Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 14
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 14
گوٹھ میں جسے بھی پتہ چلا تھا کہ سردار شہرام کے ساتھ حادثہ ہوگیا ہے تو روزانہ کوئی نا کوئی مردان خانے میں اس کا احوال دریافت کرنے آتا ۔۔۔۔
اس سلسلے کو قریبا ایک ہفتہ بیت چکا تھا ۔شہرام کی طبیعت اب کافی بہتر تھی ۔دلنشین نے اس کی خوب تیمارداری کی ۔شام ہوتے ہی اسے دوائی دے کر خود کچن کے کاموں میں مشغول ہو جاتی اور رات گئے روم میں آتی جب شہرام ادویات کے زیر اثر سو چکا ہوتا ۔۔۔آج شہر سے کچھ اسکے دوست ملنے آئے تھے جو رات گئے تک مردان خانے میں شہرام کے ساتھ رہے ۔
دلنشین جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی ۔۔۔۔ عالم خواب میں آنکھیں بند کیے اسے ہی خواب میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔بے شک وہ اپنے اور شہرام کے رشتے کو دماغی طور سے اتنی جلدی قبول نہیں کر پا رہی تھی مگر جب شہرام کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تب سے اسے پتہ چل گیا تھا کہ شہرام اس کے لیے کیا ہے۔اگر اس کو کچھ ہوا تو۔۔۔یہ سوچ ہی اس کی جان نکال دیتی ۔۔۔ اسکا دل بری طرح دہل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
شہرام نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تو اس کی توقع کے مطابق اس کی دل سرکار سو چکی تھیں۔
ٹھنڈی آہ بھرتا وہ کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کیا نائٹ بلب میں اپنے بیڈ پر مزے سے سوئی دلنشین کو دیکھ اس کے چہرے پر رومانوی تاثرات نمودار ہوئے آنکھوں میں شرارت لیے اپنی مخصوص چال چلتا وہ سامنے صوفے پر جا بیٹھا اور جیب سے سیگریٹ نکال کر سلگائی اور لبوں سے لگا لی ۔۔۔کچھ دیر سگریٹ کے دھوئیں کے گول گول مرغولے بناتا ہوا میں تحلیل کر رہا تھا ۔۔۔۔
ٹی۔پنک لپ اسٹک سے مزین شبنمی لبوں نے اسے اپنی جانب مائل کیا ۔۔۔۔
” بہت کر لی دل سرکار آپ نے عیاشیاں اب اور نہیں ۔۔۔۔۔۔آپ نے بہت تڑپا لیا اس ناچیز کو ۔۔۔اب اور نہیں “
مدھم روشنی میں وہ اس کے حسین سراپے سے نظریں ہی نہیں ہٹا پا رہا تھا وہ ڈھیلا سا لائٹ پنک کلر کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھی دوپٹہ ایک طرف پڑا تھا ۔۔۔کمفرٹر لینے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی ۔۔۔جس میں اسکے جسمانی نشیب و فراز واضح ہو رہے تھے ۔۔۔ شہرام اس کے وجود کو اپنے نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کبھی اس نے دلنشین کو بغیر دوپٹے کے نہیں دیکھا تھا۔آج اس کا سراپا اسے بہکا رہا تھا۔۔ انگلیوں میں دبی ہوئی سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر بوجھل قدموں سے چلتا ہوا بیڈ کے قریب آرکا ۔۔۔ اور ہلکا سا جھک کر اسے دیکھنے لگا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو نرمی سے کان کے پیچھے کیا اب وہ بغور اس کے وجود کا نظروں سے جائزہ لینے لگا۔۔۔
اس کے ناک میں چمکتی ہوئی لونگ اسے مسمرائز کر گئی ۔۔۔
وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کی شہ رگ کو اپنی پوروں سے سہلانے لگا۔۔۔
“دنیا کی خوبصورتی آپ سے شروع اور آپ پر ہی ختم “وہ سرگوشی نما آواز میں اسکے کان کے قریب چہرہ کیے بولا ۔۔۔۔
“میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا تم صرف میری ہو ، نا کوئی تم سے پہلے تھی اور نہ کوئی تمہارے بعد میری آنکھوں میں ٹھہرے گی، میں نے تم سے محبت کی ہے دل سرکار !!!
جذبات سے چور بہکے بہکے انداز میں وہ دلنشین پر جھکا تھا اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر لیا شدت اس قدر تھی کہ بے خبر سوئی ہوئی دلنشین پہلے تو نیند میں کسمائی پھر سانس رکنے پر ہڑبڑا کر بیدار ہوئی اور دونوں ہاتھوں سے زور لگا کر شہرام کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے الگ کیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگی سانسیں ہموار کرتی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے شہرام کو دیکھنے لگی ۔جو اسکے بے حد قریب تھا ۔۔۔
اور اب وہ بیٹھی گہرے گہرے سانس لینے کے ساتھ کھانس بھی رہی تھی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا
” یہ کیا بد تمیزی ہے ۔۔؟؟”
اس کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی آنکھیں بے تحاشہ سرخ ہو رہیں تھیں۔۔۔
” اسے بدتمیزی نہیں پیار کرنا کہتے ہیں۔مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ والے پیار محبت کی مثالیں آپکی ڈکشنری میں ناپید ہیں۔انہیں ہی آپکی ڈکشنری میں بھرنے کی ادنی سی کوشش کی ہے ۔۔”
معنی خیزی سے کہتا وہ اس کے ہوش اڑا چکا تھا اب مکمل نیند اتر چکی تھی دلنشین کےحواس بیدار ہو چکے تھے دلنشین اس کے انداز پر اندر سے سہم گئی شہرام اس کا اڑا رنگ دیکھ کر خاصا محذوذ ہوا۔۔۔۔
” تت تم دور رہو مجھ سے ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر واقعی سہم گئی تھی ۔۔۔
شہرام اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا جسے دیکھ کر دلنشین نے نفی میں سر ہلایا
” شرم نہیں آتی تمہیں میرے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے۔”
۔
“بلکل بھی نہیں “بہت وقت دے چکا میں تمہیں ہمارے نئے رشتے کو سمجھنے کے لیے مگر تمہارے تو نخرے برداشت سے باہر ہوگئے ہیں اب ۔۔۔شوہر کے حقوق و فرائض کا کوئی احساس نہیں ۔۔گھر والوں کی خدمتیں کرتی رہو ۔۔۔شوہر جائے بھاڑ میں تمہاری بلا سے ۔۔۔۔لیکن اب اور ڈھیل نہیں دوں گا ۔۔۔ تمہاری لگائی گئی تمام حدبندیوں کو توڑ دوں گا آج میں ۔
دلنشین خوفزدہ ہرنی کی مانند ڈری ہوئی نظر آرہی تھی ۔۔۔
“نہیں شاہو ۔۔۔کہہ دو کہ تم مذاق کر رہے ہو ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں کروگے تم ۔۔۔ہے نا ۔۔۔۔۔”
وہ سراسیمہ انداز میں کہتی ہوئی تھوڑا پیچھے کو کھسکی۔
“میں ایسا ہی کچھ کرنے والا ہوں جس سے تم کل شرما جاؤ ۔۔۔ہائے سچ میں تمہیں شرماتے ہوئے دیکھنے کی چاہ ہے بہت ۔۔۔۔”
وہ شرٹ ایک طرف کو پھینکتے دلنشین پہ جھکا تو اس نے خوفزدہ ہوتے آنکھیں بند کرلیں۔
شہرام نے اسکا جائزہ لیا جو لرزتے ہونٹوں اور پلکوں سے وہ اسے بہکا رہی تھی ۔۔۔
“ممم۔۔۔میں تمہاری جان لے لوں گی ۔۔۔۔وہ ہمت مجتمع کیے پھر سے اسکی خمار زدہ آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑے وہ غصے سے بولی تھی جبکہ اب شہرام نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے دونوں بازو اوپر کرکے مزید جھک کر اس کی راہ فرار کے راستے بند کر چکا تھا دلنشین بری طرح اس کی گرفت میں مچل رہی تھی ۔
” تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری یہ ننھی سی جان میری طاقت کا مقابلہ کرسکتی ہے ؟ ۔۔”
وہ جس انداز میں بول رہا تھا دلنشین کی جان پھر سے ہوا ہونے لگی مزید اس کی قربت اسے بے حال کر رہی تھی
” شاہو پلیز مجھے یہ سب پسند نہیں ۔۔ “
” دل سرکار ۔۔ ایک بار کرنے دیں پلیز ۔۔۔پھر آہستہ آہستہ آپکو سب پسند آنے لگے گا ۔۔”
وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑا گیا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔۔۔۔۔
“پھر آپ ہی کہیں گی شاہو پلیز مجھے پیار کرو نا ۔۔آج تم نے مجھے پیار نہیں کیا ۔۔۔”
” تت تم بہت گھٹیا آدمی ہو ۔۔سب کو اپنی طرح گھٹیا سمجھ رکھا ہے “
دبی دبی آواز میں غرائی وہ اس کی گرفت میں مچل رہی تھی
” صرف گھٹیا نہیں ۔۔بہت رومینٹک بھی ہو۔ آج سب راز کھل جائیں گے “
وہ ذومعنی انداز سے بولا تھا اسے غصہ تو بہت آیا تھا دلنشین کے بار بار انکار کرنے سے
” چھوڑو مجھے ۔۔ یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے ۔۔ مم مجھے ابھی کچھ اور وقت چاہیے ۔۔ “
اسے ہنوز اپنے پر جھکا پا کر وہ اب بمشکل بول پائی تھی
” اب مجھے آپ کی آواز نا آئے دل سرکار فضول خواہشات ترک کردیں ۔اب مزید نہیں ۔۔”
وہ سپاٹ چہرہ لیے بولا تھا لہجہ بلکل سرد تھا۔۔۔۔
“شاہو مجھے نفرت ہو رہی ہے تم سے ۔۔۔۔وہ کپکپاتے ہوئے انداز میں بولی ۔۔۔
“صبح تک پیار ہو جائے گا ” وہ اپنے لب دل نشین کی پیشانی سے اب اس کے گال اور گردن تک لے جاتا ہوا بے رحمی سے بولا چہرے پر چٹانوں جیسی سختی در آئی تھی۔۔۔۔۔
“شاہو۔۔۔نہیں ۔۔”
اب کے وہ منمنائی تھی
” دل سرکار میرے جذبات کی آنچ میں آپکو جھلسنا ہے ساری رات ۔ “
دلنشین بھر پور مزاحمت کرتی آنکھیں میچے شہرام کی گرم سانسیں اور لمس اپنی گردن کر محسوس کر رہی ۔۔۔۔اب وہ اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا اس بار دلنشین نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموش رہی تھی۔۔۔۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں۔۔
شہرام اپنے الفاظ کا رس اسکے کانوں میں گھول رہا تھا ۔۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ بھی بند کردیا ۔۔کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا ۔۔۔
“شاہو رحم کرو مجھ پر “
“ششششش۔۔۔۔۔
اس نے دل کے لبوں پر انگلی رکھی ۔۔۔۔
دلنشین نے اسکے سینے کے بالوں کو جکڑا تو شہرام کے لب مسکرانے لگے ۔۔۔۔
جوں جوں رات گزر رہی تھی شہرام کی جسارتیں بڑھتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔
******
سوچا چھوٹو سا سرپرائز دے دوں اتنی ہی لکھی تھی ۔ابھی تو پوسٹ کردی ۔باقی کل لانگ ایپی رات آٹھ بجے ۔
