بن ضماد کا جسم اپنا خدو خال بدلتے ہوئے سُلگنے لگا۔ اسکے خدشے کے مطابق ماہ کی نظروں میں نا ڈر تھا نا خوف بلکہ محبت ہلکورے لے رہی تھی ۔۔۔
“کیا آپ واقعی صرف میرے ہیں ؟”
“میرے لیے یہاں آئے ہیں؟”
“جی ملکہ ۔۔۔ میں صدیوں سے آپ ہی کا تھا”
“آپ میرے لیے اور میں آپکے لیے ۔۔۔بلکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔۔”
اسکے جواب پر ماہ بلا اختیار اسکی طرف بڑھی۔۔۔
“ملکہ! وہیں رک جائیں میرے قریب مت آئیے گا۔”
شماس بن ضماد نے دو قدم پیچھے لیتے ہوئے اسے خود تک آنے سے روک دیا تھا۔
“آپ نے ہی تو کہا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں تو مجھے خود کے قریب آنے سے کیوں روکتے ہیں ۔۔۔۔میں اس بات کا یقین کرنا چاہتی ہوں کہ آپ سچ میں ہیں۔اور صرف میرے ہیں ۔۔۔میں آپ کو اپنے پورے ہوش و حواس میں چھو کر دیکھنا چاہتی ہوں۔آیا کہ یہ میرا وہم ہے یا حقیقت ۔”
وہ ہمیشہ اس سے بات کرنے کے بعد یقینی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہتی اور خود سے الجھتے رہتی کہ وہ سب سچ ہے یا اسکی بنائی ہوئی اپنی ہی کوئی خیالی دنیا ۔۔۔۔ آج وہ اس کو محسوس کیے سارا سچ جان لینے کی متمنی تھی ۔۔۔
دن رات یہ سوچ اسے پاگل کیے دے رہیں تھیں۔
شماس بن ضماد نے کرب سے اسکا زرد پڑتا ہوا چہرہ دیکھا ۔۔۔
“میں حقیقت ہوں یہ آپکا دل جانتا ہے !”
“مجھے چھونے سے آپکو تکلیف ہوگی !”
“میرا لمس میرا احساس آپکا جسم سہہ نہیں پائے گا !”
“آپ سمجھتی کیوں نہیں ملکہ ۔۔۔!!!
“میں آگ ہوں “اور یہ آگ آپ کو جلا کر بھسم کر دے گی ۔۔۔۔”
وہ بے بسی سے بولا ۔۔۔
“جب ہمارا قریب آنا ممکن نہیں تھا تو کیوں مجھے اس خار دار راہ کا مسافر بنایا ۔۔۔
وہ اپنے اندر بھری تلخیاں اس پہ انڈیل گئی ۔۔۔
” جب بھی آپ میرے پاس آتے ہیں آپکی خوشبو مجھے آپکے آنے کی خبرکردیتی ہے،کیسے اپنی سانسوں سے جدا کروں اس مہک کو ؟؟؟
“میں آگ ہوں۔۔۔
میں صرف جلانا جانتا ہوں
میرا قرب میرا لمس آپکو خاکستر کر دے گا “
“یہ ممکن نہیں۔۔۔ ضد نا کیجے ملکہ !۔”
اسے ساری حدود و قیود بھلائے اپنی طرف بڑھتا دیکھ۔۔۔۔۔
وہ بے خود سا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
من مندرمیں پنہاں سوئے ہوئے جذبات کے سمندر میں اسکی خود سے پیش قدمی پر طلاطم برپا ہونے لگا ۔۔۔۔
“نہیں ملکہ !!!
ماہ اس کی التجاء پر رک گئی ۔۔۔
اپنی جلدبازی اور بے خودی کا عمل سمجھ میں آنے پر شرمندگی سے اسکے چہرے پر گلال بکھرا۔۔۔۔
جبھی بات بدلنے کو بولی
“آپکو پتا ہے شماس ۔۔۔میں بچپن سے کبھی بھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتی حالانکہ میں اپنے حقیقی والدین سے بچھڑ چکی ہوں ۔۔نجانے وہ کہاں ہوں گے ؟”
“سب نے ہمیشہ میرے رنگ کو لے کر مجھے حقیر جانا ۔۔۔مجھے کمتر محسوس کروایا ۔۔۔۔لیکن میں نے ہمیشہ اپنے پروردگار سے صدق دل سے کسی کی پر خلوص،بناغرض کی محبت پانے کی دعا کی تھی ،چاہے جانے کی منتیں مانی تھیں ۔ساری دنیا ۔مجھے دھتکار دے مگر کوئی ایک تو اس دنیا میں ایسا ہو جو مجھے چاہے۔”
وہ اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپی ہوئی باتیں اسے بتاتے ہوئے نجانے کب چلتے ہوئے اسکے قریب آگئی ۔
” خدا نے میری سن لی ۔۔۔!!
“آپ کی صورت میں !!! ۔”
“مجھے لگتا ہے جیسے میری روح آپکو صدیوں سے جانتی ہے۔میرا یہ دل آپکے نام پہ دھڑک اٹھتا ہے ۔”
ماہ کے اظہار محبت پہ شماس بن ضماد کا دل سرشار ہوا ۔۔۔
وہ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگا ۔۔۔بھلا محب کے لیے اس سے بڑھ کر خوبصورت لمحہ اور کیا ہوگا جب محبوب اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہو ۔۔۔
” ملکہ ! بے شک آپ نے ان اٹھارہ سالوں سے اپنی محبت کی تمنا کی ہوگی مگر ۔۔۔”
وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوا ۔۔۔۔
ماہ نے اس کی سرمئی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔جہاں بھسم کردینے والے شعلے بھڑک رہے تھے ۔۔۔۔اسکی لال انگارہ آنکھوں میں جنون تھا ۔۔۔
“لیکن آپ میری کئی صدیوں کی ریاضت ہیں ۔”
“دن رات خدا سے آپکا ساتھ مانگا ہے “
ماہ نے شماس بن ضماد کے جواب پر بے خود ہوتے ہوئے اس کے شانے پر سر رکھ دیا”
(تمام آدم زاد ہم جن زادوں کا نام سن کر ہی خوف کھاتے ہیں۔یہ عجب ہیں جو ہم سے ڈرتی ہیں ۔بلکہ ہماری قربت کی طلبگار بن بیٹھی ہیں اس نے سوچا )
“شماس سنیں نا “
شماس نے گردن ترچھی کیے اس پہ نگاہیں جمائیں جو اسکے بے حد قریب اسکے شانے سے لگی ہوئی تھی ۔۔۔
“جی سنائیں ملکہ !!! “
“میں جلنا چاہتی ہوں !”
ماہ نے اسکے سرخ ہوئے انگارے جیسے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
ماہ کی خواہش سن کر شماس کا جسم آگ کی طرح تپنے لگا ۔۔۔۔
دونوں کے دلوں میں لگی آگ کسی طور نا بجھتی ہوئی نظر آرہی تھی ۔۔۔ لگتا تھا اب یہ آگ دونوں میں سے کسی ایک کو جلائے بغیر کسی صورت ٹھنڈی نہیں ہوگی۔
شماس نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے نرمی سے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
دونوں جیسے کسی پرفسوں طلسماتی لمحے کے زیر اثر تھے ۔ شماس کی گرفت میں جاتے ہی جیسے اسے ہوش آیا۔ ‘ایک اجنبی نامحرم مرد کی قربت ؟ نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ سارے گوٹھ میں بدنامی ہوگی۔’ اس نے دور ہونے کی کوشش کی لیکن یہ کیا؟ اسکا جسم تو جیسے مفلوج ہوچکا تھا۔ وہ چاہ کر بھی ایک انچ اپنی جگہ سے نا ہل سکی ۔۔۔
جبکہ شماس بن ضماد بس چپ چاپ اسے خود میں سموئے کھڑا تھا۔۔۔
“بہت جلد ہم محرم میں بدل جائیں گے پھر یہ دوریاں بھی ختم ہو جائیں گی ۔۔۔۔
“آپ بنیں گی ہماری محرم ؟؟..
شماس بن ضماد نے اس کے کانوں میں جیسے سحر پھونکا ۔۔۔۔
