Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 16)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

صبح جب وہ اٹھی تو زہرام نجانے کہاں تھا ، علیزے تو صبح کے ساڑھے نو بجے اٹھ گئی تھی۔

اس نے جلدی سے شاور لیا اور لائٹ سا ڈریس پہن کر دوپٹہ پھیلا کر لیا ، آج وہ اپنا وجود بھرا بھرا محسوس کر رہی تھی۔

اسے لگا زہرام آفیس چلا گیا ہے ، علیزے کو افسوس ہوا کہ کم از کم وہ اس سے مل کے جاتا۔

ساری رات اس نے اس کی شدتیں سہی تھیں ، اس نے جیسے کل رات کو برداشت کیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔

“تمہارا دماغ درست ہے۔۔۔میری اتنی اہم فائل گم کر دی تم نے۔۔۔”

وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی جب اسے سٹڈی سے زہرام کی دھاڑ سنائی دی۔

علیزے بھی آہستہ سے سٹڈی میں آئی تو سامنے زہرام آفیس کے لیے تیار کھڑا تھا ، وہ گرے فور پیس میں شاندار لگ رہا تھا۔

سامنے ہی ایک ملازم سر جھکائے کھڑا تھا۔

“ک۔۔کیا ہوا کیوں چلا رہا ہیں ؟”

علیزے نے قریب آ کر اس کے بازو پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر سوال کیا تو زہرام نے اس کی جانب دیکھا۔

جو کھلی کھلی کسی کلی کی مانند لگ رہی تھی۔

“اٹھ گئی تم ؟”

وہ ملازم کو جانے کا اشارہ کرتے نرمی سے اس سے مخاطب ہوا۔

علیزے کو خوشی ہوئی کہ وہ غصے میں بھی اسے اہمیت دے رہا تھا۔

“جی میں اٹھ گئی مگر آپ بتائیں کہ ہوا کیا ہے ، صبح صبح کیوں غصّہ کر رہے ہیں”

اس میں نرمی سے سوال کیا ، جبکہ نظریں اس نے جھکا رکھی تھیں۔

کل رات بیشک اس دونوں کے درمیان ہے پردہ گر چکا تھا مگر علیزے کی شرم ہنوز قائم تھی۔

“بس ایک امپارٹنٹ فائل گم ہو گئی ہے۔کر ڈونٹ وری تم نیچے چل کر ناشتہ کرو میں بھی نکلتا ہوں اب”

زہرام اس کا دوپٹہ کندھے سے ٹھیک کرتا بولا تو علیزے نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔

“کچھ دیر آرام کر لینا رات بھر نیند نہیں لی تو طبیعت بگڑ جائے گی تمہاری”

سیڑھیاں اترتے وہ سنجیدگی سے اس سے مخاطب ہوا تو علیزے نے سر ہلایا۔

“آپ کب تک آئیں گے؟”

اس نے سوال کیا تو زہرام نے اس کا ہاتھ تھاما۔

اب وہ دونوں لاؤنج میں داخل ہو چکے تھے۔

“کچھ میٹنگز ہیں آج تو شاید لیٹ ہو جاؤں ، تم انتظار مت کرنا سو جانا”

زہرام نے کہا تو علیزے نے منہ بنایا ، وہ دونوں ڈائننگ روم میں آئے جہاں ناشتہ لگ چُکا تھا۔

ہادی شاید جا چکا تھا جبکہ صائمہ بیگم بھی موجود نہیں تھیں تو میرال اکیلی ہی بیٹھی سینڈ وچ کھا رہی تھی۔

انہیں دیکھ کر وہ مسکرا کر اٹھی تو وہ دونوں بھی مسکرائے۔

“آج زیادہ لیٹ ہیں آپ دونوں ، وجہ جان سکتی ہُوں”

وہ دونوں سے پیار لے کر دوبارہ چیئر پر بیٹھتی بولی تو علیزے اور زہرام نے پہلے مسکرا کے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اس کی جانب متوجہ ہوئے۔

“نہیں میری جان تم ہم دونوں پر توجہ نہیں دو اپنی سٹڈیز اور توجہ دو اور ہاں آج ٹوِٹر آئے گا عصر کہ وقت تو ڈرائنگ روم میں پڑھائی کرو گی تم”

زہرام نے پہلے مسکرا کر اور آخر میں سنجیدگی سے کہا تو میرال نے منہ بسور کر علیزے کو دیکھا۔

“افّفف علیزے آپی آپ ہی سمجھائیں بھائی کو کہ مجھے پڑھائی میں انٹرسٹ نہیں ہے”

اس نے بالوں کو ٹھیک کرتے علیزے سے کہا تو علیزے نے اِسے گھورا۔

“کیوں نہیں ہے انٹرسٹ ؟

علیزے نے سولہ کیا تو میرال نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“او مائی گاڈ۔۔۔دو دن صرف دو دن بھائی کے ساتھ رہ کر آپ اپنی چھوٹی بہن سے بڑھ کر بھائی کی باتوں کو سیریس لینے لگیں ؟”

اس نے صدمے سے کہا تو دونوں نے ساتھ میں اسے گھورا۔

“اب زیادہ باتیں نہیں بناؤ اور اٹھ کر بیگ لے کر آؤ اب چلیں”

زہرام اٹھتا ہوا بولا تو میرال بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

اس کا بیگ اُوپر روم میں تھا تو وہ اوپر کی طرف بڑھ گئی تھی۔

علیزے کھڑی ٹیبل پر ناشتہ ٹھیک کر رہی تھی جب اچانک زہرام نے اسے کھینچ کر خود سے لگایا تھا۔

علیزے ابھی کچھ سمجھے بھی نہیں تھی کہ پل میں ہی زہرام ملک نے اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لیا۔

علیزے مچل کر رہ گئی ، وہ دونوں ہاتھوں سے اس کا کالر جکڑ گئی تھی۔

اچھے سے اپنا حق پورا کر کے زہرام نے اس کی سانسوں کو آزادی بخشی تو علیزے نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“ظالم”

اس نے دانت پیس کر اتنا ہی کہا تھا اس سے زیادہ کہتی تو یقیناً پھر اسے اس کہ غُصہ سہنا پڑتا۔

“شکریہ”

زہرام مسکرا کر بولا تبھی میرال نیچے آئی تھی۔

علیزے جلدی سے اس سے تھوڑا فاصلے بنا گئی تو زہرام نے مسکراہٹ دبائ۔

“چلیں بھائی”

وہ علیزے کی گال پر پیار کرتی زہرام سے بولی تو زہرام نے ایک نظر علیزے کو دیکھا کو دوبارہ سے سرخ ہو چکی تھی۔

“ہممم چلو اس سے پہلے تمہاری آپی پلس بھابھی ٹماٹر بن جائیں”

زہرام شرارت سے بولا تو میرال نے بھی قہقہہ لگایا تھا جس پر علیزے نے بمشکل ہی اسے گھورا۔

زہرام کی جانب دیکھنے کی بھی غلطی نہیں کی تھی اس نے۔

پھر وہ دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے تو علیزے بھی صائمہ بیگم کے پاس اوپر والے لاؤنج میں چلی گئی۔

جہاں وہ ملازمہ کے ساتھ کچھ چیزیں ترتیب سے رکھنے میں مصروف تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہانا آج کافی دنوں بعد یونیورسٹی آئی تھی ، گھر والوں نے تو بہت ڈانٹا تھا کہ اب جاب نہیں کرے۔

مگر اس نے ضد کر کے سب کو منا ہی لیا تھا۔

جب سے وہ آئی تھی سب سے مل ملا رہی تھی کیونکہ اس کی سب ٹیچرز سے بنتی تھی۔

اب وہ فری ہوئی تو کچھ دیر کے لیے باہر اس گئی ، کافی سٹوڈنٹس گراونڈ میں گھوم پھر رہے تھے ، کچھ کھانے پینے میں لگے تھے۔

آج موسم اچھا تھا تو ماحول خوش گوار تھا ، عینا کی خوش خبری کی وجہ سے اس کا موڈ بھی بہت فریش تھا۔

وہ سینے پر ہاتھ باندھے آہستہ آہستہ لمبی سڑک پر چل رہی تھی جس کے ارد گرڈ سایہ دار درخت تھے۔

“اسلام و علیکم”

اس کی نظریں نیچے اپنے پاؤں پر تھیں جب اسے بہت قریب سے مردانا آواز آئی تھی۔

سہانا پلٹی تو سامنے ہی ایک سٹوڈنٹ موحد موجود تھا۔

موحد بھی ہادی کی کلاس میں پڑھتا تھا۔۔۔یہ ایک نہایت امیر گھرانے کا سلجھا ہوا لڑکا تھا۔

پڑھائی میں بھی وہ کافی اچھا تھا ، سہانا سے ہمیشہ سے وہ بہت ادب سے بات کرتا آیا تھا۔

“وعلیکم السلام۔۔۔کوئی کام ہے آپ کو ؟”

اس نے رک کر سوال کیا تھا۔

موحد بھی اس سے دو قدم کے فاصلے پر ایک گیا جبکہ اس کی گہری نظریں سہانا کے دلکش چہرے پر تھیں۔

“نہیں کام تو نہیں مگر مجھے۔۔۔دراصل آپ سے اکیلے میں بات کرنی تھی۔ میں بہت عرصے سے بات کرنا چاہتا ہوں مگر کبھی ہمت نہیں ہوئی۔لیکن اب مزید انتظار نہیں کر سکتا میں۔۔سہانا۔۔مم۔۔میں محبت کرنے لگا ہوں آپ سے۔اب سے نہیں بہت پہلے سے۔سمجھ لیں جب میں نے پہلی دفعہ آپ کو دیکھا تھا تب ہی دل میں سما گئی تھیں آپ۔ میں کوئی آوارہ لڑکا نہیں ہوں اسی لیے ڈائرکٹ رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں اپ کے گھر”

وہ اپنی بات مکمل کر کے اچانک گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس کے آخری جملہ سہانا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

سہانا نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔

اس نے ادھر اُدھر دیکھا بہت کم سٹوڈنٹس ہی صحیح مگر رک کر یہ نظارہ دیکھ تو رہے تھے۔

آج اس کا ایک اور سٹوڈنٹ اس سے اظہارِ محبت کر رہا تھا ، وہ بھی بیچ یونیوسٹی میں۔۔۔

سہانا کی آنکھیں پل میں نم ہوئیں اس میں ایک افسوس بھری نظر موحد پر ڈالی تھی۔

پھر وہ رکی نہیں وہ تیزی سے پلٹی اور اندر کی جانب بڑھنے لگی۔

میر ہادی جو اس سے ملنے اس کے پاس آ رہا تھا ،یہ نظارہ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جیسے کسی نے مرچیں جھونک دی ہوں۔

وہ بہت فاصلے پر تھا تو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکا تھا مگر سہانا اس کے قریب سے گزری تو اس کی آنکھوں میں وہ آنسو ضرور دیکھ چکا تھا۔

میر ہادی تیزی سے اس لڑکے کی جانب بڑھا جو اب اٹھ کر تیزی سے سہانا کے پیچھے جا رہا تھا۔

وہ ہادی کے پاس سے گزرتا جب ہادی نے اچانک ہی اس کا گریبان جکڑ کر اسے روکا تھا۔

موحد نے ٹھہر کر غصے سے اسے دیکھا مگر اس کی سرخ نظریں دیکھ کر وہ حیران ہوا۔

“کیا کہا ہے تم نے انہیں ؟”

وہ جبڑے بھینچ کے بولا۔

“تم سے مطلب ؟ جو بھی میرا دل کرے گا میں کہوں گا”

وہ غصے سے بولا تو ہادی نے کھینچ کر مکہ اس کے ناک پر مارا تھا۔

وہ بھی جوان خون تھا اس نے بھی ہاتھ اٹھایا ، یوں جب ان کی لڑائی حد سے بڑھ گئی تو کچھ دوست تیزی سے ان تک آئے۔۔۔

بمشکل انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا گیا ، کچھ لڑکیاں معاملہ سمجھ کر سہانا کو بھی بلا لائیں۔

سہانا نے اگے بڑھ کر میر ہادی کا بازو تھام کے اسے موحد سے دور ہٹایا تو موحد کا دماغ گھوم گیا۔

“کر کیا رہے ہیں آپ دونوں ؟ ذرہ احساس بھی ہے آپ کی وجہ سے مجھ پر کتنی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں ؟”

وہ بلند آواز میں چلائی تھی۔

اب تک تو بہت سی ٹیچرز بھی یہاں آ چکی تھیں ، سٹوڈنٹس بھی مزے سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔

“اس xxx نے کیا کہا آپ سے ؟ صرف اتنا بتائیں مجھے سہانا”

میر ہادی نے جوش میں یہ بھی احساس نہیں کیا کہ وہ کسی کو گالی دے بیٹھا ہے۔

سہانا نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔

“انہوں نے بھی وہی کہا مکہ سے جو کچھ دن پہلے آپ نے کہا تھا ، فرق کوئی نہیں ہے آپ دونوں میں بس ایک نے کچھ دن پہلے مجھے اذیت میں ڈالا اور دوسرے نے کچھ دن بعد”

سہانا نے بھیگی نظروں سے اسے دیکھتے کہا تھا اور پھر وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔

“کیا تماشا بنا دیا ہے آپ سب نے۔۔۔جائیں اپنا کام کریں جا کر پلیز”

میر دھاڑا تھا اور پھر وہ بھی اندر کی طرف بڑھ گیا ،جبکہ موحد غصے سے وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔

میر ڈائرکٹ اس کے پیچھے گیا ، سہانا جو بھاگتی جا رہی تھی اچانک اس نے اس کی کلائی تھام کر اسے میٹنگ روم میں بند کیا۔

“دور ہو جائیں مجھ سے ۔۔۔ میر ہادی دور رہیں مجھ سے ، اتنا کافی نہیں تھا کیا ؟”

سہانا چلائی تھی مگر میر ہادی نے سرخ نظریں اس کی نم آنکھوں میں گاڑھ دیں۔

“آپ رکی کیوں رہیں جب وہ اتنی بکواس کر رہا تھا آپ سے ؟”

میر چلایا تھا ، سہانا کا بازو ابھی بھی اس کی فولادی گرفت میں تھا۔

“میری زندگی ہے میری مرضی میں کو کروں۔۔۔آپ کی پابند نہیں ہوں میں۔”

سہانا اس سے بھی زیادہ زور سے چیخی تو میر نے جبڑے بھینچ لیے۔

“سہانا غُصہ مت دلائیں مجھے۔آپ جانتی ہیں ناں آپ میری ہیں تو کیوں کسی کے سامنے کھڑی رہیں آپ سہانا۔ “

وہ بے بسی سے بولا تو سہانا نے غصے سے اسے دیکھا.

“نہیں ہوں میں آپ کی میر ہادی۔۔۔میں صرف اور صرف آپ کی ٹیچر ہوں جا کا یہ احترام کرتے ہیں آپ۔ اپنی ٹیچر کو اس نظر سے دیکھنے سے پہلے آپ کو ڈوب کر مر جانا چاہیے تھا میر ہادی۔چلیں اپنا نہیں تو میرا احساس کر لیتے آپ۔ آپ مرد ہیں آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا مگر میں عورت ہوں میر ہادی۔ کسی عورت پر یوں بات کر دینا بہت آسان ہوتا ہے آپ مردوں کے لیے۔مگر آپ نہیں جانتے آپ کی ایک بات ہمیں کہاں جا کر پٹختی ہے”

سہانا نے سارا غبار اِس پر نکالا تھا۔

“ٹھیک ہے آپ کو لگتا ہے ناں میں آپ کا کچھ نہیں لگتا تو اب تیار ہو جائیں پھر۔ ٹھیک ڈز دنوں بعد آپ کا ہر تعلق مجھ سے ہی ہو گا۔ بلکہ سب سے زیادہ آپ کا سگا میں ہی ہوں گا”

ہادی نے مسکرا کر کہا تو سہانا نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

“خدارا بخش دیں مجھے۔ کیوں پیچھے پڑ گئے ہیں میرے۔ اگر آپ نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو میں اپنی جن لے لوں گی یہ یاد رکھیے گا”

اس نے چلا کر دھمکی دی تو ہادی نے نفی میں سر ہلایا۔

“جو نہیں کر سکتیں وہ بھی کر کے دیکھ لیں مگر میر ہادی جب کچھ سوچ لے تو پورا کر کے ہی چھوڑتا ہے۔ بہت جلد آپ سے ایک رشتے کے ساتھ ملوں گا سہانا”

وہ کہتا ہوا تیزی سے دروازہ کھولتا کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔

سہانا نے آنکھیں صاف کیں اور اللہ سے خیر کی دعا کی۔

میر ہادی کے ارادے بتا رہے تھے وہ اپنی بات سے نہیں پھرنے والا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرال اور علیزے لاؤنج میں بیٹھیں تھیں ، میرال کالج سے آ چکی تھی۔

اس وقت عصر کے پانچ بج رہے تھے ، زہرام نے آج لیٹ انے کا کہا تھا تو علیزے اُداس بھی تھی۔

“میرو باجی سہراب بھائی ائے ہیں جی آپ کے ٹیوشن والے ٹیچر کو لے کر آپ بھی ڈرائنگ روم میں آ جائیے”

وہ دونوں ایک امیریکن سنگر کو ڈسکس کر رہی تھیں جب شمع (ملازمہ) آ کر میرال سے مخاطب ہوئی۔

ہادی اپنے روم میں تھا ، وہ یونورسٹی سے آ کر ہی سو چکا تھا۔

صائمہ بیگم کے سر میں درد تھا تو وہ بھی آرام کر رہی تھیں ، میرال اٹھ کر ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔

علیزے بھی وہاں سے اٹھ کر روم میں چلی گئی۔

میرال کمرے میں داخل ہوئی تو صوفے پر ایک پچیس ، چھبیس سالہ نو جوان براجمان تھا۔

ساتھ ہی ایک صوفے پر سہراب بھی بیٹھا تھا اور اس سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہا تھا۔

میرال مسکرا کر اندر ائی اس نے پر جوشی سے سلام کیا تو سہراب مسکرایا۔

اُن دونوں نے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔

فائق ایک خوش شکل نو جوان تھا ، جسے میر زہرام ملک نے اپنی جان سے عزیز بہن کی فزکس کی ٹیچنگ کے لیے منتخب کیا تھا۔

فائق کی نے اس کے معصوم چہرے اور نازک وجود پر پڑی تو اس کی آنکھیں چمکی تھیں۔

وہ پر شوق نظروں سے اس نازک گڑیا کو دیکھنے لگا۔

یقیناً یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو ان نظروں کو پہچان لیتی ، مگر میرال نے تو کبھی ان چیزوں کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔

وہ بھی آ کر سہراب کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی تھک ، ملازمہ اس کا بیگ اس کے کمرے سے یہاں لے ائی۔

“میرو بچے یہ آپ کے ٹیوٹر ہیں فائق رضا کر فائق یہ میرال ملک ہیں ہماری چھوٹی سی بہن۔ انہیں باقی سب سبجیکٹ تو بہت اچھے سے آتے ہیں بس فزکس کا ایشو ہے جس کے لیے آپ ان کی مدد کریں گے”

سہراب نے مسکرا کر شرارت سے اس کا تعارف کرایا تو میرال نے خفگی سے اسے دیکھا۔

جبکہ فائق نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“چلیں اب آپ دونوں پڑھیں ، سر کل آفیس سے جلدی آئیں گے تو ملاقات کریں گے آپ سے۔ میں چلتا ہوں”

سہراب کہتا وہاں سے اٹھا اور میرال کے سر پر ہاتھ رکھتا کمرے اس نکل گیا۔

ملازمائیں باہر موجود تھیں تو انہیں کوئی ٹینشن نہیں تھی ، ویسے بھی انہوں نے اپنی طرف سے تو بہت ڈھونڈ کر شریف لڑکا چوز کیا تھا۔

زہرام واقف تھا اپنی گڑیا کی معصومیت سے اس لیے اس نے بہت ڈھونڈ کر ٹیوٹر ارینج کروایا تھا۔

میرال اس کے ساتھ والے صوفے پر آ کر بیٹھی ، فائق اب سکون سے اسے گھور رہا تھا۔

“بیشک آپ میرے ٹیچر ہیں مگر میرے کچھ رولز ہیں جو آپ فالو کریں گے۔رول نمبر ون جب میں تھک جاؤں گی تو آپ خاموشی سے اٹھ کر چلے جائیں گے ، آپ بھائی کو میری کوئی شکایت نہیں لگائیں گے ، آپ مجھے ڈانٹیں گے نہیں ، میرے جوکس پر ہنسیں گے اور آپ ڈیلی بھائی کو کہیں گے کہ میں بہت اچھی سٹوڈنٹ ہوں آپ کو بلکل تنگ نہیں کرتی”

اس میں معصومیت سے کہا تھا ، فائق کی آنکھیں چمک مزید بڑھی کہ یہ تو بلکل معصوم تھی۔

“میں آپ کی ساری باتیں مانوں گا تو آپ بھی میری مانیں گی”

اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“اوکے ڈن”

میرال فوراً مسکرا کر بولی۔

“چلیں اب بک نکالیں میری”

اس نے بیگ کی جانب اشارہ کرتے کہا تو فائق نے اٹھ کر اس کی بکس نکالیں۔

“چلیں اب سٹارٹ کرتے ہیں”

اس نے سنجیدگی سے کہا۔

ہاں آج اس نے ہے سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا تھا ، مگر وہ میرال کو سارے دورانیہ میں دیکھتا رہا۔

اس نے بار بار بک پکڑنے کی آڑ میں اس کا ہاتھ بھی تھاما ، مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔

فائق رضا بہت خوش تھا آج ، اس قدر نازک گڑیا مل گئی تھی اسے آج۔

اس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھانے والا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *