Chand Si Bahu by Khaak e Makkah NovelR50683 Chand Si Bahu (Episode 01)
Rate this Novel
Chand Si Bahu (Episode 01)
Chand Si Bahu by Khaak e Makkah
وہ آج تین سال کی ٹریننگ کے بعد گھر لوٹ رہا تھا ہر طرف اس کی آنے کی گہما گہمی تھی
اپی آپ کیوں اب تک تیار نہیں ہوئی
زویا نے صوفے پر بیٹھی آیت سے پوچھا
ویسے ہی کیوں میں ایسے اچھی نہیں لگتی آیت نے منہ بنا کی پوچھا ہاہا بہت اچھی لگتی ہیں اپی آپ جتنی سادی اتنی پیاری زویا نے آیت کی بانہو میں ہاتھ ڈال کی مسکرا کی کہا
ہاہا ویری فنی آیت نے منہ چڑایا
اچھا جاؤ پانی پلا دو مجھے
اوکے اپی زویا وہاں سے اٹھ جاتی ہے
فاخرہ ارے او فاخرہ زینت صاحبہ آیت کی امی کو آواز دیتی ہوئی اوپر سے نیچے آئیں آیت پر نظر پڑتے ہی پوچھنے لگی اے تمہاری ماں کہاں ہے
باہر گیں ہے آیت نے بنا دیکھے جواب دیا
زینت صاحبہ جیسے آئیں ویسے ہی چلی گیں مگر بڑبڑانا نا بھولی جب دیکھو باہر ہی ہوتی ہے سکوں ہی نہیں ہے کے گھر ٹک کے بیٹھ جائے













آیت اپنے امی ابو کی ایک ہی بیٹی ہے ابو اس دنیا میں نہیں ہیں پر آیت کی پھوپو گھر ساتھ ساتھ ہونے کی بنا پر انکو اپنے ساتھ رکھتی ہیں آیت کو بچپن سے ایک بات سمجھائی گئی تھی کہ اسکی شادی جبران سے هو گی اور کسی سے نہیں بچپن کی بات ذھن میں پکی هو چکی تھی وقت کی ساتھ ساتھ یہ صرف بات نہیں اسکے جینے کی وجہ بن چکی تھی
مگر کچھ خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تھوڑی بہت محنت کرنی پڑتی ہے














زینت صاحبہ آیت کی پھوپو ہیں انکا ایک ہی بیٹا ہے اور دو بیٹیاں حرا اور زویا اور ایک انکے شوہر آصف جو انتہائی شریف انسان ہیں
حرا اپنے مامو کے بیٹے کے ساتھ شادی کر کے انگلینڈ جا چکی ہے جبران ابھی پولیس کی ٹریننگ کے لئے اسلام آباد گیا ہوا ہے زویا ایف اے کر کے فری ہے


















آیت بیٹا آپ اب ٹک بیٹھی ہوئی ہیں تیار نہیں ہوئی آج جبران آ رہا ہے
وہ جو آنکھ بندھ کر کے اپنے ہی خیالوں میں گم تھی اچانک آصف صاحب کے کہنے پر چونک جاتی ہے
جی جی انکل بس تیار ھوں میں آیت نے جہجھکتے ہوئے کہا
انہوں ں غور سے دیکھا اور مسکرا دئیے کھڑے هو کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا بلکل ہماری بیٹی سادگی میں بھی بہت خوبصورت ہے
وہ انکی تعریف پر نظریں جھکا لیتی ہے ماضی میں کسی کے کہے گئے الفاظ یاد آتے ہی پلکیں بھیگ جاتی ہیں۔
(میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے میں بس ایک کزن کی حیثیت سے محبت کرتا ھوں خیال رکھتا ھوں فکر کرتا ھوں بس اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھی تم بھی یہ سوچ ختم کر دو کے میں تم سے شادی کروں گا میں تم سے دوستی کر سکتا ھوں مگر شادی اور محبت نہیں اپنے آپ کو دیکھو اور مجھے دیکھو کہاں ہم ایک جیسے دکھتے ہیں )








ٹھیک کہا تھا آپ نے بہت فرق ہے ہم میں ہم کبھی ایک نہیں هو سکتے
وہ میگزین رکھ کے کچن کا رخ کرتی ہے کافی بنا کے اپنے کمرے میں آ جاتی ہے
ماضی کی تلخ یادیں سوچ کر ہی دل بھر آتا ہے تکیے پر منہ رکھ کے وہ آج پھر رو پڑتی ہے۔
تیری یادوں سے پیچھا چھڑاوں کیسے
تو ہی بتا جاناں تجھے بھول جاؤں کیسے











3 سال پہلے
وہ اپنی بائیک دھو رہا تھا اور ساتھ ہی گنگنا رہا تھا
تبھی آیت بھاگ کے آتی ہے اور فرش پر صرف کا پانی جو گرا وہ دیکھ نہیں پاتی پسل کر گر جاتی ہے اور ایک دم چیختی ہے تبھی جبران کی ہنسی نکل جاتی ہے
اففففف امی میری ٹانگ جبران مجھے چوٹ لگی ہے اور تم ہنس رہے هو آیت غصے سے بولتی ہے اور اٹھنے کی کوشش کرتی ہے تبھی جبران ہاتھ بڑھا کو اسکے ہاتھ کو پکڑ کے سہارا دیتا ہے
کس نے کہا تھا بھاگتی ہوئی آؤ جبران سہارا دے کر پاس رکھی کرسی پر بیٹھاتا تھا اور نیچے بیٹھ کر اسکا پاؤں دیکھنے لگتا ہے تبھی وہ اسے پیچھے کر دیتی ہے
رہنے دیں جبران میں خود کر لوں گی
کھڑے ہونے کی کوشش میں ایک بر پھر کرسی پر گر جاتی ہے
کھڑی تو هو نہیں پا رہی اندر کیسے جائیں گی میڈم آپ آئیں ہاتھ دیں میں لے جاتا ھوں ۔
ابھی وہ ہاتھ دیتی ہی ہے کے پھوپو کی آواز آ جاتی ہے
تم یہاں هو اب تک جبران کو بلانے بھجا تھا نا زینت آتے ہی شروع هو جاتی ہے
امی امی رکیں یہ دیکھیں اس بیچاری کو چوٹ لگی ہے پاؤں میں وہ پانی سے پسل گئی ہے جبران ایک دم روک کے بتا دیتا ہے
جبران کو دیکھ کر کچھ زیادہ نہیں اچھل کود کرتی هو تم ہاں ۔۔۔ بول کر وہ ایک نظر اسکو دیکھتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔
آیت سر جھکا کے سب سنتی اور آنسو پینے کی کوشش کرتی ہے
امی کو رہنے دو آؤ تم میں اندر لے جاؤں جبران ہاتھ دیتا ہے وہ نذر اٹھا کے روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتی ہے
نہیں میں چلی جاؤں گی اور دیوار کا سہارا لے کے اندر کی طرف قدم بڑھا دیتی ہے
وہ پیچھا کھڑا دیکھتا رہ جاتا ہے آخر ماما اتنا کیوں بدل گئی ہیں پہلے کتنی محبت تھی انکو آیت سے اور اب وہ سر جھٹک کے اندر کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔









دوڑ بیل کی آواز سے وہ ماضی سے حال میں آتی ہے اور دروازے کی طرف قدم بڑھاتی ہے سامنے انجان چہرہ دیکھ کے گھبرا جاتی ہے
آپ کون آیت دیکھتے ہی سوال کرتی ہے
جی وہ میں پھوپو کے ساتھ آیا ھوں ۔۔۔۔۔
فیزی جواب دیتا ہے
تبھی پیچھے سے فاخرہ آتی دکھائی دیتی ہیں ارے تم اندر نہیں گئے اب تک میں نے بتایا تھا نا اگر دروازہ میری بیٹی نے کھولا تو ہزار سوال کرے گی وہ مسکرا کے بولتیں ہیں فیزی مسکرا کے انھیں دیکھتا ہے آیت نا سمجھی میں ماں کو دیکھتی ہے اور انکی نظروں کا اشارہ سمجھ کے فیزی کو اندر آنے کا راستہ دیتی ہے
اوکے پھوپو میں چلتا ھوں سامان رکھ کے وہ جانے کے لئے مڑتا ہے
نہیں نہیں نہیں اتنے عرصے بعد میرا بیٹا گھر آیا ہے کھانا کھا کے جانا بس
فاخرہ اسکو ہاتھ سے پکڑ کے بیٹھا دیتی ہیں
سچ پھوپو پھر کبھی آج نہیں بہت کام ہے پلیز اور تھک گیا ھوں بہت سمجھیں نا وہ محبت سے انکے ہاتھ چوم کے کہتا ہے ۔۔۔
تبھی آیت چاۓ لے آتی ہے
چلو آیت کے ہاتھ کی مزے دار چاۓ پی لو پھر دیکھنا سب تھکن اتر جائے گی
چاۓ کے پہلے ہی سپ پر وہ نظر اٹھا کے آیت کو دیکھتا ہے ہلکے براون رنگ کے کپڑوں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی فیزی نے پہلی بار کسی لڑکی کو اتنے غور سے دیکھا تھا
اور کوئی شک نہیں چاۓ سے تھکن اتری اور چاۓ بنانے والی بھی دل میں اتر گئی
اوکے پھوپو پھر بات هو گی آپ میرا کارڈ رکھ لیں وہ جانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے سر پر ہاتھ رکھ کے فاخرہ اللّه حافظ کرتیں ہیں
وہ آیت کے قریب رک جاتا ہے
آپ کے ہاتھ کی چاۓ بہت اچھی تھی میں نے آج تک اتنی اچھی چاۓ نہیں پی مشٹھی (mishthi)مطلب ((مٹھاس ))کہہ کے آگے بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ چاۓ کا کپ اٹھاتی ہے کچن میں رکھنے سے پہلے کپ منہ کو لگاتی ہے اور ایک دم تھوک دیتی ہے
یخ تھو سنک میں کلی کرتی ہے اتنی میٹھی چاۓ پی گیا یہ انسان میں نے تو جبران کو جیسی پسند ویسی بنائی تھی افففف یہ جبران کہاں سے یاد آ گیا ۔۔۔
آیت آیت کہاں هو فاخرہ بیگم کی آواز پر وہ برتن دھو کے ایک منٹ لگاے بنا کمرے کی طرف بڑھ جاتی ہے
امی آپ کا بھتیجا کب کہاں سے آ گیا پہلے کبھی انکو نہیں دیکھا تھا ۔۔
آیت اپنی ماں کی گود میں سر رکھ لیٹی ہوتی ہے
بیٹا میرے بھائی باہر تھے تمہارے پاپا کے جانے کے بعد وہ آئے تھے ہمیں لے جانے کے لئے پر تمہاری پھوپو نے کہا ہم اپنی بیٹی یعنی تم کو ساتھ نہیں جانے دیں گے بس پھر میں نے بھائی کو بیھج دیا پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی بس فون پر بات ہوتی تھی اب وہ بھی چھوڑ دی تھی آج اچانک بس فیض مل گیا سامان اٹھا کے گھر تک لے آیا میرے بھائی لاھور شفٹ هو گئے ہیں جبران آ جائے پھر جائیں گے ملنے ہاں ایک بات کا دھیان رکھنا جبران سے دور رہنا آپا کو نہیں پسند جب تک شادی نہیں ہوتی فاخرہ آیت کو سمجھاتی ہیں
وہ گال پر پیار کر کے اٹھ کے بیٹھ جاتی ہے اوکے ماں نہیں جاتی بس اب خوش چلیں باہر کام دیکھیں رات مہمان بھی آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔









اپی بھائی آ گے زویا زور سے چلاتی ہے وہ گلے میں دوپٹہ ڈالے باہر آتی ہے سامنے ہی وہ کھڑا ہوتا ہے جس کے انتظار میں آج بھی بیچنی سے راہیں تک رہی تھی وہ جبران کو دیکھ کے جھجک کے سلام کرتی ہے
السلام علیکم ویلکم بیک ٹو ہوم جبران
ارے وہ تھنکو چچمش وہ پاس آ کہ کہتا ہے تبھی آیت کی نظر ماں پر جاتی ہے جو اسکو منظر سے ہٹنے کو کہتیں ہیں وہ کچن میں گھس جاتی ہے
مام یہ تو بہت بدل گئی ہے نہیں جبران ماں کو دیکھتا ہے جو سر جھٹک دیتی ہے اور فاخرہ کو کھانا لگانے کا حکم دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔








صبح کا اخبار کہاں ہے موم جبران غصے سے بولتا ہے تبھی آیت اسکے سامنے لا کے رکھتی ہے یہ لیں
وہ جانے کے لئے پلٹتی ہے
کل اچھی لگ رہی تھی جبران کا رویہ تبدیل ہوتا دیکھ کر وہ پھر سے غلط سمجھ بیٹھتی ہے
بہت شکریہ کہہ کر چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
جبران اسے جاتا دیکھ کر صوفے پر بیٹھ جاتا ہے
جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ جبران کو ناشتہ دینا ہے پھوپو کی بار بار کی ڈانٹ سے اب وہ چڑ جاتی ہے
اففف پھوپو بنا تو رہی ھوں نا اسکی آواز بلند ہوتی ہے
دیکھ رہی هو اپنی لڑکی کے کارنامے کیسے اونچی آواز بلند کر کے بول رہی ہے ہماری بلی ہمی کو میاؤں کر رہی ہے احسان یاد کرو ہمارے جو تمہیں رکھا ہم نے پالا بڑا کیا پڑھایا بھی اور تم یہ گل کھلانا سسرال جا کے جلدی ہاتھ چلاؤ وہ کہہ کے کچن سے نکل جاتی ہے یہ دیکھے بنا کے پیچھے فاخرہ اور آیت کا رنگ اُڑ گیا ہے
امی امی یہ یہ پھوپو کیا بول کے گیں ہیں اسے پتا نہیں چلتا کب وہ رونے لگتی ہے
امی امی کچھ تو کہیں اسکے رونے میں شدت آ جاتی ہے
**صبر کرو بیٹا اللّه بہت بڑا کار ساز ہے یہ لوگ خود کو دنیا میں خدا سمجھ بیٹھے ہیں تم ہمت کرو اللّه نے اگر اچھا شخص لیا ہے تو وہ یقیناً بہترین دے گا**
چپ کرو آیت بس اب وہ بہترین دے گا تم کو فاخرہ اپنے آنسو چھپا کے اس کو چپ کرواتی ہیں۔۔۔۔۔
پورے گھر میں جبران اور مونا کی شادی کے چرچے ہونے لگتے ہیں
وہ ابھی اسکول سے تھکی ہوئی آئی تھی کے پھوپو کی آواز پر سر اٹھا کے دیکھتی ہے
تم جلدی سے چینج کرو اور بی بی جی کے پاس کچن میں آ جاؤ کھانا پکانے میں ہیلپ کرو پھر شاپنگ پر جانا ہے مونا اور حرا آج شام انگلینڈ سے آ رہی ہیں
وہ بے دلی سے سر جھکا کے انکی بات سنتی ہے اور کھڑے هو کے مسکرا دیتی ہے
جی ابھی آتی ھوں پھوپو کہہ کر اپنے کمرے میں بھاگ جاتی ہے
بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ جاتی ہے
کیا ہر درد اور مشکل میری ہی راہ میں آنا تھااللّه ؟؟
بری بات اللّه سے شکوہ نہیں کرتے اس کے دل سے آواز آتی ہے
اسکی آنکھ نم هو جاتی ہے میں شکوہ نہیں کر رہی ھوں اللّه آپ سے شیئر کر رہی ھوں کیوں کے بہت تکلیف میں ھوں بچپن سے ایک شخص کے خواب دیکھے کے وہی میرا ہے باقی کبھی کسی کو دیکھا تک نہیں اور آج اتنی آسانی سے اس شخص سے دستبردار ہونا پڑا یہ کیسا انصاف ہے میرے ساتھ کیوں ہے آخر ایسا کیوں کے میں معمولی شکل کی ھوں بس اسی لئے نا وہ خود سے باتیں کرتی ہیں
فاخرہ جو اسکی باتیں سن لیتی ہیں پیار سے اس کو کہتی ہیں جی نہیں میری بیٹی بہت پیاری ہے
فاخرہ اسکو دیکھتی ہیں اور آنسو صاف کرتی ہیں بیٹا کل بھی کہا آج بھی کہتی ھوں اس شخص کے لئے آنسو نا بہاو جسے پروا نہیں ہے حوصلہ اور
**صبر صرف اللّه ہی عطا کر سکتا ہے نماز پڑھو اور دعا کرو کے تمہیں صبر اور شکر کے ساتھ حوصلہ عطا کرے بس کیوں کے بعض دفع ہم اپنے لئے ایک عام سے شخص کا انتخاب کرتے ہیں پر اللّه جانتا ہے کے ہمارے عام سا انسان بہتر ہے یا نہیں اور پھر اللّه تو بہت محبت کرنے والا ہے اس نے کچھ عام سی شکل والی لڑکیوں کے لئے بہت خاص قسم کے لڑکے چن رکھے ہوتے ہے میری بیٹی کے نصیب کا لڑکا خود چل کےآئے گا تم دیکھنا لوگ رشک کریں گے تم پر وہ سر جھکا دیتی ہے**
امی میں کتابی نہیں حقیقت کی زندگی گزار رہی ھوں اور یہاں ایسا کچھ نہیں هو گا
میں کچن میں جا رہی ھوں وو اٹھ کے منہ ہاتھ دھو کے روم سے نکل جاتی ہے۔۔۔۔
فاخرہ نم آنکھیں بند کر کے بیڈ پر لیٹ جاتی ہے آج صبح سے سر درد بڑھ رہا ہے پر وہ اپنی بیٹی کے دکھ میں اسکے ساتھ تھی اسی لئے اسے نہیں بتا پاتی کے وہ خود اذیت سے گزر رہی ہیں ۔۔۔۔۔









کھانا بن گیا ہے بی بی جان میں نماز پڑھ کے تھوڑی دیر آرام کر لوں وہ چاول دم کر کے بی بی جان کی طرف مڑتی ہے جو اپنی نم آنکھیں صاف کر رہی هوتی ہیں
کیا ہوا بی بی جان وہ انکا ہاتھ تھام لیتی ہے
کچھ نہیں میری بچی اللّه تمہارے نصیب بلند کرے اور یہ لوگ رشک کریں تم پر بڑی تکلیف میں ہے تمہاری ماں تمہاری پھوپو سے بات کی تھی تمہاری شادی کی بہت بے عزتی کی ہے اس نے تمہاری ماں کی بس اللّه جلد تمہیں اپنے گھر کا کرے ابھی وہ بات کر ہی رہی ہوتی ہیں کے زینت آ جاتی ہے
آپ لوگوں کو کام کرنے کے پیسے ملتے ہیں نا باتیں کرنے کے اور تم آیت میرے کمرے میں آؤ
وہ کہہ کے نکل جاتی ہے اور وہ زینت کے پیچھے چل پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آ کے زینت اسکے آگے پیسے رکھ دیتی ہیں یہ لو کچھ پیسے اپنی اور اپنی ماں کی شاپنگ کر لینا۔ اور ہاں سنو سب کے سامنے منہ بندھ رکھنا اگر کسی بھی خاندان والے کو کچھ بھی الٹا بولا وہ دیں اس گھر میں تم ماں بیٹی کا آخری دن هو گا سمجھی
وہ حیرت زدہ هو کے سگی پھوپو کا حال دیکھ کے حیران رہ جاتی ہے اور جھٹکے سے پیسے پینھک کے نکل جاتی ہے ۔۔۔۔
امی امی کمرے میں آتے ہی چیخ پڑتی ہے
کیا ہوا آیت وہ وضو کر کے فوراً باہر آتی ہیں
پھوپو نے کیا کہا آپ سے سچ بولنا سچ کے سوا ایک لفظ نہیں سنو گی
وہ اس وقت بہت جنونی لگ رہی هو ہے
اور وہ بنا دیر کے اسے بتا دیتی ہیں کے اس کے رنگ کو انا کا مسلہ بنا کے جبران نے اسکے ساتھ شادی سے منا کر دیا اور مونا سے شادی اپنی پسند سے کر رہا ہے وہ سر جھکا کے بیٹی کو سب بتا دیتی ہیں جیسے ساری غلطی انکی هو
تبھی وہ پاس پڑا گل دان اٹھا کے پھنکتی ہے وہ ایک دم چیختی ہیں آیت یہ کیا کر رہی هو
![]()
امی ایک عام سی شکل کی لڑکی بھی دل رکھتی ہے لوگ کیوں نہیں سمجھتے وہ وہیں بیٹھ جاتی ہے اور گٹھنو میں سر رکھ کے رو پڑتی ہے
اے زندگی تو بے وفا و بے مروت سہی
ہم بھی تجھے گزاریں گے ہم اہل وفا سہی
