Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 03)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

اوکے ضرور کھینچوں گی چلو سب کو بلا کے لاؤ میں کھانا لگاتی ہوں

جی ٹھیک وہ کہہ کر کمرے سے نکل جاتی ہے

پھوپا جی کھانا لگ گیا ہے آ جائیں وہ کہہ کر جانے لگتی ہے پر انکے روکنے پر رک جاتی ہے

آیت آپ کو جو پسند آتا ہے آپ ہمیں بتایا کریں اور جب بازار جائیں مجھ سے پیسے لے کر جائیں کیوں کے میں آپ کے بابا کی جگہ ہوں آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا میرا فرض ہے

وہ سمجھ جاتی ہے زویا سب بتا چکی ہے یعنی (آیت دل میں سوچتی ہے )

کچھ نہیں ہوتا پھوپا جی هو جاتا ہے اور اب تو کچھ پسند آ ہی نہیں سکتا اچھا میں جا رہی ہوں آپ آ جائیں جبران کے روم کے پاس آتے ہی اسے اندر سے جبران کی آواز آتی ہے

ارے یار تجھے پتہ ہے تیرا یار حسن پرست ہے آیت سانولی ہے بڑی عمر کی ہے اور جبکہ مونا نازک سی گوری اور پتلی سی ہے اب کہاں مونا کہاں وہ آیت بس ایک کام ہوا کے اس نے عینک لگانی چھوڑ دی ہے

وہ جو کھانے کے لئے بلانے آئی تھی اپنی تعریف کے پل سن کر دل رو پڑا تھا آیت نے کچھ سوچتے ہوے نیچے کی طرف قدم بڑھا دیے

کھانے کی ٹیبل پر اسکو اپنے پورشن کی چابی آصف صاحب تھما دیتے ہیں

بیٹا آپ کو کسی چیز کی ضرورت هو تو مجھے کہنا اوکے

جی پھوپا جی ضرور وہ کہہ کر اٹھ جاتی ہے

فاخرہ کمرے آتے ہی چیخ پڑتی ہیں آیت یہ سب کیا ہے بیٹا وہ اسکی شکل دیکھ کر کہتی ہیں

امی میں اب جل سے جلد اپنے گھر میں جانا چاہتی ہوں بس آپ بھی آئیں جلدی سے سب پیک کریں ہم صبح کا ناشتہ اپنے گھر میں کریں گے وہ اپنا سامان اٹھا کر سائیڈ کرتی اور ماں کے ساتھ مل کر سارا سامان پیک کرواتی ہے

اپنی ضرورت کی ہر چیز پر نظر ڈال کے وہ بستر میں فاخرہ کے پاس گھس جاتی ہے امی میں آج بہت خوش ہوں اور ہاں اب سے آپ یہاں آ کے کام نہیں کریں گی آپ صرف اپنا گھر سمبھالیں گی بس مجھے کچھ نہیں پتہ

فاخرہ اس کے سر میں اپنی انگلیاں پہرتی ہیں

پر بیٹا گھر چلانا آسان نہیں ہے پیسے کہاں سے آئیں گے میرے پاس کوئی بینک بیلنس نہیں ہے جو خرچ کروں وہ فکر مندی سے کہتی ہیں

امی میں آپ کو پیسوں کی کمی ہونے ہی نہیں دوں گی جاب کرو گی اور باقی آگے کا ابھی سوچا نہیں کچھ خاص بس ابھی آپ سو جائیں

وہ انکا ماتھا چوم کر سونے کے لئے آنکھ بند کرتی ہے تبھی موبائل بجنے لگتا ہے

اففف اس ٹائم کون ہے وہ ٹائم دیکھ کر سوچتی ہے اور موبائل اٹھا کے یس کر کے ماں کو اٹھا کے دیتی ہے یہ لیں آپ کے کھڑوس بھتیجے کا فون ہے اس بندے کو اتنا نہیں پتہ کے یہ سونے کا ٹائم ہے حد هو گئی بئی

چپ کرو آیت وہ اسے غصے سے آنکھیں دکھاتی ہیں

کیسے هو بیٹا فاخرہ کی محبت بھری آواز سن کے اسے اور کرنٹ لگتا ہے

مجھے تو ہر وقت ڈانٹ دیتی ہیں اور اسکو دیکھو کتنے پیار سے بیٹا بلا رہی ہیں

وہ جو سب سن چکا ہوتا ہے اپنی ہنسی قابو کر کے پہلے معذرت کرتا ہے

سوری پھوپو آپ کو اس وقت ڈسٹرب کیا وہ پاپا کو آپکا بتایا تو وہ بہت بیچن هو گئے آپ سے بات کرنے کو اسی لئے ابھی کال کرنی پڑی

فیضی ہنسی روک کے فوراً باپ کو دیکھتا ہے جو اُسی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں

ارے کوئی بات نہیں بیٹا تم معذرت نا کرو اسکی تو عادت ہے ایک گھوری اس کو ڈال کر وہ کہتی ہیں

یہ لیں پاپا سے بات کریں

السلام علیکم بھائی نم آنکھوں اور لہجے میں نمی کے ساتھ وہ سلام کرتی ہیں سونے کی کوشش میں لگی آیت ٹھٹک جاتی ہے اور مڑ کے ماں کو دیکھتی ہے

جواب دینے والے کا حال بھی کچھ انکے جیسا ہی تھا

اتنے عرصے بعد دونوں بہن بھائی بول رہے تھے وہ بات کرتے کرتے رو پڑتی ہیں فاخرہ مجھے معاف کر دو میں تم سے غافل هو گیا تھا یہ میری غلطی ہے کے آج اس گھر میں میری بہن جس حیثیت سے رہ رہی ہے وہ نا قابل برداشت ہے

تم میرے پاس آ جاؤ بس اب میں کل ہی فیضی کو بیھج رہا ہوں

وہ رو رہی ہوتی ہیں

بھائی اب یہ ممکن نہیں ہے میری بیٹی بڑی هو گئی ہے وہ نہیں مانے گی اور ویسے بھی کل سے ہم اپنے گھر میں شفٹ هو رہے ہیں

مجھ سے نا ملنے آنا بھائی یہ لوگ میری بچی چھین لیں گے وہ ہچکیوں سے رونے لگ جاتی ہے اور کال بند کر دیتی ہیں

امی بس کریں اب رونے کا کیا فائدہ ان لوگوں نے تب ہمیں سہارا نہیں دیا جب ہمیں چاہیے تھا اب ہمیں نہیں چاہیے میں خود سب کر لوں گی

وہ ماں کو گلے لگا کے رو پڑتی ہے تھوڑی دیر میں ماں کو سلا کے وہ بھی سونے کو لیٹنے لگتی ہے تبھی موبائل کی میسج ٹون بجتی ہے

”سوری آیت پاپا کی طرف سے پھوپو سے کہہ دیجیے گا ہم کل آئیں گے”’

مسڑ فیض آپ کو یا آپ کے پاپا کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں اپنی ماں کو لے کر اس شہر سے ہی چلی جاؤں گی آیندہ نا ہم سے ملنے کی کوشش کرنا اور نا ہی اپنا حق جتانے کی میری ماں سے بات کرتے هو بس اتنا ہی کافی ہے

اللّه حافظ میسج سینڈ کر کے وہ غصے سے موبائل بند کر کے سو جاتی ہے

فیض کال کرتا ہے پر موبائل بند ہوتا ہے وہ منہ میں بڑبڑاتا ہے بہت ضدی لڑکی هو آیت اور موبائل بند کر کے رکھ دیتا ہے سارے دن کی۔ تھکن سے جلد ہی نیند غالب آ جاتی ہے

💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚

صبح صبح نماز پڑھ کے وہ کواٹر میں آتی ہے کرم چچا آپ میرا سامان راکھوا دیں میرے ساتھ وہ آ کے کرم خان سے کہتی ہے

اچھا بیٹا ہم بس ابھی آتا ہے تہم چلو وہ اپنی میٹھی اردو میں بول کر جانے کا کہتا ہے

اپنے گھر کا گیٹ کھول کر وہ اندر کی طرف بڑھتی ہے سامنے کچن کی طرف نظر جاتی ہے تو اپنا بچپن یاد آ جاتا ہےفاخرہ جو اسکو چپس بنا کے دیتی ہیں کے وہ کھا لے پر آج اسے پھر ضد آئی ہوتی ہے

امی سب کے پاپا ہیں میرے پاپا کیوں نہیں ہیں

دیکھیں حرا آپی زویا اور جبران کے پاپا انکو۔ روز لینے آتے ہیں سب پوچھتے ہیں میرے پاپا کا آپ ان سے کہیں نا وہ مجھے لینے آئیں

پانچ سال کی آیت اپنی ماں سے ایک ہی بات کی تکرار کر رہی ہوتی ہے

بیٹا آپکے پاپا بہت دور گئے ہیں ابھی نہیں آ سکتے جب آپ بڑی هو جاؤ گی تب آئیں گے اور بہت سارے گفٹس لے کے آئیں گے وہ اسکو بہلاتی ہیں

سچ امی وہ آئیں گے نا پھر میں اپنی سب فرنڈس کو دکھاؤں گی اپنے پاپا آیت خوشی خوشی چپس کھانے میں مصروف هو جاتی ہے

بچپن کے دن یاد کر کے اسکی آنکھ میں آنسوں آ جاتے ہیں

وہ کمرے کی طرف بڑھتی ہے اسکا روم آج بھی ویسا ہی تھا پھوپو کا ارادہ تو ہمیشہ گھر بند کر کے رکھنے کا تھا پر آصف صاحب کی حمایت پر ہی ہر ہفتے اس گھر کی مکمل صفائی ہوتی تھی تبھی کل ہی صفائی ہوئی اور آج وہ یہاں سامان لے کے آ گئی بے بی پنک اور وائٹ کلر کے کومبینشن سے مزین اسکا یہ روم وائٹ ہی پردے اس پر پنک جہالر انکو اور بھی خوبصورت بنا رہی تھی

وہ اپنے بیڈ پر آ کے بیٹھ جاتی ہے امی نے بتایا تھا اس کے پاپا نے بہت محبت سے بنوایا تھا سنگل بیڈ پر بیٹھ کر وہ اپنے اپر ضبط کرتی ہے

پاپا آپ کیوں چلے گئے دیکھیں آج آپ کی بہن کی وجہ سے ہم کس حال میں ہیں پاپا ضبط ٹوٹ چکا تھا وہ زور زور سے روتی جاتی ہے اور اپنے پاپا کو پکارتی ہے پر کچھ پکار ایسی ہوتی ہیں جن کو ہمارے علاوہ صرف اللّه سنتا اور سمجھتا ہے

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کرم چچا یار آیت کہاں ہے صبح سے نہیں۔ دکھائی دی

صبح ہوتے ہی سب کو پہلی آواز ہر جگا سے آیت کی ہی آتی تھی کبھی کچھ توڑ دینے پر پھوپو کی صلوات سنتی تو کبھی زور زور سے برتن پٹخنے پر امی کی ڈانٹ سننے کو ملتی

آصف صاحب کرم چچا سے پوچھ ہی رہے تھے اس نے آتے ہی سلام کیا

السلام علیکم پھوپا جی صبح بخیر

وعلیکم السلام بیٹا کہاں تھی صبح سے چاہے بھی نہیں ملی آج تو ہمیں وہ نا چاہتے ہوے بھی شکوہ کرتے ہیں

ارے سوری میں تو بس اپنے گھر گئی تھی وہ مسکرا دیتی ہے آپ بیٹھیں ابھی دو منٹ میں آتی ہوں

کرم چچا آپ سارا سامان لے جائیں میں آتی ہوں وہ کہہ کر کچن میں چلی۔ جاتی ہے

کرم چچا جانے لگتے ہیں تو آصف صاحب پیچھے سے آواز دیتے ہیں

کرم خان بات سنیں

جی صاحب حکم کریں وہ بہت ہی تعبدار ہوتے ہیں

خان جب جب اس گھر کا راشن لینے جاؤ آیت کے لئے بھی وہی راشن لنا پیسے مجھ سے لینا اور آیت کو نا بتانا

اور اپنی بیٹی سے کہنا آوٹ جب ٹک۔ گھر هو صفائی کو نا جائے وہ جیسے ہی جاب پر جائے اسکے گھر جہ کے کام کر آئے

جی صاحب ٹھیک ہے اور کوئی حکم خان بابا پوچھتے ہیں

نہیں آپ جائیں انکو جانے کا بول کر خود بھی کچن کی طرف رخ کرتے ہیں

تبھی مونا بھی آ جاتی ہیلو انکل گڈ مارننگ وہ ان سے ہاتھ ملاتی ہے

آیت اسکو دیکھ کر منہ بناتی ہے آصف صاحب دیکھ کر مسکراتے ہیں

صبح صبح نماز پڑھ کے وہ کواٹر میں آتی ہے کرم چچا آپ میرا سامان راکھوا دیں میرے ساتھ وہ آ کے کرم خان سے کہتی ہے

اچھا بیٹا ہم بس ابھی آتا ہے تہم چلو وہ اپنی میٹھی اردو میں بول کر جانے کا کہتا ہے

اپنے گھر کا گیٹ کھول کر وہ اندر کی طرف بڑھتی ہے سامنے کچن کی طرف نظر جاتی ہے تو اپنا بچپن یاد آ جاتا ہےفاخرہ جو اسکو چپس بنا کے دیتی ہیں کے وہ کھا لے پر آج اسے پھر ضد آئی ہوتی ہے

امی سب کے پاپا ہیں میرے پاپا کیوں نہیں ہیں

دیکھیں حرا آپی زویا اور جبران کے پاپا انکو۔ روز لینے آتے ہیں سب پوچھتے ہیں میرے پاپا کا آپ ان سے کہیں نا وہ مجھے لینے آئیں

پانچ سال کی آیت اپنی ماں سے ایک ہی بات کی تکرار کر رہی ہوتی ہے

بیٹا آپکے پاپا بہت دور گئے ہیں ابھی نہیں آ سکتے جب آپ بڑی هو جاؤ گی تب آئیں گے اور بہت سارے گفٹس لے کے آئیں گے وہ اسکو بہلاتی ہیں

سچ امی وہ آئیں گے نا پھر میں اپنی سب فرنڈس کو دکھاؤں گی اپنے پاپا آیت خوشی خوشی چپس کھانے میں مصروف هو جاتی ہے

بچپن کے دن یاد کر کے اسکی آنکھ میں آنسوں آ جاتے ہیں

وہ کمرے کی طرف بڑھتی ہے اسکا روم آج بھی ویسا ہی تھا پھوپو کا ارادہ تو ہمیشہ گھر بند کر کے رکھنے کا تھا پر آصف صاحب کی حمایت پر ہی ہر ہفتے اس گھر کی مکمل صفائی ہوتی تھی تبھی کل ہی صفائی ہوئی اور آج وہ یہاں سامان لے کے آ گئی بے بی پنک اور وائٹ کلر کے کومبینشن سے مزین اسکا یہ روم وائٹ ہی پردے اس پر پنک جہالر انکو اور بھی خوبصورت بنا رہی تھی

وہ اپنے بیڈ پر آ کے بیٹھ جاتی ہے امی نے بتایا تھا اس کے پاپا نے بہت محبت سے بنوایا تھا سنگل بیڈ پر بیٹھ کر وہ اپنے اپر ضبط کرتی ہے

پاپا آپ کیوں چلے گئے دیکھیں آج آپ کی بہن کی وجہ سے ہم کس حال میں ہیں پاپا ضبط ٹوٹ چکا تھا وہ زور زور سے روتی جاتی ہے اور اپنے پاپا کو پکارتی ہے پر کچھ پکار ایسی ہوتی ہیں جن کو ہمارے علاوہ صرف اللّه سنتا اور سمجھتا ہے

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کرم چچا یار آیت کہاں ہے صبح سے نہیں۔ دکھائی دی

صبح ہوتے ہی سب کو پہلی آواز ہر جگا سے آیت کی ہی آتی تھی کبھی کچھ توڑ دینے پر پھوپو کی صلوات سنتی تو کبھی زور زور سے برتن پٹخنے پر امی کی ڈانٹ سننے کو ملتی

آصف صاحب کرم چچا سے پوچھ ہی رہے تھے اس نے آتے ہی سلام کیا

السلام علیکم پھوپا جی صبح بخیر

وعلیکم السلام بیٹا کہاں تھی صبح سے چاہے بھی نہیں ملی آج تو ہمیں وہ نا چاہتے ہوے بھی شکوہ کرتے ہیں

ارے سوری میں تو بس اپنے گھر گئی تھی وہ مسکرا دیتی ہے آپ بیٹھیں ابھی دو منٹ میں آتی ہوں

کرم چچا آپ سارا سامان لے جائیں میں آتی ہوں وہ کہہ کر کچن میں چلی۔ جاتی ہے

کرم چچا جانے لگتے ہیں تو آصف صاحب پیچھے سے آواز دیتے ہیں

کرم خان بات سنیں

جی صاحب حکم کریں وہ بہت ہی تعبدار ہوتے ہیں

خان جب جب اس گھر کا راشن لینے جاؤ آیت کے لئے بھی وہی راشن لنا پیسے مجھ سے لینا اور آیت کو نا بتانا

اور اپنی بیٹی سے کہنا آوٹ جب ٹک۔ گھر هو صفائی کو نا جائے وہ جیسے ہی جاب پر جائے اسکے گھر جہ کے کام کر آئے

جی صاحب ٹھیک ہے اور کوئی حکم خان بابا پوچھتے ہیں

نہیں آپ جائیں انکو جانے کا بول کر خود بھی کچن کی طرف رخ کرتے ہیں

تبھی مونا بھی آ جاتی ہیلو انکل گڈ مارننگ وہ ان سے ہاتھ ملاتی ہے

آیت اسکو دیکھ کر منہ بناتی ہے آصف صاحب دیکھ کر مسکراتے ہیں

سنو میرے لئے مینگو جوس بنا کے کمرے میں لے آو وہ حکم دے کے جانے لگتی ہے تو آصف صاحب بول پڑتے ہیں بیٹا نورا آ جائے وہ بنا دے گی یہ اس گھر کی بیٹی ہے کام والی نہیں ہے اس لئے آپ ویٹ کرو آیت جو انکے لئے چاہے بنا کت ٹیبل پر راکھ رہی تھی تشکر سے اسکی آنکھیں پانی سے بھر گئی

بیٹا آپ جاؤ اپنے گھر جہ کے ماں کا ہاتھ بٹاو آیت وہاں سے نکال کر اپنے گھر کا رخ کرتی ہے اور وہ پاؤں پٹخ کر غصے سے اپنی پھوپو کے روم کی طرف بڑھ جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *