Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

وہ آج پھر کافی دیر سے میر ہادی کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی مگر اگنور کر رہی تھی۔
وہ حیران تھی کہ وہ اس کا سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود بھی یہ سب کیوں کر تھا ہے۔
دیکھنے میں تو وہ اس سے بڑا لگتا تھا مگر وہ جانتی تھی عمر میں وہ اس سے چھوٹا ہی ہو گا۔
وہ چاہتی تھی جلدی سے اس کا لیکچر ختم ہو اور وہ اس کلاس سے جائے ، اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ہادی کی دہکتی نظروں سے۔
اس میں کی مرتبہ سوچا کہ وہ اس سے بات کرے مگر وہ خود میں اتنی ہمت بھی رکھتی تھی کہ اس سے بات کر لیتی۔
بیشک وہ اس کا سٹوڈنٹ تھا مگر تھا تو مرد ہی اور ویسے بھی وہ اسے کافی نوٹ کروا
چکا تھا کہ وہ واقعی مرد ہی ہے سٹوڈنٹ نہیں۔
وہ اس سے بلکل بھی ڈرتا تھا ، ہر بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کرنا میر ہادی کی عادت تھی۔
وہ ٹیچر ہونے کہا باوجود شرمندہ ہو جاتی تھی مگر ہادی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔
وہ آج اورنج فروک اور پجاما میں تھی جس پر اس نے گرین دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا۔
پیچھے بالوں کی پانی ٹیل بنا رخی تھی اور چہرے پر دو لٹیں نکال رہی تھیں۔
گرین کھسے میں گلابی اور سفید نازک سے پاؤں بلاشبہ وہ آج بھی بے حد حسین لگ رہئی تھی اور تھی چیز ہادی کو بری لگتی تھی۔
ہادی چاہتا تھا وہ خود کو چھپا کر رکھے مگر سہانا کو شاید اپنی خوبصورتی کا اندازہ نہیں تھا جو وہ یوں بے پردگی سے سب کے سامنے آ جاتی تھی۔
آج سہانا سب سٹودنٹس سے پریزنٹیشن لے رہی تھی۔
باری باری انہیں بورڈ پر بلا کر وہ ان کی ذہانت دیکھنا چاہ رہی تھی۔
جہاں سب سٹوڈنٹس کا دھیان بورڈ کی طرف تھا وہیں میر ہادی فرسٹ سے سہانا کو دیکھ رہا تھا۔
وہ اس کی نظروں سے کنفیوز سے ہوتی اب پہلو بدل رہی تھی۔
"میر ہادی کم ہیئر"
ہادی کی باری آنے پر اس نے نظریں بک پر گاڑھتے سنجیدگی سے کہا تھا کیونکہ اس میں ہمت نہیں تھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کے بلانے کی۔
پر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا ، وہ ڈھٹائی سے بیٹھا رہا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہو۔
سہانا کو سخت غُصہ آ رہا تھا اس لڑکے پر جو جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا۔
"میر ہادی"
وہ اس کہ نام چبا چبا کر بولی تو ہادی نے مسکراہٹ دبائی۔
"یس"
وہ کھڑا ہوتا بولا۔
"کم ہیئر اینڈ شو یور پریزنٹیشن"
وہ اب نا چاہتے ہوئے بھی اس کی جانب دیکھتی بولی تو ہادی مسکرا کر آگے بڑھا۔
وہ بلو جینز پر گرے شرٹ پہنے اس پر بلو ڈینم جیکٹ پہنے نیچے وائٹ جوگرز پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
کلاس میں موجود سب لڑکیوں کی نظریں اسی پر ٹکی تھیں۔
وہ خوبصورت چال چلتا اسٹیج پر آیا۔
سہانا جو ڈائس کے قریب کھڑی تھی اسے اپنی طرف آتے دیکھ گھبرا کر قدم پیچھے گئی۔
ہادی اس کی حرکت پر مسکرایا اور ڈائس سے
مارکر لیتا بورڈ تک گیا۔
اور ہمیشہ کی طرح میر ہادی کی پریزنٹیشن سب سے زبردست رہی تھی ، مگر سہانا چاہ کر بھی اس کی تعریف نہیں کر پائی تھی۔
"پریڈ ختم ہونے کے بعد تم مجھے میٹنگ روم میں ملو گی"
وہ مارکر رکھنے کے بہانے دوبارہ اس کے قریب اتا سنجیدگی سے اپنی بات کرتا واپس اپنی چیئر پر کا کر بیٹھ گیا تھا۔
جبکہ سہانا اس کی بات اور لہجے اور دنگ رہ گئی تھی۔
اس نے آپ کہنے کا تکلف بھی بھی کیا تھا اور کیس طرح تم کے کر بات کرتا چلا گیا تھا۔
سہانا پریشان تھی کہ وہ اسے ملنے کا کیوں
کہہ رہا ہے۔
پھر سارا پریڈ وہ یہی سوچ سوچ کر گھبراہٹ میں مبتلا رہی کہ اب وہ کرے تو کیا کرے۔
میر ہادی نے تو اسے لوگوں میں بے عزت کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی۔
اس کے لیے اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا ، وہی جانتی تھی کتنی مشکلوں سے اسے یہ جاب ملی تھی اور کتنی ضرورت تھی اسے اس جاب کی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہادی کی کسی بھی حرکت کی وجہ سے اس کی جاب خطرے میں پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *