Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 10)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

گاڑی میں مکمل خاموشی تھی تبھی جبران کہتا ہے آیت مجھ کہہ دیتی میں چھوڑ دیتا اسکول

وہ اسکو دیکھ خاموشی سے منہ پھیر لیتی ہے میں نے ضرورت محسوس نہیں کی سو نہیں کہا تبھی

اسکول آنے پر وہ اترتی ہے

واپسی کب ہے تمہاری جبران پھر پوچھتا ہے

وہ غصے سے پیچھے مڑتی ہے دیکھیں جبران میں کب کہاں جاتی ھوں آپ کو اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے اور میرے آنے جانے کی ٹائمنگ کیا ہے ے بتانا میں ضروری نہیں ہے اپنے کام سے کام رکھیں اور مجھے میرا کام کرنے دیں

اللّه حافظ

وہ اسے سنا کر اسکول کے اندر چلی جاتی ہے جہاں محبت اسکے انتظار میں ہوتی ہے

🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀
🌹
🍀

جبران تم صبح صبح کہاں سے آ رہے هو زینت صاحبہ دروازے سے آتا ھوا دیکھ کے بولتی ہیں

وہ ماما ایک دوست کا ایکسیدنٹ هو گیا ہے بس اسے ضرورت تھی تو گیا تھا

وہ صاف جھوٹ بولتا ہے جانتا تھا سچ بولنے پر ڈانٹ پڑے گی

زینت۔ ۔۔۔۔۔اچھا بیٹا کوئی بات نہیں تم مونا کو اٹھا دو

وہ کیوں ماما آپ جانتی ہیں وہ 12 بجے سے پہلے نہیں اٹھے گی جبران چڑ کے کہتا ہے

بیٹا ناشتہ بناۓ گی اور کیا زینت بہت آسانی سے کہہ دیتی ہیں

ماما وہ نہیں بناۓ گی آپ کو پتہ تو ہے

وہ اٹھ کے روم کی طرف بڑھ گیا

وہ غصے سے ہاتھ پر ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی

ایک دن تمہی سے بنواؤں گی دیکھنا مونا

وہ روایتی ساس بن کے بولتیں ہیں

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

وہ اپنے ہی خیالوں میں دنیا جہاں سے گم بیٹھی تھی تبھی سارا اسکے پاس آتی اور اسکے سامنے ہاتھ ہلاتی ہے دھیان کہاں ہے میڈم تمہارا

وہ چونک جاتی ہے کہیں نہیں یہیں ھوں

آیت بیزاری سے کہتی ہے

آنٹی کو مس کر رہی هو سارا پوچھتی ہے

انکو تو ہر لمحہ یاد کرتی ھوں بس اب کچھ لوگوں سے دور جانا چاہتی ھوں

آیت نم آنکھیں صاف کرتی ہنستی ہے میں نے سوچا تھا آیندہ کبھی نہیں رونا پر ے آنسو نکل ہی آتے ہیں بہت کوشش کرتی ھوں نا نکلے

**آیت دور جانا مسائل کا حل نہیں ہے ان مسائل سے لڑو اپنے اندر ہمت لاؤ

ہر ایک کے سامنے مضبوط بنو ورنہ اگر تم کمزور پڑ گئیں ے دنیا تمہیں نوچ لے گی سارا اسکا ہاتھ پکڑ کے سمجھاتی ہے

پتہ ہے سارا امی کہتی تھی وہ کبھی مجھے چھوڑ کے نہیں جائیں گی اور میں بھی کہتی تھی انکو نہیں جانے دوں گی پر وہ چلی گئی میں نے نہیں روکا باپ کے بنا بے سائبان ہوئی تھی میں نے بہت سے لوگوں کی گندی نظریں خود پر اٹھتی دیکھی تھی پر میری ماں نے مجھے اپنے پروں میں چھپا لیا میں زمانے سے چھپ تو گئی مگر اپنے اندر ہزار کمیوں کو جنم دیا

غصہ نفرت یہ میں نے اپنوں سے سکھا میری امی کوئی کام غلط کرتی یا دیر ہوتی کھانے میں پھوپو امی کو طعنے دیتی

بد کردار ہونے کے جب کے میری ماں پانچ وقت نماز کی پابند تہجد گزار پھر بھی سب سہتی تھی

انکو معاف کرنا آتا تھا وہ اللّه کے لئے سبکو معاف کرتی تھی

خیر میرا موڈ بلکل اوف هو چکا ہے ان لوگوں سے میں اپنا تبادلہ اسلام آباد کروانا چاہتی ھوں

بس وہیں ہوسٹل میں رہ لوں گی وہ اداسی سے سر جھکا کے اٹھ جاتی ہے

بچوں کی سردی کی چھٹیاں ہیں کچھ دن میں کام ختم کروانا ہے

میری کلاس کا ٹائم ہے میں چلتی ھوں

وہ سُستی سے قدم اٹھا کے اسٹاف روم سے باہر آ جاتی ہے

فضا آپ اداس کیوں ہیں کلاس میں آ کے اسکی نظر فضا پر پڑتی ہے جو اداس تھی

میڈم میری چھٹیاں ہیں اور بابا مجھے یو کے بیھج رہے ہیں دادا ابو کے پاس پر خود نہیں جائیں گے میں انکو مس کروں گی میں بور هو جاؤں گی

فضا اسکو بتا کے پھر منہ پُھلا لیتی ہے

آیت ہنس دیتی ہے اچھا آپ کی ماما تو ھوں گی نا آپ ان کے ساتھ ٹائم سپنڈ کرنا

میری ماما نہیں ہیں میم فضا کی آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں

آیت کی بھی آنکھ نم هو جاتی ہے میری بھی ماما بھی ہیں فضا ماما کے بنا رہنا بہت مشکل ہے پر آپکے پاپا تو ہیں نا

آیت اسکو دلاسہ دیتی ہے

میم نا میری ماما ہیں نا پاپا ہیں

میرے بس دادا ابو،بابا چاچو اور پھوپو ہیں بس اور ایک سڑی ہوئی خالہ ہیں

فضا منہ بناتی ہے تو آیت ہنستی چلی جاتی ہے

بیٹا خالہ کے لئے اتنا سڑا منہ اور باقی سب سے اتنا پیار کیوں بھلا

آج آیت کو فضا کا ساتھ اچھا لگ رہا تھا تبھی اس سے باتوں میں لگ گئی

ساتھ ساتھ دوسرے بچوں کے کام چیک کرتی جا رہی تھی

میری خالہ اچھی نہیں ہیں بس وہ میرے بابا سے لڑتی ہیں اور مجھے وہ اچھی نہیں لگتی نا کپڑے اچھے پہنتی ہیں اور نا بات اچھی کرتی

مجھے نہیں پسند بس 😏😏😏😏😏

آیت کو آج اپنا بچپن یاد آیا کبھی وہ بھی ایسا ہی بولا کرتی تھی بیل بجتی ہے تبھی بریک ٹائم هو جاتا ہے

فضا کب گئی اسے نہیں پتہ چلتا وہ وہیں بیٹھی رہی

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

یار کیا مصیبت ہے نمبر کیوں بند ہے آیت کا فیضی کوئی 11 دفع کال کر چکا تھا پر نمبر بند تھا اسے سہی معنی میں اب ٹینشن ہونے لگی تھی تبھی وہ گاڑی کی چابیاں اٹھا کے اسکے گھر کی طرف روانہ ھوا

گھر پر تالا دیکھ کر وہ آصف صاحب کے گھر کی طرف بڑھ جاتا ہے

جبران سامنے ہی دیکھ جاتا ہے

السلام علیکم جبران فیضی سلام کرتا تبھی جبران نظر اٹھاتا ہے

کیسے ہیں آپ جبران اور مونا باہر جا رہے ہوتے ہیں تبھی جبران تنگ کے اسے دیکھتا ہے

کوئی کام تھا آپ کو جبران سختی سے کہتا ہے

فیضی اسکے لہجے کی سختی کو محسوس کرتا ہے پر کہتا نہیں

آیت کا پوچھتا ہے جس کا جواب نہیں پتہ کا آتا ہے

اوکے تھنک یو فیضی جانے لگتا ہے تبھی مونا پکارتی ہے اسے

سنو فیضی آج کل بڑے چکر لگ رہے ہیں آیت کے ارد گرد خیر ہے

فیضی ایک نظر اسے دیکھتا اور پھر جبران کو آیت میری ذمہ داری ہے اسکا خیال رکھنا میرا فرض ہے

اللّه حافظ

وہ گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے تبھی سامنے سے وہ آتی دکھائی دیتی ہے

اسکے قریب آتے ہی وہ باہر آتا ہے

آیت اسے اگنور کر کے آگے بڑھ جاتی ہے اور تالا کھولتی ہے اس سے پہلے کے وہ دروازہ بند کرتی وہ بیچ میں پاؤں رکھ دیتا ہے

کیوں کر رہی ہیں ایسا کیوں اگنور کر رہی ہیں نمبر بھی بند ہے صبح سے پریشان ھوں آپکے لئے فیضی کے لہجے کی خوشبو آیت محسوس کر کے نظر اٹھاتی ہے اور پھر جھکا لیتی ہے

اندر آنے دیں باہر تماشا بنے گا فیضی کے کہنے پر وہ راستہ دے کے آگے بڑھ گئی

آپ آیندہ یہاں مت آئیے گا میں نہیں چاہتی مجھ پر اور کیچڑ اچھالے کوئی جتنا سہنا تھا سہہ لیا میں یہ شہر چھوڑ کے جا رہی ھوں آیندہ آپ کو زحمت نہیں دوں گی نا آپ کی نیند حرام کروں گی

آیت کہتے ہی اسکی طرف رخ کرتی ہے وہ کان پکڑ کے اُٹھک بیٹھک کر رہا تھا

یہ یہ کیا کر رہے ہیں وہ بولتے بولتے رک گئی تھی

آپ سے سوری کر رہا ھوں میرے پاپا کہتے ہیں جب بندا غلطی کرے تو اٹھک بیٹھک کر لے سامنے والا راضی هو جائے گا

میری امی بھی یہی کہتی تھی آیت پھیکی ہنسی ہنستی ہے

جائیں فیضی کیا یاد کریں گے معاف کیا آپ کو

پر میں۔ آیندہ واقع آپ سے ہیلپ نہیں لوں گی اور یہ میں نے سوچ لیا ہے کے میں یہ شہر چھوڑ رہی ھوں

آیت جو مسلہ ہے بیٹھ کے سلجھا لیتے ہیں

میں مانتا ھوں غلطی میری ہے پر میں اس وقت ٹینس تھا سچ میں پر آئی پرامس غصہ اترا جب میں آپ کو کب سے کال کر رہا ھوں آیت پلیز میں سوری کرتا ھوں

سوری سوری میں تھک گئی ھوں مسڑ فیضی آپ لوگوں نے تماشا بنا رکھا ہے

میرا جس کا دل کرتا ہے دکھا کے سوری کر لیتا ہے رات مونا نے دکھایا صبح جبران سوری کر رہا تھا اب آپ

میری اپنی بھی زندگی ہے جینے دیں پلیز جائیں آپ یہاں سے جائیں وہ غصے سے چیخنے لگی تھی

فیضی فوراً وہاں سے باہر آ جاتا ہے اور گاڑی میں بیٹھ کے خود کو نارمل کرتا ہے

کچھ دن نا ملنے کا عہد کر کے وہ گھر کی طرف گاڑی موڑ لیتا ہے

آصف صاحب کو گئے ایک ہفتہ هو چکا تھا انہی دنوں زویا کے رشتے کی بات چل رہی تبھی کچھ لوگ آج گھر آئے ہوے تھے

آیت جلدی سے چاۓ بنا لو باقی سامان بازار سے منگوا لیا ہے لالا آتا هو گا

زینت آیت جو حکم دیتی کچن سے چلی گئی

زویا یہ کون لوگ ہیں آیت زویا کو مخاطب کرتی ساتھ ساتھ کام کرتی ہے

پتہ نہیں بھائی کی شادی پر دیکھا تھا کہتے ہیں تو بس آ گئے

زویا اسے خوشی خوشی بتاتی ہے

تم اتنا خوش کیوں هو آیت حیرت سے اسکو دیکھتی ہے

اسی لئے کے لڑکا بہت امیر ہے ہائے میں۔ ہر جگہ گھوموں گی

آیت چاۓ لے کے آؤ اور تم بھی آؤ مونا آتے ہی بولتی ہے اور زویا کو لے کر باہر نکل گئی

ماشاء اللّه آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے پر آپ کی بھتیجی اسکا کہیں رشتہ ھوا ہے کے نہیں

آنے والوں میں سے ایک آنٹی پوچھتی ہیں

بس جی اپنی مرضی کی مالک ہے جب کہے گی کر دیں گے ابھی تو نام بھی نہیں لے سکتے کیوں کے ان کے مزاج نہیں ملتے رات کو۔ دیر دیر سے گھوم پھر کے آتی ہیں ہم نہیں جانتے

زینت کی بجاۓ مونا جواب دیتی ہے

زینت ہکا بکا هو کر اسے دیکھتی ہیں

آیت کچن میں سب سنتی ہے اور اپنے کام میں لگ جاتی ہے

نوری تم یہ سب رکھ آؤ میں گھر جا رہی ھوں

آیت اپنے گھر آ جاتی ہے

**امی آپ نے سہی کہا تھا بیٹیوں کے لئے یہ دنیا تب تک اچھی ہے جب تک ماں باپ موجود ہیں جب ان میں سے ک بھی چلا جائے یہ سگے رشتے کھل کر سامنے آ جاتے ہیں**

دور سے اذان کی آواز پر بھی وہ نماز کو کھڑی نہیں ہوتی اور آرام سے لیٹ جاتی ہے

🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹
🌸
🌹

فضا آپ نے سب پیک کر لیا ہے تو چلو دیر هو۔ جائے گی فیضی اسے جلدی سے بلاتا ہے۔

بابا آپ کے بنا کیسے رہوں گی پہلے تو آپ تھے وہاں یو کے میں اب آپ نہیں ھوں گے فضا افسردہ سا منہ بناتی ہے فیضی کو اس پر بہت پیار آتا ہے

بیٹا میں آپ کو لینے آ جاؤں گا

ٹھیک ہے اب چلیں

ہمم چلو فیضی اسے لے کے گاڑی کی طرف بڑھ جاتا ہے

ابراہیم تم وہاں جا کے مجھے کال کر دینا کے پوھنچ گئے هو یاد سے اوکے

فلائٹ کے جاتے ہی وہ گھر آ کے لیٹ جاتا ہے

ایک بار پھر نمبر ٹرائ کرتا ہے پر بند آتا ہے وہ اس بات سے انجان ہے کے آیت سم توڑ چکی تھی

💓
💞
💓
💞
💓
💞
💞
💓
💓
💞
💞
💓
💞
💓
💞
💓
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

گرمی پسینہ آگ کی تپیش سے اسکا جسم جلنے لگتا ہے ہر طرف آگ اندھیرا ہوتا ہے دور کہیں سے روشنی نظر آتی ہے وہ روشنی کی طرف لپکتی ہے مگر روشنی غائب هو جاتی ہے

وہ پھر سے اندھیرا دیکھ کر خوف کھاتی ہے

امی امی کہاں ہیں آپ امی مجھے دڑ لگ رہا ہے

آگ اسکا جسم جھلسا رہی تھی تبھی وہ پکارتی ہے

اللّه میری مدد کر میں پھنس گئی ھوں

تبھی دور آسمان سے ایک۔ روشنی آتی ہے اور اسکے جسم پر پڑتی ہے آگ میں بھی اسکا جسم ٹھنڈا پر جاتا آگ ختم هو جاتی ہے

اسکی آنکھ کھل جاتی ہے نومبر کی ٹھنڈی شام جہاں بارش کی ہلکی ہلکی بوند ٹپک رہی تھی اس میں بھی وہ پسینہ پسینہ ہوئی تھی

اللّه یہ کیسا خواب تھا میں آگ میں جل رہی ھوں پر کیوں اور اور وہ روشنی کیسی تھی آیت سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے امی امی کیوں چھوڑ کے گئیں ہیں میں سمجھ نہیں پا رہی

تبھی اسے یاد آتا ہے امی ہمیشہ صدقہ دیتی تھی اور اس نے کتنے عرصے سے صدقہ نہیں دیا

میں کل ہی دربار جاؤں گی اور وہیں دے دوں گی صدقہ

ہاں یہ ٹھیک ہے

رات کو دڑ سے نیند نہیں آتی اور جب آتی ہے تو پھر کوئی دروازے کو کھٹکاتا ہے وہ گہری نیند سے جاگتی ہے

کون ہے وہاں اسکو دڑ لگتا ہے پر پوچھتی ہے شاید لالا یا نوری هو پر دروازہ نہیں کھولتی اور دروازہ متواتر بج رہا تھا

مگر وہ اٹھ کے دروازہ نہیں کھولتی

دروازہ بجنا بند هو جاتا ہے وہ دوبارہ سو جاتی ہے پر ٹائم دیکھنا نہیں بھولتی ہمیشہ کی طرح آج بھی 3 بجے کے وقت ہی دروازہ بجا تھا

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

پھوپو میں زویا کے ساتھ داتا دربار جا رہی ھوں آیت آ کے زینت کو بتاتی ہے

نہیں زویا نے شاپنگ پر جانا ہے تم خود چلی جاؤ زینت اسکو دیکھتی ہیں

یہ آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہیں کیا ساری رات سوئی نہیں هو

ہاں جی نہیں سوئی کیوں کے عزت کے خاک میں ملنے کا جب دڑ هو تو کون سکتا ہے

آیت جبران کو دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہے باہر جانے لگتی ہے کے زینت کی آواز آتی ہے

جلدی آنا شام کو نکاح ہے زویا کا

وہ ان سنا کر کے چلی نکل گئی

میری جوتی سے کوئی نہیں آنا میں نے ہممم بھاڑ میں جاؤ تم سب وہ دروازے کو پاؤں مارتی ہے

دور کھڑا فیضی اسے دیکھ کر مسکراتا ہے

لگتا ہے میڈم کی خلافِ مرضی کوئی کام ھوا یا حکم ہے جس پر غصہ آیا

وہ رکشہ کر کے داتا دربار چلی جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *