Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 04)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

میر ہادی گھر آیا تو صائمہ بیگم نے اسے زہرام کا پیغام دیا۔

وہ بوکھلایا لیکن اس کے کمرے کی طرف بڑھا ، وہ دستک دے کر روم میں داخل ہوا تو زہرام بیڈ پر بیٹھ لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔

اسے دیکھ کے زہرام ملک نے لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“دیر سے کیوں آئے ہو”

اس نے ڈائرکٹ سوال کیا تو میر ہادی نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔

“دوستوں کے ساتھ تھا”

وہ بغیر جھجکے اطمینان سے بولا تو زہرام نے آئی برو اچکا کر اسے دیکھا۔

“کدھر تھے”

اس نے پھر سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔

“مال گئے تھے”

وہ بغیر نظریں چرائے بولا۔

“___محلے میں کون سا مال ہے”

وہ اب کی بار نہایت سختی سے بولا تو ہادی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

اس نے آج سہانا کا پیچھا کیا تھا تاکہ جان اسکے وہ کدھر رہتی ہے۔

مگر بہت احتیاط کے باوجود بھی شاید ایک میر زہرام کے آدمیوں کی نظروں سے بچ نہیں پایا تھا۔

“کیا کرنے گئے تھے وہاں تم”

وہ بلند آواز میں دھاڑا تو میر ہادی نے اس کی جانب دیکھا۔

وہ جلدی میں کوئی بہانہ نہیں بنا پا رہا تھا اور زہرام کو سچ بھی نہیں بتا سکتا تھا اس لیے خاموش رہا۔

“میر میں تک سے پوچھ رہا ہوں کہ تم اس محلے میں کیا کرنے گئے تھے”

وہ دوبارہ سے چلایا تو میر نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔

“وہ۔۔وہاں۔”

اس سے بات نہیں بن رہی تھی۔

“تمہیں زرہ شرم نہیں آئی اپنی ٹیچر پر نظر رکھتے ہاں۔۔۔یہ سب سکھایا گیا ہے تمہیں کہ تم باہر جا کے عورتوں کو ذلیل کرو۔ ان کا پیچھا کرو۔۔۔”

زہرام اب کی بار اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔

اس کے لہجہ بے حد سخت تھا۔

“بولو اب بولتی کیوں بند ہو گئی۔ لڑکیاں مجبوری میں گھر سے نکلتی ہیں اور تم نیچ مردوں کی طرح انہیں تنگ کرتے ہو۔ اتنی آگ لگی ہے تمہیں تو ہمیں بتاؤ تمہارا نکاح پڑھوا دیتے ہیں کسی سے”

میر زہرام آج بہت سخت الفاظ استعمال کر رہا تھا جو اس کا خاصہ نہیں تھا۔

اس کی باتوں پر ہادی کی غیرت بھڑکی ، اس کا بڑا بھائی اسے کیا سمجھ رہا تھا آخر۔

“بھائی۔۔۔آپ غلط۔سمجھ رہے ہیں یار۔۔۔مجھے اچھی لگتی ہے وہ۔ میں خود آپ کو بتانے کا ارادہ رکھتا تھا اس کا پیچھا اس لیے کیا میں نے کہ میں اس کا گھر دیکھنا چاہتا تھا کدھر ہے۔”

میر ہادی نے اسے حقیقت سے آگاہ کروایا تک زہرام نے گھور کے اسے دیکھا۔

“عمر دیکھو اپنی اور حرکتیں دیکھو۔۔۔”

زہرام طنزیہ لہجے میں بولا ، مگر ہادی ڈھٹائی سے مسکرایا۔

“خود تو نکاح کر کے بیٹھ گئے ہیں اور مجھے عمر کے تانے دے رہے ہیں ، آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ میں پورے چوبیس سال کا ہو چکا ہوں اور یہ عمر کم ہرگز نہیں ہے”

وہ شرارت سے مسکراتا ہوا بولا ، اب وہ زہرام کو زرہ ٹھنڈا دیکھ کر پر سکون ہوا تھا۔

“خیر جو بھی ہو آج کے بعد تمہاری اس قسم کی باتیں مجھ تک نہیں پہنچنی چاہیئیں۔ تم وہاں پڑھنے گئے ہو فلحال صرف پڑھائی پر فوکس کرو۔ بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔”

زہرام ملک نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا تو میر ہادی نے خفگی سے اس کی جانب دیکھا۔

“بھائی مجھے سچ میں بہت بہت پسند ہے سہانا۔۔۔اور میں۔۔چاہتا ہوں میرا اس سے نکاح ہو جائے”

وہ نظریں جھکائے اپنی بات کہہ گیا تو زہرام نے اس کے تاثرات دیکھے جو سنجیدہ تھا۔

“وہ راضی ہے ؟”

اس نے سوال کیا۔

“ابھی تک اس سے اکیلے میں بات نہیں ہوئی میری۔۔۔۔لیکن مجھے یقین ہے میں اسے راضی کر لوں گا پھر آپ لوگ میرا رشتہِ لے جانا۔”

وہ شروع میں سنجیدگی جب کہ آخر میں شرارت سے بولا تو زہرام نے سر ہلا دیا۔

“اس سے بات کرو مان جائے تو بتانا مجھے۔۔۔اور ابھی جاؤ کھانا کھاؤ نیچے جا کر۔”

زہرام دوبارہ لیپ ٹاپ اٹھاتا بولا تو ہادی اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علیزے اپنے کمرے میں موجود تھی ، وہ ابھی اٹھی تھی اور اب بیڈ پر یُونہی اسی پوزیشن میں لیٹی تھی ، جانے کیوں اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔

ابھی وہ اٹھنے کا سوچ رہی تھی جب عدیلہ بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔

اسے ابھی تک لیٹے دیکھ وہ تھوڑا پریشان ہوئیں اور اس تک آئیں۔

“کیا ہوا میرے بچے ، طبیعت تو ٹھیک ہے میری گڑیا کی”

وہ محبت سے اس کی پیشانی چھو کر اس کہ پاس بیٹھتی بولیں تو وہ مسکرا دی اور ہاتھ بڑھا کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔

“جی میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔آپ بتائیں کوئی کام تھا کیا ؟”

وہ سوالیہ نظروں نے انہیں دیکھتی بولی تو عدیلہ بیگم مسکرا دیں۔

“ہممم۔۔۔صائمہ بھابھی کی کال آئی تھی آج ہم سب کا لنچ وہیں ہے خاص طور پر انہوں میں زور دیا ہے کہ تمہیں ضرور ساتھ لانا ہے”

انہوں نے خوشی سے بتایا کیونکہ وہ بیٹی کے نصیب سے بہت مطمئن اور پر سکون تھیں ، جسے چاہنے والے سسرالی ملے تھے۔

ان کی بات پر علیزے کو اس ظالم انسان کا خیال آیا جو تین مہینوں سے اس سے ناراض تھا۔

لیکن وہ اپنی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے مسکرائی۔

“اچھا۔۔۔کب تک جانا ہے ہم نے”

وہ بولی تو عدیلہ بیگم نے اسے دیکھا۔

“بارہ بجے نکلیں گے۔ تم اٹھو اب کپڑے وغیرہ دیکھ لو۔ کافی دن بعد ملو گی زہرام سے تو تمہیں اچھا لگنا چائیے”

وہ اٹھتی ہوئی بولیں تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

جیسے ہی وہ کمرے سے نکلیں علیزے نے برا سا منہ بنایا۔

وہ ہرگز نہیں جمع چاہتی تھی وہاں ، ایک تو وہ خود اس سے ناراض تھا ، سب بجائے اس کے ماننے کے وہ خود وہاں کیوں جاتی۔

مگر جانتی تھی جانا اس کی مجبوری ہے ، کِیُونکہ ناراضگی زہرام سے تھی باقی گھر والوں سے نہیں۔

اور وہ بھی جا کر اسے دیکھانا چاہتی تھی کہ وہ کتنی خوش ہے ، اسے بھی اس ناراضگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

“چلو پھر ٹھیک ہے میر زہرام ملک تم بھی کیا یاد کرو گے آج تمہیں اپنی ملاقات کہ شرف بخش ہی دیتی ہوں”

وہ کہتی بستر سے اٹھی کر الماری سے کپڑے دیکھنے لگی۔

آج وہ بہت حسین دکھنا چاہتی تھی ، وہ چاہتی تھی کہ آج زہرام ملک خود پر ضبط نا کر پائے۔۔۔

بس اسے دیکھتا رہ جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علیزے اور زریاب ایک گاڑی میں ، جبکہ عدیلہ بیگم اور اذلان صاحب ایک الگ گاڑی میں ائے تھے۔

ان کے پیچھے ایک گارڈز کی گاڑی بھی تھی جس میں مٹھائیوں کے ٹوکرے ، فروٹس ، اور گھر والوں کے لیے تحائف وغیرہ تھے۔

علیزے اور زریاب پیچھے تھے تو وہ بعد میں پہنچے۔

پہلے بنگلے کے پورچ میں اذلان صاحب کی گاڑی رکی پھر زریاب ملک کی۔

اذلان صاحب اور عدیلہ بیگم گاڑی سے نکلے تو وہ دونوں بھی ان کے قریب آئے۔

علیزے فل کانفيڈنس سے اپنی ماما کے ساتھ آگے بڑھی ، وہ رائل بلو پلین لونگ شرٹ اور ٹراوزر کے ساتھ بلو ہی آرگینزا کا دوپٹہ گلے میں ڈالے اپنی خوبصورت ہائیٹ کے ساتھ بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی۔

بال اس کے کھلے پیچھے کمر پر تھے ، اور پاؤں میں اس نے سلور فلیٹ شوز پہن رکھے تھے جن میں اس کے شفاف پاؤں چمک رہے تھے۔

وہ سب اندر ائے تو لاؤنج میں صائمہ بیگم اور میرال موجود تھیں انہیں دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔

دونوں مسکرا کر آگے بڑھیں ميرال تو علیزے کو دیکھتی اس سے چپک گئی۔

“آپی بہت مس کیا میں نے آپ کو”

وہ محبت سے اس کے گلے لگ کر بولی تو علیزے مسکرائی اور اس کے چہرے پر پیار کیا۔

“میں نے بھی بہت مس کیا اپنی گڑیا کو”

وہ محبت سے بولی۔

صائمہ بیگم عدیلہ بیگم سے مل کر اس کی طرف پلٹیں۔

اُنھوں نے بھی اسے بہت پیار کیا تو وہ دل سے خوش ہوئی۔

میرال اذلان صاحب اور زریاب سے بھی ملی جبکہ صائمہ بیگم نے مسکرا کر انہیں سلام کیا۔

پھر وہ سب اندر بڑھے اور لاؤنج میں ہی بیٹھ گئے۔

ان کے ملازم تحائف وغیرہ یہیں رکھ کر چلے گئے۔

“زہرام اور میر کہاں ہیں ؟”

اذلان صاحب نے سوال کیا تو صائمہ بیگم ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔

جبکہ میرال اور علیزے اپنی باتوں میں لگی تھیں ، بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ ميرال ہی اپنی باتوں میں لگی تھی۔

“بھائی زہرام رستے میں ہے پہنچنے والا ہے بس اور میر یونیوسٹی ہے کچھ دیر میں وہ بھی آ جائے گا”

صائمہ بیگم نے انہیں بتایا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

ابھی پانچ منت گزرے سے جب وہ دونوں اکٹھے لاؤنج میں داخل ہوئے۔

میر مسکرا کر جبکہ زہرام سنجیدگی سے آگے آیا ، پہلے دونوں سنجیدگی سے اذلان ملک اور زریاب سے ملے۔

میر زہرام ایک نظر غلط بھی اس پر ڈالے بغیر عدیلہ بیگم سے پیار لیتا زریاب کے ساتھ بیٹھ گیا۔

البتہ میر ہادی عدلیہ بیگم سے ملتا علیزے تک آیا اس سے پیار سے حال چال پوچھا پھر وہ بھی اذلان صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا۔

علیزے کو آگ لگ رہی تھی اس کی اگنورنس پر ، اس نے ایک دفاع دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔

وہ تو اس کے ہوش اُڈانے کے لیے اتنا تیار ہو کر آئی تھی ، مگر ادھر تو عجب بے نیازی چھائی تھی۔

سب میں ہلکی ہلکی گفتگو ہونے لگی ،علیزے کو کوئی مخاطب کرتا تو وہ بھی مختصر سے جواب دے دیتی۔

“میں فریش ہو کر آتا ہوں”

زہرام اٹھتا بولا تو زریاب نے اثبات میں سر ہلایا۔

علیزے نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھا جو براؤن پینٹ کوٹ اور وائٹ شرٹ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔

وہ جانتی تھی بندہ اسے پرفیکٹ ملا ہے بس تھوڑا اکڑو تھا ، مگر وہ جانتی تھی کہ یہ اکڑ کیسے نکالنی ہے۔

“آپی آئیں نا اوپر مجھے آپ کو اپنی پینٹنگ دیکھانی ہے، بہت محنت سے بنائی ہے میں نے”

اچانک میرال کچھ یاد آنے پر خوشی سے بولی تو علیزے نے سوالیہ نظروں سے عدیلہ بیگم کو دیکھا۔

ابھی زہرام اوپر گیا تھا تو اسے یوں اوپر جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

عدیلہ بیگم نے آنکھوں میں ہی جانے کا اشارہ کیا تو وہ بھی میرال کے ہمراہ اوپر کی جانب بڑھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج عینا کی طبیعت کچھ بہتر نہیں تھی تو وہ دونوں گھر ہی تھیں۔

سہانا نے اسے زبردستی فروٹس کھلائے اور جوس بنا کر دیا۔

عینا پریشان تھی کہ پہلے ہی اس کی سیلری بہت کم تھی اب وہ چھٹی کر چُکی تھی تو یقیناً سیلری میں سے ایک دن کے پیسے کٹ جانے تھے۔

اسے اس پاگل شخص کی باتوں نے بھی بہت ٹینشن دی تھی۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ، کہاں جائے۔

اب وہ تو یقیناً اسے بہت ذلیل کرنے والا تھا۔

اسے خود پر غصّہ تھا کہ اسے اتنا سب بتانا ہی نہیں چاہیے تھا مگر افسوس اب وہ بتا چُکی تھی۔

اس نے سہانا کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

سہانا اس کی بہت دیکھ بھال کر رہی تھی ، و تو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہ تھی تھی مگر عینا نے انکار کر دیا تھا۔

“عینا یار کوئی پریشانی ہے تو مجھ سے شیئر کرو ناں کیوں طبیعت خراب کر رہی ہو اپنی”

سہانا کچن سميٹ کر اس کے پاس آ کر بیٹھتی بولی تو اس نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“نہیں کوئی پریشانی نہیں ہے بس اسے ہی طبیعت خراب ہو گئی۔ اب بہتر ہوں میں تم پریشان مت ہو”

وہ اسے دیکھتی بولی تو سہانا نے غور سے اسے دیکھا ، وہ جاننا چاہتی تھی اس کی ٹینشن کی وجہ مگر عینا نہیں بتا رہی تھی۔

“میں کچھ دیر کے لیے سو رہی ہہوں تم بھی آرام کر لو”

وہ کہتی آنکھیں بند کر گئی تو سہانا بھی بے بسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *