Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 14)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

**بعض اوقات انسان اس حد تک گزر جاتا ہے کے اسے اپنی غلطی کوتاہی کا احساس نہیں رہتا اور جب وہ اس نشے سے نکلتا ہے تب تک دیر هو چکی ہوتی ہے**

زینت کو آج اپنا ہر رویہ یاد آ رہا تھا جو وہ بچپن سے آیت کے ساتھ کرتی آئی تھی اللّه نے اس کیسے زمین پر پٹخ دیا تھا وہ منہ کے بل گری تھی اسکی آنکھ سے آنسو بہنا شروع هو گئے تھے

دروازے پر کھڑے جبران کی ہمت جواب دے چکی تھی جس عورت کو ساری زندگی ممانی کہا جس نے ہر لمحہ اسکا خیال رکھا پیار دیا آج اس حقیقت نے سبھی کے دل کی زمین ہلا ڈی تھی

میں نے بہت زیادتی کی ہے آصف مجھے اسکی سزا مل گئی میری اپنی بیٹی میں نے اسکو گھر سے بے گھر کار دیا پتہ نہیں اتنی رات کو کہاں گئی هو گی آیت آیت کو اندھیرے سے خوف آتا تھا آصف زینت زور زور سے روتی ہیں مگر فائدہ کیا برا ہونا تھا هو گیا گھر کی عزت تو نیلامی کی دہلیز پر تھی

ایک ماں ہی اپنی بیٹی کی عزت کی محافظ نا بن سکی

زینت کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو اور آواز میں شرمندگی واضع تھی

زویا ماں کو چپ کرواتی پانی دیتی ہے

فیضی چار دن هو چکے ہیں تم پولیس کو کال کرو اب وہی ہماری مدد کر سکتے ہیں آصف صاحب ٹوٹے ہوے باپ کی طرح جھکی ہوئی نظروں میں کہتے ہیں

تبھی فیضی عثمان کو کال کرتا ہے

دوسری بیل پر عثمان کال اٹھا کے سلام دعا کرتا ہے

عثمان آیت چار دن سے گھر سے لا پتہ ہے تم انکی گمشدگی کی رپورٹ لکھو میں تھانے آتا ھوں فیضی کی آواز میں جو تکلیف تھی اسکو آصف صاحب اور مونا کے ساتھ عثمان نے بھی محسوس کیا اور کال اینڈ کر دی

💞
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💕
💖
💖
💖
💖
💖
💞

کالے بادل طوفان سے بھری رات وہ ننگے پاؤں قدم اٹھا کے چل رہی تھی ہر قدم اس پر بھاری تھا بجلی کے گرجنے سے وہ چیخ پڑتی ہے مدد کو پکارتی ہے پر کوئی نہیں ہوتا جو اس ویرانے میں اسکی مدد کو آتا پیاس کی شدت سے گلہ ُسوکھ گیا تھا

دور سے اس چاند کی روشنی میں پانی کی نہر نظر آتی ہے وہ جلدی جلدی قدم اٹھا ک نہر تک جانا چاہتی ہے تبھی کسی کی ٹھوکر لگنے سے وہ منہ کے بل گرتی ہے اور سامنے اژدھا دیکھ کر اسکا سانس رک جاتا ہے رات کا وقت طوفان سوکھا گلہ پیاس کی شدت اور سامنے یہ مصیبت وہ پانی پانی کرتے بیہوش هو جاتی ہے

پانی پانی وہ خواب سی کیفیت میں تھی تبھی منال اسکو پانی دیتی ہے

آیت آیت ٹھیک هو اٹھو پانی پیو

وہ پانی پینے کے لئے اٹھتی ہے پر بخار کی شدت سے اٹھا نہیں جاتا

منال مجھ میں ہمت نہیں ہے میں نہیں اٹھ سکتی

وہ تکلیف سے کراہ جاتی ہے لگتا ہے سو سال سے بیمار هو اٹھو شاباش بچوں کی جیسے ضد نا کرو عثمان کا فون ہے میں سن کے آتی ھوں تمہاری آواز سے ڈرتی ہوئی آئی تھی وہ اسے بیٹھا کر پانی دے کے باہر آئی جہاں عثمان کا فون تھا

گھر کچھ مہمان آ رہے ہیں کھانے کا انتظام کر لو بس آدھے گھنٹے میں ہم آ رہے ہیں

عثمان کال بند کر کے فیضی اور آصف صاحب کی طرف دیکھتا ہے

جہاں فیضی کی آنکھوں میں دوستوں بھائیوں والا مان اور تشکر تھا وہیں آصف صاحب نے شکر سے اپر دیکھا اور اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے

ارے انکل ایسا نا کریں پلیز آیت میری بہنوں کی جیسی ہے عثمان انکے ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور کرسی پر بیٹھا دیتا ہے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آیت اٹھو منہ دھو لو کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ میری کھانے میں ہیلپ کر دو بھابی میری ہمت نہیں ہے اٹھنے کی وہ رضائی منہ پر اوڑھ کر کہتی ہے

تم صبر کرو عثمان آ کے خود ہی اٹھایں گے پھر نا کہنا ڈانٹا ہے چلو شاباش اٹھو

منال اسکو۔ اٹھاتے ہوے کہتی ہے کپڑے پہنو دیکھو میں نے کتنا پیارا سوٹ نکالا ہے تمہارے لئے وہ رضائی کھینچ کر اسکو سوٹ دکھاتی ہے

یہ اتنا چمک دھمک والا کیوں شادی تھوڑی ہے میری وہ بول کے قہقہ لگاتی ہے

آیت اٹھ جاؤ تم منال غصے سے دیکھتی ہے وہ اٹھ کے کپڑے لے کے واش روم میں گھس جاتی ہے

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

تھوڑی دیر بعد بیل ہوتی ہے منال دروازہ کھولتی ہے

السلام علیکم انکل فیضی بھائی

وہ ڈرانگ روم میں انہیں بیٹھا کر عثمان کے ساتھ باہر آتی ہے

عثمان آیت کبھی نکاح نہیں کرے گی وہ اتنی ضدی ہے آپ جانتے ان چند دنوں میں اسکو منال اپنے دل کی بات کہتی ہے

اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے میں جو بھی ھوں اسکے لئے غیر محرم ہی رھوں گا اور آیت بابا بھی چاہتے ہیں یہ نکاح هو تاکہ وہ سکون سے رہ سکیں کیوں کے آیت اب اس گھر میں کبھی نہیں رہنا چاہے گی وہ دونوں بات ہی کر رہے تھے کے آیت آ گئی

عثمان بھائی یہ دیکھیں بھابی نے کیسے کپڑے دیے ہیں یہ بہت بھاری ہیں کہتی ہیں پہن لو مہمان مجھ سے ملنے تو نہیں آئے نا آیت عثمان سے شکایت کرتی ہے

دونوں مسکرا دیتے ہیں

آؤ آیت تمہیں مہمانوں سے ملواوں عثمان اُسے کہتا ہے منال ہاتھ پکڑ کے روم کی طرف بڑھ گئی

اپنی ہی دھن میں چلتی ہوئی جب وہ ڈرانگ روم کی طرف بڑھی تو دروازے پر ہی رک گئی سامنے ہی فیضی اور آصف صاحب کھڑے تھے

اسکے چہرے پر آنے والی سرخی دیکھ کر آصف پہچان گئے وہ غصے میں ہے وہ مڑ کے جانے لگی تبھی آصف صاحب نے پکارا

اپنے بابا اور ناراض مت رھو بیٹا

وہ وہیں تھم گئی

آصف صاحب آگے بڑھے اور آیت کو گلے لگا کے رو پڑے باپ بیٹی کی محبت سے وہاں کھڑے تینوں افراد کی آنکھ نم هو گئی

آپ آپ بابا کیسے هو سکتے ہیں آیت اب تک حیرت سے انکو دیکھ رہی تھی انہوں نے آیت کو ساری بات بتائی

فاخرہ کا مقام آیت کے دل میں اور بھی بلند ھوا وہ اتنی عظیم عورت کی پرورش کا نتیجہ تھی اتنی بڑی قربانی بہت کم لوگ دیتے ہیں کبھی فاخرہ نے آیت کو اس بات کا احساس نا ہونے دیا کے وہ اسکی بیٹی نہیں ہے

آپ اتنے کمزور تھے کہ آپ بیٹی کو مقام نا دلوا سکے نام پہچان نہیں دے سکے

اور میرے بابا کی ڈیتھ وہ کیسے ہوئی آج اس پر سے بھی پردہ اٹھا دیں اچانک کوئی شخص کیسے مر گیا

آیت آصف صاحب کو دیکھ کر پوچھتی ہے

تمہاری ماں سے محبت نہیں تھی تمہارے باپ کو مگر اسے عادت هو گئی تھی اسکی عدیل کو شک تھا میں فاخرہ کو پسند کرتا ھوں پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کے فاخرہ کو انٹرس ہے کہ نہیں یہ بات صرف زینت جانتی تھی

تمہارے پیدا ہونے پر وہ بہت خوش رہنے لگا بہت پیار سے رکھا تم کو اسکے چہرے کی خوشی بتاتی تھی وہ بہت محبت کرتا هے پھر اس نے فاخرہ کا خیال رکھنا شروع کیا باہر گھومنا پھرنا کھانا سب اچھا ہونے لگا

زینت کیوں کے اسکو پیسے دیتی تھی تو اس نے فاخرہ کو طعنے دیے کے اسکے ٹکڑوں پر پل رہی هو اصل میں فاخرہ کا خوش رہنا اور عدیل کا تم دونوں کو وقت دینا محبت دینا بہت کھل رہا تھا بس تبھی دونوں جب ہیں بھائی روز کسی بات پر لڑ پڑتے

عدیل نے جاب شروع کی اور پھر اسی جاب سے چھوٹا کاروبار کیا

صبح جاب کرتا شام میں دکان دیکھتا وہ سارا ہی دن گھر س باہر رہتا گھر میں کیا ہوتا ہے وہ نہیں جانتا تھا

کھیل کھیل میں اگر تم زویا یا جبران کو گرا دیتی تو زینت تمہیں بے دردی سے مارتی تھی

اور فاخرہ نے کبھی لگائی بجھائی نہیں کی اس نے کبھی عدیل س شکایت نہیں کی

پھر عدیل نے ہی اپنے حصہ الگ کیا زینت کو یہ بھی برا لگا

عدیل نے اپنے حصے کو نیا بنوایا سارا گھر فاخرہ کے کہنے پر نیا بنایا تمہارا کمرہ عدیل نے خود بنایا یہاں تک کے اس کمرے کی بنیاد اس نے رکھی

آیت کے رونے میں شدت آ گئی اتنی محبت کیا بیٹی کا مقدر ہوتی ہے وہ آج اپنے باپ کی محبت سن کے خوش تھی تو اداس بھی کے وہ اس عمر میں اسکے ساتھ نہیں ہے

تمہارا روم سیٹ کیا بیڈ سے لے کر واش روم تک ہر چیز خود جا کے لایا

اس کے کاروبار میں منافع هو رہا تھا اس نے تمہارے نام ایک بڑی دکان کھولی تب زینت کی اس سے بہت لڑاائی ہوئی کیوں لے وہ آہستہ آہستہ اپنی جائیداد بنا رہا تھا عدیل زینت کا سوتیلا بھائی تھا اسکے دل میں نفرت بھری تھی اسکے لئے

ایک دن وہ روٹین سے ہٹ کر گھر آیا اسکی طبیعت بہتر نہیں تھی

آیت گول گول چکر نا لو گر جاؤ گی

4 سال کی آیت معصوم بچوں جیسی شرارت سے خوش اور ہر ایک سے بے نیاز مصروف تھی فاخرہ کے منا کرنے پر بھی وہ نہیں مانی

فاخرہ زینت کے گھر کی صفائی کر رہی تھی

تبھی حرا نے آیت کو دھکا دیا اور آیت گر پڑی

مگر فوراً اٹھ کر ہنستے ہوے جبران کو دھکا دیا کیوں کے وہ چھوٹی تھی حرا بڑی وہ حرا کو کچھ نا کہہ سکی

مگر جبران کو دھکا دیتا زینت نے دیکھ لیا

آیت رک تیری اتنی ہمت میرے بیٹے کو مارتی ہک رک تو دو ٹکے کی لڑکی نا ماں کے اصل کا پتہ نا باپ کے پتہ نہیں کس گندی نالی کا کیڑا ہے وہ

میرے پاپا کو کچھ نا بولیں پھوپو آیت اپنی زبان میں۔ زینت سے کہتی ہے

تو تیری اتنی ہمت مجھہ روکے گی وہ آیت کو اور زور سے مار کے زمین میں پٹخ رہی تھی

زینت میں پاؤں پڑتی ھوں میری بچی چھوڑ دو فاخرہ روتے ہوے اسکی منت کرتی ہے

دور هو اگر قریب آئی اور بھی ماروں گی اسکو غلیظ کہیں کی

💖
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کیا یار اس گاڑی کو بھی ابھی روکنا تھا

عدیل اچانک گاڑی کے رکنے پر غصہ هو جاتا ہے ایک تو طبیعت خراب اور اب یہ گاڑی وہ اپنے دوست کو کال کر کے آنے کا کہتا ہے ساتھ کوئی مکینک لیتا آئے

تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی کر کے گھر آ گیا

اس بات سے انجان کے پیچھے کھڑا عدیل یہ منظر دیکھ رہا ہے

فاخرہ روتی ہوئی سامنے کھڑی تھی

میرے بیٹے کو ایسے ڈھاکہ دیا نا جا تو بھی مر وہ آیت کو دھکا دیتی ہے اور اسکا سر ٹیبل سے جا لگتا ہے

جہاں سے خون رسنے لگتا ہے

آیت وہ چیختا ھوا بھاگتا ہے زینت ایک دم پیچھے دیکھتی ہے عدیل وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے عدیل ایسے آ جائے گا

آیت آیت ہوش کرو بیٹا پاپا آ گئے ہیں

آیت بیہوش هو چکی تھی وہ زینت کو غصے سے دیکھتا باہر کو بھاگتا ہے تبھی آصف آفس سے آتا ہے خون سر تر بیٹی دیکھ کر اسکو بھی ہوش اڑھ

گئے دونوں اسکو قریب کے کلینک لے گئے جہاں اسکی پٹی ہوئی اور کچھ دیر بعد وہ گھر آ گئی

کس نے کیا کیا مجھ اس سے سروکار نہیں مجھ صرف اتنا پتہ ہے آپ مے میری بیٹی کی جان لینے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی عدیل غصے سے زینت کی طرف بڑھتا ہے

عدیل تمہاری بیٹی نے جبران کو دھکا دیا تھا اسکو ٹیبل لگی تھی

زینت صفائی دیتی ہے

پر اس کا خون نکلا نہیں نا وہ غصے سے کہتا ہے

آیندہ میری بیٹی کے ارد گرد نظر آئی تم ا تمہارے بچبچے جان لے لوں گا سبکی وہ غصے سے اونچی آواز میں کہتا فاخرہ کو کھینچتا ھوا لے آتا ہے

تم وہاں تماشہ دیکھ رہی تھی کیا کرنے گئی تھی وہاں بولو عدیل فاخرہ پر غصہ ہوتا ہے

عدیل آپ غصہ نا کریں وہ آپ کی بڑی بہن ہے اتنی بد تمیزی نہیں کرتے فاخرہ اسکی بات ٹال دیتی ہے

تم۔ وہاں کیا کرنے گئی تھی یہ بتاؤ عدیل پھر پوچھتا ہے تو آیت جواب دیتی ہے

پاپا ماما روز پھوپو۔ کے گھر جا کے کام کرتی سارا کھانا بھی بناتی ہیں پھر گھر آ لے بھی کام کرتی ہے پھوپو تو مجھ سے بھی کہتی ہیں کے تم بڑے هو کر میرے گھر کی ماسی بنو گی

نہیں بیٹا آپ میری پرنسس ہیں اور آپ کام نہیں کریں گی اپنے گھر کا بھی اور کسی کے گھر کا بھی عدیل فاخرہ سے منہ پھیر لیتا ہے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

عدیل کو دل کی بیماری تھی اس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی

آہستہ آہستہ اسکا درد بڑھ رہا تھا دوائی بھی لے رہا تھا بہت بار پوچھا تو ہنس کے ٹال گیا

پھر ایک۔ مہینہ وہ تمہیں اور فاخرہ اور پاکستان ٹور پر لے گیا جب تم لوگ وہاں سے آئے تو جلن اور حسد کی ماری فاخرہ سے برداشت نا ھوا پر وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی

اگلے دن میری چھٹی تھی آفس سے میں گھر تھا فاخرہ گھر کی صفائی کرنے آئی میں نے منا کر دیا وہ نہیں مانی میں ان کے ہاتھ سے جھاڑو لیا اور بس تمہاری پھوپو نے واویلا مچا دیا

اسنے تمہاری ماں کو بد کردار کہا اور نا جانے کیا کیا کہا آفس کال کر کے عدیل کو بلایا

وہ پریشانی میں گھر آیا اسکو تمہارا نام۔ لے کے جھوٹ کہا گیا وہ جب آیا تو یہ سارا کھیل تمہاری پھوپو نے مچایا

دیکھو دیکھو اپنی بیوی کے کارنامے ابھی تم اسے گھما پھرا کر لاۓ هو مہینہ آصف سے دور رہی ہے نا اب دیکھو

صبح ہوتے ہی کیسے اسکے پاس ملنے چلی آئی

وہ تصویر سامنے کرتی ہے جو اس نے کچھ دیر پہلے لی ہوتی ہے عدیل کو غصہ آتا ہے پر ضبط کرتا اور فاخرہ کو آواز دیتا ہے

فاخرہ فاخرہ

آپ اتنی جلدی آ گئے طبیعت ٹھیک ہے وہ معصوم اسکو پریشان دیکھ کر پوچھتی ہے

یہ کیا ہے وہ موبائل۔ اسکے سامنے کرتا ہے فاخرہ کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا ہے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے زینت یہ سب کر سکتی ہے

عدیل۔ عدیل۔ یہ سچ نہیں ہے یہ غلط ہے ایسا کچھ نہیں وہ اپنی صفائی دیتی ہے

میں جانتا ھوں تم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی عدیل کے بولنے پر جہاں روتی ہوئی فاخرہ کو۔ حیرت ہوتی۔ ہے

زینت کے اپنے ہوش اوڑ جاتے ہیں

کیسے مرد ہی اپنی بیوی کو دوسرے مرد کے ساتھ دیکھ کر بھی ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ

بس کریں باجی بس کریں میری بیوی پر مجھے پورا یقین ہے وہ ایسی نہیں نا آج ہے نا یونیورسٹی میں ایسی تھی اتنے مرد تھے وہاں پر اس نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی اور غصہ اس بات پر ھوں کے میرے منا کرنے کے باوجود فاخرہ تم یہاں کام کرنے آئی هو کیوں کس چیز کی کمی کی ہے میں نے بتاؤ میں پوری کروں گا نا پھر کیوں گھر کے کام کرتی هو دوسروں کے وہ فاخرہ پر غصہ ہونے کی وجہ بتاتا ہے

اچھا واہ واہ کیا محبت ہے چلو یہ نا سہی میں یہ بتا دیتی ھوں کے تمہاری بیوی کا شادی سے پہلے کس کے ساتھ افیر تھا

زینت آگ میں جل رہی تھی جلن کی حسد کی تبھی آج شعلے ابل ابل کے باہر آ رہے تھے

یہ دیکھو اس کے میسج وہ موبائل آگے کرتی ہے

جس میں زینت اور فاخرہ کی چیٹ تھی فاخرہ نے مسینجر پر سب سیو رکھا تھا اور یہ دیکھو ویڈیو وہ موبائل کی ویڈیو دکھاتی ہے یہ جب ہم۔ گھومنے گئے تھے تب میں سارے سین اس ویڈیو میں عکس بند کر رہی تھی تبھی میں نے فاخرہ سے آصف کا پوچھا تھا اور دیکھو اس نے کیا کہا

وہ پلے کرتی ہے تو فاخرہ کی چہکیتی ہوئی آواز آتی ہے

یار میں دو سال سے آصف کو پسند کرتی ھوں مجھے نہیں پتہ کب کیسے وہ دل کے اتنے قریب آ گئے میں نے اپنی زندگی میں۔ کسی مرد کی طرف قدم بڑھائے ہیں اور وہی میری پہلی اور آخری پسند ہے میں محبت کرتی ھوں اور مرتے دم تک بس انہی سے محبت کروں گی

عدیل کی آنکھیں نم هو جاتی ہیں وہ فاخرہ کو دیکھتے ہیں جہاں شرمندگی صاف ظاہر تھی پر اب کیا فائدہ وہ کہتے ہیں نا کسی کو اپنا راز نا بتاؤ ایسا کے آگے چل کے تمہارے لینے کے دینے پڑ جائیں

وہ سر جھکا دیتی ہے تبھی زینت کی آواز گونجتی ہے

اچھا میرا بھائی کیسا لگتا ہے

زہر لگتا ہے عدیل مجھے فاخرہ کے کہے لفظ آج اس پر آگ کی طرح برس رہے تھے

اس ں۔ دل میں دعا کی اللّه زمین پھٹے میں اس میں سماء جاؤں پر الٹ ھوا

عدیل کے زمین پر گرنے پر وہ ہوش میں آئی سر۔ اٹھا کے دیکھا عدیل زمین پر گرا ھوا تھا

اسکے دماغ کی رگ پھٹ چکی تھی منہ سے اور ناک سے خون بہنے لگا تھا

زینت سکتے میں تھی

یعنی آج آخری محبت کرنے والا سہارا بھی اس رب نے اپنے پاس لے لیا

اللّه مجھہ حوصلہ اور صبر دے

محبت کی سزا بھگت لی میں نے فاخرہ کہتے ہی بیہوش هو گئی

جنازہ اٹھا اور آیت نے اپنے سب سے پیارے پاپا کو دور جاتا دیکھا اور ماں سے۔ کہنے لگی پاپا کب واپس آئیں گے ابھی ہم نے دوبارہ جانا ہے نا پاپا نے کہا تھا اب کی بار اللّه کے گھر جائیں گے

معصوم بچی اپنی معصومیت میں بول رہی تھی

بیٹا آپکے پاپا اکیلے ہی اللّه کے گھر گئے ہیں

فاخرہ نم آنکھیں بند کر لیتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *