Chand Si Bahu by Khaak e Makkah NovelR50683 Chand Si Bahu (Episode 09)
Rate this Novel
Chand Si Bahu (Episode 09)
Chand Si Bahu by Khaak e Makkah
پلیز آپ آئیں مجھے بہت دڑ لگ رہا ہے آیت خوف زدہ هو کر اسکو۔ کہتی ہے
وہ کار اسٹارٹ کرتا ہے اور آصف ہاؤس کی طرف بڑھ جاتا ہے رش ڈرائیو کر کے وہ پوھنچتا ہے
باہر کا گیٹ بند ہے یعنی آیت کو تنگ کرنے والا جو ہے اندر والا ہی ہے
فیضی سوچتا ہے اور بیل پر ہاتھ رکھتا ہے تین چار بیل پر نوری بھاگتی ہوئی آتی ہے اور دروازہ کھول کے سامنے فیضی کو دیکھ کر حیرت سے کہتی ہے
فیضی بھائی آپ اس وقت یہاں نوری ایک دم سوال کرتی ہے
وہ اندر کی طرف بھاگتا ہے۔ نوری لالا کو بلاؤ جلدی آیت کے روم میں اور خود اندر کو بڑھ جاتا ہے
سامنے دروازے پر لالا کو دیکھ کر فیضی غصے سے گریبان پکڑ کے پوچھتا ہے
اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے هو خان
فیضی بھائی وہ میں آیت آیت کو دیکھنے آیا تھا
اسکو سائیڈ کر کے وہ دروازہ بجاتا ہے آیت میں فیضی دروازہ کھولو
تبھی آیت دروازہ کھول دیتی ہے
لالا تم یہاں کیسے تبھی نوری آ جاتی ہے
آیت لالا کب سے تمہیں بلانے آ رہا ہے یہ کوئی تیسری دفع آیا ہے نوری غصے سے آیت کو دیکھتی ہے
تبھی آیت حیرت سے لالا اور فیضی کو۔ دیکھتی ہے فیضی اسکو چھوڑ دیتا ہے
کیوں مجھے بلانے کو کیوں بیھجا آیت پوچھتی ہے
بی جان کو اچانک دل میں درد اٹھا تھا تبھی تمہیں اٹھا رہے تھے یہ اچھا ھوا جبران اور مونا باہر سے آئے تھے تو ہم نے مِنت کر کے جبران بھائی کے ساتھ انکو بیھجا ہے
نوری ساری بات بتاتی ہے آیت سر پکڑ لیتی ہے اففف میرے خدا میں اتنی کم عقل ھوں
نوری کی بچی آیت نوری کے بازو پر چٹکی کاٹ لیتی ہے کال کر دیتی ایک مجھے میں آ جاتی ڈفر کہیں کی
تم کیوں نہیں گئی ساتھ
تمہیں پتہ تو ہے جبران بھائی کو ہم نوکروں کا انکی کار کے پاس بھٹکنا بھی نہیں پسند بیٹھا کیسے لیتے یہ تو شکر بی جان کو لے گئے
وہ ہاتھ سہلا کر کہتی ہوئی منہ بناتی ہے
سوری لالا میں سمجھا کے تم پریشان کر رہے آیت کو بس سو سوری یار فیضی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیتا ہے
وہاں کھڑے تینوں شخص حیران رہ جاتے ہیں نوکروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا کون ہے آج کے دور میں ۔۔۔
سوری نا کہیں بھائی غلطی میری ہے مجھے کال کر لینا چاہیے تھا
لالا ہاتھ پکڑ لیتا ہے
۔۔ہاں تو غلطی ہے نا تمہاری کال کرتے مجھے پاگل آیت شرمندگی مٹانے کو لالا کو کہتی ہے
آیت میڈم فیضی گُھور کے اسکو دیکھتا ہے
بد عقل ہی رہنا اگر ایک آواز لگا کے پوچھ لیتی کون ہے تو یہ بیچارہ بول پڑتا
فیضی مصنوئی غصے سے کہتا جبران کا نمبر لالا سے لیتا ہے پر نمبر بند جاتا ہے
کون سے ہسپتال گئے ہیں چلو چل کے دیکھتے ہیں
فیضی تینوں کو آنے کا کہہ کر باہر نکل جاتا ہے اور آصف ہاوس کے چوکیدار کے پاس آ کے جبران کا پوچھتا ہے
مگر اس کو بھی نہیں معلوم ہوتا
ہم ایسا کرتے ہیں قریب کے ہسپتال میں چیک کرتے ہیں وہ یہیں لایا هو گا
وہ تینوں ہسپتال میں قدم رکھتے ہی ہیں کے سامنے سے جبران آتا دکھائی دیتا ہے
جبران بی جان کیسی ہیں آیت ایک دم آگے بڑھ کے اسکا ہاتھ پکار لیتی ہے
وہ ٹھیک ہیں تم فکر نا کرو میں تمہیں ہی لینے آ رہا تھا بی جان یاد کر رہی ہیں وہ اس کا ہاتھ تھام کے مڑتا ہے تبھی وہ ہاتھ چھوڑ دیتی ہے
فیضی آپ بھی آئیں ۔۔آیت کو بروقت احساس ہوتا ہے کوئی اسے دیکھ رہا ہے
**کچھ احساس بنا بولے کرواۓ جاتے ہیں کچھ احساس کے لئے بولنا نہیں پڑتا محسوس کرنا پڑتاہے اُنہی میں میں۔ سے ایک احساس محبت نفرت اور غصے کا ہے جو بس محسوس۔ کیے جا سکتے ہیں کیوں کے بعض دفع ہم اپنے چاہنے والوں پر غصہ ہونے کے باوجود غصہ نہیں کر پاتے
وہ اسکے ہم۔ قدم هو کے چلتا ھوا جبران کے ساتھ بی جان کے پاس چلی۔ آتی ہے





















اتنی رات کو کال کی خیر ہے زرش مونا کی کال دیکھ کر کہتی ہوئی پانی کا گلاس منہ کو لگاتی ہے
ہمم خیر ہے سنو فیضی سے کہو آیت سے دور رہے یہ لڑکی اچھی نہیں ہے پہلے لڑکے پھنساتی ہے اور پھر لوٹ کر پیچھے ہٹتی
رات کے دو بجے مونا نے جب سے آیت کے گھر سے نکلتا ھوا فیضی کو دیکھا تب سے غصے اور حیرت میں تھی
مجھ سے ملنے میں مصیبت آتی ہے فیضی کے لیٹ نائٹ نہیں ملنا اور اب اس آیت سے اتنی رات ملنے آتے هو
ڈسکسٹنگ
مونا اپنے روم میں یہاں وہاں چکر لگاتی ہے تبھی کار رکنے کی آواز آتی ہے
اسکو لگتا شاید آیت اور فیضی ہیں تبھی وہ کھڑکی کی طرف بڑھتی ہے تبھی موبائل بجنے لگتا ہے وہ رک کے کال اٹھاتی ہے
جبران کالنگ دیکھ کر اسکا منہ بن جاتا
بولو کہاں هو کب سے ویٹ کر رہی ھوں
مونا غصے سے کہتی ہے ۔۔۔
جبران مسکرا دیتا ہے
جی جی بےغم صاحبہ آ گیا ھوں بس آپ کو جگانا تھا
وہ کال اینڈ کر دیتی ہے اور کھڑکی کی طرف بڑھ جاتی ہے
مجھ سے ملنے میں مصیبت آتی ہے فیضی کے لیٹ نائٹ نہیں ملنا اور اب اس آیت سے اتنی رات ملنے آتے هو
ڈسکسٹنگ
مونا اپنے روم میں یہاں وہاں چکر لگاتی ہے تبھی کار رکنے کی آواز آتی ہے
اسکو لگتا شاید آیت اور فیضی ہیں تبھی وہ کھڑکی کی طرف بڑھتی ہے تبھی موبائل بجنے لگتا ہے وہ رک کے کال اٹھاتی ہے
جبران کالنگ دیکھ کر اسکا منہ بن جاتا
بولو کہاں هو کب سے ویٹ کر رہی ھوں
مونا غصے سے کہتی ہے ۔۔۔
جبران مسکرا دیتا ہے
جی جی بےغم صاحبہ آ گیا ھوں بس آپ کو جگانا تھا وہ جان بجھ کے بیگم کی جگہ بے غم کہتا ہے
وہ کال اینڈ کر دیتی ہے اور کھڑکی کی طرف بڑھ جاتی ہے
تبھی آیت اور جبران ساتھ اترتے دکھائی دیتے ہیں
افففف یہ لڑکی کس کس کو پھنسا کے رکھے ہوے ہے
مونا سوچتی ہوئی نیچے گیراج کی طرف بڑھتی ہے
تھنکو جبران آپ نے بی جان کی ہیلپ کی آیت شکریہ ادا کرتی ہوئی وہاں سے ہٹتی ہے کہ مونا آ کر اسے تھپڑ مارتی ہے
کتنی گھٹیا لڑکی هو ماں کے مرنے پر یہ سب کر رہی هو
آیت کو غصہ آتا تمہارا دماغ ٹھیک ہے مونا اپنی زبان کو لگام۔ دو ورنہ
ورنہ کیا ہاں اتنی رات کو میرے شوہر کے۔ ساتھ کہاں۔ سے آ رہی هو مونا کہاں چپ رہنے والی تھی
تبھی جبران بول پڑتا ہے ایک منٹ ایک منٹ ہم ہسپتال میں تھے بی جان کے ساتھ
ابھی لوٹے ہیں گھر ہمارے ساتھ لالا اور نوری تھے
آیت غصے وہاں سے آ جاتی ہے نوری چاۓ بنا دو ایک کپ
وہ کچن میں آ کر نوری کو دیکھ کر کہتی ہے
تم سب کی باتیں نا سنا کرو جواب دیا کرو جیسے ابھی دیا
نوری چاۓ کے ساتھ بریڈ فرائی کرتی ہے اور ساتھ ساتھ۔ آیت سے بولتی ہے
ہممم آیت کچھ کہنا نہیں چاہتی تبھی ہمم کہتی فیضی کا نمبر ملاتی ہے

























وہ گھر میں دبے پاؤں آتا ہے تبھی کچن کی لائٹ اون دیکھتا
کون ہے وہاں وہ کہتا ھوا آگے آتا
تبھی زرش باہر آتی ہے
اوہ تم وہ کہہ کر مڑ جاتا
زرش۔ ۔۔تم کہاں سے آرہے هو
فیضی ۔۔۔۔بتانا ضروری نہیں سمجھتا
یہ آیت کون ہے اور کب سے تعلق ہے تمہارا اس سے
مونا کی لگائی آگ اب شعلے برسانے کو تیار تھی
تم کون ہوتی هو آیت کا پوچھنے والی
وہ اسکی طرف دیکھتا ہے
میں کون ہوتی ھوں پوچھنے والی تم مجھ سے کہہ رہے هو وہ غصے میں اسکا کالر پکڑتی ہوئی کہتی
وہ دو ٹکے کی لڑکی میری جگہ لےرہی ہے تم سے جڑنے کی کوشش کر رہی تمہارے علاوہ اور کتنے پھانس رکھے تمہیں کیا پتہ
بس انف از انف اُس کے بارے میں ایک لفظ مت بولنا ورنہ بہت برا هو گا
کیوں کیوں نا کہوں وہ ہے ہی ایسی لڑکی کبھی تم کبھی کوئی اور اگر رات کو تم هو دن میں کوئی اور هو گا جس کو الو بناۓ
غصے سے ہر حد پار کرتی زرش اس وقت چپ کرتی ہے جب اسکے گال پار مردانہ ہاتھ پڑتا ہے
دو ٹکے کی وہ نہیں تم جیسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو غیر محرم مردوں کے آگے پیچھے بھاگتی ہیں وہ بھی تب جب مرد انکو منہ نہیں لگاتے اپنی عزت کا خیال نہیں ہے تو ماں باپ کا کر لو
وہ کہتا ھوا اُوپر کمرے میں آتا تبھی آیت کالنگ دیکھ کر بھی اینڈ کر دیتا ہے دو بار موبائل بج بج کے بند هو جاتا ہے وہ نیند کی گولی لے کے سونے کی غرض سے لیٹتا آنکھیں بند کر لیتا















پتہ نہیں کیوں کال نہیں اٹھا رہے آیت نوری کو دیکھ کر بولتی کپ اٹھاتی ہے
شاید وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتے
اتنا بڑا ڈرامہ کیا آخر تم نے
نوری ہنستی ہوئی کہہ دیتی ہے
کوئی نہیں جی ڈرامہ نہیں تھا میں سچ میں دڑ گئی تھی اور ہاں آیندہ میرے ساتھ ہی سونا تم آیت نوری سے کہتی ہوئی کمرے میں آ جاتی ہے
دور کہیں سے فجر کی اذان آتی ہے پار اب وہ نماز سے دور هو چکی تھی کیونکے نماز کے لئے زور دینے والی ماں جو نہیں رہی تھی


















آیت نے صبح سے کوئی چار بار فیضی کو کال کی تھی پر وہ جاگا ہوتا تو اٹھاتا اور جب اٹھایا تو غصہ کرنے لگا
رات والی بات رہ رہ کر اُسے یاد آ رہی تھی جس کا اثر یہ ھوا کے آیت پر ہی غصہ اتر گیا
آیت کی کال دیکھ سارا غصہ اتار دیا
میں آپ کو صبح سے کال کر رہی ھوں رات بھی۔ کی تھی سوچا خیر خبر لوں کہیں رات کسی الٹے پاؤں والی حسینہ نے لوٹ تو نہیں لیا
آیت کہہ کر ہنستی دیتی




شکل اچھی نا هو تو۔ بات اچھی کرنی چاہیے اور پلیز بچوں کی۔ طرح کا ری ایکشن بند کریں بڑی هو جائیں اب بس
مجھے اور بھی کام ہیں آپ کی وجہ سے پہلے ہی ایک ایمپورٹنٹ میٹنگ نکل گئی ہر وقت آپ کی کال اٹھانے کے لئے نہیں ھوں میں اور نا میرے پاس فالتو ٹائم
وہ ساتھ ساتھ تیار هو رہا اور سنا بھی رہا تھا
آگے سے مکمل خاموشی تھی وہ اللّه حافظ کہہ کر فون بند کر دیتا ہے
آنسوں کی لڑی بن کے بہہ رہی تھی وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہے
میں آج آخری بار روئی ھوں آیندہ نہیں رونا اپنی مدد خود کرنی ہے اور اور آج کے بعد کسی کو کال کر کے مدد کے لئے نہیں بلانا وہ موبائل سے سم نکال کے توڑ دیتی ہے اور اسکول کے لئے اسٹاپ پر آ جاتی ہے
ہےکچھ دن موبائل بند رکھنے کا ارادہ کرتی
تبھی ایک گاڑی آ کے رکتی ہے
آؤ میں چھوڑ دوں جبران گاڑی لے کے سر پر کھڑا هو جاتا ہے اسٹاپ پر ہر بندے کی نظر یں پر پڑتی ہے
وہ بے دلی سے بیٹھ کے منہ پھیر لیتی
دن گزرنے تھے گزر گئے آیت نے خود کو مصروف کر لیا تھا
صبح جاب شام کوچنگ رات اکثر آنکھوں میں ہی گزر جاتی تھی.
