Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 13)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

کیا ھوا زینت تمہارا موڈ اوف ہے اور دھیان کہیں اور عدیل بہن کو دیکھ کر پوچھتا ہے

تم سے مطلب جاؤ اپنا کام کرو زینت منہ پھیر کر جواب دیتی ہوئی اٹھ گئی

عدیل ہنستا ہوا آصف کی طرف چلا آیا

جہاں پر سب کیک کھا رہے تھے

تانیہ اور میرا نکاح 2 سال پہلے ھوا تھا اب تو ہماری شادی کی ڈیٹ فکس هو رہی ہے کل انکل آنٹی آ جائیں گے بس پھر هو گی

علی سب کو اپنا اور تانیہ کا بتاتا ہے

چلو گریٹ یار ہمیں مل بیٹھنے کا موقع ملے گا آصف ہنستے ہوۓ کہتا ہے

ہاں ضرور آپ سب آنا ہمارے ہاں کیوں کے ہمارے سارے فنکشن ساتھ ھوں گے

تو ایک ہی جگہ کمبائین هو گا سب تانیہ محبت سے علی کو دیکھ کر بولتی ہے تبھی زینت کہتی ہے ہاں ضرور ہم تو دو۔ چار دن پہلے آ جائیں گے

عجیب سی مسکراہٹ لئے وہ تانیہ کو دیکھتی ہے

ہنسی خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات لے کر سب اپنے اپنے رومز کی طرف بڑھ گئے

روم میں آتے ہی زینت نے واش روم کا رخ کیا اور دیوانہ وار منہ پر پانی پہنکا پہلی بار پہلی بار کسی کو چاہا تھا

میں رشتوں میں دھوکہ ہی کھاتی آئی ھوں

پہلے ماں پھر باپ پھر بھائی اور اب اب محبت سب ختم هو گیا ہے

کاش کاش تانیہ تم مر جاؤ

وہ روتے ہوے بد دعا دیے جا رہی تھی

تمہیں خوشیاں نصیب نا ھوں

میں اکیلی پڑ گئی ھوں کوئی نہیں ہے میرا

زینت روتے روتے وہیں سو گئی

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

تیرے بنا خالی ہے زندگی کا ہر ورق

تیرا بنا جاناں میری کتاب ہے نا مکمل

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

دو دن گھوم پھر کر واپس آنے پر علی کو گڈ نیوز ملی کے تانیہ اور اسکی شادی ٹھیک ایک مہینے بعد فکس هو گئی ہے

سبھی شادی کی تیاری میں لگ گئے

آصف اور عدیل علی کے ساتھ ہر جگہ شاپنگ پر ہوتے

تانیہ اور فاخرہ اپنی شاپنگ میں لگےہوۓ تھے زینت کبھی ساتھ ہوتی کبھی بہانہ بنا دیتی

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

یار یہ گجرے تم لوگ پہن لو میرا دل نہیں ہے زینت فاخرہ اور اسکی کزنز کو کہتی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھ گئی

نیچے گارڈن میں سبھی کزنز کے ساتھ مل کر وہ ہنسی خوشی بھنگڑے ڈال رہا تھا

**کسی کے دل کی دنیا آباد ہے اور کسی کی اجاڑ ہے

واہ رے محبت تیرا بھی کیا خوب انداز ہے**

مہندی کے گانے لگا کر سبھی شغل کر رہے تھے

وہی سب سے الگ بیٹھی سوچوں میں گم تھی تبھی اسکی نظر سجی سنوری فاخرہ پر پڑی بلا شعبہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی سانولا رنگ ہونے کے باوجود اس میں کشش تھی

وہ ہنستی مسکراتی فاخرہ کی طرف بڑھ گئی جو اپنی کزنز کے ساتھ پھولوں کی تھال لئے کھڑی تھی

لڑکی والے آئے اور انکا شاندار استقبال ھوا

رسم شروع ہوئی سبھی نے مہندی لگائی

دل پر پتھر رکھ کے زینت بھی آگے بڑھی اور مہندی لگائی دونوں کو

جب خود کی محبت ناکام هو جائے تو۔ اکثر لوگوں کے دلوں میں انتقام کی جڑ مضبوط هو جاتی ہے مگر زینت کے پاس انتقام کا کوئی جواز نہیں تھا

مگر فاخرہ کی بے دھیانی میں کہی بات اسکے لئے جواز پیدا کر گئی

سبھی کھانے میں مصروف تھے زینت اور فاخرہ بھی کھانا لے کر ٹیبل پر آ گئے

تم نے کبھی بتایا نہیں فاخرہ علی کے نکاح کا زینت بات شروع کرتی ہے

ارے۔ ہماری دوستی ہوئی ہی ابھی ہے نکاح تو دو سال پہلے کا ہے

فاخرہ اسکو جواب دے کا مسکراتی ہے

ہاں وہ تو ہے پر ہم دو سال سے ایک ہی یونیورسٹی اور کولج میں ہیں نا

تو بتایا ہی نہیں

زینت منہ بنا کے کہتی ہے

ہاں میں اجنبی لوگوں سے اپنی باتیں۔ شیئر کرنا پسند نہیں کرتی اور تمہیں تو میں اتنا نہیں جانتی اب بھی نہیں جانتی بس تم میری دوست هو اتنا پتہ فاخرہ بول کے مسکرا کر اسے دیکھتی ہے

ارے سلاد تو ہے ہی نہیں زینت خفت مٹانے کو کہتی ہے وہ اٹھتی ہے

ارے نہیں میں لاتی ھوں۔فاخرہ زینت سے کہتی اٹھنے لگتی ہے تبھی آصف سلاد لے آتا ہے

لیں جناب آپ بھی کیا یاد کریں گی میں نے زینت کے دل کی بات جان لی

فاخرہ کو بات اچھی۔ نہیں لگتی اس کے چہرے پر واضع تھا اور یہی لمحہ تھا زینت نے فیصلہ۔ کیا اور مسکرا کے آصف کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ارے تھنکو تم میرے دل تک رسائی پا گئے کم لوگ ہیں ایسے جو اس مقام۔ تک آتے ہیں

کیوں فاخرہ زینت اسے دیکھ کر کہتی ہے اور وہ مسکرا بھی نہیں پاتی پھر ساری شادی میں وہ دونوں آصف اور زینت ساتھ رہے عدیل نے موقعے سے فائدہ اٹھایا وہ فاخرہ کے ساتھ ساتھ رہا

ولیمہ کی تقریب آخری مراحل میں تھی

علی اور تانیہ کو ہر ایک کی نظر سراہا رہی تھی وہ لگ ہی اتنے خوبصورت رہے تھے

زینت باہر گارڈن میں آ کر رونے لگی تبھی آصف آ گیا

یہاں باہر کیوں آ گئی اور رو کیوں رہی هو

اس نے ہمدردی سے پوچھا

کچھ نہیں بس موم یاد آ رہی ہیں یہاں۔ سب کتنی محبت سے رہتے ہیں انکے بیچ سب کتنا اچھا لگ رہا ہے

زینت کہتے ہوے آنسو صاف کرتی ہے

اور سامنے سے آتی ہوئی فاخرہ کو دیکھ کر آصف کے قریب بیٹھ جاتی ہے وہ اس کے ہاتھ تھام کر دلاسہ دیتا ہے

فکر نا کرو ہر ایک کی زندگی پرفیکٹ نہیں ہوتی کہیں نا کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے تمہارے نصیب کی ہر خوشی تمہیں ہی ملے گی آصف کہتا ھوا مسکرا دیتا ہے اب تم بھی مسکراو

فاخرہ وہیں سے رخ موڑ لیتی ہے وہ سمجھ نہیں پاتی کے زینت اور آصف اگر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو مجھے کیوں نہیں بتایا

دن گزرتے رہے اور بنا جانے غلط فہمی بڑھتی رہی زینت اکثر آصف کے گھر آنے جانے لگی تھی کیوں یہ کوئی نہیں جانتا تھا

بم اس وقت گرا جب آصف کی امی ن زینت کو بہو بنانے کا ارادہ کیا

امی ایسا نہیں هو سکتا آصف سن کے ہی بھڑک گیا

کیوں نہیں هو سکتا ارے کیا برائی ہے اس میں کتنی اچھی ہے وہ کتنا خیال کرتی ہے سب کا کتنا کام ک جاتی ہے میرا اور تجھے کیا مسلہ ہے تو نے ہی کہا تھا جس سے کہو گی شادی کر لوں گا اب کیوں منا کر رہا ہے

آصف کی ماں غصے سے کہتی ہے

ماں مگر میں شادی اب اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ھوں

آصف ضد میں آ جاتا ہے میری یونیورسٹی میں ہے آپ دیکھو گی بہت خوش هو گی

میں آج ہی آپ کو ملواو گا

زینت اور فاخرہ اب دوست تھے مگر پہلے ولی بات نا رہی تھی

وہ یونیرسٹی آ کے زینت سے ہیلپ مانگتا ہے وہ خوشی خوشی راضی هو جاتی ہے اور پھر آصف خود ہی فاخرہ سے بات کرتا ہے

فاخرہ میری سیس کی شادی ہے میں آپ کو انوائٹ کرنا چاہتا تھا اور علی کی دعوت بھی کرنی ہے تو پسند نا پسند آپ کو پتہ هو گی تو اماں آپ سے ملنے کو کہہ رہی تھی تو آپ چھٹی ٹائم زینت ک ساتھ گھر آ جانا پھر دونوں مل کر چھٹی ٹائم دونوں مل کے آصف کے گھر پوھنچ جاتے ہیں

فاخرہ پہلی بار آصف کے گھر آئی تھی

گھبرا کیوں رہی هو کون سا ابھی یہ سسرال ہے پاگل۔زینت کہتے ہی بیل پر ہاتھ رکھ دیتی ہے

ارے زینت آپ آئیں آصف کی بہن زینت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے

ان سے ملو یہ ہیں فاخرہ آصف اور میری دوست ہے

زینت تعارف کرواتی ہے

اور پھر کچن میں آ کر آصف کی ماں سے گلے ملتی ہے وہ جبکہ گھبراٹ میں فاخرہ بس سلام کر کے ہاتھ ملاتی ہے

آصف کی ماں کو فاخرہ مغرور لگتی ہے

تبھی وہ پیچھے کھڑے آصف کو آڑے ہاتھ لینے کا سوچتی ہے

آصف کی ماں فاخرہ کو دیکھ کر کہتی ہے

ارے تمہارا رنگ تو بہت سانولا ہے شادی ہوئی کے نہیں فاخرہ کے دل میں لگتی ہے بات اور چپ رہتی ہے

جی ابھی نہیں ہوئی وہ مسکرا کے کہتی زینت کو دیکھتی ہے جو کچن میں چاۓ بنا رہی تھی۔ اور ساتھ آصف کے پلیٹ میں کھانے کی چیز نکال رہی تھی

آصف کی ماں بھی دونوں کو دیکھتی ہیں

میں ان دونوں کی شادی کروانی ہے بس میں سوچ لیا ہے وہ فاخرہ سے کہتی ہیں

کیا شادی فاخرہ پوچھتی ہے

ہاں میں اپنے آصف کی چاند سے دلہن لاؤں گی کے سبھی دیکھتے رہ جائیں

وہ کہتی ہیں تبھی وہ دونوں چاۓ کا سامان میز پر رکھتے ہیں

کچھ دن بعد عدیل اور فاخرہ کا رشتہ طے ہونے کی خبر سب کو مل جاتی ہے

یہ رشتہ انکے ماں باپ کی مرضی سے ھوا تھا

زینت نے سب سے زیادہ محنت کی تھی اور اب پھل سامنے تھا

کسی اور سے کی گئی سچی محبت دل میں۔ بسائے فاخرہ عدیل کی زوجیت میں آ جاتی ہے

اور کچھ ہی عرصے میں زینت آصف کی ماں کو مٹھی میں۔ کر لیتی ہے اصل میں وہ جان گئی تھی یہ پیسوں سے غریب لوگ ہیں انکو کیسے ہینڈل کرنا ہے اس مے وہی کیا

انکی مجبوری کو دور کیا اور انکی نظر میں اچھی بن کر انکا دل جیت لیا آصف کے باپ کی موت پر بھی سب خرچہ اٹھایا

مرنے سے پہلے آصف کی ماں نے اسکو اپنی قسم دے کے زینت سے شادی پر مجبور کر دیا

یوں دو خاموش محبت کرنے والے اپنے انجام کو پوھنچے

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

بظاہر امیر دیکھنے والا عدیل کتنا غریب تھا یہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی پتہ چل گیا

وہ اپنی ہر ضرورت کے لئے بہن کا منہ دیکھتا تھا نا ڈھنگ سے جاب کرتا تھا ہر وقت محبت دینے والا عدیل کتنا بدل گیا تھا ہر وقت لڑائی جھگڑا روز ہوتا مگر فاخرہ کو ایسی چپ لگی تھی کے وہ کسی سے اظہار نا کر سکی

علی فاخرہ کی شادی کے بعد ہی تانیہ کے ساتھ یو کے جا چکا تھا

اپنے باپ کے مرنے پر فاخرہ نے بہت نہیں پر تھوڑی ضد کی تھی کے وہ یو کے جانا چاہتی ہے پر عدیل نا مانا اور یوں وہ اپنے گھر والوں سے بھی کٹ گئی

علی ایک دو بار پاکستان آیا فاخرہ سے مل کے بہت سمجھایا کے طلاق لے کے ساتھ چلو پر وہ نہیں مانی

علی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی علی کی بیٹی اپنی پھوپو کی شکل کی تھی تبھی علی کو بیٹوں سے زیادہ بیٹی عزیز تھی

آصف اور زینت نے رشتوں پر سمجھوتا کیا اور آگے بڑھ گئے زینت کے ہاں لگا تار بیٹیاں ہوئی جن میں دو سلامت تھی دو مر گئی تھی

زینت نے اس بار آصف سے کہہ دیا تھا اگر اب بھی بیٹی ہوئی تو میں خود اسکو مار دوں گی

پاگل هو گئی هو بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں تم نا شکرا پن کیسے کر سکتی هو

آصف غصے سے کہتا موبائل اٹھا کے ناشتے کی ٹیبل پر آتا ہے جہاں عدیل فاخرہ سے غصے میں کچھ کہتا چاۓ کا گرم کپ اس پر گرا دیتا ہے

آصف آگے بڑھتا ہے یہ کیا کر رہے هو عدیل بیوی ہے تمہاری اور کس حال میں ہے وہ دیکھو

فاخرہ آپ کو درد هو رہا هو گا آپ بیٹھیں پلیز آصف اسکو کہتا ہے

نہیں میں ٹھیک ھوں وہ مختصر جواب دیتی ہے جانتی تھی عدیل غصہ هو گا آصف کی ہمدردی ہمیشہ مہنگی پڑی تھی اسے

عدیل اسے کھچتا ھوا کمرے میں لاتا ہے

بڑی ہمدردی هو رہی تھی اسکو تم سے خیر ہے نا

عدیل کیسی بات کر رہے ہیں آپ اپنی بیوی پر شک کر رہے ہیں

ہاں کر رہا ھوں کیوں کے اصلیت جانتا ھوں سنو میں دو دن کے لئے جا رہا ھوں اپنی اوقات میں رہنا سمجھی

آصف کہتا ھوا باہر نکل گیا

اللّه مجھے حوصلہ دے وہ دروازے کی دہلیز پر ہی بیٹھ جاتی ہے

ایک دن آرام سے گزرتا ہے مگر دوسرے ہی دن وبال مچ جاتا ہے

زینت اپنے بھائی کو فون کر کے الٹی سیدھی بات کرتی ہے جس پر وہ بہت غصہ ہوتا ہے

اور گھر آ کے فاخرہ کو بہت مارتا ہے اور کس کس کو دیوانہ بنایا ھوا ہے یہی سب کرتی تھی یونیورسٹی میں نا اسکے مارنے پر بی جان اور آصف فوراً وہاں آتے ہیں زینت شام سے ہی ہسپتال میں تھی

فاخرہ کو آئی سی یو میں شفٹ کیا فاخرہ کو اللّه نے نعمت سے نوازا اور زینت کو پھر سے رحمت سے نوازا

آصف بہت پریشان تھا زینت بیہوش تھی فاخرہ کو ہوش آ چکا تھا

آصف بی جان کے ساتھ فاخرہ کے روم میں گیا

السلام علیکم کیسی طبیعت ہے اب آپ کی

وہ جواب نہیں دیتی بس سر ہلا دیتی ہے

میں جانتا ھوں یہ حق اس کے باپ کا ہے پر اذان تو دینی ہے میں اسکے کانوں میں اذان دے دوں وہ فاخرہ سے اجازت لے کے اذان دیتا ہے

اذان دے کے وہ جانے کے لئے مڑتا ہے تبھی فاخرہ کی کہی بات وہاں موجود دونوں کو ہلا دیتی ہے

آصف جاتے جاتے یہ بچہ بھی لے جائیں

اپنے ساتھ

پر کیوں بیٹا بی جان محبت سے اسکو دیکھتی ہیں

آصف حیرت سے دیکھتا ہے

آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں کیا بات ہے

آصف اپنی بیٹی مجھے دے کر یہ بیٹا زینت کی گود میں ڈال دیں

بی جان زور زور سے روتی ہیں

اللّه اللّه کس مٹی کی هو فاخرہ اس نے تم پر کیسا الزام لگایا تمہیں کیا کچھ کہا تم اسکی گود میں اپنا بچہ دے رہی هو۔

وہ اس لائق نہیں ہے فاخرہ یہ آپکا بچہ ہے آپ اسکو سمبھالیں آصف آنکھ صاف کر کے کہتا ہے پر فاخرہ کی اگلی بات اسکو مجبور کر دیتی ہے

آپ کو ہماری دوستی کی قسم اس بچے کو لے جائیں اور عدیل کے آنے سے پہلے بچی چھوڑ جائیں

آصف بچہ لے کے زینت کے پاس چلا آیا

بی جان *ماں بہت مشکل سے اپنے جگر کا ٹکڑا دیتی ہے جس کے لئے ہر ظلم سہا ہے آج اسکو ہی ایسی عورت کی گود میں دیا جو میری خوشیاں کھا گئی پر مجھے دکھ نہیں میرے اللّه نے میرے لئے رحمت کو چنا ہے بی جان آپ یہ راز راز ہی رکھنا

میری بیٹی ہوئی ہے بس یہ یاد رکھنا

فاخرہ آنکھیں بند کر لیتی ہے جب تھوڑی دیر بعد بی جان اسکی گود میں سرخ سفید گلابی رنگت والی چھوٹی سی پری اسکو۔ تھما دیتی ہیں

میری گڑیا بی جان فاخرہ روتے ہوے کہتی ہیں

💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔حال 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

نوری نوری لالا سب کہاں ہیں آصف گھر آتے ہی آیت کو دیکھنے جاتا ہے پر آیت نہیں ملتی گھر بند تھا

وہ پریشانی میں سبکو آواز دیتا ہے

جی جی صاحب تبھی نوری آ جاتی ہے پیچھے سے مونا بھی آتی ہے

کیا ھوا انکل سب ٹھیک ہے مونا پوچھتی ہے

آیت کہاں ہے نوری گھر بند ہے اور یہ ٹائم وہ اب تک اسکول سے آ چکی ہوتی ہے

صاحب وہ وہ نوری بولتے بولتے ڈرتی ہے

انکل آیت کو چار دن پہلے پھوپو نے تیز طوفانی بارش میں رات کے اندھیرے میں گھر سے بے گھر کر دیا

مونا مزے لیتے ہوۓ کہتی ہے

کیا آصف صوفے کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہیں

انکی آنکھیں نم هو جاتی ہیں مجھے بتایا نہیں میں نے اتنے فون کیے ہر بار ایک بات آیت بات نہیں کرنا چاہتی اور اب یہ سب کہاں هو گی میری بچی

نوری پانی دیتی ہے بی جان ایک کونے میں کھڑی رو رہی تھی تبھی مین ڈور سے زینت اور زویا شاپنگ کرتی ہوئی اندر آئی

آصف صاحب غصے سے انکی طرف بڑھے اور سارے شاپر پھنک دیے

کس جرم کی۔ سزا دی آیت کو بولو۔

زینت نوری کو دیکھتی ہیں وہ سر جھکا دیتی ہے تبھی مونا کی مسکراتی شکل پر وہ سمجھ جاتی ہیں کے آگ لگ چکی

آصف آیت میرے بیٹے کو بہکا رہی تھی بس تبھی میں نے اسکو نکال دیا وہ بد کردار ماں کی بد کردار بیٹی تھی

آصف صاحب پہلی بار زینت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ وہ بھی سب کے سامنے

بند کرو بکواس اپنی بند کرو

بد کردار فاخرہ نہیں تم هو اور بہکا آیت نہیں تمہارا بیٹا اسکے پیچھے پڑا ھوا تھا روز رات کو جا کے اس معصوم کو تنگ کرتا تھا ڈراتا تھا میں نے بہت منا کیا پر نہیں منا تبھی میں اسکو یہاں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا

کیوں کے معلوم تھا تمہارا گرا ھوا بیٹا کوئی حرکت ضرور کرے گا

نہیں ایسا نہیں ہے فاخرہ کا گندا خون تھا اس میں اور بھی پتہ نہیں کس کس کے ساتھ تعلق تھے رات کے دو بجے تو اسکا کزن آتا تھا اس سے ملنے بتاؤ مونا تم نے دیکھا تھا نا زینت مونا کی طرف رخ کرتی۔ ہے

جی انکل پھوپو ٹھیک کہہ رہی ہے اور اس رات تو جب پھوپو نے نکالا آیت فیضی کے ساتھ ہی گئی تھی گاڑی میں میں نے خود دیکھا ہے

ابھی مونا کہہ ہی رہی تھی کے ایک آواز پر سبھی اسکی طرف متوجہوۓ

السلام علیکم فیضی سبکو حیران دیکھ کے ٹھٹک جاتا ہے

آصف صاحب دیوانوں کی طرح اسکے پاس جاتے ہیں

فیضی فیضی میری آیت کہاں ہے کیسی ہے

زینت حیران هو کر آصف کا رویہ دیکھتی ہیں

انکل آیت میرے ساتھ نہیں ہے میں تو خود 4 دن سے اسلام آباد گیا ھوا تھا آج ابھی آیا سوچا آیت سے مل لوں کہاں ہے آیت فیضی کے چہرے کی ہوائیاں اڑھ چکی تھی سبھی لوگ خاموش تھے

جب تمہارے ساتھ نہیں ہے تو پھر اس رات آیت کس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گئی مونا خود اب حیران تھی

هو سکتا ہے کوئی عاشق هو اسکا تبھی اتنی رات کو لے گیا اب ہم کیا کہیں بئی لڑکی ہی ایسی نکلی

زینت کی زبان زہر اگل رہی

آصف صاحب زینت کی طرف بڑھتے مگر فیضی نے روک دیا

وہ بد کردار لڑکی تمہاری بیٹی ہے فاخرہ کی نہیں تم اسکی ماں هو تم نے جنم دیا اسکو آصف صاحب روتے ہوے کہتے ہیں اور صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں وہاں کھڑا ہر شخص آج حیرت زدہ تھا

میری بچی کہاں هو گی فیضی آصف صاحب بار بار ایک ہی بات کر رہے تھے

زینت پتھر کی هو چکی تھی

💛💜💛💜💛💜💛💜💛💜💛💜💛💜💛💜💛💜💛💛💛💛💛💜💛💜💛💛چاند سی بہو

از قلم

خاکِ مکّہ

Episode 13

کیا ھوا زینت تمہارا موڈ اوف ہے اور دھیان کہیں اور عدیل بہن کو دیکھ کر پوچھتا ہے

تم سے مطلب جاؤ اپنا کام کرو زینت منہ پھیر کر جواب دیتی ہوئی اٹھ گئی

عدیل ہنستا ہوا آصف کی طرف چلا آیا

جہاں پر سب کیک کھا رہے تھے

تانیہ اور میرا نکاح 2 سال پہلے ھوا تھا اب تو ہماری شادی کی ڈیٹ فکس هو رہی ہے کل انکل آنٹی آ جائیں گے بس پھر هو گی

علی سب کو اپنا اور تانیہ کا بتاتا ہے

چلو گریٹ یار ہمیں مل بیٹھنے کا موقع ملے گا آصف ہنستے ہوۓ کہتا ہے

ہاں ضرور آپ سب آنا ہمارے ہاں کیوں کے ہمارے سارے فنکشن ساتھ ھوں گے

تو ایک ہی جگہ کمبائین هو گا سب تانیہ محبت سے علی کو دیکھ کر بولتی ہے تبھی زینت کہتی ہے ہاں ضرور ہم تو دو۔ چار دن پہلے آ جائیں گے

عجیب سی مسکراہٹ لئے وہ تانیہ کو دیکھتی ہے

ہنسی خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات لے کر سب اپنے اپنے رومز کی طرف بڑھ گئے

روم میں آتے ہی زینت نے واش روم کا رخ کیا اور دیوانہ وار منہ پر پانی پہنکا پہلی بار پہلی بار کسی کو چاہا تھا

میں رشتوں میں دھوکہ ہی کھاتی آئی ھوں

پہلے ماں پھر باپ پھر بھائی اور اب اب محبت سب ختم هو گیا ہے

کاش کاش تانیہ تم مر جاؤ

وہ روتے ہوے بد دعا دیے جا رہی تھی

تمہیں خوشیاں نصیب نا ھوں

میں اکیلی پڑ گئی ھوں کوئی نہیں ہے میرا

زینت روتے روتے وہیں سو گئی

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

تیرے بنا خالی ہے زندگی کا ہر ورق

تیرا بنا جاناں میری کتاب ہے نا مکمل

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

دو دن گھوم پھر کر واپس آنے پر علی کو گڈ نیوز ملی کے تانیہ اور اسکی شادی ٹھیک ایک مہینے بعد فکس هو گئی ہے

سبھی شادی کی تیاری میں لگ گئے

آصف اور عدیل علی کے ساتھ ہر جگہ شاپنگ پر ہوتے

تانیہ اور فاخرہ اپنی شاپنگ میں لگےہوۓ تھے زینت کبھی ساتھ ہوتی کبھی بہانہ بنا دیتی

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

یار یہ گجرے تم لوگ پہن لو میرا دل نہیں ہے زینت فاخرہ اور اسکی کزنز کو کہتی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھ گئی

نیچے گارڈن میں سبھی کزنز کے ساتھ مل کر وہ ہنسی خوشی بھنگڑے ڈال رہا تھا

**کسی کے دل کی دنیا آباد ہے اور کسی کی اجاڑ ہے

واہ رے محبت تیرا بھی کیا خوب انداز ہے**

مہندی کے گانے لگا کر سبھی شغل کر رہے تھے

وہی سب سے الگ بیٹھی سوچوں میں گم تھی تبھی اسکی نظر سجی سنوری فاخرہ پر پڑی بلا شعبہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی سانولا رنگ ہونے کے باوجود اس میں کشش تھی

وہ ہنستی مسکراتی فاخرہ کی طرف بڑھ گئی جو اپنی کزنز کے ساتھ پھولوں کی تھال لئے کھڑی تھی

لڑکی والے آئے اور انکا شاندار استقبال ھوا

رسم شروع ہوئی سبھی نے مہندی لگائی

دل پر پتھر رکھ کے زینت بھی آگے بڑھی اور مہندی لگائی دونوں کو

جب خود کی محبت ناکام هو جائے تو۔ اکثر لوگوں کے دلوں میں انتقام کی جڑ مضبوط هو جاتی ہے مگر زینت کے پاس انتقام کا کوئی جواز نہیں تھا

مگر فاخرہ کی بے دھیانی میں کہی بات اسکے لئے جواز پیدا کر گئی

سبھی کھانے میں مصروف تھے زینت اور فاخرہ بھی کھانا لے کر ٹیبل پر آ گئے

تم نے کبھی بتایا نہیں فاخرہ علی کے نکاح کا زینت بات شروع کرتی ہے

ارے۔ ہماری دوستی ہوئی ہی ابھی ہے نکاح تو دو سال پہلے کا ہے

فاخرہ اسکو جواب دے کا مسکراتی ہے

ہاں وہ تو ہے پر ہم دو سال سے ایک ہی یونیورسٹی اور کولج میں ہیں نا

تو بتایا ہی نہیں

زینت منہ بنا کے کہتی ہے

ہاں میں اجنبی لوگوں سے اپنی باتیں۔ شیئر کرنا پسند نہیں کرتی اور تمہیں تو میں اتنا نہیں جانتی اب بھی نہیں جانتی بس تم میری دوست هو اتنا پتہ فاخرہ بول کے مسکرا کر اسے دیکھتی ہے

ارے سلاد تو ہے ہی نہیں زینت خفت مٹانے کو کہتی ہے وہ اٹھتی ہے

ارے نہیں میں لاتی ھوں۔فاخرہ زینت سے کہتی اٹھنے لگتی ہے تبھی آصف سلاد لے آتا ہے

لیں جناب آپ بھی کیا یاد کریں گی میں نے زینت کے دل کی بات جان لی

فاخرہ کو بات اچھی۔ نہیں لگتی اس کے چہرے پر واضع تھا اور یہی لمحہ تھا زینت نے فیصلہ۔ کیا اور مسکرا کے آصف کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ارے تھنکو تم میرے دل تک رسائی پا گئے کم لوگ ہیں ایسے جو اس مقام۔ تک آتے ہیں

کیوں فاخرہ زینت اسے دیکھ کر کہتی ہے اور وہ مسکرا بھی نہیں پاتی پھر ساری شادی میں وہ دونوں آصف اور زینت ساتھ رہے عدیل نے موقعے سے فائدہ اٹھایا وہ فاخرہ کے ساتھ ساتھ رہا

ولیمہ کی تقریب آخری مراحل میں تھی

علی اور تانیہ کو ہر ایک کی نظر سراہا رہی تھی وہ لگ ہی اتنے خوبصورت رہے تھے

زینت باہر گارڈن میں آ کر رونے لگی تبھی آصف آ گیا

یہاں باہر کیوں آ گئی اور رو کیوں رہی هو

اس نے ہمدردی سے پوچھا

کچھ نہیں بس موم یاد آ رہی ہیں یہاں۔ سب کتنی محبت سے رہتے ہیں انکے بیچ سب کتنا اچھا لگ رہا ہے

زینت کہتے ہوے آنسو صاف کرتی ہے

اور سامنے سے آتی ہوئی فاخرہ کو دیکھ کر آصف کے قریب بیٹھ جاتی ہے وہ اس کے ہاتھ تھام کر دلاسہ دیتا ہے

فکر نا کرو ہر ایک کی زندگی پرفیکٹ نہیں ہوتی کہیں نا کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے تمہارے نصیب کی ہر خوشی تمہیں ہی ملے گی آصف کہتا ھوا مسکرا دیتا ہے اب تم بھی مسکراو

فاخرہ وہیں سے رخ موڑ لیتی ہے وہ سمجھ نہیں پاتی کے زینت اور آصف اگر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو مجھے کیوں نہیں بتایا

دن گزرتے رہے اور بنا جانے غلط فہمی بڑھتی رہی زینت اکثر آصف کے گھر آنے جانے لگی تھی کیوں یہ کوئی نہیں جانتا تھا

بم اس وقت گرا جب آصف کی امی ن زینت کو بہو بنانے کا ارادہ کیا

امی ایسا نہیں هو سکتا آصف سن کے ہی بھڑک گیا

کیوں نہیں هو سکتا ارے کیا برائی ہے اس میں کتنی اچھی ہے وہ کتنا خیال کرتی ہے سب کا کتنا کام ک جاتی ہے میرا اور تجھے کیا مسلہ ہے تو نے ہی کہا تھا جس سے کہو گی شادی کر لوں گا اب کیوں منا کر رہا ہے

آصف کی ماں غصے سے کہتی ہے

ماں مگر میں شادی اب اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ھوں

آصف ضد میں آ جاتا ہے میری یونیورسٹی میں ہے آپ دیکھو گی بہت خوش هو گی

میں آج ہی آپ کو ملواو گا

زینت اور فاخرہ اب دوست تھے مگر پہلے ولی بات نا رہی تھی

وہ یونیرسٹی آ کے زینت سے ہیلپ مانگتا ہے وہ خوشی خوشی راضی هو جاتی ہے اور پھر آصف خود ہی فاخرہ سے بات کرتا ہے

فاخرہ میری سیس کی شادی ہے میں آپ کو انوائٹ کرنا چاہتا تھا اور علی کی دعوت بھی کرنی ہے تو پسند نا پسند آپ کو پتہ هو گی تو اماں آپ سے ملنے کو کہہ رہی تھی تو آپ چھٹی ٹائم زینت ک ساتھ گھر آ جانا پھر دونوں مل کر چھٹی ٹائم دونوں مل کے آصف کے گھر پوھنچ جاتے ہیں

فاخرہ پہلی بار آصف کے گھر آئی تھی

گھبرا کیوں رہی هو کون سا ابھی یہ سسرال ہے پاگل۔زینت کہتے ہی بیل پر ہاتھ رکھ دیتی ہے

ارے زینت آپ آئیں آصف کی بہن زینت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے

ان سے ملو یہ ہیں فاخرہ آصف اور میری دوست ہے

زینت تعارف کرواتی ہے

اور پھر کچن میں آ کر آصف کی ماں سے گلے ملتی ہے وہ جبکہ گھبراٹ میں فاخرہ بس سلام کر کے ہاتھ ملاتی ہے

آصف کی ماں کو فاخرہ مغرور لگتی ہے

تبھی وہ پیچھے کھڑے آصف کو آڑے ہاتھ لینے کا سوچتی ہے

آصف کی ماں فاخرہ کو دیکھ کر کہتی ہے

ارے تمہارا رنگ تو بہت سانولا ہے شادی ہوئی کے نہیں فاخرہ کے دل میں لگتی ہے بات اور چپ رہتی ہے

جی ابھی نہیں ہوئی وہ مسکرا کے کہتی زینت کو دیکھتی ہے جو کچن میں چاۓ بنا رہی تھی۔ اور ساتھ آصف کے پلیٹ میں کھانے کی چیز نکال رہی تھی

آصف کی ماں بھی دونوں کو دیکھتی ہیں

میں ان دونوں کی شادی کروانی ہے بس میں سوچ لیا ہے وہ فاخرہ سے کہتی ہیں

کیا شادی فاخرہ پوچھتی ہے

ہاں میں اپنے آصف کی چاند سے دلہن لاؤں گی کے سبھی دیکھتے رہ جائیں

وہ کہتی ہیں تبھی وہ دونوں چاۓ کا سامان میز پر رکھتے ہیں

کچھ دن بعد عدیل اور فاخرہ کا رشتہ طے ہونے کی خبر سب کو مل جاتی ہے

یہ رشتہ انکے ماں باپ کی مرضی سے ھوا تھا

زینت نے سب سے زیادہ محنت کی تھی اور اب پھل سامنے تھا

کسی اور سے کی گئی سچی محبت دل میں۔ بسائے فاخرہ عدیل کی زوجیت میں آ جاتی ہے

اور کچھ ہی عرصے میں زینت آصف کی ماں کو مٹھی میں۔ کر لیتی ہے اصل میں وہ جان گئی تھی یہ پیسوں سے غریب لوگ ہیں انکو کیسے ہینڈل کرنا ہے اس مے وہی کیا

انکی مجبوری کو دور کیا اور انکی نظر میں اچھی بن کر انکا دل جیت لیا آصف کے باپ کی موت پر بھی سب خرچہ اٹھایا

مرنے سے پہلے آصف کی ماں نے اسکو اپنی قسم دے کے زینت سے شادی پر مجبور کر دیا

یوں دو خاموش محبت کرنے والے اپنے انجام کو پوھنچے

😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔
😔

بظاہر امیر دیکھنے والا عدیل کتنا غریب تھا یہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی پتہ چل گیا

وہ اپنی ہر ضرورت کے لئے بہن کا منہ دیکھتا تھا نا ڈھنگ سے جاب کرتا تھا ہر وقت محبت دینے والا عدیل کتنا بدل گیا تھا ہر وقت لڑائی جھگڑا روز ہوتا مگر فاخرہ کو ایسی چپ لگی تھی کے وہ کسی سے اظہار نا کر سکی

علی فاخرہ کی شادی کے بعد ہی تانیہ کے ساتھ یو کے جا چکا تھا

اپنے باپ کے مرنے پر فاخرہ نے بہت نہیں پر تھوڑی ضد کی تھی کے وہ یو کے جانا چاہتی ہے پر عدیل نا مانا اور یوں وہ اپنے گھر والوں سے بھی کٹ گئی

علی ایک دو بار پاکستان آیا فاخرہ سے مل کے بہت سمجھایا کے طلاق لے کے ساتھ چلو پر وہ نہیں مانی

علی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی علی کی بیٹی اپنی پھوپو کی شکل کی تھی تبھی علی کو بیٹوں سے زیادہ بیٹی عزیز تھی

آصف اور زینت نے رشتوں پر سمجھوتا کیا اور آگے بڑھ گئے زینت کے ہاں لگا تار بیٹیاں ہوئی جن میں دو سلامت تھی دو مر گئی تھی

زینت نے اس بار آصف سے کہہ دیا تھا اگر اب بھی بیٹی ہوئی تو میں خود اسکو مار دوں گی

پاگل هو گئی هو بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں تم نا شکرا پن کیسے کر سکتی هو

آصف غصے سے کہتا موبائل اٹھا کے ناشتے کی ٹیبل پر آتا ہے جہاں عدیل فاخرہ سے غصے میں کچھ کہتا چاۓ کا گرم کپ اس پر گرا دیتا ہے

آصف آگے بڑھتا ہے یہ کیا کر رہے هو عدیل بیوی ہے تمہاری اور کس حال میں ہے وہ دیکھو

فاخرہ آپ کو درد هو رہا هو گا آپ بیٹھیں پلیز آصف اسکو کہتا ہے

نہیں میں ٹھیک ھوں وہ مختصر جواب دیتی ہے جانتی تھی عدیل غصہ هو گا آصف کی ہمدردی ہمیشہ مہنگی پڑی تھی اسے

عدیل اسے کھچتا ھوا کمرے میں لاتا ہے

بڑی ہمدردی هو رہی تھی اسکو تم سے خیر ہے نا

عدیل کیسی بات کر رہے ہیں آپ اپنی بیوی پر شک کر رہے ہیں

ہاں کر رہا ھوں کیوں کے اصلیت جانتا ھوں سنو میں دو دن کے لئے جا رہا ھوں اپنی اوقات میں رہنا سمجھی

آصف کہتا ھوا باہر نکل گیا

اللّه مجھے حوصلہ دے وہ دروازے کی دہلیز پر ہی بیٹھ جاتی ہے

ایک دن آرام سے گزرتا ہے مگر دوسرے ہی دن وبال مچ جاتا ہے

زینت اپنے بھائی کو فون کر کے الٹی سیدھی بات کرتی ہے جس پر وہ بہت غصہ ہوتا ہے

اور گھر آ کے فاخرہ کو بہت مارتا ہے اور کس کس کو دیوانہ بنایا ھوا ہے یہی سب کرتی تھی یونیورسٹی میں نا اسکے مارنے پر بی جان اور آصف فوراً وہاں آتے ہیں زینت شام سے ہی ہسپتال میں تھی

فاخرہ کو آئی سی یو میں شفٹ کیا فاخرہ کو اللّه نے نعمت سے نوازا اور زینت کو پھر سے رحمت سے نوازا

آصف بہت پریشان تھا زینت بیہوش تھی فاخرہ کو ہوش آ چکا تھا

آصف بی جان کے ساتھ فاخرہ کے روم میں گیا

السلام علیکم کیسی طبیعت ہے اب آپ کی

وہ جواب نہیں دیتی بس سر ہلا دیتی ہے

میں جانتا ھوں یہ حق اس کے باپ کا ہے پر اذان تو دینی ہے میں اسکے کانوں میں اذان دے دوں وہ فاخرہ سے اجازت لے کے اذان دیتا ہے

اذان دے کے وہ جانے کے لئے مڑتا ہے تبھی فاخرہ کی کہی بات وہاں موجود دونوں کو ہلا دیتی ہے

آصف جاتے جاتے یہ بچہ بھی لے جائیں

اپنے ساتھ

پر کیوں بیٹا بی جان محبت سے اسکو دیکھتی ہیں

آصف حیرت سے دیکھتا ہے

آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں کیا بات ہے

آصف اپنی بیٹی مجھے دے کر یہ بیٹا زینت کی گود میں ڈال دیں

بی جان زور زور سے روتی ہیں

اللّه اللّه کس مٹی کی هو فاخرہ اس نے تم پر کیسا الزام لگایا تمہیں کیا کچھ کہا تم اسکی گود میں اپنا بچہ دے رہی هو۔

وہ اس لائق نہیں ہے فاخرہ یہ آپکا بچہ ہے آپ اسکو سمبھالیں آصف آنکھ صاف کر کے کہتا ہے پر فاخرہ کی اگلی بات اسکو مجبور کر دیتی ہے

آپ کو ہماری دوستی کی قسم اس بچے کو لے جائیں اور عدیل کے آنے سے پہلے بچی چھوڑ جائیں

آصف بچہ لے کے زینت کے پاس چلا آیا

بی جان *ماں بہت مشکل سے اپنے جگر کا ٹکڑا دیتی ہے جس کے لئے ہر ظلم سہا ہے آج اسکو ہی ایسی عورت کی گود میں دیا جو میری خوشیاں کھا گئی پر مجھے دکھ نہیں میرے اللّه نے میرے لئے رحمت کو چنا ہے بی جان آپ یہ راز راز ہی رکھنا

میری بیٹی ہوئی ہے بس یہ یاد رکھنا

فاخرہ آنکھیں بند کر لیتی ہے جب تھوڑی دیر بعد بی جان اسکی گود میں سرخ سفید گلابی رنگت والی چھوٹی سی پری اسکو۔ تھما دیتی ہیں

میری گڑیا بی جان فاخرہ روتے ہوے کہتی ہیں

💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔حال 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

نوری نوری لالا سب کہاں ہیں آصف گھر آتے ہی آیت کو دیکھنے جاتا ہے پر آیت نہیں ملتی گھر بند تھا

وہ پریشانی میں سبکو آواز دیتا ہے

جی جی صاحب تبھی نوری آ جاتی ہے پیچھے سے مونا بھی آتی ہے

کیا ھوا انکل سب ٹھیک ہے مونا پوچھتی ہے

آیت کہاں ہے نوری گھر بند ہے اور یہ ٹائم وہ اب تک اسکول سے آ چکی ہوتی ہے

صاحب وہ وہ نوری بولتے بولتے ڈرتی ہے

انکل آیت کو چار دن پہلے پھوپو نے تیز طوفانی بارش میں رات کے اندھیرے میں گھر سے بے گھر کر دیا

مونا مزے لیتے ہوۓ کہتی ہے

کیا آصف صوفے کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہیں

انکی آنکھیں نم هو جاتی ہیں مجھے بتایا نہیں میں نے اتنے فون کیے ہر بار ایک بات آیت بات نہیں کرنا چاہتی اور اب یہ سب کہاں هو گی میری بچی

نوری پانی دیتی ہے بی جان ایک کونے میں کھڑی رو رہی تھی تبھی مین ڈور سے زینت اور زویا شاپنگ کرتی ہوئی اندر آئی

آصف صاحب غصے سے انکی طرف بڑھے اور سارے شاپر پھنک دیے

کس جرم کی۔ سزا دی آیت کو بولو۔

زینت نوری کو دیکھتی ہیں وہ سر جھکا دیتی ہے تبھی مونا کی مسکراتی شکل پر وہ سمجھ جاتی ہیں کے آگ لگ چکی

آصف آیت میرے بیٹے کو بہکا رہی تھی بس تبھی میں نے اسکو نکال دیا وہ بد کردار ماں کی بد کردار بیٹی تھی

آصف صاحب پہلی بار زینت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ وہ بھی سب کے سامنے

بند کرو بکواس اپنی بند کرو

بد کردار فاخرہ نہیں تم هو اور بہکا آیت نہیں تمہارا بیٹا اسکے پیچھے پڑا ھوا تھا روز رات کو جا کے اس معصوم کو تنگ کرتا تھا ڈراتا تھا میں نے بہت منا کیا پر نہیں منا تبھی میں اسکو یہاں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا

کیوں کے معلوم تھا تمہارا گرا ھوا بیٹا کوئی حرکت ضرور کرے گا

نہیں ایسا نہیں ہے فاخرہ کا گندا خون تھا اس میں اور بھی پتہ نہیں کس کس کے ساتھ تعلق تھے رات کے دو بجے تو اسکا کزن آتا تھا اس سے ملنے بتاؤ مونا تم نے دیکھا تھا نا زینت مونا کی طرف رخ کرتی۔ ہے

جی انکل پھوپو ٹھیک کہہ رہی ہے اور اس رات تو جب پھوپو نے نکالا آیت فیضی کے ساتھ ہی گئی تھی گاڑی میں میں نے خود دیکھا ہے

ابھی مونا کہہ ہی رہی تھی کے ایک آواز پر سبھی اسکی طرف متوجہوۓ

السلام علیکم فیضی سبکو حیران دیکھ کے ٹھٹک جاتا ہے

آصف صاحب دیوانوں کی طرح اسکے پاس جاتے ہیں

فیضی فیضی میری آیت کہاں ہے کیسی ہے

زینت حیران هو کر آصف کا رویہ دیکھتی ہیں

انکل آیت میرے ساتھ نہیں ہے میں تو خود 4 دن سے اسلام آباد گیا ھوا تھا آج ابھی آیا سوچا آیت سے مل لوں کہاں ہے آیت فیضی کے چہرے کی ہوائیاں اڑھ چکی تھی سبھی لوگ خاموش تھے

جب تمہارے ساتھ نہیں ہے تو پھر اس رات آیت کس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گئی مونا خود اب حیران تھی

هو سکتا ہے کوئی عاشق هو اسکا تبھی اتنی رات کو لے گیا اب ہم کیا کہیں بئی لڑکی ہی ایسی نکلی

زینت کی زبان زہر اگل رہی

آصف صاحب زینت کی طرف بڑھتے مگر فیضی نے روک دیا

وہ بد کردار لڑکی تمہاری بیٹی ہے فاخرہ کی نہیں تم اسکی ماں هو تم نے جنم دیا اسکو آصف صاحب روتے ہوے کہتے ہیں اور صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں وہاں کھڑا ہر شخص آج حیرت زدہ تھا

میری بچی کہاں هو گی فیضی آصف صاحب بار بار ایک ہی بات کر رہے تھے

زینت پتھر کی هو چکی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *