394.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 15

معاذ کا رویہ دعا سے پہلے جیسا نہ تھا اب وہ خاموش ہوگیا تھا ۔پلوشہ بیگم کی روزانہ کی ڈانٹ ڈپٹ نے اسے کافی سیدھا کردیا تھا ۔دونوں بے شک ایک کمرے میں رہ رہے تھے مگر دو اجنبیوں کی طرح ۔۔۔آج ہی پلوشہ بیگم نے دعا کو زبرستی معاذ کے ساتھ بھیجا تھا ۔۔۔۔دعا نے بڑی سی

شال سے اس نے خود کو ڈھانپا ہوا تھا ، شال اور سوٹ دونوں ہی بد رنگ ہو ہوگٸے تھے ، معاذ نے شرمندگی سے نظریں چراٸی اور فرنٹ ڈور کھول کر اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گٸی۔

”۔۔ہم کدھر جا رہے ہیں۔؟“ کچھ دیر بعد اس نے لب بھینچ کر خاموشی سے ڈراٸیو کرتے معاذ سے پوچھا۔۔

“اماں سائیں نے کہا کہ تمہیں شاپنگ کروادوں “

دعا نے حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھا جو پرسکون سا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے گاڑی چلا رہا تھا اور اس پہ گاہے بگاہے نظر ڈال رہا تھا ۔۔۔۔

”اب ہمیں ساتھ رہنا ہے تو دوستی کرلیتے ہیں ۔میں جانتا ہوں میں نے بہت برا رویہ اختیار کیا تمہارے ساتھ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں “

وہ دل میں پریشان ہو رہی تھی نجانے وہ کیا کہنے والا تھا ،

”اب تم بھی کچھ بولو گی ۔۔۔؟“۔

”میں کیا بولوں ۔“

“تو کیا میں یونہی پاگلوں کی طرح خود سے باتیں کرتا رہو گا سارا راستہ ؟؟؟اس نے سختی سے کہا ،

دعا خاموش ہو کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی ، اس کی آنکھیں بہنے کو تیار تھی ‘ لیکن پھر وہ اپنے آنسو اندر ہی اتار گٸی ،

نا تو اس کا کرخت انداز پسند آیا تھا اور اب دوستانہ رویہ بھی جان نکال رہا تھا ۔۔۔وہ کشمکش میں مبتلا تھی کہ کیا رویہ اختیار کرے اسکے ساتھ ۔۔۔۔”کیا میں کٹھ پُتلی ہوں جب جس نے چاہا مجھے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر لیا ۔۔۔۔ابھی دل میں بدگمانیوں کے بادل چھٹے نہیں تھے ۔۔۔معاذ نے شہر کی حدود میں داخل ہونے کے بعد نے گاڑی بہت بڑے شاپنگ مال کے سامنے روکی لیکن وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی، معاذ نے دوسری طرف سے آ کر گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ خاموشی سے باہر نکل آٸی، معاذ کو بھی اپنے سخت رویے کا احساس ہوگیا تھا،اسی لیے وہ اپنے ازلی نرم خو شخصیت میں لوٹ آیا تھا ۔وہی نرمی جو اسکی شخصیت کا خاصہ تھی ۔۔۔۔

”مجھے اپنے سخت اور وحشیانہ روئیے کا احساس ہے دعا ۔۔۔اور میں معافی چاہتا ہوں اس کے لیے ۔۔۔اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا “ اس معزرت خواہانہ انداز میں کہا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔

“میرے خیال میں ساری بات ہی احساس کی ہے ۔۔۔

“اگر کسی کو احساس ہوجائے اپنی غلطی کا تو سامنے والے کو اسے ایک موقع ضرور دینا چاہیے ….اپنی غلطی سدھارنے کا “

دعا نے اک نظر معاذ کے شرمندہ سے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر سے نظریں جھکا کر بولی۔۔

”آپ معافی مت مانگیں ۔۔۔“

” میں مانگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔“

“ٹھیک ہے ۔۔”وہ دل بڑا کیے بولی ۔۔۔

”چلیں اب۔۔۔۔“معاذ کی ہتھیلی ابھی بھی اسکے سامنے پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔

”ہممممم۔۔۔۔۔“دعا نے اپنا ہاتھ اس پر آہستگی سے دھر دیا ۔۔۔۔

معاذ مضبوطی سے دعا کا ہاتھ پکڑ کر شاپنگ مال کے اندر چلا گیا،

ساری شاپنگ معاذ نے ہی کی تھی وہ تو بس خاموشی سے ہوں ‘ ہاں میں سر ہلا دیتی تھی ، معاذ کو لیڈیز شاپنگ کا کوٸی خاص تجربہ نہیں تھا۔۔بس کبھی کبھار فجر کے ساتھ اماں سائیں کے لیے کچھ نا کچھ خریدا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی اس نے پہلی بار دعا کے لیے دل سے بہت اچھی شاپنگ کی تھی ، اس کی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ کبھی اپنی واٸف کے سات آ کر شاپنگ کرتا جو کہ آج پوی ہو گٸی تھی۔اتنی زیادہ شاپنگ دیکھ کر دعا تو حیران ہی رہ گٸی،

وہ اس کی شاہ خرچی پر دنگ تھی ۔۔کیسے بنا سوچے سمجھے ہر چیز خریدے جا رہا تھا ۔۔۔۔

”اب بس بھی کر دیں ۔ “ کب سے وہ خاموش تھی آخر کار بول ہی پڑی۔

”کیوں کیا ہوا۔؟“ وہ ہلکا سا مسکرا کر حیرانی سے بولا کیونکہ وہ اتنی دیر کے بعد جو بولی تھی۔

”کیا آپ نے آج ہی خریدنا ہے سارا شاپنگ مال۔۔۔؟” اس نے معصومیت سے سوال کیا ، معاذ ٹکٹکی باندھے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جو بہت خفا خفا اور سادہ سی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

”وہ مم میں یہ کک کہہ ر۔۔“ اس کو اپنی طرف غور سے دیکھتے پا کر وہ گڑبڑا گٸی اور الفاظ اس کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے لگے۔

”اچھا ٹھیک ہے۔۔! ہم بس کر دیتے ہیں باقی شاپنگ پھر کبھی سہی۔۔“ اس کو گھبراۓ ہوۓ دیکھ کر معاذ نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر کہا،

”جج جی میں بھی بہت تھک گٸی ہوں ‘ اب گھر چلتے ہیں ہم پلیز۔۔“ دعا نے کہا ، وہ واقعی تھک چکی تھی۔۔

واپسی کا سفر خاموشی سے گزرا ۔۔۔۔معاذ اسے بیچ بیچ میں دیکھتا رہا جو انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے نجانے کن سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔۔

************

صبح کا اجالا چہار سو اپنے پنکھ پھیلا چکا تھا ۔صبح کی تروتازہ ہوا سے کھڑکی میں لگے پردے اڑ اڑ کر اپنی آمد کی خبر دے رہے تھے ۔۔۔شہرام نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھولیں اور دیوار گیر کلاک پر نظر ڈالی ۔۔۔جہاں صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔۔۔

اس کی نظر اپنے قریب محو استراحت دلنشین پہ پڑی ۔۔جو شاید فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے اٹھی ہوگی تب ہی شاور لے چکی تھی ۔۔اور نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ سو چکی تھی ۔۔۔۔

شہرام کو اس کے نم بالوں میں سے شیمپو کی بھینی بھینی مہک اپنی سانسوں میں گھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو اس نے دلنشین کے نم بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔۔

اسے اپنے قریب گرم سانسیں محسوس ہوئیں تو آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔اس نے اپنی جگہ سے اٹھنا چاہا مگر ناکام رہی ۔۔۔۔اس نے ٹھٹھک کر دیکھا ۔شہرام کہنی کے بل لیٹا ہوا اسے ہی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔۔۔

اس سے پہلے کہ دلنشین وہاں سے اٹھتی شہرام نے اسے وہاں سے اٹھنے سے روک دیا ۔۔

“میرا دل چرانے کے لیے کیا سزا دی جائے ؟؟ “

“سراسر الزام ہے یہ ؟؟؟

میں نے ایسا کچھ کچھ نہیں کیا “

وہ تڑپ کر رہ گئی اسکے الزام پہ ۔۔۔۔

“چوری تو کی ہے آپ نے دل سرکار “

“اور جو تم نے کیا ؟؟؟

وہ پلٹ کر سوال داغ گئی ۔۔۔

“وہ میرا حق تھا جو وصول لیا۔۔۔۔۔

وہ اسے سرشاری سے اپنی آنکھوں میں جذب کر رہا تھا ۔۔۔دل نشین واپس آنکھیں موند گئی ۔۔۔شہرام نے اسے مزید تنگ نہیں کیا اور وارڈروب سے کپڑے نکال کر باتھروم میں بند ہوگیا۔

تقریباً دس ،پندرہ منٹ بعد وہ فریش ہو کر باہر آیا ۔۔وہ اتنے میں کمرہ درست حالت میں لا چکی تھی ۔کمفرٹر تہہ کر رہی تھی ۔۔۔شہرام مدھم سا ہنستے آئینے کے سامنے کھڑا ہوتے اپنے بالوں کو برش کی مدد سے سیٹ کرتے اب وہ خود پہ پرفیوم چھڑک رہا تھا ۔۔۔ اس نے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے۔

“میں نے تو سوچا تھا صبح اٹھ کر آپ سے خوب کھری کھری سننے کو ملیں گی ۔اور کچھ نہیں تو دو چار مکے تو کھانے کو مل ہی جائیں گے مگر یہ کیا میری جنگلی بلی آج بھیگی بلی بنی ہوئی ہیں کوئی احتجاج نہیں ۔۔۔۔

“اس کایا پلٹ کو میں کیا سمجھوں ؟؟؟

شہرام اس کے چہرے پہ بکھری لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے اس کے گلابی ہوتے گال پہ لب رکھے۔وہ اس کی مونچھوں کی چبھن سے کسمسائی۔گورے گال شرم سے تمتمانے لگے ۔۔۔ساری رات اسکی جسارتیں سہہ کر اب مزید سہنے کی ہمت باقی نا تھی ۔۔۔۔

شہرام اسکے چہرے پہ بکھرے ہوئے گلال کو دیکھ خوب صدقے واری ہوا ۔۔۔۔اور خوشی سے اس نے دلنشین کے گرد ایک مضبوط حصار باندھتے اپنا چہرا اس کی گردن میں چھپا کر گہرا سانس بھرا۔ اپنی ہلکی بڑھی بیئڑد والا گال اس کی گردن پر سہلایا تو وہ جو خاموش کھڑی تھی ۔۔۔ گردن پر چبھن کے احساس سے اپنی حالیہ پوزیشن کو دیکھا تو شرم سے دوہری ہونے لگی۔۔۔اس نے گھڑی پر نظر ڈالی ۔۔۔

“اف آج اتنی دیر کردی اٹھنے میں باہر سب نجانے کیا سوچیں گے “اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔

شہرام اسکی خاموشی کو اقرار سمجھتے ہوئے ایک بات پھر اپنی منمانیوں پر اتر آیا تھا اس نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا جس پر شہرام نے مسکراتے ہوئے اپنا حصار مزید تنگ کیا اور والہانہ نگاہیں اس کی چہرے پہ ٹکاتے اس کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو اپنے لبوں سے چھوا۔وہ اسے دوبارہ رات والی حالت میں آتا دیکھ پریشانی سے لب دانتوں تلے دباگئی۔

“شاہو بہت وقت ہوگیا ہے ۔”

اس نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا۔

“اب میرا موڈ نہیں چھوڑنے کا اتنی مشکل سے تو ہاتھ آئی ہو ۔ورنہ پھر سارا دن غائب ہوجانا تم نے کام کے بہانے کبھی اس نا چیز کی بھی فکر کر لیا کریں ۔”

ہلکا سا چہرے اٹھاتے اس نے اسے جھڑکا پھر جھک کر اپنا چہرا اس کے بالوں میں چھپا لیا اور اس کی مہک کو خود میں سمایا۔

“ویسے ایک رات میں ایسا کیا ہوا جو آپ اتنی فرمابرداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں ۔”

وہ پل بھر کو نظروں میں نظریں ملائے بولا ۔۔۔

“مجھے پتہ چل گیا ہے ،زندگی تو اب تمہارے ساتھ ہی گزرنی ہے تو پھر رو کر گزاروں یا ہنس کر ۔۔۔۔

بس یہی فیصلہ باقی تھا ۔۔۔تو میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں خوش رہ کر اپنی زندگی تمہارے ساتھ گزرواں گی “وہ سر جھکائے بولی ۔۔۔

اسے دوبارہ سے رات والے موڈ میں جاتا دیکھ کر دلنشین نے اسے پیچھے کرتے کہا ۔

“بس بھی کرو ۔۔۔۔اب کچھ شرم کر لو “

اس نے شرم سے سرخ پڑتے چہرے سمیت دانت کچکچاتے ہوئے کہا۔

“شرم کیا ہوتی ہے دل سرکار ۔۔۔اس چیز سے کبھی ہمارا واسطہ نہیں پڑا۔۔۔اور امید ہے آگے پڑنے بھی نہیں والا ۔۔۔

اس نے اس کی نازک لبوں کو نرمی سے اپنے لبوں سے مہکاتے ہوئے کہا ۔۔۔ اسکی صبح کی روشنی میں اس باک حرکت نے دلنشین کی دھڑکنوں میں ادھم مچادیا۔اس کا نرم گرم سلگتا لمس دلنشین کو تڑپانے کیلیے کافی تھا۔

“شاہو !!!وہ گرفت میں مچلنے لگی تو جھٹپٹا کر بولی ۔۔۔

“اب آپ دوسال بڑا ہونے کا رعب مت جمائیں مجھ پہ ۔۔۔رتبے میں اب آپ سے بڑا ہوں میں ….

دلنشین نے اسکی بات پہ گھور کر دیکھا تو وہ انکھ ونگ کیے شرارت سے مسکرانے لگا ۔۔۔

“ویسے تمہارا اقرار دیکھ کر ایک لمبے سے ہنی مون پہ جانے کا دل کر رہا ہے جہاں صرف تم اور میں تیسرا کوئی نا ہو ۔”

دلنشین نے اپنا آپ چھڑوانے کو زور لگایا ۔۔۔اور باہر جانے کے لیے پر تولنے لگی ۔۔۔

“اتنی جلدی کیا ہے دل سرکار ہم سے دور بھاگنے کی۔”

شہرام نے شوخ لہجہ اپناتے ہوئے گہرے انداز میں کہا تو دلنشین نے اس کی بات پہ بوکھلاتے نفی میں سر ہلایا۔

“تو پھر بتائیں ۔۔۔چلیں گی میرے ساتھ ہنی مون پر؟؟؟

“ٹھیک ہے چلوں گی ۔۔۔مگر ایک شرط پر۔”

“آپ کی سب شرطیں منظور ہیں “

وہ اسے ایک جھٹکے اپنے قریب کھینچتے حصار میں لیا گیا اور اس کے چہرے پہ ایک پرشدت لمس چھوڑا۔وہ شرم سے کپکپا کر رہ گئی۔

“پہلے سن تو لو “

اس کہ عمل پر ہڑبڑاتے ہوئے کچھ الٹا کہتے کہتے رکی پھر اپنا جملہ کہہ کر اس کی جانب دیکھا جسکی نظروں کا ارتکاز دیکھ کر دلنشین کی سانسیں خشک ہوگئی۔۔

“شاہو بس اب ۔۔۔۔ورنہ میں سچ میں ناراض ہوجاوں گی “

“بہت ظالم ہیں آپ۔۔۔۔۔ دل سرکار “

وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔۔۔۔

دلنشین اسکی ادا پہ کھکھلا کہ ہنسنی ۔۔۔۔

“شاہو میں چاہتی ہوں کہ ہم اپنے ساتھ فجر بھابھی اور اذلان بھائی کو بھی ہنی مون پہ لے کر چلیں “وہ شہرام کے بٹنوں کو کبھی کھول رہی تھی اور کبھی بند کر رہی تھی ۔۔۔۔

“دل سرکار یہ کیسا ہنی مون ہوا بھلا ۔۔۔؟؟؟

“میں نے اکیلے جانے کی بات کی ہے اور تم سارا خاندان ساتھ لے جانے کی بات کر رہی ہو ؟؟؟وہ ناراضگی سے منہ پھلا کر بولا۔

“دیکھو نا اسطرح اذلان بھائی کی بھی آوٹنگ ہوجائے گی ان کا دماغ بھی فریش ہو جائے گا ۔۔۔۔

“دل !!! مگر گھر میں کوئی بھی نہیں مانے گا انہیں یوں باہر بھیجنے کے لیے ۔۔۔

“شاہو مجھے پتہ ہے تم منا لو گے سب کو ۔۔۔میرے لیے پلیز ۔۔۔وہ ملتجی انداز میں بولی۔۔۔

“دل سرکار آپکے لیے تو کچھ بھی کرے گا آپکا دیوانہ “وہ اسکی تھوڑی کو پیار سے چھو کر بولا ۔۔۔۔

“مگر میں ہم دونوں کے علاؤہ کسی اور کو ۔۔۔

“میں سمجھ گئی شاہو ۔۔۔

“ہم ایسا کریں گے سب کو یہی کہیں گے کہ ہم چاروں ایک ساتھ جارہے ہیں ۔مگر بعد میں ائیر پورٹ سے الگ الگ ہو جائیں گے ۔۔۔فجر بھابھی خودی اذلان بھائی کا خیال رکھ لیں گی ۔ہم آپس میں رابطے میں رہیں گے اور واپسی پر ایک ساتھ گھر آجائیں گے “

دلنشین نے چٹکیوں میں سارا پلان ترتیب دیا۔۔۔۔

“واہ دل سرکار آپ تو ہمارے ساتھ رہ کر ایک رات ہی میں بہت سمجھدار ہوگئی ہیں”

“میں پہلے بھی سمجھدار ہی تھی ۔۔۔۔وہ فرضی کالر اچکا کر بولی۔۔۔۔

“ہا۔۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔وہ اسکی بات پر زور سے ہنسا ۔۔۔

پھر اسکا مومی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اس پہ لب رکھ گیا ۔۔۔

“آئیے دل سرکار سب کو باہر جا کر اپنے ارادوں سے آگاہ کریں “

وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراہی میں ایک ساتھ باہر نکلے ۔۔۔۔۔

***********

درگاہ کے احاطے میں بارش خوب زور و شور سے برس رہی تھی۔ اتنی تیز برسات میں عالَم وجد میں گول گھومتا وه نوجوان کے جس کے عکس سے درد محبت ٹپک رہا تھا۔ سب اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ اس کے پیر کے چھالے رس رہے تھے لیکن محبت کے ڈسے ہوۓ کو درد کا احساس کب رہتا ہے بھلا۔

اس ک ہرا چغہ بری طرح بھیگ چکا تھا۔ لال آنکھوں سے اذیت ٹپک رہی تھی۔ یکدم وه رکا اور برستی بارش میں بیٹھ گیا۔ دونوں ہاتھ دعا کی صورت اٹھا لئے اور زور زور سے رونے لگا۔ اس کی آواز میں اتنا درد تھا کے درگاہ کی دیواریں بھی اسکے ساتھ بین کرنے لگ گئی تھیں۔

آج صابر حسین اور شبانہ اپنی تینوں بیٹیوں کے ساتھ درگاہ آئے تھے ۔کہ اچانک بن بادل برسات ہونے لگی ۔۔۔

صابر حسین کا مقصد تو شماس بن ضماد کے بارے میں پتہ کرنے کا تھا ۔جبکہ شبانہ اپنی بچیوں کے نیک نصیب کے لیے منت مانگنے آئی تھی ۔

وہ درگاہ کے اندرونی احاطے میں داخل ہوئے جہاں انہیں کسی کی قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔وہ

کلامِ پاک کی تلاوت اتنی شیرینی اور حلاوت سے کر رہا تھا کہ وہاں موجود لوگوں کو سحر زدہ کردیا۔ اسکی قرأت سن کر سب وجد و سرور کی کیفیت سے دوچار ہورہے تھے۔

صابر حسین نے دیکھا وہ شماس بن ضماد ہی تھا جو سفید سادہ سے شلوار قمیض پہن کر سر پہ ٹوپی پہنے نظریں جھکائے ہوئے تلاوت کر رہا تھا ۔۔۔۔

اس نے وہاں موجود لوگوں سے اسکے بارے میں تفصیلات جاننا چاہیں ۔۔۔

ہر ایک کی زبان پہ یہی بات تھی کہ یہ خدا کا کوئی نیک بندہ ہے۔نماز پنجگانہ اور تہجد پڑھنے والا متقی پرہیز گار ہے۔

صابر حسین کو اپنی بیٹی کی قسمت پہ رشک آیا ۔۔۔لوگ ہمیشہ اپنی بیٹیوں کے لیے سرکاری نوکری والا ۔اپنا گھر رکھنے والے شخص کا انتخاب کرتے ہیں۔مگر صابر حسین نے جو خوبیاں شماس میں دیکھیں اصل میں وہ خوبیاں ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہیں۔ایک نیک انسان کے علاؤہ اور کیا چاہیے تھا اپنی بیٹی کے لیے ۔

اس نے اپنے دل میں اسی وقت فیصلہ کر لیا۔اور وہ اپنے فیصلے پر مطمئن بھی تھا ۔

بارش برسنا اب ختم ہو چکی تھی ۔شبانہ سب کو اپنے ساتھ لیے اب بیرونی احاطے میں تھی ۔۔۔۔شاہانہ اور حسنا دونوں باہر بیٹھی عورت سے کانچ کی چوڑیاں خریدنے لگیں ۔۔۔جبکہ ماہ جالی دار دیوار سے نکل کر اب اس درخت کے پاس گئی جہاں ان گنت سرخ اور زرد رنگ کے دھاگے لٹک رہے تھے ۔۔۔یہاں کے لوگوں کا ماننا تھا کہ اس پہ دھاگہ باندھنے کے بعد جو منت مانگے وہ ضرور پوری ہوتی ہے ۔

ماہ بھی دھاگہ باندھ رہی تھی کہ ۔۔۔۔

“کیا مانگا ؟؟؟

اسے اپنے کانوں کے قریب وہی سحر انگیز آواز سنائی دی ۔۔۔

وہ پل بھر کے لیے ٹھٹھکی مگر پھر اسکے یاقوتی لبوں کو دھیمے سے مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔۔

“اس فانی دنیا میں تو آپ نے وعدہ ہے کیا مجھے اپنا بنانے کا ساتھ نبھانے کا ۔

وہ کچھ پل توقف کیے رکی پھر بولی ۔۔۔

“میں اس لافانی دنیا جسے آخرت کہتے ہیں۔اس نا ختم ہونے والی زندگی میں آپ کا ساتھ مانگ رہی تھی “وہ محبت سے گندھے ہوئے لہجے میں بولی ۔اسکے ایک ایک لفظ اور عمل سے محبت برس رہی تھی ۔وہ سرشار سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“آپ سامنے آئیں نا !!!پھر سے وہی خواہش ۔۔۔۔

“آپ بار بار یہی خواہش کیوں کرتی ہیں “,

وہ فسوں خیز آواز میں بولا۔

“کیا کروں جی ہی نہیں بھرتا ۔۔۔۔؟؟؟

“آپ کو دیکھ کر اپنی قسمت پر رشک آتا ہے۔کہ اتنا وجیہہ انسان صرف میرا ہے ۔۔۔۔

“ملکہ انسان ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔جن زاد ۔۔۔۔

آپ بار بار بھول کیوں جاتی ہیں ؟؟؟

“اوہ ۔۔۔۔وہ سر پہ ہاتھ مار کر بولی ۔۔۔۔

“ماہ پاگل تو نہیں ہوگئی ؟؟؟

“یہ خود سے باتیں کرنا کب سے شروع کردیں ؟؟؟

شبانہ نے اس کے سر پہ پہنچ کر اسے گُھرکا ۔۔۔۔

“ن۔۔نہیں ۔۔۔۔اماں سائیں ۔۔۔میں ۔۔۔وہ ۔۔بس ۔۔۔وہ منمنائی ۔۔۔

“آپ کی خواہش سر آنکھوں پہ ۔۔۔میں ملنے آؤں گا پھر جی بھر کر دیکھ لیجیے گا ۔”,اس کے کان کے قریب سرگوشی نما آواز آئی ۔۔۔۔

وہ ہلکے سے مسکائی۔۔۔۔

“اب تو مجھے یقین ہوگیا ہے ضرور تو پاگل ہوچکی ہے ۔۔۔لو بھلا بات بھی کوئی نہیں اور پاگلوں کی طرح ہنس رہی ہے ؟؟؟شبانہ تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

“چل ادھر سے “,اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔۔۔

**********

معاذ کا ایم بی اے کمپلیٹ ہو چکا تھا اب اس نے گوٹھ کے کاموں کے ساتھ ساتھ شہر میں اپنا نیا بزنس سٹارٹ کیا تھا ۔۔۔اسی سلسلہ میں وہ کچھ دن شہر میں رکتا ۔۔۔

پلوشہ بیگم اور دعا نے ملکر پہلے اپنی نگرانی میں پورے گھر کی صفاٸی کرواٸی، پھر آج کے مینو کے حساب سے معاذ کا پسندیدہ کھانا بنوایا پلوشہ بیگم آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں تو دعا بھی ان سب کاموں سے فارغ ہونے کے وہ اپنے کمرے میں آگٸی۔۔۔! کمرے کو سیٹ کرنے کے بعد اس نے اپنی اور معاذ کی مشترکہ واڈروب کھول لی۔۔ساری چیزیں اور شاپنگ بیگز جوں کے توں ہی پڑے تھے ۔جسے اس نے ایک بار بھی کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا اب اس کی نظر ایک شاپنگ بیگ پر پڑی تو وہ اسے اٹھا کر بیڈ پر لے آئی اور اُسے کھول دیا،اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں کیونکہ اس میں بلیک اور آسمانی کلر کا بہت ہی دیدہ زیب و خوبصورت سوٹ تھا ، یہ سوٹ معاذ کی پسند تھا،۔پلوشہ بیگم نے سے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسے پیار بھری ڈانٹ پلائی تھی کہ وہ ابھی تک ان بوسیدہ کپڑوں میں کیوں نظر آ رہی ہے ۔نئے کپڑوں میں سے کچھ نکال کر پہننے کو کہا تھا انہوں نے ۔۔۔اس نے ان کی محبت سے مجبور ہوکر وہی سوٹ اٹھایا اور فریش ہونے کے لیے واش روم میں چلی گٸی، کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر آٸی اور آٸینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے لمبے اور گھنے بالوں کو سلجھانے لگ گٸی۔

معاذ جو اچانک آج اپنا کام ختم کیے واپس آیا تھا۔۔۔

اس نے اک جھٹکے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فریش ہونے کی غرض سے بے دھیانی میں چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا لیکن پھر اسے اپنے پسند کردہ سوٹ میں ملبوس آٸینے کے سامنے کھڑے بال بناتے دیکھ کر وہی دروازے میں ہی ٹھٹھکا جیسے یہ لمحہ تھم سا گیا تھا ۔اتنے دنوں میں آج پہلی بار وہ اس کو ایسے ننگے سر بغیر دوپٹے کے دیکھ رہا تھا، اس کے سیاہ سٹریٹ سلکی لمبے گھٹاؤں جیسے گیسو بلاشبہ بہت ہی خوصورت تھے جو اس کی کمر سے نیچے تک آ رہے تھے،سیاہ اور آسمانی کلر اس کی گوری رنگت پر بہت زیادہ جچ رہا تھا، وہ ایسے ہی مبہوت سا ‘ ٹرانس کی کیفیت میں چلتا ہوا اس کے بلکل پاس پہنچ گیا،وہ جو اپنے ہی دھیان میں کھڑی بال بنا رہی تھی۔۔۔

وہ بلیو جینز اور ڈارک بلیو لائننگ والی شرٹ میں ملبوس۔۔۔پیشانی پہ بکھرے بال ۔ہلکی سی بئیرڈ والے ۔چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔۔۔وہ آٸینے میں اس کو اپنے عین پیچھے کھڑے دیکھ کر گھبرا کر یکدم پیچھے مڑی اور اس سے ٹکرا گٸی ، اس پہلے کے وہ نیچے گرتی معاذ نے اس کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اس گرد بازوں حماٸل کر کے اس کو اپنے بہت قریب کر لیا، اتنا زیادہ قریب کے دعا کو اس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی،اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں، معاذ بے خود سا اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔

باہر سے کسی چیز کے گر کر ٹوٹنے کی آواز سن کر دعا ہوش میں آٸی اور تیزی سے اس کے بازوٶں کے حلقے سے نکل کر بیڈ کی طرف بھاگی اور دوپٹہ اٹھا کر اچھی طرح اوڑھ لیا۔۔

معاذ نے دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا ۔۔۔

دیوار کے ساتھ لگا واز ٹوٹ چکا تھا ۔بلی باہر کی طرف بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔

اس نے دائیں سے بائیں سر ہلایا اور دروازہ بند کر کہ واپس اندر کا رخ کیا ۔۔۔

”کیا ہوا ۔۔۔؟“ معاذ نے اسے گھبراتے ہوئے دیکھ کر شرارت سے پوچھا۔اور اس کی اٹھتی گرتی، لرزتی پلکوں کا رقص بغور دیکھنے لگا۔۔

”کک کچھ نہیں۔“وہ اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھالتے ہوۓ بولی اور دوپٹے کو سر پہ اوڑھ لیا ‘اس سے چھپنے کی کوشش میں ۔۔۔۔

معاذ اس کی یہ حرکت دیکھ کر مسکرا دیا۔۔

”ویسے بہت اچھی لگ رہی ہو اس ڈریس میں ۔۔۔“ اس نے مسکراتے ہوۓ سادہ سے انداز میں تعریف کی..

”آ۔۔۔۔آپ واپس کب آئے ۔۔۔؟“اس نے دھیرے سے پوچھا، اب وہ خود کو سنبھال چکی تھی۔

”کیوں؟کیا مجھے واپس نہیں آنا چاہیے تھا۔۔؟“ اس نے بھنویں اچکا کر خفگی سے پوچھا۔

”نن نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا ۔۔“ اس نے اپنے ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے کہا ۔۔

” اچھا ہوا آج اچانک آگیا ورنہ اس دلفریب منظر کو دیکھنے سے محروم رہ جاتا ۔۔۔۔“ اس نے نکھری ہوئی شفاف چہرے والی بیوی کا سرتاپا جاٸزہ لے کر شوخی سے کہا۔

”کیا مطلب آپ کا۔۔۔؟“وہ آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے بڑی کیے بولی

”مطلب تو صاف صاف ہے کہ آج کوئی بہت پیارا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔“ اس نے ذومعنی لہجے میں تعریف کی اور دو قدم کا فاصلہ طے کر کے اس کے پاس آگیا۔۔

”مم میں آپ کے لیے کھانا لگواتی ہوں ۔۔“ وہ اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر گھبرا کر بولی اور وارڈروب کی طرف بڑھی، معاذ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

۔“یہ کھانا کچن کی بجائے وارڈورب میں کب سے ملنے لگا ۔۔۔۔ اس نے شرارت سے اس کے دونوں بازوں پکڑ کر گھمبیر آواز میں اس کے کان کے پاس سر گوشی کی۔

”آپ ۔۔۔پلیز مجھے تنگ مت کریں ۔“وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر رخ موڑ کر بولی۔۔

”اوہ تنگ ۔۔۔یار میں نے کب تنگ کیا ۔۔۔؟

یہ تو الزام ہے مجھ معصوم پر ۔۔“

اس سے پہلے کہ وہ کوئی بے اختیاری دکھاتا ۔۔۔دعا اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی اور آکر کچن میں ہی رکی ۔۔۔۔