Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 08)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

ویسے بڑی حیرت ہے تالا کیوں لگایا ہے فیضی مذاق کے موڈ میں تھا تبھی پوچھنے لگا

اصل میں ہم ابھی اس پورشن میں شفٹ ہوے تھوڑا کام باقی تھا کروانا تھا امی نے کہا شادی هو پھر کروا لیں گے

آیت کی پلکیں بھیگ جاتی ہے تبھی اسکا موبائل بجنے لگتا ہے آصف انکل کالنگ دیکھ کے وہ کال اٹھا لیتی ہے

السلام علیکم انکل جی میں ٹھیک ھوں جی میرے ساتھ ہیں

آیت فیضی کی طرف دیکھتی ہے جو اُسی کو دیکھ رہا ہوتا ہے

انکل نے بات کرنی ہے آیت اسکو آصف صاحب سے بات کرنے کا پوچھتی ہے

وہ ہاتھ بڑھا کے موبائل لے لیتا ہے

السلام علیکم انکل فیضی سلام کر کے حال پوچھتا ہے

آصف ۔۔۔فیضی آپ سے ایک بات کرنی تھی ضروری ہے بہت

جی ایک منٹ انکل وہ کان سے فون ہٹا کے آیت کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہتا ہے اور خود بھی اسکے پیچھے ہلکی چہل قدمی کرتا ھوا جاتا ہے

جی انکل اب کہئیے

فیضی بات کو آگے بڑھاتا ہے

بیٹا میں دو ہفتے کے لئے ملک سے باہر جا رہا ھوں آپ کو گھر کے سب حالات پتہ ہیں کیا آپ آیت کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جا سکتے هو تاکہ مجھے وہاں جا کے ٹینشن نا رہے

آصف صاحب اپنی بات کر کے خاموش هو کر فیضی کی ہاں کا انتظار کرتے ہیں

مگر فیضی آیت کو رکھنے سے معذرت کر لیتا ہے

سوری انکل ایسا نہیں هو سکتا میں آیت کو کس رشتے سے رکھوں پھوپو ہوتیں تو بات الگ تھی مگر اب اب تو وہ نہیں ہیں اور میں اکیلا ھوں گھر میں کل گھر والے بھی یو کے چلے جائیں گے میں اکیلا ھوں گھر میں

فیضی انکو تفصیل سے اپنی پوزیشن بتا دیتا ہے جس پر وہ بھی سوچنے لگتے ہیں اب آگے کیا کریں

ٹھیک ہے بیٹا پھر بات هو گی

آصف صاحب فون بند کر دیتے ہیں

اور چاۓ لے کر کھڑکی میں کھڑے هو کر ماضی کو سوچنے لگتے ہیں

🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁

زینت تم کینٹین چلو میں آتی ھوں فاخرہ زینت کو بکس دے کر لائبریری کی طرف بڑھ جاتی ہے

سامنے ہی احمد فراز کی نیو شاعری کی بکس لائن سے لگی ہوتی ہیں فاخرہ ہاتھ بڑھاتی ہے تبھی ایک اور ہاتھ اسی بک پر پڑتا ہے

دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں

سوری آپ لے لیجیے فاخرہ سامنے والے کو دیکھ کر نظریں جھکا لیتی ہے

فاخرہ کو دیکھ کر آصف مسکرا دیتا ہے ارے نہیں آپ لیں جب پڑھ لیں گی تو میں لے لوں گا

وہ کہہ کر بک اسے تھما کے مڑ جاتا ہے

میری پسند لاجواب ہے ۔۔۔۔فاخرہ آج پھر اس بات کا اعتراف اپنے دل میں کرتی ہے اور بک ایشو کروا کے کینٹین کی طرف بڑھ جاتی ہے یہ جانے بنا کے کوئی اسکو دیکھ رہا ہے۔

🍂🍂🌿🌿🍂🍂🌿🌿🍂🍂🌿🌿🍂🌿🍂حال 🍂🌿🌿🍂🌿

آیت آپ کو کوئی بھی مسلہ هو مجھے کال کر دیجیے گا

فیضی اسے آصف ہاؤس کے سامنے اتار دیتا ہے

بہت شکریہ مگر اب میں ٹھیک ھوں اور جانتی ھوں کے مجھ کو بہت سمبھل کے چلنا ہے وہ دروازہ بند کر کے اندر کو جانے لگتی ہے

تبھی واپس پلٹتی ہے ہاں آپ کے لیے کسی زرش کی کال تھی

اور اندر کو بڑھ جاتی ہے

فیضی اُسکے اندر جانے کے بعد گاڑی لے کے اپنے گھر کی طرف نکل آتا ہے

وہ ابھی دہلیز پر قدم رکھتی ہے کے مونا اور زینت سامنے سے آ جاتی ہیں

کہاں سے اور کس کے ساتھ آئی هو

زینت سوال کرتی ہیں

آیت خاموش رہتی ہے کیوں کے ابھی کچھ دیر پہلے ہی فیضی نے اسے چپ رہنے کی تلقین کی تھی

آیت پھوپو کچھ پوچھ رہی ہیں مونا طنزیہ کہتی ہے

میں آپ دونوں کو اس بات کی جواب دہ نہیں ھوں کے کس کے ساتھ اور کہاں تھی اور آئندہ میرا راستہ نا روکنا بہت برا هو گا

وہ کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہے

دیکھا آپ نے کتنی تیز هو گئی ہے اپنی چچی کے جانے کے بعد مونا ہنسی چھپاتی ہوئی کہتی ہے اور اپنے روم کی طرف بڑھ جاتی ہے زینت کو مونا کے سامنے اپنی بےعزتی محسوس ہوتی ہے

دیکھ لوں گی تم کو بھی آیت ہممم

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

فیضی گھر آتے ہی زرش کو ڈھونڈتا ہے جو اسے سامنے ہی صوفے پر بیٹھی دکھائی دیتی ہے

تم نے کال کی تھی

ارے پھر تم کہہ رہے هو آپ کہہ کر بات کرتے ہیں زرش ہنستے ہوے اس کے قریب آتی ہے وہ دو قدم پیچھے ہوتا اس کو پھر مخاطب کرتا ہے

عزت اسکی ہوتی ہے جص کو خود اپنی عزت کا خیال هو ارے جو خود اپنی عزت کو بے مول کر دے اسکی کیا عزت اور ویسے بھی عزت دینے والا اللّه ہے آئندہ مجھے کال مت کرنا بس یہی کہنا تھا

وہ سیڑھیوں کی طرف قدم رکھتا ہے تبھی پیچھے سے آواز آتی ہے

آج کل بڑی لڑکیوں سے دوستیاں ہیں۔ خیر ہے سب کون تھی ابھی کچھ دیر پہلے تمہارے ساتھ

زرش طنزیہ پوچھتی ہے

جو بھی تھی تمہیں بتانا ضروری نہیں ہے

میری پرسنل لائف میں انٹر فیئر نا کرو تو بہتر ہے

انٹر فیئر نہیں کر رہی یہ میرا حق ہے پوچھنا تم جانتے هو میں کس حق سے پوچھ رہی ھوں

زرش ہر لفظ پر زور دے کے بولتی ہوئی مسکرا کے وہاں سے چلی جاتی ہے

🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹
🌼
🌹

آیت کمرے میں آ کر آرام کی غرض سے لیٹ جاتی ہے تبھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والی آصف صاحب اور فیضی کی باتیں اس کے کانوں میں گردش کرتی ہے

**اب یہ نوبت آ گئی ہے امی کے آپ کی بیٹی کی سیفٹی کے لئے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے کاش آپ نا جاتی تو یہ سب نا ہوتا مجھے اکیلا کر دیا امی میں تنہا هو گئی ھوں فیضی کہتے ہیں وہ کس رشتے سے مجھے اپنے ساتھ رکھیں گے اور آپ نے ہی تو مجھے آخری امید فیضی کی دلائی تھی اب وہ بھی نہیں رہی امی سب نے چھوڑ دیا آپ تھی سب تھے اب کوئی نہیں ہے**

پریشان کیوں ہوتی هو میں ھوں نا تمہارے ساتھ جبران دروازے پر کھڑا بولتا ہے

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں وہ ایک دم سیدھی هو کر بیٹھ جاتی ہے

اس طرح کسی کے روم میں آتے ہیں کیا جس طرح آپ گھس آتے ہیں

آیت کو اب غصہ آنے لگا تھا

غصہ نا کرو آیت ہم۔ دوست تھے کبھی

جبران مسکرا کے کہتا

ہاں تھے اب نہیں ہے اور نکلو یہاں سے ورنہ میں پھوپو کو بلا لوں گی آیت دھمکی سی دیتی ہے

وہ مکرو ہنسی ہنستا ہے تم مجھے دھمکی دے رہی هو کیا کہو گی پھوپو کو کیا کہہ رہا ھوں میں ہاں کہو کہو سب تمہیں ہی ذلیل کریں گے پتہ ہے نا پھر کیوں اترا رہی هو وہ اسکے ہاتھ کو سختی سے دبوچ دیتا ہے

جبران میرا ہاتھ چھوڑیں پلیز ہٹیں وہ اسکو دور کرتی ہے تبھی مونا کی آواز آتی ہے وہ فوراً ہاتھ چھوڑ کے روم سے نکل جاتا ہے

آیت دروازہ بند کر کے فرش پر ہی بیٹھ کے رونے لگتی ہے اللّه کس جرم کی سزا ہے محبت کی یا ماں نا ہونے کی کہاں جاؤں میں ۔۔۔

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

وہ آتے ہی اپنا کوٹ پھنکتا ہے اسے رہ رہ کے زرش کی باتیں یاد آ رہی تھی کوئی حق نہیں تمہیں کوئی حق نہیں تم قاتل بس کوئی حق نہیں وہ جنونی سا هو کر زور زور سے کہتا ہے

دروازے پے کھڑی فضا آج پھر فیضی کو دیکھ کے دڑتی ہوئی کہتی ہے

بابا ۔۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔ 😔

وہ فضا کی آواز پر پلٹتا ہے فضا بھاگ کے اسکے گلے لگ جاتی ہے

**غصہ نا ھوں پلیز وہ معصوم بچی اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتی تھی اللّه نے ہر ایک کو نمایا صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ بچے ذہنی طور پر بہت ہوشیار ہوتے ہیں فضا انہی میں سے ایک تھی**

وہ محبت سے فضا کو دیکھتا ہے بیٹا کچھ نہیں ھوا میں ٹھیک ھوں آپ نے کھانا کھایا وہ اسے لے کے نیچے آ گیا

اور دونوں نے مل کے کھانا کھایا

بابا پھوپو کی کال تھی کہہ رہی تھی آپ سے کہوں کال کر لے وہ اسے میسج دے کر کھانے لگ گئی

وہ کھانے سے فری هو کے کنزا کو کال کرتا ہے اور اس کی بات سن کے ہنستا چلا جاتا ہے

یار کنزا آپ سب کو شادی کو شوق کی چڑا ہے

کنزا ۔۔۔۔۔ہاں تو وہ کون سی لڑکی ہے جس سے تم باتیں کرتے هو جس کے ساتھ گھومتے هو تم جانتے هو نا بابا کو نہیں پسند یہ سب تبھی تو پھوپو سے ہر رشتہ ختم کیا تھا بابا نے وہ بول کے اداس هو جاتی ہے

کنزا ایک بات کہوں بابا سے نا کہنا وہ سنجیدہ هو کے کھڑکی میں کھڑا هو جاتا ہے باہر ہلکی ہلکی بارش تھی جو سردی کے آنے کا پتہ دے رہی تھی

کہو خیر ہے سب کنزا پریشان هو جاتی ہے

کنزا پھوپو اب ہمارے بیچ نہیں رہی فیضی افسردہ هو کے کہتا ہے ساتھ بابا کو نا بتانے کا وعدہ لے کر کال بند کر دیتا ہے

اتنے عرصے میں کتنی دفع تم سے بات کی آیت تم وہ هو ہی نہیں جس سے میں نے محبت کی ھے وہ آیت تو منہ پھٹ شوخ چنچل سی تھی

تم کوئی اور هو جب تک تم زندگی کی طرف ٹھیک سے نہیں لوٹ آتی میں شادی کا تم سے سوچ بھی نہیں سکتا کیوں کے تمہیں ایک دوست کی ضرورت ہے شوہر کی نہیں

وہ آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہے بہت جلد نیند غالب آ جاتی ہے

🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀
🍀

سوتے ہوے اسے کسی کے ہونے کا احساس ہوتا ہے کوئی ہے جو بار بار دروازے کے پیچھے ہے اور بہت کوشش میں ہے کے دروازہ کھل جائے

کون ہے کون ہے وہاں آیت ڈری ہوئی آواز میں پوچھتی ہے آج اس اپنے الگ رہنے والے فیصلے پر غصہ آتا ہے

کس کو بلاوں زویا کو ہاں وہ زویا لا نمبر ڈائل کر نے لگی مگر آگے سے اٹھایا نہیں گیا

تبھی وہ فیضی کو کال کرتی ہے ہے تیسری بیل پر کال اٹھا لی گئی

کیا ھوا آیت وہ سوئی ہوئی آواز میں پوچھتا ہے

آپ سو رہے تھے آیت گھبراٹ چھپا کے پوچھتی ہے

مس آیت رات کے دو بجے سوتے ہی ہیں جاگ کے کھیلتے تھوڑی ہیں وہ نیند خراب ہونے پر تپ جاتا ہے مگر اگلی بات پر اٹھ بیٹھتا ھو میں ابھی آتا ھوں آپ دروازہ نہیں کھولنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *