Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 02)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

رات کھانا کھانے کے لئے سب بیٹھے سکوں سے کھا رہے ہوتے ہیں مونا بیلو جینز میں شارٹ شرٹ پہنی آرام سے جبران کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہے

وہ ایک نظر اسکو دیکھتی ہے اور ایک نظر خود کو سلیقے سے دوپٹہ سر پر اور لونگ شرٹ پر چوڑی دار پاجامہ پہن کے ماں کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے تبھی آیت کے بولنے پر سب سے پہلے ٹھسکہ زینت بی بی کو لگتا ہے

پھوپو مجھے میرے پورشن کی چابی دے دیجیے میں اور امی اب وہیں رہیں گے وہ بڑے سکون سے کہتی ہوئی سب کا سکون برباد کر دیتی ہے فاخرہ کیا یہی تربیت کی ہے تم نے اسکی کے بڑوں سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں اسکو زینت سیخ پا هو جاتی ہے

آپا مجھے نہیں پتا اس نے کیوں ایسا کہا پر بچی ہے معاف کر دیں اور تم سوری کرو پھوپو سے وہ آیت کو آنکھیں دکھاتی ہیں

نہیں امی میں اپنے ابو کے پورشن میں رھوں گی کیا برائی ہے اس میں ہاں کیا میرا حق نہیں اپنی مرضی سے جینے کا بولیں وہ ایک دم غصے سے ٹیبل پر ہاتھ رکھتی ہے

اتنے عرصے میں پہلی دفع اسکے پھوپا بولتے ہیں

بلکل بیٹا آپ کا حق ہے آپ جسے مرضی رہیں کوئی نہیں روکے گا آپ کل صبح چابی مجھ سے لے جانا ابھی کھانا کھاؤ شاباش

وہ کھانے سے ہاتھ کھنچ لیتی ہے اور اٹھ جاتی ہے

صبح چھٹی کا دن تھا سبھی سوۓ ہوتے ہیں ویسے بھی کم ہی لوگ اس گھر میں نماز پڑھتے تھے صرف پھوپا جی فاخرہ بی بی جان اور وہ خود چاۓ کے 4 کپ بنا کے وہ ایک کپ امی اور بی بی جان کو دے آتی ہے دو کپ لے کے لون میں آ جاتی ہے یہ لیں پھوپا جی آپ کی چاۓ وہ ٹیبل پر کپ رکھ کے بیٹھ جاتی ہے

شکریہ بیٹا وہ مسکرا کے اسے دیکھتے ہیں اس گھر میں اگر سچی محبت امی اور بی بی جان کے بعد کسی نے کی تو وہ اسکے پھوپا جی ہی تھے

ویسے ایک آپس کی بات پوچھوں آپ سے تھوڑی پرسنل ہے آپ کی وہ راز داری والے انداز میں پوچھتی ہے

جی پوچھئے وہ مسکراہٹ دبا کے کہتے ہیں

آپ اس ایج میں بھی اتنے ہینڈ سم ہیں آپ کو سارے جہاں میں ایک پھوپو ہی ملی تھی میری کوئی اور نظر نہیں آیا تھا کیا

آئی تھی پر جب تک میں اظہار کرتا کوئی اور میری محبت لے اڑا

وہ مسکرا کے جواب دیتے ہیں

وہ ہونقوں کی طرح انکی شکل دیکھتی رہ جاتی ہے

کیا بہت خوبصورت تھی وہ سوال کرتی ہے

تمہاری پھوپو سے کم تھی پر میرے دل میں بلند مقام تھا ہم سب دوست تھے میں معمولی سے گھر کا خوش شکل لڑکا تھا وہ امیر گھر کی سانولی سی لڑکی تھی فیشن تو چھو کے بھی نہیں گزرا تھا جیسے اسکو سادگی پسند تھی اور یہی بات اسکی مجھے اسکی طرف مائل کرتی تھی اور پھر اسکو ایک امیر لڑکے نے شادی کے لئے پرپوز کیا اور وہ راضی هو گئی ۔۔۔۔تو آپ نے کیوں نہیں بتایا اس لڑکی کو کے آپ اس سے محبت کرتے ہیں وہ بیچ میں بول پڑی ۔۔۔۔۔

کیوں کے میں معمولی سے گھر کا لڑکا تھا 3 بہنے تھی جن کی شادی کرنی تھی ماں باپ کا سہارا تھا میں سوچا تھا جب اچھی جاب مل جائے گی تو کہوں گا ۔۔۔۔آپ کو دکھ ہوا تھا اس نے نم آنکھیں صاف کی تھی ۔۔۔

وہ مسکرا دیے ہاں بہت بہت درد ہوا تھا بہت تکلیف ہوئی تھی رویا تھا پر محبت یہ تو نہیں کے کے حاصل ہی کی جائے محبت تو وہ ہے کے آپ کی محبت خوش رہے بس اور وہ خوش تھی تو میں سکون سے تھا

اور تو اور میں نے اسکی شادی میں بھنگڑا بھی ڈالا تھا ۔۔۔۔۔وہ روتے روتے ہنس دیتی وہ کیسے ۔۔۔۔۔کیوں کے ہم یونیورسٹی فرنڈس تھے سب میں میرا دوست تمہاری پھوپو اور وہ لڑکی تمہاری شکل اسی لڑکی سے ملتی ہے بہت ۔۔۔۔اوہ وہ ہلکا سا مسکرا دیتی ہے 😋

دور کھڑی فاخرہ دونوں کی باتیں سن رہی ہوتی ہیں تم یہاں هو کب سے ڈھونڈ رہی ھوں تم کو چلو ناشتہ بنانے میں مدد کرو میری وہ اسکو ڈانٹ لگاتی ہیں آصف فاخرہ کی طرف دیکھتے ہیں اور انکی آنکھوں کی نمی دیکھ کے پریشان هو جاتے ہیں ۔۔آپ ٹھیک ہیں فاخرہ طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ۔۔۔۔وہ انکی طرف دیکھ کے نظر پھیر لیتی ہیں

امی آپ کو پتہ پھوپا جی کسی سے محبت کرتے تھے وہ اپنی ماں کو بڑی راز داری سے بتا رہی ہوتی۔ ہے جس پر وہ مسکرا دیتے ہیں

ہاں بیٹا میں نے سب سنا آپ کے پھوپا جی نے ایک غلطی کی ہر لڑکی اپنے شوہر سے محبت کے بدلے محبت اور عزت کے بدلے عزت چاہتی ہے اسے دولت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا جب محبت کی ہی تھی تو اظہار بھی کرتے کیا پتا وہ لڑکی انکے اظہار کا ہی انتظار کر رہی ہوتی کیا پتا وہ بھی ان سے محبت کرتی ہوتی پر کوئی لڑکی خود سے اپنی محبت کا اظہار کر کے مرد کی نظر میں گرنا پسند نہیں کرتی اور کیا پتا وہ بھی اپنی شادی پر اپنی محبت کو راکھ ہوتا دیکھ کر اندر سے کرچی کرچی هو گئی هو

آپ کے پھوپا کی وجہ سے کتنا روئی هو انکو کیا پتا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نم لہجے میں آج اتنا برا انکشاف کر بیٹھی تھی آصف صاحب اپنی جگہ سے اٹھنے کے قابل نہیں تھے

زندگی آج کس موڑ پر لائی تھی دو محبت کرنے والے آمنے سامنے تھے پر اب محبت کی گنجائش باقی نہیں تھی لیکن دونوں کے دل میں۔ عزت اور مقام ایک دوسرے کے لئے بلند تھا وہ کہہ کے رکی نہیں اور ایک نظر آصف صاحب کو دیکھ کر اندر چلی گئی وہ ماں کے پیچھے چلتے ہوے اندر بڑھ گئی

وہ خالی ہاتھ رہ گے کیسا اظہار تھا محبت کا جس لڑکی سے انہوں نے خاموش محبت کی یعنی وہ بھی محبت کرتی تھی ان سے آج انھیں ایک کہی ہوئی بات یاد آئی کے عورت اپنے اپر اٹھنے والی ہر نظر پہچانتی ہے چاہے محبت کی هو یا حوس کی عورت کو چھٹی حس میں سبقت حاصل ہے

آنکھ میں آئے آنسو صاف کر کے وہ گھر سے باہر نکل گیے کچھ دیر تنہائی کی نظر کرنے کچھ دیر اکیلا رہ کے غم ہلکا کرنے کو تاکہ وہ خود کو پھر سے سمیٹ سکتے

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

امی میں حرا اور زویا کے ساتھ بازار جا رہی ھوں آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں وہ کمرے میں آتے ہی سوال کرتی ہے یہ دیکھے بنا کے وہ فون پر بات کر رہی ہیں

دو منٹ فیضی میں ذرا اس سے بات کر لوں فاخرہ نے فون کان سے ہٹا کے اس سے پوچھا

کس کے ساتھ جاؤ گی لالا تو نہیں ہے گھر باہر کام سے گیا ہے

آپ کی بھتیجی صاحبہ کو شوق ہے نا بہت ڈرائیونگ کا وہ لے کر جائیں گی ابھی پاکستان کی سڑکوں کا پتہ نہیں ہے انکو مزہ آ جائے گا جب پھوپو کو نئی کار انکی بیٹی کہیں ٹھوک دے گی وہ الماری میں سر دیے جواب دیتی ہے

آواز بلند ہونے کی وجہ سے وہ صاف سن سکتا تھا اسکے نیک خیالات تبھی مسکرا کے کہتا ہے میٹھی ہے پر کھری بندی ہے 😝

اوکے ماں میں جا رہی ھوں آوں تو پلیز آم کا جوس بنا کر اپنے کمرے کے فریج میں رکھنا ورنہ وہ سوکھی سی مونا بےبی پی لیں گی آپ کو پتا آج صبح جب میں نے اپنے لئے بنایا وہ منحوس پی گئی پھوپو نے میرے ہاتھ سے لے لیا اسکی آنکھیں نم هو گئیں پر میں بہت ڈھیٹ ھوں اپنا حق نہیں چھوڑتی لے کے سکون آتا ہے آیت اے آیت کہاں مر گئی جلدی آؤ باہر سے حرا کی آواز آتی ہے زندہ ھوں ابھی آ رہی ھوں وہ اتنا ہی چیخ کر بولتی ہے آہستہ بولو فاخرہ ٹوک دیتی ہیں اوکے جا رہی ھوں ورنہ یہ لوگ فاتحہ پڑھ لیں گے میری اللّه حافظ ماں 😘😘😘😘

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

بیٹا هو یا گئے فاخرہ فیضی سے پوچھتی ہیں جی جی پھوپو کال پر ھوں آپ ایسا کریں میڈم کے لئے شیک بنا لیں میں رات کو بات کرواتا ھوں پاپا ابھی گھر نہیں ہیں

فیضی جلدی میں جواب دیتا ہے

فاخرہ اسکی جلدی بھانپ لیتی ہیں تبھی مسکرا کے کہتی ہیں

جی ٹھیک ہے بیٹا آپ جاؤ میں بھی کام کر لوں اللّه حافظ

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

یار کتنی ٹریفک ہے پاکستان میں ہمارے انگلینڈ میں نہیں ہے حرا ڈرائیونگ کرتے ہوے منہ بنا کے کہتی ہے

تو کس نے کہا تھا آپ کار لے کر آئیں وہ آیت کی کیا جو چپ بیٹھ جاتی اس نے بیک ویو مرر سے دیکھا اور ہممم

ہاہاہا آگے دیکھ کر چلائیں آپ کے بھائی کی شادی ہے آیت ہنستی ہے تبھی ٹریفک پولیس اشارہ کرتا ہے وہ اسے خاطر میں لاۓ بنا گاڑی آگے بڑھا لیتی ہے تبھی آیت کہتی ہے آپ نے سگنل توڑا ہے انگلینڈ میں بھی توڑتی ہیں کیا

تم چپ نہیں کرو گی آیت ورنہ گاڑی سے اٹھا کے پھنک دوں گی حرا غصہ کرتی ہے تبھی دوسرے سگنل پر انکی گاڑی روک لی جاتی ہے

سارجنٹ کو کڑک دار آواز آتی ہے میڈم جی گاڑی سائیڈ کریں بہت شوق ہے سگنل توڑنے کا نا اب جرمانہ بھی بھریں چچلیں سائیڈ پر ہوں

آپی گاڑی سائیڈ پر لو اور جرمانہ بھر دو پلیز زویا ڈر جاتی ہے اگر پاپا کو پتا چلا بہت ڈانٹیں گے

وہ گاڑی سائیڈ کرتی ہے تبھی فیضی کی نظر دور سے آیت پر پڑتی ہے وہ عثمان سے کہہ کر گاڑی اسکی طرف بڑھاتا ہے

کیوں خیر ہے ایسا کیا ہے وہاں عثمان شوخ ہوتا ہے دانت اندر کر اوے جا کر پوچھ معاملہ کیا ہے

اوکے باس جو حکم آپکا گاڑی پاس جا کے روکتا ہے اور باہر آتا ہے

کیوں بات ہے سر سب ٹھیک ہے

وہ جو پیسوں پر لڑ رہی ہوتی ہے مڑ کے دیکھتی ہے

آیت لڑ کیوں رہی ہے گاڑی میں بیٹھا فیضی سوچتا ہے اس سے پہلے وہ نکلتا وہ عثمان سے الجھ پڑتی ہے

کیا مسلہ ہے آپ کو دکھائی نہیں دے رہا کیا ہم بات کر رہے ہیں

میڈم بات سنیں سارجنٹ جلدی سے ٹوک دیتا ہے

تم چپ کرو تم سے بعد میں نبٹوں گی اور تم ہاں کون هو اور منہ اٹھا کے کیوں کھڑے هو تماشہ لگا ہوا ہے کیامیری بات تو سنیں اففف کتنا بولتی ہے عثمان دل میں سوچتا ہے اور پیچھے مڑ کے گاڑی میں بیٹھے فیضی کو غصے سے دیکھتا ہے جس کا ہنسی کنٹرول کرنا مشکل هو رہا ہوتا ہے

دوسری طرف حرا زویا سے کہتی ہے جاؤ اور اس گدھی کو لے کے آؤ کہیں سے نہیں لگتا پڑھی لکھی ہے کیسے لڑ رہی ہے اففف آپی وہ سہی کہہ رہی ہے وہ ایک سگنل توڑنے کے 1000 روپے بہت مانگ رہے ہیں جب کے 200 بہت ہیں

زویا تم جاؤ پلیز دیر هو رہی ہے بہت گرمی ہے مجھے برداشت نہیں هو رہی

اوکے آپی تبھی دروازہ کھول کے زویا باہر آتی ہے سوری سر آپ جرمانہ بتا دیں تم ٹھیک هو زویا وہ زیادہ لے رہا ہے آیت مڑ کے زویا کو کہتی ہے تبھی فیضی آتا ہے

کیا ہوا آیت کیوں لڑ رہی ہیں آپ تبھی آیت مڑ کے دیکھتی ہے

آپ وہ بس اتنا ہی کہہ پاتی ہے زویا آیت کو دیکھتی ہے اور عثمان فیضی کو دکھاتا ہے

کتنا ہوا جرمانہ فیضی سنجیدگی سے پوچھتا ہے

سر 1000 روپے سارجنٹ کے بولنے پر پھر آیت بولتی ہے یہ زیادہ لے رہا ہے

ایک منٹ آیت میں بول رہا ھوں چپ کرو

وہ غصے سے فیضی کو دیکھتی ہے

سر انہوں نے سگنل توڑا اور روکنے پر بھی نہیں رکی تبھی 1000 لے رہے ہیں

مس آیت وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں پولیس آفیسر ھوں

اور یہ ہمارا نیا قانون ہے جو جان کے سگنل توڑے اور نا روکے ٹو ان سے بھی 1000 ہی لینا ہے

کیا مصیبت ہے آیت زویا جلدی آؤ حرا آخر کار سے باہر آ هو جاتی ہے

آیت بات سنیں فیضی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے

قانون کی پاسداری ہم سب کا فرض ہے آپ کی فرنڈس نے سگنل توڑا ہے اور جرمانہ ان پر کرنا قانون کا فرض ہے خیر آپ جائیں میں دیکھ لیتا ھوں

آیت پیسے دینے کے لئے بڑھاتی ہے پر فیضی منا کر دیتا ہے اور پیسے نکال کر سارجنٹ کو دیتا ہے گلاسس لگا کے کار کی طرف بڑھ جاتا ہے حرا اور آیت بھی کار کی طرف مڑ جاتے ہیں زویا کو عثمان کی آواز پر رکنا پڑ جاتا ہے

مس زویا عثمان پیچھے سے آواز دیتا ہے

جی سر وہ ڈرے ہوے لہجے میں کہتی ہے

عثمان اسکی طرف رسید بڑھا دیتا ہے یہ لیں اور ڈرا نا کریں کھا نہیں جائیں گے ہم چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ کار میں بیٹھ کر نکل جاتا ہے پیچھے ہی حرا بھی کار لے کر نکل جاتی ہے

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

کون تھی یہ آیت عثمان مین روڈ پر کار لاتے ہی پوچھتا ہے

پھوپو کی بیٹی ہے

واٹ تیری پھوپو کب پیدا ہوئی میں کیوں نہیں جانتا انھیں جب کے ہم بچپن کے دوست ہیں

دفع هو جا کیسے بول رہا ہے وہ مکا بنا کر عثمان کے کندھوں پر مارتا ہے

دونوں ہنس پرے ہیں وقت ملا تو بتاؤں گا یار ابھی مال کی طرف موڑ لے فضا کے لئے گفت لے لوں ورنہ چیخ چیخ کے گلہ دبا دے گی

یار ویسے مس آیت ہیں بہت لڑاکا طیارے کی طرح بیچارہ سارجنٹ چپ کر کے کھڑا صرف سن رہا تھا

🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼
🌼

تم کیسے جانتی هو آیت اس لڑکے کو کتنا ہینڈ سم تھا

حرا سوال کرتی ہے اور وہ منہ بسور کر جواب دیتی ہے

میرے مامو کے بیٹے ہیں

کیا واقع آیت آپی آپکے مامو کے بیٹے ہیں یعنی آپکے کزن ہیں

زویا حیرت سے پوچھتی ہے

ہاں مختصر سا جواب دے کے وہ باہر دیکھنے لگتی ہے تاکہ سوالوں سے بچ سکے

تبھی دو گاڑیاں آگے پیچھے پارکنگ میں رکتی ہیں

سنو میں بوتیک کے سوٹ دیکھتی ھوں تم لوگ باقی اپنے لئے پسند کرو

حرا بول کے آگے بڑھ جاتی ہے زویا جیولری کی طرف بڑھ جاتی ہے آؤ آیت وہاں چلیں

نازک سی ایر رنگ دیکھ کر آیت ٹرائ کے لئے نکلواتی ہے

یہ دیکھو کیسا ہے زویا اتنے دنو میں پہلی دفع آیت اتنا خوش ہوئی تھی

بہت پیاری ہیں آپی پیک کروا لیں

کتنے کا ہے بھائی وہ سیلز مین نے پوچھتی ہے

یہ پانچ ہزار کی ہیں میڈم اور رنگ ملا کر 10 کی ہیں

سیلز مین کی بات سن کر ہی اسکا موڈ اوف هو جاتا ہے

کوئی نہیں آیت آپی حرا آپی پیمینٹ کر دیں گی

آپ پیک کر دیں وہ اور زویا پیک کروا کے بوتیک کی طرف بڑھ جاتے ہیں یہ جانے بنا کے دو آنکھیں اس کو اپنے حصار میں لئے ہوے ہیں

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

یار مجھے کال آ گئی ہے میں چلتا ھوں عثمان کے آفس سے کال آتی ہے جس پر وہ معذرت کرتے ہوے فیضی سے واپس چلا جاتا ہے

مال کے اندر آ کے وہ جیولری کی طرف بڑھتا ہے ابھی دیکھ ہی رہا ہوتا ہے رنگ تبھی کھنکتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گونجتی ہے مڑ کے دیکھنے پر شک یقین میں بدل جاتا ہے آیت زویا کے ساتھ بات کرتے ہوے ہنس رہی ہوتی ہے تبھی انکے بوتیک میں جانے پر وہ بھی انکی طرف بڑھ جاتا ہے

سر آپکا آڈر جی واپسی پر لیتا ھوں۔

اندر آنے پر ہر طرف لیڈز دیکھ کر اسے خود پر غصہ آتا ہے ایسی بھی کیا آفت آئی تھی جو منہ اٹھا کے آ گیا یار تبھی اسکی نگاہ دور کھڑی آیت پر پڑتی ہے جو ایک فراک کو مہبوت هو کر دیکھ رہی تھی

بلیک رنگ کا لونگ سا گولو بند فراک جس پر سفید ہلکے نازک سے نگ لگے ہوتے ہیں

پر ٹیگ دیکھ کے پیھکی ہنسی ہنس دیتی ہے وہ جانتی تھی وہ اسکو۔ خریدنے کی اوقات نہیں رکھتی

زویا اور پھوپا جی بہت پیار کرتے تھے بس پھوپو اور حرا ہی جل کے بھن جاتے تھے اور جبران اسکا ٹو پتہ ہی اب چلا تھا وہ ٹو۔ حسن پرست تھا۔

زویا کے بلانے پر وہ آگے بڑھ جاتی ہے

وہ فراک کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور ٹیگ دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے

بات سنیں اسکو پیک کر دیں وہ سیلزمین کو کہتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے جہاں اسکی کزن اور وہ کھڑے پیمینٹ کر رہے ہوتے ہیں

آیت تم پاگل هو 10 ہزار کا بل بنا دیا میرے پاس اتنے فضول خرچ کے پیسے نہیں ہیں بھائی یہ واپس کر لیں اور زویا تم نے جو خریدا وہ کیا ہے جلدی کرو دیر هو رہی ہے

آیت غصے سے مال کی سیڑھیاں اترتی ہوئی بھاگتی ہے تبھی کسی سے ٹکر هو جاتی ہے اوہ مجھے معاف کیجیے گا میں نے دیکھا نہیں وہ کسی آدمی کو سہارا دیتی ہے آپ کو لگی تو نہیں انکل سرخ آنکھیں لئے وہ سامنے والے سے پوچھتی ہے جو غور سے اسکی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں آیت میں کسی کی شعبیہ تلاش کرتے ہیں تبھی زویا آ جاتی ہے آپی آپ ٹھیک ہیں وہ غصے سے اسکا ہاتھ جھڑک دیتی ہے اور سائیڈ هو کے نکل جاتی ہے

گھر پوھنچتے ہی وہ کمرے میں گھس جاتی ہے فاخرہ سمجھ جاتی ہے اسکا موڈ ٹھیک نہیں ہے تبھی چھیڑنا مناسب نہیں ہے

آصف صاحب زویا سے پوچھتے ہیں اسکے بتانے پر وہ زویا کو۔ لے کر واپس مال جاتے ہیں پر تب تک کوئی اور وہ ایررنگ لے جا چکا ہوتا ہے

سر میڈم کے جانے کے دو منٹ بعد ہی ایک سر آئے اور وہ ایررنگ لے گئے

سیلزمین کے کہنے پر انکو مایوسی ہوتی ہے

اور کوئی اس طرح کا پیس هو گا آصف صاحب پوچھتے ہیں

سوری سر وہ ایک ہی لاسٹ پیس تھا

😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇
😇

گھر آتے ہی وہ اپنے روم میں جا کر پہلے شاپنگ سینٹر سے لئے ہوۓ فراک اور ایررنگ لاک کرتا ہے اور پھر واپس نیچے کی طرف قدم بڑھا دیتا ہے جہاں 5 سال کی فضا اپنے چاچو کا ویٹ کر رہی ہوتی ہے

ہیپی برتھڈے مائے پرنسزز

چاچو فضا ڈورتی ہوئی آتی ہے جسکو وہ اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتا ہے

چاچو آپ پھر لیٹ آئے ہیں دیکھیں عثمان چاچو اور ابراھیم چاچو بھی آ گئے ہیں

سوری بیٹا کچھ کام تھا اسی لئے دیر هو گئی باقی یہ دو تو ہیں ہی نکمے اب چلو کیک کٹ کریں بابا کہاں ہیں

میں بلاتی ھوں بھائی کنزا بابا کو بلانے جاتی ہے پر وہ خود آ جاتے ہیں ہاتھ پر پٹی بندھی دیکھ کر سبھی لوگ باقی سب چھوڑ کے انکی طرف متوجہ هو جاتے ہیں

یہ کیسے لگی بابا وہ ہاتھ کو دیکھ کر پوچھتا ہے کچھ نہیں بس ایک بچی سے ٹکر ہوئی تھی اور پھر وہ سارا واقعہ بتا دیتے ہیں

آیت وہ منہ میں بڑبڑاتا ہے اور کیک کاٹنے کے بعد پھوپو کا نمبر ملاتا ہے

چوتھی بیل پر اٹھا لیا جاتا ہے

السلام علیکم جی کون نمبر سیو نا ہونے کی وجہ سے وہ پہچان نہیں پاتی

فیض بات کر رہا ھوں پھوپو کہاں ہیں

فیضی کی آواز سنتے ہی اسے غصہ آ جاتا ہے اور راستے میں ہونے والی بات بھی کس طرح غصہ کیا تھا اس نے

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کے وو پھر سے بول پڑتا ہے میڈم کیا سو گئیں ہیں آپ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

کیوں فون کیا ہے

تمیز کہاں دفن کی ہوئی ہے ویسے بتائیں گی میں ڈھونڈ کے نا آپ کو گفت کر دوں گا پر سچ بتانا ہاں بول کے وہ قہقہ لگاتا ہے اور خود بھی حیران ہوتا ہے اتنا سنجیدہ شخص کیا کر رہا ہے 🌹🌹🌹

اپنا منہ بند کریں سمجھے میں امی کو بلاتی ھوں وہ غصے سے کہتی ہے اور چیخ کے بلاتی ہے وہ پہلے ہی موبائل کان سے ہٹا دیتا ہے

مجھے پتہ تھا آپ گلہ پھاڑ کے بلائیں گی اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی خیر سنیں اس طرح روڈوں پر اچھی لڑکیاں نہیں کھڑی ہوتی اور نا لڑتی ہیں آیندہ میں آپ کو ایسے نا دیکھوں

اور آنکھیں کھول کر چلا کریں کسی کو اپکی طرف سے تکلیف بھی مل سکتی ہے

اللّه حافظ

وہ موبائل اٹھا کے پٹخ دیتی ہے تبھی فاخرہ اندر آتے ہی پوچھتی ہیں کیا ہوا میری بیٹی کو کس نے غصہ دلا دیا بتاؤ ذرا میں اسکے کان کھینچوں گی

پکا امی آپ کان کھینچیں گی نا آیت بیتابی سے پوچھتی ہے

بلکل جس نے بھی غصہ دلایا اسکی خیر نہیں وہ مسکرا دیتی ہیں

مسڑ فیض الو کا ۔۔۔۔ ابھی وہ کچھ بولتی کے فاخرہ نے روک دیا بدتمیز میرے بھائی کا بیٹا ہے اور تم میرے بھائی کو الو بول رہی 😋بری بات

سوری امی پر آپ نے فیضی کے کان کھنچنے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *