Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 08,09)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

زریاب کا دل کر رہا تھا سب کچھ تحس نحس کر دے۔

اسے بہت برا لگا تھا عینا کا اس کے والدین سے اس طرح بات کرنا۔

وہ جانتا تھا کہ اس کے ماں باپ کی کتنی عزت ہے مگر عینا نے کس بدتمیزی سے انہیں جانے کا بول دیا تھا۔

زریاب کبھی نہیں چاہتا تھا اس کی فیملی کا دل عینا کی جانب سے خراب ہو۔

اس کی حرکت کے بعد اسے پتہ تھا اذلان اور عدیلہ بیگم کو بھی عینا پسند نہیں آئی ہو گی۔

مگر عدیلہ بیگم نے بیٹے کی محبت کا سوچتے رستے میں اسے بہت سمجھایا تھا کہ کچھ نہیں ہوتا ، شاید وہ گھبرا گئی ہو گی اس طرح رشتے کی بات پر۔

مگر میر زریاب کی آنا اس وقت بہت بری طرح زخمی ہوئی تھی۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا عینا کے گھر جا پہنچے اور اس کے منہ پر ایک دو لگا دے۔

کیا نہیں کیا اس نے اس لڑکی کے لیے مگر وہ ابھی بھی اسے غلط ہی سمجھ رہی تھی۔

زریاب ملک نے کل اکیلے اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور نیچے کی طرف آیا تاکہ اس کی طرف سے اپنی ماں سے معافی مانگ سکے۔

جانتا تھا وہ بہت شرمندہ ہوئی تھیں عینا کا جانے کے لیے کہنے پر۔

وہ نیچے آیا تو عدیلہ بیگم صوفے پر بیٹھیں سیل پر شاید صائمہ بیگم سے بات کر رہی تھیں۔

وہ ان کے پاس آتا ان کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔

“جی بلکل بھابھی جیسا آپ بہتر سمجھی میں اذلان سے بات کروں گی خدا حفاظ”

وہ اسے دیکھتیں بات ختم کر گئیں تو زریاب شرمندہ ہوا۔

“کیا ہوا میرے بیٹے کو آج ماں پر پیار آ رہا ہے ، خیریت تو ہے”

وہ مسکرآ کر اس کی گال پر ہاتھ رکھتیں بولیں۔

“مجھے تو روز ہی آتا ہے آپ کو ہی شوہر سے فرصت نہیں”

وہ بھی شرارت سے بولا۔

“شرم کر لو کب فرصت نہیں ہوتی میرے پاس میں تو سارا دن فری ہوتی ہُوں تم خود مصروف رہتے ہو باہر”

وہ خفگی سے بولیں ان کے لہجے میں کہیں آج کے واقعی کو لے کر ناراضگی نہی تھی۔

“ہممم خیر ماما میں آپ سے معافی مانگنے آیا تھا عینا کی وجہ سے۔ اس نے غصّے میں زیادہ بدتمیزی کر دی۔ مجھے پہلے خود اس سے بات کرنے چاہیے تھی پھر ہی آپ کو لے کر جانا چاہیے تھا”

وہ شرمندگی سے بولا تو عدیلہ بیگم نے اس کی جانب دیکھا۔

“بیٹا تمہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور صحیح پوچھو تو مجھے ایک بچی غلط نہیں لگی ٹھیک لگی ہے۔ ہر عورت کو اسی طرح مضبوط ہونا چاہیے۔ مگر پھر بھی میری خواہش ہے کہ آپ اس سے بات کر کے اسے راضی کرو۔ اتنی معصوم اور کم عمر بچی ہے وہ کیوں اپنی زندگی خود تباہ کرنا چاہتی ہے”

وہ محبت و شفقت سے بولیں۔

“مگر مجھ سے برداشت نہیں ہوا اس کا لہجہ۔ میں جانتا ہوں اس نے بہت غلط کیا”

میر زریاب اس کی گفتگو بھول نہیں پا رہا تھا شاید۔

“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔خیر بھابھی کی کال تھی کہہ رہی تھیں کہ ہم تیاریاں شروع کر دیں اور اذلان علیزے سے بھی بات کر لیں تاکہ وہ بھی ابھی سے اپنی تیاریاں مکمل کر سکے”

وہ سنجیدگی سے بولیں تو زریاب نے سر ہلایا۔

“ہممم علیزے سے ضرور بات کر لیں اس کی رضامندی ہونا ضروری ہے۔ ویسے تیاریاں آپ لوگ کر لیں شروع ڈرایور فری ہے یا مجھے کہہ دیا کریں کہیں جانا ہو تو”

وہ بھی سنجیدہ ہوتا بولا تھا ، شادی کی جھنجھٹیں کم تھوڑی ہوتی ہیں۔

“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔کھانا لگا دوں تمہارے لیے۔ علیزے اور بابا تو لیٹ آئیں گے”

انہوں نے محبت سے اس کے بال سمیٹتے ہوئے کہا۔

“نہیں مجھے بھوک نہیں اب روم میں جاتا ہوں آفیس کا کام ہے”

وہ کہتا ان کی پیشانی پر بوسا دے کر اٹھا اور اوپر کی طرف بڑھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہانا حیران و پریشان بیٹھی رہ گئی تھی اور عینا اٹھ کر کمرے میں جا چکی تھی۔

سہانا کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ یہ سب کیا تھا ، عینا نے کبھی اسے کسی لڑکے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

مگر اب یوں اچانک کیسے کوئی اتنے بڑے گھر سے رشتے لے آئے تھے اور عینا نے کتنی تلخئ سے ان سے بات کی تھی۔

سہانا اٹھ کر اس کے کمرے میں آئی جو بیڈ پر گھٹنوں میں سر چھپائے بیٹھی تھی۔

“عینا کیا ہوا میری جان طبیعت ٹھیک ہے”

وہ پریشان ہوتی اس کے شانے کو ہلا کر بولی تو عینا نے سر اٹھایا۔

اس کی آنکھیں سرخ تھیں جس کا مطلب تھا وہ روئی ہے۔

“ہممم ٹھیک ہوں میں تک بیٹھو کھڑی کیوں ہو”

وہ پھیکا سے مسکرا کر بولی۔

سہانا اس کے قریب بیٹھی اور اس کی جانب دیکھا جو اپنے پاؤں کو گھور رہی تھی۔

“عینا بتاؤ مجھے یہ کون لوگ تھے ، کیسے جانتی تھی تم اس لڑکے کو اور وہ تم سے محبت کرتا ہے کیا ؟”

سہانا نے بےچینی سے سوال کیے تو عینا نے اس کی طرف دیکھا جو شائد معاملہ سمجھنا چاہتی تھی۔

عینا نے کچھ دیر سوچنے کے بعد شروع سے لے کر آخر تک کہانی اسے بتا دی۔

جسے سن کر سہانا حیرت زدہ ہوئی تھی کِیُونکہ اس نے کبھی اس بات کا اندازہ نہیں لگایا تھا کہ عینا کے ساتھ یہ سب بھی ہو سکتا ہے۔

“لیکن اگر تمہیں لگتا ہے کہ وہ تم سے سچ میں محبت کرتا ہے تو کیا حرج ہے نکاح میں ؟”

سہانا زرہ خفگی سے بولی تو عینا نے آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورا۔

“دماغ درست ہے تمہارا بیوقوف لڑکی۔۔۔وہ مرد ہے اس کے لیے آسان ہے یہ سب مگر میرے لیے نہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ ایسا کچھ کروں۔ میرے لیے جو بھی ہیں وہ زین ہیں ، تم ہو اور ان کی محبت کی نشانی ہے۔ مجھے اور کسی چیز کی غرض نہیں”

عینا سمجھداری سے بولی تھی۔

“عینا تمہیں پورا حق ہے اپنی زندگی کو سنوارنے کا۔ یار تم ان سے شیئر کرو کہ تم پریگنینٹ ہو یقیناً انہیں اعتراض نہیں ہو گا اور اگر ہوا بھی تو بعد میں دیکھیں گے۔ مگر تم اس طرح تو مت کرو۔”

سہانا زرہ سنجیدگی سے بولی تھی۔

“تم پاگل ہو چکی ہو اور کچھ نہیں۔ابھی نیا نیا بہت سوار ہے ان پر عاشقی کا لیکن میں جانتی ہوں شادی کر بھی لوں تو مجھے تانے ملیں گے کہ میں پہلے سے شادی شدہ تھی۔سوچو زرہ وہ میری اولاد کو اہمیت نہ دے یا وہ مجھے ابورشن کا کہہ دے پھر ؟”

عینا آگے کا زیادہ سوچ رہی تھی۔

“انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہنا میں جان چکی ہوں اور اب میں نے کہہ دیا ہے تم ان سے بات کرو گی تو مطلب کرو گی۔”

سہانا نے زور دیا تھا۔

وہ تو خود اس کا فائدہ چاہتی تھی ، وہ خوبصورت تھی تو بے پناہ وہ حق رکھتی تھی کہ اس کی زندگی میں زریاب جیسا کوئی شخص آئے۔

جب قسمت موقع دے رہی تھی تو سہانا چاہتی تھی عینا اس سے فائدہ اٹھائے۔

کِیُونکہ عینا کو اور کوئی مسلہ بھی تھا شادی سے بس اس نے یہ سوچ بنائی ہوئی تھی کہ وہ دوبارہ شادی کرے گی تو اسے تانے ملیں گے۔

کچھ دیر مزید وہ اس کے پاس بیٹھی رہی اور سمجھاتی رہی تو واقع اس پر کچھ اثر ہوا تھا مگر زیادہ نہیں۔

رات ہو چکی تھی تو دونوں نے اٹھ کر کھانا بنایا وہ کھایا پھر اپنے اپنے کمروں میں سونے کی نیت سے چلی گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح عینا کی آنکھ کھلی تو اس نے ٹائم دیکھا جو گیارہ بجا رہا تھا۔

وہ حیران ہوئی کہ اس کی نیند آج کیوں نہیں کھلی وہ ہمیشہ وقت پر اٹھا کرتی تھی۔

اسے ریسٹورنٹ جانا تھا اور بہت دیر ہو چکی تھی مگر وہ ابھی بھی جانا چاہتی تھی۔

اس نے جلدی سے اٹھ کر کپڑے نکالے اور تبدیل کیے پھر چادر لی اور بیگ پکڑتی کمرے سے نکلی۔

لاؤنج خالی تھا اور گھر کی خاموشی بتا رہی تھی کہ سہانا یونی جا چکی ہے۔

عینا نے کچن میں جا کر دیکھا تھا ایک پلیٹ میں فروٹس ، بریڈ اور ساتھ جیم رکھا تھا اس نے مسکرا کر دل میں سہانا کو لو یو کہا۔

پھر وہ جلدی سے ناشتہ کرتی کچن سے باہر آئی جانے کیوں آج دل بہت زور سے دھڑک تھا تھا۔

جیسے کچھ ہونے والا ہو مگر عینا اگنور کر رہی تھی کہ بس ایسے ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے۔

اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے موجود حستی کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل آئے تھے۔

سامنے ہی میر زریاب اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ موجود تھا شاید وہ دستک دینے ہی والا تھا۔

وہ بلیک فور پیس میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اسے دیکھ کر اس نے ایک ادا سے گلاسز اتاریں اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

آج ان آنکھوں میں محبت بھی تھی مگر غصّہ پہلے تھا۔

“آ۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں پلیز جائیں یہاں سے۔۔۔لوگ کیا سوچیں گے آپ ہمارے دروازے پر کیوں آئے ہیں۔۔۔خدارا یہاں سے چلے جائیں”

وہ اس کی پرسنالٹی کے سحر سے خود کو باہر نکال کر گھبرا کر بولی۔

“لوگ جو بھی سمجھیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔ میں بس تم سے کل کی بدتمیزی کی وجہ جاننے آیا ہوں۔ کتنی عزت دی میں نے میری فیملی نے تمہیں اور تم نے بدلے میں کیا کیا ہاں ، گھر سے نکل جانے کا بول دیا۔ یہ بھی نہیں سوچا وہ بڑے تھے”

وہ غصّے سے بھڑکتا آہستہ آواز میں دھاڑا تو و خوفزدہ ہوتی نظریں جھکا گئی۔

اسے مردوں سے پہلے ہی ڈر لگتا تھا مگر اب تک وہ غصّے میں لگ رہا تھا۔

عینا کا دل کر رہا تھا کسی طرح وہ یہاں سے چلا جائے ، کیونکہ یہ مین گلی تھی کوئی بھی آتا جاتا دیکھ سکتا تھا۔

مگر میر زریاب اس کی نہیں سن رہا تھا وہ شاید کل کا غصّہ اس پر نکالنا چاہتا تھا۔

“میرے جو دل میں آیا میں نے کیا میں آپ کی یا کسی کی پابند نہیں کہ خاموش بیٹھی رہ جاتی اور پلیز آب یہاں سے جائیں تماشا مت بنوائیں میری ذات کا”

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی لہجے میں غصّے کا عنصر لا کر بولی تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔

“بکواس بند کرو اپنی اور نکاح کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ اٹھاکر زبردستی بھی کے سکتا ہوں میں جو میں کرنا نہیں چاہ رہا تو خوش قسمت ہو تم نہیں تو اب تک بہت کچھ کر چکا ہوتا میر زریاب ملک”

اس کے لہجے میں غصّہ تھا اور بات میں دھمکی تھی۔

عینا نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا ابھی کوئی بھی آ سکتا تھا ، کوئی دیکھ لیتا تو اس پر کیچڑ اچھالنے والوں کی تعداد بڑھ جانی تھی۔

“آپ ابھی یہاں سے چلے جائیں پلیز بیشک ریسٹورنٹ آ جائیے گا یا۔۔یا پھر اندر ۔۔آ جائیں بیٹھ کر بات کر لیں۔۔یہاں کوئی بھی دیکھ سکتا ہے”

وہ گھبراہٹ میں بولی تو زریاب نے مسکراہٹ چھپائی۔

“محترمہ یوں سرعام عنایتیں مت کرو اندر آ گیا ناں تو بندہ بشر ہوں بہک بھی سکتا ہُوں پھر تم جیسی نازک جان تو مجھے روک بھی نہیں پائے گی۔۔۔اس لیے باہر ہی بہتر ہوں بس میری کچھ باتیں سن لو پھر چلا جاوں گا۔۔۔”

وہ معنی خیزی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو وہ شرم سے سرخ ہوتی سر چکا گئی۔

زریاب اس کے چہرے پر گیا کے رنگ دیکھ کر دل سے ایک دفعہ پھر فدا ہوا تھا۔

“پلیز چلے جائیں پلیز “

وہ منت کر رہی تھی ، مگر زریاب اس کی نہیں سن رہا تھا۔

“نکاح کر لو ابھی چلا جاتا ہوں”

وہ سنجیدگی سے بولا۔

عینا نے غصّے سے اسے دیکھا۔

“جب میری عزت کا خیال ہی نہیں تو نکاح کیسے کریں گے۔۔۔ہاں۔ “

وہ تلخئ سے بولی۔

“عزت کا خیال ناں ہوتا نا تو نکاح کی بات نہ کرتا”

وہ بھی غصّے سے چلایا۔

عینا کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے اس ڈھیٹ شخص کو۔

“آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا کے آپ کی ان حرکتوں کی وجہ سے مجھ پر کتنے الزامات لگائے جائیں گے۔ میں جانتی ہوں آپ جیسے رئیس زادوں کے لیے یہ عام سی بات ہے کہ اگر کوئی لڑکی پسند آ گئی تو اس کا پیچھا کیا اور اس کی عزت خراب کر کے ، اس سے اس کی ذات کا غرور کھینچ کر دوبارہ اپنی زندگی میں مگن ہو گئے۔۔۔لیکن خدارا میں اتنی ہمت نہیں رکھتی پہلے ہی زمانے کو اپنی پاک دامنی کے ثبوت دیتی پھررہی ہمیں مزید کچھ برداشت کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔۔۔میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں اگر اتنا ہی عشق ہے مجھ سے تو میری خاطر چھوڑ دیں مجھے ، بھول جائیں مجھے”

وہ آنسوؤں سے بھری آنکھیں اس کی ہیزل آنکھوں میں ڈال کر غصے اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت لیے بولی تھی۔

ساتھ ساتھ خوف بھی تھا کہ کوئی آ نہ جائے کیونکہ وہ گلی میں ان کے دروازے پر کھڑا تھا۔

دیکھنے والے تو یقیناً اسے ہے غلط سمجھتے۔

میر زریاب ملک نے اپنے گارڈز کو پیچھے ہونے کا اِشارہ کیا۔

“یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ تمہاری ان فضول باتوں سے میں اب پیچھے ہٹوں گا۔ جو چیز ایک دفعہ میر زریاب کو پسند آ جائے وہ اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔ تم سے تو پھر محبت کر بیٹھا ہوں تمہیں چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جہاں تک بات ہے زمانے کی تو ایک دفعہ تم میری عزت بننے پر راضی ہو جاؤ پھر تم دیکھنا کہ تمہیں کیسے دنیا کی نظروں میں سرخرو کرے گا تمہارا محافظ ، تمہارا عاشق۔۔۔”

وہ ہمیشہ کی طرح اپنے پر روعب انداز میں بولا تھا۔

ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے ہی تھے جب میر زریاب نے اسے سختی سے گھورا تو وہ خاموش ہو گئی۔

“جب مرد بات کر رہا ہو تو عورت ٹوکتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔خیر میری بات کان کھول کر ان لو اور ذہن نشین کر کو میں کوئی سڑک چھاپ غنڈا نہیں ہو جو تا عمر تمہارا پیچھا کرتا رہوں گا۔ایک ہفتے تک کا وقت ہے تمہارے پاس خود کو میرا بنانے کے لیے راضی کر لو۔کِیُونکہ اس دفعہ میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا محترمہ۔۔۔خدا حافظ اپنا خیال رکھنا اور ہاں اس ایک ہفتے میں تمھارے قدم اس گھر کی چار دیواری سے باہر نکلے تو یاد رکھنا ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری۔میرے ملازم آئیں گے کچھ دیر تک تمہاری ضرورت کا سارا سامان پہنچا جائیں گے۔”

وہ سنجیدگی سے بولا تھا اور آخرمیں اسے وارننگ دیتا اپنی بلیک گلاسز آنکھوں پر لگاتا مضبوط قدم لیتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

اس کی چال میں بہت غرور تھا ، روعب تھا جو دیکھنے والوں کو بے تحاشا متاثر کرتا تھا۔

اس کے جانے کے بعد اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا ، پھر وہ دروازے ائے ہی کمر لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔

کہاں لا کر پھنسایا تھا قسمت نے وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی کیا کرے۔

زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ تھا یہ اس کا ہاں کرتی تو جانے کیا ہوتا ناں کرے تو بھی وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔

عینا کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ، وہ اپنی کیفیت سمجھ کر بھی جھٹلا رہی تھی۔

اس شخص کو دیکھ کر اس کے گال تپنے لگتے تھے ، اس کی گہری نظروں سے پلکیں جھک جایا کرتی تھیں ، دل دھڑکنا بھول جاتا تھا۔

مگر اس کو سوچ کر دل اتنا دھڑکتا تھا کہ عینا کے کانوں تک آواز آتی تھی۔

“ٹھیک ہے میر زریاب ملک آزما ہی لیتی ہوں اپنی قسمت۔۔۔ممکن ہے تم عام انسانوں سے ہٹ کر ہو میرے زین جیسے۔۔۔۔”

وہ دل میں دل سے مخاطب تھی۔

Episode 9

علیزے اپنے کمرے میں موجود تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔

اس نے جلدی سے ایک طرف پڑا دوپٹہ اٹھا کر سینے پر پھیلایا اور اندر آنے کی اجازت دی۔

میر اذلان کو آتے دیکھ وہ اٹھ کھڑی ہوئی وجہ تو وہ سمجھ چکی تھی۔

“اسلام و علیکم کیا کر رہی تھی میری بیٹی ؟”

وہ مسکرا کر بولے تو علیزے بھی مسکرائی۔

“کچھ خاص بھی بابا فری ہی تھی آپ بیٹھیں کھڑے کیوں ہیں “

اس نے بیڈ کی جانب اشارہ کیا مگر اذلان ملک صوفے پر بیٹھ گئے اور اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

علیزے بھی ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔

“علیزے بیٹے تمہاری تائی امی نے رخصتی کی بات تھی تو میں نے کہہ دیا ہے کہ ڈیٹ رکھ لیتے ہیں۔ مگر ایک چاہ رہی ہیں اگلے مہینے کی کوئی ڈیٹ رکھی جائے۔تمہیں کوئی مسلہ ہو تو بتا دو”

وہ سنجیدگی سے بولے تو اس کہ کانوں میں زہرام کے الفاظ گونجے۔

وہ پریشانی سے انگلیاں چٹخانے لگی انکار نہیں کر سکتی تھی مگر ابھی وہ کچھ بننا چاھتی تھی۔

“بیٹا کوئی پریشانی ہے ؟”

اسے سوچتے دیکھ اذلان شاہ نے سوال کیا تو اس نے گھبرا کر نفی میں سر ہلایا۔

“نن۔۔نہیں بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ لوگ کوئی بھی ڈیٹ فیکس کر لیں”

وہ سر جھکا کر کہتی ان کا سے ناز سے بلند کر گئی۔

“مجھے اپنی گڑیا سے یہی اُمیدِ تھی۔۔۔اللہ میری بچی کو تا عمر خوش رکھے”

وہ محبت سے اسے دعا دے رہے تھے۔

علیزے اب شرم سے نظریں نہیں اٹھا پا رہی تھی۔

“میں تمہاری ماما سے کہتا ہوں بھابھی کو بتا دیں۔۔۔تم بھی کل سے ماما کے ساتھ مل کر تیاریاں شروع کرو بیٹے”

وہ اٹھتے ہوئے بولے تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور خود بھی اٹھی۔

ان کے جاتے ہیں وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں پیچھے لیٹی۔

اس کے ذہن میں بہت سی سوچیں گردش کر رہی تھیں اس وقت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہیلو”

اس کا سیل رنگ ہوا تو ان نون نمبر تھا دو دفعہ اگنور کرنے کے بعد بھی تیسری دفعہ کال آئی تو اس نے پک کر کے سیل کان سے لگایا تھا۔

“جی محترمہ آج آپ کو دیا وقت ختم ہو چکا ہے اگر یاد ہو تو”

میر زریاب کی خوش گوار آواز پر عینا نے ہونٹ چبائے تھے۔

اس کی آواز پر ہی دل دھڑک اٹھا تھا۔ سینے میں انتشار پیدا ہوا تھا۔

“بولو بھی کب تک آؤں تمہیں لینے ؟”

زریاب سنجیدگی سے بولا تو عینا نے بمشکل خود کو قابو کیا۔

فیصلہ تو وہ کر چکی تھی مگر اب گھبرا رہی تھی۔

“اوکے میری جان اگر شرم آ رہی ہے تو تم کال بند کرو اور میرا انتظار کرو میں آ رہا ہوں کچھ دیر میں”

“ابھی۔۔ابھی کیسے۔۔پلیز ایک دو دن۔۔انتظار کر لیں۔ابھی یہ۔۔سب مشکل ہے میرے لیے۔”

میر زریاب اپنی بات کر کے ابھی سیل رکھتا تبھی عینا گھبرا کر بولی تھی۔

“کچھ بھی مشکل نہیں سو پلیز گھبرانے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو گا میں آ رہا ہوں اپنی اور اپنی کزن کی پیکنگ کر لو۔۔۔تم دونوں میرے ساتھ مینشن ہی چلو گی”

زریاب دو ٹوک لہجے میں بولا تو عینا نے ہونٹ چبائے۔

“میں نے ایک بات بتانی ہے آپ کو میں پہلے نہیں بتا سکی۔۔۔مگر اب ضروری ہے”

وہ سنجیدگی سے بولی تو زریاب خاموش ہی رہا تاکہ اس کی بات سن سکے۔

“مم۔۔میں ٹو۔۔ منتھس پریگنینٹ ہوں۔۔۔”

وہ لڑکھڑا کر بولی۔

زریاب کو جھٹکا لگا تھا ،یقیناً اب بہت مشکل تھا اس کے لیے عینا کا ذہن بٹانا۔

اگر زین کا بچہ اس کے پاس ہو تو عینا نے تو اس کی یادوں سے نکل ہی نہیں پانا تھا۔

“اٹس اوکے تم زیادہ نہیں سوچو یہ کوئی بڑی بات نہیں”

وہ خود کو نارمل کرتا بولا بیشک اسے بھی یہ بات چبھی تھی مگر عینا کو وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا جس سے وہ اس کی جانب سے بدگماں ہو۔

زریاب کے جواب پر عینا نے لمبی سانس لی۔

اس نے خدا حافظ کہہ کر سیل رکھا پھر سہانا کو کال کی جو یونی تھی۔

یقیناً یہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن اور فیصلہ تھا۔

اس نے بہت سوچنے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ وہ گھر ہرگز نہیں بیچے گی آخر اس گھر میں ان کی فیملی کی یادیں تھیں۔

سہانا کو آنے کا کہہ کر اس نے ایک سوٹ کیس نکالا اور اس میں اپنی ضروری چیزیں اور کپڑے رکھنے لگی۔

ان دونوں کو کپڑوں کو ہمیشہ سے بہت شوق تھا تو ابھی بھی ان کے پاس بہت سارے خوبصورت ڈیزائن کپڑے تھے۔

اب عینا نے تو شاپنگ کم کر دی تھی مگر سہانا زبردستی خود بھی لیتی اور اسے بھی دلاتی تھی۔

عینا نروس تھی کہ وہ لوگ جانے کیسا بیہيو کریں گے ان کے ساتھ۔

اس نے جس قدر بدتمیزی کی تھی اس کے بعد ان سے پیار کی اُمیدِ رکھنا پاگل پن ہی لگا تھا اسے۔

اس نے اپنی پیکنگ مکمل کر کے سہانا کی بھی کی پھر وہ کچن میں آ گئی تاکہ سہانا کے لیے کچھ بنا دے۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو وہ باہر آئی دروازہ کھولا تو سہانا تیزی سے اندر آئی۔

“کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”

وہ پریشانی سے بولی تو عینا نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر کچن کی جانب بڑھی۔

سہانا بھی اس کے پیچھے آئی جو اب کباب تلنے میں مشغول تھی۔

“تم مجھے بتاؤ گی کہ کیوں اتنا ارجنٹ بلایا ہے مجھے۔”

وہ اس کے قریب کھڑی ہوتی بولی تو عینا نے اس کی جانب دیکھا۔

“ہم دونوں کی پیکنگ ہو گئی ہے اور۔۔زر۔۔زریاب ہمیں لینے۔۔آ رہے ہیں۔۔”

وہ اس کے نام پر نظریں جھکا گئی تو سہانا نے حیرت اور خوشی سے اسے دیکھا۔

“او ہو جی شرمایا جا رہا ہے ؟”

وہ اس کے چہرہ اوپر کرتی بولی تو عینا نے اسے گھورا۔

“جاؤ شاباش اپنا سامان دیکھ کو کچھ رہ گیا ہے تو اٹھا لو تب تک میں یہ لاتی ہُوں”

اس نے سنجیدگی سے کہا تو سہانا نے اسے دیکھا۔

“تم پاگل ہو گئی ہو ؟ میں کیوں جاؤں گی تمہارے ساتھ۔۔۔”

وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھتی بولی تو عینا نے اسے دیکھا۔

“کیوں کا کیا مطلب۔۔۔زریاب نے مجھے خود کہا ہے اور ویسے بھی میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی سہانا۔۔۔تم ذمہ داری ہو میری”

عینا سنجیدگی سے بولی تو سہانا نے نفی میں سر ہلایا۔

“عینا یہ مناسب نہیں لگتا۔۔۔میں رہ سکتی ہوں یہاں یار گھر ہے ، میری جاب ہے اور تم بھی آ جایا کرنا کبھی کبھار۔ میں نہیں آ رہی تم اپنی پیکنگ کرو”

سہانا نے نرمی سے اسے سمجھایا تو عینا نے اسے گھور کر دیکھا۔

“دماغ خراب مت کرو میرا اور چپ چاپ چلو ساتھ زریاب ایسے بلکل نہیں کہ وہ مائنڈ کریں گے بلکہ وہ تو خود مجھ سے کافی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تم میرے ساتھ ہی ہو گی۔ سہانا میری جان جلد ہی تمہاری بحث شادی ہو جائے گی پھر تم اپنے گھر چلی جاؤ گی مگر تب تک تم میرے ساتھ رہو گی۔”

عینا محبت سے بولی تو سہانا نے اس کی جانب دیکھا۔

“پلیز عینا بحث نہیں کرو۔۔۔پہلی بات مجھے شادی نہیں کرنی دوسری بات کر بھی لی تو ابھی بلکل نہیں تو اتنا عرصہ میں کسی پر بوجھ نہیں بن سکتی۔۔۔”

سہانا سنجیدگی سے بولی تو عینا نے اسے دیکھا۔

“تم بوجھ نہیں ہو گی سہانا۔۔۔تم بہن ہو میری اور سب جانتے ہیں میرے بعد تم اکیلی ہو جاؤ گی اس لیے زریاب نے کہا ہے تمہیں بھی لے آؤں۔ خیر اب تنگ نہیں کرو مجھے یہ کھاؤ اور پھر اپنی تیاری کرو۔ میں پہلے ہی بہت پریشان ہُوں تم مزید تنگ نہیں کرو پلیز”

عینا نے کباب پلیٹ میں رکھتے اسے پکڑائے پھر کچن سمیٹنے لگی۔

سہانا بھی خاموشی سے باہر لاؤنج میں چلی گئی۔

پھر ان دونوں نے سارا گھر سیٹ کیا الماریاں لاک کیں۔

ان کے پاس کچھ سیوینگز تھیں وہ پرس میں رکھیں۔

سہانا نے زبردستی عینا کو لائٹ سا میک اپ کیا تھا جس سے وہ اب پہلے سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی۔

آتشی رنگ کے شلوار قمیض پر مونگیا دوپٹا اوڑھے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

چہرہ ویسے ہی بہت پر نور تھا مگر اب زیادہ ہی نکھر رہا تھا۔

وہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب دستک ہوئی سہانا نے جا کر دروازہ کھولا تو میر زریاب اکیلا ہی موجود تھا۔

اس نے اندر آنے کا کہا تو وہ بھی آہستہ قدم لیتا اندر آیا۔

جیسے ہی اس نے لاؤنج کے قدم رکھا عینا اٹھ کھڑی ہوئی۔

زریاب اسے دیکھ کر پل کو تھما مگر سہانا کا احساس کرتے نظریں پھیر گیا۔

“تیار ہو تم دونوں ؟”

اس نے سہانا کی جانب دیکھتے سوال کیا جبکہ عینا نظریں جھکائے کھڑی تھی۔

“جی بھائی”

سہانا نے جواب دیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

تبھی زریاب نے آواز دی تو دو گارڈز اندر آئے اور لاؤنج کے دروازے پر ہی رک گئے۔

ان کے دو سوٹ کیس رکھے تھے زریاب کے اشارے پر وہ دونوں سوٹ کیس لیتے باہر چلے گئے۔

“چلیں پھر ؟”

اس نے ایک نظر اس خوبصورت پھول پر ڈالتے ہوئے سہانا سے پوچھا تھا۔

اس نے اثبات میں سر ہلاتا پھر دونوں میں وہاں رکھیں شالز لیں اور خود پر پھیلا لیں۔

زریاب آگے چلنے لگا وہ دونوں اس کی پیروی کرنے لگیں۔

عینا کا دل بھرا رہا تھا آج وہ اس گھر کو چھوڑ کر جا رہی تھی۔

دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔

دل کر رہا تھا جی بھر کر روئے مگر اس نے خود پر ضبط رکھا۔

ہاں البتہ آنکھوں سے آنسو تیزی سے رواں تھے جو وہ تیزی سے صاف کر رہی تھی مگر آنسو تھمنے میں نہیں آ رہے تھے۔

جب وہ باہر آئے تو عینا نے خود دروازہ لاک کیا۔

زریاب نے پلٹ کر اسے دیکھا پھر اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اسے اذیت ہوئی تھی۔

ہاں اس کے بعد اس نے آج پہلی دفعہ خود سے کسی کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔

محلے کے لوگ گلی میں جھرمٹ بنائے کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔

زریاب کا دل کر رہا تھا انہیں سنا دے مگر ضبط کر گیا۔

اس نے دروازہ کھولا تو پہلے سہانا بیٹھی پھر عینا بھی ساتھ بیٹھنے لگی جب زریاب نے دروازہ بند کر دیا۔

اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو عینا میں اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں سنجیدگی تھی۔

پھر وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گئی تو زریاب ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔

گارڈز کی گاڑیوں کے ہمراہ ان کی گاڑی بھی محلے سے نکلی تھی۔

عینا بہت ضبط کر رہی تھی مگر پھر بھی ہر دو منت بعد اس کی سسکی نکلتی تھی۔

سہانا سے زریاب باتیں کرنے لگا تو وہ بھی خوشدلی سے اس سے بات کرنے میں لگ گئی تھی۔

“دس منٹ تک ہم پہنچ جائیں گے۔۔۔بیوٹیشن موجود ہے منشن وہ تم دونوں کو تیار کر ڈے گی جیولری اور کپڑے وغیرہ بھی پہنچ جائیں گے۔ ویسے تو ماما اور علیزے ہیں وہ سمجھا دیں گی تم لوگوں کو سب مگر میں بتا رہا ہوں تاکہ مشکل نا ہو۔ رات تک مہمان آ جائیں گے زیادہ نہیں بس فیملی کے ممبرز ہی ہوں گے۔۔۔شام کو نکاح اور عشاء کو رخصتی ہو گی”

زریاب نے سب کچھ سمجھایا تو سہانا نے جی کہا البتہ عینا خاموش ہی تھی۔

“آپ کی ماما مجھ سے ناراض ہوں گی ناں ؟”

وہ پہلی مرتبہ بولی تھی۔

اس کی بات پر زریاب نے اسے دیکھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی۔

“نہیں وہ ناراض نہیں ہیں لیکن پلیز آج کچھ ایسا مت کرنا جس سے ان کی دل آزاری ہو”

زریاب نے نرمی سے سمجھایا تھا۔

عینا نے اثبات میں سر ہلایا۔

کچھ دیر میں گاڑی ایک خوبصورت ترین مینشن کے پورچ میں رکی۔

ایک ملازمہ تیزی سے آئی اور ان کے لیے دروازے کھولے۔

وہ دونوں اس قدر خوبصورت گھر اور ملازموں کی فوج کو دیکھ کر حیران تھیں۔

“بی بی جی آئیں باہر”

ملازمہ نے کہا تو وہ آہستہ سے باہر آئی پھر سہانا بھی باہر آئی۔

زریاب نے گاڑی بند کی اور ان کے قریب آیا۔

وہ سب لاؤنج منہ ائے تو وہاں علیزے اور عدیلہ بیگم کھڑی تھیں۔

انہیں دیکھ کر مسکرائیں جبکہ وہ دونوں نروس ہو رہی تھیں۔

عدیلہ بیگم نے آگے بڑھ کر پہلے عینا کو خود سے لگا کر پیار کیا پھر سہانا کو۔

علیزے بھی خوش اخلاقی سے دونوں سے ملی جبکہ زریاب ایک صوفے پر بیٹھ کر انہیں دیکھ رہا تھا۔

“ان میں سے بھابھی کون سی ہے”

علیزے نے مسکرا کر زریاب کو دیکھتے سوال کیا تو اس نے شانے آچکائے۔

عینا بھابھی لفظ پر چہرہ جھکا گئی جو سرخ ہو رہا تھا۔

“چل گیا پتہ مجھے تم نور العین ہو ؟”

وہ مسکرا کر بولی تو عینا نے سر ہلایا اس کی حالت خراب ہو رہی تھی جو زریاب با خوبی سمجھ رہا تھا۔

“علیزے بیٹا بیٹھنے تو دو بچیوں کو کھڑے رکھنے کہ ارادہ ہے کیا ؟”

عدیلہ بیگم خفگی سے بولیں تو علیزے انہیں صوفوں تک لائی اور بیٹھنے کا بولا تو دونوں بیٹھ گئیں۔

ملازمہ ان کے لیے کھانے پینے کا سامان ٹیبل پر سجانے لگی۔

“عینا بیٹا تم پریشان لگ رہی ہو۔۔۔اپنا گھر ہے اب کیوں گھبرا رہی ہو”

عدیلہ بیگم عینا کی گھبراہٹ نوٹ کر کے بولیں تو اس نے ان کی طرف دیکھا۔

“نن نہیں آنٹی۔۔میں نہیں گھبرا رہی۔ میں ٹھیک ہوں”

اس نے جواب دیا تو اُنھوں نے سر ہلایا۔

علیزے ان دونوں سے باتیں کرنے لگی۔

زریاب محسوس کر رہا تھا کہ عینا اس کی موجودگی سے ڈسٹرب ہو رہی ہے اس لیے وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر چلا گیا تو اس نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

اور علیزے سے باتیں کرنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *