Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Last Episode)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

صبح زریاب کی آنکھ کسی کی سسکیوں سے کھلی تھی اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا اور ایک آنکھ ہی بمشکل کھول کر اپنے پاس لیٹی عینا کو دیکھا۔

رات کو پہلے ہی وہ بہت تھکا ہوا سویا تھا ، پہلے سارا دن رخصتی کی تیاریوں میں لگا رہا پھر عینا کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔

آدھی رات کو وہ گھر آئے تھے ، تب بھی اس نے عینا کو بہت بہلا بہلا کر محبت سے سلایا تھا۔

آج اسے افیس نہیں جانا تھا تو وہ اپنی ساری تھکاوٹ اتارنا چاہتا تھا۔

لیکن صبح صبح ہی اپنی عزیز از جان بیوی کو یوں دیکھ کر وہ ایک گہرا سانس بھرتا اسے کھینچ کر خود پر گرا گیا۔

“عینا کیا ہوا میری جان ؟ کیوں رو رہی ہو”

اس نے محبت سے اس کے بال چہرے سے سمیٹے اور ذرا سا اٹھ کر اس کی پیشانی پر پیار کر کے بولا۔

“زر۔۔۔می۔۔میری بہن کی شادی تھی۔۔مگر۔میں ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کر سکی۔۔”

اس نے اب نجانے اچانک سے یہ کیسے سوچ لیا تھا ، زریاب نے ایک دفعہ پھر گہرا سانس بھرا تھا۔

نجانے یہ لڑکی کیوں اس قدر تنگ کر رہی تھی اسے اس حالت میں ، یہاں تک کہ وہ کچھ کہنے اسے بھی قاصر تھا۔

“عینا جاناں تم نے انجوائے کیا تو تھا ناں اینڈ میں طبیعت خراب ہوئی تھی۔”

اس نے سمجھانا چاہا تھا۔

“ہاں زر آپ بھلا۔۔کیسے سمجھیں گے میری تکلیف۔۔۔آپ کو کون سا فرق پڑتا ہے کہ مجھے کیا فیل ہو رہا ہے۔اگر میں اپ سیٹ ہوں بھی تو آپ بجائے مجھے ریلیکس کرنے کے اس طرح کر رہے ہیں۔۔۔”

وہ ضرورت سے زیادہ اموشنل ہوئی تو زریاب نے زور سے اسے خود میں بھینچ لیا۔

“میں سمجھ سکتا ہوں اپنی بیوی کی ساری تکالیف۔۔۔تم پریشان مت ہو بے بی ہونے کے بعد میں بہت انجوائے کرواؤں گا تمہیں”

اس نے محبت سے عینا کا گال سہلا کر کہا مگر اس نے منہ بسور لیا۔

“میں ابھی اپ سیٹ ہوں تو آپ کو ابھی انجوائے کروانا چاہیے۔”

اس نے خفگی سے کہا تو زریاب نے آنکھیں بند کر کے خود کو ریلیکس کیا پھر کھولیں۔

“ابھی افورڈ نہیں کر سکتی تم کہیں باہر جانا یا کچھ بھی۔اٹھو اب شاور لو اور نیچے آؤ میں خود آج بریک فاسٹ کرواؤں گا تمہیں۔یہ ڈایٹ میں لاپرواہی کی وجہ سے ہی اس قدر ویک ہو رہی ہو تم جو ہر بات پر رونے لگتی ہو”

زریاب نے سنجیدگی سے کہا تھا ، جبکہ عینا نے گھور کر اسے دیکھا۔

“سیدھا کہیں مجھے کہیں لے کر نہیں جانا آپ کو۔بہانے کیوں بنا رہے ہیں۔”

وہ پھر سے اسے لہجے میں بولی تھی ، جبکہ زریاب نے صبر کا گھونٹ بھرا۔

زریاب ملک نے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر رکھتے اسے خود سے لگایا اور اٹھ بٹھا ، اس نے اٹھ کر عینا کو گود میں اٹھایا تو اس کے چہرے پر شرم سے گلال بکھرا تھا۔

“تم واشروم جاؤ میں ڈریس نکالتا ہوں تمہارا”

اس نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے اثبات میں سر ہلایا ، پھر زریاب نے اسے واشروم چھوڑا اور اس کا ڈریس نکال کے اسے دیتا وہ شرٹ پہن کو روم سے باہر آیا تھا۔

وہ لاؤنج میں آیا تو عدیلہ بیگم صوفے پر بیٹھیں قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں اسے دیکھ کر مسکرائیں۔

تبھی انہوں نے اشارہ کیا تو ملازمہ نے آ کر احترام سے قرآن پاک ان کے ہاتھ سے لیا اور رکھنے چلی گئی۔

وہ زریاب کے چہرے سے ہی پہچان گئیں کہ وہ چڑچڑا سے ہو رہا ہے۔

جانتی تھیں آج کل عینا اسے بہت تنگ کیے ہوئی تھی ، مگر یہ برداشت کرنا مجبوری تھی ان سب کی ، خاص طور پر زریاب کی۔

وہ ان کے پاس آیا اور بہت دنوں بعد وہ صوفے پر لیٹتا سر ان کی گود میں رکھ گیا تھا جبکہ آنکھیں بھی موند گیا۔

“کیا ہوا میرے بیٹے کو ؟”

انہوں نے اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتے محبت سے پوچھا تھا۔

“آپ اچھے سے جانتی ہیں کیا ہوا ہے مجھے۔”

اس نے اُکتا کر کہا تو انہوں نے مسکراہٹ دبائی اور جھک کر اس کی پیشانی پر پیار کیا۔

ان کے لمس سے زریاب کو بہت سکون ملا تھا، وہ دھیما سا مسکرا دیا۔

“عینا کی طبیعت کیسی ہے اب ؟”

اُن کے سوال پر اس نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔

“نجانے مسلہ کیا ہے اسے۔کوئی بات ہوتی نہیں ہے اور رونا شروع کے دیتی ہے۔اب صبح اٹھا تب بھی رو رہی تھی کہ بہن کی شادی پر انجوائے نہیں کیا محترمہ نے۔”

اس نے چڑچڑے پن سے کہا تو عدیلہ بیگم نے محبت سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا۔

“بیٹا تحمل سے کام لو۔وہ بہت نازک ہے اس لیے برداشت نہیں کر پا رہی تم نے ہے سمبھالنا ہے اسے۔وہ روئے یا ہنسے تمہیں بس اسے پیار دینا ہے اور خاص طور پر ان دنوں تو بہت پیار سے کام لو”

ان کے سمجھانے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ، ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ اذلان شاہ آفیس کے لیے تیار ہو کر نیچے آئے تھے۔

“زریاب ناشتہ لے کر نہیں گئے تم اور عینا ، سہانا کی طرف ؟”

اُنہوں نے سلام کے بعد صوفے پر بیٹھتے سوال کیا تھا۔

جبکہ زریاب اب ماں کی گود سے اٹھ بیٹھا اور بالوں میں ہاتھ پھیر کر انہیں سیٹ کرتا اپنے بابا کی جانب متوجہ ہوا۔

“بھی ڈیڈ زہرام نے منع کیا تھا کیونکہ عینا کی طبیعت نہیں ٹھیک تھی۔اس نے کہا کہ جب یہ بہتر ہو تب ہی آئیے گا”

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تو انہوں نے سمجھ کر سر ہلایا۔

“اٹھی نہیں ابھی میری شہزادی ؟”

وہ عینا کو یاد کرتے مسکرا کر بولے تھے ، کِیُونکہ آج کل اس نے گھر میں الگ ہی رونق لگا رکھی تھی۔

جو اور کوئی کرے نہ کرے اذلان صاحب ضرور انجوائے کرتے تھے۔

“اٹھ چکی ہے روز کی طرح سڑے ہوئے موڈ سے۔فریش ہو رہی ہے ہو کر آنے ہی والی ہو گی”

زریاب نے بظاھر اُکتا کر کہا تھا مگر لہجے میں عینا کے لیے پیار بھی تھا۔

“خدا جانے بچہ کیسا ہو گا میرا۔۔۔یا بہت روندو یا بہت چڑچڑا۔۔۔افف”

زریاب نے فکر مندی سے کہا تو اذلان ملک کا قہقہہ گونجا جبکہ عدیلہ بیگم بھی مسکرائی تھیں۔

ابھی وہ لوگ اور باتیں کرتے کہ عینا محترمہ آہستہ اہستہ سیڑھیاں اُترتی ، بڑبڑآتی ہوئی نیچے آتی دکھائی دی تھی۔

ڈارک ریڈ شلوار قمیض میں ملبوس ، ہرا دوپٹہ اچھے سے اوڑھے وہ بہت چڑچڑی لگ رہی تھی۔

اسے دیکھ کر اذلان صاحب اور عدیلہ بیگم مسکرائے ، جبکہ زریاب نے جان بوجھ کر سیل اٹھا لیا۔

اور خود کو اس میں مصروف شو کرنے لگا ، وہ اب ایک دفعہ پھر اس کے سامنے بین بجانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

عینا نے آگے بڑھ کر پہلے عدیلہ بیگم کو سلام کیا تو انہوں نے اسے گلے لگا کر پیار کیا تھا۔

پھر وہ اذلان ملک کے پاس ائی تو اُنہوں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ، جبکہ عینا انہی کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔

کٹیل نظریں زریاب پر جمی تھیں جو اسے شدید اگنور کر رہا تھا۔

“کیا ہوا میری بیٹی کچھ بول نہیں رہی آج ؟”

عدیلہ بیگم نے لاڈ بھری نظروں سے اسے دیکھتے پیار سے کہا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئی۔

“ماما پوچھیں زریاب سے کیا کیا انہوں نے روم میں میرے ساتھ۔۔۔”

وہ بیوقوف بغیر سوچے سمجھے بولی تھی ، حالانکہ وہ کہنا کچھ اور چاہتی تھی مگر اس کی بات کو مفہوم انتہائی گھمبیر بن رہا تھا۔

جبکہ اس کی بات پر جہاں عدلیہ بیگم نظریں جھکا گئیں وہیں اذلان صاحب نے زریاب کو گھورا تھا۔

جبکہ زریاب کے ہاتھ سے سیل گرتے گرتے بچا تھا ، دل کیا اس پاگل لڑکی کا دماغ ٹھکانے پر لگا دے۔

“کیا بکواس کر رہی تم عینا اندازہ ہے تمہیں ؟”

زریاب نے ذرا سختی سے کہا تھا ، اس کے لہجے پر اذلان ملک نے مزید سخت نظروں سے اسے گھورا مگر وہ ان کی جانب متوجہ نہیں تھا۔

عینا کی آنکھوں میں فوراً آنسو آئے تھے جنہیں دیکھ کر عدیلہ بیگم نے اٹھ کر اُسے خود سے لگایا۔

“آرام سے بات کرو۔۔۔ایسا کچھ کرتے ہی کیوں ہو جس پر۔۔۔۔ “

“بابا پلیز یار۔۔۔کچھ نہیں کیا میں نے ایسا جو آپ سوچ رہے ہیں۔اس بیوقوف سے پوچھ تو لیں کہنا کیا چاہتی ہے”

ابھی وہ مزید کچھ کہتے کہ زریاب نے انہیں ٹوک کر کہا تھا ، کِیُونکہ وہ ایویں شرمندہ ہو رہا تھا اب۔

جبکہ عینا کو ابھی تک احساس نہیں ہوا وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

“بابا انہوں نے کہا کہ یہ مجھے کہیں لے کر نہیں جائیں گے۔۔۔میں۔۔نے منانے کی کوشش۔۔کی مگر یہ نہیں مانے میری بات۔۔۔”

عینا نے سسکتے ہوئے کہا تو اذلان صاحب نے چونک کر اسے دیکھا ، جبکہ زریاب اب ان کے تاثرات دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔

عدیلہ بیگم نے بھی مسکراہٹ دبائی تھی۔

“بیٹا ابھی آپ کی طبیعت نہیں ٹھیک ناں۔جیسے ہی آپ ٹھیک ہو گی میں اسے کہوں گا یہ آپ کو لے جائے گا جہاں جہاں آپ چاہو گی”

اُنہوں نے نرمی سے سمجھایا تو اس نے سمجھ کے سر ہلایا تھا۔

جبکہ اب چونکنے کی باری زریاب کی تھی ، یہی بات اس نے بھی بہت نرمی سے اسے سمجھائی تھی مگر تب عینا محترمہ ہرگز نہیں مانی تھی۔

اس نے سوچ کے تاسف سے نفی میں سر ہلایا ، پھر ملازمہ نے جب ناشتہ لگا دیا تو وہ سب ٹیبل کی جانب بڑھ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“شام سے کہاں تھی میری گڑیا ؟”

وہ آفیس سے آیا تب سے اسے میرال نہیں ملی تھی۔

حالانکہ روزآنہ وہ اس کے آفیس سے آتے ہی اس کو ملا کرتی تھی ، وقت چاہے جتنا بدل گیا تھا ان دونوں کا پیار وہیں کا وہیں تھا۔

“میں بس۔۔۔ایک اسايمنٹ بنانی تھی وہی بنا رہی تھی۔اب بنا لی تو سوچا باہر آ جاؤں”

وہ اس سے مل کر علیزے کے پاس آ کر بیٹھی جو اس وقت دونوں پاؤں صوفے پر رکھے آلتی پالتی مارے بیٹھی ، سیل یوز کر رہی تھی۔

“سہانا بھابھی کہاں ہیں ؟”

میرال نے سوال کیا تو علیزے نے سیل رکھا اور اس کی جانب دیکھا۔

“ابھی ہادی آیا ہے گھر تو روم میں گئی ہے”

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ، تبھی صائمہ بیگم بھی وہیں آ کر بیٹھیں۔

اذلان ملک کے منشن کی صدی رونقیں تو اب یہاں ہی بستی تھیں۔

مگر کچھ عرصہ بعد ميرال نے چلے جانا تھا۔

“زہرام میرا ارادہ ہے کہ تم اصفہان سے بات کرو نکاح کی۔مجھے نہیں لگتا اب میرو کو ایف ایس سی کے بعد پڑھنا چاہیے”

صائمہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا ، تبھی ہادی اور اس کے پیچھے سہانا بھی لاؤنج میں داخل ہوئے۔

دونوں سلام کر کے بیٹھ گئے ، جبکہ زہرام نے مسکرا کر سہانا کو دیکھا تھا ، جو ابھی سے ان میں ڈھل گئی تھی۔

“لیکن کیوں تائی امی ابھی چھوٹی سی تو ہے ہماری میرو اور اصفہان کو بھی کوئی جلدی نہیں ہے تو کیا ضرورت ہے اس قدر جلدی کرنے کی”

سب سے پہلے علیزے بولی تو زہرام نے اس کی جانب دیکھا ، اسے بھی صحیح لگی تھی اس کی بات۔

پھر اس نے میرال کی جانب دیکھا جو اُداس سی ہو رہی تھی۔

بیشک وہ جانتی تھی اصفہان شاہ میں کوئی کمی نہیں وہ ہر طرح سے مکمل شخص تھا۔

مگر وہ یوں اچانک ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی۔

“علیزے بیٹے اب بچی نہیں ہے یہ”

ان کی بات پر زہرام نے عجیب نظروں سے انہیں دیکھا ، بچی ہی تو تھی وہ ابھی۔

جبکہ میرال اب سب کے سامنے شرمندہ سی ہو رہی تھی ، دل دھک دھک کر رہا تھا ، جبکہ نظریں ہنوز جھکی تھیں۔

اب وہ پہلے کی طرح چنچل نہیں رہی تھی ، سنجیدگی اس کی ذات کا خاصہ بن چکی تھی۔

“ماما پلیز۔ایسا کچھ نہیں ہو ہے ابھی بہت چھوٹی ہے میری بہن۔”

ہادی نے سنجیدگی سے کہا جبکہ اب کی بار صائمہ بیگم ان اب کی سن کے خاموش ہی ہو گئیں

میرال کو بے حد خوشی ہوئی کہ وہ سب اس کی فيلنگز کا کتنا خیال رکھ رہے تھے۔

“بیٹا طبیعت کیسی ہے تمہاری ؟”

وہ علیزے کی طرف متوجہ ہوئیں تو وہ بھی ان سے باتیں کرنے لگی۔

جبکہ باقی سب بھی یُونہی باتوں میں لگ گئے تھے۔

عجب رونق کا سے سماں تھا آج یہاں۔

سب نے ساتھ ڈنر کیا پھر چائے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسا گزرا سسرال میں پہلا دن ؟”

ہادی بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا۔

جبکہ اس کا دھیان سہانا کی جانب تھا کو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں میں برش کر رہی تھی۔

“اچھا تھا”

اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔

“ہممم اچھی بات ہے۔”

ہادی نے کہہ لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور اٹھ کر اس کی جانب بڑھا۔

وہ جو بڑی دلجوئی سے اپنا کام کر رہی تھی اسے اپنے بلکل قریب پیچھے کھڑا دیکھ گھبرائی۔

“اچھی لگ رہی تھیں تم نیچے بس اسے ذرا سمبھال کے رکھا کرو”

میر نے اس کہ دوپٹہ گردن سے نیچے کرتے ذرا سنجیدگی سے کہا تھا۔

جبکہ سہانا کو شرمندگی نے آن گھیرا۔

“جی آئندہ خیال رکھوں گی”

اس نے آہستہ سے جواب دیا۔

جب اچانک میر اس کے کندھے پر تھوڑی رکھتا اسکے پیٹ کے گرد ہاتھ باندھ گیا۔

“جب شوہر بستر پر انتظار کے رہا ہو تو بیوی کو اسے انتظار نہیں کروانا چاہیے”

وہ پھر سے اس پر چوٹ کرتا بولا تو سہانا کا چہرہ سرخ ہوا۔

جبکہ اس کی قربت پر سانسیں تیزی سے چلنے لگی تھیں۔

ہادی نے نرمی سے ہونٹ اس کی گردن پر رکھے پھر سامنے شیشے میں اس کی جانب دیکھا۔

“ڈانٹ نو وائے بٹ آئی تھنک آئی لو یو سو مچ”

ہادی کے اچانک اظہار پر اس کی گالیں تپ اٹھیں جنہیں دیکھ کر وہ مسکرایا۔

“اوہو آپ شرماتی بھی ہیں ؟”

اس نے مسکرا کر شرارت سے کہا تو سہانا مزید سرخ پڑی۔

اس پر اس نے قہقہہ لگایا اور اسے ہاتھ سے تھام کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *