Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima NovelR50621 Bheegi Ankhen Teri (Episode 18)
Rate this Novel
Bheegi Ankhen Teri (Episode 18)
Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima
زریاب کا بس نہیں چل رہا تھا عینا کہ دماغ ٹھکانے پر کس طرح لگائے۔
رات اس نے بہت کوشش کی منانے کی مگر عینا نے نہیں سنی تھی ، ہاں اس نے زبردستی اپنی خواہش ضرور پوری کی تھی۔
عینا اسی وجہ سے اب زیادہ ناراضگی دکھا رہی تھی۔
لیکن زریاب نے آج سوچ لیا تھا اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے ، اور اس کی چڑچڑاہٹ ختم کرنے کی ترکیب پوچھے۔
اس نے یارم کو کہہ دیا تھا کہ آج وہ آفیس نہیں آ پائے گا ، یقیناً عینا کی وجہ سے اس کی بہت سی امپارٹنٹ میٹنگز تباہ ہو رہی تھیں ان دنوں۔
مگر اولاد دونوں کی تھی تو زریاب صبر کرنے پر مجبور تھا۔
وہ ناشتہ کر کے روم میں آیا تو عینا کو سامان پیک کرتے دیکھ اسے حیرت ہوئی۔
یقیناً ان کا کہیں جانے کا پلین تو بنا نہیں تھا جو وہ یوں اپنے سارے کپڑے ایک بیگ میں پھینکتی جا رہی تھی۔
زریاب نے دروازہ بند کیا اور اس کے قریب آیا۔
عینا اس کی موجودگی کا احساس کر کے اب غصے سے مزید کپڑے پٹکخنے لگی۔
“کیا میں جان سکتا ہوں کہ صبح صبح کیا سوار ہوا ہے تمہارے دماغ پر جو یہ سب کر رہی ہو ؟”
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو عینا نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر دوبارہ الماری کی جانب بڑھ گئی۔
جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
“عینا اب بس کر دو.کیوں اتنے دنوں سے مجھے تنگ کر رہی ہو تم یار”
زریاب بے بسی سے بولا۔
“پریشان مت ہوں آئندہ تنگ نہیں کروں گی آپ کو کِیُونکہ میں آج ہی واپس اپنے گھر جا رہی ہوں۔”
اس کے سنجیدگی سے کہا ، زریاب کا دماغ اب صحیح معنوں میں گھوما تھا۔
“فار گاڑ سیک بس کر دو اب ان نخروں کی اور یہ بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری ہاں ؟ تم نے سوچا بھی کیسے میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گا۔”
زریاب سختی سے بولا تو ایسا نے گھور کر اسے دیکھا۔
“آہستہ بولیں۔آپ کے اونچا بولنے سے میں ڈرنے ہرگز نہیں والی ہوں”
عینا نم آنکھیں لیے بولی تو زریاب نے تیزی سے قریب آ کر اسے تھاما تھا اور اسے ساتھ لیے کو صوفے پر آیا۔
عینا کو بٹھا کے وہ اس کے ساتھ بیٹھا جبکہ اس کے ہاتھ بھی سہلانے لگا۔
“کیوں اتنی ضدی بن رہی ہے میری جان۔ تم تو بہت اچھی بیوی ہو ناں زریاب کی۔ میری ساری باتیں مانتی ہو۔”
زریاب نے نرمی کرنا بہتر جانا۔
“بٹ آپ بلکل اچھے نہیں ہیں۔آپ اب پہلے کی طرح مجھ سے محبت نہیں کرتے زریاب۔ اب آپ کے پاس میرے لیے وقت تک نہیں ہوتا۔میری خواہشات بوجھ بن گئی ہیں آپ پر۔اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے میں اب واپس جا رہی ہوں۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ”
عینا بچوں کی طرح اسی سے اس کی شکایتیں کرنے لگی۔
زریاب نے اسے نرمی سے خود سے لگایا ، جبکہ تھوڑا اوپر اٹھا کر اس نے عینا کو اپنی تھائی پر بٹھا لیا۔
عینا بھی اس کی گردن میں بازو ڈالتی ، اس کی سینے میں چہرہ چھپا کر آنسو بہانے لگی۔
“عینا میری محبت کبھی کم بھی ہو سکتی تمہارے لیے اور ناں ہی تمہاری خواہشات بوجھ ہیں میں پر میری جان تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو۔ جہاں تک بات وقت دینے کی ہے تو میری کوشش ہوتی ہے جلدی گھر آؤں اکثر آتا بھی ہوں تو تم بلاوجہ لڑنے لگتی ہو تو کیا کروں غُصہ آ جاتا ہے مجھے۔لیکن آئندہ اپنی جان کو بالکل کچھ نہیں کہوں گا اب بس رونا بند کرو”
اس نے نرمی سے سمجھایا تو عینا نے سر اٹھا اور اسے دیکھا۔
دونوں کہ چہرے از حد قریب تھے ، زریاب کا دل کیا اسے خود میں سمو لے مگر ابھی وہ اس کی بات سننا چاہتا تھا۔
“لیکن اب میں فیصلہ کر چکی ہیں سو آپ بھی مجھے جانے اسے نہیں روک رہے۔”
اس نے بچکانہ انداز میں کہا تو زریاب نے مسکراہٹ دبائی۔
“ایسے ہی جانے دوں گا ؟ پاگل تھوڑی ہوں میں کہ اپنی سانسوں کو خود سے دور کر دوں”
اس نے محبت سے عینا کے بال سمیٹ کر کہا ، پھر قریب ہو کے اس کی پیشانی پر محبت کو مہر ثبت کی۔
“میں ناراض ہُوں آپ سے پکے والی”
اس نے خفگی سے کہا تو زریاب نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا۔
“اس دفعہ معاف کر دو اگلی دفعہ نہیں کچھ کہوں گا اور بہت خیال بھی رکھوں گا۔”
زریاب نے ریکویسٹ کی تو عینا نے گال پر انگلی رکھی ، اور سوچنے کی ادا کاری کرنے لگی۔
وہ اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ زریاب نے اچانک ہی اس کی گال سے انگلی ہٹائی اور وہاں لب رکھے ، پھر اس کی انگلی کو ہونٹوں سے لگا کر وہاں بھی پیار کیا۔
عینا شرما گئی تو زریاب مسکرا دیا۔
“اب کہاں جانا ہے میری بیوی کو ؟ شاپنگ پر ، لنچ کرنے یا ڈاکٹر کے پاس ؟”
زریاب نے آخری آپشن شرارت سے دیا ، مگر عینا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“بیوی کو منانے کی خاطر ڈاکٹر کے پاس کون لے کے جاتا ہے مسٹر زریاب ؟”
اس نے ناراضگی سے کہا تو زریاب مسکرایا۔
“اگر چھوٹی سی، نازک سی بیوی شوہر کو اتنا خوبصورت تحفہ دے تو ڈاکٹر کے پاس بھی جانا پڑتا ہے ناں”
زریاب نے پیار سے اسے دیکھتے کہا جس نے اس کی بات پر برا سا منہ بنایا۔
“جی نہیں۔مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا مجھے شاپنگ پر جانا ہے آپ کے ساتھ”
اس نے آپشن سیلیکٹ کیا۔
“مگر جانا لازمی ہے کیونکہ تم آج کل بہت رو دھو رہی ہو سو آئی تھنک چیک اپ ضروری ہے۔ بات رہی شاپنگ کی تو وہ ڈیلیوری کے بعد چلیں گے ابھی تمہاری طبیعت بھی خراب ہو سکتی ہے زیادہ چلنے سے۔تو پہلے ہم دونوں ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تمہارا چیک آپ کروا کر اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں گے ڈیٹس اٹ”
زریاب نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے خفگی سے اسے دیکھا۔
“جب لے ہی نہیں جانا تھا تو آپشن کیوں دیا ؟”
اس نے غصے سے پوچھا تو زریاب مسکرایا۔
“مجھے تھوڑی پتہ تھا تم یہی سیلیکٹ کرو گی۔میں تو بس زیادہ محبت جھاڑ رہا تھا۔”
اس نے کہا تو عینا بھی دھیما سا مسکرائی۔
“صدقے جاؤں پورے تین دن بعد مسکرائی ہے میری جان”
اس نے خوشگوار لہجے میں کہا تو عینا کو خوشی ہوئی ، مطلب وہ بہت نوٹ کرتا تھا اسے۔
“اب تیار ہو جاؤ پھر چلیں۔ویسے کچھ موٹی سی نہیں ہو رہی تم ؟”
زریاب نے جان بوجھ کر سنجیدگی سے کہا تھا حالانکہ وہ ابھی بلکل موٹی نہیں ہوئی تھی۔
اس کی بات پر عینا نے فوراً ایک نظر خود پر ڈالی پھر وہ تیزی سے اٹھتی ڈریسنگ تک گئی تھی۔
اس کی جلد بازی پر زریاب کو غُصہ آیا تھا مگر خاموش رہا اور اس کہ تاثرات دیکھنے لگا۔
وہ اب اگے پیچھے ، ہے طرح سے گھوم گھوم کر خود کو مرر میں دیکھ رہی تھی ، جبکہ زریاب مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
“کہاں سے موٹی لگ رہی ہوں میں آپ کو زریاب ؟”
اس میں غصے سے پوچھا تو زریاب نے سنجیدہ ہو کر اسے دیکھا۔
“مجھے تو موٹی ہی لگ رہی ہو۔ دیکھو تو صحیح خود کو”
اس نے پھر سے سنجیدگی سے کہا تو عینا اب کی بار رونے والی ہوئی تھی۔
“زریاب اگر تو آپ مذاق کے رہے ہیں تو بہت برا مذاق ہے یہ تو پلیز نہیں کریں۔”
عینا نے سختی سے کہا تو زریاب اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے پیٹ پر دونوں ہاتھ باندھتا تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا گیا۔
دونوں اب آئینے میں اپنے عکس دیکھ رہے تھے۔
“ابھی ہوئی تو نہیں ہو لیکن میں ٹیسٹ کر رہا تھا کہ آگے جا کر ہو جاؤ گی تو کا طرح رئیکٹ کرو گی پھر۔”
زریاب نے شرارت سے کہا تو عینا نے منہ بسورا۔
“مجھے نہیں ہونا موٹا”
اس نے منہ بنا کر بلکل بچوں کی طرح کہا تو زریاب نے قہقہہ لگایا۔
“لیکن ہونا تو ہے ہی ناں بیشک تم چاہو یا نہیں۔”
زریاب نے اب کی بار اسے سمجھایا تھا۔
“لیکن پھر میں کیسے باہر جاؤں گی زریاب۔اگر میں زیادہ موٹی ہو گئی تو میں بتا رہی ہوں آپ کو میں نے روم سے باہر نہیں جانا پھر”
اس نے پریشانی سے کہا تو زریاب نے حصار مزید سخت کیا۔
“بیوقوف لڑکی روم میں کیسے رہو گی اتنا عرصہ اور ویسے بھی میں ہوں گا ناں تمہارے ساتھ تو تمہیں ٹھیک کر ہی لوں گا”
اس نے محبت سے کہا پھر عینا کی گردن پر بیئرڈ سہلا کر پیچھے ہوا تو عینا نے گھور کر اسے دیکھا۔
“بہت برے ہیں آپ”
وہ گردن ہاتھ سے سہلاتی ہوئی بولی تو زریاب نے سر کو خم دیتے داد وصول کی۔
“چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ”
اس نے کہا تو عینا بھی بیڈ کی طرف آئی اس نے کپڑے سمیٹنے شروع کیے تو زریاب نے فوراً سے اسے پکڑ کر بٹھایا تھا۔
“یہ میں کی ملازمہ سے کروا لوں گا تم کیوں اپنی جان ہلکان کر رہی ہو عینا”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر زریاب باہر چلا گیا جبکہ عینا تیار ہونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم مجھ سے دوستی کر سکتی ہو کیا ؟”
فائق اس کی جانب دیکھتا بولا تو میرال جو تیزی سے ہل ہل کر ڈیفینیشن رٹ رہی تھی جھٹکے سے رکی۔
“جی نہیں میں آپ سے دوستی نہیں کروں گی کیونکہ میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی”
اس نے جھٹ سے فائق کی پیش کش رد کی تھی۔
مگر فائق مسکرا دیا۔
“کیوں نہیں کرتی دوستی لڑکوں سے ؟”
اس نے مسکرا کر پوچھا وہ کوشش کر رہا تھا کہ میرال کو کسی طرح خود سے مانوس کرے۔
“کِیُونکہ لڑکے برے ہوتے ہیں اور ویسے بھی میرے بھائی میرے دوست ہی ہیں سو مجھے اور دوستوں کی ضرورت نہیں”
اس نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا تو فائق کا موڈ خراب ہوا مگر وہ پھر بھی ضبط کرتا مسکرایا۔
“لیکن مجھے دوستی کرنی ہے تم سے۔جانتی ہو مجھ سے دوستی کرو گی تو ہم دونوں بہت انجوئے کریں گے”
اس نے گھٹیا پن سے کہا تو میرال بھی بک رکھتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“کیسی انجوئے کریں گے ہم ؟”
اس نے خوشی سے پوچھا تو فائق رضا کے ہونٹ مزید پھیل گئے۔
“بس وہ تو دوستی کے بعد پتہ چلے گا ناں”
اس نے پیار سے کہا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے میں دوست ہوں آپ کی اب بتائیں کیا کریں گے ہم ؟”
اس نے جلدی سے کہا تو فائق خوشی سے اس کے قریب آ بیٹھا۔
اب وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے مگر میرال نے دھیان اس طرف نہیں دیا تھا۔
آج زہرام اور صائمہ بیگم زریاب کی طرف گئے ہوئے تھے ، سہانا کے مقصد سے۔
جبکہ گھر میں بس علیزے ہی تھی ، ہادی بھی ابھی تو گھر نہیں آیا تھا۔
علیزے کی طبیعت بہتر نہیں تھی ، اسے کل سے بہت فیور تھا تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔
ہاں مگر بہت سے ملازمین ضرور موجود تھے یہاں۔
“تم نے کبھی کس کیا ہے کسی لڑکے کو”
وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کر بہت چاہت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا۔
میرال نے جھٹکے سے ہاتھ اس سے چھڑوایا تھا۔
“یہ کیا عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ؟ “
اس نے ذرا غصے سے کہا تو وہ مسکرایا۔
“میں چاہتا ہوں تم مجھے کس کرو وہ بھی ادھر “
وہ اپنے ہونٹوں کی جانب اشارہ کرتا خباثت سے بولا تھا۔
میرال نے غصے سے اسے دیکھا ، وہ معصوم ضرور تھی مگر پاگل نہیں تھی ، اتنی سمجھ بوجھ رکھتی تھی کہغیر مرد کو کس نہیں کرتے۔
“یہ کیا بکواس ہے ہاں۔ میں ابھی بھائی کو کال کر کے بتاتی ہُوں کہ آپ مجھ سے گندی باتیں کر رہے ہیں”
اس نے کہتے ساتھ ہی اپنا سیل اٹھا کر زہرام کا نمبر ملانا چاہا تھا۔
جب اچانک فائق نے اس کا سیل خیچ کر صوفے اور پھینکا اور اس کے ہاتھ جکڑ گیا۔
“اگر ہماری کوئی بھی بات تم نے کسی کو بتائی تو تم سوچ بھی نہیں سکتی کیا کروں گا میں تمہارے ساتھ۔ سو بی کیئر فل”
اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو میرال خوفزدہ ہوئی۔
“آپ بدتمیزی کر رہے ہیں میرے ساتھ تو میں سب کو بتاؤں گی۔ جو کرنا ہے کر لیں آپ”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو فائق نے مزید سختی سے اس کی کلائی جکڑی۔
“زبان بند رکھو اپنی یہی بہتر ہے تمہارے لیے۔ یاد رکھیں میرال ملک اگر تم نے یہ زبان کسی کے سامنے کھولی تو کہیں کا نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں”
اس نے غصے سے کہا تو میرال سچ میں سہم گئی تھی۔
اسے فکر لاحق ہوئی کہ اگر اس نے اسے نقصان پہنچا دیا یا کسی کو کچھ غلط بتا دیا تو سب اسے غلط نہ سمجھیں۔
ہاں آج پھیر ایک بنت ہوا نے ابنِ آدم سے ڈر کر خاموشی دھار لی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی یہی خاموشی آگے جا کر اسے کہاں لے جائے گی۔
“گڈ بائے اب کل ملیں گے اور ہاں کل تم بلیک ڈریس پہننا ورنہ۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
میرال کچھ دیر ساکت بیٹھی رہی تھی ، اسے سمجھ نہیں آیا روئے یا اللہ سے مدد مانگے۔
وہ آہستہ سے اٹھی اور اوپر آئی دل کر رہا تھا کمرے میں جا کر روئے ، جی بھر کر روئے۔
وہ کہاں آ کر پھنسی تھی ، وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اس کے کا گناہ کی سزا ہے یہ ، یا آزمائش ہے اس کے لیے۔
وہ آنکھیں صاف کرتی آہستہ سے دستک دے کر علیزے کے روم میں آئی۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر لیٹی تھی ، جبکہ آنکھیں بند تھیں ، قدموں کی چاپ پر اس نے آنکھیں کھولیں۔
سامنے میرال کو دیکھ کر وہ دھیما سا مسکرائی ، ميرال چاہ کر بھی بھی مسکرا اسکی۔
اس نے علیزے سے چند باتیں کی ، اس کی طبیعت کا دریافت کیا پھر وہ سر میں درد کا کہتی کمرے میں آگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
Don’t Copypaste Without My Permission !
زریاب کا بس نہیں چل رہا تھا عینا کہ دماغ ٹھکانے پر کس طرح لگائے۔
رات اس نے بہت کوشش کی منانے کی مگر عینا نے نہیں سنی تھی ، ہاں اس نے زبردستی اپنی خواہش ضرور پوری کی تھی۔
عینا اسی وجہ سے اب زیادہ ناراضگی دکھا رہی تھی۔
لیکن زریاب نے آج سوچ لیا تھا اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے ، اور اس کی چڑچڑاہٹ ختم کرنے کی ترکیب پوچھے۔
اس نے یارم کو کہہ دیا تھا کہ آج وہ آفیس نہیں آ پائے گا ، یقیناً عینا کی وجہ سے اس کی بہت سی امپارٹنٹ میٹنگز تباہ ہو رہی تھیں ان دنوں۔
مگر اولاد دونوں کی تھی تو زریاب صبر کرنے پر مجبور تھا۔
وہ ناشتہ کر کے روم میں آیا تو عینا کو سامان پیک کرتے دیکھ اسے حیرت ہوئی۔
یقیناً ان کا کہیں جانے کا پلین تو بنا نہیں تھا جو وہ یوں اپنے سارے کپڑے ایک بیگ میں پھینکتی جا رہی تھی۔
زریاب نے دروازہ بند کیا اور اس کے قریب آیا۔
عینا اس کی موجودگی کا احساس کر کے اب غصے سے مزید کپڑے پٹکخنے لگی۔
“کیا میں جان سکتا ہوں کہ صبح صبح کیا سوار ہوا ہے تمہارے دماغ پر جو یہ سب کر رہی ہو ؟”
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو عینا نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر دوبارہ الماری کی جانب بڑھ گئی۔
جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
“عینا اب بس کر دو.کیوں اتنے دنوں سے مجھے تنگ کر رہی ہو تم یار”
زریاب بے بسی سے بولا۔
“پریشان مت ہوں آئندہ تنگ نہیں کروں گی آپ کو کِیُونکہ میں آج ہی واپس اپنے گھر جا رہی ہوں۔”
اس کے سنجیدگی سے کہا ، زریاب کا دماغ اب صحیح معنوں میں گھوما تھا۔
“فار گاڑ سیک بس کر دو اب ان نخروں کی اور یہ بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری ہاں ؟ تم نے سوچا بھی کیسے میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گا۔”
زریاب سختی سے بولا تو ایسا نے گھور کر اسے دیکھا۔
“آہستہ بولیں۔آپ کے اونچا بولنے سے میں ڈرنے ہرگز نہیں والی ہوں”
عینا نم آنکھیں لیے بولی تو زریاب نے تیزی سے قریب آ کر اسے تھاما تھا اور اسے ساتھ لیے کو صوفے پر آیا۔
عینا کو بٹھا کے وہ اس کے ساتھ بیٹھا جبکہ اس کے ہاتھ بھی سہلانے لگا۔
“کیوں اتنی ضدی بن رہی ہے میری جان۔ تم تو بہت اچھی بیوی ہو ناں زریاب کی۔ میری ساری باتیں مانتی ہو۔”
زریاب نے نرمی کرنا بہتر جانا۔
“بٹ آپ بلکل اچھے نہیں ہیں۔آپ اب پہلے کی طرح مجھ سے محبت نہیں کرتے زریاب۔ اب آپ کے پاس میرے لیے وقت تک نہیں ہوتا۔میری خواہشات بوجھ بن گئی ہیں آپ پر۔اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے میں اب واپس جا رہی ہوں۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ”
عینا بچوں کی طرح اسی سے اس کی شکایتیں کرنے لگی۔
زریاب نے اسے نرمی سے خود سے لگایا ، جبکہ تھوڑا اوپر اٹھا کر اس نے عینا کو اپنی تھائی پر بٹھا لیا۔
عینا بھی اس کی گردن میں بازو ڈالتی ، اس کی سینے میں چہرہ چھپا کر آنسو بہانے لگی۔
“عینا میری محبت کبھی کم بھی ہو سکتی تمہارے لیے اور ناں ہی تمہاری خواہشات بوجھ ہیں میں پر میری جان تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو۔ جہاں تک بات وقت دینے کی ہے تو میری کوشش ہوتی ہے جلدی گھر آؤں اکثر آتا بھی ہوں تو تم بلاوجہ لڑنے لگتی ہو تو کیا کروں غُصہ آ جاتا ہے مجھے۔لیکن آئندہ اپنی جان کو بالکل کچھ نہیں کہوں گا اب بس رونا بند کرو”
اس نے نرمی سے سمجھایا تو عینا نے سر اٹھا اور اسے دیکھا۔
دونوں کہ چہرے از حد قریب تھے ، زریاب کا دل کیا اسے خود میں سمو لے مگر ابھی وہ اس کی بات سننا چاہتا تھا۔
“لیکن اب میں فیصلہ کر چکی ہیں سو آپ بھی مجھے جانے اسے نہیں روک رہے۔”
اس نے بچکانہ انداز میں کہا تو زریاب نے مسکراہٹ دبائی۔
“ایسے ہی جانے دوں گا ؟ پاگل تھوڑی ہوں میں کہ اپنی سانسوں کو خود سے دور کر دوں”
اس نے محبت سے عینا کے بال سمیٹ کر کہا ، پھر قریب ہو کے اس کی پیشانی پر محبت کو مہر ثبت کی۔
“میں ناراض ہُوں آپ سے پکے والی”
اس نے خفگی سے کہا تو زریاب نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا۔
“اس دفعہ معاف کر دو اگلی دفعہ نہیں کچھ کہوں گا اور بہت خیال بھی رکھوں گا۔”
زریاب نے ریکویسٹ کی تو عینا نے گال پر انگلی رکھی ، اور سوچنے کی ادا کاری کرنے لگی۔
وہ اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ زریاب نے اچانک ہی اس کی گال سے انگلی ہٹائی اور وہاں لب رکھے ، پھر اس کی انگلی کو ہونٹوں سے لگا کر وہاں بھی پیار کیا۔
عینا شرما گئی تو زریاب مسکرا دیا۔
“اب کہاں جانا ہے میری بیوی کو ؟ شاپنگ پر ، لنچ کرنے یا ڈاکٹر کے پاس ؟”
زریاب نے آخری آپشن شرارت سے دیا ، مگر عینا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“بیوی کو منانے کی خاطر ڈاکٹر کے پاس کون لے کے جاتا ہے مسٹر زریاب ؟”
اس نے ناراضگی سے کہا تو زریاب مسکرایا۔
“اگر چھوٹی سی، نازک سی بیوی شوہر کو اتنا خوبصورت تحفہ دے تو ڈاکٹر کے پاس بھی جانا پڑتا ہے ناں”
زریاب نے پیار سے اسے دیکھتے کہا جس نے اس کی بات پر برا سا منہ بنایا۔
“جی نہیں۔مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا مجھے شاپنگ پر جانا ہے آپ کے ساتھ”
اس نے آپشن سیلیکٹ کیا۔
“مگر جانا لازمی ہے کیونکہ تم آج کل بہت رو دھو رہی ہو سو آئی تھنک چیک اپ ضروری ہے۔ بات رہی شاپنگ کی تو وہ ڈیلیوری کے بعد چلیں گے ابھی تمہاری طبیعت بھی خراب ہو سکتی ہے زیادہ چلنے سے۔تو پہلے ہم دونوں ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تمہارا چیک آپ کروا کر اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں گے ڈیٹس اٹ”
زریاب نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے خفگی سے اسے دیکھا۔
“جب لے ہی نہیں جانا تھا تو آپشن کیوں دیا ؟”
اس نے غصے سے پوچھا تو زریاب مسکرایا۔
“مجھے تھوڑی پتہ تھا تم یہی سیلیکٹ کرو گی۔میں تو بس زیادہ محبت جھاڑ رہا تھا۔”
اس نے کہا تو عینا بھی دھیما سا مسکرائی۔
“صدقے جاؤں پورے تین دن بعد مسکرائی ہے میری جان”
اس نے خوشگوار لہجے میں کہا تو عینا کو خوشی ہوئی ، مطلب وہ بہت نوٹ کرتا تھا اسے۔
“اب تیار ہو جاؤ پھر چلیں۔ویسے کچھ موٹی سی نہیں ہو رہی تم ؟”
زریاب نے جان بوجھ کر سنجیدگی سے کہا تھا حالانکہ وہ ابھی بلکل موٹی نہیں ہوئی تھی۔
اس کی بات پر عینا نے فوراً ایک نظر خود پر ڈالی پھر وہ تیزی سے اٹھتی ڈریسنگ تک گئی تھی۔
اس کی جلد بازی پر زریاب کو غُصہ آیا تھا مگر خاموش رہا اور اس کہ تاثرات دیکھنے لگا۔
وہ اب اگے پیچھے ، ہے طرح سے گھوم گھوم کر خود کو مرر میں دیکھ رہی تھی ، جبکہ زریاب مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
“کہاں سے موٹی لگ رہی ہوں میں آپ کو زریاب ؟”
اس میں غصے سے پوچھا تو زریاب نے سنجیدہ ہو کر اسے دیکھا۔
“مجھے تو موٹی ہی لگ رہی ہو۔ دیکھو تو صحیح خود کو”
اس نے پھر سے سنجیدگی سے کہا تو عینا اب کی بار رونے والی ہوئی تھی۔
“زریاب اگر تو آپ مذاق کے رہے ہیں تو بہت برا مذاق ہے یہ تو پلیز نہیں کریں۔”
عینا نے سختی سے کہا تو زریاب اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے پیٹ پر دونوں ہاتھ باندھتا تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا گیا۔
دونوں اب آئینے میں اپنے عکس دیکھ رہے تھے۔
“ابھی ہوئی تو نہیں ہو لیکن میں ٹیسٹ کر رہا تھا کہ آگے جا کر ہو جاؤ گی تو کا طرح رئیکٹ کرو گی پھر۔”
زریاب نے شرارت سے کہا تو عینا نے منہ بسورا۔
“مجھے نہیں ہونا موٹا”
اس نے منہ بنا کر بلکل بچوں کی طرح کہا تو زریاب نے قہقہہ لگایا۔
“لیکن ہونا تو ہے ہی ناں بیشک تم چاہو یا نہیں۔”
زریاب نے اب کی بار اسے سمجھایا تھا۔
“لیکن پھر میں کیسے باہر جاؤں گی زریاب۔اگر میں زیادہ موٹی ہو گئی تو میں بتا رہی ہوں آپ کو میں نے روم سے باہر نہیں جانا پھر”
اس نے پریشانی سے کہا تو زریاب نے حصار مزید سخت کیا۔
“بیوقوف لڑکی روم میں کیسے رہو گی اتنا عرصہ اور ویسے بھی میں ہوں گا ناں تمہارے ساتھ تو تمہیں ٹھیک کر ہی لوں گا”
اس نے محبت سے کہا پھر عینا کی گردن پر بیئرڈ سہلا کر پیچھے ہوا تو عینا نے گھور کر اسے دیکھا۔
“بہت برے ہیں آپ”
وہ گردن ہاتھ سے سہلاتی ہوئی بولی تو زریاب نے سر کو خم دیتے داد وصول کی۔
“چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ”
اس نے کہا تو عینا بھی بیڈ کی طرف آئی اس نے کپڑے سمیٹنے شروع کیے تو زریاب نے فوراً سے اسے پکڑ کر بٹھایا تھا۔
“یہ میں کی ملازمہ سے کروا لوں گا تم کیوں اپنی جان ہلکان کر رہی ہو عینا”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو عینا نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر زریاب باہر چلا گیا جبکہ عینا تیار ہونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم مجھ سے دوستی کر سکتی ہو کیا ؟”
فائق اس کی جانب دیکھتا بولا تو میرال جو تیزی سے ہل ہل کر ڈیفینیشن رٹ رہی تھی جھٹکے سے رکی۔
“جی نہیں میں آپ سے دوستی نہیں کروں گی کیونکہ میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی”
اس نے جھٹ سے فائق کی پیش کش رد کی تھی۔
مگر فائق مسکرا دیا۔
“کیوں نہیں کرتی دوستی لڑکوں سے ؟”
اس نے مسکرا کر پوچھا وہ کوشش کر رہا تھا کہ میرال کو کسی طرح خود سے مانوس کرے۔
“کِیُونکہ لڑکے برے ہوتے ہیں اور ویسے بھی میرے بھائی میرے دوست ہی ہیں سو مجھے اور دوستوں کی ضرورت نہیں”
اس نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا تو فائق کا موڈ خراب ہوا مگر وہ پھر بھی ضبط کرتا مسکرایا۔
“لیکن مجھے دوستی کرنی ہے تم سے۔جانتی ہو مجھ سے دوستی کرو گی تو ہم دونوں بہت انجوئے کریں گے”
اس نے گھٹیا پن سے کہا تو میرال بھی بک رکھتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“کیسی انجوئے کریں گے ہم ؟”
اس نے خوشی سے پوچھا تو فائق رضا کے ہونٹ مزید پھیل گئے۔
“بس وہ تو دوستی کے بعد پتہ چلے گا ناں”
اس نے پیار سے کہا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے میں دوست ہوں آپ کی اب بتائیں کیا کریں گے ہم ؟”
اس نے جلدی سے کہا تو فائق خوشی سے اس کے قریب آ بیٹھا۔
اب وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے مگر میرال نے دھیان اس طرف نہیں دیا تھا۔
آج زہرام اور صائمہ بیگم زریاب کی طرف گئے ہوئے تھے ، سہانا کے مقصد سے۔
جبکہ گھر میں بس علیزے ہی تھی ، ہادی بھی ابھی تو گھر نہیں آیا تھا۔
علیزے کی طبیعت بہتر نہیں تھی ، اسے کل سے بہت فیور تھا تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔
ہاں مگر بہت سے ملازمین ضرور موجود تھے یہاں۔
“تم نے کبھی کس کیا ہے کسی لڑکے کو”
وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کر بہت چاہت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا۔
میرال نے جھٹکے سے ہاتھ اس سے چھڑوایا تھا۔
“یہ کیا عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ؟ “
اس نے ذرا غصے سے کہا تو وہ مسکرایا۔
“میں چاہتا ہوں تم مجھے کس کرو وہ بھی ادھر “
وہ اپنے ہونٹوں کی جانب اشارہ کرتا خباثت سے بولا تھا۔
میرال نے غصے سے اسے دیکھا ، وہ معصوم ضرور تھی مگر پاگل نہیں تھی ، اتنی سمجھ بوجھ رکھتی تھی کہغیر مرد کو کس نہیں کرتے۔
“یہ کیا بکواس ہے ہاں۔ میں ابھی بھائی کو کال کر کے بتاتی ہُوں کہ آپ مجھ سے گندی باتیں کر رہے ہیں”
اس نے کہتے ساتھ ہی اپنا سیل اٹھا کر زہرام کا نمبر ملانا چاہا تھا۔
جب اچانک فائق نے اس کا سیل خیچ کر صوفے اور پھینکا اور اس کے ہاتھ جکڑ گیا۔
“اگر ہماری کوئی بھی بات تم نے کسی کو بتائی تو تم سوچ بھی نہیں سکتی کیا کروں گا میں تمہارے ساتھ۔ سو بی کیئر فل”
اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو میرال خوفزدہ ہوئی۔
“آپ بدتمیزی کر رہے ہیں میرے ساتھ تو میں سب کو بتاؤں گی۔ جو کرنا ہے کر لیں آپ”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو فائق نے مزید سختی سے اس کی کلائی جکڑی۔
“زبان بند رکھو اپنی یہی بہتر ہے تمہارے لیے۔ یاد رکھیں میرال ملک اگر تم نے یہ زبان کسی کے سامنے کھولی تو کہیں کا نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں”
اس نے غصے سے کہا تو میرال سچ میں سہم گئی تھی۔
اسے فکر لاحق ہوئی کہ اگر اس نے اسے نقصان پہنچا دیا یا کسی کو کچھ غلط بتا دیا تو سب اسے غلط نہ سمجھیں۔
ہاں آج پھیر ایک بنت ہوا نے ابنِ آدم سے ڈر کر خاموشی دھار لی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی یہی خاموشی آگے جا کر اسے کہاں لے جائے گی۔
“گڈ بائے اب کل ملیں گے اور ہاں کل تم بلیک ڈریس پہننا ورنہ۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
میرال کچھ دیر ساکت بیٹھی رہی تھی ، اسے سمجھ نہیں آیا روئے یا اللہ سے مدد مانگے۔
وہ آہستہ سے اٹھی اور اوپر آئی دل کر رہا تھا کمرے میں جا کر روئے ، جی بھر کر روئے۔
وہ کہاں آ کر پھنسی تھی ، وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اس کے کا گناہ کی سزا ہے یہ ، یا آزمائش ہے اس کے لیے۔
وہ آنکھیں صاف کرتی آہستہ سے دستک دے کر علیزے کے روم میں آئی۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر لیٹی تھی ، جبکہ آنکھیں بند تھیں ، قدموں کی چاپ پر اس نے آنکھیں کھولیں۔
سامنے میرال کو دیکھ کر وہ دھیما سا مسکرائی ، ميرال چاہ کر بھی بھی مسکرا اسکی۔
اس نے علیزے سے چند باتیں کی ، اس کی طبیعت کا دریافت کیا پھر وہ سر میں درد کا کہتی کمرے میں آگئی تھی۔
