Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 11)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

اس لڑکی میں اتنی اکڑ کہاں سے آ گئی ہے جب دیکھو منہ بنا کے چلی جاتی ہے زینت جبران کو دیکھتی ہیں

آپ کی بھتیجی کو بھوک لگی ہے ناشتہ بنا دیں جبران ان سنی کر دیتا ہے اور مونا کے ناشتے کا کہتا ہے

زینت کو غصہ آ جاتا ہے

بات سنو بیٹا تم کو اتنی بھی شرم نہیں رہی اب کے اپنی ماں سے کہہ رہے هو تمہاری بیوی کے لئے ناشتہ بناؤ ہاں جبکہ تمہیں چاہیے کے اب اسکو کہو کے وہ ہمیں ناشتہ بنا کے دیا کرے

امی وہ اپن گھر میں پانی بھی خود نہیں پیتی تھی ناشتہ تو بہت دور کی بات ہے جبران تپ کے بیٹھ گیا

واہ واہ وہ گھر تھا یہ سسرال ہے یہاں تو کام کرنا پڑے گا میں اسکی نوکر نہیں ھوں

زینت ٹکا سا جواب دے کے اٹھ گئی

ہممم بڑا آیا بیوی کا ہمدرد

😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉

جبران ابھی تک ناشتہ نہیں بنا مونا نیچے آتی اور یہاں وہاں دیکھتی ہوئی کہتی ہے

یار ماما نہیں بنا رہی تم خود بنا لو

واٹ تم جانتے هو مجھے ناشتہ نہیں آتا بنانا

یار میں تم لوگوں کے بیچ پھنس گیا ھوں بخش دو مجھے

وہ اکتائے ہوے انداز میں کہتا باہر نکل گیا

نوری نوری ناشتہ کمرے میں لاؤ اس آیت کو تو موت آئے

خود تو پاؤں ہلانا پسند نہیں کرتی اور ہمیں کہتی ہیں ٹائم سے ناشتہ دو سہی کہتی ہے آیت بلا ہےآفت کہیں کی ان جیسوں کو آیت ہی سدھار سکتی ہم نہیں

نوری دل کی بھڑاس نکال کر ناشتے کی ٹرے لے کر کمرے کی طرف بڑھ گئی

😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋

وہ دربار پر پھول اور چادر لیتی ہوئی آئی

وہ سڑھیاں چڑھتے ہوے ماضی میں کھو گئی

دربار پر آنے کے آداب ہیں

قبر مبارک کو پیٹھ نا کرو وہاں اونچی آواز نا کرو

تعظیماً پھول نچھاور نا کرو بس سائیڈ کر کے رکھ دو کیوں کے پھنکنے سے لوگوں کے پاؤں میں آتا ہے

پھولوں کا احترام بہت ضروری ہے

آیت مسکرا دیتی ہے

میں آپکے دربار آ کر ہمیشہ ایک سکون محسوس کرتی ھوں داتا سرکار میں اب تھکنے لگی ھوں اب بس هو گئی ہا اپنے ہی گھر میں عزت کے محافظ عزت تار تار کرنے کو تیار ہیں

میری مدد کریں داتا سرکار امی کہتی تھی

اگر سچے دل۔ سے اللّه اور آقا کریم ﷺ کے طلبگار هو تو۔ اولیا اللّه کے دربار پر عاجزی سے نظر جھکا کے بیٹھ جاؤ کچھ نا بولو وہ نظرِ کرم کریں گے اور تمہیں آقا کی بارگاہ میں انمول کر دیں گے

میں آج آپ کی بارگاہ میں بیٹھی ھوں میری عزت کی حفاظت کی ذمہ داری آپ لیں آپ مجھے سہارا دیں بس مجھے راہ دکھائیں میں کیا کروں

وہ ہاتھ جوڑ کے قبر کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کے دعا کرتی ہو رو پڑی

آپ کے دربار پر کوئی بے آسرا نہیں ہوتا میں بے آسرا عاجزی سے دامن پھیلا۔ کر بیٹھی ھوں

