Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Si Bahu (Episode 04)

Chand Si Bahu by Khaak e Makkah

**وہ اسے سن کے ایک لمحے میں سوچتا ہے اس سے شادی اگر کر لی تو یہ تو کبھی میری نہیں سنے گی

افف وہ بیچ میں ہی ٹوک دیتا ہے

کتنا بولتی ہیں آپ بس آب میری سنیں آپ نے کہا تھا نا کے معاف کر دیں تو ایک شرط ہے تبھی معافی ملے گی**

کیسی شرط وہ پوچھتی ہے

میں اس وقت ایک شاپنگ مال میں ہوں اور آپ کو میری ہیلپ کرنی ہے لیڈیز شاپنگ کرنے میں

وہ اپنا مقصد بتاتا ہے

بڑا پرسنل سا سوال ہے کس کے لئے کر رہے ہیں ویسے ہیں وہ حیرت سے پوچھتی ہے کیوں کے فیضی بہت ہی سمپل سا تھا وہ کسی لڑکی کی شاپنگ کرے گا حیرت ہے وہ سوچتی ہے

وہ سوچ ہی رہا تھا کے کیا جواب دے وہ خود بول پڑتی ہے

اچھا اپنی گرل فرنڈ کے لئے کر رہے ھوں گے نا آج کال سبھی کو شوق ہے

وہ ہنستی ہوئی بول دیتی ہے

سامنے والے کا دکھ سے برا حال هو جاتا ہے کیا سوچتی ہے تف ہے تبھی وہ جل کے بولتا ہے نہیں اپنی ہونے والی بیوی کے لئے کر رہا ہوں

اچھا اچھا چلیں پھر آپ کو انکی پسند پتہ هو گی نا وہ ٹوک با ٹوک جواب دیتی ہے

فیضی ۔۔۔جی پوچھ رہا ہوں تبھی آپ سے

آیت ۔۔۔۔کیا مطلب کیا کہا

فیضی ۔۔۔۔کچھ نہیں آب بولیں گی

ہمم اچھا سے وائیٹ رنگ کا ایک سیٹ لیں

فیضی ۔۔۔سر یہ سامنے والا سیٹ دیں

ساتھ میں چوڑیاں پوچھیں اسی رنگ کی ہیں

ہاں مل گئیں اور کچھ

ہاں اب دو تین کوئی رنگ لے لیں

اور جب بیوی کے لئے شاپنگ کر رہے ہیں۔ تو ایک بلیک رنگ کا سوٹ لے لیں۔ اچھا سا ریپ کروا لیں دل شیل لگوا لینا ہاں اوکے آب میں جا رہی ہوں آب تو بول دیں معاف کیا

اوکے معاف کیا

وہ فون بند کر باتھ روم میں نہانے چلی جاتی ہے

😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😀
😊
😊
😊
😀

پورا گھر روشنی میں ڈوبا ھوا تھا ہر طرف رنگ بکھرے ہوے تھے وہ ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر نیچے آ کے ماں کو ڈھونڈتی ہے

تبھی مونا اور جبران کی انٹری ہوتی ہے پھولوں سے سجی راہ پر چل کر وہ دونوں خوبصورت سے اسٹیج کی طرف بڑھتے ہیں

وہ نم آنکھوں سے یہ سب دیکھتی ہے اور نظر پھر سے ماں کو ڈھونڈتی ہے

تبھی اسے بی جان نظر آتی ہیں گیٹ کی طرف بڑھ جاتی ہے

بی جان امی کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی وہ نیچے بیٹھ کر پھولوں سے کھیل رہی ہوتی ہے

بیٹا وہ اندر کام کر رہی ہے تم کسی سے کہ کر یہ پھول اٹھوا لو بہت بے ادبی هو رہی ہے وہ اس کو کہہ کر خود دوسرے کام میں لگ جاتی ہیں

سنو ان پھولوں کی

بھی زندگی ہوتی ہے

یہ ہنستے ہنساتے ہیں

یہ زندگی سے بھرپور

زندگی گزرآتے ہیں

تم انکواپنے قدموں

کی دھول نا بناؤ

یہ تو با ادب ہوتے

قبروں کی زینت بنتے ہیں

وہ پھول چنتے چنتے خود ہی بول رہی ہوتی ہے کے اچانک کسی کے بوٹ اسکے نازک ہاتھوں کو دبا دیتے ہیں

😘
😘
😘
😘
😘
😘
😘
😘
😘
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋
😋

وہ گھر آ کے جلدی سے سارے کام نبٹاتا ہے فضا کو برگر کھلا دیا تھا تبھی وہ راستے میں ہی سو چکی تھی اسکو لٹا کر وہ روم میں آتا ہے تبھی مونا کی کال آ جاتی ہے

ہیلو ڈیر کیسے هو

مونا محبت سے پوچھتی ہے

وہ اکتایا ھوا ہوتا ہے تبھی چڑ جاتا ہے

کیا کام ہے

فیضی بیزاری سے جواب دیتا ہے

مونا کڑھوے لہجے میں میں کہتی ہے

میرا نکاح ہے تم آؤ گے

نہیں میری طبیعت نہیں ٹھیک اسی لئے سوری پھر کبھی آ جاؤں گا

فیضی ٹالنے کی کوشش کرتا ہے

مونا ضد میں اسکو راضی کر ہی لیتی ہے

نہیں مجھے نہیں پتہ بس تم آؤ گے یا پھر تم مجھے کسی اور کے ساتھ دیکھ نہیں پاؤ گے ہاں یہی ہے نا

فیضی غصے میں اسکو ہاں کر دیتا ہے

اوکے میں آدھے گھنٹے تک آتا ھوں

زرش کو میسج کر کے وہ اپنا موبائل اٹھا کے بیڈ پر پھنک دیتا

ہے

تم اپنی سوچ کی طرح آج بھی بہت ہی گھٹیا هو

وہ نیچے آتا ہے سامنے زرش تیار کھڑی ہوتی ہے

آج اسکا موڈ سخت اوف تھا ایک کے بعد ایک اسکو لڑکی کے ساتھ الجھنا پڑ رہا تھا وہ جتنا دور رہنا چاہتا تھا آج اتنا ہی لڑکیوں کا سامنا تھا

آدھے گھنٹے بعد وہ آصف ولا کے سامنے ہوتا ہے

تم اندر چلو میں گاڑی پارک کر کے آتا ھوں

وہ زرش کو اندر بیھج۔ کے گاڑی پارک کر کے اندر کی طرف بڑھتا ہے

تبھی گیٹ پر پھولوں کے بیچ میں بیٹھی ہوئی لڑکی پر نظر پڑتی ہے تبھی زرش کی آواز پر وہ اسکی طرف بڑھ جاتا ہے

آیت اٹھ کے تھوڑا آگے بڑھ جاتی ہے اور پھول اٹھانے کے لئے ہاتھ آگے کرتی ہے تبھی کسی کے بھاری بوٹ اسکے نازک ہاتھ پر پڑ جاتے ہیں

اسکی چیخ نکل جاتی ہے جسکو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کے روکنے کی کوشش کرتی ہے

وہ ایک دم پاؤں ہٹاتا ہے اور نیچے جھک جاتا ہے

آیت آپ فیضی حیرت سے اسکو دیکھتا ہے

آیت غصے سے اسکو دیکھتی ہے

اور پھر اپنا ہاتھ دیکھتی ہے

جی میں آپ دیکھ نہیں سکتے ہیں کیا

وہ بنا لحاظ رکھے کہتی ہے تبھی مونا انکی طرف آ جاتی ہے

مونا۔ ۔۔اے لڑکی تمہاری اتنی ہمت میرے آنے والے مہمانوں سے بد تمیزی کر رہی هو

وہ اسکا بازو میں اپنے ناخن گاڑ دیتی ہے

افف چھوڑو میرا ہاتھ آیت اسکی طرف دیکھ کر کہتی ہے

سوری کہو پہلے فیض سے مونا کو غصہ آتا ہے

اٹس اوکے مونا رہنے دو غلطی میری ہی ہے مجھے دیکھ کے چلنا چاہیے تھا

وہ بات ختم کر کے آگے بڑھ جاتا ہے

پیچھے ہی مونا بھی چل پڑتی ہے

بی جان امی کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی کافی دیر سے وہ پریشان هو کر یہاں وہاں دیکھتی ہے دور کھڑا فیضی اسی کو دیکھ رہا ہوتا ہے

وہ اندر جاتی ہی ہے۔ کے نوری بھاگتی ہوئی آتی ہے

آیت آیت تمہاری امی بیہوش هو گئی ہیں جلدی چلو ۔۔۔

وہ اندھا دھند بھاگتی ہوئی اپنے پورشن میں جاتی ہے کمرے میں داخل ہوتے ہی نیچے گری ہوئی فاخرہ پر نظر پڑتی ہے

امی امی کیا ھوا اٹھئیں پلیز امی نوری پانی لاتی ہے جو وہ ان پر پھنکتی ہے تھوڑی دیر میں انکو ہوش آ جاتا ہے

وہ انکے گلے لگ کے رو پڑتی ہے شکر ہے امی آپ کو کچھ نہیں ھوا آپ نے تی جان ہی نکال دی تھی میری وہ انکا ماتھا چومتی ہوئی کہتی ہے آیت کی آنکھ رونے سے سرخ هو جاتی ہے

آیت کے پوچھنے پر وہ اسے ٹال دیتی ہیں

امی آپ کو ھوا کیا تھا ابھی۔ تو ٹھیک تھی اچانک کیسے بیہوش هو گئیں آپ

فاخرہ بیگم ۔۔۔بس بیٹا چکر آ گیا تھا اور کچھ نہیں پریشان نا هو تم چلو باہر چلو میں آتی ھوں

آیت ۔۔۔ نہیں میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی آپ آرام۔ کریں میں یہیں ھوں

فاخرہ ۔۔نہیں تم۔ جاؤ بیٹا پتہ ہے تمہاری پھوپو غصہ هو جائیں گی کے۔ دونوں ہی نہیں ہیں اور تمہیں پتہ ہے نا تم۔ نے سب کے سامنے مضبوط بننا ہے کمزور نہیں جاؤ شاباش میں آتی ھوں وہ اسکو بہانے سے باہر بیھج دیتی ہیں

اور بی جان کو دیکھ کر۔رو۔ پڑتی ہیں بی جان میری بیٹی بہت معصوم ہے وہ صرف شور مچا کر رکھتی ہے اصل میں اندر سے ڈری ہوئی ہے

میرے جانے کے بعد اس کا بہت خیال رکھنا

میری زندگی مجھ سے وفا نہیں کرے گی میں جانتی ھوں

پر آپ نے اسکو سمبھالنا ہے اسکا ساتھی بننا ہے

وہ ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے کھڑی هو جاتی ہیں

نا نا بیٹا ایسا نا کہو تم تو میری بیٹی جیسی هو بلکہ بیٹی ہی هو تم حوصلہ رکھو اور اپنے بھائی کے بیٹے کو سب بتا دو وہ ضرور کوئی حل نکالے گا بی جان محبت سے انکی طرف دیکھ کر بولتی ہیں

فاخرہ کی آنکھوں میں فیضی کا چہرہ آ جاتا ہائی اور آنکھیں چمک جاتی ہیں

ٹھیک کہا میں شادی سے فارغ ہوتے ہی اس سے بات کروں گی

پر بیٹا کیا تمیں نہیں لگتا ہمیں آیت کو آب سب سچ بتا دینا چاہیے بی جان انکے چہرے پر چمک دیکھ کر کہتی ہیں

نہیں نہیں بی جان ایسا کبھی نہیں هو گا کچھ باتوں پر پردہ پڑا ہی رہنا چاہیے ورنہ جب یہ سامنے آتی ہیں انسان محبت کرنے والوں سے بدزن هو جاتا ہے اور آیت کی فطرت ہے وہ سمجھتی نہیں ہے بس جو دیکھتی ہے وہی مان لیتی ہے

میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتی ھوں آج کے بعد کبھی یہ بات نا کرنا

🙏🏻
🙏🏻
🙏🏻
🙏🏻

ٹھیک ہے بیٹا چلو۔ نیچے سب انتظار کر رہے ہیں کام بہت ہے

نکاح کی تقریب بہت دھوم دھام سے منعقد کی گئی تھی ہر ایک زبان پر یکھ بات تھی کے جوڑی بہت زبردست ہے پر آیت کا آب کیا هو گا اس سے شادی کون کریگا

پاس سے گزرتا ھوا فیضی سن کر آیت کو ڈھونڈتا ہے وہ سامنے ہی نظر آ جاتی ہے وہ اس کی طرف بڑھ جاتا ہے جو کسی لڑکے سے کسی بات پر جھگڑا کر رہی هوتی ہے

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

تم جیسے ڈھیٹ بہت دیکھیں ہیں جاؤ جا کر کہیں اور یہ تیر آزماو مجھ سے تو ابھی بے عزتی کروائی ہے اگلی بار مار بھی دوں گی نکلو یہاں سے ہمم

وہ آستین چڑھا کر کہتی ہے جو ہوتی نہیں ہیں کیوں کے ہاف سلویس ہوتی ہیں وہ مڑتی ہے کے سامنے ہی فیضی کھڑا ہوتا ہے

پوچھ سکتا ھوں مس آیت یہ سب کیا تھا

چہرے پر سختی لئے وہ بہت مہذب انداز میں اس سے پوچھتا ہے

آیت ۔۔۔وہ وہ میں وہ اسکی زبان لڑکھڑا جاتی ہے

وہ وہ کیا کر رہی ہیں بولیں فیضی پھر سے سوال کرتا ہے

وہ مجھ سے بدتمیزی کر رہا تھا اور اور آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے میں نے اپنے طریقے سے سمجھا دیا ہے اور آپ بھی اپنا راستہ ناپے

ہاں نہیں تو آ جاتے ہیں سب منہ اٹھا کے وہ کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہے

تبھی پیچھے سے فیضی کی آواز آتی ہے

فیضی ۔۔۔تو ٹھیک ہے نا جب عورت خود اپنے حسن کی نمائش کرواۓ گی تو مرد کا کیا جاتا ہے وہ تو دیکھے گا اسکو کوئی نہیں روک سکتا عورت خود مختار ہے مانتا ھوں مگر اپنی حدود میں رہ کر خود مختاری دکھاۓ تو بات ہے

اور آپ تو سر سے لے کر پاؤں تک یہاں کھڑے ہر مرد کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں یہاں تک کے دلھے کو بھی آب اس میں مرد کی غلطی کہاں ہے ہاں وہ اس کے پیچھے آکے کھڑا هو جاتا ہے

وہ مڑتی ہے تبھی اپنے اتنے قریب اسے دیکھ کے پیچھے ہٹ جاتی ہے

اسکی پرفیوم کی خوشبو اسے اپنے ارد گرد محسوس ہوتی ہے

آیت میں یہ نہیں کہتا عورت اپنی پسند کی زندگی نا گزارے مگر آیت زندگی ایسے گزارو جیسے حکم ہے آپکا رنگ سانولا سہی پر آپکے اتنے لمبے بال کھلے ہیں ڈوپٹہ ایک سائیڈ پر ہے آستین ہیں ہی نہیں میرے نزدیک یہ سب آپ کو چھپانے کا حکم ہے مگر آپ مکمل طور پر سب کو اپنی طرف اسی لئے متوجہ پا رہی ہیں کیوں کے آپ خود سبکو دعوت دے رہی ہیں ڈوپٹہ سر کی زینت ہے گلے کی نہیں کیوں کے پٹہ تو کتے کے گلے میں بھی پڑا ہوتا ہے

وہ کہہ کر رکتا نہیں ہے گیٹ سے ہی باہر چلا جاتا ہے

💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜
💜

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا کے اپنے پورشن میں آجاتی ہے یہ جانے بنا کے وہ کچھ لوگوں کی نظروں میں بری طرح کھٹک گئی ہے

سب کام کر کے بی جان فاخرہ کو سونے کا کہتی ہیں

ایک شاندار دن کا اختتام ہوتا ہے

وہ سوچتی ہیں۔ کے یہ سب تو میری بیٹی کا نصیب تھا پر اچانک بازی کیسے اور کیوں الٹ گئی بیشک اللّه نے بہترین چنا هو گا

وہ دل کو سمجھا کے گھر کی طرف بڑھتی ہیں تبھی آصف صاحب کی آواز آتی ہے

فاخرہ جی

وہ مڑ کے انکو دیکھتی ہیں

آپ کو کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت هو مجھ سے کہنا پلیز آپ کا بہت بڑا قرض ہے مجھ پر جو شائد میں کبھی نا اتار سکوں

پر آپ کی ہر ضرورت اور خواہش پوری کرنے کی کوشش کروں گا

آصف آپ نے دیکھا ہے بچہ جب ماں سے کوئی کھلونا مانگتا ہے تو ماں کی کوشش ہوتی ہے کے اگر وہ نقصان نہیں دیتا تو میں اپنی اولاد کو دے دوں پڑ پھر بھی اگر نہیں دے پاتی تو پتہ ہے کیوں کیوں کے اللّه نہیں چاہتا

میں نے آپ سے ایک گزارش کی تھی ثابت قدمی کی میری بیٹی کو اپنی بیٹی نا سہی بہو ہی بنا لیں پر آپ کو ساتھ دینا هو گا آپ نے حامی بھی بھری پر آپ کے قدم ڈگمگا گئے اور آپ نے ساتھ چھوڑ دیا آج جس جگہ مونا تھی یہ جگہ میری بیٹی کی تھی میں نے چاہا تھا کے اسکو جبران ملے پڑ اللّه نے نہیں چاہا تھا اسی لئے نہیں ملا

بیشک اللّه اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے پر ہم بندے ہی نا شکرے ہیں شکر نہیں کرتے واویلا مچا دیتے ہیں بس

اسی لئے مجھے آب کوئی دکھ نہیں ہے کے میری بیٹی کی شادی جبران سے نہیں هو رہی پتہ ہے کیوں کیونکہ آپکا بیٹا اس قابل نہیں ہے

شب بخیر

انہوں نے آج پہلی بار آصف صاحب سے اتنی لمبی اور دو ٹوک بات کی تھی بیٹی کی ماں تھی نا درد کہیں نا کہیں تو باقی تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *