Chand Si Bahu by Khaak e Makkah NovelR50683 Chand Si Bahu (Episode 15)
Rate this Novel
Chand Si Bahu (Episode 15)
Chand Si Bahu by Khaak e Makkah
بچپن سے زینت کی طرف سے سخت رویہ دیکھ کر فاخرہ جان گئی تھی کے وہ کبھی آیت کو بہو نہیں بناۓ گی زینت کے منفی رویہ سے آیت کے اندر ایک خلا پیدا ھوا اس نے سوچ لیا سبھی پھوپو ایسی ہوتی ہے اس نے زینت کے متعلق منفی سوچ قائم رکھی عید یا دوسرے تہوار آتے زینت اپنے بچوں کی آگے بڑھ بڑھ لے شاپنگ کرتی اور فاخرہ اور آیت کو جو مل جائے سو مل جائے فاخرہ نے کبھی شکوہ نا کیا
آصف آیت کا بہت خیال رکھتے تھے مگر فاخرہ کے سخت لہجے اور روکنے سے وہ پیچھے ہٹ گئے پر کبھی غافل نا ہوۓ
ایک بار پھر اللّه نے زینت کو ماں کے عہدے پر فیض کیا اب کی بار اسکو جڑواں بچھے بیٹا بیٹی ہوۓ زینت نے پھر نا شکری کی بیٹی کو پھر دھتکار دیا بیٹے کر ہر ناز اٹھاتی اللّه نے کچھ عرصے بعد اسکا بیٹا ہی لے لیا
اللّه کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا یہ انسان ہے جو انسان کی حق تلفی بھی کرتا ہے اور دھتکار دیتا ہے
اللّه نے بیٹے کی نعمت لے کر اسکی رحمت کو زندگی بخش دی پر زینت نے زویا کا کوئی کام نا کیا اسے زیادہ تر فاخرہ نے ہی سمبھالا تھا یا پھر باپ نے زویا باپ سے اٹیچ تھی زینت نے زویا کی ذمہ داری نہیں لی
آصف اور فاخرہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کے زویا کی تربیت اچھی تھی
زویا آیت کی نا صرف عزت کرتی بلکہ محبت بھی کرتی تھی وہ اکثر زینت سے لڑ جایا کرتی تھی زینت تب بھی فاخرہ کو طعنے دیتی تبھی فاخرہ اسکو سمجھاتی تھی کے ماں ہے ایسے نہیں کرتے
بچے بڑے ہوۓ تو آیت نے صرف ایک نام سنا جبران کا مگر وہ حسن پرست شوخ اور دولت کا شیدائی تھا
آصف صاحب نے آیت کی بات جبران سے خود پکی کی تھی
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
حال ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
وہاں بیٹھے ہر شخص کی آنکھ نم تھی آیت بار بار اپنی سرخ آنکھیں صاف کر رہی تھی
تبھی آصف صاحب سب سے معذرت کرتے ہوۓ آیت سے اکیلے میں بات کرنے کا کہتے ہیں منال آیت کو روم میں جانے کا کہتی ہے
آیت اپنے بابا کو روم میں لے جاؤ
آیت نم آنکھیں کھول کے انکو دیکھتی ہے کوئی شک نہیں تھا کے آصف صاحب نے ہمیشہ ایک باپ کا فرض پورا کیا تھا اور تبھی زینت لڑتی



























امی کھانا کھا لیں زویا انکے پاس آ کے کہتی ٹرے بیڈ پر رکھتی ہے
آیت آ گئی گھر کیا زینت ایک دن میں اتنی بیمار لگ رہی تھی زویا نے حیرت سے ماں کو دیکھا جس کا نام نہیں سننا پسند تھا آج بیٹی ہے تو اتنا دکھ زویا سوچ کر رہ گئی
امی پاپا گئے ہیں اب آیت پر ہے وہ آتی ہے یا نہیں زویا کہہ کر موبائل پر کال ملانے لگی





















بیٹا میں جانتا ھوں۔ میں تمہاری زندگی میں فاخرہ اور عدیل کی کمی پوری نہیں کر سکتا پر میں تمہیں یہاں نہیں چھوڑ سکتا اور نا ہی تم اس گھر واپس جانا چاہو گی ہے نا آصف صاحب نے بول کے اسکو دیکھا اس نے بھی نفی میں سر ہلایا
بیٹا میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم اسکو مانو گی تمہاری زندگی میں اس وقت بس اسی ایک رشتے کی ضرورت ہے
تم تم فیضی سے آج ابھی نکاح کر لو آصف صاحب نے بول کے سر جھکا دیا
آیت کو لگا وہ کسی نے بھاری پتھر اسکو مار دیا جس سے زخم اوپر نہیں اندر لگے ھوں
میں میں نہیں کر سکتی شادی انکل آیت ڈرتے ڈرتے کہتی ہے
اور نا ہی اس گھر جاؤں گی آپ جا کے منا کر دیں انکو
آیت سر جھکا دیتی ہے
آصف صاحب کچھ کہتے کے فیضی اندر آ گیا
میں جانتا تھا آپکا یہی جواب ہی گا تبھی کہا تھا ان محترمہ سے نا پوچھیں پر سنی نہیں آپ نے فیضی انکی طرف دیکھ کر آیت سے منہ پھیر لیتا ہے
آیت جھٹکے سے اٹھتی ہے ہاں تو کیا کروں گی آپ سے شادی کر کے کون سا ثواب ملے گا اور کون سی رشتے داری نبھاوں میں آپ کے ساتھ جب انکل نے کہا تھا میں جا رہا ھوں آیت کو رکھ لو تب یاد ہے کیا کہا تھا
(منہ بگاڑتے ہوۓ)سوری انکل میں آیت کو کس رشتے سے رکھوں ساتھ ہاں یہی کہا تھا نا آیت آج کافی دن بعد اپنی پہلے والی ٹون میں بولی تھی
جہاں فیضی کو ہنسی آ رہی تھی آصف صاحب اور دروازے میں کھڑی منال جو بلانے آئی تھی ہنس پڑی آیت تم ایسے لڑتی هو بھائی سے توبہ بھائی آپ تو گئے بس
بھابی آپ اور انکل انکا سائیڈ نا لیں میرا لیں بس آیت دونوں کو دیکھتی ہے جو ہنس رہے تھے زور سے
آیت دونوں کو وارن کرتی ہے
دونوں چپ هو جاتے ہیں تبھی فیصل آتا ہے
یار سب آ گاۓ ہیں آپ لوگ آ جائیں تاکہ نکاح شروع هو
آیت آصف صاحب کی طرف دیکھتی ہے اور نا کرتی ہے آصف صاحب اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیتے ہیں
جانے دیں انکل آپ پتھر سے سر مار رہے ہیں یہ نہیں سنے گی کسی کی اپنے آگے یہاں تک کے پھوپو کی بھی نہیں سنے گی کیوں کہ وہ چاہتی تھی میں اس پاگل سے شادی کروں فیضی کہتا ھوا منہ پھیر کر جاتا ھوا فیصل کو آنکھ مارتا ہے
دونوں ہنستے ہوۓ باہر آ جاتے ہیں
تو پاگل ہے کیا آیت نے اگر منا کر دیا تو۔ کیا عزت رہے گی سب فرنڈس آئے ہیں تیرے فیصل اس کی طرف دیکھ کر کہتا
میری کون سی بارات تھی آج جو سب کو بلا لیا فیضی گھوری ڈالتا ہے
یار مطلب چار لوگ بلائیں ہیں فیصل ہنستا ہے
فکر نا کر پیچھے دیکھ فیضی کہتا ہے
آیت آ رہی ہے
ہاں ابے آ رہی ہے فیصل حیرت سے اسکو دیکھتا
غصے میں ہے تیز تیز چل رہی ہے فیضی پھر پوچھتا
ہاں اور راستے میں ٹیبل کو کک کیا
فیضی مسکراتا ہے ہاہا وہ جھلی ہے بس
تبھی وہ اسکے سامنے آتی ہے
زندگی حرام کر دونگی آپ کی دیکھنا آپ ہممم
کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی
تیری خیر هو بیٹا فیصل کہہ کر ہنستا آگے بڑھ گیا















اتنا بڑا فیصلہ ہے ماں تم ساتھ نہیں هو قبول ہے کہتے ہوۓ آیت روتی ہوئی شکوہ کرتی ہے
اور اس الو کے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو دیکھنا کیسا مزہ چکھاوں گی
ماموں کا بیٹا ![]()
![]()
![]()
کھانے سے فارغ هو فیضی چلنے کا کہتا ہے
آصف صاحب آیت کو چلنے کا کہتے ہیں
انکل ابھی آیت منہ بناتی ہے تبھی فیضی اسکو ساتھ لے جانے سے معذرت کرتا ہے
پر بیٹا آیت یہاں کیسے رہ سکتی ہے اب آصف صاحب پوچھتے ہیں
انکل لوگ نہیں جانتے حقیقت کیا ہے آپ کی آپ کے خاندان کی اس معاشرے میں عزت ہے اور جیسے باقی بیٹیاں اس گھر کی عزت سے رخصت ہوئی ہیں ویسے ہی آیت کا حق ہے اپنے گھر سے عزت کے ساتھ رخصت هو
میں تو لے جاؤں گا ساتھ پر یہ معاشرہ کل کو آیت کو دکوں نہیں لینے دے گا اس لئے کل کوئی کوئی بات ہمارے لئے ناسور بنے ہم آج ہی اسکو سہی طریقے سے لے کر چلتے ہیں
فیضی کی بات سے سبھی خوش ہوتے ہیں
ہمم امپریس کرنے چلے ہیں آیت منہ بسور لیتی ہے
بہت مشکل سے منا کے فیضی اور آصف صاحب آیت کو لے کر آصف ہاؤس کی طرف روانہ ہوتے ہیں راستے میں آیت چار دن پہلے والی رات سوچ سوچ کے رو رہی تھی کے اچانک بارش شروع هو گئی
گاڑی رکی وہ نیچے اتری آیت چھتری لے لو فیضی نے پکارا وہ مڑی فیضی میں اُس رات اِس بارش سے زیادہ تیز طوفانی بارش میں اکیلی تھی میں اندر سے ڈر اور خوف میں تھی پتہ ہے کتنا ڈر تھا آنکھ سے آنسو آنا بند هو گیے تھے پھر پھر فیصل بھائی آئے اور مجھے لگا کے خیر اور پھر مجھے ہوش نہیں رہا میں کب کیسے وہاں پوھنچی ۔۔۔وہ کہہ کر بھیگتی ہوئی اندر بڑھ گئی
دروازہ نوری نے کھولا اور چیخ پڑی آیت ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
وہ اسکے گلے لگ گئی اسی وقت زینت اور زویا بھی نیچے آ گئی
آیت آیت میری بیٹی زینت آیت کی طرف بڑھتی ہیں پر آیت ہاتھ سے روک دیتی ہے
بیٹی کا مطلب بھی پتہ ہے آپ کو آپ نے تو۔ رات ک اندھیرے میں اپنی ہی جوان بیٹی گھر سے نکال دی کیسی ماں ہیں آپ
مانا کے آپ نہیں جانتی تھی کے حقیقت کیا ہے پر یہ تو پتہ تھا نا آپکے بھائی کی بیٹی ھوں پر نہیں آپکے لئے میں بس فاخرہ کی بیٹی تھی جس بس فاخرہ کی آپ کو ذرا احساس نا ھوا اس طوفانی بارش میں میں کہاں جاؤں گی چار دن سے آپ کو احساس نا ھوا یہ تو انکل اور فیضی ہیں جنہوں نے ڈھونڈا مجھے ورنہ اپنے نے تو ضرورت ہی محسوس نا کی تھی اس کی آج آپ کو پتہ چلا ارے یہ تو آپ کی ہی بیٹی نکلی جسے آپ نے پیدا ہی نہیں کرنا چاہا تھا ایک ان چاہی لڑکی ھوں میں جس کو آپ نے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا اب آج اتنے سال بعد یہ محبت یہ پیار کیوں ہاں بولیں کیوں آیت چیخ پڑی تھی
آیت پانی پیو نوری آگے بڑھ لے پانی دیتی اور کمرے میں چلنے کا کہتی ہے پر آیت کی نظر جبران پر پڑ گئی تھی
اور تم تم مرد هو تم خود کو مرد کہتے هو مرد دن کی روشنی میں محبت کرتے ہیں رات میں نہیں اور مرد وہی اچھا ہوتا ہے جو عورت کو اسکا مقام دے محبت دے عزت دے تم محبت کے دعوے دار تھے تم نے کیا دیا مجھے میں بھی اس گھر کی بیٹی تھی فاخرہ کی ہی سہی پر بیٹی تھی نا
مجھے تم نے صرف صرف اور صرف ذلت دلوائی رسوا کیا خدا تمہیں معاف نہیں کرے گا تم نے میرے صاف شفاف کردار پر انگلی اٹھائی ہے
آیت کہتے ہی اپنے روم چلی گئی
نوری تم اسکے ساتھ جاؤ اور دروازے اچھے سے بند کرنا کوئی اندر نا جا سکے آصف صاحب جبران کی طرف دیکھتے ہوۓ کہتے ہیں
آیت آج بہت دنوں بعد پر سکون سوئی تھی آج اسکے سر پر اسکے باپ کا شفقت بھرا ہاتھ تھا وہ جس ساۓ کے لئے ترستی آ رہی تھی اچانک طوفان تھما تھا اسکا سایہ وہ لمس محبت بھرا آج اس مے محسوس کیا تھا
کون کہتا ہے باپ ضروری نہیں یہ باپ بھی ماں کی طرح ضروری ہوتے ہیں اگر ماں کے بنا گھر جنت نہیں تو باپ کے بنا بیٹیاں بے سایہ ہیں

































صبح اتنی حسین ہے یا مجھے لگ رہی ہے وہ نوری کو دیکھ کر کہتی ہے
وہ جو ناشتہ لے کر آئی تھی
منہ بنا کے کہتی ہے لازمی بات ہے آپکا کل ہی نکاح ھوا ہے اور آج رخصتی ہے حسین تو هو گی صبح
نوری کی بات سن کے وہ ایک اسکو غصے سے دیکھتی ہے کیا کہا کس کی رخصتی ہاں
تمہاری اور کس کی وہ صاحب نے کہا کے آج تمہاری رخصتی ہے نیچے سب تیاری کر رہے زینت بی بی نے غصہ کیا صاحب نے انکو چپ کروا دیا
اب تم جلدی ناشتہ کرو بس باقی سب تیار ہے
ناشتے کے بعد وہ نیچے آئی کے آصف صاحب سے بات کرے تبھی زویا خوشی خوشی آئی واہ آیت آپی آپ کو بہت مبارک هو نکاح کی
خیر مبارک آیت روکھے پن سے کہتی ہے
اب۔ مجھ سے کیا ناراضگی ہے آپی جان میں تو خود فاخرہ چچی کی تربیت کا نتیجہ ھوں یار زویا اسکے گلے میں ہاتھ ڈال دیتی ہے اور چکر لگاتی ہے
میں تو خوب ہلا گلا کرنا چاہتی تھی پاپا نے منا کر دیا کہتے سادگی سے کرنی ہے بس
تم کہو نا انکو آیت آپی زویا اس سے کہتی ہے تبھی لالا کوئی پیکٹ لا کے دیتا ہے آیت باجی یہ تمہارے لئے آیا ہے
کیا ہے اس میں لالا آیت لے کر پوچھتی ساتھ کھولتی ہے
واؤ شادی کا جوڑا اتنا خوبصورت زویا زور سے چیختی ہے
میرون کلر کا ویلوٹ کا لونگ فورک اور اس پر سفید نگوں کا کام اور بھاری کام دار دوپٹہ انتہائی خوبصورت لگ رہا تھا ساتھ سب کچھ میچینگ کا تھا
سب کام جلدی جلدی میں هو رہے تھے جبران اب سب کے سامنے آیت کو نڈر هو کر دیکھتا رہا آیت نے نوٹس نا لیا
ہاے آیت باجی آپکے ہسبنڈ کتنے خوبصورت ہیں نا نوری اسکو دیکھ کر کہتی ہے
اچھا تمہیں کیوں لگا اچھا آیت کہتی ہے
دیکھیں نا جب جب آپ کو ہیلپ کو ضرورت تھی وہ آپکے ساتھ کھڑے رہے ہے نا اور دیکھنا وہ آپ سے محبت بھی کرتے ھوں گے
اب کی بار پانی پیتی آیت کو ٹھسکا لگا پاگل هو کیا محبت اور وہ کھڑوس ۔ کہیں کر ہی نا لے
آیت جل بھن کے کہتی جائے نماز اٹھا کے لے آئی ۔
اور نماز کے لئے کھڑی ہوئی نوری نماز پڑھتا دیکھ کر باہر کام کو چلی گئی
جبران چپ چاپ قدم۔ اٹھاتا آیا اور بیٹھ گیا جب نماز پڑھ۔ کے سلام پھیرا لیتی ہے
سامنے ہی جبران ہوگا اسکو یقین تھا دیکھ رہا ہے اب
کے جبران اسکو
سب کام جلدی جلدی میں هو رہے تھے جبران اب سب کے سامنے آیت کو نڈر هو کر دیکھتا رہا آیت نے نوٹس نا لیا
ہاے آیت باجی آپکے ہسبنڈ کتنے خوبصورت ہیں نا نوری اسکو دیکھ کر کہتی ہے
اچھا تمہیں کیوں لگا اچھا آیت کہتی ہے
دیکھیں نا جب جب آپ کو ہیلپ کو ضرورت تھی وہ آپکے ساتھ کھڑے رہے ہے نا اور دیکھنا وہ آپ سے محبت بھی کرتے ھوں گے
اب کی بار پانی پیتی آیت کو ٹھسکا لگا پاگل هو کیا محبت اور وہ کھڑوس ۔ کہیں کر ہی نا لے
آیت جل بھن کے کہتی جائے نماز اٹھا کے لے آئی ۔
اور نماز کے لئے کھڑی ہوئی نوری نماز پڑھتا دیکھ کر باہر کام کو چلی گئی
جبران چپ چاپ قدم۔ اٹھاتا آیا اور بیٹھ گیا
وہ جب نماز پڑھ کے سلام پھیرتی ہے
سامنے ران تھا وہ اسکو نظر انداز کر کے اٹھ جاتی ہے تبھی وہ راستے میں حائل ہوتا ہے رکو آیت میں میں شرمندہ ھوں میں نے غلط کیا مگر میں سچ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ھوں
بس کریں جبران بہت ھوا شادی کو کھیل نہیں کب اس سے کب کس سے میری شادی هو چکی ہے
یہاں آنا رخصت ہونا بس ایک فارمیلٹی ہے بس
اور میں اب بھی وہی کالی سی آیت ھوں جیسے دیکھنے کو دل نا کرے جو شادی کے قابل نہیں آج آیت اسکی باتیں اسکے منہ پر مار رہی تھی
آپ جانتے ہیں ہمارے نبی ﷺ ننے محبت کادرس دیا
دنیا میں آج ہر کوئی مسّلم جان دیتے ہیں تو غیر مسّلم بھی محبت کرتے ہیں اور روز حشر ہم انکے ساتھ اٹھاۓ جائیں گے جن سے ہم دنیا میں محبت کریں گے اور میں نے اپنے نبی ﷺ سے محبت کی ہے آپ سے محبت نے مجھے توڑا انکی محبت نے جوڑ دیا
آپ کو یاد هو گا حضرت بلالؓ حبشی تھے آقا کریم ﷺ نے انکو خرید کر آزاد کر دیا وہ آقا کریم سے عشق کرتے تھے آقا کریم نے یہ نہیں دیکھا کالا ہے گورا ہے یا حبشی ہے انکو اپنے ہر غلام دوست اور محبت کرنے والے سے محبت تھی آج ہم اپنے آپ کو فخر سے امت محمدی کہتے تو ہیں پر آقا کریم کی تعلیمات بھول گئے ہیں بھول گئے ہیں انکا آخری خطبہ کیا تھا کسی کو کوئی فضیلت حاصل نہیں سواۓ تقویٰ کے اور یہ لوگ جو زمین پر خدا بنے بیٹھے ہیں یہ کہتے ہیں کے ہم چاند سے بہو لائیں گے کیا ہمارا دل نہیں اگر ہم سانولی رنگت کے ہیں تو ہمارا کیا قصور ہم تو راضی ہیں اس شکل میں کیوں کے یہ اللّه نے بنائی ہے اور اللّه اپنے بندوں کے لئے جو پسند کرتا ہے وہی دیتا ہے ہمیں فخر ہے اللّه کو ہم سانولے پسند ہیں اب باقی کوئی پسند کرے یا نا کرے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا
وہ جائے نماز ہاتھ میں لے کر نکل جاتی ہے جبران کو لگتا ہے وہ بہت خوبصورت لڑکی سے محروم هو گیا اس نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے وہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے کتنی آسانی سے وہ سب کہہ گئی جو ہر وقت اسے دیکھ کر شرماتی تھی آج بول رہی تھی تو لگ رہا تھا پھول ہوں پر پھول میں چھپے کانٹے بہت زور سے چبھے تھے