مجھے راستہ دکھائیں وہ ایک ہی بات کا ورد کرتی جا رہی تھی۔ اور۔ کہتی جا رہی تھی

مجھے راستہ دکھائیں

مجھے راستہ دکھائیں

مجھے راستہ دکھائیں

آیت آیت کیا ھوا

تبھی کسی کے پکارنے پر مڑتی ہے

فیضی آپ

رو کیوں رہی ہیں فیضی۔ حیرت سے پوچھتا ہے

میری مرضی اب روں بھی نہیں۔ ہر بات پر پابندی ہے کیا

وہ چڑ جاتی ہے

چلیں آپ کو گھر چھوڑ۔ دوں 4 گھنٹے سے گھر سے نکلی۔ ہوئی۔ ہیں چلیں

خود جا سکتی ھوں ضرورت نہیں آپ کی اور آیندہ راستے میں نا آنا میرے

آیت بول کے وہیں بیٹھی رہی

فیضی وہاں سے ہٹ گیا جانتا تھا وہ نہیں مانے گی

کچھ دیر بعد اس نے ایک صوفی بزرگ سے دیکھے انکے چہرے کا نور چمکتا ھوا تھا کوئی بھی دیکھے دیکھتا رہ جائے

اسکی آنکھیں نم هو گئی وہ اٹھ کے انکے پاس بڑھ گئی

بابا جی کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ھوں

آیت نے بابا جی کو مخاطب کیا وہ مسکرانے لگے

بیٹھ جاؤ بیٹا میری زمین تھوڑی ہے جو منا کروں یہ تو اللّه کی ہے زمین

بابا جی ایک بات کہوں

کچھ دیر بعد آیت پھر سے بولی

بابا جی نے اسکی طرف دیکھا

بیٹا زندگی میں ایک نے آنا ایک نے جانا ہے جانے والوں کے جانے کا ملال نہیں رکھو دل میں انکی مغفرت کی دعا کرو بس

بابا جی وہ ماں تھی آیت انکے ہاتھوں کی سرخی دیکھ کے کہتی ہے

با جی اسکی نظروں کو دیکھتے ہیں بیٹا بہت شریر اور زبان دراز تھی تم جب ماں تھی اور اب دیکھو کتنا ٹہراو ہے تم میں

میری ہر غلطی چھپا لیتی تھی وہ آیت کی آواز لڑکھڑا جاتی ہے

ماں تو روپ ہی ایسا ہے تبھی تو اسکے قدموں میں اللّه نے جنت رکھی ہے تم نے اپنی جنت نہیں کمائی بیٹا

بابا جی مزار کے گنبد کو دیکھتے ہیں

مزار کے ارد گرد بہت سے لوگ بیٹھے با ادب حاضری دے رہے تھے

میں بہت بری ھوں بابا میں گناہ کرتی ھوں جان بوجھ کے اور نادم بھی نہیں ہوتی بار بار ایک ہی چیز کرتی ھوں

آیت رو پڑی اب ضبط نہیں هو رہا تھا اندر کا لاوا باہر آنے کو تھا

بابا جی مسکراتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں

آیت کو اتنی خوشبو آتی ہے وہ محسوس کرتی ہے اس خوشبو کو اپنے اندر اپنی سانسوں میں

وہ پلک اٹھا کے دیکھتی ہے اور ادب سے جھکا لیتی ہے وہ بابا جی آنکھوں کی چمک سے پریشان ہوئی تھی اتنی چمک دار آنکھیں اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی

تم کیا سمجھتی هو تم اللّه کے لئے نماز پڑھ رہی هو آیت

نہیں بیٹا تم اللّه کے نہیں اپنے لئے دنیا میں بھلائی کما رہی هو اللّه کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکی عبادت کو اسکے نوری فرشتے ہی بہت ہیں جو خالص اللّه کی عبادت کرتے ہیں جو آقا کریم پر درود و سلام کے نظرانے دیتے ہیں

نماز چھوڑ دینے سے تم یہ ظاہر کر رہی هو کے تمہاری ماں لے لی اللّه نے تو تم اللّه سے ناراضگی دکھا رہی هو

بابا جی کی آواز میں نا غصہ تھا نا جلال تھا مگر ایسا کچھ ضرور تھا کے آیت نے نظر اٹھا کے دیکھا تو بابا جی کا چہرہ سرخی اختیار کر گیا آیت نے دڑ سے سر جھکا لیا

تم اپنا نقصان کر رہی هو

بلکہ امت محمدی اپنا نقصان کر رہی ہے ہم اللّه کو لالچ دیتے ہیں نماز کی ہم ہیں ہی کون عام سی مخلوق ہیں بس نا پھر کس بات کا ہم کو غرور ہے ہم تو خاکی ہیں بیٹا خاک هو جائیں گے

امت خسارے میں ہے پر سمجھتی نہیں ہے

دین کو چھوڑ کر دنیا داری اپنا لی ہے آخری دور ہے بیٹا اللّه کی طرف لوٹ جاؤ کے جب ہر در بند هو گیا سورج سوا نیزے پر آ گیا پھر تم صرف سزا کے حق دار بنو گے

تم تو اللّه کا حکم ہی نہیں مانتی بیٹا تم تو بے پردہ هو عورت کو تو با پردہ رہنے کا حکم ہے

عورت کو اگر چاچنی کہوں تو تم وہ هو جو ڈھکی ہوئی نہیں هو اور ہر مکھی تم پر منہ مار رہی ہے اور مارے گی بھی

وہ کیسے آیت بے دھیانی میں سوال کرتی ہے

وہ دیکھو ہر آتا جاتا بندہ تمہیں اور باقی ہر اس لڑکی کو دیکھ رہا ہے جو بے پردہ ہے اور جو پردے والیاں ہیں وہ الگ ہی پہچان رکھتی ہیں آیت نے دیکھا اور واقع لوگ اسے دیکھ رہے تھے آگے پیچھے اور بھی تھی لڑکیاں جو نظروں میں تھی

بیٹا عورت کو جیسا اللّه نے بنایا ہے اس میں کشش ہے اسی لئے اپنے آپ کو اپنے محرم کے لئے سمیٹ کے رکھو اسکے لئے اپنا آپ رکھو ہر ایک کی نظر کی زینت نا بنو

نماز قائم کرو کہ آقا کریم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے نماز مومن کے معراج ہے نماز دکھ درد سے چھٹکارا ہے نماز

بابا جی دعا دیں کے میں نماز کی پابند هو جاؤں آیت آنسو صاف کرتی کھڑی هو گئی

بیٹا ندامت بہت بڑی رحمت ہے اور اللّه تمہیں اس رحمت سے نوازے گا اور نواز رہا ہے

بابا جی اٹھ کے چل دیے آیت کی نظروں نے دور تک انکا پیچھا کیا اور پھر اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی اس عہد کے ساتھ کے اب نماز نہیں چھوڑنی جان کے گناہ نہیں کرنا

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

شام کے 7 بجے ہیں یہ لڑکی کہاں ہے سب پوچھ رہے ہیں ابھی لڑکے والے آ جائیں گے کیا جواب دوں گی

زینت غصے سے یہاں وہاں ٹہل رہی تھی

ماما کوئی دس بار ٹرائ کیا ہے نمبر بند ہے اُسکا جبران ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کے سرچنگ کرتا ہے

تبھی وہ آتی اور سلام کرتی ہوئی اندر جانے لگتی ہے

اے بی بی کہاں سے آ رہی هو 5 گھنٹے سے غائب هو گھر مہمانوں سے بھرا ھوا ہے پتہ ہے نا سب کا

پھوپو میں آپ کی ذمہ داری نہیں ھوں آیت کا لہجہ ٹہرا ھوا اور سکون والا ہوتا ہے

اور نا ہی آپ پریشان ھوں کے لوگوں سے کیا کہنا ہے میں خود سبکو جواب دہ ھوں آپ اپنی بیٹی کے نکاح کی فکر کریں بس آتی ھوں کچھ دیر آرام کر کے آیت کہہ کر اوپر چلی جاتی ہے

نہا کے صاف کپڑے پہن کے عشاء کی نماز کے لئے کھڑی هو جاتی ہے

**جب ایک گناہ گار بندا اپنے رب کی طرف اپنی تمام کوتاہیوں کے ساتھ رجوع کرتا ہے استغفار کرتا ہے تو وہ خوبصورت شان والا محبوب اللّه اسے معاف کر کے اسکی ندامت کے آنسووں کو قبول کر لیتا ہے اور اسے نماز کی توفیق دیتا ہے۔ نماز پڑھی نہیں جاتی یہ اللّه کا خاص کرم ہے کے لوگ اسکی۔ طرف کھینچے چلے آتے ہیں کیونکے نماز تو مومن کی معراج ہے

وہ نماز سے فری هو کے سادہ سا سوٹ نکال کر نیچے آ جاتی ہے جہاں نکاح کی تیاری عروج پر تھی

**نکاح کے لمحات ایسے ہوتے ہیں کے ایک لڑکی کتنی ہی ماڈرن هو جدائی تڑپا دیتی ہے**

خوش نصیب ہوتے ہیں وہ ماں باپ جن کی بیٹیاں ان کے سامنے رخصت هو جائیں ورنہ جو گھر بیٹھی رہ جائیں ایسی بیٹیاں بنا قصور کے قصور وار ٹہرائی جاتی ہے

رنگ،نسل،کاسٹ،قد،موٹا،پتلا ہونا انسان کے بس میں نہیں ہے یہ تو اللّه کی مرضی وہ اپنے بندے کو جس حال میں ڈھال دے مگر انسان دنیا میں آنے کے بعد اپنا اصل بھول بیٹھا ہے تبھی دنیا میں مگن هو گیا

ڈانس گانے ادھم مچا کے رکھا ہے سر دکھ رہا ہے میرا آیت نوری سے پانی لےکر پیتی ہے

تبھی لالا آکے آیت سے کہتا یہ تمہارے لئے کوئی دے کے گیا

آیت چٹ کھولتی ہے جس پر فیضی نے ایک لائن تحریر کی تھی

میں کچھ دن کے لئے ملک سے باہر جا رہا ھوں خیال رکھیے گا اپنا

آیت تروڑ موڑ کے پھنک دیتی ہے

میری بلا سے جہاں بھی جاؤ

رات دیر تک سب فری ہوتے ہیں

فلائٹ کینسل ہونے کی بنا پر وہ گھر لوٹ آیا اور آتے ہی ابراہیم کو کال کی

یار میری فلائٹ کینسل هو گئی ہے ایک میٹنگ ہے میں باے روڈ اسلام آباد جا رہا ھوں

بس تم بابا کا خاص خیال رکھنا

فیضی کہہ کر کال بند کر دیتا ہے

آیت کو کال کرتا ہے پر پھر سے آیت کا نمبر پھر سے بند آتا ہے

یار یہ لڑکی بھی نا اففف

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

یہ کیا نوری بن موسم برسات اففف مزہ آ گیا بارش دیکھ کر

آیت کمرے کی کھڑکی سے بارش کا حسین منظر دیکھ کر بولی

نوری تم سو جاؤ جا کے میں ابھی جاگی ہوئی ھوں

نوری کمرے کا دروازہ کھول کے چلی جاتی ہے مہمان جا چکے تھے

اور گھر کے لوگ سو چکے تھے

تبھی کوئی اندر آیا اور دروازہ بند ھوا

نوری تم گئی نہیں اب تک یار سو جاؤ میں رہ لوں گی اکیلے وہ بنا جانے کے کون ہے کہہ دیتی ہے

تبھی اسکے کندھے پر مردانہ ہاتھ رکھا جاتا ہے وہ ایک دم ڈر کر مڑتی ہے اور چیخ پڑتی ہے مگر شاید آنے والا جانتا تھا اسی لئے پہلے ہی اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے

آیت میں تم سے محبت کرتا ھوں بہت محبت کرتا ھوں بس وہ تو امی نے شادی کروادی مونا سے جبران نشے کی حالت میں آیت کے قریب آتا ہے

جبران جائیں آپ کوئی آ جائے گا اب ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں مجھ سے آپ محبت کریں نفرت مجھے سروکار نہیں ہے جائیں پلیز

آیت اسکو خود سے دور کرتی ہے مگر وہ نشے کی حالت میں اس سے بد تمیزی کرتا ہے اور کوشش جاری رکھتا ہے تبھی آیت چیخ پڑتی ہے

ہاتھ چھوڑیں میرا جبران بہت گندے ہیں آپ کتنی چھوٹی سوچ ہے

یخ تھو جبران تم انتہائی گھٹیا انسان هو مجھ خود پر شرم آ رہی ہے کے تم میری پسند میرا انتخاب هو

تم شادی کسی سے کرو اور افیر کسی سے میں سگے مامو کی بیٹی ھوں تمہاری اتنا تو نا گرو میں اپنی ہی نظر میں گر گئی ھوں لڑکی محبت اور عزت چاہتی ہے حوس پرست مرد عورت دونوں ہیں پر میں نہیں ھوں

مرد وہی اچھا جس کی نظر میں عورت کے لئے عزت و محبت هو نا کے حوس اور تم وہ مرد هو جس کی نظر میں حوس ہے محبت نہیں ہے

اسکی آنکھوں سے آنسوں کی لڑیاں گر رہی ہوتی ہیں بند کمرے میں زیرو کے بلب میں اسکی آنکھیں سرخ هو رہی ہوتی ہیں اور وہ شراب کے نشے میں ایک طرف کھڑا تھا اچانک دروازہ بجتا ہے وہ ایک اسکی طرف دیکھتی ہے اور دروازے کی طرف بڑھتی ہے وہ وہ اسکو سختی سے اسکو پکڑتا ہے اگر کسی کو کچھ کہا تو بہت برا انجام کروں گا یاد رکھنا نا کسی سے نظریں ملانے کے قابل رھو گی اور نا جینے کے قابل چھوڑوں گا یاد رکھنا

جبران سختی سے کہتا ہے

میں تم جیسے دو ٹکے کے مرد پر ہزار بر تھوکتی ھوں تھو ہے تم پر وہ ہاتھ چھڑانا چاہتی ہے تبھی زور سے دھکا لگنے سے دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے سامنے کا منظر دیکھ کر زینت صاحبہ اندر آتے ہی آیت کو بالوں سے جکڑتی ہیں میں جانتی تھی یہ ڈائین میرے بیٹے کو وارغلے گی نکلو یہاں سے تم وہ اسے کھینچتی لے جاتی ہیں اور طوفانی بارش میں گھر سے بے گھر کر دیتی ہے۔

پھوپو دروازہ کھولیں میں کہاں جاؤں گی

میں نے کچھ نہیں کیا جبران میرے پاس آیا تھا

پھوپو دروازہ کھولیں نا پھوپو پلیز میں بارش میں کہاں جاؤں گی وہ لگا تار دروازہ بجاتی ہے پر کوئی دروازہ نہیں کھولتا دکھ درد کی شدت سے آیت بیہوش ہونے لگتی ہے تبھی کوئی اسکی طرف بڑھتا ہے اور اسے اپنے کندھے کے سہارے اٹھا کے گاڑی کی طرف بڑھ جاتا ہے

اوپر کھڑی مونا مسکراتی ہے اور تصویر بنا لیتی ہے

اب آئے گا مزہ مس آیت گو تو ہیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *