Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 07)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

“اسلام و علیکم کیسے یاد کیا ؟”

اذلان صاحب سیل فون کان سے لگاتے خوش کن لہجے میں بولے۔

“وسلام بس آپ سے اجازت چاہیے تھی ایک بات کی”

میر زہرام کی آواز پر اُنھوں میں اثبات میں سر ہلایا۔

“ہممم کس بات کی اجازت ؟ “

اُنھوں نے سوال کیا۔

“چاچو دراصل میں آج شام علیزے کو شاپنگ پر لے کر جانا چاہتا ہوں تو آپ سے اجازت چاہیے تھی۔۔۔”

زہرام کی بات پر وہ مسکرائے انہیں اچھا لگا تھا اس کی اجازت طلب کرنا۔

حالانکہ ایک خوف بھی لے کر جا سکتا تھا مگر اس نے تہذیب سے اجازت طلب کی تھی۔

“کیوں نہیں بیٹا آپ ضرور لے جاؤ آپ کی بیوی ہے وہ یقیناً تم ہم سے بہتر حفاظت کر سکتے ہو اس کی”

وہ مسکرا کر بولے تو زہرام نے بھی سر ہلایا اور دو چار باتیں کر کے سیل رکھ دیا۔

پھر وہ اپنا کوٹ پہنتا وہاں سے نکلا اس نے رستے میں صائمہ بیگم کو کال کر کے انفارم کر دیا کہ وہ رات کو لیٹ گھر آئے گا۔

اس نے علیزے کے گھر کے گیٹ پر گاڑی روکی اور اسے میسیج کیا کہ وہ اس جائے۔

کچھ ہی منٹوں میں وہ سیاہ شلوار ، قمیض پر گرے چادر اوڑھے باہر آئی اور اس کی گاڑی دیکھتی مسکرا کر اس تک آئی۔

وہ کانفیڈنس سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اور پھر میر زہرام کی جانب دیکھا جو ایبرو اچکا کر اسے دیکھ رہا تھا۔

“چلیں بھی”

وہ اُکتا کر بولی تو زہرام نے سر ہلایا اور گتے سٹارٹ کر کے آگے بڑھائی۔

“اچانک کیسے خیال آیا تمہیں شاپنگ کا ؟”

اس نے سوال کیا تو علیزے نے اس کی جانب دیکھا۔

“آپ ناراض تھے نہ مجھ سے تو سوچا آپ کے ساتھ ٹائم سپینڈ کروں اور غلط فہمیاں دور کر لوں”

وہ سنجیدگی سے بولی تو زہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ہمم اچھی بات ہے تم نے خود اس بارے میں سوچا”

وہ سنجیدگی سے بولا اس کہ دھیان ڈرائیونگ پر ہی تھا۔

“زہرام میں نے اُس دِن صرف اس لیے آپ کے ساتھ چلنے سے انکار کیا تھا کہ میں بابا سے پہلے ہی کہہ چکی تھی میں ان کے ساتھ جاؤں گی”

علیزے نے پہل کی۔

“لیکن تم نے اس طرح سے منع کیا تھا جیسے تمہیں میری گاڑی میں جاتے خوف آ رہا ہو حالانکہ تم جانتی ہو تمہاری ان حرکتوں پر مجھے کتنا غصّہ آتا ہے”

زہرام نے زرہ سختی سے اسے اس کہ لہجہ یاد کروایا تھا۔

“جانتی ہُوں مگر آپ”

“چھوڑو اس بات کو میں اب ناراض نہیں ہوں”

ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب زہرام نے اس کی بات کاٹ دی۔

“جانتی ہو ناں رخصتی میں دو ماہ رہ گئے ہیں اب”

زہرام نے مسکرا کر اپنے مطلب کی بات کی تو علیزے نے گھبرا کر اسے دیکھا۔

“مم۔۔مطلب کیا ہے آپ کا۔۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں سنا”

وہ پریشان ہوتی بولی کیونکہ وہ ایسا کچھ نہیں جانتی تھی۔

“کل ہی تائی امی نے چاچو سے بات کی ہے انہیں کوئی اعتراض نہیں آج یا کل وہ تم سے تمہاری رائے لیں گے اینڈ ایم شور کے تم کیا کہو گی”

زہرام نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو اب ہونق بنی بیٹھی تھی۔

“مگر آپ جانتے ہیں ناں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔میں اپنا کریر”

“تمہارا کریر میں ہی ہوں میری جان۔۔۔تمہیں خود کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں ہی کافی ہوں تمہارے لیے۔تم مجھے ہی سمبھال لینا یہ بھی بہت بڑا ٹاسک ہے تمہارا”

وہ بے بس صورت لیے اس کی جانب دیکھنے لگی جو اس کی نہیں سن رہا تھا۔

“زہرام مجھے اینکر بننا ہے مجھے بہت شوق ہے آپ جانتے ہیں ناں”

وہ دکھی ہوتی بولی تو زہرام نے گھور کر اسے دیکھا۔

“تمہیں یہ غلط فہمی کیوں کر ہے کہ میری بیوی ہوتے ہوئے تمہارا یہ خواب پورا ہو سکتا ہے۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہتا اسے پریشان کر گیا۔

“زہرام آپ نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا تو اب کیوں بول رہے ہیں اس طرح”

وہ زرہ دکھی ہوتی بولی۔

“مجھے لگا تھا تمہارے دماغ کا فتور ہے خود ختم ہو جائے گا مگر تم شاید سیریس ہو رہی ہو اس لیے اب آگاہ کر دیا کہ ایسا کوئی شوق مت پالو جس کی تکمیل ناں ہو سکے”

وہ روعب سے بولا تو علیزے نے نم انکھوں سے اسے دیکھا۔

“آپ سچ میں مجھے اس فیلڈ میں نہیں جانے دیں گے ؟”

وہ ایک دفعہ پھر اُمیدِ سے پوچھنے لگی۔

“بلکل نہیں۔ میں کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا کہ میری بیوی لاکھوں مردوں کے سامنے سج سنور کر اپنی ذات کی نمائش کرے”

وہ سختی سے بولا تو علیزے نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں پونچھ کر خود کو رونے سے بعض رکھنا چاہا۔

“مجھے گھر چھوڑ دیں مجھے نہیں کرنی شاپنگ۔۔۔۔جب آپ نے اپنی ہی کرنی ہے تو مجھے چھوڑ ہی دیں۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولی۔

زہرام نے اچانک گاڑی سائڈ پر روکتے بریک لگائی تھی۔

“علیزے زہرام ملک لہجہ درست کرو اپنا۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم اس وقت کے سے مخاطب ہو اور کیا بکواس کر رہی ہو چھوڑ دوں تمہیں ہاں ؟۔۔۔”

وہ بھڑکتا ہوا چلایا تو علیزے تھوڑا سمٹی مگر کانفیڈنس ابھی تک قائم تھا۔

“جی بلکل صحیح سنا آپ نے میں کہہ رہی ہوں چھوڑ دیں مجھے۔ اگر میرا خواب ہی چھیننا تھا تو پہلے بتا دیتے”

وہ بھی غم و غصے سی چلائی تو زہرام نے ضبط سے سرخ ہوئی نظروں سے اسے گھورا۔

نظروں میں وارننگ تھی کہ اب خاموش ہو جاؤ۔

“آنکھیں صاف کرو اور زبان کو لگام دو فوراً”

وہ ازلی سخت لہجے میں کہتا گاڑی سٹارٹ کر گیا۔

اس کی سسکیاں گونجتی تھیں مگر زہرام نے اثر نہیں لیا۔

جب گاڑی شاپنگ مال کے سامنے رکی تو زہرام نے اس کی جانب دیکھا جو ابھی تک اسی کیفیت میں تھی۔

“علیزے میری جان ہر بات پر عورتوں کی بحث اچھی نہیں لگتی۔ کبھی تم میری مان لیا کرو کبھی میں تمہاری مان لوں گا اس طرح بحث نہیں ہو گی۔ میں شوہر ہوں تمہارا تمہارے لیے بہتر ہی سوچ رہا ہوں تو بجائے مجھے غلط سمجھنے کے میرے بات کو سمجھو”

میر زہرام زبردستی اس کہ ہاتھ تھام کر محبت سے اسے سمجھا رہا تھا جو اب بھی غمزدہ تھی۔

“میں آپ کی ہر بات مانتی ہوں مگر جب آپ کی باری آتی ہے تو آپ یہی کرتے ہیں”

وہ ناراضگی سے بولی تو زہرام نے مسکراہٹ دبائی۔

“تم بیوی ہو میری اور بیویوں کے پاس شوہر کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا لہٰذا تمہیں ماننی ہی پڑتی ہے۔ جہاں تک بات میری ہے میں تمہاری ساری جائز باتیں مانتا ہوں”

زہرام نے اسے سنجیدگی سے کہا تو اس نے گھور کر اسے دیکھا۔

“بہت برے ہیں آپ”

وہ پھر سے بولی۔

“شکریہ۔۔۔اب آپ باہر باقی بعد میں لڑ لینا”

اس نے مسکرا کر کہا تو علیزے سر ہلاتی باہر نکلی پھر زہرام خود بھی باہر آیا اور اسے اپنے حصار میں لیے اندر کی جانب بڑھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھیروں مٹھائیوں ، فروٹس اور تحائف سمیت میر زریاب ، میر اذلان اور عدیلہ بیگم ان کے دروازے پر موجود تھے۔

وہ تینوں گاڑیوں میں ہی تھے جبکہ ملازم نے دروازے اور دستک دی تھی۔

کچھ ہی دیر بعد سہانا نے جھنجلا کر دروازہ کھولا۔

سامنے تین گاڑیوں اور کافی سارے گارڈز کو دیکھ کر وہ گھبرائی۔

“کون ہیں۔۔آپ لوگ ؟”

وہ گارڈ سے مخاطب تھی جب گارڈ نے ایک گاڑی کا دروازہ کھولا جہاں سے میر اذلان ملک باہر آئے۔

پھر اسی طرح میر زریاب اور عدیلہ بیگم بھی باہر آئے وہ تینوں دروازے تک آئے یوں سہانا نے الجھن سے ان اجنبیوں کو ديکھا۔

“جی آپ کون”

اس نے پھر سے وہی سوال دہرایا۔

عدیلہ بیگم اور اذلان صاحب اس پیاری سی لڑکی کو دیکھ کر یہی سمجھے کے یہی ان کے بیٹے کی پسند ہے۔

اُنہیں بھی یہ خوبصورت سی لڑکی بہت پسند آئی۔

“بیٹا ہمیں آپ سے بیٹھ کر بات کرنی ہے اندر نہیں بلائیں گی ؟”

عدیلہ بیگم رسان سے بولیں تو سہانا کو شرمندگی ہوئی کہ اس نے انہیں اندر آنے کا نہیں کہا تھا۔

وہ حیران بھی تھی کہ یہ لوگ دکھنے میں بہت بڑے گھرانے سے لگ رہے تھے تو وہ ان کے گھر کیوں آئے تھے۔

اس نے شرمندگی سے انہیں اندر آنے کا کہا تو وہ تینوں اندر داخل ہوئے ساتھ ہی ملازم بھی سامان لیے اندر آئے۔

سہانا کو شدید حیرت ہو رہی تھی اتنے تحائف دیکھ کر۔

خیر وہ انہیں لاؤنج میں لائی جو چھوٹا سا تھا مگر زین نے اپنی انکم سے اسے اچھے سے سجایا ضرور تھا۔

اب بھی وہ بیشک چھوٹا مگر نیا اور صاف ستھرا لگ رہا تھا۔

وہ تینوں سوفوں پر بیٹھے تو سہانا دو منٹ کا کہہ کر ساتھ والے ایک کمرے میں داخل ہو گئی۔

وہ کمرے میں گئی تو وہاں نیم اندھیرے میں عینا بیڈ پر گہری نیند سوئی تھی۔

وہ تھک کر ریسٹورنٹ سے آئی تھی تو سو گئی تھی سہانا نے لائٹ جلائی پھر اسے پکارا۔

“کک۔۔کیا ہوا سہانا۔ ؟”

اس کے جھنجھوڑنے پر نورالعین گھبرا کر اٹھی۔

“عینا یار باہر آؤ کچھ لوگ آئے ہیں پتہ نہیں کون ہیں میں تو جانتی بھی نہیں”

وہ آہستہ آواز میں بولی تو عینا نے حیرت سے اسے دیکھا۔

پھر اس کے دماغ میں جھٹ سے کچھ کلک ہوا اسے میر زریاب کی باتیں یاد آئیں۔

تو وہ اسی حلیے میں بس سیاہ چادر اچھے سے اوڑھتی سہانا کے ہمراہ باہر آئی۔

سامنے اس بے مہر شخص کو دیکھ کر وہ کلس کر رہ گئی یعنی جو اس نے کہا تھا کر لیا تھا۔

اسے دیکھ کر عدیلہ بیگم کنفیوز ہوئیں کہ عینا کون ہے۔

وہ دونوں آئیں اور ایک ہی صوفے پر ٹک گئیں۔

“اسلام و علیکم بیٹا”

عدیلہ بیگم نے پیار سے سلام کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر انہیں جواب دیا۔

“آپ لوگ کون ہیں اور ہمارے گھر آنے کا مقصد ؟”

وہ بغیر ایک نظر بھی زریاب کی جانب دیکھے عدیلہ بیگم سے مخاطب تھی حالانکہ زریاب کی محبت بھری نظریں اسی کے وجود پر جمی تھیں۔

اس کے لہجے میں سرد پن تھا جو تقریباً سب نے محسوس کیا تھا۔

“بیٹا ہم زریاب کے والدین ہیں۔۔۔زریاب آپ کو پسند کرتے ہیں اور وہ آپ کے بارے میں ہمیں سب بتا چکے ہیں۔ اس لیے ہم یہاں آئے اور ہمارا مقصد اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے کہ نام کرنا ہے۔ اُمیدِ ہے آپ کو اعتراض نہیں ہو ہے اور اگر ہے تو آپ ہم سے ڈسکس کر سکتی ہیں”

اذلان صاحب نہایت سنجیدگی سے بولے تو عینا نے ایک کاٹ دار نظر زریاب پر ڈالی پھر ان کی طرف متوجہ ہوئی۔

البتہ سہانا اب الجھن سے انہیں دیکھ رہی تھی وہ سمجھ نہیں پائی تھی یہ باتیں۔

“آپ کے بیٹے کو بتا چکی ہیں کہ میں پہلے ہی شادی شدہ ہوں اور میں سوچ بھی نہیں سکتی دوبارہ شادی کے لیے۔ مگر یہ نہیں سمجھ سکے مجھے اب میں آپ لوگوں سے گزارش کرتی ہُوں کے انہیں کہیں میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں”

وہ سنجیدگی سے سخت ترین لہجے میں بولی تو زریاب نے غصّے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔

وہ اسے اس سب سے منع کر چکا تھا مگر وہ ضدی لڑکی وہی سب کر رہی تھی۔

“لیکن بیٹا آپ ابھی بھی کم عمر ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ابھی آپ کے لیے یہ مشکل ہے مگر آپ کیوں اپنی زندگی کو اتنا تنگ کر رہی ہیں۔آپ چاہیں تو اپنی زندگی کو خوشحال طریقے سے جی سکتی ہیں۔ بیشک آپ کا غم بہت ہے مگر آپ کو آگے بڑھنا چائیے۔ میں یہ اس لیے نہیں کہہ رہی کہ میرے بیٹے کا فائدہ ہے یا اس کی خواہش ہے میں بس آپ کا فائدہ چاہتی ہوں۔اگر قسمت آپ کو موقع دے رہی ہے تو آزما لیں ایک مرتبہ یقیناً آپ خوش رہیں گی”

اب کی بار عدیلہ بیگم نے تفصیل سے اس سے بات کی۔

زریاب نے گھور کر اسے دیکھا اور نظروں میں ہی وارننگ دی کہ اب کچھ غلط مت کہے۔

مگر عینا کو تو تپ چڑھ چکی تھی اس کی حرکت پر۔

“ایم سوری آنٹی مگر پلیز میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔ آپ لوگوں کی مہربانی ہو گی کہ آپ a سامان اٹھوائیں اور یہاں سے تشریف لے جائیں۔ اپنے بیٹے کو کہہ دیں میری جان چھوڑ دے یہی بہت بڑھی خوشی ہو گی میری”

وہ جان بوجھ کر بدتمیزی سے بولی۔

سہانا نے اسے كہنی ماری مگر وہ سپاٹ رہی۔

عدیلہ بیگم کچھ کہنے ہی والی تھیں جب میر زریاب اٹھا۔

“ماما چلیں یہاں سے ایم سوری مجھے آپ لوگوں کو یہاں لانا ہی بھی چاہیے تھا۔ جس انسان میں بڑوں سے بات کرنے کی تمیز ہی ناں ہو اس سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں”

وہ ایک غصّے بھری نظر اس پر ڈالتا بولا اور عدیلہ بیگم کا ہاتھ تھامے باہر نکلا۔

اذلان صاحب بھی ان کے ساتھ باہر آئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *