Chand Si Bahu by Khaak e Makkah NovelR50683 Chand Si Bahu (Episode 05)
Rate this Novel
Chand Si Bahu (Episode 05)
Chand Si Bahu by Khaak e Makkah
امی آپکا ناشتہ بنا دیا ہے میں نے آپ ناشتہ کر لینا مجھے آج اسکول جلدی جانا ہے
آیت جو صبح ہی اٹھ کر ناشتہ بنا چکی تھی ماں کو کہہ کر خود باہر کو نکل گئی
وہ اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی کہ آصف صاحب نے پیچھے سے آواز دی وہ رک جاتی ہے
آیت بیٹا روکو آصف قریب آ کے رک جاتے ہیں
السلام علیکم انکل صبح بخیر وہ انکو دیکھ کر مسکراتی ہے
وعیلکم السلام بیٹا صبح صبح کہاں جا رہی ہیں وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہیں
میں نے جاب شروع کی ہے ٹیچنگ کرتی ھوں انکل تبھی بس آج پارٹی ہے تبھی جلدی جا رہی ھوں
وہ انکی طرف دیکھ کے مسکرا کے کہتی ہے
وعیلکم السلام بیٹا صبح صبح کہاں جا رہی ہیں وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہیں
میں نے جاب شروع کی ہے ٹیچنگ کرتی ھوں انکل تبھی بس آج پارٹی ہے تبھی جلدی جا رہی ھوں
وہ انکی طرف دیکھ کے مسکرا کے کہتی ہے
آصف صاحب مسکرا کے کہتے ہیں میں آپ کو چھوڑ آتا ھوں بیٹا ۔۔۔
نہیں انکل میں چلی جاؤں گی ایک۔ اسٹاپ دور ہے بس آیت سنجیدگی سے سر جھکا کے کہتی ہے
آصف صاحب جانتے تھے وہ نہیں مانے گی تبھی اسکیطرف دیکھ کے کہتے ہیں اوکے بیٹا اللّه حافظ
اللّه حافظ انکل وہ کہہ کر مڑ جاتی ہے اور دروازے کو عبور کر لیتی ہے تب جا کے آصف صاحب اسکے گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہیں






















آیت سڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنی کلاس کی طرف بڑھتی ہے
سارے بچے ہاتھ میں کارڈز لئے اسکو ویلکم کرتے ہے اور ساتھ ہی ساتھ وش کرتے ہیں
ہپپی برتھ ڈے اینڈ ہپپی ٹیچرز ڈے میم
آیت بچوں کی محبت دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکرا دیتی ہے آج وہایک طرف اپنی محبت ہارنے جا رہی تھی اور دوسری طرف یہ بچوں کی محبت اسکو سر شار کر گئی
تھنکو بیٹا آپ سب بیٹھ جائیں میڈم راؤنڈ پر ہیں
وہ سب بچوں کو انکی سیٹ پر جا چاکلیٹ دیتی ہے اور بچے اپنے اپنے لاۓ ہوے گفٹس اسکو دیتے ہیں۔۔
سب بچے ایک ایک کر کے اسکو گفٹ دیتے ہیں تبھی وہ فضا کے پاس آتی ہے اور چاکلیٹ دیتی ہے تب فضا اسکو گفٹ دیتی ہے جو دوسرے بچوں کی نسبت کافی بڑا اور اچھا پیک تھا
وہ بہت پیار سے پوچھتی ہے
فضا یہ آپ اتنے گفٹس کہاں سے لائی هو
فضا ۔۔۔میم میرے بابا چاچو نے لے کر دیے ہیں انکو لیڈز شاپنگ نہیں آتی بس یہ لے دیا آپ کو اچھا لگے گا یہ سب فضا معصومیت سے جواب دیتی ہے اور مسکرا کے بیٹھ جاتی ہے
وہ گفٹس لے کر واپس مڑ جاتی ہے
ایک تھاکا دینے والا دن گزار کے وہ گھر لوٹ آتی ہے
(5 گھنٹے پہلے صبح کے وقت )
نوری نوری کہاں مر گئی هو جبران نوری کو پکارتا ہے
پر نوری نہیں زینت صاحبہ آ جاتی ہیں
کیا ھوا ہے بیٹا صبح صبح کیوں چیخ رہے هو
جبران ۔۔ مام نیوز پیپر نہیں ہے میرا جوس نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہے صبح کی واک کے بعد آپ کو پتہ ہے میں یہ سب اپنی نظروں کے دیکھنا چاہتا ھوں اور ان میں سے کچھ بھی یہاں نہیں ہے
اوکے بیٹا غصہ نا کرو میں بیھجواتی ھوں
تبھی سامنے سے مونا آتی دکھائی دیتی ہےزینت صاحبہ محبت سے پکارتی ہیں
مونا بیٹا بات سنو ذرا ۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ پھوپو
مارننگ بیٹا ۔۔۔اچھا تم ذرا جبران کو۔ نیوز پیپرز لا دو میں جوس لا دیتی ھوں
واٹ پھوپو میں اس گھر کی بہو ھوں نوکرانی نہیں آپ آیت سے کہیں یہ سب اور مجھے بھی جوس روم میں بیھجوا دیں پھر میں پالر جاؤں گی
مونا کہتی ہوئی واپس چلی جاتی ہے
زینت صاحبہ کو غصہ آ جاتا ہے اور رخ بیٹے کی طرف کرتی ہیں
دیکھ لی اپنی پسند کر لی نا اپنے دل کی وہ تو اس گھر کے کام ہی نبی کرے گی ایک نیوز پیپر نا لا کے دے سکی
یہ ہے تمہاری محبت ۔۔۔۔۔۔وہ غصہ کر کے چلی جاتی ہیں






















آصف صاحب فاخرہ کے گھر میں قدم رکھتے ہیں آج کتنے عرصے بعد وہ اس گھر میں آئے تھے
انکے کانوں میں زینت کی آواز گونج رہی تھی
(تم اتنی گھٹیا عورت هو فاخرہ اپنے شوہر کے ہوتے ہوے میرے شوہر پر ڈورے ڈالتی هو اسکی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی هو )
فاخرہ ۔۔۔
(نہیں نہیں زینت میں ایسا کیوں چاہوں گی مجھ پر یہ الزام نا لگاؤ اور نا اپنے بھائی سے کہنا وہ ابھی گھر سے دور ہیں میں میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ھوں )
زینت ۔ ۔
( نہیں میں آج ہی بھیا کو کال کرتی ھوں تاکہ وہ بھی اپنی بیوی کی سچائی سن لیں کے انکو کیسے دھوکہ دے رہی ہے )
وہ ماضی میں گم ہوتے ہیں کے پیچھے سے فاخرہ کی آواز آتی ہے
آپ یہاں کیوں آئے ہیں آصف صاحب چلیں جائیں اس سے پہلے کے آپ کی بیوی آ جائے
وہ سنجیدگی سے کہتی ہیں اور مڑ جاتی ہیں
میں بس آپ سے معذرت کرنے آیا ھوں کل رات کے لئے جو مونا نے کیا
اور پھر جو زینت نے آپ کو کہا اس سب کے لئے کہیں نا کہیں میں خود ذمہ دار ھوں مگر ہم بعض دفع نا حالات بدل سکتے ہیں اور نا لوگوں کی سوچ کو بدل سکتے ہیں ۔
جو جیسا ہوتا ہے وہی کہتا اور بولتا ہے اس لئے میں آپ سے معافی چاہتا ھوں
آصف صاحب ہاتھ جوڑ کے فاخرہ کے سامنے کھڑے هو جاتے ہیں ۔۔۔۔










السلام علیکم امی آیت گھر آتے ہی بلند آواز سے سلام کرتی ہے
فاخرہ بیگم محبت سے اسکو دیکھتی ہیں
وعلیکم السلام بیٹا ہپپی برتھ ڈے میری جان وہ اسکو گلے لگا کے پیار کرتیں ہیں اور اسکی طرف سونے کی بالیاں بڑھا دیتی ہیں
امی یہ کہاں سے آئی ہے وہ حیرت سے ماں کو دیکھتی ہے اور ایک دم ہاتھ بڑھا کے ماں کے کان دیکھتی ہے
امی آپ نے اپنی بالیاں بیچ دی وہ پاپا کی نشانی تھی
یہ کیا کیا آپ نے امی وہ دکھ سے انکو دیکھتی ہے جو مسکرا رہی ہوتی ہیں۔
تم سے بڑھ کے کوئی پیارا تحفہ هو ہی نہیں سکتا یہ بے جان اشیا ہیں اور ان کے نزدیک اور میرے نزدیک ان بے جان اشیا کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور نا هو گی تم جاؤ چینج کرو میں کھانا لگاتی ھوں پھر برات کی تیاری کرنی ہے
وہ فریش هو کے کھانا کھا کے کچھ دیر کے لئے سونے کے لئے لیٹ جاتی ہے






















پورا ہال دلہن کی طرح سجایا گیا تھا
ہر چہرہ دمک رہا تھا اور آج ایک چہرے پر ہر ایک کی نظر تھی
فیضی کی نظر جھکنے کا نام نہیں لے رہی تھی وہ بار بار ایک۔ چہرے کی طرف دیکھے جا رہا تھا
اور وہ چہرہ ہر ایک کی نظر سے بے نیاز بڑی شان سے اسٹیج کی طرف بڑھ گئی
