Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima NovelR50621 Bheegi Ankhen Teri (Episode 15)
Rate this Novel
Bheegi Ankhen Teri (Episode 15)
Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima
علیزے کے ساتھ میرال نے کافی وقت بتایا تھا آج۔
ابھی بھی وہ اس کے روم میں موجود تھی ، وہ دونوں بیڈ پر بیٹھیں تھیں ، میرال اسے اپنے سیل میں موجود اس کی شادی کی پکس دکھا رہی تھی۔
تب ہی آہستہ سے دروازہ کھول کر میر زہرام ملک اندر داخل ہوا۔
اس کی نظر بیڈ کی طرف اٹھی تو علیزے کو دیکھ کر اس نے نظریں اس سے پھیر لیں جبکہ میرال کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
“آپ آ گئے بھائی”
وہ اٹھ کر اس تک آئی اور اس کے سینے سے لگتی محبت سے بولی۔
جبکہ علیزے اب اٹھ کر سیدھی ہو بیٹھی تھی ، نظریں اس کی سیل پر جمی تھیں۔
“جی۔۔۔آج میری گڑیا ادھر موجود ہے بھئی۔ وجہ جان سکتا ہوں ؟”
وہ اس کی پیشانی پر پیار کرتا محبت سے لبریز لہجے میں بولا تو میرال مسکرائی۔
“آپ بزی تھے تو میں نے سوچا آپی کو ٹائم دیتی ہوں یہ سیڈ نہیں ہوں”
وہ بچوں کے انداز میں بولی تو زہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہممم لیکن تمہیں صبح کالج جانا ہے تو زیادہ جاگنا ٹھیک نہیں ، جاؤ اب شاباش جا کر سو جاؤ”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا اور علیزے سے پیار لیتی ، سیل اٹھا کے باہر چلی گئی۔
زہرام نے علیزے کو دیکھا جو اب لیٹ کر کمبل خود پر اوڑھ چکی تھی۔
“اٹھو اور مجھے کپڑے نکال دو میں فریش ہونے جا رہا ہوں”
وہ جان بوجھ کر اس سے مخاطب ہوا تھا۔
علیزے نے ایک نظر اسے دیکھا ، وہ سمجھ گئی کہ زہرام جان بوجھ کر بات بڑھانا چاہ رہا ہے۔
“جی میں نکال دیتی ہوں آپ جائیں واشروم”
وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
زہرام کو اس کے آسانی سے مان جانے پر غُصہ آیا اس نے کورٹ اُتار کر بیڈ صوفے پر اچھالا۔
علیزے جو وارڈروب کے پاس آ رہی تھی زہرام نے کھینچ کے اسے بیڈ پر پھینکا تھا۔
وہ خود اس کے اوپر جھکا تو علیزے نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“اب کیا ہوا مسٹر زہرام ملک ؟”
اس نے ادا سے مسکرا کر پوچھا تو زہرام کے تن بدن میں آگ لگی۔
“یہ موڈ بنانے کی وجہ جان سکتا ہوں محترمہ ؟”
اس نے غصے سے سوال کیا تو علیزے نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔
“موڈ میں نے نہیں آپ نے خود بنا رکھا ہے صبح سے۔۔۔اور ویسے بھی ابھی بھی آفیس ہی رہ جاتے میں کون سا کہیں جا رہی ہوں میں تو ادھر ہی ہوں ناں اب”
اس کے غصے سے زہرام کی صبح والی بات پر چوٹ کی تو زہرام نے مسکراہٹ دبائی۔
“بہت برے ہیں آپ زہرام۔ سارا دن مجھے تڑپایا ہے آپ نے آج۔۔۔میرا دل کر رہا تھا بھائی کو بلا کر گھر چلی جاؤں ان کے ساتھ”
اس نے ناراضگی سے کہا ، زہرام کو اس کی آخری بات پسند نہیں آئی تھی۔
“تمہارا گھر اب یہی ہے علیزے زہرام شاہ تو آئندہ بے شک جو بھی ہو تم ناراضگی میں یا غصے میں کہیں اور جانے کا سوچو گی بھی نہیں”
زہرام نے سختی سے کہا تو اس نے خفگی سے چہرہ پھیر لیا۔
“خود جو مرضی کریں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور مجھے کچھ کرنے کا بھی حق نہیں ؟ آخر کیوں زہرام”
وہ جذباتی ہوتی چلائی تو زہرام نے نا گواری سے اسے دیکھا۔
اس نے جھک کر علیزے کی سفید ، چمکتی گردن پر شدت سے کاٹا اور پھر اسی جگہ اپنی بیرڈ رگڑ کر اس کے چہرہ اس کی گردن سے باہر نکالا۔
اس کی اس قادر ظلمانہ حرکت پر علیزے کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے جو اس نے فوراً دونوں ہاتھوں سے صاف کیے۔
“آہستہ بولا کرو۔ مجھے عورت کی آواز اونچی نہیں پسند”
وہ غصے سے بولا تو علیزے نے اسے دھکا دیا تھا ، وہ اسے ایک طرف کر کے پیچھے ہونا چاھتی تھی۔
مگر زہرام نے سچ کہا تھا وہ جتنا بھی خود کو طاقت ور کہہ لے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
زہرام کو اثر تک نہیں پڑا تھا اس کی مزاحمت سے۔
“مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ زہرام ؟ کیوں کر رہے ہیں اس طرح میرے ساتھ۔صبح سے مسلسل مجھے تکلیف پہنچا رہے ہیں آپ”
وہ آنسوؤں بھری نظروں سے اسے دیکھتی بولی۔
“علیزے مجھے بس تمہاری زبان سے مسلہ ہے جو ضرورت سے زیادہ چلتی ہے۔۔۔اسے لگام دو اور میرے سامنے مزاحمت مت کی کرو یہ چیز مجھے ضبط کھونے پر مجبور کر دیتی ہے”
وہ سنجیدگی سے بولا تو علیزے نے غصے سے اسے دیکھا۔
“آپ تو چاہتے ہیں میں سانس بھی نہیں لوں”
وہ دکھی ہوتی بولی تو زہرام نے مسکرا کر ہونٹ اس کی نرم و ملائم گال پر رکھے۔
“نہیں ایسا نہیں چاہتا میں ، بلکہ میں تو چاہتا ہوں میں اپنی سانسیں بھی اپنی زندگی ، اپنی جان علیزے زہرام ملک کو دے دوں”
وہ محبت سے بولا ، اس دفعہ لہجہ بے حد نرم تھا ، کِیُونکہ وہ سمجھ رہا تھا۔
علیزے کی کیفیت اس کی وجہ سے خراب تھی ، شاید وہ چاہ رہی تھی کہ زہرام اسے توجہ دے ، اُسے سمجھے۔
اس لیے وہ صبح سے انسیکور ہو رہی تھی۔
“اب کیوں پیار کر رہے ہیں ہاں ؟ جب مجھے ضرورت تھی تب تو کہا تھا کام زیادہ ضروری ہے”
اس نے ناراضگی سے کہا تو زہرام نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“وہ وقت کام کا تھا تو کام ہی کرنا تھا ، یہ وقت تمہیں پیار کرنے کا ہے تو اب یہی کر رہا ہوں”
وہ سنجیدگی سے بولا۔
“چلو اب سیدھی ہو کر لیٹو میں فریش ہو کر آ رہا ہوں۔ تب تک خود کو مينٹلی تیار کر لو۔ کِیُونکہ آج رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہے”
زہرام کہتا اس پر سے اٹھا تھا ، جبکہ علیزے نے گھبرا کے اسے دیکھا۔
اسے وقت چائیے تھا ابھی ، مگر زہرام کی کچھ دیر پہلے کی باتیں یاد آئیں تو وہ خاموش ہو گئی۔
زہرام وارڈروب سے بلیک شرٹ اور وائٹ ٹراوزر لے کر واشروم چلا گیا۔
علیزے کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔
زہرام کی ایک کس نے صبح اس کی کان نکال دی تھی ، اور اب ساری رات اس کے رحم و کرم پر رہنے کا سوچ کر ہی علیزے کا دل گھبرا رہا تھا۔
وہ اٹھ کر بیڈ پر ایک طرف ہو کے لیٹی ، کچھ دیر بعد واشروم سے وہ باہر آیا تھا۔
علیزے اس کی موجودگی محسوس کر کے آنکھیں میچ گئی تو زہرام مسکرایا۔
اس نے بال ڈرائے کیے پھر وہ دروازہ لاک کر کے ، بیڈ تک آیا۔
زہرام نے آتے ساتھ ہی سب سے پہلے اس کے وجود سے دوپٹہ کھینچ کر ایک طرف رکھا تھا۔
“پلیز آج کی رات رونا دھونا مت ، مجھے سخت غُصہ آتا ہے جب تم میرے قریب آنے پر آنسو بہاتی ہو”
وہ اس کی گردن پر اپنے دیئے گئی زخم پر ہونٹ سہلاتا گھمبیر لہجے میں بولا۔
دونوں کی دھڑکنیں منتشر ہو رہی تھیں ، علیزے کی تو جان ہونٹوں پر آ گئی تھی۔
“علیزے سانس لو”
وہ اس کی گردن سے چہرہ نکال کر بولا ، کافی ٹائم سے وہ محسوس کر رہا تھا کہ علیزے سانس روک گئی تھی۔
“آپ ۔آپ تھوڑا پیچھے ہو جائیں نا۔۔۔پھر سانس آئے گی”
اس نے بے بسی سے نظریں جھکائے کہا تھا۔
“اب میری قربت میں سانس لینے کی عادت ڈال لو۔۔۔کیونکہ اب تمے ہمیشہ میری قربت میں ہی رہنا ہے تو بہتر ہے ابھی سے سانس لینا سیکھ لو”
اس نے کہا تو علیزے نے ایک گہری سانس لی تھی۔
پھر ذہرام نے اس کی کان کی لو کو دانت میں ہلکہ سا دبایا تو اس کی سسکی نکلی تھی۔
“زہر۔۔زہرام۔۔۔ایک منٹ رک۔۔”
اس نے پھولتی سانسوں کے درمیان کہا۔
“ایک منٹ بھی نہیں میری جان اب ایک منٹ بھی نہیں رک سکتا۔۔۔سکون سے رہو کچھ نہیں ہو گا۔”
اس نے محبت سے سمجھایا تھا۔
زہرام نے جیسے ہی ہونٹ اس کے کندھے پر رکھے ، اور وہاں اپنی بيرڈ سہلائی تو علیزے کا ضبط ٹوٹ گیا۔
اس نے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بچوں کی طرف رونا شروع کیا تھا۔
“مم۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔زہرام پلیز۔۔۔”
اس نے روکا تھا اسے۔
“جسٹ سٹاپ اٹ علیزے۔۔۔کہا ہے ناں کچھ نہیں ہو گا۔میں کوشش کر رہا ہوں نرمی کرنے کی مگر تم مجبور کر رہی ہو مجھے کہ تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کراؤں”
اس نے جنون کی حد تک جاتے از حد سختی سے کہا تو علیزے نے مزید رونا شروع کیا تھا۔
جانے کیوں اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ، ڈر لگ رہا تھا اسے زہرام کی شدتوں سے ، اس کے جنون سے۔
“روتی رہو”
وہ کہتا دوبارہ اس پر جھکا۔
پھر کچھ دیر بعد زہرام اس پر سے تھوڑا اُوپر ہوا اور اس نے اپنی شرٹ اُتار کر دور اچھالی تھی۔
علیزے کی سسکیاں تب تک رونے میں بدل چکی تھیں۔
زہرام نے لیمپ آف کرنا چاہا کب علیزے نے اس کا بازو تھاما تھا۔
“پلیز زہرام مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔”
وہ روتی ہوئی بولی تو زہرام نے اسے دیکھا۔
“علیزے ، میری جان کیوں ڈر رہی ہو اتنا ، یقین ہے ناں اپنے زہرام پر ، بہت نرمی کروں گا یار ، جانتا ہوں تم نہیں سہہ سکتی ابھی میرا جنون ۔۔۔ ٹوٹ جاؤ گی تم میری سختی سے”
زہرام نے اس کی گال سہلاتے اسے سمجھایا۔
“آپ سختی۔۔کر رہے ہیں۔۔مم۔۔مجھے درد ہو رہا ہے”
اس نے گردن اور کندھوں کی جلن محسوس کر کے کہا تو زہرام نے اس کی آنکھوں پر ہونٹ رکھے۔
“اتنا تو ہو گا ناں یار۔۔۔تھوڑا سا برداشت کر لو بس تھوڑا سا”
وہ پیار سے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر زہرام اہستہ آہستہ اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگونے لگا تھا۔
علیزے محسوس کے رہی تھی کہ جس قدر نرمی ممکن تھی زہرام کر رہا تھا۔
اس کے لمس میں بے حد نرمی تھی ، محبت تھی اور احتیاط تھی۔
علیزے نے بھی اپنے آپ کو مکمل اس کے سپرد کر دیا تو زہرام نے مسکرا کر مزید اسے خود میں سمیٹ لیا تھا۔
کمرے میں دونوں کی بھری سانسیں گونج رہی تھیں۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب علیزے کی آنکھیں نیند سے بند ہونے لگیں۔
“ذہ۔۔۔زہرام اب سونے۔۔دیں ناں پلیز”
اس نے گزارش کی تو زہرام نے بھی اس کی بات مانی۔
کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا اور اسے اپنے حصار میں لیتا ،دونوں پر کمبل ٹھیک کر کے آنکھیں موند گیا۔
علیزے نے بھی سر اس کے بازو پر رکھا اور ہاتھ اس کے سینے پر رکھے وہ بھی نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر منشن میں اس وقت بہت خوشی کا سماں تھا ، ملازموں کو مٹھائیاں دی جا رہی تھیں تاکہ وہ لوگوں میں بانٹ آئیں۔
عینا کا ہاتھ پھیرا کر پانچ بکرے صدقے کو دیے گئے تھے ، بیشک بات تھی ہی خوشی کی۔
صبح جب زریاب عینا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو ڈاکٹر نے انہیں خوشی کی نوید سنائی تھی کہ عینا ایکسپییکٹ کر رہی ہے۔
سہانا کو بھی بہت خوشی ہوئی تھی ، اس نے عینا کو چوم ہی ڈالا تھا۔
جبکہ زریاب اور اذلان صاحب تو مہمانوں کو مینیج کر رہے تھے۔
زریاب نے جیسے ہی اپنے دوستوں کو یہ خبر سنائی تو کو فوراً ہی مینشن آ پہنچے تھے۔
عدیلہ بیگم عینا کو بار بار ، جوس پلا رہی تھیں یا فروٹس کھلا رہی تھیں۔
عینا کو لگ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے بڑا کام ہو گیا ہو ، کِیُونکہ سب اس قدر خوش ہو گئے تھے کہ اس نے سوچا تک نہیں تھا۔
زریاب دوپہر کو فری ہو کر روم میں آیا ، تو عینا منہ پھلا کر بیڈ پر بیٹھی تھی۔
زریاب اس کے قریب آ کر بیٹھا اور محبت سے اسے اپنے آپ سے لگا گیا۔
“کیا ہوا میری زندگی اُداس کیوں بیٹھی ہے ؟”
اس نے محبت سے سوال کیا تو عینا نے اس کے سینے پر تھوڑی ٹکا کر چہرہ اس کی جانب کیا تھا۔
“صبح سے ماما مجھے زبردستی فروٹس کھلا رہی ہیں ، جوسز پلا رہی ہیں۔۔۔مجھ میں اب مزید گنجائش نہیں ہے زریاب۔۔۔مجھے تو سوچ سوچ کے ڈر لگ رہا ہے کہ ایک دن میں میرا یہ حال کر دیا ہے آپ سب نے نو مہینے کیسے رہوں گی میں”
اس نے پریشانی سے کہ تو زریاب مسکرایا نیچے جھک کر اس کی ناک چوم لی۔
“سنی تھی ناں ڈاکٹر کی بات کہ تم بہت ویک ہو۔۔۔اسی لیے میں نے ماما سے کہا ہے کہ تمہیں کھلائیں پلائیں۔۔۔ٹھوڑی صحت ٹھیک کر لو پھر بیشک اتنا نہیں کھانا”
زریاب نے نرمی سے اسے سمجھایا تو عینا نے منہ بسورا۔
“تم جانتی ہو میں اتنا حیران تھا کہ میری معصوم سی بیوی کو دو دنوں سے ہو کیا گیا ہے ، بات بات پر رونا ، ناراض ہونا یہ تمہاری عادات تو نہیں تھیں۔ وہ تو اب معلوم ہوا اصل مدعا کیا تھا”
زریاب نے مسکرا کر کہا تو اس نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔
“اب آپ اپنا آفیس ٹائم بھی چینج کریں۔ آپ شام کو جلدی گھر آئیں گے۔ کِیُونکہ مجھ سے نہیں ہوتا اتنا انتظار”
وہ دوبارہ اسی لہجے میں بولی تھی ، زریاب نے مسکراہٹ دبائی۔
“محترمہ اب ہر بات بھی نہیں منوا سکتی تم اس کی آڑ میں۔۔۔”
زریاب نے اسے گھور کر کہا تو اس نے ناراضگی سے زریاب کی دیکھا۔
“تو ٹھیک ہے پھر میں بھی آپ کی بات نہیں مانوں گی پھر ، میں بھی کچھ نہیں کھاؤں گی”
عینا کی دھمکی پر زریاب کا دل کیا سر پیٹ لے۔
“اچھا اب بس کر نکھروں کی۔ کوشش کروں گا کل سے جلدی آؤں لیکن پھر شرٹ ہو گی کہ تم ڈیلی مجھے خود سے کس کرو گی”
زریاب نے ہار مان کر کہا تو اس نے فوراً سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“شام کو علیزے لوگ آئیں گے سب تو ابھی آرام کر لو تم”
اس نے یاد آتے ہی کہا تو عینا نے اسے دیکھا۔
“ابھی صبح ہی تو سو کر اٹھی ہوں۔۔۔ابھی آرام نہیں کرنا مجھے۔ مجھے آپ سے باتیں کرنی ہیں”
اس نے منہ بنا کے کہا تو زریاب کا دماغ گھوما۔
“عینا میری جان ابھی تو مجھے آفیس جانا ہے ناں…شام سے جلدی آ جاؤں گا تو بہت ساری باتیں کرنا”
زریاب نے بہت نرمی سے کہا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
“سیدھا سیدھا کہیں زریاب کہ مجھ سے باتیں نہیں کرنی آپ کو۔ بہانے کیوں بنا رہا ہیں ؟ جائیں آفیس اور ہاں رات کو روم میں مت ائیے گا۔ رات کو بھی آفیس ہی رکیے گا”
اس نے غصے سے کہ تو زریاب میں اسے سینے اسے لگایا تھا ، مقصد اسے ٹھنڈہ کرنا تھا۔
“عینا سمجھو نا میری جان۔۔۔میری دو اہم میٹنگز ہیں آج تو جانا بہت ضروری ہے”
اس نے اسے سمجھانا چاہا۔
“تو میں کب روک رہی ہوں جائیں شوق سے جائیں۔ بلکہ یوں کریں مجھے سہانا کے ساتھ شفٹ کروا دیں۔ ایک ہی دفعہ جان چھڑا لیں مجھ سے”
وہ تپ کر بولی تو زریاب نے بے بسی سے ایسا دیکھا ، اب ایک ہی حل تھا کہ اگر وہ ذرا سختی سے بات کرتا تو عینا نے سہم جانا تھا۔
مگر ابھی وہ اس پر سختی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس نے یقیناً رونے لگ پڑنا تھا۔
زریاب نے مرتے کیا نا کرتے کے بقول سیل نکالا تھا۔
اپنے پی اے کا نمبر ڈائل کر کے اس کے کان سے لگایا اور ساتھ ہی ایک طرف بیٹھی عینا کو دوبارہ سے سینے سے لگایا۔
“واسلام۔۔۔ہاں یارم یار یوں کرو کہ میری میٹنگز کل پر ڈلے کر دو میں آج نہیں آ سکتا آفیس “
اس نے بے بسی سے کہا ، پھر بات کر کے اس کے سیل ہٹا کر بیڈ پر رکھا۔
“اب میں نے تمہاری مانی ہے ناں تو تم بھی اب میری مانوں گی۔ مجھے پیار کرنا ہے تمہیں”
اس نے کہتے ہی عینا کو اٹھا کر بیڈ کے وسط میں لٹایا۔
عینا نے مسکرا کر بازو اس کی گردن میں ڈالے تھے۔
“جی نہیں آپ کی چھٹی میں نے اس لیے کرائی ہے کہ آپ مجھ سے باتیں کریں ناں کہ پیار کروانے کے لیے”
اس نے مسکرا کر کہا تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔
“زیادہ بنو نہیں اب اچھا ناں۔۔۔اب کچھ دیر خاموشی سے لیٹی رہو”
زریاب نے آنکھیں دکھا کر کہا ، ابھی وہ اس کے چہرے پر جھکتا کہ عینا نے سسکی لی۔
زریاب فوراً سیدھا ہوا ، اسے لگا عینا کو کہیں درد ہو رہا ہے۔
“عینا میری جان کیا ہوا ؟”
اس نے فکر مندی سے عینا کا چہرہ تھام کر اُوپر کر کے پوچھا۔
“آپ میری بات نہیں مان رہے۔”
اس نے سسکتے ہوئے کہا تو زریاب نے گہرا سانس لیا۔
“اچھا یار نہیں کر رہا کچھ۔ کرو باتیں”
وہ ہار مانتا بولا اور ایک طرف لیٹ گیا تو عینا فوراً مسکرا کر اس کے قریب ہوئی۔
وہ اس کہ سینے پر چہرہ ٹکائے اس سے باتیں کرنے لگی تھی ، جبکہ زریاب اس کی باتیں بھی سن رہا تھا اور اس کے بالوں میں ہاتھ بھی چلا رہا تھا۔
اس کی کوشش تھی کہ عینا کسی طرح سو جائے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح آفیس چلا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
Don’t Copypaste Without My Permission !
علیزے کے ساتھ میرال نے کافی وقت بتایا تھا آج۔
ابھی بھی وہ اس کے روم میں موجود تھی ، وہ دونوں بیڈ پر بیٹھیں تھیں ، میرال اسے اپنے سیل میں موجود اس کی شادی کی پکس دکھا رہی تھی۔
تب ہی آہستہ سے دروازہ کھول کر میر زہرام ملک اندر داخل ہوا۔
اس کی نظر بیڈ کی طرف اٹھی تو علیزے کو دیکھ کر اس نے نظریں اس سے پھیر لیں جبکہ میرال کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
“آپ آ گئے بھائی”
وہ اٹھ کر اس تک آئی اور اس کے سینے سے لگتی محبت سے بولی۔
جبکہ علیزے اب اٹھ کر سیدھی ہو بیٹھی تھی ، نظریں اس کی سیل پر جمی تھیں۔
“جی۔۔۔آج میری گڑیا ادھر موجود ہے بھئی۔ وجہ جان سکتا ہوں ؟”
وہ اس کی پیشانی پر پیار کرتا محبت سے لبریز لہجے میں بولا تو میرال مسکرائی۔
“آپ بزی تھے تو میں نے سوچا آپی کو ٹائم دیتی ہوں یہ سیڈ نہیں ہوں”
وہ بچوں کے انداز میں بولی تو زہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہممم لیکن تمہیں صبح کالج جانا ہے تو زیادہ جاگنا ٹھیک نہیں ، جاؤ اب شاباش جا کر سو جاؤ”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو میرال نے اثبات میں سر ہلایا اور علیزے سے پیار لیتی ، سیل اٹھا کے باہر چلی گئی۔
زہرام نے علیزے کو دیکھا جو اب لیٹ کر کمبل خود پر اوڑھ چکی تھی۔
“اٹھو اور مجھے کپڑے نکال دو میں فریش ہونے جا رہا ہوں”
وہ جان بوجھ کر اس سے مخاطب ہوا تھا۔
علیزے نے ایک نظر اسے دیکھا ، وہ سمجھ گئی کہ زہرام جان بوجھ کر بات بڑھانا چاہ رہا ہے۔
“جی میں نکال دیتی ہوں آپ جائیں واشروم”
وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
زہرام کو اس کے آسانی سے مان جانے پر غُصہ آیا اس نے کورٹ اُتار کر بیڈ صوفے پر اچھالا۔
علیزے جو وارڈروب کے پاس آ رہی تھی زہرام نے کھینچ کے اسے بیڈ پر پھینکا تھا۔
وہ خود اس کے اوپر جھکا تو علیزے نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“اب کیا ہوا مسٹر زہرام ملک ؟”
اس نے ادا سے مسکرا کر پوچھا تو زہرام کے تن بدن میں آگ لگی۔
“یہ موڈ بنانے کی وجہ جان سکتا ہوں محترمہ ؟”
اس نے غصے سے سوال کیا تو علیزے نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔
“موڈ میں نے نہیں آپ نے خود بنا رکھا ہے صبح سے۔۔۔اور ویسے بھی ابھی بھی آفیس ہی رہ جاتے میں کون سا کہیں جا رہی ہوں میں تو ادھر ہی ہوں ناں اب”
اس کے غصے سے زہرام کی صبح والی بات پر چوٹ کی تو زہرام نے مسکراہٹ دبائی۔
“بہت برے ہیں آپ زہرام۔ سارا دن مجھے تڑپایا ہے آپ نے آج۔۔۔میرا دل کر رہا تھا بھائی کو بلا کر گھر چلی جاؤں ان کے ساتھ”
اس نے ناراضگی سے کہا ، زہرام کو اس کی آخری بات پسند نہیں آئی تھی۔
“تمہارا گھر اب یہی ہے علیزے زہرام شاہ تو آئندہ بے شک جو بھی ہو تم ناراضگی میں یا غصے میں کہیں اور جانے کا سوچو گی بھی نہیں”
زہرام نے سختی سے کہا تو اس نے خفگی سے چہرہ پھیر لیا۔
“خود جو مرضی کریں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور مجھے کچھ کرنے کا بھی حق نہیں ؟ آخر کیوں زہرام”
وہ جذباتی ہوتی چلائی تو زہرام نے نا گواری سے اسے دیکھا۔
اس نے جھک کر علیزے کی سفید ، چمکتی گردن پر شدت سے کاٹا اور پھر اسی جگہ اپنی بیرڈ رگڑ کر اس کے چہرہ اس کی گردن سے باہر نکالا۔
اس کی اس قادر ظلمانہ حرکت پر علیزے کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے جو اس نے فوراً دونوں ہاتھوں سے صاف کیے۔
“آہستہ بولا کرو۔ مجھے عورت کی آواز اونچی نہیں پسند”
وہ غصے سے بولا تو علیزے نے اسے دھکا دیا تھا ، وہ اسے ایک طرف کر کے پیچھے ہونا چاھتی تھی۔
مگر زہرام نے سچ کہا تھا وہ جتنا بھی خود کو طاقت ور کہہ لے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
زہرام کو اثر تک نہیں پڑا تھا اس کی مزاحمت سے۔
“مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ زہرام ؟ کیوں کر رہے ہیں اس طرح میرے ساتھ۔صبح سے مسلسل مجھے تکلیف پہنچا رہے ہیں آپ”
وہ آنسوؤں بھری نظروں سے اسے دیکھتی بولی۔
“علیزے مجھے بس تمہاری زبان سے مسلہ ہے جو ضرورت سے زیادہ چلتی ہے۔۔۔اسے لگام دو اور میرے سامنے مزاحمت مت کی کرو یہ چیز مجھے ضبط کھونے پر مجبور کر دیتی ہے”
وہ سنجیدگی سے بولا تو علیزے نے غصے سے اسے دیکھا۔
“آپ تو چاہتے ہیں میں سانس بھی نہیں لوں”
وہ دکھی ہوتی بولی تو زہرام نے مسکرا کر ہونٹ اس کی نرم و ملائم گال پر رکھے۔
“نہیں ایسا نہیں چاہتا میں ، بلکہ میں تو چاہتا ہوں میں اپنی سانسیں بھی اپنی زندگی ، اپنی جان علیزے زہرام ملک کو دے دوں”
وہ محبت سے بولا ، اس دفعہ لہجہ بے حد نرم تھا ، کِیُونکہ وہ سمجھ رہا تھا۔
علیزے کی کیفیت اس کی وجہ سے خراب تھی ، شاید وہ چاہ رہی تھی کہ زہرام اسے توجہ دے ، اُسے سمجھے۔
اس لیے وہ صبح سے انسیکور ہو رہی تھی۔
“اب کیوں پیار کر رہے ہیں ہاں ؟ جب مجھے ضرورت تھی تب تو کہا تھا کام زیادہ ضروری ہے”
اس نے ناراضگی سے کہا تو زہرام نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“وہ وقت کام کا تھا تو کام ہی کرنا تھا ، یہ وقت تمہیں پیار کرنے کا ہے تو اب یہی کر رہا ہوں”
وہ سنجیدگی سے بولا۔
“چلو اب سیدھی ہو کر لیٹو میں فریش ہو کر آ رہا ہوں۔ تب تک خود کو مينٹلی تیار کر لو۔ کِیُونکہ آج رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہے”
زہرام کہتا اس پر سے اٹھا تھا ، جبکہ علیزے نے گھبرا کے اسے دیکھا۔
اسے وقت چائیے تھا ابھی ، مگر زہرام کی کچھ دیر پہلے کی باتیں یاد آئیں تو وہ خاموش ہو گئی۔
زہرام وارڈروب سے بلیک شرٹ اور وائٹ ٹراوزر لے کر واشروم چلا گیا۔
علیزے کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔
زہرام کی ایک کس نے صبح اس کی کان نکال دی تھی ، اور اب ساری رات اس کے رحم و کرم پر رہنے کا سوچ کر ہی علیزے کا دل گھبرا رہا تھا۔
وہ اٹھ کر بیڈ پر ایک طرف ہو کے لیٹی ، کچھ دیر بعد واشروم سے وہ باہر آیا تھا۔
علیزے اس کی موجودگی محسوس کر کے آنکھیں میچ گئی تو زہرام مسکرایا۔
اس نے بال ڈرائے کیے پھر وہ دروازہ لاک کر کے ، بیڈ تک آیا۔
زہرام نے آتے ساتھ ہی سب سے پہلے اس کے وجود سے دوپٹہ کھینچ کر ایک طرف رکھا تھا۔
“پلیز آج کی رات رونا دھونا مت ، مجھے سخت غُصہ آتا ہے جب تم میرے قریب آنے پر آنسو بہاتی ہو”
وہ اس کی گردن پر اپنے دیئے گئی زخم پر ہونٹ سہلاتا گھمبیر لہجے میں بولا۔
دونوں کی دھڑکنیں منتشر ہو رہی تھیں ، علیزے کی تو جان ہونٹوں پر آ گئی تھی۔
“علیزے سانس لو”
وہ اس کی گردن سے چہرہ نکال کر بولا ، کافی ٹائم سے وہ محسوس کر رہا تھا کہ علیزے سانس روک گئی تھی۔
“آپ ۔آپ تھوڑا پیچھے ہو جائیں نا۔۔۔پھر سانس آئے گی”
اس نے بے بسی سے نظریں جھکائے کہا تھا۔
“اب میری قربت میں سانس لینے کی عادت ڈال لو۔۔۔کیونکہ اب تمے ہمیشہ میری قربت میں ہی رہنا ہے تو بہتر ہے ابھی سے سانس لینا سیکھ لو”
اس نے کہا تو علیزے نے ایک گہری سانس لی تھی۔
پھر ذہرام نے اس کی کان کی لو کو دانت میں ہلکہ سا دبایا تو اس کی سسکی نکلی تھی۔
“زہر۔۔زہرام۔۔۔ایک منٹ رک۔۔”
اس نے پھولتی سانسوں کے درمیان کہا۔
“ایک منٹ بھی نہیں میری جان اب ایک منٹ بھی نہیں رک سکتا۔۔۔سکون سے رہو کچھ نہیں ہو گا۔”
اس نے محبت سے سمجھایا تھا۔
زہرام نے جیسے ہی ہونٹ اس کے کندھے پر رکھے ، اور وہاں اپنی بيرڈ سہلائی تو علیزے کا ضبط ٹوٹ گیا۔
اس نے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بچوں کی طرف رونا شروع کیا تھا۔
“مم۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔زہرام پلیز۔۔۔”
اس نے روکا تھا اسے۔
“جسٹ سٹاپ اٹ علیزے۔۔۔کہا ہے ناں کچھ نہیں ہو گا۔میں کوشش کر رہا ہوں نرمی کرنے کی مگر تم مجبور کر رہی ہو مجھے کہ تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کراؤں”
اس نے جنون کی حد تک جاتے از حد سختی سے کہا تو علیزے نے مزید رونا شروع کیا تھا۔
جانے کیوں اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ، ڈر لگ رہا تھا اسے زہرام کی شدتوں سے ، اس کے جنون سے۔
“روتی رہو”
وہ کہتا دوبارہ اس پر جھکا۔
پھر کچھ دیر بعد زہرام اس پر سے تھوڑا اُوپر ہوا اور اس نے اپنی شرٹ اُتار کر دور اچھالی تھی۔
علیزے کی سسکیاں تب تک رونے میں بدل چکی تھیں۔
زہرام نے لیمپ آف کرنا چاہا کب علیزے نے اس کا بازو تھاما تھا۔
“پلیز زہرام مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔”
وہ روتی ہوئی بولی تو زہرام نے اسے دیکھا۔
“علیزے ، میری جان کیوں ڈر رہی ہو اتنا ، یقین ہے ناں اپنے زہرام پر ، بہت نرمی کروں گا یار ، جانتا ہوں تم نہیں سہہ سکتی ابھی میرا جنون ۔۔۔ ٹوٹ جاؤ گی تم میری سختی سے”
زہرام نے اس کی گال سہلاتے اسے سمجھایا۔
“آپ سختی۔۔کر رہے ہیں۔۔مم۔۔مجھے درد ہو رہا ہے”
اس نے گردن اور کندھوں کی جلن محسوس کر کے کہا تو زہرام نے اس کی آنکھوں پر ہونٹ رکھے۔
“اتنا تو ہو گا ناں یار۔۔۔تھوڑا سا برداشت کر لو بس تھوڑا سا”
وہ پیار سے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر زہرام اہستہ آہستہ اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگونے لگا تھا۔
علیزے محسوس کے رہی تھی کہ جس قدر نرمی ممکن تھی زہرام کر رہا تھا۔
اس کے لمس میں بے حد نرمی تھی ، محبت تھی اور احتیاط تھی۔
علیزے نے بھی اپنے آپ کو مکمل اس کے سپرد کر دیا تو زہرام نے مسکرا کر مزید اسے خود میں سمیٹ لیا تھا۔
کمرے میں دونوں کی بھری سانسیں گونج رہی تھیں۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب علیزے کی آنکھیں نیند سے بند ہونے لگیں۔
“ذہ۔۔۔زہرام اب سونے۔۔دیں ناں پلیز”
اس نے گزارش کی تو زہرام نے بھی اس کی بات مانی۔
کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا اور اسے اپنے حصار میں لیتا ،دونوں پر کمبل ٹھیک کر کے آنکھیں موند گیا۔
علیزے نے بھی سر اس کے بازو پر رکھا اور ہاتھ اس کے سینے پر رکھے وہ بھی نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر منشن میں اس وقت بہت خوشی کا سماں تھا ، ملازموں کو مٹھائیاں دی جا رہی تھیں تاکہ وہ لوگوں میں بانٹ آئیں۔
عینا کا ہاتھ پھیرا کر پانچ بکرے صدقے کو دیے گئے تھے ، بیشک بات تھی ہی خوشی کی۔
صبح جب زریاب عینا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو ڈاکٹر نے انہیں خوشی کی نوید سنائی تھی کہ عینا ایکسپییکٹ کر رہی ہے۔
سہانا کو بھی بہت خوشی ہوئی تھی ، اس نے عینا کو چوم ہی ڈالا تھا۔
جبکہ زریاب اور اذلان صاحب تو مہمانوں کو مینیج کر رہے تھے۔
زریاب نے جیسے ہی اپنے دوستوں کو یہ خبر سنائی تو کو فوراً ہی مینشن آ پہنچے تھے۔
عدیلہ بیگم عینا کو بار بار ، جوس پلا رہی تھیں یا فروٹس کھلا رہی تھیں۔
عینا کو لگ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے بڑا کام ہو گیا ہو ، کِیُونکہ سب اس قدر خوش ہو گئے تھے کہ اس نے سوچا تک نہیں تھا۔
زریاب دوپہر کو فری ہو کر روم میں آیا ، تو عینا منہ پھلا کر بیڈ پر بیٹھی تھی۔
زریاب اس کے قریب آ کر بیٹھا اور محبت سے اسے اپنے آپ سے لگا گیا۔
“کیا ہوا میری زندگی اُداس کیوں بیٹھی ہے ؟”
اس نے محبت سے سوال کیا تو عینا نے اس کے سینے پر تھوڑی ٹکا کر چہرہ اس کی جانب کیا تھا۔
“صبح سے ماما مجھے زبردستی فروٹس کھلا رہی ہیں ، جوسز پلا رہی ہیں۔۔۔مجھ میں اب مزید گنجائش نہیں ہے زریاب۔۔۔مجھے تو سوچ سوچ کے ڈر لگ رہا ہے کہ ایک دن میں میرا یہ حال کر دیا ہے آپ سب نے نو مہینے کیسے رہوں گی میں”
اس نے پریشانی سے کہ تو زریاب مسکرایا نیچے جھک کر اس کی ناک چوم لی۔
“سنی تھی ناں ڈاکٹر کی بات کہ تم بہت ویک ہو۔۔۔اسی لیے میں نے ماما سے کہا ہے کہ تمہیں کھلائیں پلائیں۔۔۔ٹھوڑی صحت ٹھیک کر لو پھر بیشک اتنا نہیں کھانا”
زریاب نے نرمی سے اسے سمجھایا تو عینا نے منہ بسورا۔
“تم جانتی ہو میں اتنا حیران تھا کہ میری معصوم سی بیوی کو دو دنوں سے ہو کیا گیا ہے ، بات بات پر رونا ، ناراض ہونا یہ تمہاری عادات تو نہیں تھیں۔ وہ تو اب معلوم ہوا اصل مدعا کیا تھا”
زریاب نے مسکرا کر کہا تو اس نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔
“اب آپ اپنا آفیس ٹائم بھی چینج کریں۔ آپ شام کو جلدی گھر آئیں گے۔ کِیُونکہ مجھ سے نہیں ہوتا اتنا انتظار”
وہ دوبارہ اسی لہجے میں بولی تھی ، زریاب نے مسکراہٹ دبائی۔
“محترمہ اب ہر بات بھی نہیں منوا سکتی تم اس کی آڑ میں۔۔۔”
زریاب نے اسے گھور کر کہا تو اس نے ناراضگی سے زریاب کی دیکھا۔
“تو ٹھیک ہے پھر میں بھی آپ کی بات نہیں مانوں گی پھر ، میں بھی کچھ نہیں کھاؤں گی”
عینا کی دھمکی پر زریاب کا دل کیا سر پیٹ لے۔
“اچھا اب بس کر نکھروں کی۔ کوشش کروں گا کل سے جلدی آؤں لیکن پھر شرٹ ہو گی کہ تم ڈیلی مجھے خود سے کس کرو گی”
زریاب نے ہار مان کر کہا تو اس نے فوراً سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“شام کو علیزے لوگ آئیں گے سب تو ابھی آرام کر لو تم”
اس نے یاد آتے ہی کہا تو عینا نے اسے دیکھا۔
“ابھی صبح ہی تو سو کر اٹھی ہوں۔۔۔ابھی آرام نہیں کرنا مجھے۔ مجھے آپ سے باتیں کرنی ہیں”
اس نے منہ بنا کے کہا تو زریاب کا دماغ گھوما۔
“عینا میری جان ابھی تو مجھے آفیس جانا ہے ناں…شام سے جلدی آ جاؤں گا تو بہت ساری باتیں کرنا”
زریاب نے بہت نرمی سے کہا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
“سیدھا سیدھا کہیں زریاب کہ مجھ سے باتیں نہیں کرنی آپ کو۔ بہانے کیوں بنا رہا ہیں ؟ جائیں آفیس اور ہاں رات کو روم میں مت ائیے گا۔ رات کو بھی آفیس ہی رکیے گا”
اس نے غصے سے کہ تو زریاب میں اسے سینے اسے لگایا تھا ، مقصد اسے ٹھنڈہ کرنا تھا۔
“عینا سمجھو نا میری جان۔۔۔میری دو اہم میٹنگز ہیں آج تو جانا بہت ضروری ہے”
اس نے اسے سمجھانا چاہا۔
“تو میں کب روک رہی ہوں جائیں شوق سے جائیں۔ بلکہ یوں کریں مجھے سہانا کے ساتھ شفٹ کروا دیں۔ ایک ہی دفعہ جان چھڑا لیں مجھ سے”
وہ تپ کر بولی تو زریاب نے بے بسی سے ایسا دیکھا ، اب ایک ہی حل تھا کہ اگر وہ ذرا سختی سے بات کرتا تو عینا نے سہم جانا تھا۔
مگر ابھی وہ اس پر سختی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس نے یقیناً رونے لگ پڑنا تھا۔
زریاب نے مرتے کیا نا کرتے کے بقول سیل نکالا تھا۔
اپنے پی اے کا نمبر ڈائل کر کے اس کے کان سے لگایا اور ساتھ ہی ایک طرف بیٹھی عینا کو دوبارہ سے سینے سے لگایا۔
“واسلام۔۔۔ہاں یارم یار یوں کرو کہ میری میٹنگز کل پر ڈلے کر دو میں آج نہیں آ سکتا آفیس “
اس نے بے بسی سے کہا ، پھر بات کر کے اس کے سیل ہٹا کر بیڈ پر رکھا۔
“اب میں نے تمہاری مانی ہے ناں تو تم بھی اب میری مانوں گی۔ مجھے پیار کرنا ہے تمہیں”
اس نے کہتے ہی عینا کو اٹھا کر بیڈ کے وسط میں لٹایا۔
عینا نے مسکرا کر بازو اس کی گردن میں ڈالے تھے۔
“جی نہیں آپ کی چھٹی میں نے اس لیے کرائی ہے کہ آپ مجھ سے باتیں کریں ناں کہ پیار کروانے کے لیے”
اس نے مسکرا کر کہا تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔
“زیادہ بنو نہیں اب اچھا ناں۔۔۔اب کچھ دیر خاموشی سے لیٹی رہو”
زریاب نے آنکھیں دکھا کر کہا ، ابھی وہ اس کے چہرے پر جھکتا کہ عینا نے سسکی لی۔
زریاب فوراً سیدھا ہوا ، اسے لگا عینا کو کہیں درد ہو رہا ہے۔
“عینا میری جان کیا ہوا ؟”
اس نے فکر مندی سے عینا کا چہرہ تھام کر اُوپر کر کے پوچھا۔
“آپ میری بات نہیں مان رہے۔”
اس نے سسکتے ہوئے کہا تو زریاب نے گہرا سانس لیا۔
“اچھا یار نہیں کر رہا کچھ۔ کرو باتیں”
وہ ہار مانتا بولا اور ایک طرف لیٹ گیا تو عینا فوراً مسکرا کر اس کے قریب ہوئی۔
وہ اس کہ سینے پر چہرہ ٹکائے اس سے باتیں کرنے لگی تھی ، جبکہ زریاب اس کی باتیں بھی سن رہا تھا اور اس کے بالوں میں ہاتھ بھی چلا رہا تھا۔
اس کی کوشش تھی کہ عینا کسی طرح سو جائے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح آفیس چلا جائے۔
