Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 11)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

عصر کا وقت تھا جب زریاب ملک منشن آیا تھا۔

عینا سہانا لوگوں کے ساتھ اپنے روم میں کپڑے اور جیولری وغیرہ دیکھ رہی تھی کل کے لیے۔

وہ مسکراتا ہوا بغیر دستک دیئے اندر داخل ہوا مگر ان تینوں کو دیکھ کر الجھن ہوئی تھی اسے۔

وہ تینوں عینا کو معنی خیزی سے دیکھنے لگیں جو نظریں زمین پر گاڑھ چکی تھی۔

“اچھا عینا اب ہم چلتی ہیں آپ دونوں آرام کریں۔۔۔”

علیزے نے کہا اور باہر کی جانب بڑھی تو سہانا اور میرال بھی کمرے سی نکلیں اور اس کے ساتھ باہر چلی گئیں۔

زریاب نے اسے دیکھا جس کے رخسار شرم سے سرخ ہو چکے تھے جبکہ پلکیں بھی کپکپا رہی تھیں۔

وہ آہستہ سے چلتا اس تک آیا اور اسے سیدھا کر کے خود سے لگا لیا۔

عینا نے چہرہ اس کے سینے پر رکھا جبکہ دونوں بازو اس کی گردن میں ڈال کر وہ بھی اب اپنے اندر سکون اُترتا محسوس کر رہی تھیں۔

“میں نے تمہیں بہت مس کیا یار۔۔۔کیا ہو گا میرا جب صبح سے شام تک آفیس جانا ہو گا”

زریاب اس کی گردن میں چہرہ چھپائے بولا تو عینا دھیما سا مسکرا دی۔

زریاب کی محبت اُس کے لیے بہت معنی رکھتی تھی ، ایک دن میں ہی وہ اسے اپنی محبت سے مطمئن کر چکا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا اور دروازہ لاک کر کے اس تک آیا ، عینا کا ہاتھ تھام کر وہ اسے بیڈ تک لایا۔

عینا گھبرا رہی تھی کیونکہ زریاب شاید اپنی تھکاوٹ اس پر اتارنا چاہ رہا تھا۔

بیڈ پر اسے بٹھا کر زریاب خود اس کی گود میں سر رکھتا لیٹا اور اُس کی جانب دیکھنے لگا۔

“تمہیں محسوس نہیں ہو رہا کل بہت بڑا فیصلہ کرلیا تم نے”

زریاب اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔

“جانتی ہُوں۔۔۔مگر میں مجبور تھی زریاب میں آپ کی زندگی میں پریشانیاں نہیں لانا چاھتی تھی اپنے وجود کے ساتھ۔۔۔”

وہ آنسو پیچھے دھکیلتی بولی تو زریاب نے اسے گھورا۔

“تمہارا بچہ ہونا تھا تو میں اسے اپنا ہی سمجھتا نور۔۔۔میں کبھی تمہیں طانے نہیں دیتا کہ یہ میرا خون نہیں بلکہ میں اس سے اتنی محبت کرتا جتنی اپنی خود کی اولاد سے کرتا۔۔۔مگر تم نے بچے کو ختم ہی کر ڈالا”

وہ سنجیدگی سے بولا تو عینا نے نظریں چرائیں۔

“آپ نہیں سمجھ سکتے ایک عورت کی مجبوریاں۔۔۔میں رکھ بھی لیتی اسے اپنے وجود میں تو وہ آپ کے لیے اذیت کا باعث بننا تھا۔۔۔جو بھی ہو ایک مرد کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی عورت کو کسی اور نے چھوا ہو”

عینا نے اسے سمجھایا تو زریاب نے سختی سے اسے دیکھا۔

“میں عام مردوں کہ طرح نہیں ہوں میری جان۔۔۔تمہاری خاطر میں سب برداشت کر سکتا ہوں۔ اگے تمہاری حفاظت کا زمہ میرا ہے پیچھے جو ہوا اس مجھے فرق نہیں پڑتا”

زریاب نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے اثبات میں سر ہلایا۔

“جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔آئندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے”

عینا نے کہتے ساتھ ہی اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے شروع کر دیے تو زریاب بھی پرسکون ہوتا سر ہلا کر آنکھیں موند گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہادی یونی سے آیا تو اس کا موڈ سخت آف تھا دو دنوں سے سہانا محترمہ غائب تھیں۔

اس کا ارادہ تھا آج شام اس کے گھر جائے اور جا کر خیر خیریت ہی معلوم کر ائے۔

وہ لاؤنج سے گزر رہا تھا جب صائمہ بیگم نے اسے کہا کہ میرال کو پک کر آئے۔

اس نے سر بلایا اور روم میں آیا شاور لیا پھر کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد عصر کے وقت وہ گھر سے نکلا۔

زہرام ابھی آفیس ہی تھا اس لیے اسے جانا پڑ رہا تھا۔

وہ دس منٹ کے ڈرائیو کے بعد ہی وہاں موجود تھا ، ہادی نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور خود اندر آیا۔

لاؤنج میں اذلان شاہ ، زریاب اور عدیلہ بیگم ہی موجود تھے بس ، لڑکیاں اوپر روم میں تھیں۔

اس نے سلام کیا سب خوشدلی سے اس سے ملے۔

“بیٹا بیٹھو”

عدیلہ بیگم نے صوفے کی جانب اشارہ کیا تک وہ اذلان صاحب کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

“حلیمہ ہادی کے لیے چائے کا انتظام کرو”

عدیلہ بیگم پاس کھڑی ملازمہ سے بولیں تو وہ فوراً کچن میں چلی گئی۔

“نہیں تائی امی اس کی ضرورت نہیں میں بس میرو کو لینے آیا ہوں چلتا ہوں فیلحال پھر کبھی آؤں گا چائے پینے”

وہ سنجیدگی سے بولا تو انہوں نے سر ہلایا۔

“بیٹا ہم کوں سا ڈنر کا کہہ رہے ہیں۔۔۔بس چائے پی کر چلے جانا”

وہ پیار سے بولیں تو اسے انکار کرنا بہتر نہیں لگا۔

وہ خاموش ہو گیا تب ہی عدیلہ بیگم نے دوسری ملازمہ کو اوپر بھیجا کہ میرال کو بلا لائے۔

کچھ ہی دیر میں ملازمہ کے ہمراہ وہ چاروں بھی نیچے آئیں۔

ہادی کی نظر اٹھی تو دل دھڑکنا بھول گیا ، آنکھیں ساکت ہو گئیں۔

وہ حیران تھا سہانا کی یہاں دیکھ کر۔

دوسری جانب سہانا جو علیزے سے بات کرتی نیچے آئی تھی خود پر کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے سامنے دیکھا تو نظریں پلٹنا بھول گئیں۔

دونوں ہی ایک دوسرے کو یہاں دیکھ کر شدید حیرت سے دوچار تھے۔

سب نے آ کر سلام کیا ، ہادی خود کو سنبھالتا مسکرایا اور نظریں پھیر لیں۔

اس نے سنا تھا کہ بھابھی کے ساتھ ان کی بہن بھی اب سے یہیں رہیں گی ، یعنی یہ نور العین کی بہن تھی۔

اب ہمیشہ یہیں رہنے والی تھی۔

میرال آ کر اس کے سینے سے لگی تو ہادی نے اسے پیار کیا پھر علیزے کو بھی بہت محبت سے سلام کیا۔

اور آخر میں ان دونوں کی جانب دیکھتے سلام کیا ، عینا نے تو مسکرا کر جواب دیا جبکہ سہانا نظریں جھکا گئی۔

عینا زریاب کے اشارے پر اس کے پاس بیٹھی ، جبکہ علیزے اور سہانا الگ بیٹھ گئیں۔

“ہو گئی تیاریاں تم لوگوں کی ؟”

عدیلہ بیگم نے ان سے سوال کیا تو سب نے سر ہلائے تھے۔

عینا سکون سے بیٹھی تھی جب اچانک اسے اپنی کمر پر زریاب کا مضبوط ہاتھ محسوس ہوا۔

وہ کچھ سمجھتی کہ اچانک زریاب نے کھینچ کے اسے قریب کیا تو وہ بوکھلا گئی۔

شکر تھا کسی کا دھیان ان کی طرف نہیں تھا۔

“زریاب پلیز۔۔۔چھوڑئیے ناں”

وہ آہستہ آواز میں بولی تو زریاب مسکرایا۔

“کیوں تمہیں کیا ہو رہا ہے میرے پکڑنے سے”

اس نے بھی سرگوشی کی تو عینا نے کہني اس کے پیٹ میں ماری، زریاب پیچھے ہوا تو وہ بھی فوراً اس سے دور ہوئی تھی۔

زریاب نے گھور کر اسے دیکھا تو عینا نے زبان چڑائی جس پر وہ مسکرا دیا۔

“بیٹا لو ناں”

ملازمہ ٹیبل پر کھانے پینے کی چیزیں سیٹ کر کے گئی تو عدیلہ بیگم نے میر ہادی کو مخاطب کیا۔

“نہیں تائی امی اب چائے کی طلب نہیں رہی”

وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتا معنی خیزی سے بولا پھر فوراً سے نظریں پھیر گیا۔

سہانا شدید شرمندہ ہو رہی تھی ، اتنا تو سمجھ چکی تھی وہ کون ہے۔

میرال اسے اپنی فیملی کے بارے میں بتا چکی تھی ، مگر سہانا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ میر ہادی اس کا سٹوڈنٹ ہو گا۔

“چلو چائے نہیں پیو کچھ کھا تو لو بیٹے”

اذلان ملک کے کہنے پر اس نے سر ہلایا اور ایک سینڈ وچ لے لیا۔

“بھائی آپ ہنی مون پر کب جا رہے ہیں ؟”

اس نے اچانک زریاب کو مخاطب کیا۔

عینا جو زریاب کی کافی تیار کر رہی تھی اس کہ سوال پر سرخ پڑی تھی۔

“فلحال تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ابھی کل ولیمہ ہے پھر آفیس میں بہت کام پینڈنگ پڑا ہے وہ دیکھنا ہے۔۔۔جب کبھی ٹائم ملتا ہے تب دیکھوں گا”

زریاب عینا کے ہاتھ سے کافی تھامتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔

“نہیں بیٹا تم جاؤ بچی کے ساتھ گھوم آؤ کہیں سے۔۔۔دس، پندرہ دن میں دیکھ لوں گا آفیس کو”

اذلان صاحب محبت سے بولے تو زریاب نے نفی میں سر ہلایا۔

“آپ سب جانتے تو ہیں مجھے گھومنا پھرنا نہیں پسند۔۔۔ہاں اگر نور کو کہیں جانا ہے تو اس سے پوچھ لوں گا پھر جائیں گے کہیں”

وہ سنجیدگی سے بولا۔

“نن۔۔نہیں میں ٹھیک ہوں گھر ہی۔۔۔مجھے بھی نہیں پسند باہر رہنا”

وہ فوراً گھبرا کر بولی تو عدیلہ اور اذلان صاحب نے سر ہلائے۔

“ہممم جیسی تم لوگوں کی خواہش”

اذلان ملک نے کہا۔

“اچھا بڑے بابا ہم چلتے ہیں اب۔۔۔پھر ملاقات ہو گی آپ سب سے”

ہادی کہتا ہوا اٹھا اس نے سب سے پر بہت زور دیا تھا ، اور سہانا نے سمجھ بھی لیا تھا یہ کس کو سنایا جا رہا ہے۔۔۔

میرال بھی اٹھ کھڑی ہوئی ، وہ ان چاروں سے ملی ، پھر زریاب اور عدیلہ بیگم کو مل کر اذلان ملک کو ملتی اس کے پاس کھڑی ہوئی۔

میر ہادی بھی خدا حافظ کہتا اسے لیے باہر کی جانب بڑھا تھا۔

“میں تو بہت خوش ہوں ماشاللہ سے زریاب کی شادی بھی ہو گئی اور علیزے کی بھی اگلے مہینے ہو جائے گی۔۔۔پھر میں جلدی سے اپنی بیٹی سہانا کے لیے رشتہِ دیکھتی ہُوں بس”

عدیلہ بیگم پیار سے بولیں تو باقی سب بھی مسکرائے۔

سہانا اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ ان کی بات سن ہی نہیں سکی۔

“ہممم انشاءاللہ”

اذلان صاحب بھی بولے تھے۔

“اب پرسو تم تینوں چلو میرے ساتھ شاپنگ شروع کریں اب شادی سر پر ہے اور تیاریاں ابھی شروع بھی نہیں ہوئیں۔۔۔بھابھی کو تو اتنی جلدی سے علیزے کو بیاہ کر لےجانے کی کہ وہ روزآنہ یاد دلاتی ہیں مجھے”

عدیلہ بیگم مسکرا کر بولیں تو علیزے نظریں جھکا گئی۔

عینا بھی اسے شرماتے دیکھ مسکرا دی۔

“عینا بیٹا تم زریاب کہ ساتھ جا کر جیولری بھی لے لینا وقت کم تھا تو میں زیادہ نہیں کہ سکی۔۔۔”

وہ عینا سے بولیں تو عینا نے انہیں دیکھا۔

“نہیں آنٹی اس سب کی کیا ضرورت ہے پہلے ہی بہت ساری جیولری دی ہے آپ نے اب اور بھی چاہیے مجھے۔ویسے بھی مجھ سے اتنی ہیوی چیزیں نہیں پہنی جاتیں”

وہ فوراً سے بولی تو زریاب نے اسے دیکھا۔

“عادت ڈال لو اب ہیوی چیزوں کی”

زریاب نے معنی خیزی سے سرگوشی کی تو عینا مزید سمٹ گئی۔

“نہیں بیٹے ضرورت کی کیا بات ہے۔۔۔لڑکیوں کو تو شوق ہوتا ہے ان چیزوں کا اور اب علیزے کی شادی پر لوگ خاص طور پر تمہیں دیکھنے آئیں گے تو یہ سب شادی کے بعد دلہنیں پہنتی ہیں ہیں ناں۔۔۔بیشک تم زیادہ ہیوی مت لینا نفیس سے چیزیں بنوا لو۔”

اُنھوں نے سمجھایا تو وہ کچھ کہہ نہ سکی۔

“جی آنٹی”

وہ نرمی سے بولی۔

“عینا بیٹے اب آنٹی تو مت بولا کرو مجھے آئندہ سے سہانا اور تم دونوں بھی مجھے زریاب اور علیزے کی طرح ماما بولو کرو گی۔۔۔”

اُنھوں نے محبت سے کہا۔

“جی ماما”

وہ آہستہ سے بولی۔

پھر سب اٹھ کر اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مما آپ کو پتہ ہے میری اتنی دوستی ہو گئی بھابھی اور سہانا سے”

میرال جب سے گھر آئی تھی صائمہ بیگم کو اپنے سارے دن کی باتیں بتا رہی تھی۔

سہانا کی باتوں کی خاطر میر بھی معمول کے بر عکس یہاں موجود تھا۔

“بہت اچھی بات ہے میری بیٹی کی اور فرینڈز بن گئیں”

صائمہ بیگم اس کے بالوں میں مالش کرتی بولیں تو وہ مسکرائی۔

“زہرام بھائی کب آئیں گے میں نے انہیں بہت مس کیا”

وہ اب زہرام کو یاد کرتی بولی تو وہ دونوں مسکرائے۔

“آنے والا ہو گا لیکن وہ تھکا ہو گا تو ابھی اسے یہ سب مت سنانا۔۔۔کل چھٹی ہے اسے تو کو بتانا”

صائمہ بیگم نے اسے سمجھایا تو اس نے منہ بسور لیا۔

“میری باتوں سے وہ تھکتے نہیں ہیں بلکہ ان کا موڈ فریش ہو جاتا ہے”

وہ ناروٹھے پن سے بولی تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

“اسلام و علیکم”

فوراً ہی زہرام لاؤنج میں داخل ہوا اور اس نے سلام کیا تھا۔

“بھائی۔۔۔۔میں آ گئی”

وہ فوراً اٹھتی بغیر بالوں کو سمیٹے دوڑ کر اس سے جا لگی تو زہرام نے مسکرا کر اس کی پیشانی پر پیار کیا اور اسے خود سے لگایا۔

“میں نے بہت یاد کیا اپنی گڑیا کو اور میں نے سوچ لیا ہے کہ آئندہ تم گھر سے باہر کہیں نہیں رکو گی”

زہرام محبت سے بولا تو اس نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

پھر ذہرام اسے خود سے لگا کر ہی صوفے تو آیا اور صائمہ بیگم سے پیار لیتا بیٹھ گیا ساتھ وہ بھی بیٹھی۔

“میرال آؤ بیٹا بال باندھ دوں تمہارے پھر کھانا بھی دیکھنا ہے مجھے”

صائمہ بیگم بولیں تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“آپ پہلے کھانا بنوا لیں میں پھر کروا لوں گی ابھی مجھے بھائی سے باتیں کرنی ہیں”

وہ بولی تو ہادی مسکرایا جبکہ صائمہ بیگم نے اسے دیکھا۔

“پہلے بھائی کو فریش ہونے دو بیٹے پھر باتیں کرنا”

اُنھوں نے اسے سمجھایا۔

“نہیں تائی امی میں ٹھیک ہوں آپ بیٹھا رہنے دیں اسے”

زہرام مسکرا کر بولا تو وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھیں تاکہ ہاتھ دھو سکیں۔

“بھائی آپ کو پتہ میں نے بھابھی اور ان کی کزن سہانا سے بہت ساری دوستی کر لی”

وہ مسکرا کر بولی تو زہرام نے اسے خود سے لگایا اور ایک دفعہ پھر پیار کیا۔

“میری بیٹی ہے ہی اتنی پیاری کہ سب کا دل کرتا ہے دوستی کر لیں”

وہ بہت پیار سے بولا تو میرال مزید خوش ہوتی مسکرائی۔

“اففف کب ختم ہوں گے آپ دونوں کے یہ لاڈ”

ہادی شرارت سے بولا تو دونوں نے اسے گھورا۔

“تمہیں کیسے فرصت مل گئی آج یہاں بیٹھنے کی”

زہرام طنزیہ لہجے میں بولا۔

“میں بس جا ہی رہا ہوں اوپر آپ دونوں کریں لاڈیاں”

وہ کہتا ہوا اٹھ کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔

“اور کتنے دن کالج نہیں جانا ؟”

زہرام کے سوال پر اس کہ منہ بنا۔

اس معاملے میں وہ بہت سخت تھا ، پڑھائی کے لیے اسے کوئی چھوٹ نہیں تھی۔

“بس کل ولیمہ ہے پرسو سے جاؤں گی۔۔۔بھائی مجھے فزکس سمجھ نہی آتی میں کیا کروں”

وہ اُداسی سے بولی۔

“تو پہلے بتانا چاہیے تھا ناں چندہ۔۔۔کر اب پرسو سے پورا دل لگا کر پڑھو میں کسی ٹیوٹر کا ارینج کرتا ہوں جو تمہیں فزکس سمجھا دے گا”

زہرام سنجیدگی سے بولا تو اس نے سر ہلایا۔

“پتہ ہے جب جب میں آپ کا نام لیتی تھی علیزے آپی ریڈ ہو جاتی تھیں۔پھر میں نے بہت تنگ کیا انہیں آپ کے نام سے”

وہ علیزے کا شرمانا یاد کر کے بولی تو اس دفعہ وہ پورے دل سے مسکرایا۔

“کچھ دنوں میں وہ یہاں آ جائیں گی تو پھر مل کر انہیں تنگ کریں گے ہم دونوں۔”

وہ بولا تو اس نے فوراً سر ہلایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *