Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima NovelR50621 Bheegi Ankhen Teri (Episode 12,13)
Rate this Novel
Bheegi Ankhen Teri (Episode 12,13)
Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima
شادی کی تیاریاں دونوں طرف سے مکمل ہو چکی تھیں اور آج برات کہ فنکشن تھا۔
صبح سے ہی ملک مینشن میں ہلچل مچی تھی ، لڑکیوں کو جلدی سے سامان کے ساتھ پارلر پہنچا دیا گیا تھا۔
جبکہ مینشن کو بہت خوبصورتی سے سجایا جا رہا تھا۔
علیزے بہت خوش تھی مگر گھبراہٹ بھی تھی کیونکہ وہ اپنا گھر چھوڑنے والی تھی۔
عینا پر تو ان دنوں الگ ہی روپ چڑھا تھا جو زریاب ملک کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
سہانا بھی بہت خوش تھی مگر علیزے کی دوری کی وجہ سے دکھی بھی تھی۔
عینا ابھی چہرے کی مساج کروا رہی تھی جب تیسری دفعہ اس کا سیل رنگ ہوا۔
اس نے تپ کر سیل اٹھایا تو زریاب کی کال تھی جو شائد جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا ، وہ مصروف تھی یہاں مگر زریاب بار بار کال کے رہا تھا وہ بھی بلاوجہ۔
جی ورکر اس کو ٹریٹمنٹ دے رہی تھی وہ بھی مسکرائی۔
عینا نے غصے سی کال پک کر کے کان سے لگائی۔
“اب کیا ہے ؟”
وہ الجھ کر بولی تو دوسری طرف زریاب نے قہقہہ لگایا جس سے وہ مزید بھڑکی۔
“پلیز زریاب حد ہوتی ہے آپ بعض آ جائیں اب۔۔۔”
وہ ناراضگی سے بولی تھی۔
“کیا کروں تمہیں مس کر رہا ہوں بہت”
وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولا۔
“ابھی گھنٹہ بھی نہیں ہوا مجھے آئے اور ویسے بھی جب ڈیلی آپ سارا سارا دن آفیس رہتے ہیں تو میں بھی مس کرتی ہوں آپ کو یہ الگ بات ہے کہ ڈسٹرب نہیں کرتی”
عینا نے اسے سمجھایا تھا۔
“جو بھی ہے تم جلدی تیار ہو جاؤ میں تمہیں پہلے پک کر لوں گا”
وہ سنجیدگی سے بولا تو اس نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
جبکہ ورکر ابھی بھی اُس کی کال کے ختم ہونے کے انتظار میں تھی۔
“پلیز زریاب بس کر دیں ناں۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی۔
“اوکے صحیح ہے کر لو جی بھر کر منمانیاں رات تو میں۔۔”
ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب عینا نے شرم سے کال کٹ کی کر سیل آف کر دیا۔
پھر یوں ہی وہ تینوں تیار ہوئیں۔
سہانا نے سلور کلر میں لہنگا چولی پہن رکھی تھی جس پر بے حد خوبصورت کام تھا ، وہ ڈارک پنک لپسٹک لگائے بالوں کا میسی جوڑا بنوا کر بہت پیاری لگ رہی تھی۔
عینا نے اسکائی بلیو غرارہ پہنا تھا وہ ایک طرف جھومر لگائے ، بالوں کو کھلا چھوڑے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
جبکہ علیزے سرخ اور مہرون رنگ کے کمبینیشن کی ہیوی میکسی پہنے ، ڈارک لپسٹک لگائے بالوں کہ جوڑا بنا کر دوپٹہ سر پر سیٹ کیے ، کھڑی ناک میں نتھ پہنے ، پیشانی پر ٹیکا لگائے ، ہاتھوں پر مہندی لگا کر بہت سارے کنگن پہنے بے تحاشا پیاری لگ رہی تھی۔
عینا اور سہانا نے اس کی بہت تعریف کی تھی ، وہ لگ ہی اتنی پیاری لگ رہی تھی۔
پھر انہوں نے زریاب کو کال کی تو بیس منٹ بعد وہ بھی پہنچ گیا۔
جب گارڈ نے پیغام دیا کے وہ نیچے آ چکا ہے تو انہوں نے قدم باہر کی جانب بڑھائے۔
زریاب نے خود ان کے لیے گاڑی کے گیٹ کھولے ، سہانا اور علیزے پیچھے بیٹھیں جبکہ عینا خود ہی فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی۔
زریاب بھی بلیک اینڈ وائیٹ فور پیس میں بالوں کو سیٹ کیے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
ان لوگوں نے ڈائریکٹ حال جانا تھا کیونکہ اب وہیں پہنچ چکے تھے ، کچھ دیر میں برات بھی آنے ہی والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریاب نے برائیڈل روم کے گیٹ پر گاڑی روکی تو وہ تینوں اندر بڑھ گئیں پھر وہ گاڑی پارک کرتا خود بھی اندر حال میں آیا۔
عدیلہ بیگم پہلے ہی یہاں موجود تھیں انہیں جب ان کی آمد کا پتہ چلا تو وہ فوراً برائیڈل روم میں آئیں۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں میری بچیاں”
وہ تینوں کی دیکھتیں محبت سے بولیں تو وہ مسکرائیں۔
“مما آپ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہیں”
سہانا محبت سے ان سے لگتی بولی تو کو مسکرائیں۔
“برات آنے والی ہے کچھ دیر تک میں زریاب کو بھیجوں گی اس کے ساتھ آ جانا تم لوگ باہر۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولیں تو انہیں نے جی کہا۔
پھر وہ علیزے کے پاس آئیں اور اس کی پیشانی پر پیار کیا۔
“اللہ میری بیٹی کو ساری عمر خوش رکھے”
اُنھوں نے دعا دی تو علیزے کی آنکھیں نم ہوئیں۔
مگر وہ آنسو پی گئی وہ ابھی رونا نہیں چاھتی تھی۔
عدیلہ بیگم اسے پیار کر کے چلی گئیں پھر کچھ دیر وہ تینوں اندر ہی رہیں مگر ملازمہ کے بلاوے پر تھوڑی دیر بعد عینا باہر چلی گئی تھی۔
عدیلہ بیگم نے اسے بلوایا تھا کیونکہ مہمان اس سے ملنا چاہتے تھے۔
سب نے بہت تعریف کی تھی اس کی ، آج تو وہ پہلے سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد برات کا شور اُٹھا تھا ، علیزے کی دوستوں اور کزنز نے پھولوں کی پتیوں سے میر زہرام کا استقبال کیا تھا۔
میر زہرام آف وائٹ شیروانی پر مہرون قلہ پہنے ہوئے کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا۔
ان کے پیچھے میر ہادی تھا جس نے بلیک شلوار قمیض پر وائٹ شال کندھوں پر ڈال رکھی تھی۔
وہ بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ، اور پھر ان سب کی لاڈلی میرال تو سب سے پیاری لگ رہی تھی۔
اس نے بلیک کلر کا لہنگا پہنا تھا ، جس اور گولڈن اور وائٹ موتیوں اور گوٹے کا کام تھا۔
وہ بالوں کی چوٹیا کیے ، چہرے پر لٹیں نکال کر بہت پیاری لگ رہی تھی۔
میر زریاب زہرام ملک کو اسٹیج تک لایا تو وہ پوری شان کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوا۔
صائمہ بیگم بھی عدیلہ بیگم کے ہمراہ مہمانوں سے ہی باتیں کرنے لگیں۔
کچھ دیر بعد میر زریاب خود برائیڈل روم میں گیا ، عینا اب علیزے کی جھومر ٹھیک کر رہی تھی۔
زریاب نے قریب آ کر ہاتھ بڑھایا تو علیزے تھام کر اٹھی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہے بھائی کی جان”
زریاب اس کی پیشانی پر پیار کرتا ، اسے سینے سے لگا کر بولا۔
علیزے مسکرا دی۔
پھر ایک طرف سے عینا نے اسے تھاما جبکہ دوسری طرف سے میر زریاب نے ، سہانا بھی ان کے ساتھ تھی۔
وہ باہر آئے ، علیزے نظریں جھکائے دونوں ہاتھوں سے اپنی میکسی کو تھامے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
میرال بھی جلدی سے اس کے پاس آئی تھی۔
میر زہرام کی نظریں بھی ادھر ہی تھیں جہاں سے اس کی پری اس کی جانب آ رہی تھی۔
زریاب اور عینا نے اسٹیج کے قریب آ کر اسے چھوڑ دیا تو زہرام اٹھ کر اس تک آیا۔
اس نے ہاتھ بڑھایا تو علیزے نے آہستہ سے اپنا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں دے دیا۔
اس نے مسکرا کر علیزے کو آہستہ سے کھینچا تو وہ اوپر آئی۔
زہرام ملک نے اسے بھی ساتھ بٹھایا ، عینا نے آگے بڑھ کر اس کی میکسی سیٹ کی۔
زریاب اذلان صاحب کے پاس چلا گیا ہادی بھی وہیں موجود تھا۔
جبکہ عدیلہ بیگم اور صائمہ بیگم سٹیج پر آئیں دونوں کو دعائیں دیں۔
تینوں لڑکیاں بھی ان کے ساتھ بیٹھیں۔
پھر یونہی کچھ دیر تصویریں بنتی رہیں۔
اس کے بعد کھانا کھایا گیا ، پھر رات کے دس بجے رخصتی کا ارادہ کیا گیا۔
میر اذلان ، زریاب اور ہادی بھی اسٹیج کی طرف آئے ، علیزے اب بہت گھبرا رہی تھی۔
زہرام بھی اس کی کپکپاہٹ دیکھ پریشان تھا۔
عدیلہ بیگم نے سفید کڑھائی والی خوبصورت چادر اس کے وجود پر اچھے سے اوڑھا دی۔
علیزے جو بہت بہادر بہت مضبوط تھی آج اسے اپنا دل لرزتا محسوس ہو رہا تھا ، آنکھوں سے آنسو رک ہی نہیں رہے تھے۔
سہانا اور عینا نے اسے بہت چپ کرایا مگر وہ اب باقاعدہ طور پر ہچکیوں سے رونے لگی ، اس کا ایک ہاتھ میر زہرام کے ہاتھ میں تھا۔
وہ اس کہ ہاتھ سہلا کر اسے پرسکون کرنا چاه رہا تھا۔
“علیزے میرے بچے کیوں رو رہی ہو خوشی کے موقع پر۔۔۔تک دور تھوڑی ہو رہی ہم سے میری جان وہ گھر ہمیشہ تمہارا بھی رہے گا”
اذلان ملک اسے خود سے لگاتے بہت محبت سے بولے جبکہ عدیلہ بیگم کی اپنی حالت خراب تھی۔
عینا بھی آنسو بحا رہی تھی جبکہ سہانا بھی بہت غمزدہ تھی۔
بڑی مشکل سے زریاب اور اذلان شاہ نے اسے خاموش کروایا وہ سب سے ملی۔
پھر زریاب نے قرآن کے سائے تلے اسے گاڑی تک پہنچایا۔
میرال اور زہرام نے اسے تھام رکھا تھا۔
زریاب نے گاڑی کے قریب آ کر قرآن ملازمہ کو تھمایا اور خود اسے ایک بات پھر سینے سے لگایا۔
زریاب نے اسے پیار کیا تو علیزے بھی اس کے گرد حصار بناتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“تمہاری امانت تمھارے حوالے کر رہا ہوں میر زہرام کہنے کی ضرورت تو نہیں مگر پھر بھی اسے کبھی تکلیف مت دینا”
اسے یوں ہی روتے خود سے الگ کر کے اس کا ہاتھ زہرام کو تھما کر زریاب ملک اس سے مخاطب ہوا تھا۔
عینا عدیلہ بیگم کو سمبھال رہی تھی جو حال میں ہی تھیں۔
جبکہ سہانا ، اذلان ملک اور زریاب نے اسے رخصت کیا تھا۔
زہرام ملک نے اس نازک وجود کی اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا ، میرال نے اس کی میکسی سمیٹ کر اندر رکھی۔
پھر زہرام ملک کی گاڑی وہاں سے نکلی تو پیچھے آٹھ دس گاڑیاں بھی ساتھ گئی تھیں۔
زریاب آسودگی سے مسکرایا ، اس وقت بہت خالی خالی محسوس کے رہا تھا وہ خود کو۔
وہ پیچھے مڑا تو سہانا ہچکیوں سے رو رہی تھی ، زریاب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بس بچے اب اور نہیں رونا”
وہ پیار سے بولا پھر اسے تھام کر اندر لایا۔
اندر بھی حالت بہت بری تھی ، عدیلہ بیگم کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
عینا انہیں پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی ، زریاب نے قریب آ کر انہیں خود سے لگایا۔
“ماما اس نے جانا ہی تھا آپ بھی خود کو سنبھالنے کے کوشش کریں اب “
وہ سنجیدگی سے بولا تو عدیلہ بیگم نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“زریاب وہ کیسے رہے گی ہم سب کے بنا۔۔۔میری بچی تو ہمارے علاوہ رہنے کا سوچ ہی نہیں سکتی تھی”
وہ روتی ہوئیں بولیں۔
“ماما آپ جانتی ہیں ناں وہاں سب کتنا پیار کرتے ہیں اس سے۔۔۔و بہت خوش رھے گی وہاں آپ پریشان مت ہوں”
زریاب نے انہیں تسلی دی پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ بھی مینشن کے لیے نکلے تھے۔
سہانا بہت اُداس تھی ، کِیُونکہ وہ بہت اکیلی ہو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی ، جبکہ میر زہرام سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔
اب وہ تنگ ہو رہا تھا اس کے رونے سے مگر اس لیے خاموش تھا کہ اس کی حات کا اندازہ تھا اسے۔
جانتا تھا لڑکی کے لیے یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے ، مگر وہ مطمئین تھا کیونکہ وہ اس کی ہو چکی تھی۔
“یہ لو پانی پیو”
جب بہت دیر بعد بھی وہ خاموش نہیں ہوئی تو زہرام نے پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھائی۔
اسے بھی شاید طلب تھی پانی کی اس نے آہستہ سے تھام کر بوتل منہ سے لگائی۔
چند چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر اس نے بوتل بند کر کے گود میں رکھ لی۔
وہ اب سکیں محسوس کے رہی تھی ، مگر پھر جب اسے اپنا گھر یاد آیا تو اس نے دوبارہ ایک سسکی لی تھی۔
“اب بس کرو اور کتنا رونا ہے ؟”
وہ نرمی سے بولا تھا۔
مگر علیزے خاموش رہی۔
جب اس کی گاڑی اپنے بنگلے کے پورچ میں رکی تو زہرام گاڑی سے باہر آیا۔
پیچھے سب گاڑیاں بھی رکی تھیں۔
آہستہ آہستہ سب مہمان اور گھر والے باہر ائے ، جبکہ ملازماؤں نے آ کر فوراً علیزے کی جانب کا دروازہ کھولا تھا اور اسے سہارا دیا۔
وہ بھی آہستہ سے باہر آئی ، جبکہ زہرام اور ہادی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئے تھے۔
پھر صائمہ بیگم اور مِیرال نے آ کر فوراً اسے تھاما تھا۔
اس کی میکسی بہت ہیوی تھی جسے اٹھانا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔
وہ اندر آئے تو لاؤنج اس قدر خوبصورتی سے سجا تھا کہ علیزے بھی مسکرا دی ، ہر طرف گولڈن فیری لائٹس لگی تھیں۔
گلاب کے پھول بچھے تھے ، جگہ جگہ دیے جلا کر رکھے گئے تھے۔
علیزے کو لا کر لاؤنج کے خوبصورت صوفے پر بٹھایا گیا۔
یہاں دو تین رسمیں کی گئی جن میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ مزید لگ گیا۔
میرال اس کے ساتھ بیٹھی اسے فل کمپنی دے رہی تھی۔
“اچھا ميرو آؤ اب علیزے کو اس کے روم میں لے جائیں یہاں تھک گئی ہو گی”
صائمہ بیگم اسے تھکا تھکا محسوس کر کے میرال سے بولیں تو اس نے سر ہلایا۔
پھر وہ دونوں اسے لیے اوپر آئیں اور زہرام کے کمرے میں داخل ہوئیں۔
کمرے میں کوئی سجاوٹ نہیں تھی ، کِیُونکہ زہرام کو پسند نہیں تھا اپنے کمرے میں پھیلاوا۔
اس نے کہا تھا باقی گھر کو چاہے پھولوں سے بھر دیا جائے اس کا کمرہ ویسا ہی رہنا چائیے۔
علیزے کو بیڈ کے درمیان ٹھیک سے بٹھا کر وہ پیچھے ہوئیں۔
“بیٹے تم کچھ دیر آرام کرو پھر میں زہرام کو بھیجتی ہوں کمرے میں”
وہ محبت سے بولیں تو اس نے مشکور نظروں سے انہیں دیکھا۔
میرال نے آگے بڑھ کر اس کی دونوں گالوں پر پیار کیا تو علیزے مسکرائی۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں آپ آرام کریں”
وہ پیار سے کہتی صائمہ بیگم کے ہمراہ کمرے سے نکل گئی۔
علیزے نے ایک نظر کمرے پر دوڑائی پھر تھک کر کمر بیڈ کراؤن سے لگائی۔
دل کر رہا تھا کسی جادو سے اس سب سے آزادی پا لیے ، یہ میکسی اور جیولری اسے سخت الجھن کا شکار کر رہی تھیں۔
کچھ منٹ وہ یُونہی بیٹھی رہی ، پھر اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب ایک نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر زہرام جب دوستوں وغیرہ سے فراغت پا کر کمرے میں آیا تو اسے سوتے دیکھ وہ تلملا کر ره گیا۔
اس نے قریب آ کر دیکھا تو علیزے کے چہرے پر اس قدر تھکن تھی کہ وہ چاہ کر بھی اسے نہیں اٹھا پایا۔
اس نے اس کی حالت دیکھی تو اسے افسوس ہوا کیونکہ وہ اس وقت بہت فارمل ڈریس میں تھی۔
زہرام ملک نے اسے کندھوں سے تھام کر نیچے تکیے پر لٹایا پھر آہستہ آہستہ اس کی جیولری اُتاری۔
اس کی نتھ بہت آرام سے اُتاری تو اس کا ناک وہاں سے سرخ دیکھ وہ جھک کر وہاں ہونٹ رکھ گیا۔
پھر یونہی پیار کرتے کرتے وہ اسے ساری جویلری سے آزاد کر گیا۔
“سلیپنگ بیوٹی”
وہ اس کی بند پلکوں کو ہونٹوں سے چھو کر بولا۔
پھر اس نے کبرڈ کھولی جہاں علیزے کے کپڑے بھی موجود تھے اب۔
میر زہرام نے ڈارک بلو شلوار اور کرتی اس کے لیے نکالی۔
پھر وہ اس تک آیا پہلے ایک نے اسے دیکھ مسکرایا۔
پھر اس نے لائٹ آف کی اور نرمی سے اپنا کام کرنے لگا۔
پانچ منٹ بعد جب میر ذہرام نے کمرے کی لائٹ جلائی تو علیزے ڈارک بلو ڈریس میں دمک رہی تھی۔
زہرام نے اس کی میکسی اور جیولری صوفے پر رکھی پھر اس کا جوڑا کھولا تو سنہری زلفیں کندھوں پر ڈھے گئیں۔
زہرام اس اور نظر ڈالتا واشروم کی جانب بڑھا پھر فریش ہو کر خود بھی وائٹ شرٹ اور ٹراوزر پہن کر بیڈ پر آیا۔
کھینچ کے دونوں پر کمفرٹر لیا اور علیزے کو اپنے قریب تر کرتا آنکھیں موند گیا۔
آج ضرور اسے سکون کی نیند ملنے والی تھی۔
Episode 13
“عینا”
عینا ڈریسنگ روم میں کپڑے سمیٹ رہی تھی جب زریاب نے اسے پُکارا۔
اس نے کپڑے وہیں رکھے اور باہر آئی۔
زریاب اس وقت بیڈ پر بیٹھا تھا جبکہ گود میں کشن رکھا تھا اور اس پر لیپ ٹاپ رکھے وہ آفیس کا کوئی کام دیکھ رہا تھا۔
“جی”
اس نے دروازے میں کھڑے رہتے ہوئے ہی پوچھا تھا۔
“ایک کپ کافی بنا دو بہت تھک گیا ہوں”
وہ بغیر اس کی جانب نظریں اٹھا کر دیکھے ، لیپ ٹاپ پر تیزی سے ٹائپنگ کرتے بولا تھا۔
عینا نے اثبات میں سر ہلایا اور صوفے سے دوپٹہ لیتی کمرے سے باہر آ گئی۔
لاؤنج خالی تھا ،کِیُونکہ اس وقت رات کے پونے بارہ ہو چکے تھے ، تو سب سو چکے تھے۔
سارے دن کی تھکاوٹ تھی جس نے عینا کے وجود کو تھکن سے چور کر رکھا تھا۔
دل کر رہا تھا بس روم میں جائے اور کمبل میں چھپ کر سو جائے۔
مگر فلحال وہ کچن میں آئی جلدی سے فریج سے دودھ نکالا پھر اسے گرم کیا اور اس میں کافی اور شکر مکس کی۔
وہ اُوپر آئی تو بہت تھکی ہوئی تھی ، زریاب کی جانب کپ بڑھایا تو اس نے خاموشی سے تھام لیا اور سائڈ پر رکھ دیا۔
عینا کچھ دیر کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئی۔
“جب تک کام ختم ہو گا آپ کا ؟”
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو زریاب نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“بس ہونے ہی والا ہے”
وہ کہتا دوبارہ کام کرنے لگا تھا۔
“میں۔۔سو جاؤں ؟”
اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔
“نہیں۔۔۔آج تم نہیں سو گی ، پچھلے چار دنوں سے تم اپنی مرضی سے سو رہی ہو ، آج میری مرضی سے سو جانا”
وہ عام سے لہجے میں بولا تو عینا نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔
“زریاب میں بہت تھک چُکی ہوں پلیز آج سونے دیں ناں۔۔۔ویسے بھی تین چار دنوں سے میں کون سا جلدی سوئی ہوں”
اس نے زریاب کو سمجھایا تھا۔
تبھی زریاب نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کر پاس رکھے صوفے پر رکھا ، پھر اس نے خاموشی سے بیٹھ کر کافی پی۔
سب کچھ کر لینے کے بعد وہ سکون سے اس کے قریب آیا۔
“میں بھی بہت تھکا ہوا ہوں اور تم بہت اچھے سے جانتی ہو میری تھکن کہاں اور کیسے اُترتی ہے”
وہ معنی خیزی سے بولا تو عینا نے نظریں جھکا لیں۔
“مجھے تنگ کر کے کیا ملتا ہے آپ کو ؟”
وہ روہانسی ہوتی بولی۔
“محترمہ تمہیں کب تنگ کیا میں نے ؟”
وہ فریش موڈ میں بولا تھا۔
“آپ ابھی بھی تنگ ہی کر رہے ہیں زریاب”
عینا نے جیسے اسے احساس دلانا چاہا تھا۔
“جی نہیں ، میں تنگ نہیں کر رہا یہ الگ بات ہے تم تنگ ہو رہی ہو ، میں صرف تمہیں پیار کرنا چاہتا ہوں اور اسی کی اجازت مانگ رہا ہوں”
وہ محبت سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بولا تو عینا نے گھور کر اسے دیکھا۔
“کر لیں اپنی منمانیاں۔۔۔لیکن مجھ سے بات نہیں کیجئے گا صبح”
اس نے دھمکی دی تھی ، جانتی تھی وہ اسے روک نہیں سکتی اس لیے پہلے ہی دھمکی دینا مناسب سمجھا۔
“آج کیوں کر رہی ہو اتنی ضد وجہ جان سکتا ہوں”
زریاب اس کا سر سینے سے لگا کر بولا تھا۔
“مجھے نہیں پتہ”
وہ بچوں والے انداز میں بولی تو زریاب مسکرا دیا۔
“پھر کسے پتہ ہے ؟”
وہ شرارت سے بولا۔
“میں بہت تھک چکی ہوں مجھے سونا ہے ابھی”
اس نے بے بسی سے کہا تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔
“کوئی بہانے نہیں چلیں گے۔۔۔”
زریاب نے کہتے ساتھ اسے بانہوں میں بھرا تھا اور بیڈ کے درمیان میں لٹا دیا۔
عینا نے خفگی سے اسے دیکھا مگر زریاب نے سنجیدگی سے شرٹ اُتار کر ایک طرف پھینکی اور روم لائٹس آف کیں۔
پھر وہ اس پر اپنی شیدتیں نچھاور کرنے لگا تھا ، عینا ساری رات آنسو بہاتی رہی تھی۔
صبح کے ساڑھے چار زریاب ملک کو اس نازک گڑیا پر رحم آیا تو وہ اس سے الگ ہوا۔
دونوں اور اچھے سے کمبل لے کر وہ لیٹ گیا تو عینا بھی ناراض ناراض ائی نیند میں چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب علیزے کی آنکھ کھلی تو اسے شدید حیرت ہوئی تھی کہ وہ اس وقت میر زہرام کے کمرے میں تھی۔
رات انجانے میں وہ سے چکی تھی اور شاید زہرام نے اسے نہیں جگایا تھا۔
اس نے اٹھ کر دوسری جانب دیکھا تو وہ کمبل کو صرف ٹانگوں میں لپیٹے ، ٹیڑھا میڑھا سا سویا تھا۔
پیشانی پر سارے بال بکھرے تھے ، اور خوبصورت آنکھیں بند تھیں جبکہ پلکوں کی جھالر ان پر جھکی تھی۔
علیزے پہلی دفعہ اس کے اتنا قریب لیٹی تھی یہ سوچ کر ہی وہ پلکیں جھکا گئی۔
شرمندگی بھی تھی کہ رات کم از کم اسے سونا نہیں چاہیے تھا۔
اس نے اپنا لباس دیکھا جو حیرت کا دوسرا جھٹکا اسے لگا ، وہ تو رات میں اسی میکسی میں ہی سو گئی تھی۔
اب اسے یہ ڈریس کس نے پہنایا ؟
کیا میر زہرام نے اس کا ڈریس چینج کیا تھا ؟
علیزے شرم سے سرخ ہوئی اور بیڈ سے اٹھی۔
وہ کبرڈ تک آئی اسے کھول کر وہاں سے ایک پیرٹ کلر کا ہلکے کام والا شارٹ فراک لیا اور ساتھ پنک دوپٹا لے کر وہ واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
بیس منٹ بعد وہ اچھے سے فریش ہو کر باہر آئی تو زہرام ابھی بھی سو رہا تھا۔
علیزے نے میک آپ نکالا اس نے ہلکہ سا میک آپ کیا۔
پھر لائٹ سی جیولری پہن کر اس نے روز گولڈ فلیٹ شوز پہن کر بالوں کو کرل کیا۔
اب وہ بہت پیاری لگ رہی تھی یہ وہ خود بھی جانتی تھی ، علیزے نے مسکرا کر خود کو دیکھا۔
پھر نظریں پھیر کر بیڈ کی جانب دیکھا۔
“حد ہے اتنا تو لڑکیاں بھی نہیں سوتیں جتنا یہ سو رہے ہیں”
وہ حیرت و بے زاری سے بولی تھی۔
پھر اس نے زہرام کی جگانے کا سوچا ، پہلے اس کے لیے براؤن شلوار قمیض نکال کر رکھا پھر اس کی جانب آئی۔
“زہرام۔۔۔زہرام اب اٹھ بھی جائیں”
وہ اس کے قریب کھڑی ہوتی بولی۔
کافی محنت کے بعد زہرام نے ایک آنکھ کھول کر اُسے دیکھا تھا۔
پھر دونوں آنکھیں کھولتا وہ اٹھ بیٹھا۔
“حد ہے کتنا سوتے ہیں آپ۔۔۔”
وہ ایسے بات کر رہی تھی جیسے وہ دونوں تو بہت مدت سے ساتھ رہ رہے ہوں۔
زہرام جو شرم و حیا اور رونا دھونا ایکسپیکٹ کر رہا تھا اسے ہشاش بشاش دیکھ کر حیران ہوا۔
پھر اس نے غور سے اس کی جانب دیکھا جو بے حد پیاری لگ رہی تھی۔
اس کی نظروں کی تپش پر وہ گھبرا کے نظریں جھکا گئی تو زہرام مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“میری زندگی کی حسین ترين صبح ہے آج۔۔۔کِیُونکہ تم میرے پاس میرے روم میں موجود ہو”
میر زہرام اس کے قریب آتا اس کی پیشانی پر لب رکھ کر بولا تو علیزے بھی مسکرائی۔
“اب آپ چینج کر لیں پھر ہم نیچے چلیں”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔
میر زہرام نے اثبات میں سر ہلایا اور کپڑے لیتا واشروم چلا گیا۔
علیزے کو خوشی ہوئی کہ زہرام نے اسے رات سو جانے کا طعنہ نہیں دیا تھا۔
پندرہ منٹ بعد وہ صرف براؤن شلوار پر سفید بنیان میں واشروم سے باہر آیا۔
کندھوں اور بالوں پر پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، علیزے جو صوفے پر بیٹھی اسے ہے سوچ رہی تھی اسے دیکھ کر اٹھی۔
“حد ہے۔۔۔”
وہ الجھن سے کہتی ٹاول لے کر اس کے پاس آئی اور خود ہی اس کے بال وغیرہ صاف کرنے لگی۔
زہرام جانتا تھا اس کی بیوی کو زیادہ شرمانا جھجکنا نہیں آتا ، وہ مسکرا دیا۔
“بچے ہیں آپ بھی زہرام ویسے تو بڑے بنے پھرتے ہیں اور حرکتیں یہ ہیں آپ کی ، بغیر جسم سکھائے ہی باہر آ گئے”
وہ بے تکلفی سے اسے سناتی جا رہی تھی۔
“تو تم کس لیے ہو میڈم۔۔۔مجھے سمبھالنا ہی تو تمہارا کام ہے تو تمہیں بغیر نکھروں کے اپنا کام کرنا چاہیے”
زہرام نے اس کے گلے سے دوپٹا اُتار کر بیڈ پر پھینکتے کہا جو بار بار پھسلتا اسے اریٹیٹ کر رہا تھا۔
علیزے اس کی حرکت پر بوکھلا کر رہ گئی۔
زہرام اب ستائشی نظروں سے اس کے وجود کی خوبصورتی دیکھ رہا تھا ، جبکہ وہ اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا رہی تھی۔
علیزے نے اس کے بال ڈرائے کیے اور ابھی وہ پیچھے مڑتی جب زہرام نے کھینچ کر اسے خود سے لگایا۔
علیزے نظریں بے ساختہ جھکا گئی تھی ، ہاں اس کی ہائیٹ اچھی تھی مگر وہ زہرام کی گردن تک ہی آتی تھی۔
“چلو مجھے مارننگ کس دو اب”
زہرام ملک بے باک لہجے میں بولا تھا۔
“جی نہیں فلحال ہم نیچے جا رہے ہیں کیونکہ الریڈی آپ مسٹر بہت لیٹ اٹھے ہیں”
اس نے بات بدلنی چاہی تھی مگر زہرام اب ہر معاملے میں بھی اس کی نہیں سننے والا تھا۔
وہ خود اچانک ہی اس کی دونوں کلائیوں کو جکڑتا اس کے لبوں پر جھکا تھا۔
علیزے نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں ، آج پہلی دفعہ وہ اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے لبوں پر محسوس کر رہی تھی۔
زہرام بہت شدت پسندی سے اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے جنون کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔
علیزے کی سانسیں مدھم ہوئیں ، مگر میر زہرام کی تشنگی نہیں مٹ رہی تھی۔
علیزے نے بازو چھڑانے چاہے مگر ایک بہت سخت گرفت میں تھے ، تکلیف اور سانس نا لینے کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔
زہرام کو اپنی بیرڈ میں نمی محسوس ہوئی تو وہ سمجھتا فوراً سے پیچھے ہوا تھا۔
مگر تب تک علیزے کی سانسیں اُکھڑ چکی تھیں۔
وہ اس کے کندھوں کو زور سے تھامتی گہری سانسیں لینے لگی تو زہرام نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر سہلائی۔
“ریلیکس یار سانس لو۔۔۔”
وہ فکر مندی سے بولا ، اسے اب اپنی شدت کا احساس ہوا تھا۔
“بہت برے ہو تم زہرام۔۔۔مجھ سے بات مت کرنا اب”
وہ سانس ٹھیک ہوتے ہی نم آواز میں بولی تھی۔
جبکہ دو زور دار مکے اس کیا سینے پر بھی مارے گئے تھے۔
“علیزے۔۔۔”
اس کے تم کہنے پر پل میں وہ بھڑکا تھا ، اس نے علیزے کی آنکھیں دکھاتے ، اس کے نام پر زور دے کر تنبیہہ کی تھی۔
“کیا علیزے ہاں ؟ کوئی ایسے بھی کرتا ہے اپنی بیوی کے ساتھ ، اس قدر سختی جیسے میں تو کہیں جا رہی ہوں آج کے بعد تمہیں موقع ہی نہیں ملنا”
وہ خفگی سے بولی تھی ، اس نے آج بھی نوٹ نہیں کیا کہ وہ اسے کس طرح مخاطب کر رہی ہے۔
بچپن سے تم کہتی آ رہی تھی تو اب مشکل تھا آپ کہنا ، نکاح کے بعد زہرام نے بہت دفعہ اسے پیار سے تو کبھی غصے سے سمجھایا تھا کہ وہ اب تم نہیں کہے گی۔
مگر علیزے کی عادت تھی تو وہ بھی کیا کرتی۔
“یہ کیا تم تم لگا رکھا ہۓ تم نے ؟ میں شوہر ہوں تمہارا جو مرضی کروں تم مجھے روک نہیں سکتی۔ کوئی اتنا ناراض ہونے کی بات نہیں ہے تھوڑا سا پیار ہی کیا ہے بس۔ خیر آج تو ان سانسوں کو آزادی بخش دی ہے مگر آئندہ اگر تم نے میرا ساتھ دینے کی بجائے مزاحمت کی تو پھر دیکھنا “
زہرام بھی غصّے سے بولا تھا ، علیزے نے ناراضگی سے اسے دیکھا جو بجائے اپنی غلطی ماننے کے اسے ہے سنا رہا تھا۔
“بات مت کرو مجھ سے”
وہ اس دفعہ جان بوجھ کر بولی تھی۔
زہرام نے غصّے سے اس کی کلائی جکڑی اور پورے زور سے اسے دبا لیا۔
“کیا بولا ہے زرہ پھر سے کہنا ؟”
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتا بولا جو اس کی سختی پر تڑپ رہی تھی۔
وہ کچھ نہیں بولی خاموش رہی ، جبکہ آنکھوں میں آنسو بھر چکے تھے۔
“عورت ہو یہ یاد رکھا کرو۔۔۔جتنی بھی طاقت ور کہہ لو خود کو تم میرا مقابلہ نہیں کے سکتی علیزے۔ تو بلاوجہ زبان درازی مت کی کرو جو مجھے غُصہ دلائے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولا تھا ، پھر اس نے علیزے کی آنکھوں میں دیکھا جو سرخ ہو رہی تھیں۔
وہ پہلی صبح ہی اسے رلانا نہیں چاہتا تھا اسی لیے فوراً اس کا بازو چھوڑتا تیزی سے قمیض پہنتا ، پرفیوم لگا کر ہاتھوں سے ہی بال بناتا کمرے سے نکلا تھا۔
علیزے کا دل تو کیا کمبل میں چھپ کر رو دے مگر پھر سب کا خیال کرتی وہ بھی آنکھیں صاف کرتی تیزی سے اس کے پیچھے بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینا کی صبح نیند کھلی تو زریاب پہلے ہی اٹھ چکا تھا ، وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا۔
وہ سفید کلف لگے شلوار قمیض میں بہت خوبرو لگ رہا تھا مگر عینا اس سے سخت ناراض تھی اس لیے نظریں پھیر گئی۔
زریاب نے اسے دیکھ لیا تھا ، وہ پرفیوم رکھتا اس تک آیا جو کمبل میں خود کو کندھوں تک چھپائے ہوئے تھی۔
“گڈ مارننگ میری جان”
وہ دونوں بازو اس کے گرد رکھتا جھکا اور اس کی پیشانی پر ذبردستی پیار کر کے بولا۔
اس کا چہرہ عینا سے بلکل تھوڑے سے فاصلے پر تھا۔
عینا نے خفگی سے چہرہ دوسری طرف پھیر رکھا تھا ، وہ اسے بتانا چاھتی تھی وہ ناراض ہے۔
“آہ میری جان ناراض ہے مجھے تو لگا رات جو اتنا پیار کیا ہے خوش ہو گئی ہو گی”
وہ محبت سے اس کے چہرے کو دیکھتا بولا جو اس نے سجا رکھا تھا۔
وہ پھر بھی خاموش ہی رہی کچھ نہیں بولی۔
“عینا یار پلیز کیوں اتنا رییکٹ کر رہی ہو۔۔۔اِدھر دیکھو تو صحیح میری طرف”
زریاب بے بسی سے بولا تھا کیونکہ وہ کوئی رسپانس ہی نہیں کر رہی تھی۔
“عینا”
اس نے اب کی بار وارننگ دی تو عینا نے آنسوؤں بھری نظریں اس کی جانب پھیریں۔
“ابھی بھی کچھ رہ گیا ہے میر زریاب ؟”
وہ نم لہجے میں بولی۔
“زریاب صدقے جائے اپنی جان کے ، میری جان اتنی ناراض کیوں ہو گئی ہے”
وہ اب اس کے پاس بیٹھ چکا تھا۔
اس کے لہجے میں اس قدر محبت اور پیار تھا کہ عینا کی ناراضگی ختم ہوئی تھی مگر وُہ ختم نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
“میں ہمیشہ آپ کی ہر بات مانتی ہوں کل آپ ماں لیتے تو کیا چلا جانا تھا ؟”
وہ بہت غمزدہ تھی شاید۔
“میں نے تمہیں کوئی حل چلانے کو نہیں کہا تھا جاناں صرف پیار کرنا چاہا تھا اور کیا بھی بس اور کچھ نہیں”
وہ سنجیدگی سے بولا۔
“آپ کو ذرا سا بھی احساس نہیں میرا”
وہ ناراضگی سے بولی۔
“تمہارا ہی تو احساس ہے یار”
وہ اسے سمجھاتا ہوا بولا۔
“نہیں ہے کوئی احساس”
جانے کیوں وہ بچوں کی طرح حرکتیں کر رہی تھی۔
“میری جان کا لڑنے کو دل کے رہا ہے ؟”
وہ مسکرا کر بولا تھا۔
“میں نہیں لڑتی آپ خود لڑتے ہیں”
وہ بات ختم نہیں کرنا چاہ رہی تھی ، جبکہ لہجہ بھیگا تھا۔
“کیوں اتنی روندو بن رہی ہو ؟ طبیعت ٹھیک ہے ؟”
وہ اس کی جانب دکھتا فکر مندی سے بولا تو اس نے منہ بنایا۔
“پتہ نہیں”
وہ غصّے سے بولی تھی۔
“اچھا ہری اپ اٹھو اب نیچے ناشتہ ریڈی ہے علیزے کے گھر لے جانا ہے ہمیں”
وہ سنجیدگی سے بولا جبکہ جھک کر اس کے سرخ رخسار پر پیار بھی کر گیا۔
عینا نے منہ ابھی بھی پھلا رکھا تھا۔
“اٹھ رہی ہو یا ۔۔۔۔”
زریاب نے وارننگ دی اور آخر میں معنی خیزی سے بات ادھورے چھوڑی تھی۔
“اٹھ رہی ہو یا۔۔۔”
وہ غصّے اور بے بسی سے اس کی نقل اتارتی شاید اپنا غصّہ نکالنا چاہتی تھی ، زریاب نے مسکراہٹ دبائی۔
عینا نے غصے سے اسے دیکھا جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
“ہنس لیں کھل کر ہنس لیں مجھ پر میں بھلا روک سکتی ہُوں آپ کو”
وہ غصّے سے بولی تو زریاب نے قہقہہ لگاتے اسے بانہوں میں بھرا۔
ایک دفعہ پھر جھک کر اس کی تھوڑی پر پیار کیا۔
“چلو شاباش جلدی سے تیار ہو کر آؤ”
وہ پیار سے کہتا اسے چھوڑ گیا۔
عینا بھی کپڑے لیتی واشروم کی طرف بڑھ گئی۔
