Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima NovelR50621 Bheegi Ankhen Teri (Episode 20)
Rate this Novel
Bheegi Ankhen Teri (Episode 20)
Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima
زریاب نے عینا کی جانب دیکھا جس کہ منہ ابھی تک پھولا ہوا تھا۔
وہ اب زریاب کو مکمل اگنور کر رہی تھی۔
ابھی وہ دونوں لاؤنج میں ہی تھے ، عینا اچانک اٹھی اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔
زریاب وہیں بیٹھا رہا ، بزاہر اس کی نظریں ایل سی ڈی پر تھیں ، مگر دھیان سارا عینا پر تھا۔
تھوڑی دیر بعد عینا چاکلیٹ کا ریپر کھولتی کچن سے باہر آئی تھی ، زریاب نے اسے چاکلیٹ کھاتے دیکھا تو مسکراہٹ دبا گیا۔
وہ بلکل کوئی چھوٹی بچی ہی لگ رہی تھی۔
عینا سنجیدگی سے اُوپر کی طرف بڑھ گئی تو زریاب بھی اٹھتا اس کے پیچھے آیا تھا۔
وہ روم میں آیا تو عینا اب بیڈ پر بیٹھی سکون سے کھانے میں مگن تھی ، دکھنے میں لگ رہا تھا کوئی خرگوش گاجر کھا رہا ہے۔
“ابھی بھی ناراض ہے میری جاناں ؟”
زریاب نرمی سے اس کے ساتھ بیٹھتا بولا۔
جبکہ عینا نے گھور کر اسے دیکھا پھر کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی۔
“مجھے بات نہیں کرنی آپ سے۔”
اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو زریاب کو ہنسی آئی۔
پچھلے کچھ دنوں سے یہی تو ہو رہا تھا اس کے ساتھ ، روزآنہ چھوٹی چھوٹی بات پر بھی اسے گھنٹوں منانا پڑ رہا تھا عینا کو۔
زریاب نے محبت سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کیا۔
“اچھا ناں اب بس کرو میری جان۔”
وہ نرمی سے بولا تھا۔
“اب تو بس ہی اور دی ہے میں نے زریاب”
اس نے غصے سے کہ تو زریاب ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا پیچھے ہوا تھا۔
جس پر عینا نے گھور کر اسے دیکھا ، جبکہ وہ مسکرا دیا۔
“اگر آپ کو مجھ پر ہنسنا ہی ہے تو ٹھیک ہے میں ابھی سہانا کے روم میں چلی جاتی ہوں۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ”
اس نے خفگی سے کہا ساتھ ہی وہ چاکلیٹ رکھتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
زریاب جو آج فل شرارتی موڈ میں تھا جان بوجھ کر سنجیدہ ہوا۔
“ابھی تمہاری مرضی ہے کہ کیا کرنا ہے لیکن یاد رکھنا اگر تم نے ابھی اس کمرے سے قدم بھی باہر رکھا تو مجھ سے ہے رشتہ ختم کر دو گی تم۔”
زریاب نے مصنوعی سنجیدگی سے دھمکی دی۔
عینا جو اس سے پیار ، محبت اور نرمی کی توقع کر رہی تھی اس کی بات پر وہیں رک گئی۔
وہ اب آنکھوں میں آنسو لیے بیڈ پر آئی اور کمبل میں چھپتی چہرہ تکیے میں چھپا گئی۔
“کیا ہوا میری جان اب گئی کیوں نہیں تم ؟”
زریاب نے قہقہہ لگا کر کہا تو عینا غصے سے اٹھ بیٹھی۔
اس نے کشن اٹھا اُٹھا کر زریاب کی طرف اچھالے جبکہ وہ اپنا دفاع کرنے کی بجائے قہقہے لگاتا رہا۔
آخر تنگ کر عینا نے کمبل بھی بیڈ سے نیچے پھینک دیا ، غصے میں اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔
پورا بیڈ تو وہ خالی کر ہی چکی تھی ، اب بیڈ پر صرف وہ خود موجود تھی۔
اس پر آج کل کچھ زیادہ ہی چڑچڑاپن سوار تھا ، جس کی وجہ سے اسے ہر وقت غُصہ آتا رہتا تھا ، یا رونا۔
زریاب اس کی حالت کے پیشِ نظر سنجیدہ ہوتا اس کے قریب آیا۔
“کیوں اتنا غُصہ کرنے لگی ہو عینا۔میں صرف مذاق کرتا ہوں اپنی جان سے یار۔”
اس نے نرمی سے عینا کو خود سے لگا کر کہا ، عینا بھی اس کے سینے پر سر رکھتی گہرے سانس بھرنے لگی تھی۔
“چلو سیدھی ہو کر بیٹھو میں میڈیسن دوں تمہیں ، اور یہ جو اتنا کچھ پھیلا دیا ہے تم نے یہ بھی اب مجھے ہی سمیٹنا پڑے گا یار۔”
زریاب مصنوعی بے چارگی سے بولا تو عینا مسکرائی۔
اسی طرح زریاب نے سارے کشن وغیرہ بیڈ پر درست کر کے رکھے ، پھر عینا کو میڈیسن دی۔
میڈیسن دے کر اس نے عینا کو اپنے حصار میں کیا اور لائٹ آف کرتا آنکھیں موند گیا۔
دن بھر کی تھکاوٹ تھی اس لیے دونوں ہی جلد سو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے چھ بج رہے تھے جب علیزے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کرتی بیڈ سے اٹھی۔
وہ اس وقت سیاہ لمبی قمیض کے نیچے وائٹ کھلا ٹراوزر پہنے ہوئے تھی ، ساتھ اس نے بلیک اینڈ وائیٹ سٹولر گلے میں ڈال رکھا تھا۔
بال بکھرے ہوا تھے تو اس نے انہیں ہاتھوں سے سنوار کر پیچھے کیچر میں بند کر دیا۔
ہلکی سی گلابی لپسٹک لگاتی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ، وہ آہستہ آہستہ چلتی باہر آئی۔
وہ دوپہر میں میرال سے ملی تھی مگر اس کہ موڈ ابھی بھی ویسا ہی تھا ، حالانکہ زہرام ، ہادی اور صائمہ بیگم نے بھی محسوس کیا۔
صبح سب نے اُسے بہت پیار کیا تھا مگر وہ پھر بھی کوشش کے باوجود بھی خود کو بدل نہیں سکی تھی۔
اس کی اُداسی کی وجہ سے پورے بنگلے میں اُداسی چھائی تھی۔
علیزے نے پہلے اس کے روم میں دیکھا تو وہ موجود نہیں تھی ، علیزے بھی نیچے آ گئی۔
لاؤنج میں کوئی نہیں تھا ، اس نے ملازمہ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ زہرام آفیس ہے ، صائمہ بیگم کسی کے گھر عیادت کے لیے گئی ہیں جبکہ میر ابھی آیا ہی نہیں اور میرال ٹیوشن پڑھ رہی ہے۔
علیزے کو میر کے ابھی تک نہ آنے پر ہلکا سا غُصہ آیا ، وہ کافی دنوں سے نوٹ کر رہی تھی اس کا گھر دیر سے آنا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج زہرام کو اس کی شکایت لگائے گی۔
پھر اچانک ہی علیزے کو خیال آیا کہ کیوں نہ میرال کے ٹویٹر سے ملا جائے۔
وہ مسکرا کر سٹولر ٹھیک سے پھیلاتی ڈرائنگ روم کی طرف آئی تھی۔
لیکن ابھی وہ دروازے کے قریب پہنچی ہی تھی جب اسے میرال کی سسکی سنائی دی ، علیزے فکر مندی سے آگے بڑھی کہ سامنے کا منظر دیکھتے اس کی جان نکلی۔
سامنے ہی وہ استاد کی شکل میں موجود درندہ ميرال کے دونوں بازو جکڑے ، اسے صوفے پر پھینکے خود اس کے ہونٹوں پر جھکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میرال چہرہ پھیرنے کی کوشش کر رہی تھی تو وہ اس کا چہرہ زور سے ایک ہاتھ میں جکڑ گیا۔
علیزے تیزی سے آگے بڑھی ، وہ جو بلکل اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھنے ہی والا تھا علیزے نے اسے گریبان سے کھینچ کر پیچھے کیا۔
میرال علیزے کو دیکھتی فوراً اٹھ کر اس کے سینے سے لگی تھی ، وہ اب پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی۔
علیزے با خون خوار نظروں سے اس خبیث انسان کو دیکھ رہی تھی جو اب بڑی فرصت سے اسے گھور رہا تھا۔
“ذرہ برابر انسانیت ہے تم میں ہاں ؟ اپنا رتبہ دیکھو اور حرکتیں دیکھو۔ شرم نہیں آئی معصوم بچی کے ساتھ یہ بد فعلی کرتے ہوئے۔”
علیزے تو غصّے سے بھڑک اٹھی تھی اس لیے وہ زور سے چلائی۔
فائق اس کے چلانے پر خوفزدہ ہوا تھا۔
ابھی وہ کچھ کہتا جب اچانک ہی ڈرائنگ روم میں میر ہادی داخل ہوا ، اس کے پیچھے دو ملازمائیں بھی تھیں۔
شاید وہ لوگ شور سن کے آئے تھے۔
ہادی کو دیکھ کر علیزے میرال کو تھام کر ذرا پیچھے ہوئی تھی۔
ہادی اب سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ، اپنی چھوٹی سی گڑیا کو اس طرح روتے دیکھ اس نے علیزے کو دیکھا۔
“کیا ہوا ہے اسے ؟”
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا ، جبکہ علیزے نے ایک زہر خند نظر فائق رضا پر ڈالی۔
“یہ۔۔یہ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔۔میرال کے ساتھ۔”
بیشک وہ رشتے میں زیادہ عزت رکھتی تھی مگر پھر بھی یہ بات ہادی کو بتاتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔
اس کی بات سن کر ہادی کا چہرہ پل میں دھواں دھواں ہوا تھا۔
“آپ دونوں باہر جائیں اور بھائی کو کال کر کے گھر بلائیں۔فوراً”
ہادی سختی سے دھاڑا تو علیزے میں اثبات میں سر ہلایا اور میرال کو لیتی وہاں سے نکل گئی۔
ہادی اب اس کی جانب مڑا تھا ، فائق کو اب پسینے چھوٹ رہے تھے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اچانک کیسے اس کی بازی پلٹ گئی تھی۔
“بیغیرت انسان تو انسان بھی ہے یا نہیں ؟”
ہادی اس کو گریبان سے جکڑ کر دھاڑا تو فائق نے خود کو چھڑانا چاہا۔
جس پر ہادی نے رکھ کر مکہ اس کے جبڑے پر مارا تھا ، فائق درد سے کراہا۔
ہادی نے اسے نفرت سے نیچے پھینکا اور زور زور سے اسے لاتوں سے مارنے لگا۔
کچھ ہی دیر میں وہ ادھ موا ہو گیا تھا۔
“میری بہن۔۔۔میری معصوم بہن کے ساتھ یہ سب کر کے تو نے سوچا کہ بچ جائے گا ہاں ؟”
ہادی دھاڑا تو اس نے ہاتھ جوڑے تھے۔
“مجھے۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔دیکھو۔۔میں۔۔آئندہ ایسا۔۔نہیں کروں گا۔۔خدارا مجھے جانے دو “
فائق ہاتھ جوڑتا گڑگڑایا تھا جس پر ہادی نے مزید ایک لات اسے ماری تھی۔
کچھ دیر بعد ہی سہراب اور ذہرام ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔
پھر تینوں نے مل کر اسے دھنک کے رکھ دیا تھا۔
زہرام اور ہادی کا تو بس نہیں چل رہا تھا اس کی جان ہی لے لیتے مگر سہراب نے انہیں بڑی مشکل سے سمبھالا۔
پھر ذہرام نے فوراً ہی وہیں پولیس بلوائی تھی ، اور اسے ان کے حوالے کیا۔
اس کی حالت تو ہسپتال لے جانے والی تھی مگر زہرام نے کہا تھا کہ اسے پولیس اسٹیشن لے جایا جائے۔
پولیس اسے لے کر چلی گئی تو وہ دونوں بھی باہر آئے ، صائمہ بیگم آ چکی تھیں تو وہ اور علیزے میرال کو اوپر لے کر گئیں تھیں۔
وہ دونوں اُوپر ائے تو لاؤنج میں ہی میرال صائمہ بیگم کے سینے سے لگی رو رہی تھی ، جبکہ علیزے قریب کھڑی اسے پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
قدموں کی چاپ پر تینوں نے ان کی جانب دیکھا تھا ، میرال تو ان دونوں کو دیکھ کر آنکھیں بند کر گئی۔
زہرام کو اس پر بے انتہا غصّہ تھا ، میرال کو اسے بتانا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں بتایا تھا۔
یقیناً اگر وہ پہلے ہی بتا دیتی تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔
زہرام تن فن کرتا اپنے روم میں چلا گیا ، اس نے شدت سے دروازہ بند کیا تو سب چونک گئے۔
میرال اس کے غصے کا سوچتی مزید رونے لگی تھی۔
ہادی آہستہ سے چلتا اس کے قریب آیا اور اس کی دوسری جانب بیٹھا۔
“میرو میری جان بس کرو اب۔۔۔کچھ نہیں ہوا میری چندہ۔”
اس نے نرمی سے سمجھانا چاہا تھا۔
میرال نے چہرہ اچانک اس کے سینے میں چھپایا تو میر نے اس کے گرد حصار باندھا تھا۔
“بھائی۔۔زہرام۔۔بھائی کو کہیں مجھ۔۔سے ناراض مت ہوں۔۔پلیز”
وہ شدت سے روتی ہوئی بولی ، اسے احساس تھا اپنی غلطی کا مگر وہ زہرام کو ناراض ہرگز نہیں کر سکتی تھی۔
“میرو وہ نہیں ناراض رہ سکتے تم سے میری جان۔ابھی خود ہی مان جائیں گے تم پریشان مت ہو”
علیزے اس کے بال سمیٹتے ہوئی بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“تم ٹھہرو میں انہیں بلا کے لاتی ہُوں یہاں۔”
علیزے نے سنجیدگی سے کہا اور وہ اپنے روم کی طرف بڑھی۔
وہ روم میں داخل ہوئی تو زہرام موجود نہیں تھا ، مگر وہ گلاس ڈور کھول کر بلکنی میں آئی تو سامنے میر زہرام ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے ، ہاتھوں کی مٹھی پر پیشانی رکھے کھڑا تھا۔
علیزے اس کی تکلیف سمجھ سکتی تھی ، اس لیے اس نے نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“زہرام وہ بلکل ٹھیک ہے۔آپ پریشان مت ہوں۔پلیز اس کے پاس آئیں وہ آپ کی وجہ سے رو رہی ہے۔”
علیزے نے اسے سمجھایا تو زہرام نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ، آنکھوں میں کرب تھا ، تکلیف تھی۔
علیزے تڑپ کے رہ گئی ، اس نے کبھی ذہرام کو اتنی تکلیف میں نہیں دیکھا تھا۔
“میرے یقین کو توڑا ہے اس نے علیزے۔میں نے بہت محبت دی تھی اسے۔اپنی بیٹی بنا کررکھا ہمیشہ اور اس نے کیا کیا ؟ اتنی ضروری بات مجھ سے چھپائی۔خدا نہ خواستہ اگر تم نہیں جاتی تو نجانے کیا ہو چکا ہوتا اس کہ ساتھ۔پھر میں کیا جواب دیتا چاچو کو۔”
وہ دکھ سے بولا تو علیزے نے اس کے بازو کے گرد حصار بنایا۔
“زہرام وہ بچی ہے وہ ڈر گئی تھی اس سے۔آپ خود سوچیں کہ اگر کوئی مرد اسے ڈرائے تو اس نے ڈرنا ہی تھا زہرام۔اس نے کبھی ایسی سچویشن فیس نہیں کی تھی کہ وہ ہینڈل کر پاتی۔”
علیزے اسے ٹھنڈا کرنے کی خاطر آہستہ آواز میں بولی۔
“ہممم۔۔۔لیکن فلحال میں نہیں جاؤں گا اس کے پاس۔میں آرام کروں گا ابھی۔”
زہرام نے سنجیدگی سے کہا تو علیزے نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“زہرام پلیز معاف کر دیں اسے اور مل لیں اُس سے ایک دفعہ “
علیزے نے کہا تو زہرام بھی خاموش ہو گیا۔
وہ دونوں ساتھ کمرے سے باہر آئے تھے۔
میرال جو اب کچھ سمبھل چکی تھی اسے دیکھ کر پھر سے رونے لگی تو زہرام تڑپ کر اس کے قریب آیا تھا۔
“میرو بس میرے بیٹے اب اور نہیں رونا”
زہرام اسے خود میں بھینچ کے محبت سے بولا تھا۔
“بھائی۔۔۔ایم۔۔سوری۔۔میں۔۔بہت۔۔بری ہوں ناں”
وہ روتی ہوئی بولی ، صائمہ بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسو آئے تھے۔
“نہیں میری گڑیا تو بہت اچھی ہے۔۔۔ہیں بس تمہیں ہم میں سے کسی کو تو بتانا چاہیے تھا ناں میری جان۔چلو ہم دونوں کو نہ صحیح تھی امی یا علیزے سے تو تم یہ بات شیئر کر ہی سکتی تھیں ناں۔”
زہرام نے نرمی سے اسے سمجھایا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں آپ کو بتانے والی تھی مگر۔۔مگر انہوں نے مجھے۔۔کہا کہ۔۔وہ میرے ساتھ۔۔کچھ کر۔۔”
وہ فائق کی باتیں یاد کرتی روتی ہوئی بولی تھی کب اچانک زہرام نے اذیت سے اس کی بات کاٹی۔
“بس۔۔۔بھول جاؤ اس گھٹیا انسان کی باتوں کو۔لیکن یاد رکھنا ميرال آئندہ ایسا کچھ بھی ہو تم سب سے پہلے مجھے بتاؤ گی۔کچھ بھی کا مطلب کچھ بھی۔۔۔”
زہرام نے ذرا سختی سے کہا تک میرال نے اثبات میں سر ہلایا ، جبکہ چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی۔
“کل کالج مت جانا تم۔۔۔”
زہرام نے سنجیدگی سے کہا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اب تم سب نیچے آ جاؤ میں کھانا لگواتی ہوں”
صائمہ بیگم کہتی اٹھیں تھیں۔
“میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں”
علیزے بھی ان کے ہمراہ باہر کی جانب بڑھی۔
“چلو شاباش تھوڑا فریش ہو کر آؤ۔میں اور بھائی نیچے جا رہے ہیں”
ہادی نے کہا تو میرال اٹھ کر ان دونوں سے پیار لیتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“اب کیا کرنا ہی اس کا”
ہادی نے زہرام سے سوال کیا۔
“ابھی تو نام بھی نہیں لو اس کا۔کل دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔”
زہرام نے سنجیدگی سے کہا تو میر ہادی نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر وہ دونوں بھی اٹھ کر نیچے کی طرف بڑھے تھے۔
