Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima NovelR50621 Bheegi Ankhen Teri (Episode 03)
Rate this Novel
Bheegi Ankhen Teri (Episode 03)
Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima
وہ آج وقت سے پہلے ریسٹورنٹ آ چکی تھی ، کِیُونکہ آج سہانا اور اسے شام میں مارکیٹ جانا تھا۔
تو وہ چاہتی تھی اسے ریسٹورنٹ سے جلدی چھٹی مل جائے ، تاکہ وہ دونوں سکون سے شاپنگ پر جا سکیں۔
صبح سے کام کر کر کے اب وہ نڈھال ہو چکی تھی ، پہلے ہی طبیعت میں بوجھل پن تھا۔
ساتھ ساتھ بھاگ دوڑ نے اس کی حالت خراب کر دی تھی ، لیکن عینا یہ سب سہنے کی عادی تھی۔
تو وہ بغیر کسی نکھرے کہ پوری ذمداری سے اپنا کام سر انجام دے رہی تھی۔
اسے مجبوری نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی اس ریسٹورنٹ میں کام نہ کرتی ، جانتی تھی یہاں زیادہ تر مرد کھانے نہیں لڑکیوں کو ذلیل کرنے آتے ہیں۔
مگر اس کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا تو وہ یہیں جاب کر رہی تھی۔
اب تو اس کی جاب کو ایک مہینہ ہو چکا تھا ، تو وہ لوگوں کی غلیظ نظروں کی عادت ڈال چکی تھی۔
اب وہ انتظار کر رہی تھی کہ کب کّک اسے کافی تیار کر کے دے اور وہ سرو کر آئے۔
کچھ دیر بعد کک نے تیار شدہ کپرچینو کافی اس کو تھمائی تو وہ ڈیش میں سجاتی باہر آئی۔
یہ ایک بڑا سا حال تھا اور اسے چل کے آخری ٹیبل تک جانا تھا۔
رستے میں بیٹھے مرد اسے خباثت سے دیکھ رہے تھے ، جملے اچھال رہے تھے۔
اس کے قدم ڈگمگائے مگر وہ سمبھل کر سیدھا چلنے لگی۔
جیسے ہی وہ اس ٹیبل پر پہنچی اس نے جھکی نظروں کے ساتھ ہی کافی ٹیبل پر رکھی۔
میر زریاب جو فقط اسے دیکھنے ، اس سے بات کرنے آیا تھا ، اسے دیکھ کر وہ پلکیں جھپکنا تک بھول گیا۔
بغیر کسی بناؤ سنگھار کے بھی وہ اس کے شانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
“ٹھہرو”
اسے پلٹتے دیکھ وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔
وہ اس آواز کو کہیں نہ کہیں پہچان چکی تھی ، عینا پلٹی اور ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا۔
پھر وہ دکھ اور افسوس سے نظریں جھکا گئی تھی۔
“بیٹھو مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے اس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھتا بولا۔
“صحیح کہتے ہیں لوگ مرد سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں”
وہ تلخئ سے کہتی پلٹی ہی تھی جب میر زریاب ملک تیزی سے چیئر سے اٹھا۔
اسے بازو سے کھینچ کر چیئر پر بٹھایا اور خود قریب چیئر گھسیٹ کر بیٹھا۔
“تمہاری اس بکواس کا مقصد ؟”
وہ تنی رگیں لیے دھاڑا تو عینا خوفزدہ ہوئی۔
“سب ایک جیسے ہوتے ناں تو آج تم یہاں موجود نہ ہوتی۔پرسو ساتھ لے گیا ہوتا تمہیں اور اب تک تم اپنے گھر والوں کو کسی ندی نالے سے مل چکی ہوتی۔”
وہ اپنے کردار پر اس کا بات سہہ نہیں پایا تھا اس لیے غصّے سے دبی دبی آواز میں چلایا۔
“مجھے چھوڑیں مجھے کام کرنا ہے”
وہ نظریں جھکاتی از حد سنجیدگی سے بولی تھی۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس شخص کو ،اس دن وہ اس کے لیے اپنے دوستوں سے بھی لڑ پڑا تھا۔
مگر آج وہ خود یہاں آ پہنچا تھا۔
“بغیر مجھے تنگ کیے سیدھا سیدھا جواب دیتی جاؤ میرے سوالوں کا پھر چھوڑ دوں گا۔”
وہ تھوڑے نرم لیہجے میں بولا تو عینا کی ہمت جاگِ اٹھی۔
“مجھے کوئی جواب نہیں دینا۔۔۔خدارا مجھے جانے دیں”
وہ بے بسی سے بولی تو زریاب نے غور سے اسے دیکھا۔
“نام کیا ہے تمہارا ؟”
اس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنا سوال کیا تو عینا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کے ساتھ مسلہ کیا ہے ہاں ؟ کیوں تنگ کر رہے ہیں مجھے۔”
وہ سرخ ناک لیے بولی تو زریاب نے قہر برساتی نظروں سے اسے گھورا۔
“اگر اس دفعہ تم نے جواب نہیں دیا تو آج تم گھر نہیں جا سکو گی”
وہ بہت معنی خیزی سے بولا تھا ، عینا اس کے لہجے پر واقعی سہم گئی۔
“کیا نام ہے تمہارا”
زریاب ملک نے سوال دہرایا تھا ، شاید زندگی میں پہلی مرتبہ۔۔۔
“نو۔۔نورالعین”
وہ گھبرائی ہوئی بولی ، میر زریاب کو نام ضرور اچھا لگا تھا۔
“فیملی میں کون کون ہے ؟”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ، کو اب بھیگ چکی تھیں۔
“میں اور میری۔۔۔كزن۔۔ہی ہیں بس”
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔
کتنا چھوٹا سا تعارف تھا اس کا ، اسے شدت سے زین کی یاد آئی تھی ، اگر اس وقت وہ دنیا میں ہوتا تو یقیناً وہ آج یہاں موجود نہیں ہوتی۔
زریاب کو بھی اس نازک سی لڑکی کا دکھ ہوا تھا، سمجھ تو وہ پہلے ہی چکا تھا کہ مجبوری اسے یہاں گھسیٹ لائی ہے۔
لیکن اب اس کے منہ سے سن کر اسے مزید افسوس ہوا تھا۔
وہ واقف تھا آج کل کے زمانے میں لڑکیوں کا اکیلا رہنا کتنا مشکل ہے۔
آج کل تو لڑکیاں اپنے محافظوں کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی مشکل سے محفوظ رہتی ہیں ، یہ دونوں اکیلی جانے کیسے اپنی حفاظت کر رہی تھیں۔
زریاب نے سر جھٹکا پھر اسے دیکھا جو اب خود کو رونے سے بعض رکھنے کی کوشش میں تھی۔
اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ زندگی بہت مشکل سے گزار رہی ہے ، بہت اپنے کھو چکی ہے۔
“ہممم۔۔۔پہلے کون کون تھا فیملی میں”
وہ پوچھنا نہیں چاہتا تھا ، مگر ضروری تھا۔
اس کے سوال پر اس کی آنکھیں مزید نم ہوئی تھیں ، میر زریاب کو یہ بھیگی آنکھیں بہت اٹریکٹ کر رہی تھیں۔
ہیزل براؤن آنکھیں جن میں شفاف آنسو تیر رہے تھے ، وہ زریاب ملک کو دیوانہ کر رہی تھیں۔
“میرے شوہر تھے۔۔۔۔مگر۔۔اب وہ ۔۔۔نہیں”
وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی اس سے زیادہ شاید و ضبط نہیں کر سکی تھی۔
اس نے چہرے کو ہاتھوں میں چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
جبکہ میر زریاب ابھی تک سکتے میں تھا ، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خوش ہو یہ پریشان۔
اسے تو وہ چھوٹی سی نازک سے لڑکی ان چھوئی ہی لگی تھی ، مگر وہ تو کسی کی زوجیت میں رہ چکی تھی۔
اور شاید وہ اپنے شوہر سے محبت بھی کرتی تھی ، اس بات کا اندازہ اس کے رونے اسے ہو رہا تھا۔
زریاب کو افسوس ہوا تھا اپنے لیے نہیں ، اس کے لیے۔
اتنی آزمائشیں اور مصیبتیں وہ چھوٹی سی جان کیسے سہتی بھلا۔
میر زریاب نے ہمیشہ کی طرح لمحے میں فیصلہ کیے پھر اس کی جانب دیکھا جو ابھی بھی رو رہی تھی۔
“اوکے ریلیکس۔۔۔یہ پانی پیو”
اس نے ایک اور کام اپنی انا کو سائڈ پر کرتے کیا تھا۔
زریاب ملک نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی کے لیے پانی گلاس میں ڈالا تھا۔
“پیو بھی”
وہ زرہ سخت لہجے میں بولا تو عینا نے کانپتے ہاتھوں سے گلاس اس سے لیا ، دو گھونٹ بھر کر وہ واپس رکھ گئی۔
“کتنا عرصہ ساتھ رہی تم اس کے ؟”
وہ بے تاثر لہجے میں بولا۔
جبکہ عینا نے عجیب نظروں سے اس پاگل شخص کو دیکھا تھا ، اسے کیا پروبلم کے وہ کتنا عرصہ رہی۔
مگر اس کی دھمکی یاد آنے پر وہ نظریں جھکا گئی۔
“چار مہینے ، گیارہ دن”
وہ کھوئی ہوئی بولی تھی ، شاید وہ اس حسین وقت کو یاد کر رہی تھی۔
زریاب ملک سے کہاں برداشت ہونا تھا اس کا ان یادوں میں کھونا۔
“تمہاری کزن ساتھ کیوں رہتی ہے ، اور کوئی رشتہِ دار کیوں نہیں”
وہ سنجیدگی سے بولا۔
“ہماری فیملی چھوٹی سے تھی۔۔۔میں بچپن سے اپنی پھپھو کے ساتھ رہتی تھی۔ سب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ میرے بابا مطلب میرے پھوپھا نے اٹھارہ سال کی عمر میں میرا نکاح زین سے کیا تھا۔ زین اور سہانا ان کہ بچے ہیں۔ زین مجھ سے پانچ سال بڑے تھے۔ وه مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ پھر جب زین کی سٹڈی مکمل ہوئی تو وہ بینک میں جاب کرنے لگے۔ ان کی ان کم سے ہمارا گھر
اچھے سے چلتا تھا۔ ایک دن امی اور بابا رکشے میں کہیں گئے تو ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ہمیں خبر تب ملی جب وہ جان کھو چکے تھے۔ ہم سب بہت دکھی رہے۔ پھر یونہی تین سال گزر گئے۔محلےکے لوگوں نے ہمیں کہا کہ اب ہم رخصتی کر لیں کیونکہ ہم اکیلے گھر میں رہتے ہیں۔ یوں ہم نے سادگی سے رخصتی کر لی۔ سہانا مجھ سے دو سال چھوٹی ہے۔وہ تب کالج میں تھی۔ میں نے ایف ائس سی کے بعد سٹڈی بند کر دی تھی۔صبح زین اور سہانا کالج اور بینک چلے جاتے اور میں گھر ہوتی تھی۔پھر ایک دن کافی دیر ہو گئی زین گھر نہیں آئے۔ سہانا اور میں بہت پریشان ہو گئیں۔ وہ شام کو پانچ بجے روزآنہ پہنچ جاتے تھے۔ مگر اس رات نو بج گئے وہ نہیں آئے۔ہم نے محلے کہ مردوں سے بات کی تو دو لڑکے انہیں دیکھنے گئے۔ رات کو گیارہ بجے ہمیں معلوم ہوا کہ بینک سے واپسی پر زین کسی پولیس
مقابلے میں دل پر گولی کھا کے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ہمارا سب کچھ اسی دن ختم ہو گیا۔ہم دونوں اکیلی رہ گئیں۔مجھے چار مہینے عدت میں رہنا تھا۔سہانا بھی بہت ٹوٹ چکی تھی۔میں نے اسے بہت سمجھا بجھا کر راضی کیا تو وہ کالج جانے لگی۔محلے کے لوگوں نے مجھ پر بہت باتیں بنائیں کے گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔مگر مجبور تھی۔ اب عدت ختم ہوئی تو یہیں جان ملی تو ایک مہینے سے یہاں ہوں۔ سہانا کی قسمت اچھی تھی تو اسے اچھی یونیورسٹی میں جاب مل گئی۔”
وہ بغیر سوچے سمجھے اپنے دل کا غبار اس اجنبی کے سامنے نکال گئی تھی۔
اس نے بہت عرصے سے یہ غم خود میں دبا رکھے تھے مگر آج بھی دبا پائی تھی۔
زریاب کو اس کی داستانِ زندگی سن کے افسوس ہوا۔
“ہممم۔۔۔”
وہ گہرا سانس لے کر اتنا ہی بولا۔
وہ اب حیرت سے اس کو دیکھ رہی تھی جسے وہ اپنا سب کچھ بتا چکی تھی۔
“گھبراؤ نہیں مجھے اچھا لگا تم نے مجھ سے سب شیئر کیا۔۔۔۔۔خیر اب میں بولوں گا اور تم خاموشی سے سنو گی۔مجھے ٹوکنا مت۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو وہ آنکھیں جھکا گئی ، میر زریاب دھیما سا مسکرایا۔
“کچھ بھی غلط مت سمجھنا میں سیدھی بات کرنے والا انسان ہوں۔ تو ڈائرکٹ یہی کہوں گا مجھے تم چائیے ہو ہمیشہ کے لیے۔زیادہ وقت نہیں دوں گا سوچنے کو۔ دو دن
ہیں تمہارے پاس اچھے سے سوچ لو کے کیا کرنا ہے۔ اپنی کزن کی ٹینشن نہ لینا تمہارے ساتھ۔ وہ میری بھی ذمداری ہو گی۔۔۔ یاد رکھنا تم انکار نہیں کر سکتی۔یہ دو دن مجھے سوچنا ہے تم نے باقی کچھ نہیں۔انکار کا آپشن نہیں ہے تمہارے پاس۔ ان دنوں خود کو تیار کر کو بس۔ میں اپنی فیملی سے بات کر چکا ہوں۔ “
میر زریاب نے اپنا فیصلہ بتایا تھا جیسے۔
وہ اب آنکھیں پھاڑ اسے دیکھ رہی تھی ، وہ سمجھ تک نہیں سکی تھی کہ وہ ایسا کچھ سوچ رہا ہے۔
وہ اچانک ہی غم و غصّے سے اٹھی۔
“کیا بکواس کر رہے ہیں آپ ہاں۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے آپ کی دھمکیوں سے ڈر جاؤں گی میں۔ ہرگز نہیں مسٹر آپ نے جو کرنا ہۓ کر لیں مگر پلیز آئندہ میرے سامنے مت ائیے گا۔”
وہ کہتی رکی نہیں تھی تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
میر زریاب کو اس سب سے کوئی اثر بھی ہوا تھا ، یقیناً وہ اسی ريکشن کو ایکسپکٹ کر رہا تھا۔
مگر اسے آج خوشی ہوئی تھی کہ جلدی میں ہی صحیح وہ اسے بہت کچھ بتا گئی تھی۔
ہاں تھوڑا اپ سیٹ وہ ضرور ہوا تھا اس کی شادی کا سن کر ، لیکن اب وہ صرف خوش تھا ، اسے فرق نہیں پڑتا تھا اس کے ماضی سے۔
پہلی دفعہ میر زریاب کو کوئی لڑکی بھائی تھی ، اسے اس چھوٹی سی وجہ پر وہ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
وہ کچھ دیر بیٹھا رہا ، پھر وہ بل ٹیبل پر رکھتا باہر چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زہرام نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا میرال بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے سینے کا حصہ بن گئی۔
زہرام ملک نے مسکرا کر اس کے گرد حصار بنایا اور اس کی پیشانی پر پیار کیا۔
“کیسا ہے میرا بیٹا”
وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تو میرال نے مسکرا کر چہرہ اس کے سینے سے نکلا البتہ بازو ابھی بھی اس کے گرد بندھے تھے۔
“میں بلکل ٹھیک۔۔۔اب فیور بھی نہیں ہے”
وہ اسے تسلی دیتی بولی ، جانتی تھی اسے فیور ہونے کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھا۔
“ہممم اچھی بات ہے۔۔۔لیکن تمہیں ابھی ریسٹ کرنا چاہیے تھا چندہ”
وہ اس کا دوپٹا ٹھیک کرتا بولا جو دوپٹے سے بلکل لاپرواہ رہتی تھی۔
“بھائی میں ٹھیک ہوں ناں اب اور ویسے بھی دو دنوں سے میں ریسٹ ہی کر رہی تھی اس پر ماما نے مجھے اتنے فروٹس ٹھونسے ہیں کے اب تو فروٹس کے نام پر ہی وومٹ ہو جائے گی”
وہ منہ بنا کر بولی تو زہرام مسکرایا اور اسے بازو کے حصار میں لیے آگے بڑھا۔
لاؤنج میں صرف ایک ملازمہ کام کر رہی تھی ، صائمہ بیگم اور میر ہادی کہیں نہیں دکھ رہے تھے۔
“کھانے کی چیز کے لیے ایسے نہیں بولتے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔”
زہرام نے نرمی سے سمجھایا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ دونوں ایک صوفے پر بیٹھ گئے ، ابھی وہ باتیں کر رہے تھے جب صائمہ بیگم نیچے آئیں۔
“آ گیا میرا بیٹا “
وہ مسکرا کر بولیں تو اس نے سر ہلایا۔
“زہرام بیٹا میں سوچ رہی تھی بہت ٹائم ہو گیا ہے ہم نے اذلان بھائی اور گھر والوں کو دعوت نہیں دی۔ اس طرح اچھا نہیں لگتا ناں وہ کیا سوچتے ہوں گے۔ ہماری بیٹی لے کر رابطہ ہی کم کر دیا۔”
وہ فکرمندی سے بولیں۔
“واو ماما فائینلی میں علیزے آپی سے ملوں گی۔ اتنے دن ہو گئے ہیں میں ان سے نہیں ملی”
ابھی وہ کچھ کہتا کہ میرال پر جوشی سے بولی۔
“ہممم۔۔۔کر لیں آپ انہیں انوائٹ۔کل زریاب آیا تھا میرے آفیس میں نے بات کی تھی کہ کسی دن آؤ۔ اب آپ بھی کال کر دیں کل پرسو کی دعوت ارینج کر لیتے ہیں”
وہ سنجیدگی سے بولا تو انہوں نے سر ہلایا۔
“میر نہیں آیا ابھی ؟”
وہ اچبھنے سے بولا تھا ، آج کل میر ہادی کی حرکتیں مشکوک تھیں۔
“نہیں بیٹا میں بھی انتظار کر رہی تھی۔ شام ہو چکی ہے ابھی تک نہیں پہنچا۔”
وہ پریشانی سے بولیں جبکہ میرال اب سیل میں مگن ہو چکی تھی۔
“ہممم۔۔۔جب وہ آئے تو اسے میرے روم میں بھیجئے گا۔ میں اوپر جا رہا ہوں”
وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
