953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 13

“اماں سائیں آپ شاپنگ کر لیجیے میں میں بھی اپنا کام نپٹا لوں جب آپ فری ہو جائیں تو مجھے کال کر لیجیے گا میں فورا آجاؤں گا ۔”
شہرام نے سبرینہ بیگم سے کہا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم جاؤ میں کال کرلوں گی “
شہرام نے ان کے نکلتے ہی گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔۔
سبرینہ بیگم شہر میں موجود ایک بڑے مال میں شاپنگ کر رہی تھی ۔۔۔۔
“۔۔۔۔صا۔۔۔صائم کیا ہوا آپ کو ۔۔۔۔سوہا نے جب کافی دیر تک صائم کو نا دیکھا تو واپس بھاگتی ہوئی کچن میں آئی جہاں صائم بے ہوش پڑا دکھائی دیا ۔۔ وہ اسکا گال تھپتھپاکر کر اسے ہوش دلاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔مگر بےسود۔۔۔۔
“غلامو ۔۔۔۔او۔۔۔۔۔غلامو …..
اس نے ملازم کو بلند آواز سے بلایا ۔۔۔۔
“جی بی بی جی ۔۔۔وہ مؤدب انداز میں آکر اسکے پاس کھڑا ہوا ۔۔۔۔
“غلامو صائم کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے انہیں سہارا دے کر ارحام کے کلینک تک لے چلو جلدی “اس نے تفکر بھرے انداز میں کہا ۔
پھر وہ دونوں صائم کو سہارا دئیے گاڑی میں بیٹھے اور کلینک چلے گئے ۔۔۔
“ارحام !!!!
دیکھو انہیں کیا ہوا ہے “سوہا بے چینی سے دوڑتے ہوئے ارحام کے پاس آکر بولی ۔۔۔
“آپ بیٹھ جائیں سوہا آپی میں دیکھتا ہوں انہیں “
“ان کا گلہ دبایا گیا ہے اور وہ بھی بہت برے طریقے سے ۔۔۔ان کا تنفس بحال نہیں پوری طرح سے ۔۔۔۔
انہیں شہر لے جانا ہوگا وہاں کچھ ٹیسٹ ہونے کے بعد پتہ چلے گا اصل وجہ۔ ۔۔۔۔
“پھر ارحام تم انہیں میرے ساتھ لے کر چلو “
“ٹھیک ہے میں کلینک بند کردیتا ہوں تو چلتے ہیں “
وہ صائم اور سوہا کے ساتھ شہر کے ایک بڑے ہسپتال میں جانے کے لیے نکل گیا ۔۔۔۔
“قریبا دن شام میں ڈھلنے والا تھا جب سبرینہ بیگم شاپنگ سے فارغ ہوئی تو انہوں نے شہرام کو کال ملائی ۔۔۔
“آجاؤ شہرام میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں اسی مارکیٹ کے اینڈ میں آجاؤ “
“جی اماں سائیں۔ مجھے بس دس منٹ کا وقت دیں میں راستے میں ہوں “اس نے تیزی سے کہتے ہوئے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا ۔۔۔مگر سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار بائیک کو دیکھ کر اس نے موڑ کاٹنے کی کوشش کی جو ناکام رہی اور دوسری گاڑی سے ایک جاندار ٹکر کے نتیجے میں گاڑی کا توازن بگڑ گیا ۔۔۔۔
اس کی گاڑی بے قابو ہوئی ۔۔۔دوسری گاڑیوں میں لگی ۔۔۔۔اور اس کا دائیاں بازو گاڑی کے سائیڈ شیشے سے بری طرح متاثر ہوا ۔۔۔۔
اب اس کا سر جو شیشے سے باہر لڑھک چکا تھا ۔۔۔۔
اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا بیچ سڑک میں بے یار ومدد گار پڑا تھا ۔۔۔۔
اس کی بند ہوتی آنکھوں نے یہ آخری منظر دیکھا کہ کچھ لوگ اس کی طرف بھاگ کر آرہے تھے ۔۔۔۔۔کانوں میں بھانت بھانت کے لوگوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں مگر سب آوازیں آپس میں گڈ مڈ ہوگئیں۔۔۔۔
سبرینہ بیگم وہیں مال کے باہر کھڑی نجانے کب سے اس کا انتظار کر رہی تھیں ۔۔۔کہ اچانک ان کے موبائل پر آتی ہوئی کال نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔۔۔۔
شہرام کے موبائل سے لاسٹ کال سبرینہ بیگم کو کی گئی تھی ۔۔۔
اسی لیے شہرام کے موبائل سے ایک راہ گیر جس نے سارا معاملہ ہینڈل کیا تھا اور شہرام کو سب لوگوں کے ساتھ مل کر ہاسپٹل پی پہنچایا تھا ۔اس نے لاسٹ ڈائلڈ نمبر پہ کال کر کہ سبرینہ بیگم کو اس کے ایکسیڈینٹ کی خبر دے دی ۔۔۔۔
سبرینہ بیگم کیب لے کر فورا اس آدمی کے بتائے ہوئے ہاسپٹل میں پہنچ چکی تھیں۔
انہوں نے حویلی کے نمبر پر کال ملائی ۔۔۔
دلنشین جو لاونج میں سوہا کو دیکھنے کی غرض سے اپنے کمرے سے باہر آئی تھی ۔فورا لپک کر کال ریسیو کی مگر آگے سے جو خبر سننے کو ملی اس کی جان نکالنے کے مترادف تھی ۔۔۔۔
“دادا سائیں !!!
وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بنا جلال الدین کے پاس پہنچی ۔۔۔۔
“کیا ہوا ؟؟؟کیوں گھر سر پہ اٹھا رکھا ہے ؟وہ اسکی اونچی آواز سن کر غصے میں بولے ۔۔۔
“دادا سائیں ۔۔۔اماں سائیں کا فون آیا ہے وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔بتا رہی ہیں ۔۔۔کہ ش۔۔۔شاہو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے وہ ۔۔۔ہسپتال میں ہے “پھولی ہوئی سانسوں سے وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی ۔۔۔
اسکی حالت شہرام کے بارے میں سن کر یوں تھی گویا کاٹوں تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
جلال الدین نے یہ خبر سنی تو انکے بھی ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔۔۔۔
“میں ابھی نکلتا ہوں شہر کی طرف “وہ تیزی سے باہر کی طرف نکلے ۔۔۔۔
“دادا سائیں !!! مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے شاہو کو دیکھنے “دلنشین نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“اچھا چلو “انہوں نے بنا پلٹے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
“کہاں جا رہی ہو دلنشین ؟؟؟فجر اور اذلان جو باہر صحن میں موجود تھے پھولوں کی کیاری کے پاس انہوں نے دادا سائیں اور دلنشین کو تیزی سے باہر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔
“بھابھی شاہو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔۔۔وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی ۔۔۔اور چادر سے اپنا چہرہ صاف کیا ۔۔۔
“میں بھی جاؤں گا “
“میں بھی جاؤں گا “اذلان کو کچھ بھی سمجھ نا آئی مگر اس نے جانے کی رٹ لگادی ۔۔۔۔
“اسے اندر لے جاؤ “جلال الدین نے فجر کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
فجر نے انکی بات پر تائیدی انداز میں سر ہلایا اور اذلان کو بازو سے پکڑ کر پیار سے سمجھاتے بجھاتے اندر لے جانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔
جنونی کیفیت میں وہ فجر سے اپنا آپ چھڑوا چکا تھا اور اب کیاری میں لگے سارے پودوں کو کھینچ کر جڑ سے اکھاڑ رہا تھا اس نے چند منٹوں میں وہاں موجود ایک کے بعد ایک ہر چیز کو تباہ کردیا ۔۔۔وہاں موجود کرسیوں اور میز کو اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخ رہا تھا اور فجر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا کرے کیسے اُسے روکے۔۔۔۔
“اذلان جی “۔۔۔۔۔۔۔
فجر اسکی اس عجیب و غریب حالت کو دیکھ کر متوحش ہوچکی تھی مگر خود کو سنبھالتی گھبرا کر اُس کی طرف بڑھی۔۔۔اُس وقت وہ جس حالت نے تھا کچھ بھی کر سکتا تھا فجر کے پیر میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔۔۔۔جو پھولوں کے ساتھ ٹوٹ کر زمین پر بکھرے ہوئے تھے مگر وہ اپنی تکلیف کو نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔
جلال الدین نے اُس کی پشت سے لگتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے اُسے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا وہ ان کی جانب پلٹا اُس کا چہرہ دیکھ کر فجر کو پہلی دفعہ بہت ڈر لگا غصے سے بھری آنکھیں سرخ ہو گئی تھی بکھرے بال اور پسینے سے بھیگا چہرہ جس پر دنیا بھر کی سختی تھی اُس نے دلنشین کے ہاتھ ہٹا کر اُسے دھکا دیا اور اپنا سر مشتعل ہو کر دیورا سے مارنے لگا ۔۔۔کہ اگر اسکی بات نا سنی گئی تو وہ کچھ بھی کرڈالے گا ۔۔۔۔
“نہیں اذلان جی رک جائے”پلیز !!!
فجر بے بسی سے روتے ہوئے اُس کا بازو پکڑے اُسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔”
جلال الدین اور دلنشین جو شہر نکلنے والے تھے اذلان کی ضد کو دیکھ کر اور بھی پریشان ہوگئے ۔۔۔
“بھابھی کیسے اکیلی سنبھالیں گی بھائی کو “,دلنشین نے کہا ۔۔۔
“چلو ان دونوں کو بھی ساتھ لے چلو “
انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کے لیے کہا ۔۔۔
اور حماد اور واجد کو کال کر کہ ساری صورتحال سے آگاہ کردیا ۔۔۔۔
اب وہ چاروں بھی شہر کے راستے پر گامزن ہوئے تھے۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں نا ؟؟؟فجر نے پوچھا ۔۔۔
اذلان اُسے غصے سے دیکھ رہا تھا فجر نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھاما تھا
“پلیز اذلان جی ایسا مت کریں خود کو مزید تکلیف مت پہنچائیے آپ جانتے ہیں آپ کو چوٹ لگتی ہے تو مجھے بھی درد ہوتا ہے اور آپ ہی نے کہا تھا نا کے آپ اپنی گڑیا کو روتا نہیں دیکھ سکتے
وہ اُسے اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور اذلان خالی خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو اُس کا سختی سے بھینچے لب دھیرے سے کھلے تھی اُس کا چہرے پر کوئی سختی نہیں تھی اُس نے دھیرے سے آنکھیں بند کی اور اُس کا سے فجر کے کندھے پر گرگیا ۔۔۔۔
سارے راستے وہ فجر کے شانے پر سر رکھے ہوئے سوئے رہا ۔۔۔
ان تینوں نے شکر ادا کیا کہ اذلان پرسکون ہوگیا ہے ۔


“دیکھیے ہم نے ان کا تفصیلی چیک اپ کیا ہے ان کے گلے کی ایسی رگیں ڈیمیج ہوگئیں ہیں جن کا تعلق قوت گویائی یعنی آواز سے ہے۔
بہت مشکل ہے کہ اب یہ بول سکیں “ڈاکٹر نے اپنے ماہر پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔
“مگر ڈاکٹر اس جدید دور میں اس کا علاج ناممکن نہیں “ارحام نے کہا ۔۔۔
“یقینا کچھ بھی ممکن نہیں مگر ان کا ایک آپریٹ کیا جائے گا ۔پھر شاید کچھ ہو جائے ۔۔۔
“کتنے فیصد چانسز ہیں ؟؟؟ارحام نے سپیشلسٹ سے پوچھا ۔۔۔
ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے یہ ان پر پی ڈیپینڈ کرتا ہے “
ڈاکٹر گہری سانس لیتے ہوئے بولے ۔۔۔
سوہا پر امید نظروں سے ارحام کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ دونوں ڈاکٹر کے کیبن سے باہر نکل آئے ۔۔۔
“آپی آپ فکر مت کریں ۔۔۔۔ان شا اللہ بہت جلد صائم بھائی ٹھیک ہو جائیں گے ۔”ارحام نے تسلی بخش انداز میں کہا ۔۔۔
سوہا نے ممنون نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اسکا شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔
“سب ہسپتال پہنچ چکے تھے۔۔۔
اور ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے جونہی ڈاکٹر باہر آئے سب ایک ساتھ ان کی طرف لپکے ۔۔۔۔
“دیکھیے پلیز حوصلہ رکھیے ۔۔۔
ڈاکٹر نے ان کے پریشان چہروں کو دیکھ کر تسلی آمیز نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔۔
“پیشنٹ کی طبیعت اب ٹھیک ہے۔ان کا دایاں بازو فریکچر ہوگیا ہے ۔ سر اور جسم پر خراشیں آئی ہیں وہ بھی جلد ہی مندمل ہو جائیں گی ۔”
ڈاکٹر کی بات سن کر سب کی جان میں جان آئی ۔۔۔۔اور ان کے کب سے رکے ہوئے سانس بحال ہوگئے ۔۔۔
“ابھی پیشنٹ دوائیوں کے زیر اثر ہیں کچھ دیر بعد ہوش آئے گا “
جیسے ہی شہرام کو وارڈ میں منتقل کیا سب باری باری اس سے ملنے کہ لیے اندر گئے اور اس کا حال دریافت کیا۔۔۔۔
بس دلنشین اور اذلان فجر تینوں باہر تھے ۔۔۔۔
“ڈاکٹر کب تک ہم شہرام کو واپس لے جاسکتے ہیں ؟سردارواجد نے پوچھا ۔
“کل صبح انہیں ڈسچارج کردیں گے “
“جی ٹھیک ہے “
“میں نے ڈاکٹر سے پوچھا ہے وہ کہہ رہے کل صبح شہرام کو ڈسچارج کردیں گے ۔ایسا کریں آپ سب لوگ واپس حویلی چلے جائیں میں اس کو ساتھ لے کر آجاؤں گا “
“,اب جب سب ساتھ آئیں ہیں تو ساتھ ہی جائیں گے ۔جلال الدین نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھ کر کہا ۔۔۔
سب ان کی بات پر خاموش رہ گئے ۔۔۔
“ٹھیک ہے تو میں پھر پرائیوٹ روم کا انتظام کرتا ہوں “جہاں شہرام کے پاس سب رک جائیں کیونکہ وارڈ میں تو اتنے لوگ اسکے پاس نہیں رک سکتے “سردار واجد نے کہا اور ریسیپشن کی طرف چلے گئے ۔۔۔
فجر اور اذلان باہر کوریڈور میں بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔
کہ اچانک فجر کے دماغ نے کام کیا ۔۔۔
“دلنشین میں یہیں کہ ڈاکٹر سے اذلان کے بارے میں بات کروں ؟؟؟
“ٹھیک ہے بھابھی مگر دھیان سے “میں شاہو سے ملنے اندر جارہی ہوں “آپ کے بارے میں سب نے پوچھا تو کہہ دوں گی کہ آپ اذلان بھائی کو نیچے گارڈن میں لے کر گئیں ہیں۔”
“تھینکس “فجر نے ممنون نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“بھابھی تھینکس کس بات کا یہ ہمارا فرض تھا جو آپ ادا کر رہی ہیں ۔اللہ پاک آپ کو اپنے نیک مقصد میں کامیاب فرمائے “اس نے صدق دل سے دعا دی ۔
“بھابھی یہ پیسے رکھ لیں “اس نے اپنے پلو سے بندھے ہوئے کچھ نوٹ نکال کر فجر کی طرف بڑھائے ۔۔۔
“رکھ لیں بھابھی ڈاکٹر کی فیس کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑے گی ۔مجھے پتہ ہے آپکے پاس نہیں ہوں گے “
فجر نے اسکے ہاتھ۔ سے پیسے لے کر اپنی مٹھی میں دبا لیے ۔۔۔
“آئیے اذلان جی “
“کہاں جانا ہے گڑیا “؟؟
“آئیے تو اذلان جی میرے ساتھ “””
وہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئی ۔۔۔۔
اور ریسیپشن سے ساری معلومات لیں کہ اس شعبے کا ڈاکٹر کس فلور پر ہے ۔۔۔۔
“میں نے ان کا چیک اپ کیا ہے۔
مگر مجھے کچھ ٹیسٹ کرنے ہوں گے “
ڈاکٹر میرے پاس آج رات تک کا وقت ہے ۔میری کچھ مجبوری ہے پلیز بات کو سمجھنے کی کوشش کرئیے گا ۔کل صبح مجھے واپس جانا ہے ۔آپ کے جو بھی ٹیسٹ ہیں آج سب کر لیں ۔مجھے ان کا علاج کروانا ۔۔۔
“چلیں ٹھیک ہے ۔آپ باہر ٹیسٹ کے لیے ڈیوز جمع کروا دیں میں ان کا بلڈ سیمپل لے لیتا ہوں ۔اور لیب اسسٹنٹ سے کہہ دیتا ہوں کہ آج رات تک مجھے انکی رپورٹس دے دے ۔۔۔
“بہت بہت شکریہ ڈاکٹر “فجر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
ڈاکٹر میں نے بہت مشکل سے اذلان جی کو یہاں آنے کے لیے راضی کیا ہے اُنھیں انجکشن سے بہت ڈر لگتا ہے اُنھیں بہت غصّہ آئیگا سن کر۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنا ڈر بتاتے ہوئے کہا۔
عمر رسیدہ ماہر سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر مسکرانے لگے
کوئی بات نہیں یہاں دِن بھر ان جیسے انجکشن سے ڈرنے والے کافی پیشنٹ آتے ہے ہم اُنہیں ہینڈل کر لینگے ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے فجر کو تسلی دی لیکن وہ اب بھی پریشان تھی
اذلان جی اگر میں آپ سے کچھ مانگوں تو آپ دینگے
وہ ڈاکٹر سے ساری بات کرنے کے بعد باہر بینچ پر بیٹھے ہوئے اذلان کے پاس آئی اُسے سمجھانے کی غرض سے ۔۔۔
“مانگ لو پر میں اپنی گڑیا تمہیں نہیں دوں گا ۔
وہ سوچ کر اُس کی بات مانتے ہوئے بولا اُس کی بات پر فجر مسکرا دی۔تو چلیں آئیے پھر میرے ساتھ ۔۔۔۔وہ اسے اندر کمرے میں لائی جہاں ڈاکٹر موجود تھے ۔۔۔۔وہ سرنج نکال رہے تھے ۔۔۔۔
اذلان نے جب چمکتی ہوئی سرنج دیکھی تو اسکی آنکھوں میں خوف در آیا ۔۔۔
اذلان جی ڈاکٹر انکل آپ کا تھوڑا سا بلڈ نکالیں گے انہیں چاہیے پلیز ۔۔۔۔۔۔
اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا ۔۔۔کہیں اذلان اسکی بات پر پھر سے مشتعل نا ہوجائے ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔نہی۔ گڑیا ۔۔۔مجھے انجکشن نہیں لگوانا۔۔۔۔
اذلان فجر کے دونوں بازو پکڑ کر اسکے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا اذلان جی ۔۔۔۔۔۔۔ میں ہوں نہ آپ کے پاس ۔۔۔۔۔۔اِدھر دیکھیے میری طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔فجر نے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے اپنی جانب کیا اذلان اُسے خوفزدہ ہو کر دیکھنے لگا ڈاکٹر نے دوسری طرف سے آکر اُس کے بازو کو قابو کیا اور نبض ٹٹول کر سرنج ڈال دی ۔۔۔پھر بلڈ سیمپل لینا چاہا ۔۔۔جس پر اذلان نے زور سے چیخ ماری ۔۔۔
بس ہو گیا۔۔۔۔دیکھیے کچھ بھی نہیں ہوا
اذلان نے فجر کو غصے سے دیکھا اور پیر پٹختے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا
“اذلان جی میری بات تو سنئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فجر اُس کے پیچھے چلی آئی ۔۔۔
میں تمہاری کوئی بات نہیں سنوں گا تم گندی ہو ۔۔۔مجھے تم سے بات نہیں کرنی ۔۔۔۔۔
وہ فلور کی سیڑھیاں تیزی سے نیچے اترنے لگا ۔۔۔
سوری نا اذلان جی ۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز میری طرف دیکھیے تو صحیح۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے تیزی سے اسکو جا لیا ۔۔۔اور اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔
وہ خفگی سے پھولا ہوا چہرہ لیے اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔
اسکے ناراضگی کے انداز پر فجر کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔
“اب تو میں تم سے بالکل بھی نہیں بولتا تم ہنسی ہو نا مجھ پر ۔۔۔مجھے درد ہو رہی ہے ابھی بھی ۔۔۔۔تم مجھے لے کر گئی تھی اس گندے انکل کے پاس ۔۔۔۔وہ بازو اس کے آگے کرتے ہوئے بولا ۔۔۔جہاں خون کی ابھی بھی بوند باقی تھی ۔۔۔۔
فجر نے اپنی چادر کے کونے سے اسے جذب کیا ۔۔۔
“میں اپنے اذلان جی کے لیے دعا کر کہ یہاں پھونک مارتی ہوں پھر انہیں یہاں درد نہیں ہوگا ۔”وہ اسے پچکارتی ہوئی بولی ۔۔۔
” میں تم سے نہیں بولتا ۔۔۔تم بھی گندی ہو اور وہ انکل بھی گندا ہے “
“اچھا میرے پیارے سے ہزبینڈ میں آپ سے سوری بھی تو بول رہی ہوں نہ۔۔۔”وہ مسکرا کر بولی ….
وہ دونوں نیچے آئے تو سامنے ہی ہاسپٹل کی کینٹین نظر آئی ۔۔۔۔
“اذلان جی آپ کو چاکلیٹ کھانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اُس نے اذلان کی جانب سے آکر پوچھا تو اذلان نے اُسے خفگی سے دیکھتے ہوئے سے اثبات میں ہلا دیا مطلب اسے کھانی بھی تھی مگر غصہ بھی اپنی جگہ برقرار تھا ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کینٹین کی طرف گئی اور چاکلیٹ خرید کر اسے دی ۔۔۔۔
اذلان نے ریپر کھول کر چاکلیٹ کی بائیٹ لی ۔۔۔
اس نے دیکھا کہ فجر اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“میں نہیں دوں گا ۔یہ اذلان کی فیورٹ ہے “اس نے چاکلیٹ اپنے پیچھے چھپائی ۔۔۔
“میں آپ سے مانگ بھی نہیں رہی ۔۔۔”فجر نے بھی ناراضگی دکھائی ۔۔۔
“اچھا لے لو بائیٹ ۔۔۔مگر چھوٹی سی “اس نے چاکلیٹ فجر کے منہ کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔
فجر نے چھوٹی سی بائیٹ لی ۔۔۔
“اب صلح ہوگئی ؟؟فجر نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔
اذلان نے زور سے سر اثبات میں ہلایا تو فجر اسکے راضی ہوجانے پر دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگی کہ اسکی خفگی دور ہوگئی ۔۔۔


سردار حماد شہرام کی ڈسچارج سلپ بنوانے گئے ہوئے تھے ۔اور سب نکلنے کی تیاریوں میں تھے ۔۔۔۔
فجر موقع دیکھ کر اذلان کو کینٹین سے کچھ دلوانے کے بہانے ڈاکٹر کے پاس آئی ۔۔۔
“میں نے ان کی ساری رپورٹس سٹڈی کی ہیں ۔ان کی میڈیسن میں برابلم تھی جو ان کی دی جا رہی تھیں۔
ان کا پراپر ٹریٹمنٹ ہوگا اور شاید آپریشن بھی کرنا پڑے ۔
“ڈاکٹر اس پروسیجر میں کتنی دیر لگے گی “؟
“تقریباً ایک ماہ “انہوں نے بتایا ۔
“ٹھیک ہے ڈاکٹر آپ مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر دے دیں ۔
انہوں نے اپنا کارڈ اسکی طرف بڑھایا جو فجر نے پکڑ لیا اور اذلان کو ساتھ لیے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
راستے میں اس نے ساری تفصیل دلنشین کو بھی بتا دیں ۔۔۔۔
ان دونوں نے حویلی جا کر آگے کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا ۔۔۔


آج سردار جعفری کا چالیسواں تھا۔۔۔۔!
جس وجہ سے صبح سے مردان خانے میں رشتے داروں اور جاننے والوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔۔۔ وہ بھی معمول کے مطابق فجر کے وقت اُٹھ کر نماز پڑھنے کے بعد اپنے کام میں لگ گئی تھی۔۔ لیکن ابھی تک معاذ کے علاؤہ حویلی کے کسی فرد سے اس کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مہمانوں کی وجہ سے آج کام بہت بڑھ گیا تھا۔حویلی میں سب ہی افسردہ تھے کسی ملازم نے بھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا ‘ لیکن اُن کا حکم تھا مہمانوں کی خاطر میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔۔صبح سے دوپہر ہو گئی تھی لیکن وہ ابھی تک کچن میں ہی کھڑی تھی اور کوئی پچاس بار چائے اور شربت بنا چکی تھی۔اب پھر ریشماں اسے چائے کا کہہ گئی تھی وہ بھی چپ چاپ چائے بنانے لگی’ لیکن اس کے دل و دماغ میں کل والی باتیں ہی گونج رہی تھیں ‘ جن کی وجہ سے وہ کھوئی کھوئی سی تھی۔تب ہی معاذ نے کچن میں جھانک کر تیکھی آواز میں اسے مخاطب کیا۔۔۔
“تم یہاں فارغ کھڑی کیا کر رہی ہو۔۔؟ میرے لیے چائے بنا کر بھیجو۔” لیکن وہ کچھ نہیں بولی کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جنہوں نے ایک بار بھی اسے مڑ کر نہیں دیکھا اور نا اس کے بارے میں کچھ پتہ کیا۔۔۔”کیا میں ان پر بوجھ تھی جو انہوں نے مجھے اتار پھینکا ؟؟؟”وہ انہیں سوچوں میں غرق تھی ۔۔
“میں کچھ کہہ رہا ہوں تم سے۔!
لگتا ہے کان پر تھپڑ پڑے گا تب ٹھیک سے سنائی دے گا ۔۔”وہ اس کی لاپرواہی دیکھ کر اس کے سر پر آ کر زور سے چیخا۔۔۔۔
دعا نے
“کب سے بکواس کر رہا ہوں میں۔۔! تم کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔” معاذ نے تھوڑا آگے بڑھ کر غصے سے اُسے بازو سے پکڑا کر کھینچا تو اس کے ہاتھ میں پکڑی گرم چائے کی کیتلی زمین بوس ہو گئی اور ساری چائے اس کے دونوں پاؤں پر آ گری تھی “آہ سسی۔۔۔” درد سے اک ہلکی سی سسکاری اس کے منہ سے نکلی اور آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔چائے کے کچھ قطرے پاس کھڑے معاذ کے پاؤں پر بھی گرے تھے۔جس پر وہ تو بھڑک اٹھا ۔۔۔۔
“گنوار ۔لڑکی ۔۔۔! آنکھیں گھر ہی چھوڑ آئی ہو ۔۔۔پاوں جلا کر رکھ دیا میرا۔۔۔” اس نے بدتمیزی سے بولتے ہوئے کھینچ کے تھپڑ دعا کے منہ پر دے مارا۔وہ تو دائیں گال پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نظروں سے اُسے ہی دیکھے گئی ‘ اک پل کے لیے تو اسے اپنے پاؤں میں ہونے والی جلن بھی بھول گئی تھی۔۔۔۔!
“کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔؟” شور سن کر پلوشہ بیگم جو آج چالیسویں کے لیے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔ جلدی سے بھاگ کر کچن کی طرف آئیں۔۔معاذ کو اپنی بیوی پر چلاتے دیکھ کر وہ وہیں دہلیز میں ہی رک گئیں۔۔۔
“ہونا کیا ہے؟؟؟اماں سائیں اس جاہل لڑکی نے سارا پاؤں جلا دیا میرا۔” اس نے دعا کو نفرت سے گھورتے ہوئے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا۔ان کی نظریں اس کے پاؤں سے ہوتے ہوئے دعا کے پاؤں کی طرف گئیں۔۔ جو گرم چائے گرنے سے بری تھا جھلس گئے تھے۔ اور سرخی مائل دکھائی دے رہے تھے
“تمہیں تو اتنا خاص کچھ نہیں ہوا جبکہ دلہن کے تو دونوں پاؤں بری طرح سے جل گئے ہیں۔۔”پلوشہ بیگم فکر و پریشانی سے کہتے آگے بڑھی۔۔
“آپ کو اس ۔۔۔۔اس لڑکی کی فکر ستا رہی ہے۔۔جو ہمارے دشمنوں کے خاندان سے ہے ۔؟؟؟
“ریشماں ۔۔۔۔او ۔۔۔ریشماں !!!!
انہوں نے اپنی ملازمہ کو آواز دی ۔۔۔
“جاؤ جا کر برنال لاؤ فرسٹ ایڈ باکس سے ۔۔۔۔انہوں نے دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اک سلگتی ہوئی نظر معاذ پر ڈالی اور دعا کو بازو سے پکڑ کر سہارا دیتی کچن سے باہر لے آئی’ دعا بھی اپنے جلے پاؤں کا درد بھول کر ٹرانس کی کیفیت میں چلتی ان کے ساتھ ہی باہر آ گئی۔ انہوں نے دعا کو صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔۔۔
دعا تو یہی سوچ رہی تھی کہ جسطرح کا سلوک معاذ کا ہے ویسا رویہ ہی اس کی والدہ کا بھی ہوگا ۔۔۔آخر ان کا سہاگ اجاڑا تھا اسکے والد نے ۔۔۔۔
تب ہی معاذ غصّے میں پیچ و تاب کھاتا ہوا اُن کے سر پر پہنچ گیا ۔
“”معاذ میں کچھ بھی نہیں بھولی مگر میری ایک بات یاد رکھنا اس سب میں اس بچی کا کوئی قصور نہیں ۔کسی اور کے گناہوں کی سزا اسے مت دو “
معاذ مجھے تم سے یہ امید قطعاً نہیں تھی ۔اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم اس سے ایسا سلوک کر رہے ہو تو میں بہت پہلے تمہیں روک دیتی ۔۔۔
“اپنا اصلیت بھولو ۔۔۔۔یہ تم نہیں ۔۔۔۔غصے اور بدلے نے تمہاری عقل پر پردہ ڈال دیا ہے۔اگر تمہارے بابا سائیں زندہ ہوتے اور تمہارا یہ روپ دیکھتے تو کتنے ناراض ہوتے تم سے ۔۔۔۔تم تو مثال تھے ہمارے لیے ۔مجھےاس معصوم کے ساتھ تمہاری زبان اور سلوک دیکھ کر شرمندگی ہو رہی ہے اپنی تربیت پر ۔۔۔آج تم نے میرا مان توڑ دیا ۔۔۔
“میرے زندہ ہوتے تم ۔۔۔۔! اِک جیتے جاگتے انسان کے ساتھ جانوروں والا سلوک نہیں کر سکتے ۔کیونکہ یہ بھی اک انسان ہے اور اسے بھی بہت درد ہوتا ہے۔یوں انتقام میں اندھے ہو کر جیتے جی کسی انسان کو مارنا کہاں کی انسانیت ہے۔اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو پھر کیا فرق رہ جائے گا ہم میں اور اس کے خاندان میں۔۔۔” وہ اٹل انداز میں بولیں۔۔
جبکہ معاذ جو غصے میں کھڑا تھا ان کی باتیں سن کر سر جھکا گیا ۔۔۔
۔۔جبکہ دعا اپنی آنکھوں میں آنسو لیے ڈبڈبائی نظروں سے پلوشہ بیگم کو دیکھ رہی تھیں جو اسکی ڈھال بن رہی تھیں ۔
“دعا تم اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔” پلوشہ بیگم نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔اس نے آنسو بھری آنکھوں سے اُنہیں دیکھا تو اُن کا دل کٹ کر رہ گیا۔وہ وہاں سے اٹھ کر خود کو گھسیٹتی ہوئی جانے لگی لیکن اس کے پاؤں نہیں لگ رہے تھے نیچے وہ لڑکھڑا گئی۔۔!
“ریشماں۔۔۔دلہن کو اس کے کمرے میں لے کر جاؤ اور دلہن جب تک تمہارے پاؤں ٹھیک نہیں ہوتے تم کمرے سے باہر مت آنا یہ میرا حکم ہے۔۔اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ مجھے آ کر کہہ سکتا ہے۔”پلوشہ بیگم نے دعا کی حالت دیکھ کر اونچی آواز میں اپنا حکم سنایا ۔۔۔
ریشماں نے بمشکل سہارا دے کر اسے کمرے تک پہنچایا پھر اسے بیڈ پر بیٹھا کر اس کے زخمی پاؤں اٹھا کر بیڈ پر رکھنے لگی۔۔
“تت تم رہنے دو ‘ مم میں خود کر لوں گی ریشماں ۔۔” اس نے جلدی سے اُسے روکا۔اُس کے لہجے میں بھاری پن اور آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔۔اس کی حالت دیکھ کر ریشماں بھی رونے لگ گئی۔
“کیا ہوا ریشماں تم کیوں رو رہی ہو۔؟میری تو قسمت میں یہی سب ہونا لکھا ہے “
“بی بی جی سردار معاذ دل کے بہت اچھے ہیں ۔بس ذرا غصے میں ہیں ۔دیکھنا وہ آپ کے ساتھ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔۔”اس نے اپنے تئیں اسے تسلی دی ۔۔۔
“مجھے اپنی زندگی میں اب کچھ بھی اچھا ہونے کی امید نہیں “وہ دل گرفتگی سے رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔
“آپ لیٹ جائیں بی بی جی زیادہ باتیں نہ کریں۔۔۔!آپ کی طبیعت نہیں ٹھیک۔” اس نے ریشماں کی بات سن کر اپنے دونوں پاؤں کو اٹھا کر بیڈ پر رکھا جس سے اٹھتی درد کی اک لہر اس پورے وجود میں سرائیت کر گئی تھی۔۔۔اس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں بھینچ کر پاؤں سے اٹھتی درد کی ٹیسوں کو برداشت کرنے کی نا کام سی کوشش کی لیکن درد کی شدت بڑھتی ہی جا رہی تھی ‘ اتنے دیر صبر کے باوجود بھی وہ درد کو برداشت نہ کر پائی اور آخر کار اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسو چھلک ہی پڑے۔۔!