Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Last Episode Part 1,2)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah


💖💖: آیت آصف صاحب کے پاس باہر لون میں آ کے بیٹھ جاتی ہے کچھ دے پہلے اپنی اور جبران کی ہونے والی بات بتاتی ہے

بیٹا اسکی طرف سے میں معذرت کرتا ھوں تمہاری پھوپو کی تربیت نے بگاڑ دیا ہے اسکو تم فکر نا کرو وہ کچھ نہیں کرے گا

آیت سوچ میں ہمم کہتی آسمان کی طرف دیکھتی ہے کالے بادل چھائے ہوۓ تھے

اس کے کان میں فیصل کی آواز گونج رہی تھی اس رات جب وہ بارش میں اکیلی بھیگ رہی تھی

بھابی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں فیصل بھیگی ہوئی آیت کو دیکھ کر کہتا اسکے گرد شال کرتا اسے اٹھنے میں مدد دیتا ہے

فیضی آیت کے منہ سے اچانک الفاظ نکلے تھے

آیت میں فیصل فیضی کا دوست آپ یہاں کیسے گھر۔ سے کیوں نکلی ہیں

وہ رونے لگتی ہے

فیصل اسے لے کر گاڑی میں آتا ہے ہیٹر اون کرتا ہے وہ سکون سے آنکھیں بند کر۔ لیتی ہے آنسو کی لڑی اسکے چہرے کو بھیگو رہی تھی فیصل حیرت میں ڈوب جاتا ہے اس وقت فیضی اسلام آباد کے لئے نکل چکا هو گا اب کہاں لے جاؤں یہی سوچ کر وہ اپنے گھر کی طرف گاڑی موڑتا ہے

فیصل کے ساتھ آیت کو بھیگا دیکھ کر منال پوچھتی کچھ کے آیت بول پڑی بھابی میں آیت ھوں

منال اسکو دیکھتی ہے اور کبھی فیصل کو پھر آگے بڑھ کے آیت کو روم میں لا کے کپڑے چینج کرنے کا کہتی باہر آ گئی

فیصل آیت اتنی رات کو بھیگی ہوئی آپکے ساتھ کیا ھوا ہے سب خیر ہے

ابھی کچھ نہیں پتہ منال فیضی کام سے باہر آیا ہے میں اسے پریشان نہیں کر سکتا اور آیت کی۔ یہ حالت بتا رہی ہے اسکو گھر سے نکال دیا گیا ہے

فکر نا۔ کریں فیصل آیت ہماری بہن ہے ہم اسکو یہیں رکھیں گے اور جب فیضی بھائی آئیں گے تو بات کر کے انکا نکاح آیت سے کر دیں گے ویسے بھی۔ انہوں نے شادی آیت سے کرنی۔ ہے کچھ عرصے بعد کرنی تھی تو اب کیوں نہیں

ہممم فیصل فیضی کا نمبر ملاتا ہے جو بند آتا ہے

کھانا گرم کروں آپکے لئے منال ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تسلی دیتی پوچھتی ہے

ہاں جی گرم کریں بہت بھوک لگی ہے میں جب تک چینج کر لوں تم آیت کو دیکھو

دروازے میں کھڑی آیت سب سن کے پیچھے ہٹ جاتی ہے

فیضی نہیں نہیں آپ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی

میں ہمدردی یا بوجھ کا رشتہ نہیں نباہ سکتی

تبھی منال کھانے کو بلانے آتی ہے اور کھانے کے بعد نیند کی گولی لے کر آیت سو جاتی ہے

😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃
😃

آیت ایک خواہش ہے کیا آپ پوری کرو گی آصف صاحب امید سے دیکھتے ہیں

جی کہیں انکل اگر هو۔ سکا تو ضرور وہ اس کے سامنے اسکے بابا کی جائیداد کے پیپرز رکھتے ہیں

یہ سب آپکے نام ہے آپ کے۔ بعد ٹرسٹ کو دینا ہے یا آپ خود سمبھالو گی آپ کو مرضی آپکے بابا نے یہ گھر اور اپنا ایک پلازہ آیت ہاؤس آپکے نام کیا تھا بچپن میں یہ لیں

یہ دولت میرے کسی کام کی نہیں انکل نا ماں نا باپ نا بھائی کوئی نہیں ہے تو آپ یہ ٹرسٹ کو دے دیں کسی کا بھلا هو یہی اچھا ہے بلکہ آپ۔ خود سمبھال لیں تو اچھا ہے

ٹھیک ہے بیٹا آصف صاحب اسکی نیت جانتے تھے اسے ان سب سے کوئی سروکار نا تھا

آپ کی خواہش کیا ہے انکل وہ آصف صاحب کو مسکرا کر دیکھتی ہے

جانے سے پہلے کیا آپ ایک بار انکل کی جگہ بابا کہہ سکتی ہیں میرے دل کا وہ کونہ جہاں میری آیت رہتی ہے وہ کونہ جہاں آیت کی آواز ہے پر بابا کی پکار نہیں وہ کونہ جہاں خزاں ہے آپکے کہنے سے خزاں میں بہار آ جائے گی

آیت نے اٹھا سر جھکا دیا

آصف صاحب بول کے آگے بڑھ گئے جانتے تھے نا ممکن کو ممکن کرنا آسان نہیں

😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊
😊

آیت اتنی سادی دلہن کم از کم مہندی لگوا لو

زویا آیت کو ٹھیک ٹھاک غصہ دکھا چکی تھی

یار جب دل نہیں تو کیا کروں آیت منہ بنا کے کہتی ہے اور سر پر ڈوپٹہ اوڑھ کر آصف صاحب کے روم میں آ جاتی ہے وہ جانتی تھی کچھ بھی هو وہ عصر کی نماز کے بعد اسٹدی روم میں ہی ملتے ہیں نوری جو چاۓ لا رہی تھی اس سے چاۓ لے کر وہ آگے بڑھ گئی

دروازہ نوک کرتے ہی اندر آنے کی اجازت ملی

ارے آیت آپ یہاں آپ آرام کریں بس تھوڑی دیر میں بارات آ جائے گی

کیوں میں کیوں نہیں آ سکتی کیا ھوا اگر دلہن بنی ہوئی ھوں

آیت اپنے پرانے لہجے میں بولتی ہے آصف صاحب مسکرا دیتے ہیں

بیٹھیں بیٹھیں دلہن صاحبہ

دلہن نہیں صرف بیٹی آپ کی بیٹی آیت بابا

وہ صرف سوچتے ہیں کے آیت بولے گی پر وہ خاموش رہتی چاۓ دے کر جانے لگتی ہے

تبھی زینت آیت کو روک لیتی ہیں آیت میں ماں ھوں بیٹا ایک بار ایک بار تو مجھے سمجھو

آیت انکی طرف دیکھتی ہے آپ تو پھوپو نا بن سکی ماں تو بہت دور کی بات ہے

پھوپو تو لاڈ اٹھاتی ہیں پیار دیتی ہیں ہر غم میں ساتھ دیتی ہیں آنسو پونچھتی ہیں اور آپ آپ نے لاڈ نہیں اٹھاۓ پر ماں کا غم دیا آپ نے ساتھ نہیں دیا باپ کا سایہ چیھن لیا آپ نے عمر بھر کے آنسو نصیب میں لکھ دیے یہ ہے آپ کی اصلیت ایسی ہوتی ہیں ماں ایسی نہیں ہوتی ماں

اور آپ انکل میں آپ کی عزت کرتی ھوں دل سے کرتی ھوں

پر انکل بابا نہیں کہہ سکتی کیوں کے آپ نے مجھے نام نا دیا جب مجھے ضرورت تھی آپ کی وہ نہیں جانتی تھی وہ کیا کچھ کہہ گئی ہے

تم کیوں آئی هو یہاں چلی جاؤ یہاں سے زینت آصف صاحب زینت کو گھور کے دیکھتے ہیں

آپ مجھے میری بیٹی سے بات کرنے سے نہیں روک سکتے

زینت انکو دیکھتی ہے

بیٹی نہیں ھوں آپ کی یاد رکھیں فاخرہ کی بیٹی ھوں بس

آیت چیختی ہے

آیت بیٹا آپ جائیں یہاں سے آصف۔ صاحب اسکو جانے کا کہتے ہیں

چلی جاؤں گی انکل بس ایک بار ایک بار بتا دیں کیوں کیوں انھیں میری ماں سے اتنی نفرت تھی کے اِنہوں نے اتنا کچھ کر دیا

ہاں تھی نفرت مجھےکیوں کے میں میں آصف سے سے نہیں علی سے محبت کرتی تھی زینت نے سب کچھ بتا دیا یہ دیکھے بنا کے وہاں آیت کے علاوہ ایک اور شخص کھڑا ہے جو کے اسکا محرم ہے

پر اب نہیں ہے نفرت اس نے احسان کیا میں شکر مند ھوں اسکی

زینت بول کے رو پڑتی ہے

اب اب احساس ھوا۔ جب وہ خود مٹی میں جا سوئی اب هو رہا ہے احساس ایسے احساس کی کیا ضرورت ہاں سب تباہ کر دیا سب ۔ وہ کہتی ہوئی بس روتی ہوئی وہاں سے آ گئی

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍂
🍂
🍁
🍁
🍂
🍁
🍁
🍁
🍂
🍂
🍂

مغرب کا بعد اسکی رخصتی تھی بارات میں فیضی کے چند دوست اور فیصل اور منال تھے

آصف صاحب اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں اور رخصت کرتے آگے بڑھتے ہیں مگر خوشی کے ساتھ غمی بھی ہوتی ہے وہ گر جاتے ہیں۔ سبھی انکی طرف بڑھتے ہیں زینت کو اپنے لفظوں کا احساس ہوتا ہے ابھی کچھ دیر پہلے اس نے کن لفظوں کا چناؤ کیا تھا

بابا۔۔۔ آیت کے منہ سے اچانک نکلتا ہے آصف صاحب مسکرا دیتے ہیں اور آنکھ بند کر لیتے ہیں ایک پر سکون نیند کے لئے وہ اب خود سے لڑ لڑ کر تھک چکے تھے

نا محبت ملی اور جس کو ساری زندگی بیوی جانا وہ خود بے وفا نکلی خوبصورت عورت کا مرد کے دل پر راج هو ضروری نہیں عورت کے دل پر صرف با وفا حیا دار پاکیزہ عورت ہی راج کرتی ہے

آصف صاحب کی۔ میت سامنے تھی بعض دفع ایک کے بعد ایک کا جانا انسان کو اندر سے مار دیتا ہے آصف صاحب فاخرہ کے جانے کے بعد اندر ہی اندر ختم هو رہے تھے محبت سامنے هو پر اپنی نا هو تو گزارہ هو۔ جاتا ہے پر جب محبت ہمیشہ کا غم دے جائے واپس ہی نا آئے تو مشکل ہو جاتا ہے

وہ انکے قدموں میں بیٹھ جاتی ہے

سوری بابا بیٹی بہت بری ہے آنے میں ہمیشہ دیر کر دیتی ہے

بابا میں کیوں نہیں سمجھ سکی آپ کے دل کو حسرت هو گی آپ کی بیٹی ھوں آخر پر بابا میں میں سمجھ نہیں پائی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے جس کو محبت کرتی ھوں وہی دور جاتا ہے آج آج اپنے جس حسرت سے کہا میرے لئے شرمندگی کا مقام تھا پر میں سچ کہوں آپ کو کھو دینے کا غم نہیں سہہ پاتی بس تبھی انکار کرتی رہی ھوں جھٹلا رہی ھوں خود کو کے آپ سے محبت نہیں ہے

اور اب اب دیکھیں میرا ڈر میرے سامنے ہے وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی

آج وہ رازدار بھی چھوڑ گیا جس پر مان تھا کے تنہا نا کرے گا کبھی

🌿
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢

💖: آیت گھر چلیں فیضی آیت کو دیکھ کے کہتا ہے وہ گم سم بیٹھی تھی کل شام کو ہی تو آصف صاحب نے خواہش کی تھی آیت سے وہ سر جھکا کے اٹھ گئی کے اب اس گھر سے آخری سہارا بھی چلا گیا تھا

نوری کو گھر کے سارے کام دے کر وہ چادر اوڑھ کے فیضی کے پیچھے چل پڑتی ہے

ایک نیا سفر شروع کرنا هو تو غم اور خوشی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں کبھی گھبرانا نہیں پریشان نا ہونا اور جب جب پریشان هو اللّه والوں کے پاس جا کے کچھ دیر بیٹھ جاؤ وہ اللّه کے ذکر سے دل پھر سے موم کر دیں گے

فاخرہ کی سمجھائی ہوئی باتیں جن کو۔ سن کے وہ وہ اکثر چڑ جاتی تھی آج سمجھ آ رہی تھی کے ماں سہی کہتی تھی

ہمارے ماں باپ اکثر ہمیں دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتے ہیں مگر ہم اپنی عقل کے مطابق اسے غلط جانتے ھوں اور جب انہی کی بات ایک دن سچ بن کر سامنے آئے تو ہمیں احساس ہوتا ہے وہی سہی تھے ہم انکو نادان سمجھتے تھے

گاڑی میں بیٹھے دونوں نفوس خاموش تھے تبھی آیت کی آواز گونجی گاڑی داتا دربار کی طرف موڑ لیں

فیضی جو اپنی ہی سوچ میں تھا اچانک بولنے پر چونک گیا

کچھ کہا تم نے

آیت فیضی کی شکل دیکھتی ہے

میں نے کہا دربار کی طرف موڑ لیں اپنی گاڑی ایک ایک لفظ پر زور دے کر منہ پھیر لیا

آج جمعرات تھی اور وہ اتفاق سے آج آئی تھی

تم اندر چلو میں چادر لے کر آتا ھوں فیضی اسکو بول کے دکان کی طرف بڑھ گیا

چادر دینے کے بعد مغرب کی اذان کانوں میں پڑی وہ وہیں نماز کے لئے کھڑا هو گیا

حاضری کے بعد وہ اس دن والے بزرگ کو ڈھونڈ رہی تھی اُسے کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی وہ سامنے ہی نظر آ گیے آیت انکے پاس سلام کر کے بیٹھ گئی

بابا نا ماں ہے باپ اور اب تو اصل باپ بھی چھوڑ گیے ہیں میں نے زندگی میں صرف صرف محرومی دیکھی ہے

درد دکھ تکلیف اذیت صرف یہی دیکھا ہے

کچھ ایسا بتائیں کے میں ان سب سے نکل سکوں کوئی حل کوئی وظیفہ کچھ بھی بابا کچھ بھی

آیت بنا آواز کے روئی جا رہی تھی

بیٹا دکھ درد اذیت تو ملتی ہی خوش نصیب لوگوں کو ہے

بابا جی بول کے اسکو دیکھتے ہیں

سوجی ہوئی آنکھیں آنسو سے تر لہجہ وہ بے اختیار اسکے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں

بیٹا اللّه کو تم پسند هو تبھی اس نے تمہیں ان سب میں الجھا دیا تاکہ تم دنیا سے دور اللّه کے قریب رھو

وہ بول کے مسکراتے ہیں

جاؤ اللّه کی امان میں رہو

میر ی نماز کا ٹائم ہے وہ کہہ کر آگے بڑھ گیے

چلیں آیت فیضی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے

جی وہ اٹھ جاتی ہے اور دونوں گھر کی طرف روانہ ہوتے ہیں

🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌸
🌸
🌸
🌼
🌸
🌼
🌸
🌼
🌸
🌼
🌼
🌼
🌼
🌺
🌺
🌺

پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ھوا تھا

وہ دروازہ کھول کے اندر آتا ہے

افف یہ اندھیرا کیسے کرم چچا امان کہاں هو سب ۔۔۔وہ سب کو پکارتا ہے پر کوئی آواز نہیں آتی وہ آگے بڑھتا ہے

تبھی شور اٹھتا ہے سرپرائز بابا فضا ایک دم شور مچا دیتی ہے ابراہیم آنے سے پہلے بتا دیتے وہ فضا کو گود میں اٹھا لیتا ہے

بابا کیسے ہیں آپ وہ جھک کے انکو پیار کرتا ہے تبھی سب کی نظر سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپی آیت پر پڑتی ہے

فیضی جو سب کو دیکھ کر خوش اور حیران تھا اب اسے سمجھ نا آیا کیا کہہ کر آیت کا تعارف کرواے

بیٹا یہ کون ہے علی نے دیکھتے ہی پوچھا

آیت اور علی دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے علی میں فاخرہ کی شبہہ تھی

آیت کے کپڑے دیکھ کر سبھی اندازہ لگا لیتے ہیں

تم نے شادی کر لی فیضی زرش ایک دم آگے بڑھتی ہے

زرش میں بات کر رہا ھوں علی اسے روک دیتے ہیں

تم بتاؤ یہ کون ہے فیضی

بابا وہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا بس ٹائم ۔۔۔۔۔۔ابھی وہ بول ہی رہا تھا کے بیچ میں زرش بول پڑی

فیضی تم انکل انکل آپ نے کہا تھا فیضی مجھ سے شادی کرے گا اور اب اب یہ اس لڑکی کے کپڑے بتا رہے ہیں وہ وہ فیضی کے ساتھ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہے یہ بھاگی ہوئی لڑکی کو۔ اس گھر کی بہو بنا لایا ہے

وہ بھاگی نہیں ہے سمجھی آپ فیضی ایک دم غراتا ھوا اسکی طرف بڑھتا ہے

بھائی کیا کر رہے ہیں ابراہیم بیچ میں روک دیتا ہے

مجھے لگتا ہے میں زندہ ھوں ابھی تم زرش حوصلہ رکھو بات سنے دو مجھے

بتاؤ فیضی کون ہے یہ لڑکی اور کیا رشتہ ہے اسکا تم سے

بابا میں نے آج شادی کر لی ہے وہ اٹک اٹک کر بولتا ہے

تبھی فیضی لے گال پر زور کا تھپڑ پڑتا ہے

زندگی میں پہلی بار باپ نے مارا تھا وہ حیرت سے انکو دیکھتا ہے آیت آنکھیں بند کر لیتی ہے

پاپا یہ کیا کر رہے ہیں بھائی کو۔ صفائی کا موقع تو دیں۔ کیوں کیا انہوں نے نکاح ابراہیم باپ کو پیچھے کرتا ہے

کیا پوچھوں اس سے باپ کچھ دن گھر سے دور ھوا نہیں کے جناب اتنے بڑے هو گئے ہیں کے لڑکی اٹھا کے لے آئے کسی کی علی غصے سے دھاڑ تے ہیں

بھائی نے کہا نا پاپا وہ شادی لڑ کے لائے ہیں ایک بار پوچھ لیں کس حالات سے دو چار ھوا وہ ضروری نہیں جو ہم سمجھ رہے وہی سچ هو

کنزا معصوم سی آیت کو نہیں جانتی تھی پر جس طرح سے اس نے خود کو کوور کیا تھا وہ ایک نیک شریف گھر کی ہی لگ رہی تھی

تم خود ہی پوچھ لو میں تو اس نا فرمان کی شکل بھی نا دیکھوں

کنزا ابراھیم اس کو کہہ دو اپنی شکل لے کر اس لڑکی کے ساتھ یہاں سے نکل جائے اسکی کوئی جگہ نہیں ہے اس گھر میں علی ایک دم سے اسکا گریبان پکڑتے ہیں سبھی ایک دم انکو روکتے ہیں

وہ تھا ہی ایسا کبھی ماں باپ کے آگے زبان نہیں چلتا تھا سب کچھ سہہ جاتا پر کبھی اففف نا کرتا تھا

اس وقت بھی وہ خاموش کھڑا تھا

تبھی آیت ایک دم ہاتھ جوڑ کے علی کے سامنے آ گئی وہ جو خاموش تھا اسکی طرف دیکھنے لگا

تبھی آیت نے نقاب اتارا

میری ماں نہیں ہے میرا باپ بھی نہیں ہے میری سگی پھوپو نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا آپکے بیٹے نے میری۔ عزت کی حفاظت کی ہے مجھ سے نکاح کیا معاشرے میں ایک مقام ایک نام۔ دیا ہے میں آپ سب کے آگے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگتی ھوں میں۔ انکو چھوڑ کر کل صبح ہی چلی جاؤں گی آپ لوگ انکو کچھ نا کہیں بس آیت ہاتھ جوڑ کے بھی رو رہی تھی اسکے سر سے دوپٹہ چھلک گیا فیضی نے آگے بڑھ کے اسکے سر پر دوپٹہ کیا

بابا میں آپکے آگے کبھی نہیں بولا پر میں نے کسی اور سے نہیں فاخرہ پھوپو کی بیٹی سے شادی کی ہے

کیا کیا کہا فاخرہ کی بیٹی سے علی ایک دم اسکا کندھا پکڑتے ہیں

جی بابا فیضی آیت کا ہاتھ سختی سے پکڑتا ہے وہ جانتا تھا اسکو اس وقت بہت ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے

فاخرہ میری فاخرہ مر گئی فیضی علی صاحب بچوں کی طرح رو پڑتے ہیں وہاں سبھی کو دکھ ہوتا ہے

پاپا روئیں نہیں آپ کی طبیعت نہیں ٹھیک ابراھیم انکو کہتا ہے تبھی کنزا آیت کو گلے لگا لیتی ہے وہ تو۔ سوچ بھی نہیں سکتی تھی فیضی جس کی اتنی باتیں کرتا ہے وہ تو۔ الٹ ہی نکلی

فیضی کنزا کو اشارہ کرتا ہے وہ آیت کو کمرے میں لے آتی ہے

فیضی شروع سے لے کر آخر تک ہر بات بتا دیتا ہے اب چھپانے کو کچھ تھا ہی نہیں

میری اتنی بد قسمتی جیتے جی

نا دیکھا مرنے کے بعد بھی محروم رہا میری بہن مجھے معاف۔ کر دینا

سبھی انکو۔ حوصلہ دیتے ہیں

کنزا باجی رات کا کھانا بن گیا ہے امان آ کے کہتا ہے وہ اس گھر میں کک تھا

تم کھانا نکالو میں ٹیبل لگاتی ھوں اور ہاں آیت کا کھانا نکال دو میں اسے اوپر کھلا دوں گی

بار بار بلانے پر بھی زرش نہیں آتی

وہ سبکو کھانا دے کر آیت کا اور اپنا کھانا لے کر اوپر آ جاتی۔ ہے ساتھ میں فضا ضد کر۔ کے آتی ہے

کمرے میں آتے۔ ہی فضا آیت کے۔ گلے لگ جاتی ہے

ارے پھوپو یہ تو میری میم ہیں آپ کو بتایا تھا نا میم آیت کا وہ خوشی سے آیت کے گلے لگ جاتی ہے

آیت اسکو دیکھ کر مسکرا دیتی ہے

لو۔ آیت کھانا کھا لو پھر ٹیبلٹ لے کر سو جاؤ صبح فریش اٹھو گی

وہ تھوڑا سا کھانا کھا کے ہاتھ کھینچ لیتی ہے

بس اور نہیں ۔۔۔میرا نام کنزا ہے تم مجھے کنزا بول سکتی هو چاہو تو آپی بول لو

وہ اسکو پیار کر کے فضا کو زبردستی وہاں سے لے آتی ہے

نیند کی گولی کا اثر ھوا اور وہ ہی دنوں بعد ایک پر سکون نیند سوئی

part 2

فیضی اپنے کپڑے۔ لینے کمرے۔ میں آیا تو آیت کو۔ سوتا ھوا پایا وہ آیت کی۔ طرف بڑھ گیا

سانولا رنگ مگر چہرے میں کشش ہونے کی۔ بنا پر وہ ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتی تھی مگر حسن پرست لوگ کبھی متوجہ نہیں هو سکتے تھے

بہت بھولی هو آیت مگر میں آپ کو پھوپو کی۔ طرح در در کی۔ ٹھوکر نہیں کھانے دوں گا یہ آپ۔ سے وعدہ ہے میرا وہ اسکے ماتھے پر پیار کر کے تیار ہونے چلا گیا

وہ صبح اٹھی تو کافی دیر هو۔ چکی تھی دن کے دو بج رہے تھے وہ کبھی اتنا سوئی نہیں تھی

وہ جلدی۔ سے اٹھی وہ جانتی تھی وہ آفس جا چکا هو گا وہ جلد سو جلد اس کے گھر سے جانا چاہتی تھی پر کہاں یہ اسکو بھی نہیں پتہ تھا وہ دبے قدموں نیچے اتری ابھی باہر جانے کے۔ لئے قدم۔ رکھا ہی تھا کے علی صاحب نے آواز دی وہ نماز پڑھ کے مسجد سے آ رہے تھے

کہاں جا رہی ہیں آپ علی۔ اسکو دیکھ کر پوچھتے ہیں۔ جانتے تھے وہ کہاں جا رہی ہے

وہ میں۔ اصل میں ۔۔۔۔۔ اس سے بات نہیں بن پاتی علی اسکو بازو سے پکڑ کے اپنے گلے لگا لیتے ہیں آیت بچوں کی طرح رو پڑتی ہے باپ کی شفقت کیسی ہوتی ہے وہ محسوس کر رہی تھی

کتنی انجان تھی وہ اس لمس سے کتنا خوبصورت احساس تھا

آپ آپ آئے کیوں نہیں آپ نے دیکھا تک نہیں آپ کی بہن کے ساتھ کیا کچھ هو گیا ۔کیا کیا الزام لگے آپ آپ نہیں آئے آپ سب آپ سب ذمہ دار ہیں میری ماں نہیں رہی وہ چلی گئی آیت کے زور سے رونے پر کنزا باہر آتی ہے آیت کیا ھوا پر علی اسکو روک دیتے ہیں

وہ اپنی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی شکوے جو اسکو اپنو سے تھے

ہر دکھ کا مداوا ممکن نہیں بیٹے پر ہم آپ کی اس درد کو بھولنے میں بھرپور کوشش کریں گے یہ گھر اور اس گھر کے لوگ آپکے اپنے ہیں یہ گھر آپ کی ملکیت ہے اب سے اور آپ یہاں جیسے چاہے رہ سکتی ہیں

وہ اسکو حصار میں لیتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گئے اصل میں ہم بوڑھے ہی چکے ہیں بیٹا کھڑے نہیں رہ سکتے علی صاحب کہہ کر مسکراتے ہیں

آیت ہنس کر سوری کرتی ہے

تھنک گاڈ یار مسکرایا کرو کنزا اسکو ہنستا دیکھ کر ٹوک دیتی ہے دروازے پر کھڑا فیضی سلام کرتا ھوا اندر آتا ہے

بیٹا آیت کو لے کر باہر جاؤ تھوڑا موڈ ٹھیک هو گا انکا علی فیضی کو دیکھتے ہیں

نہیں بابا ۔۔۔دونوں ایک ساتھ بولتے ہیں سبھی ہنس پڑتے ہیں

کیوں جی آپ کو ہمارے بھائی سے کیا مسلہ ہے کنزا سر پر چیت لگاتی ہے

ایسی بات نہیں ہے مجھے گھومنے کا شوق نہیں ہے سارا دن گھر رہتی تھی تو عادت نہیں ہے

وہ پھیکی ہنسی ہنستی ہے

پر میم ہم تو روز باہر جاتے ہیں رات کو واک کے لئے آپ تب بھی نہیں جائیں گی فضا اسکول سے آئی تھی سیدھا آیت کے پاس آ کے بیٹھ گئی

جی آپ چلیں گی تو ضرور جاؤں گی آیت اسکا دل نہیں توڑ سکتی تھی تبھی ہاں کہہ گئی

🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂

یہاں سب الٹ هو چکا ہے فیضی شادی کر چکا ہے اور میرے ہاتھ کچھ نہیں ہے میں اب اب کیسے کہاں جاؤں گی زرش سوچ سوچ کر پریشان تھی ایک واحد فیضی تھا جس سے شادی کر کے وہ ان سب کو گھر سے بے گھر کر سکتی تھی کیوں کے علی کی بیوی اپنا گھر فیضی کی بیوی کے نام کر کے گئی تھی

مجھے کچھ بھی لڑ کے آیت کو باہر۔ کرنا هو گا گھر سے بھی اور فیضی کی زندگی سے بھی وہ صرف میرا ہے میں اب اور انتظار نہیں کروں۔ گی پہلے میری بہن نے مجھے مات دی اور اب آیت نو نیور وہ پاس پڑا گلدان دروازے سے باہر پھنکتی ہے باہر سے گزرتی آیت کے پاؤں پر زور سے ہٹ کرتا ہے کانچ بکھر جاتا ہے

اففف امی جی ۔۔۔۔۔آیت تڑپ جاتی ہے

۔آیت سوری میں نے بے دھیانی میں پھنکا زرش معصومانہ شکل بنا کے کہتی اسکے پاؤں کو دبا دیتی ہے جہاں کانچ کے ٹکرے ابھی بھی تھے تبھی آیت کی چیخ سن کے فیضی روم سے باہر آیا تھا

یہ کیا کیسے ھوا آیت ہاتھ دو وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اسکو سہارے سے اٹھاتا ہے سبھی اوپر جمع هو جاتے ہیں

یہ کیسے ھوا بیٹا علی اتنا خون دیکھ کر ڈر جاتے ہیں

پاپا کچھ نہیں ھوا آپ چلیں ابراہیم انکو چلنے کا۔ کہتا ہے

نہیں میری بیٹی درد میں ہے اس کی پٹی کرو ابراہیم جلدی

علی اسکو دلاسہ دیتے ہیں

انکل وہ میرے ہاتھ سے پھسل گیا میں نے غصے میں پھنک دیا تو بس اچانک زرش جھوٹ بولتی ہے

دیکھ کر کیا کرو تم تو پھنک دیتی هو دوسرے کا کام هو جاتا ہے فیضی اسکو آنکھیں دکھاتا ہے

چپ کرو فیضی بڑی ہے وہ علی اسکو ڈانٹ دیتے ہیں

آیت لاؤ پاؤں دو ابراہیم اسکے پاس بیٹھ کر پاؤں بڑھانے کا کہتا ہے

نہیں نہیں میں کر لوں گی

مجھے بس کمرے میں چھوڑ دیں کنزا آیت گھبرا جاتی ہے تبھی کنزا کو دیکھتی ہے

آیت ابراہیم ڈاکٹر ہے کنزا اسکو دلاسہ دیتی ہے

سچ بھابی بہت اچھا ڈاکٹر ھوں وہ بھی ہنس دیتا ہے

نہیں ایسی بات نہیں سوری پلیز پر میں خود کر لوں گی

فیضی کنزا سے لے جانے کا کہتا ہے اور خود بھی کمرے میں چلا آتا ہے کنزا اسے چھوڑ کے نیچے جا چکی تھی

بار بار کوشش سے بھی وہ زخم پر دوائی نا لگا پائی

آیت مجھے دیں فیضی اکتا جاتا ہے تبھی آتا ہے

نہیں میں ۔۔۔۔۔۔چپ دو یہاں وہ اسکو ٹوک دیتا ہے

اپنا خیال رکھا کریں خود اب آپ بڑی هو چکی ہیں۔ بچی نہیں ہیں۔ یہاں وہاں دیکھا کریں چلتے ہوۓ

وہ زخم صاف کر کے دوائی لگتا ہے

زندگی میں۔ آیا ہر غم خوشی میں بدل جاتا ہے ہر زخم بھر جاتا ہے مگر تب جب آپ خود کوشش کرتے ہیں

اب آپ کی باری ہے اپنا زخم خود بھریں دوسروں پر انحصار چھوڑ دیں

ہم اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزر سکتے ہیں اگر ہم۔ سچ میں۔ جینا چاہتے ھوں۔

آپ سمجھ رہی ہیں میری بات ووج پٹی باندھ کر اسکو دیکھتا ہے جو بنا پلک جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی

آیت آپ ٹھیک ہیں اب وہ اسکے سامنے ہاتھ ہلاتا ہے

جی ہاں میں آآآآآآ ۔۔۔جی اب ٹھیک ہے وہ ایک دم بولتی ہے

دن گزرنے تھے گزر گئے آیت اچھے سے گھر میں اور گھر والوں کے ساتھ گھل مل گئی

بس فیضی سے کھینچی ہوئی تھی

اسکی اپنی سوچ تھی لے وہ زبردستی کا رشتہ نباہ رہا ہے

کوئی نہیں جانتا تھا زرش آہستہ آہستہ آیت کی برین واشنگ کر رہی تھی

آیت میں اور فیضی محبت کرتے تھے تم بیچ میں آ گئی ہم تو شادی کرنے والے تھے

میں کوشش کر رہی ھوں بھول جاؤں اس طرح کی اور بھی باتیں آیت کے دل میں جگہ کر رہی تھی

😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢
😢

وہ جب جب بات کرنے کی کوشش کرتا وہ یہاں وہاں هو جاتی

فیضی کو شک ھوا تھا پر کنزا کے بتانے پر یقین میں بدل گیا

تم اسکو گھر سے نکال کیوں نہیں دیتے کنزا غصہ کرتی ہے

یار میں۔ کیسے نکال۔ دوں اسکو پاپا مار دیں گے مجھے فیضی غصے سے کہتا کھڑکی پر ہاتھ مارتا ہے

کنزا چلی جاتی ہے

آیت تمہیں تو میں سیدھا کرتا ھوں اب دیکھنا بچ کے دکھاؤ تم بہت هو گیا اچھے بنے کا صلہ دیا ہے تم نے مجھے

رات کھانے پر وہ اپنے ولیمے کا کہتا ہے پاپا سنت ہے ادا تو کرنا ہے ہم غریبوں میں کھانا بانٹ دیتے ہیں۔ اور باقی رشتے داروں اور دوستوں کو بلا لیتے ہیں ایک ڈنر هو جائے گا

سبھی خوش هو جاتے ہیں پر اتنی جلدی کیسے هو گا سب کنزابولتی ہے

یار سب کچھ بازار سے آنا ہے آپی آپ بھی نا صبح جلدی اٹھنا سب میں بازار لے جاؤں گا

رات کو سبھی دوست اور قریبی رشتے دار موجود تھے جو اچانک کی شادی پر باتیں بنا رہے تھے

تبھی ایک لڑکا آیت کی طرف آتا ہے

ہیلو مس آیت کیسی ہیں آپ آیت اسکو دیکھ کر ٹینس هو جاتی ہے

امید ہے پہچان گئی ھوں۔ گی

جی میں پہچان گئی دولہا بھائی آپ زویا کو ساتھ لاۓ ہیں آپ کی شادی تھی نا دو ہفتے بعد اب تو مہینہ هو گیا ہے

نہیں مس آیت میرے گھر والوں نے رشتہ ختم کر دیا تھا آپ کے ساتھ جو ھوا بس اسکے شادی سے انکار کر دیا

زویا کا کیا قصور بہت غلط کیا آپ نے آپکے گھر والوں نے وہ اسکو ٹکا۔ سا جواب دیتی ہے اسکو بہت برا لگا تھا

فیضی آیت کو بہت اگنور کے باوجود بھی دیکھتا ہے

اوے ہوہے نا دیکھ اتنا تیری۔ ہی ہے بےفکر رہ فیصل اسکی۔ چوری پکڑ لیتا ہے

نا کر یار قسم سے پتہ نہیں کون سا دماغ پایا ہے اس نے فیضی کا خراب موڈ دیکھ کر فیصل کو دکھ ھوا

کوئی بات نہیں یار پگلی ہے اسے حقیقت کا علم نہیں ہے تم اسکو بتاؤ حقیقت کیا ہے وہ تمہیں سمجھے گی

ولیمہ ختم هو چکا تھا آیت بہت اداس تھی اسے زویا کے ساتھ یہ سب ہونے کا بہت دکھ تھا

کن سوچوں میں گم ہیں فیضی اسکو دیکھتا ہے

آپ آپ نے یہ ڈریس کب کیسے پسند کیا آیت اس کے جواب میں سوال کرتی ہے

آپ کو اچھا لگا وہ مسکراتا ہے

آیت۔ ۔۔۔۔۔جی بہت اچھا لگا میں نے یہ پسند کیا تھا پر میں لے نہیں سکی

جی میں نے دیکھا تھا خیر آپ کی پسند پہلے ہے اور میں خود نہیں جانتا میں کیوں آپکے پیچھے پیچھے گیا اور یہ سب خریدا اور بس خیر شاید آج کے دن کے لئے ہی یہ سب تھا

آیت آپ کو کوئی بھی مسلہ هو یہاں آپ صرف مجھ سے کہیں گی اور کسی سے نہیں یہاں دوست ہیں پر دشمن بھی بہت ہیں وہ آپکا بھلا نہیں چاہیں گے فیضی گھما پھرا کے اسے کہتا ہے

فیضی میں انکل کے گھر جانا چاہتی ھوں مجھے یہاں آئے دو مہینے ہونے والے ہیں میں نے وہاں اپنا گھر چھوڑا ہے

آیت اسکی طرف دیکھتی ہے آج پہلی بار آیت نے اسکو دیکھ کر اپنے دل کی دھڑکن کو محسوس کیا

آپکا محرم آپکے سامنے هو ہر جذبہ اسکے لئے خالص ہونا چاہیے وہی اسکا حقدار ہے

میں نا چاہتے ہوۓ بھی اس انسان سے محبت میں مبتلا هو ہی رہی ھوں

محبت تو ایسا جذبہ ہے کے بس احساس هو جائے تو اپنے رنگ دکھاتا ہے یہی وہی رنگ تھے جو کے آیت کے چہرے پر ہر ایک کو نظر آئے

وہ اگلے دن آصف ہاؤس کی طرف جاتی ہے وہاں قدم رکھتے ہی اسے ہر طرف ویرانی نظر آتی ہے

نا نوری تھی نا بی جان ہر طرف نئے نوکر تھے سوٹ پہنے

جی میم آپ کو کس سے ملنا ہے آیت کو دیکھ کر وہاں ایک نوکر آکر پوچھتا ہے

جی مجھے زویا آصف سے ملنا ہے یہ انکا ہی گھر ہے

سوری مس زویا فیضان آپ غلط گھر میں آئی ہیں وہ تو یہاں سے جا چکی ہے مونا سیڑھیاں اتر کر آتی ہے

کہاں گئی ہے اور اور وہ میرا مطلب پھوپو کہاں ہے

ہاہاہا پھوپو پاگل خانے میں ہیں میں ایک ایب نارمل عورت کو نہیں پال سکتی تھی سو بیھج دیا اسکو اسکی اصل جگہ

مونا کے منہ سے یہ سب سن کر اسے بہت برا لگتا ہے

جھوٹ بول رہی هو بتاؤ زویا اور پھوپو کہاں ہیں وہ زور دیتی ہے

مس آیت یہ آپکا گھر نہیں ہے میرا گھر ہے اور یہاں اونچی آواز میں۔ بولنا منا ہے سمجھی ناؤ گیٹ لوسٹ

اتنی اونچی اڑان مت اُرنا کے جب سہارا چاہیے هو تو کوئی ارد گرد نا هو

وہ کہہ کر گھر سے باہر آتے ہی اپنی چابیاں نکالتی اپنے گھر کی طرف آ گئی گھر پہلے سے کھلا تھا

دروازہ بجانے پر نوری دروازہ کھول دیتی ہے

آیت تم وہ اتنا اونچا بولتی ہے کے زویا کچن سے آ جاتی ہے

آیت آپی ۔۔۔۔ایسی ناراض هو کر گئی مڑ کے نا دیکھا آپ نے

نہیں یار بزی تھی میں آ گئی نا تم لوگ تو پوچھنے بھی نہیں آئے

پھوپو کہاں ہیں زویا آیت اسکے چہرے پر آنکھوں کے نیچے اتنے ہلکے دیکھتی ہے

آیت آپی ماما ماما کو پاگل خانے بیھج دیا انکی حالت بہت خراب هو گئی تھی

انکو دورے پڑتے تھے وہ سارا دن چیختی رہتی تھی وہ معافی مانگتی تھی پاپا سے فاخرہ آنٹی سے آپ سے بہت بہت اذیت میں تھی بھابی ان سے کام کرواتی تھی میرا رشتہ یہ کہہ کر ختم کر دیا کے میں اچھی لڑکی نہیں ھوں اس خاندان کی لڑکیاں بھاگ کر شادی کرتی ہیں

حرا آپی کا الگ گھر برباد کر رکھا ہے انہوں نے سب سب آپ کی آہوں اور سسکیوں کی بدولت ہے نا میری ماں آپکے ساتھ یہ سب کرتی نا اسکی اولاد یہ حالات آج دیکھتی ہم دو دو دن تک بھوکے رہتے ہیں آپی کھانے کو کچھ نہیں ہوتا

نوری اور لالا کام کرتے حجن گھروں میں جو انکا بچا کچا ہوتا وہ ہم۔ کھا لیتے ہیں

سب ختم هو گیا ہے سب ختم

ایک مظلوم پر ظلم کی سزا بہت سخت ہے ہم بھگت رہے ہیں

آیت کا سر بھاری هو گیا تھا کتنی بڑی قیامت ٹوٹ گئی بتایا تک نہیں مجھے اتنی غیر تھی میں کیا

اور تو اور بچا کچا کھاتی تم تم جو جھوٹا پانی نہیں پیتی کسی کا آیت کو سہی معنی میں آج پتہ چلا تھا انسان کی اوقات سچ میں کچھ نہیں ہے اکڑ کر چلنے والوں کو اللّه کیسے زمین پر ناک رگڑنے پر مجبور کر دیتا ہے

آپی غرور کا سر نیچا ہوتا ہے میں نے غرور نہیں کیا کبھی شاید تبھی بچی ہوئی ھوں بھائی کو کینسر ہے وہ پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے وہ مکمل بیڈ پر ہے بھابی کے رحم و کرم پر ہے

غرور اور تکبر کرنے والوں کا انجام بہت برا ہے ایسا حدیثوں سے ثابت جی بیٹا کبھی اپنے اندر غرور اور تکبر نا آنے دینا فاخرہ کی آواز اسکے کان میں گردش کرتی ہیں

آپی فیضی بھائی سب جانتے ہیں آپ کو نہیں بتایا کیا کبھی نوری اتنی دیر سے خاموش بیٹھی تھی اچانک پوچھ بیٹھی

کیا انکو سب پتہ تھا الو کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ماموں کا بیٹا نوری اور زویا یک آواز میں کہتے ہیں اور تینوں ہسنے لگتے ہیں

یار میں۔ اس۔ بندے کو سہی کرتی ھوں بتایا نہیں اس نے

وہ پریشان نہیں کرنا چاہتے ھوں گے نا تبھی محبت جو۔ اتنی۔ ہے آپ سے انکو جب سے پتہ لگا ہے ہم۔ نے کیسے کیسے دن گزارے ہیں وہ ہمیں ہر روز کا کھانا بھجوا دیتے ہیں۔ اور تو اور چاۓ بھی پینے آتے ہیں

اچھا بڑا چھپا رستم ہے بئی میں۔ بھی کہوں چاۓ کیوں نہیں پیتے آ کر ہمم

تبھی اسکی گاڑی کا ہارن بجتا ہے نوری بی جان خبردار کسی نے میرا بتایا اسکو چپ رہنا اچھا سب نارمل اوکے

وہ دروازے کے پیچھے چھپ جاتی ہے

وہ کھانے کے ساتھ آج کپڑے اور بہت سی ضرورت کی چیزیں لایا تھا

میں۔ نے سوچا روز باہر کا کھانے سے اچھا ہے تم لوگ گھر پکا لو تھوڑا کام وغیرہ سیکھو کیا آیت کی طرح بننا ہے سب نے

اور ہاں میرے آفس کے تمام ورکرز کا کھانا آج سے آپ لوگوں کے حوالے ہے اور میں۔ بہت اچھی پیمینٹ کروں گا

فیضی انکی طرف دیکھتا ہے

تھنک یو بھائی تھنک یو سو مچ اور آپ بتائیں آپی کیسی ہیں

ارے آپ کی آپ کی یار کبھی چڑیلوں کو بھی مسلہ ھوا ہے جب اتنا خوبصورت شوہر فری میں مل جائے

ہر وقت دوڑ لگواتی ہے سب کی بچوں کی طرح کھیلتی ہے پتہ نہیں کب بڑی هو گی میں نے پکا سوچ لیا اب دوسری شادی کر لوں

وہ دروازے کے پاس آیت کا پاؤں دیکھ چکا تھا ہنستے ہوۓ زویا کو اشارہ کیا اس نے دیکھ کر سر پکڑ لیا

بد عقل رہو گی آیت آپی ہاں زویا وہ بد عقل تو بہت ہے اسے اتنا نہیں پتہ کے کافی رات میں پیتے ہیں کے دن میں اس میں ذرا عقل نہیں ہے میں تو بہت تنگ ھوں

آیت کی برداشت سے باہر ھوا اچھا بیٹا اور کیا کیا کمی ہک بتا دیں تاکہ آپ کی دوسری بیوی دیکھتے ہوۓ آپ کی سوچ کو مدنظر رکھا جائے آیت غصے سے سامنے آتی اس پر چڑھ ڈورتی ہے

آیت تم ہاہا چور هو کیا جو چوری چوری باتیں۔ سن۔ رہی تھی

نوری جو چاۓ اور کافی لا رہی تھی ایک دم وہ کافی اٹھا کے فیضی کے پاس آتی ہے اور وہ بھاگنے لگتا ہے آیت پاگل هو۔ یہ کیا کر رہی هو

میں چڑیل میں جن اور پتہ نہیں کیا کیا ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی ہمت یہ سب کہا مجھے اب لیں آیت دیکھو کافی گرم ہے بیچارہ معصوم سا شوہر ہے تمہارا

اففففف ساری معصومیت آپ پر ہی تو ختم ہے نا اچھا سوری وہ کان پکڑ لیتا ہے

ہمممممممم اچھا آیندہ کیا نا تو دیکھنا پکڑ کر مار دینا ہے میں نے

بی جان آیت کو ہنستا دیکھ کر اسکو ہمیشہ ہسنے کی۔ دعا دیتے ہیں۔ سارا دن وہ وہاں گزار کے رات کا کھانا کھا کے دونوں گھر آتے ہیں

آیت میں کچھ دن۔ کے۔ لئے اسلام آباد جا رہا ھوں آپ چلیں گی گھوم پھر لیں گے

نہیں جی مہربانی ہم چھٹی پر ساتھ جائیں گے سب آپ نے ویسے بھی سارا دن کام میں بزی رہنا ہے

میں بور هو جاؤں گی

آپکا سامان پیک کر دوں

واہ آپ کے اندر اچھی بیوی والے جذبات کہاں سے آئے وہ اسے تنگ کرنےمیں لگا ھوا تھا

فیضی میں ماموں سے بول کے مار پڑوا دوں گی

آیت دھمکی دیتی ہے اور سر جھکا کے ہنستی ہے

خوبصورت احساس صرف یہ نہیں کے آپ کو محبت ہے خوبصورت احساس یہ ہے کے آپ کو جس سے محبت ہے وہ سے ڈبل آپ سے محبت کرتا ہے

اسکی باتیں اسکا بولنا دیکھنا محبت کرنا فکر ان سب سے آیت کو محبت تھی

دل میں جو خلش تھی وہ کہیں جا سوئی تھی

زرش کو علی صاحب نے واپس یوکے بیھج دیا تھا اب اسکا یہاں کوئی کام نہیں۔ تھا وہ فضا کو لے کے جانا چاہتی تھی پر فضا خود نا مانی اسی لئے وہ کورٹ بھی نہیں جا سکتی تھی

ہار مان کر وہ واپس چلی۔ جاتی ہے اور باہر آ کے بڑے عمر کے آدمی سے شادی کر لیتی ہے جو کافی امیر تھا

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

فیضی کو گئے دوسرا دن تھا اسکا دل نہیں لگ رہا تھا عجیب سی الجھن تھی کھو دینے کا خوف تھا جو بار بار اسے تنگ کر رہا تھا

تبھی ابراہیم آتا ہے بھابی فری ہیں

ہاں کہو آیت اسکو جواب دیتی ہے اور اسکے چہرے کی خوشی دیکھتی ہے

میرے ساتھ چلیں لڑکی دیکھنے پاپا نے کہا آیت کو دکھا دو وہ اسکو کہتا جلدی جلدی اٹھا دیتا ہے

کون سی لڑکی کس لڑکی کی بات کر رہے هو آیت اس پاگل کو دیکھ رہی تھی بس

گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب بتایا کے بھائی کے آفس میں لڑکی ہے مجھے پسند ہے آپ مل کر سب آج ہی فائنل کر دیں پلیز بھابی میں اسکو کالج ٹائم سے پسند کرتا ھوں وہ گھاس نہیں ڈالتی تھی

اب تو اسکو بولا ہے وہ کہتی ہے میری آپی اور بھائی فیصلہ کریں گے بس

بات کرتے ہی وہ آیت کے گھر کے سامنے گاڑی روکتا ہے آپ اندر چلیں میں آتا ھوں

آیت سامنے دیکھ کر مسکراتی ہے

مجھے لڑکی پسند ہے

کیا مطلب کیسے بنا دیکھے وہ ہنستا ہے

اندر آو چلو دونوں۔ ساتھ جاتے ہیں

آپی آپ یہاں اچانک وہ ساتھ آنے والے کو نظر انداز کر دیتی ہے کیا آپی ایک موبائل تو لے لو کب سے بھائی کو فون کر رہی ھوں۔ اٹھا نہیں رہے زویا شکوہ کرتی ہے

میں بھی ساتھ ھوں ابراہیم کو بولنا پڑا

آپ آپ یہاں آپی کے ساتھ زویا کبھی آیت کو دیکھتی کبھی ابراہیم کو

میرا بھائی جیسا دیور لے اُڑی لڑکی وہ زویا کو گلے لگا لیتی ہے

پاپا بیمار ہیں ورنہ آتے ضرور تم پریشان نا ہونا سب ٹھیک ہو گا

آیت اسکو دلاسہ دیتی ہے

اور اگر انکل نے منا کر دیا کے یہ زینت کی بیٹی ہے تو زویا اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہے

تو بھی فکر نا کریں میری بھابی ہیں نا سب ٹھیک کر دیں۔ گی

اچھا آپ کی بھابی سے پہلے میری بہن ہے زویا اسکو فٹ جواب دیتی ہے

ہاں ھوں گی پر اب ہماری ہیں ابراہیم بھی فٹ ہی جواب دیتا ہے

اففف لڑو مت اب چلتے ہیں۔ فضا آ گئی هو گی یہ ویسے بھی مجھے اتنا جلدی لایا ہے کے میں موبائل نہیں لائی فیضی کی کال آ سکتی ہے اوکے تم میرا نمبر دے دو اسکو مجھے تو یاد نہیں ہے وہ ابراہیم سے کہتی ہوئی بی جان سے مل کر دونوں وہاں سے نکل آتے ہیں

آگے راستہ بند ہوتا ہے

بھابی جب تک راستہ کھلتا ہے ہم۔ سامنے کیفے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یا سامنے شاپنگ کرتے ہیں ابراہیم اسکو آفر کرتا ہے

کچھ کھا لیتے ہیں میرا دل بہت عجیب سا هو رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے بہت برا آوٹ اپنی ٹینشن بتاتی ہے کچھ نہیں هو گا آپ بس بھائی کو مس کر رہی ہیں۔ اتنی محبت نا کریں وہ ہوا میں اُڑنے لگیں گے وہ اسکو تنگ کرتا ہے

نہیں میں نے آج ہی خواب میں انکو دیکھا ہے بسس بہت برا خواب تھا

اوکے چلو آیت اپنا دھیان ہٹانا چاہتی تھی تبھی اتر گئی

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

یار زویا تمہاری بہن کو پسند کیا ہے

وہ زویا سے بات کرتا جا رہا تھا اور جیولری دیکھ رہا تھا

بھائی آپی کو چھوٹی چھوٹی چیزیں پسند ہیں

ہلکی ہلکی سی وائٹ میں انکو گولڈ نہیں پسند ہرگز بھی

اوکے اب تم شام تک یاد سے گھر آ جانا اور ہاں آتے ہوۓ کیک لے آنا اسکا فیورٹ

میں نے پیمینٹ کر دی ہے اس سے بات کرتا وہ شاپنگ مال میں چیزیں خریدتا ہے

🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸
🌸

بھابی اندر جگہ نہیں ہے آپ گاڑی میں بیٹھیں میں کچھ کھانے کو لاتا ھوں

ابراہیم بول کر اندر چلا جاتا ہے وہ نیچے اترتی ہے تبھی کسی فقیرنی سے ٹکرا جاتی ہے

سوری سوری میں نے دیکھا نہیں آیت اسکو زمین سے اٹھاتی ہے چہرے پر نظر پڑتے ہی آیت کا رنگ فق هو جاتا ہے

پھوپو آپ ۔۔۔۔۔۔آیت بولنے کے قابل نہیں رہی تھی

آیت آیت یہ تم هو میری آیت میری بیٹی تم تم آیت هو نا

وہ نا میری بیٹی بیٹی نا ناراض هو کر چلی گئی ہے وہ فاخرہ اور آصف بھی چلے گئے ہیں وہ بھی گئی ہے پتہ نہیں کیوں سب نے چھوڑ دیا مجھے تم آیت هو تم تم نہیں۔ چھوڑو گی نا

زینت کی یہ حالت دیکھ کر آیت اسکے گلے لگ جاتی ہے اور دل میں کہتی ہے

اللّه میں نے سب کو معاف کیا تو بھی ان سب کو معاف کر ان کی راہیں آسان کر 😢😢😢😢😢😢😢😢😢😢

آیت آیت هو نا تم وہ اپنی حالت سے انجان تھی وہ نیم پاگل تھی پاگل نہیں

زینت بار بار آیت کا چہرہ چوم رہی تھی اور پھر رو پڑی ایک بار بس ایک بار میری آیت مل جائے وہ ماں بول دے میں ترس گئی ھوں اسکو سننے کو وہاں کھڑے لوگ دونوں کو دیکھ رہے تھے

بیٹیاں تو اللّه نے اس لئے رحمت بنائی ہیں کیوں کے رحمت ہر گناہ درد اور تکلیف کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں اف نہیں کرتی اسی لئے اللّه نے بہت کم لوگوں کو یہ درد سمیٹ لینے والی بیٹیاں دی ہیں وہ ہر دکھ سہہ کر ماں باپ کو خوشی دیتی ہیں مگر آج زندگی میں کیسا موڑ آیا ہے کے جس ماں نے جنم دیا اسکو ماں بولتے ہوۓ زبان ساتھ نہیں دے رہی یہ درد کم نہیں ہوتا بیٹیاں ہر ایک کا مقدر نہیں ہوتی یہ ہر ایک کسی نہیں ملتی یہ رحمت کی خوشبو ہے اس خوشبو کو پانے کے لئے جدو جہد کرنی پڑتی ہے جس گھر سے یہ خوشبو روٹھ جائے وہ گھر سُونا پڑ جاتا ہے

آیت کے قدم لڑکھڑا گئے زبان ساتھ نہیں دے پا رہی تھی اس نے آنکھیں بند کر کے پکارا

ماں میں نے معاف کیا سب کو خاص کر آپ کو ۔۔۔۔آیت نے زینت کو گلے لگا کے بہت پیار کیا اور اسکو گھر لے جانے کا ارادہ کیا

تبھی ابراہیم آ گیا

بھابی سب خیر ہے یہ کون ہے

ابراہیم یہ یہ میری ماں ہے زویا کی ماما ہیں

ماں یہ یہ ابراہیم ہے زویا کا رشتہ میں نے اپنے دیور سے کیا ہے

زینت جو آیت کے ماں بولنے پر خوشی سے نہال تھی ابراہیم کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے

مگر وہ سے پھر پاگلوں کی طرح بولنا شروع هو جاتی ہے

میری آیت آئے گی ہاں وہ فاخرہ اور آصف کے ساتھ گئی ہے

بھابی ابراہیم کے بولنے پر وہ اسکی طرف رخ کرتی ہے دونوں بات کر رہے تھے کے آیت کی نظر مال۔ سے نکلتے فیضی پر پڑی

یہ یہ کب آئے فیضی کو دیکھ کر ابراہیم اپنے سر پر ہاتھ مارتا ہے اففف بھائی بھی نا یہ یہاں ہیں پتہ ہی نہیں چلو انکو کہو یہاں آئے اور ہمارے ساتھ ہی گھر چلے

آؤ ماما چلیں وہ پیچھے دیکھتی ہے کب کی رکی ٹریفک بحال هو چکی تھی اور زینت اسی میں سے ایک گاڑی کی زد میں آ چکی تھی آیت نے اپنے سامنے اسکو ہوا میں اڑتا دیکھا

ماما ماما وہ چیختی ہوئی آگے بڑھی بھائی بھائی گاڑیاں ہیں رک جائیں

ابراہیم پھوپو بھابی پلیز آپ رک جائیں میں جاتا ھوں

گاڑییاں رک چکی تھی ساتھ میں۔ زینت کی سانس بھی رک چکی تھی برائی کا انجام برا تھا لیکن اگر کوئی آخری دم تک اپنے گناھوں کی معافی اس شخص سے مانگ لے جس کا دل دکھا هو اور اللّه سے استغفار کر لے آگے کی منزل آسان هو جاتی ہے

فیضی کو ابراہیم کا میسج ملتا ہے وہ بھی فوراً آ جاتا ہے

گھر میں سبھی سرپرائز کا فیصلہ کرتے ہیں آج آیت کی برتھ ڈے ہے

جلدی کرو وہ آ گئی ہے بس فیضی بھائی نہیں آئے کنزا جو کل ہی سسرال سے آئی تھی فیضی کو کال کرنے لگتی ہے

تبھی اسکا موبائل گھر میں بجتا ہے

ارے لو ساتھ آئے هو

سرپرائز زویا اور فضا ایک دم بولتے ہیں تبھی آیت روتی ہوئی زویا کے گلے لگ جاتی ہے پیچھے سے کچھ لوگ زینت کو لاتے ہیں۔ شکل پہچان کے قابل تک نہیں تھی

آیت آپی رو کیوں رہی ہیں اور یہ یہ کون ہے کیا ھوا سب ٹھیک ہے

زویا حیرت سے سبکو دیکھتی ہے ب جان زینت کی طرف دیکھتی ہیں

مگر پہچان نہیں پاتی

کون ہے یہ بیٹا رو کیوں رہی هو

بابا یہ یہ پھوپو ہیں میری ماں ہے

نہیں نہیں آپی ماما نہیں ہے وہ تو پاگل خانے میں ہے زویا جو آگے بڑھ کر دیکھنے لگی تھی ایک۔ دم پیچھے ہوتی ہے

نہیں آپی جھوٹ ہے فیضی سب کو حقیقت بتاتا ہے

آپی آپی ماما کو معاف کر دیں پلیز میری ماما کو معاف کر دیں

زویا میں نے انکو۔ معاف کردیا تھا میں انکو یہاں لا رہی بس پھر یہ سب ھوا

مونا کو فون کر کے جبران کو۔ لانے کا کہتے ہیں مگر وہ زمین پر خدا بنی بیٹھی تھی اسکا تکبر ابھی اسکے آگے آنا تھا

اس نے لانے سے صاف منا کر دیا

1 سال بعد

ابراہیم آپ کچھ بھی جگہ پر نہیں رکھتے سب پھیلا کر رکھتے ہیں یار کیا مصیبت ہے زویا ابراہیم پر غصہ هو رہی تھی جو اپنی چار ماہ کی بیٹی کو سلا رہا تھا

😂
😂
😂
😂
😂
😂
😂
😂

زویا تم هو نا کام کے لئے پھر مجھے کیا۔ ضرورت ہے کام کی

وہی روز کا۔ ایک نعرہ تھا اسکا جو۔ روز بول۔ کے چڑاتا تھا

حد ہے بئی اب لوگ ناراض۔ هو کر میکے جاتے ہیں میں وہ بھی نہیں جا سکتی

ہاہا بات سنیں بیگم آپ کو جانے کون دیتا پتہ ہے میرا دل نہیں۔ لگتا

ابراہیم اپنی بیٹی کو سلا کر اسکے پاس آیا

ہاں تبھی روز تنگ کرتے ہیں آپ کی بیٹی کیا کم ہے پتہ نہیں کیا سوچ کے آیت آپی نے اسکا نام رکھا ہے سارا دن تھکا دیتی ہے رات سونے نہیں دیتی

اور پھر آپکے اتنے کام ہیں بس

زویا نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی

افففف پاگل کر دو گی وہ منہ بنا کر نیچے آیا تاکہ زویا کی شکایت آیت سے۔ کرے یہاں پر یہاں معملات ہی الٹے تھے

یار آیت کب سے کال کر رہا تھا اٹھایا کیوں نہیں

فیضی اسکو دیکھ کر بولا سیب کھانے لگا

کیوں اٹھاتی ہاں رات کو کیا کہہ رہے تھے کس چڑیل سے پالا پڑا ہے ہاں زندگی خراب کر دی اور تو اور دوسری شادی کرنی ہے

آیت اسکے سر پر کھڑی تھی

افف شرم کرو۔ شوہر کی باتیں سنتی هو۔ چھپ چھپ کر

فیضی مصنوئی غصہ کرتا ہے

تبھی آیت کافی سے بھرا ٹھنڈا مگ اسکی نیو شرٹ پر پھنک دیتی ہے

آیت یہ کیا کیا پاگل لڑکی کسی کا گفٹ ہے

زہر لگ رہی ہے یہ مجھے اور جس نے۔ دی ہے وہ اس سے زیادہ زہر لگتی ہے آنے دو ماموں کو بتاتی ھوں آپ کی ساری کرتوت

تمہاری تو ایسی کی تیسی ماموں کی چمچی

وہ ٹھنڈا پانی اس پر پھنک دیتا ہے

ماشاء اللّه جب بڑی بہن میرے بھائی کا یہ حال کرے گی تو چھوٹی تو میری جاں لازمی کھاۓ گی

ابراہیم دونوں کو ایسا لڑتا دیکھ کر ہنستا ہے

ہاں بیٹا کیا کریں اب تو پھنس گئے فیضی اسکو دیکھ کر آنکھ مارتا ہے

اففف اچھا ہم جان کھاتے ہیں یہ لو

پیچھے کھڑی زویا نے سارا جگ ہی اس پر الٹ دیا تینوں زور سے ہنس پڑے

اچھا جلدی کریں سب میں نے کھانا بنا لیا ہے کھا لیں پھر غریب بچوں میں کھانا تقسیم کرنا ہے نا اور ہاں میں آج دربار جاؤں۔ گی چادر چڑھائیں گے اور انکا شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے ہمیں۔ سمبھال لیا اور سمیٹ لیا

آیت کھانا نکالتے ہوۓ کہتی ہے

مونا کی کال آئی تھی زویا سے جبران ملنا چاہتا ہے تم لوگ شام میں هو آنا فیضی آیت اور زویا سے کہتا ہے

زویا ابراہیم کو۔ دیکھتی ہے جو اجازت دیتا ہے

آیت جبران سے ملنے جاتی ہے تو وہ اتنا لاچار تھا کے اٹھ نا سکا

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے تم ساری زندگی کھیلتے آئے هو اور چیٹنگ کر کے جیت جاتے تھے اس بار اللّه نے تمہیں ہرا دیا تم خود کو۔ خدا سمجھتے هو کے جب چاہا جس کی زندگی برباد اور جسکی آباد کر دی نہیں جبران اللّه بہت سخت حساب کرتا ہے انکا جو دوسروں کا حق مارتے ہیں

اور تم تم نے تو زندگی ہی ختم کر ڈالی تم نے جینے کی وجہ ہی چھین لی تمہیں کیا لگتا تھا تمہارا حساب نہیں هو گا یاد نہیں بھول گئے هو دنیا مکافات عمل ہے آپ آج جو بو رہے ہیں وہی کل کاٹیں گے ہاں آج کا انسان آج کا مسلمان بھول گیا ہے کے کے وہ دنیا میں کیوں آیا تھا اصل مقصد کیا تھا انسان بھٹک گیا اپنے رب سے کیا وعدہ بھول گیا تبھی آج انسان بربادی کے دھانے پر۔ کھڑا ہے جو لوگ اللّه کو راہ سے پھر جاتے ہیں وہی لوگ جہنم کی آگ کا ایندھن بنتے ہیں

تم اپنے کیے کی سزا بھگت رہے هو اور یہی تمہارا انجام ہے

آیت نے دوسری بار اسے نا صرف آئینہ دکھایا تھا بلکہ اسکی زیادتیوں پر معاف کر کے اس گھر سے نکل آئی تھی

یہی چاہتے ہیں نا آپ مجھ سے وہ گھر سے باہر آکے آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور نم آنکھوں۔ سے مسکرا دیتی ہے

اللّه تو بیشک کریم ہے

شام میں جب سے آیت آئی تھی مل کر اداس تھی فیضی کے پوچھنے پر وہ اسکو بتاتی ہے کے اللّه نے کس طرح صبر کا پھل۔ دیا ہے

مونا کے دو بچے ہیں دونوں ایب نارمل ہیں وہ سارا دن گورنس ہی۔ سمبھالتی ہے

اسکی اپنی حالت دیکھنے والی ہے

اللّه ہر کو کو اسکے اعمال کی سزا دیتا ہے

مونا بتا رہی تھی کے پھوپو سے جب وہ کام کرواتی تھی تو پھوپو نے کہا تھا کے آج تمہیں ماں کا دکھ درد کا احساس نہیں ہے جب خود ماں باپ بنو گے تو پتہ چلے گا کے کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے آج اپنے بچے دیکھ کر یہ احساس ہے کے میں نے بہت بہت غلط کیا تم۔ سب کے ساتھ مجھے معاف کر دو آیت

میں۔ نے سب کو صدق دل سے معاف کیا ہے

پر اتنا کچھ کھویا ہے کے دل کے ایک کونے میں بعض دفع حسرت جاگ ہی جاتی ہے کاش کاش یہ سب نا ہوتا میری زندگی اس ایک سال میں۔ اتنی بدل جائے گی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی پر کہتے ہیں۔ نا انسان کو ہمیشہ اپنا ماضی یاد رکھنا چاہیے اسکو اپنی حیثیت کا علم رہتا ہے

آج میں اسی شاپنگ مال سے اتنی مہنگے کپڑے لیتی ھوں جہاں سے میں۔ حسرت سے کپڑے کی۔ پرائز دیکھ کر گزر جاتی تھی

اللّه حالات بدل دیتا ہے انکے جنکو اس پر کامل یقین هو فیضی اسکا ہاتھ تھام کے کہتا اٹھ جاتا ہے

چلو رات بہت هو گئی صبح ہماری فلائٹ ہے پاپا لوگ یو کے سے نکل گئے ہیں ہم پہلی۔ بار ساری فیملی ایک۔ ساتھ حج کریں گے

وہ مسکراتی ہوئی اسکو دیکھتی ہے

چاند روشن تھا اور ارد گرد سبھی ستارے اس کی روشنی سے فیض لے رہے تھے

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *