Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

وہ آج تین سال کی ٹریننگ کے بعد گھر لوٹ رہا تھا ہر طرف اس کی آنے کی گہما گہمی تھی
اپی آپ کیوں اب تک تیار نہیں ہوئی
زویا نے صوفے پر بیٹھی آیت سے پوچھا
ویسے ہی کیوں میں ایسے اچھی نہیں لگتی آیت نے منہ بنا کی پوچھا ہاہا بہت اچھی لگتی ہیں اپی آپ جتنی سادی اتنی پیاری زویا نے آیت کی بانہو میں ہاتھ ڈال کی مسکرا کی کہا
ہاہا ویری فنی آیت نے منہ چڑایا
اچھا جاؤ پانی پلا دو مجھے
اوکے اپی زویا وہاں سے اٹھ جاتی ہے
فاخرہ ارے او فاخرہ زینت صاحبہ آیت کی امی کو آواز دیتی ہوئی اوپر سے نیچے آئیں آیت پر نظر پڑتے ہی پوچھنے لگی اے تمہاری ماں کہاں ہے
باہر گیں ہے آیت نے بنا دیکھے جواب دیا
زینت صاحبہ جیسے آئیں ویسے ہی چلی گیں مگر بڑبڑانا نا بھولی جب دیکھو باہر ہی ہوتی ہے سکوں ہی نہیں ہے کے گھر ٹک کے بیٹھ جائے
آیت اپنے امی ابو کی ایک ہی بیٹی ہے ابو اس دنیا میں نہیں ہیں پر آیت کی پھوپو گھر ساتھ ساتھ ہونے کی بنا پر انکو اپنے ساتھ رکھتی ہیں آیت کو بچپن سے ایک بات سمجھائی گئی تھی کہ اسکی شادی جبران سے هو گی اور کسی سے نہیں بچپن کی بات ذھن میں پکی هو چکی تھی وقت کی ساتھ ساتھ یہ صرف بات نہیں اسکے جینے کی وجہ بن چکی تھی
مگر کچھ خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تھوڑی بہت محنت کرنی پڑتی ہے
زینت صاحبہ آیت کی پھوپو ہیں انکا ایک ہی بیٹا ہے اور دو بیٹیاں حرا اور زویا اور ایک انکے شوہر آصف جو انتہائی شریف انسان ہیں
حرا اپنے مامو کے بیٹے کے ساتھ شادی کر کے انگلینڈ جا چکی ہے جبران ابھی پولیس کی ٹریننگ کے لئے اسلام آباد گیا ہوا ہے زویا ایف اے کر کے فری ہے
آیت بیٹا آپ اب ٹک بیٹھی ہوئی ہیں تیار نہیں ہوئی آج جبران آ رہا ہے
وہ جو آنکھ بندھ کر کے اپنے ہی خیالوں میں گم تھی اچانک آصف صاحب کے کہنے پر چونک جاتی ہے
جی جی انکل بس تیار ھوں میں آیت نے جہجھکتے ہوئے کہا
انہوں ں غور سے دیکھا اور مسکرا دئیے کھڑے هو کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا بلکل ہماری بیٹی سادگی میں بھی بہت خوبصورت ہے
وہ انکی تعریف پر نظریں جھکا لیتی ہے ماضی میں کسی کے کہے گئے الفاظ یاد آتے ہی پلکیں بھیگ جاتی ہیں۔
(میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے میں بس ایک کزن کی حیثیت سے محبت کرتا ھوں خیال رکھتا ھوں فکر کرتا ھوں بس اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھی تم بھی یہ سوچ ختم کر دو کے میں تم سے شادی کروں گا میں تم سے دوستی کر سکتا ھوں مگر شادی اور محبت نہیں اپنے آپ کو دیکھو اور مجھے دیکھو کہاں ہم ایک جیسے دکھتے ہیں )
ٹھیک کہا تھا آپ نے بہت فرق ہے ہم میں ہم کبھی ایک نہیں هو سکتے
وہ میگزین رکھ کے کچن کا رخ کرتی ہے کافی بنا کے اپنے کمرے میں آ جاتی ہے
ماضی کی تلخ یادیں سوچ کر ہی دل بھر آتا ہے تکیے پر منہ رکھ کے وہ آج پھر رو پڑتی ہے۔
تیری یادوں سے پیچھا چھڑاوں کیسے
تو ہی بتا جاناں تجھے بھول جاؤں کیسے
3 سال پہلے
وہ اپنی بائیک دھو رہا تھا اور ساتھ ہی گنگنا رہا تھا
تبھی آیت بھاگ کے آتی ہے اور فرش پر صرف کا پانی جو گرا وہ دیکھ نہیں پاتی پسل کر گر جاتی ہے اور ایک دم چیختی ہے تبھی جبران کی ہنسی نکل جاتی ہے
اففففف امی میری ٹانگ جبران مجھے چوٹ لگی ہے اور تم ہنس رہے هو آیت غصے سے بولتی ہے اور اٹھنے کی کوشش کرتی ہے تبھی جبران ہاتھ بڑھا کو اسکے ہاتھ کو پکڑ کے سہارا دیتا ہے
کس نے کہا تھا بھاگتی ہوئی آؤ جبران سہارا دے کر پاس رکھی کرسی پر بیٹھاتا تھا اور نیچے بیٹھ کر اسکا پاؤں دیکھنے لگتا ہے تبھی وہ اسے پیچھے کر دیتی ہے
رہنے دیں جبران میں خود کر لوں گی
کھڑے ہونے کی کوشش میں ایک بر پھر کرسی پر گر جاتی ہے
کھڑی تو هو نہیں پا رہی اندر کیسے جائیں گی میڈم آپ آئیں ہاتھ دیں میں لے جاتا ھوں ۔
ابھی وہ ہاتھ دیتی ہی ہے کے پھوپو کی آواز آ جاتی ہے
تم یہاں هو اب تک جبران کو بلانے بھجا تھا نا زینت آتے ہی شروع هو جاتی ہے
امی امی رکیں یہ دیکھیں اس بیچاری کو چوٹ لگی ہے پاؤں میں وہ پانی سے پسل گئی ہے جبران ایک دم روک کے بتا دیتا ہے
جبران کو دیکھ کر کچھ زیادہ نہیں اچھل کود کرتی هو تم ہاں ۔۔۔ بول کر وہ ایک نظر اسکو دیکھتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔
آیت سر جھکا کے سب سنتی اور آنسو پینے کی کوشش کرتی ہے
امی کو رہنے دو آؤ تم میں اندر لے جاؤں جبران ہاتھ دیتا ہے وہ نذر اٹھا کے روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتی ہے
نہیں میں چلی جاؤں گی اور دیوار کا سہارا لے کے اندر کی طرف قدم بڑھا دیتی ہے
وہ پیچھا کھڑا دیکھتا رہ جاتا ہے آخر ماما اتنا کیوں بدل گئی ہیں پہلے کتنی محبت تھی انکو آیت سے اور اب وہ سر جھٹک کے اندر کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *