Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 17)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

عینا آج زریاب سے بے حد ناراض تھی ، کل رات ساڑھے گیارہ بجے اُس نے زریاب سے گول گپے کھانے کی فرمائش کی تھی۔

مگر زریاب کو یہ وقت بہتر نہیں لگا ، ویسے بھی اس نے صبح آفیس جانا تھا۔

زریاب نے اسے کافی دیر پیار سے سمجھایا کہ کل لے چلے گا مگر عینا کی ضد تھی کہ ابھی تو مطلب ابھی۔۔۔

جب وہ نہیں مانی تو زریاب نے تھوڑا غُصہ ہوتے اسے ڈانٹ دیا جس پر وہ رات سے ناراض تھی۔

زریاب نے صبح منانے کی کوشش بھی کی مگر عینا نے اس کی نہیں سنی۔

پھر وہ آفیس چلا گیا تھا ،جبکہ عینا سہانا کے پاس ہی رہی باقی سارا دن۔

زریاب نے بہت کالز کیں مگر عینا کاٹتی رہی تھی ، زریاب کا دماغ جب غصے سے اُلٹنے والا ہو گیا تب وہ آفیس سے مینشن کے لیے نکلا تھا۔

سہانا اور عینا لان میں بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں ، اب گیٹ سے میر زریاب ملک کی بلیک او ڈی اندر داخل ہوئی۔

گارڈ نے فوراً دروازہ کھولا تو زریاب تیزی سے گاڑی سے باہر آیا۔

اس کی نظر لان میں بیٹھی ان دونوں پر پڑی تو زریاب غصے سے ان کی جانب بڑھا۔

عینا کو خوف محسوس ہوا مگر اس نے نظریں زریاب کی جانب سے پھیر لیں۔

زریاب نے تیزی سے آگے بڑھ کر عینا کہ ہاتھ سختی سے تھاما تھا اور اسے کھینچ کر اندر کی جانب بڑھا۔

سہانا بھی اندر آئی اسے لگا کچھ ہوا ہے جو زریاب اس قدر غصّہ ہے۔

مگر جب اس نے انہیں اوپر بڑھتے دیکھا تو وہ لاؤنج میں ہی رک گئی ، عدیلہ بیگم جو لاؤنج میں تھیں وہ بھی انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔

زریاب اسے روم میں لایا اور دروازہ لاک کرتا اس تک آیا جو اب بھی نظریں جھکائے ہوئے تھی۔

“مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ہاں ؟ کس چیز پر اتنا تماشا بنا رہی ہو ؟”

زریاب غصے سے لال چہرہ لیے دھاڑا تو عینا نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے عینا۔ جواب دو”

ذریعہ اسے خاموش دیکھ کر سختی سے بولا تو عینا نے اس کی جانب دیکھا۔

“مسئلہ مجھے نہیں ہے آپ کو ہے مسٹر زریاب۔کیا ہو جاتا اگر رات کو میری ایک چھوٹی سی خواہش پوری کر دیتے آپ”

اس نے ناراضگی سے کہا تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔

“بچی نہیں ہو تم عینا کے ایک چھوٹی سی بات پر اتنا تماشا بنا رہی ہو”

زریاب اب کی بار مزید سختی سے بولا تھا۔

“ہاں اب اپنی اولاد جو انے والی ہے تو مجھ سے کون سے محبت رہنی ہے آپ کو۔ آپ کو تو بس اب اپنی اولاد سے مطلب ہے۔”

اس نے ہمیشہ کی طرح بچوں کے لہجے میں بات کی تھی۔

“عینا پلیز بس کر دو اب۔ بڑی ہو جاؤ کچھ۔ کب تک یوں رونا دھونا کرتے رہنا ہے تم نے ؟”

زریاب نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔

زریاب حیران ہوا مگر وہ بیڈ پر لیٹتی کمبل خود پر اچھے سے ڈال گئی۔

“عینا فوراً اٹھ کر یہاں آو میرے پاس”

زریاب کو اب سچ میں غُصہ آیا تھا وہ کچھ زیادہ ہی ناراضگی دکھا رہی تھی۔

بیشک اس حالت میں ہر لڑکی چڑچڑی ہوتی ہے مگر عینا تو کسی طور بات ختم نہیں کر رہی تھی۔

جب عینا نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا تو زریاب سلگتا ہوا بیڈ تک آیا۔

اس کے کھینچ کر کمبل اس پر سے اُتارا تھا ، مگر سامنے کا منظر دیکھ کر زریاب کا دل کیا سر دیوار میں دے مارے۔

عینا اب آنسوؤں سے تکیا بھگونے میں مگن تھی جب کہ سسکیاں بھی زور و شور سے جاری تھیں۔

زریات غصّہ تھوکتا اس کے پاس بیٹھا اس نے نرمی سے عینا کو سیدھا کیا۔

“عینا خاموش ہو جاؤ اور بس کرو بہت رو لیا تم نے۔ کیوں چھوٹی سی بات کا تماشہ بنا رہی ہو۔”

زریاب تپ کر بولا تھا۔

وہ جانتا تھا عینا کی حالت ٹھیک نہیں ہے اسی لیے وہ اتنی چڑچڑی ہو رہی ہے۔

“جائیں زریات مجھے آپ سے بات نہیں کرنی جانتی ہوں اب مجھ سے دل بھر گیا ہے آپ کا۔”

وہ غم و غصے سے سرخ ہوتی چلائی تھی۔

“عینا میں بہت مشکل سے ضبط کر رہا ہوں تم مجھے مجبور کر رہی ہو کہ میں پھر سے کل رات کی طرح تمہیں ڈانٹوں۔کیوں رو کر اپنی طبیعت خراب کر رہی ہو جانتی ہو ناں تمہاری حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔”

وہ سختی سے بولا تھا تھا جبکہ اس نے عینا کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا اور خود بیٹھ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

“بہت برے ہیں آپ سے زریاب ہمیشہ مجھ پر غُصہ کرتے ہیں۔ رات کو میرا اتنا دل کر رہا تھا گول گپے کھانے کا پر آپ نے مجھے ڈانٹ دیا اور پھر صبح بھی مجھے منائے بغیر آفس چلے گئے۔ میں سخت ناراض ہو آپ سے۔”

عینا بچپنے سے بولی تھی جبکہ ذریاب نے اس کا چہرہ اپنے سینے میں چھپایا اور اس کی رخسار پر ہونٹ رکھے۔

اب اس کے پاس یہی آخری طریقہ بچہ تھا عینا کا مزاج درست کرنے کا کیونکہ ناں وہ غصے سے مان رہی تھی نہ محبت سے۔

وہ جانتا تھا کہ اگر وہ عینا کو پیار کرے گا تو شرما کر وہ سارا غُصہ بھول جائے گی۔

اس کی توقع کے عین مطابق عینا کا چہرہ فوراً شرم سے سرخ پڑ گیا۔

“میں جانتی ہوں آپ جان بوجھ کر پیار کر رہے ہیں لیکن یہ مت سمجھئے گا کہ آپ کے پیار کرنے پر میں مان جاؤں گی آپ کو مجھے باہر لے کر جانا پڑے گا تب ہی ماننے کے لیے سوچ سکتی ہوں”

اس نے ذریاب کا ہاتھ جھٹکتے خفگی سے کہا تو زریاب نے مُسکراہٹ دبائی۔

“لگتا ہے میری معصوم سی جان چلاک ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے زریاب کی چالاکیوں کو سمجھنے لگی ہے.”

زریاب لاڈ سے دوبارہ عینا کو خود سے لگاتا بولا تھا۔

اس کا ابھی عینا کو باہر لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لئے وہ باتیں بدلنے لگا۔

ڈاکٹر نے بے حد احتیاط کا کہا تھا جس کی وجہ سے زریاب کو اس کی ڈائٹ کا بہت خیال تھا۔

وہ اسے گول گپے کھلا کر اس کی طبیعت کے بارے میں رسک نہیں لے سکتا تھا۔

“میں سوچ رہا ہوں کچھ دنوں تک ایک پارٹی ارینج کروں۔ آخر میری جان نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے تو ایک پارٹی تو بنتی ہے۔ میرے دوست ٹریٹ کا کہہ رہے ہیں تو میرا خیال ہے کہ گھر میں ہی پارٹی کر لی جائے۔”

ذریاب نے پل میں جھوٹ بنا کر گھڑا تھا اس کا مقصد صرف باتیں بدلنا تھا جو عینا ہرگز سمجھنے سے قاصر تھی۔

“مجھے کیوں بتا رہے ہیں میں کونسی کوئی اہمیت رکھتی ہوں آپ کی زندگی میں جو کرنا ہے کریں۔ بس خدارا مجھ سے بات نہیں کریں۔ مجھے نیند آئی ہے اب تو پلیز مجھے سونے دیں۔”

عینا سنجیدگی سے بولی تو ذریاب اس نے گھور کر اسے دیکھا۔

“تمہاری غلط فہمی ہے کہ آج میں تمہیں سونے دوں گا۔جتنا کل رات سے تم نے مجھے تڑپایا ہے تو اب سونے کا نام نہیں لو تو بہتر رہے گا۔”

زریاب سنجیدگی سے بولا ساتھ ہی اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے تھے۔

عینا جو اب سچ میں سونے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس کی بات پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔

“زریاب پلیز آپ مجھے تنگ نہیں کریں گے۔ مجھے نیند آئی ہے تو مجھے سونا ہے آپ جائیں اور جا کر اپنے آفس کا کام کر لیں کچھ رہ نا گیا ہو”

اس نے سنجیدگی سے کہا تو ذریاب اب سچ مچ میں بھڑکا تھا۔

“عینا ابھی تک میں مذاق کے موڈ میں تھا پر اب تم بدتمیزی کی طرف آرہی ہو جو میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔فوراً سے پہلے اپنا لہجہ درست کرو”

وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔

اسے سب کچھ برداشت تھا مگر اس کے خیال سے ایک عورت پر روعب بلکل نہیں جچتا تھا۔

“میرا لہجہ درست ہی ہے زریاب یہ الگ بات ہے آج کل آپ کو لگ نہیں رہا”

پتہ نہیں کیوں وہ زیادہ پینک کر رہی تھی۔

زریاب نے سرخ ہوتی نظروں سے اسے دیکھا۔

“چلو شاباش سائڈ پر ہو”

زریاب اس کی باتوں کو اگنور کر کے شرٹ اُتار کر ایک طرف رکھتا سنجیدگی سے بولا۔

عینا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا ، وہ چاہتی تھی زریاب اسے منائے۔

مگر وہ صرف اپنی کرنا چاہ رہا تھا ، زریاب سنجیدگی لیمپ آف کرتا اس کے قریب لیٹ گیا۔

عینا نے سسکی لی تھی مگر زریاب نے اثر نہیں لیا۔

اس میں نرمی سے عینا کو تھام کر سیدھا کیا اور خود اس پر مکمل جھک گیا۔

آج عینا نے اس کا ساتھ ہرگز نہیں دیا تھا ، شاید وہ ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔

مگر زریاب نے سکون سے اپنی طلب پوری کی جب صبح کے ساڑھے چار اس نے عینا کی حالت دیکھی۔

تب جا کر وہ اس پر رحم کھا کر ایک طرف ہوا تھا۔

عینا نے خفگی سے رخ موڑ لیا ،جبکہ زریاب بھی آنکھیں بند کر گیا۔

اس نے آفیس بھی جانا تھا تو بہتر تھا کچھ دیر نیند پوری کر لیتا۔

ارادہ تو اس کا عینا کو چیک کروانے کا بھی تھا ، کِیُونکہ آج کل وہ بہت چڑچڑی ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زہرام رات کو ساڑھے آٹھ بجے لاؤنج میں داخل ہوا تو سب ہی موجود تھے۔

شاید وہ لوگ ڈنر کر چکے تھے سو اب صوفوں پر بیٹھ کر کافی پی جا رہی تھی ، ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری تھیں۔

زہرام مسکرا کر سلام کرتا علیزے کے ساتھ بیٹھ گیا ، وہ بھی مسکرا دی۔

“بیٹا ڈنر کیا تم نے یا لگوا دوں ؟”

صائمہ بیگم نے اس سے سوال کیا تھا جبکہ میرال اب اس کے ساتھ آ بیٹھی تھی۔

“نہیں تائی امی میں ڈنر کر چکا ہوں۔”

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تو اُنھوں نے سر ہلایا۔

میرال اب اسے اپنے دن کی باتیں بتا رہی تھی ،اور وہ بظاھر غور سے سن رہا تھا۔

جبکہ اس کا ذہن اپنی بیوی کی جانب تھا جو اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی سیل یوز کر رہی تھی۔

“بھائی ، ماما مجھے آپ لوگوں سے بات کرنی ہے”

ہادی کی بات پر سب نے اس کی جانب دیکھا تھا۔

“بولو کیا بات ہے”

زہرام نے سنجیدگی سے پوچھا۔

“مجھے نکاح کرنا ہے سہانا سے دس دنوں کے بیچ بیچ”

وہ از حد سنجیدگی سے بولا تھا جبکہ اس کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔

سب کے لیے ہی یہ بات حیرت کا جھٹکا تھی ، زہرام جو واقف تھا کہ میر اپنی کی ٹیچر کو پسند کرتا ہے یہ سن کر ساری بات سمجھ گیا۔

“میر ہادی تھی کیا کہہ رہے ہو تم ؟”

اب سے پہلے صائمہ بیگم حیرت سے بولیں تھیں۔

جبکہ علیزے اور ميرال کے تو منہ بند ہی نہیں ہو رہے تھے۔

“جی ماما میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ میں انہیں کافی ٹائم سے پسند کرتا ہوں۔ وہ میری یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں۔ میں ان سے بات کر چکا ہوں مگر وہ نہیں مان رہیں تو اب میں نے سوچا ہے کہ آپ لوگ چاچو یا زریاب بھائی سے بات کریں۔”

اس میں سنجیدگی سے سب کچھ کہا تھا۔

“لیکن بیٹا اسے اعتراض ہے تو ہم زبردستی کیسے کریں۔”

صائمہ بیگم فکر مندی سے بولیں۔

“ماما کوئی وجہ نہیں ہے ان کے پاس اعتراض کی۔ انہیں بس پرابلم ہے کہ وہ میری ٹیچر ہیں۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی بڑا مسلہ ہے۔”

ہادی کی بات پر زہرام نے گھور کر اسے دیکھا۔

“تمہارا خیال غلط ہے میر۔ تھا واقعی عجیب بات ہے تم اس کے سٹوڈنٹ ہو وہ کیسے تم سے نکاح کرے۔”

ذہرام نے کہا تو ہادی نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“آپ لوگ کل جا رہے ہیں چاچو سے بات کرنے۔ یاد رہے دس دن میں نکاح کرنا ہے بس”

اس نے کہتے ساتھ ہی اپنا سیل اٹھایا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

جبکہ پیچھے باقی سب فکر مند سے بیٹھے تھے۔

“پتہ نہیں کیوں اتنا ضدی ہے یہ لڑکا۔ مجال ہے کسی کی سن لے۔”

صائمہ بیگم بے بسی سے بولیں۔

“پریشان نہیں ہوں تائی امی۔جب شادی کرنی ہی ہے اس کی تو بہتر ہے اس کی پسند کی جگہ کریں تاکہ خوش یہ رہے “

زہرام نے انہیں سمجھایا تو انہیں نے اثبات میں سر ہلایا۔

“پتہ نہیں اب سہانا کسی اور کو پسند نہ کرتی ہو۔ ہم زبردستی تو نہیں کر سکتے بیٹا”

انہوں نے پریشانی سے کہا۔

“نہیں تائی امی میں جانتی ہوں وہ کسی کو پسند نہیں کرتی اور ویسے بھی ماما آج کل اس کے رشتے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔مجھے نہیں لگتا میر سے بہتر اس کے لیے کوئی ہو سکتا ہے۔”

علیزے نے کہا کیونکہ وہ واقف تھی سہانا نے کبھی کسی مرد کو نہیں چاہا۔

“لیکن اعتراض کی وجہ اس کی بھی غلط نہیں بیٹا۔”

وہ پریشان تھیں ، ایک طرف بیٹے کی پسند دوسری طرف سہانا کی مرضی۔

“کچھ نہ کچھ ہو گی جائے گا آپ پریشان مت ہوں اور آرام کریں بس”

زہرام محبت سے بولا تو وہ مسکرا دیں۔

“علیزے آ جاؤ اب روم میں مجھے کپڑے نکال دو”

زہرام نے سنجیدگی سے کہا اور میرال کی پیشانی پر پیار کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ دونوں اوپر کی جانب بڑھ گئے تو میرال صائمہ بیگم کے پاس آ بیٹھی۔

“میری بیٹی کو نیند نہیں آئی کیا ؟”

اُنھوں نے اسے سینے اسے لگا کر محبت سے سوال کیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“اچھا پھر میرے کمرے میں آؤ میں بالوں میں آئلنگ کر دوں رف ہو رہے ہیں۔”

انہوں نے اس کے بال سہلا کر کہا تو اس نے برا سا منہ بنایا۔

“ماما مجھے نیند آئی ہے میں سونے چلتی ہوں”

اس نے جلدی سے کہا اور اٹھ کر اُوپر بھاگ گئی تو وہ مسکرا کر رہ گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں کمرے میں آئے تو زہرام کی امپارٹنٹ کال آ گئی تھی جبکہ علیزے اسے مصروف پا کر کپڑے لیتی واشروم چلی گئی۔

“علیزے۔۔۔”

مگر ابھی اس نے شاور کھولا ہی تھا کہ اسے زہرام کی پکڑ سنائی دی تھی۔

“جی”

اس نے بھی وہیں سے بلند آواز میں کہا۔

“فوراً باہر آؤ ہری اپ”

زہرام کی سنجیدہ آواز پر اس نے منہ بنایا تھا۔

“پندرہ منٹ تک آتی ہُوں ویٹ کریں۔”

اس نے بے بسی سے کہا تھا۔

“میں کہہ رہا ہوں فوراً باہر آؤ تو مطلب فوراً”

زہرام نے سنجیدگی سے کہا۔

علیزے نے غصے سے دروازے کو دیکھا مگر پھر سکون سے شاور لینے لگی۔

دو منٹ بعد جب زہرام کی کوئی آواز نہیں آئی تو اسے پریشانی ہوئی۔

علیزے نے جلدی سے شاور بند کیا ، ابھی اس نے ٹاول اپنے گرد لپیٹا ہی تھا کہ جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا۔

سامنے ہی زہرام کو سرخ چہرہ لیے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیلیں۔

وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ کچھ ایسا کرے گا۔

شرم سے علیزے کی آنکھیں جھک گئیں جبکہ گال تپ اٹھے ، اس کا دل ڈر سے زور زور سے دھڑکنے لگا۔

“سمجھ نہیں آتی ناں میری جان کو ایک دفعہ کی کہی بات۔۔۔تو مجبوراً آج سزا دینی پڑے گی تاکہ آئندہ یہ غلطی نہیں ہو۔”

زہرام نے نہایت سختی سے کہتے اس کی جان نکالی تھی۔

علیزے نے خوف سے اسے دیکھا جو بہت حد تک سنجیدہ تھا۔

“میں۔۔میں بس آنے ہی۔۔والی”

“پر تم آئی نہیں تو میں آ گیا۔ ڈونٹ وری مائے لو اب ہم ساتھ میں شاور لیں گے۔”

زہرام نے کہتے ساتھ دروازہ لاک کیا تو اس نے گھبرا کر اسے دیکھا ، جبکہ ٹاول پر گرفت سخت ہوئی تھی۔

ٹاول صرف گھٹنوں تک تھا ، اس کی سفید پنڈلیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔

“زہرام پلیز۔۔۔بس کر دیں ناں”

اس نے بے بسی سے کہا۔

“ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں میں نے میری جان ابھی کیسے بس کر دوں”

اس نے مسکرا کر کہا ساتھ ہی اس نے اپنی سفید شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے تھے۔

جبکہ سرخ نظریں اس کے خوبصورت سراپے میں اُلجھی تھیں۔

علیزے نے شرم سے نظریں جھکا لیں جبکہ قدم پیچھے کی جانب لیے۔

زہرام نے باتھ ٹب میں پانی بھرا پھر اسے دیکھا جو سینے پر دونوں ہاتھ رکھے سہمی ہوئی کھڑی تھی۔

“آؤ جاناں”

اس نے مسکرا کر کہا ، علیزے کا ڈرنا ، سہم جانا اسے اٹریکٹ کر رہا تھا۔

“مجھے نہیں آنا”

اس نے خفگی سے کہا تو زہرام نے پل میں اسے گود میں بھر کر ٹب میں ڈالا تھا۔

علیزے کی چیخ بے ساختہ تھی ، زہرام خود بھی ٹب میں آیا اور اس نے علیزے کا ٹاول اُتار کر باہر اچھالا تھا۔

اب کی بعد علیزے کا سانس اٹکا تھا ، اس نے ناراضگی سے زہرام کو دیکھا۔

“بہت برے ہیں آپ”

اس نے کہتے ساتھ ہی دانت اس کی گردن پر گاڑھے تو زہرام مسکرایا۔

“فائنلی تم نے بھی اپنی محبت کے نشان دیئے مجھے”

زہرام نے مسکرا کر معنی خیزی سے کہا تو علیزے نے گھور کر اسے دیکھا۔

“اپنی کمر آئینے میں دیکھیں زرہ۔۔۔کل رات میرے نیلز کے بہت سے نشان ملے ہیں وہاں”

اس نے مسکرا کر شرارت سے کہا تو زہرام نے گھور کر اسے دیکھا۔

“اپنے آپ کو تو دیکھو پہلے۔ تم تو ساری کی ساری ہی میرے نشانوں سے بھر گئی ہو”

اس نے بدلہ پورا کیا ساتھ ہی اس نے کھینچ کے اسے خود سے لگایا تھا۔

“آئی لو یو”

اس کی کمر پر انگلیاں چلاتے وہ محبت سے با تھا۔

“بٹ سٹل آئی ہیٹ یو”

وہ ناراضگی میں کہہ تو گئی تھی مگر نہیں جانتی تھی کہ ان الفاظ کا خمیازہ اسے ساری رات بھگتنا پڑے گا۔

زہرام نے غصے سے اسے دیکھا۔

“کیا کہا زرہ پھر سے کہنا ؟”

زہرام سختی سے سوال کر رہا تھا۔

“آئی سیڈ آئی ہے یو”

اس نے مسکرا کر کہا اور یہاں زہرام ملک کی بس ہوئی تھی۔

اس نے باہر آ کر جھٹکے سے اسے بانہوں میں بھرا پھر روم میں لا کر اسے بیڈ پر پٹخا۔

علیزے کو اب صحیح معنوں میں اس سے ڈر لگا تھا۔

زہرام نے لائٹ آف کی اور اس پر چھا گیا۔

پھر ساری رات وہ کہتی رہی تھی آئی لو یو زہرام۔۔۔مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *