Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 07)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

3 گھنٹے قبل

آیت آپ بی جان اور فیضی کے ساتھ اسکی کار میں آ جانا بیٹا میں ذرا جلدی۔ نکل رہی ھوں گھر جا کے۔ مونا کے ویلکم کی تیاری بھی دیکھنی ہے

فاخرہ آیت کو سمجھاتی ہیں جو بار بار انکے۔ ساتھ جانے کی ضد کر رہی تھی

امی آپ اکیلے کیسے کریں گی سب میں چلتی ھوں نا

آیت بضد تھی جانے پر تبھی زینت آصف صاحب کے ساتھ آ جاتی ہیں

تم دونوں ماں بیٹی کی باتیں ختم هو گئی ھوں تو چلیں رخصتی کا ٹائم هو گیا ہے اب وہ کہہ کر چلی جاتی ہیں

امی آپ خیال رکھنا اپنا پلیز زیادہ کام نا کرنا آیت ماں کے گلے لگ جاتی ہے

بیٹا تم ایسے بول رہی هو جیسے میں تمہیں چھوڑ کے جا رہی ھوں۔

چلو تھوڑی دیر میں آ هی جاؤ گی اور ہاں بیٹا فیضی سے تمیز سے بات کیا کرو

فاخرہ آیت کو۔ نصیحت کر رہی تھی دونوں ماں بیٹی باہر چلی آئی فاخرہ کار میں بیٹھی اور گیٹ عبور کر گئی

🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀
🍁
🍀

لالا تم جلدی سے مٹھائی پلیٹ میں رکھو

نوری جلدی جلدی پھول سجاؤ بیٹا بس آنے والے ہیں وہ لوگ

فاخرہ سب کو کام کی ھدایت کر رہی تھی

بھاگ ڈور میں دوائی تو لی ہی نہیں ابھی فاخرہ سوچ ہی رہی ہوتی ہیں کہ۔۔تبھی باہر شور مچ جاتا ہے برات آ چکی ہوتی ہے

وہ جلدی سے اپنا سر دباتی ہوئی باہر دروازے کی طرف بڑھ جاتی ہیں اور انکو خوشی خوشی ویلکم کرتی ہیں

مگر سر درد بڑھنے لگتا ہے

پھول نچھاور کرتے ہوۓ نوری زور زور سے پھول پھنکتی ہے

ہممم سوکھی سی لے آیا کہاں ہماری آیت کہاں یہ چوزی 🌹🌹🌹🌹🌹

ابھی وہ ہی رہی ہوتی ہے لے زور سے پھنکنے پر پھول حرا کے منہ پر جا لگتا ہے

تمیز نہیں ہے نوری کیسے پھنک رہی هو اسکے زورسے بولنے پر سبھی اسکی طرف متوجہ ہوتے ہیں

فاخرہ ایک دم اس کی طرف بڑھ کے سوری کرتی ہیں اور نوری کو گھور کے دیکھتی ہیں

بیٹا میں معافی مانگتی ھوں بچی ہے معاف کر دو

آپ ہی نے سر چڑھا رکھا ہے یہ نوکر ہیں ہمارے کوئی رانی صاحبہ نہیں ہے یہ

حرا غصے میں بولتی ہے اور اگئی بڑھتی ہے

تبھی سر درد کی وجہ سے فاخرہ کو چکر آتا ہے اور وہ گرنے والی ہوتی ہے کے آصف انکو سہارا دیتے ہوے بیٹھا دیتے ہیں

زینت سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا

آصف فاخرہ زندہ ہے مر نہیں گئی جو۔ آپ ایسے تھام کر بیٹھ گئے ہیں چھوڑیں ان لوگوں کے پاس کام نا کرنے کے بہت بہانے ہیں

اور ویسے بھی فاخرہ کا بس چلے تو یہ آپ کو مجھ چھین لے

فاخرہ سن ک حیرت سے بولتی ہےیہ کیا کہہ رہی هو زینت میں ایسا کیوں کرنے لگی

بس بس ڈرامے بند کرو بہت اچھے سے جانتی ھوں۔ تم کو

وہ ہاتھ کے اشارے۔سے۔ منا کرتی منہ پھیر لیتی ہے

فاخرہ کا صدمے سے برا حال هو جاتا ایک تو سر درد اپر سے ایسی باتیں وہ اپنے پورشن کی طرف بڑھتی ہی ہیں مگر دل اور دماغ آج دغا دے جاتے ہیں

وہ کبھی نا اٹھنے کے لئے گر جاتی ہیں

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

نا زندگی وفا کرتی ہے نا بے وفا ہوتی ہے وہ تو کُن کی محتاج ہوتی ہے اور نا محبت ہر ایک کو ملتی کیوں کے محبت اللّه کا خاص انعام ہے جو سب کے حصے میں نہیں آتا اور نا ہی سب اس کو سمبھال سکتے ہیں

کچھ رشتے محبت کی بنیاد پر قائم ضرور ہوتے ہیں لیکن اگر اس میں یک طرفہ بھی خالص پن نا هو وہ بے بنیاد ہوتے ہیں

فاخرہ کی زندگی بھی ایسی ہی تھی

جس سے محبت کی وہ نا ملا جس سے شادی کی اس نے وفا نا کی جن سے وفا نبھائی انکی کڑوی باتیں سن کر موت ترجیح دی اور سب چھوڑ کے چلی گئی

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

بیٹیاں سوگوار نہیں لاوارث هو جاتی ہیں جب ماں نا هو آیت نے 3 دن بعد آج لب کھولے تھے

وہ تین دن سے اسی جگہ بیٹھی تھی جہاں اسکی ماں کو کفن میں اس نے دیکھا تھا

نا چیخ نکلی نا کوئی آواز نا کوئی آنسو پھر بھی ماں کو رخصت کر دیا

آیت کھانا کھا لو بیٹا آصف صاحب نے اس کے پاس بیٹھ کے اسکی طرف کھانا کیا

امی کو کہا تھا مجھے لے جائیں ساتھ پر وہ نہیں سنتی میری کبھی نہیں کہتی ہیں تم بچی هو انکل اب میں بڑی هو گئی ھوں نا آپ آپ امی سے کہیں نا واپس آ جائیں میں اب میں اب نہیں تنگ کرو گی نا غصہ کروں گی

وہ بچوں کو طرح ضد کر رہی تھی آصف صاحب نم آنکھوں سے مسکراۓ اور بولے

اگر کھانا کھاؤ گی تو میں فاخرہ کے پاس لے جاؤں گا پر پہلے کھانا کھاؤ

آیت کھانا کھانے کے لئے ہاتھ بڑھاتی ہے پھر رک جاتی ہے

مجھے تو امی ہی کھلاتی تھی کھانا انکل وہ بولتے ہی کھڑی هو کر باہر نکل جاتی ہے

اللّه اس بچی کو صبر دے کتنے دلوں کی دھڑکن تھی آپ فاخرہ کتنوں کی جینے کی وجہ آپ نے سب کو رلا دیا

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

سر آپ کی میٹنگ ہے کافی دیر هو چکی۔ ہے کیا کروں

سر ۔۔۔سر۔ آپ ٹھیک ہیں

فیصل کب سے فیضی کو مخاطب کرنے۔ کی کوشش کر رہا تھا مگر بے سدھ وہ اپنی ہی دنیا میں کھویا ھوا تھا

تبھی موبائل کے بجنے پر اسکی نظر موبائل پر گئی اور پھر سامنے فیصل پر اس نے بیٹھے کا اشارہ کیا اور کال سننے لگا

السلام علیکم انکل سب خیر ہے بس بزی تھا

جی ٹھیک ہے میں شام میں چکر لگاتا ھوں

جی ٹھیک اللّه حافظ

آصف صاحب سے بات کر کے وہ فیصل کی طرف دیکھتا ہے

سوری یار مجھے دھیان نہیں رہا

تھوڑی دیر تک میں آتا ھوں

وہ فیصل کو بیھج کر آیت کا نمبر ڈائل کرتا ہے

ہیلو السلام علیکم آیت فیضی کال کرتے ہی سلام کرتا ہے

جی کہیں آیت سلام کا جواب نہیں دیتی

طبیعت کیسی ہے اب انکل نے بتایا آپ نے کھانا نہیں کھایا

جی بھوک نہیں ایک بار پھر مختصر جواب

آیت پہلے جیسی هو جائیں کیوں سب کو پریشان کر رہی ہیں فیضی غصے کو قابو کرتے ہوے بول پڑتا ہے

کوئی پریشان نہیں ہے میرے لئے آیت مٹی سے کھیلتے ہوے کہتی ہے

ہیں پریشان میں ھوں انکل ہیں بی جان سب ہیں اب کی بار وہ اونچی آواز میں کہتا ہے

میں تھوڑی دیر تک آ رہا ھوں تیار رہنا

وہ اسکی بات سنے بنا کال اینڈ کر دیتا ہے

اللّه حافظ

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍂

پھوپو میرا ولیمہ کب کریں گی اب کیا ہم آیت کی ماں کی وجہ سے اپنی خوشی چھوڑ دیں

مونا جانتی تھی آیت دروازے کے پیچھے کھڑی ہے تبھی بول پڑی

بس بیٹا میں نے تو تمہارے انکل سے بات کی ہے وہ ہی نہیں مان رہے کہتے ہیں لوگ کیا کہیں گے بس اسی لئے تھوڑا انتظار تو کرنا پڑے گا زینت نے سمجھانے والے انداز میں کہا

نہیں پھوپو مجھے نہیں پتہ مام ڈیڈ بھی چلے جائیں گے پلیز آپ کچھ کریں

اب ہم کسی کے مرنے کا سوگ کیا ساری عمر مناۓ گے

مرنے والی مر گئی بس بات ختم مونا نے ڈھیٹائی کی حد کر دی تھی

آیت کے لئے کھڑا ہونا مشکل تھا وہنیچے کی طرف بڑھ گئی جلدی جلدی سیڑھیاں اتر رہی تھی تبھی آخری سیڑھی پر پیسل گئی

تبھی کسی کے ہاتھوں نے سہارا دیا اس نے اپر دیکھا اور غصے سے سامنے والے کو جھٹک دیا

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

سر میٹنگ کے دوران آپ کی کال آ رہی تھی بار بار موبائل پر فیصل جو فیضی کے پیچھے ساری فائلز لے کے چل رہا تھا

فیضی کے اچانک مڑنے پر گھبرا کے پیچھے ہوتا ہے

فیضی جلدی سے پوچھتا ہے کس کی کال تھی اور موبائل لے کے چیک کرتا

ہے اور منہ بنا کے اسکو دیکھتا ہے

سر میم۔ نے کہا امپورٹنٹ بات ہے آپ سے کال کرنے کا کہا ہے

فیصل جلدی سے صفائی دیتا ہے

بیٹا فیصل آج کے بعد (پیار سے بولتے ہوے )اگر یہ میم کال کا کہیں تو مجھے ہرگز نا بتانا سمجھے (غصے سے)

چلو میں اب چلتا ھوں ایک ضروری کام ہے سب فائلز گھر پوھنچا دینا

اللّه حافظ

گلاسس لگا کے وہ کار میں بیٹھ کے فاخرہ کے گھر کا رخ کرتا ہے

آدھے گھنٹے بعد وہ گیٹ کے سامنے ہوتا ہے

اندر آ کے سامنے ہی اسے آیت دیوانہ وار نیچے اترتی دکھائی دیتی ہے

تبھی وہ گرتی ہے اس سے پہلے کے وہ سمبھالتا جبران نے اسے تھام۔ لیا

آیت نے اسکے ہاتھوں کو جھٹک دیا

مجھے آیندہ ہاتھ بھی نا لگانا جبران

آیت غصے سے کہتی صوفے کا سہارا لے کے بیٹھ جاتی ہے

تبھی دونوں کی فیضی پر نظر پڑتی ہے

السلام علیکم میں آیت کو لینے آیا ھوں چلیں آیت فیضی آتے ہی اپنا مقصد بتاتا ہے

آیت سے پہلے جبران بول پڑتا ہے

سوری مسٹر فیضی ہم اپنے گھر کی لڑکیوں کو انجان لوگوں کے ساتھ باہر نہیں جانے دیتے

پر میں نے انکل سے پوچھا ہے فیضی آصف صاحب کا حوالہ دیتا ہے

تبھی آیت کھڑی هو جاتی ہے اور پاس جا کے اسے چلنے کو بولتی ہے

دونوں ہم قدم هو کے باہر نکل جاتے ہیں

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چاچو اب تک نہیں آئے ہم لیٹ هو رہے ہیں

فضا جو باہر جانے کے لئے فیضی کا ویٹ کر رہی تھی غصے سے خالہ کو دیکھتی ہے

خالہ آپ نے چاچو کو کال کی بھی تھی کے نہیں آج تو ہم نے انکے سے باہر جانا تھا

بیٹا کال کی ہے وہ میٹنگ میں ہیں زرش بیزاری سے کہتی ہوئی ہیلز اتار کر صوفے پر بیٹھ جاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کے اب نہیں جانا

فضا بیٹا جاؤ روم میں جا کے چینج کر لو

اور خود صوفے پر پاؤں پھیلا لیتی ہے

😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😉
😁

وہ دونوں ایک پارک میں بیٹھے ہوتے ہے۔

آیت زندگی کی طرف لوٹ جائیں بہت خوبصورت ہے آپ کی زندگی اس طرح سوگ منا کے آپ خود کو دوسروں کو اور خاص کر پھوپو اور خود کو تکلیف دے رہی ہیں

آیت اس کو چونک کے دیکھتی ہے جیسے پوچھ رہی هو خود کو کیسے ؟؟؟

نا کھانا نا پینا نا ٹائم پر سونا روتے رہنا نماز نا پڑھنا یہ سب روح کو تکلیف دیتا ہے فیضی اسکو نہیں دیکھ رہا ہوتا پر آیت کی نظریں اسی پر تھی

ہمم فیضی ایک بات کہوں آیت ہچکیچاتے ہوے پوچھتی ہے

شکر آپ بولی تو فیضی مسکرا کے کہتا ہے

آیت سر جھکا لیتی ہے اور پھر کہتی ہے

آپ نے اور انکل نے مجھے اس سارے معاملے میں بہت ہیلپ کی ہے

اس کے لئے تھنکو

ویلکم میڈم فیضی جھکنے والے انداز میں دل پر ہاتھ رکھ کے سر جھکا دیتا ہے

وہ ہنستی ہے مگر پھر سنجیدہ هو کے اسے دیکھتی ہے

فیضی آپ کو جن بھوتوں پر یقین ہے

فیضی حیرت سے اسکی طرف دیکھتا ہے

کیوں پوچھ رہی ہیں

اصل میں رات کو اکثر کوئی میرے روم کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے یا کبھی کھڑکی سے آنے کی کوشش کرتا ہے

وہ اسے بتا کے اسکی طرف دیکھتی ہے

آیت آپ روم کو لاک اچھے سے کیا کریں اور کھڑکی کیسے بند کرتی ہیں

فیضی فکر مندی سے پوچھتا ہے

اس پر میں نے تالا لگایا ھوا ہے آیت مختصر جواب دے کے رخ موڑ لیتی ہے

ہممممم دیکھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *