Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 06)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

آپ دونوں کو شادی کی بہت بہت مبارک باد پیش کرتی ھوں قبول کریں

آیت اسٹیج پر آکے جبران اور مونا کو وش کرتی ہے اور خوبصورت گلابوں کا بکے انکی طرف بڑھاتی ہے جس کو مونا لے کر سائیڈ کر دیتی ہے

آیت مسکراتی ہوئی اسٹیج سے نیچے آتی ہے تبھی فیضی کو دیکھ کر اسکی طرف بڑھ جاتی ہے

السلام علیکم کیسے ہیں آپ ماموں کے بیٹے ویسے آپ ہمارے خاص مہمان ہیں

آیت فیضی سے مخاطب ہوتی ہے

فیضی مسکرا کے کہتا ہے بہت شکریہ ویسے خاص مہمان کیوں خیر ہے سب

ہاں جی سب خیر ہے۔ اصل میں مونا نے سب کو۔ خاص طور پر کہا آپکا خیال رکھا جائے اور آپ کو سب سے پہلے ہر چیز دی جائے آب بندا اتنا خاص ہے تبھی تو وہ سب کو اتنا کہہ رہی ہے نا 😏😏😏😏😏

خیر آپ آج اکیلے آئے ہیں آپ کی وائف نہیں آئی آیت زرش کو ڈھونڈتی ہوئی کہتی ہے

وائف کون سی وائف فیضی حیرت سے اسکو دیکھتا ہے

ارے ارے حیران کیوں هو رہے ہیں آپ کی وائف جو کل آپکے آگے پیچھے گھوم رہی تھی۔

فیضی کھانا کھا لیں فیضی جوس لا دوں فیضی یہ فیضی وہ 😏

آیت زرش کی نقل اتارتی ہے

ہاہاہاہا وہ میری کزن اور میری بھابی کی بہن ہے میری اور مونا کی فرنڈ ہے ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہتی ہےمیری وائف نہیں ہے وہ ہاہاہا ویسے آپ۔ نقل بہت اچھی اتارا لیتی ہیں

فیضی مسکراتا ھوا جواب دیتا ہے

خیر آج آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں یہ چینج کیسے آیا

آیت شرمندہ سی هو جاتی ہے پھر سر اٹھا کے کہتی ہے کل آپ نے کہا تھا نا پٹہ تو کتے کے بھی گلے میں ہوتا ہے آپ کو پتہ ہے آپ نے بہت بڑی بات کہی پر ٹھیک کہی ہے

مجھے احساس هو گیا تھا کے مجھے گلے میں نہیں سر پر اوڑھنے کے لئے یہ ڈوپٹہ ملا ہے

آپ کا بہت شکریہ فیضی ۔۔آیت تشکر سے اسکو دیکھتی ہے

شکریہ کی بات نہیں ہے آیت پتہ ہے ہم۔ باہر والے۔ کو۔ بس بول سکتے ہیں پر جو اپنا هو اس پر ہم۔ زبردستی کر سکتے ہیں

اور ویسے بھی آیت مرد اور عورت دونوں کے لئے اللّه نے حدود مقرر کی ہے ہمیں انہی حدود کا خیال رکھنا چاہیے یہ ہمارا فرض ہے اور آیت اگر دھیان دیا جائے تو کربلا کا واقعہ ہمیں ۔ یہی سبق دیتا ہے جب ہماری نیک بیبیوں کے سر سے انکی ردائیں لے لی گئیں صرف سوچو ان پر کیا گزری هو گی جنہوں نے کبھی کسی نا محرم کو اپنے سر کا بال نا دکھایا هو ان

نیک اور پاک بیبیوں کو شام کے بازار میں لے کے گئے اور آج کی عورت خود ہی بازاروں میں بنا سر پر ڈوپٹہ لئے گھوم رہی ہوتی ہے یا پھر ڈوپٹہ ہوتا ہی نہیں ہے

عورت حیا میں ہی اچھی لگتی ہے عورت کو چاند نہیں ہونا چاہیے کے ہر کوئی اسکی تعریف کرے عورت کو سورج کی مانند ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسکی طرف نگاہ نا کر سکے اور جب کوئی اس عورت کے دل کا محرم بن جائے تو عورت کو چاند جیسا هو جانا چاہیے تاکہ اسکا محرم کسی اور طرف رخ ہی نا کرے

عورت کو ہر حال میں ایک بہترین مثال ہونا چاہئے چاہے رتبہ کوئی بھی هو

**آیت عورت ایک معتبر ہستی ہے اور اسکو یہ رتبہ آقا کریم صلی اللّه علیہ وآله وسلم کے وسیلے سے ملا ہے**

آیت فیضی کو دیکھتی ہے کلین شیو بالوں کو جیل لگایا ھوا بلیک رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنا یہ نوجوان ایسی بھی سوچ رکھتا ہے آیت حیرانگی سے اسکو دیکھتی ہے

ایسے کیا دیکھ رہی ہیں نظر لگائیں گی کیا فیضی ہنستے ہوے کہتا ہے

اتنے بھی خوبصورت نہیں ہیں آپ کے آپ کو نظر لگاؤں

آیت جل۔ کے جواب۔ دیتی ہے تبھی فاخرہ بیگم اسے ڈھونڈتی ہوئی یہاں آ جاتی ہیں

تم یہاں کھڑی هو اور سب وہاں تمہیں پوچھ رہے ہیں چلو چل کے کھانا کھا لو دونوں وہ انکی طرف دیکھ لر کہتی ہیں اور اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر چلی جاتی ہیں

وہ دونوں ہم قدم هو کر چلتے ہوے کونے میں لگی ایک ٹیبل کی طرف آ جاتے ہیں

تب آیت فیضی کو دیکھ کر بے دلی سے مسکراتی اور کہتی ہے

یہ ٹیبل آپ کے شان نہیں ہے آپ ہمارے خاص مہمان ہیں آپ کی ٹیبل وہاں آگے ہے ہم بس یہیں تک ساتھ چل سکتے تھے آب آگے آپ خود چلے جائیں

فیضی پھوپو کی طرف دیکھتا ہے جو سر جھکا لیتی ہیں تبھی وہ آیت سے پوچھتا ہے

ایسا کیوں کہہ رہی ہیں آپ سب ہیں اس ٹیبل پر تو میں کیوں نہیں بیٹھ سکتا

کیوں کے یہ خاص مہمانوں کے لئے نہیں اس گھر کے سرونٹس کے لئے ہے

مونا پیچھے سے آ کے فیضی کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہے جس کو وہ جھٹک دیتا ہے

سوری میں پھر ایسی محفل کا حصہ نہیں بن سکتا جہاں پر اپنوں کو سرونٹس سمجھا جائے

اور ویسے بھی مونا آپ مجھے جانتی ہیں میں رشتوں کے معاملے میں کتنا فیئر ھوں

مونا ۔۔۔۔ہاں جاتی ھوں پر ابھی تم چلو میں سب سے ملواتی ھوں اور ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاؤ چلو وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہے جسکو با آسانی وہ اس کے ہاتھ سے نکال لیتا ہے

نہیں مونا آپ جائیں شادی انجوئے کریں میں اپنی پھوپو کے ساتھ ہی کھا لوں گا

مونا کو جواب دے کر وہ کرسی کھینچ کر وہیں پھوپو کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے

مونا غصے میں وہاں سے آ جاتی ہے

مائے فٹ سمجھتا کیا خود کو اس دو ٹکے کی چھپکلی کو تو میں دیکھ لوں گی

کل بھی اس کے ساتھ تھی اور آج کتنی دیر سے وہاں اسکے ساتھ کھڑی تھی

وہ اپنے ہی آپ بڑ برا رہی تھی تبھی جبران پوچھتا ہے

کیا ھوا ہنی غصہ کیوں هو رہی هو

مونا اسکی طرف دیکھتی ہے تمہاری یہ کزن خود کو مس ورلڈ سمجھتی ہے کیا ہے ہی کیا اسکے پاس جو اتنا اترا رہی ہوتی ہے

کون آیت یار تم اسکو بھول جاؤ نا آج تو نا لڑو اس طرح کسی اور کے لیے مجھ سے جبران بے زاری سے کہتا ہے اور اسٹیج سے اتر جاتا ہے تاکہ اپنی ماں سے رخصتی کا کہہ سکے

🌾
🍃
🌺
🍃
🌺
🍃
🌺
☀
🌺
🌿
🌺
🍃
🌺
🍃
🌺
🍃
🌺
🍃
🍃
🍃
🍃

واہ پھوپو کھانا تو بہت مزے کا ہے فیضی تعریف کرتا ہے

کیوں نا هو مزے کا میری امی نے بنایا ہے یہ کھانا ہمارے لئے دوسروں کے آگے کا بچا ھوا کھانے سے اچھا ہے ہم عزت سے اپنا بنا ھوا کھا لیں

آیت نفرت سے مڑ کے اپنی پھوپو کو دیکھتی ہے

شکریہ بیٹا اسکی باتوں میں نا آنا تم فاخرہ آیت کو آنکھیں دکھاتی ہیں فیضی مسکرانے پر اتفاق کرتا ہے

تبھی رخصتی کو شور ہوتا ہے اور بنا روۓ دھوے دلہن کی رخصتی هو جاتی ہے

اففف بی جان کیسی لڑکی ہے روئی بھی نہیں ہونے ماں باپ چھوڑنے کا غم نہیں اسکو آیت بی جان سے کہتی ہے جو فیضی سے بات کر رہی ہوتی ہیں

ارے لڑکی پاگل هو گئی هو چپ کرو کسی نے سن لیا تو وہ اسے چپ کرواتی ہیں اور سامان فیضی کی گاڑی میں رکھواتی ہیں

تبھی فیضی کہتا ہے چلیں بی جان ہاں جی بیٹا چلو

فیضی دونوں سے آگے چل رہا ہوتا ہے تبھی آیت کہتی ہے

بی جان کیا یہ اپنی خوشی سے ہمارے ڈرئیوار بنے ہیں

چپ کرو آیت کچھ بھی بولتی هو کتنا معصوم بچہ ہے بی جان اسے ڈپٹ دیتی ہے

ہممم معصوم بچہ دیکھنے والے بچے بڑے افلاطون ہوتے ہیں بی جان آیت منہ بنا کے کہتی ہے تبھی بی جان اسے گھور کے دیکھتی ہیں وہ سر جھکا کے چلتی ہے

تبھی فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول کے فیضی مسکراتے ہوے اسکو کہتا ہے

افلاطون ڈرئیوار حاضر ہے میڈم

وہ ایک دم ہنس دیتی ہے

بی جان کو پیچھے آرام سے بیٹھا کر وہ گھر کی طرف نکلتا ہے ساری گاڑیاں پہلے ہی جا چکی تھی

ویسے آپ کا ڈریس بہت اچھا لگ رہا ہے کس نے دیا ہے

آیت مختصر سا جواب دیتی ہے

اسٹودنٹ ہے میری اس نے دیا ہے آج میری برتھڈے ہے

ارے واہ ہپپی برتھڈے چلیں آئسکریم کھاتے ہیں اسی خوشی میں وہ آئسکریم اسکی پسند کی منگواتا ہے جیسے کھاکر ایک بار پھر وہ سفر پر نکلتے ہیں وہ بہترین دن گزار کر گھر میں۔ قدم رکھتی ہے سامنے ہی میت اسکا انتظار کر رہی ہوتی ہے آصف صاحب نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتے ہیں..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *