Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 01)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

میر ذہرام ملک تیزی سے سیڑھیاں اُترتا نیچے آیا تھا۔

اس کے پیچھے ہی سہراب (اس کا میجر اسسٹنٹ) اس کا کوٹ اور لیپ ٹاپ لیے تقریباً بھاگ رہا تھا کیونکہ اس کے بوس کو پسند نہیں تھا آلسی پن۔

سہراب اسے آج کی میٹنگز کی ٹائیمنگز بتا رہا تھا اور زہرام ملک تیزی سے چلتے ہوئے بھی اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا۔

وہ ڈائينگ تک پہنچے تو سہراب سب کو سلام کرتا باہر گاڑی کی طرف چلا گیا۔

جبکہ میر ذہرام آہستہ سے سالار کرتا اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔

“بیٹا ٹائم سے گھر آیا کرو کل بھی میں گئے رات تک تمہارا اِنتظار کرتی رہی لیکن تم آئے ہی نہیں۔پھر تم نے کھانا بھی نہیں کھایا ہو گا رات میں”

صائمہ بیگم فکر مندی سے اسے دیکھتی بولیں تھی جو چھری اور کانٹے سے تیزی سے بویلڈ ایگ کھا رہا تھا۔

“تائی امی میں پہلے بھی کئی دفعہ آپ کو کہہ چُکا ہُوں کہ میرا انتظار نہیں کیا کریں۔آج کل کام زیادہ ہے تو نہیں وہ سکتا جلدی اور ویسے بھی آپ کو نہیں چائیے کے ٹینشن لے کر اپنی

طبیعت خراب کریں۔”

وہ از حد سنجیدگی سے بولا تھا لیکن اس کے لہجے میں ان کے لیے احترام اور فکر بھی تھی۔

“خود بتاؤ جب بچے رات دیر تک گھر نہیں لوٹیں تو ایک ماں کیسے ٹینشن نہیں لیا کرے”

وہ دکھی ہوتیں بولیں تو زہرام نے جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور ان کی جانب دیکھا۔

باقی سب خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔

“جی میں کوشش کروں گا آئندہ وقت پر آ سکوں۔۔۔میر آپ کل یونی سے دیر سے کیوں لوٹے تھے ؟ ایگزیمز بھی ہو چکے ہیں تو اب تو سٹڈی بھی زیادہ نہیں ہے ناں آپ کی پھر وجہ جان سکتا ہوں دیر سے گھر آنے کی ؟”

زہرام صائمہ بیگم کو جواب دے کے بیک وقت میر ہادی سے مخاطب ہوا تو اس نے حیرت

سے سر اٹھایا تھا۔

یعنی زہرام کی نظر ہر جگہ رہتی تھی وہ ان سب سے لاپرواہ ہرگز نہیں تھا۔

ہادی کے دیکھنے پر زہرام نے آیبرو اچکا کر اسے بولنے کہ اشارہ کیا تو وہ صرف ایک لمحے کو گڑبڑایا تھا۔

“بھائی وہ حسام کچھ دنوں سے ابسینٹ تھا تو اسے نوٹس بنانے تھے اس لیے میں اسے کمپنی دینے کی خاطر کچھ دیر رک گیا تھا”

وہ بھی میر ہادی تھا ہچکچانہ تو اس کے خون میں ہی شامل نہیں تھا۔

اس نے بے حد کانفیڈنس سے جھوٹ بولا تو

میر زہرام نے بس ایک جانچتی نظر اس پر ڈالی مگر اس کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر وہ بھی کچھ مطمئین ہوا تھا۔

“ہممم۔۔۔لیکن آئندہ تم يونیورسٹی ٹائمنگ کے بعد وہاں نہیں رہو گے اور کبھی کوئی مجبوری پیش آئے تو پہلے مجھے کال کر کے اِنفام کرو گے”

وہ اپنے پر روعب لب و لہجہے میں بولا تو میر ہادی نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا۔

“بھائی پلیز یار اب میں کوئی بچہ نہیں رہا کے آپ اتنا پریشان ہو جاتے ہیں میری باتوں پر۔۔۔اب آپ بجائے ٹینشن لینے کے ریلیکس رہا کریں کہ میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں”

میر ہادی مصنوعی ناراضگی سے بولا تو زہرام نے زرہ غصے سے اسے گھور کر دیکھا تو وہ

نظریں نیچے کر گیا۔

“میرو نہیں اٹھی ابھی تک ؟”

زہرام کو میرال کا خیال آیا تو اس نے صائمہ بیگم سے سوال کیا۔

“ہممم۔۔۔میں اب جا رہا ہوں وہ اٹھے تو اسے کہیے گا مجھے کال کر کے بتا دے اسے کیا کیا چاہئے۔ کل کہہ رہی تھی کچھ چیزیں لینی ہیں اسے. تو میں یاسر (ملازم) سے منگوا کے گھر بھجوا دوں گا”

وہ اٹھتا ہوا بولا تو صائمہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا۔

و حیران تھیں کہ ميرال نے انہیں ایسا کچھ نہیں بتایا تھا مگر وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ ان دونوں میں بہت اٹیچمنٹ تھی تو اس لیے میرب نے صرف زہرام کو ہی بتا دیا ہو گا۔

میر زہرام خدا حافظ بولتا لاؤنج پار کر گیا تو صائمہ بیگم میں گھور کر میر ہادی کو دیکھا تھا۔

کِیُونکہ کل انہوں نے اس سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تھی۔

تو اس نے کہا تھا کہ سٹڈی کا لوڈ زیادہ ہے اس لیے وہ ایکسٹرا کلاسز لے رہا ہے۔

مگر اب زہرام کے پوچھنے پر کس طرح بات بدلی تھی اس نے۔

“اب بتاؤ گی اصل معاملہ کیا ہے یا ابھی بھی سٹڈی کا لوڈ ہونے کی وجہ سے لیٹ ہوئے تھے ؟”

وہ اسے اٹھتے دیکھ تفتیشی لہجے میں بولیں

تو ہادی نے ان کی جانب دیکھتے آنکھ ونک

کی۔

“ماما کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سیریس لے جاتی ہیں آپ۔۔۔جسٹ چل کریں یار۔”

وہ ان کہ دھیان بٹاتا ان کے رخسار کھینچ کر لاڈ سے بولا تو وہ شرما دیں۔

“چل ہٹ پگلا نہ ہو تو۔۔۔”

وہ اس کہ ہاتھ جھٹک کر بولیں تو ہادی مسکرا دیا۔

پھر کچھ ہی دیر میں وہ بھی محبت سے ان کی پیشانی چومتا ان سے دعا لیتا يونی کے لیے نکلا تھا۔

اس کے جانے کے بعد اُنھوں میں ملازمہ کو برتن سمیٹنے کا اِشارہ کیا اور خود اوپر کی جانب بڑھ گئیں۔

جہاں ان کی لاڈلی بیٹی ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھی۔

ساتھ ساتھ وہ ہادی کے بارے میں بھی سوچ رہی تھیں جو آج کل نجانے کن مستیوں میں مگن تھا۔

انہیں اس کی طرف سے فکر لاحق تھی مگر پھر یہ سوچ کر وہ مطمئین ہو گئیں کہ زہرام کے ہوتے ہوئے وہ کبھی نہیں بگڑ سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج پھر کافی دیر سے میر ہادی کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی مگر اگنور کر رہی تھی۔

وہ حیران تھی کہ وہ اس کا سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود بھی یہ سب کیوں کر تھا ہے۔

دیکھنے میں تو وہ اس سے بڑا لگتا تھا مگر وہ جانتی تھی عمر میں وہ اس سے چھوٹا ہی ہو گا۔

وہ چاہتی تھی جلدی سے اس کا لیکچر ختم ہو اور وہ اس کلاس سے جائے ، اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ہادی کی دہکتی نظروں سے۔

اس میں کی مرتبہ سوچا کہ وہ اس سے بات کرے مگر وہ خود میں اتنی ہمت بھی رکھتی تھی کہ اس سے بات کر لیتی۔

بیشک وہ اس کا سٹوڈنٹ تھا مگر تھا تو مرد ہی اور ویسے بھی وہ اسے کافی نوٹ کروا

چکا تھا کہ وہ واقعی مرد ہی ہے سٹوڈنٹ نہیں۔

وہ اس سے بلکل بھی ڈرتا تھا ، ہر بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کرنا میر ہادی کی عادت تھی۔

وہ ٹیچر ہونے کہا باوجود شرمندہ ہو جاتی تھی مگر ہادی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔

وہ آج اورنج فروک اور پجاما میں تھی جس پر اس نے گرین دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا۔

پیچھے بالوں کی پانی ٹیل بنا رخی تھی اور چہرے پر دو لٹیں نکال رہی تھیں۔

گرین کھسے میں گلابی اور سفید نازک سے پاؤں بلاشبہ وہ آج بھی بے حد حسین لگ رہئی تھی اور تھی چیز ہادی کو بری لگتی تھی۔

ہادی چاہتا تھا وہ خود کو چھپا کر رکھے مگر سہانا کو شاید اپنی خوبصورتی کا اندازہ نہیں تھا جو وہ یوں بے پردگی سے سب کے سامنے آ جاتی تھی۔

آج سہانا سب سٹودنٹس سے پریزنٹیشن لے رہی تھی۔

باری باری انہیں بورڈ پر بلا کر وہ ان کی ذہانت دیکھنا چاہ رہی تھی۔

جہاں سب سٹوڈنٹس کا دھیان بورڈ کی طرف تھا وہیں میر ہادی فرسٹ سے سہانا کو دیکھ رہا تھا۔

وہ اس کی نظروں سے کنفیوز سے ہوتی اب پہلو بدل رہی تھی۔

“میر ہادی کم ہیئر”

ہادی کی باری آنے پر اس نے نظریں بک پر گاڑھتے سنجیدگی سے کہا تھا کیونکہ اس میں ہمت نہیں تھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کے بلانے کی۔

پر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا ، وہ ڈھٹائی سے بیٹھا رہا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہو۔

سہانا کو سخت غُصہ آ رہا تھا اس لڑکے پر جو جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا۔

“میر ہادی”

وہ اس کہ نام چبا چبا کر بولی تو ہادی نے مسکراہٹ دبائی۔

“یس”

وہ کھڑا ہوتا بولا۔

“کم ہیئر اینڈ شو یور پریزنٹیشن”

وہ اب نا چاہتے ہوئے بھی اس کی جانب دیکھتی بولی تو ہادی مسکرا کر آگے بڑھا۔

وہ بلو جینز پر گرے شرٹ پہنے اس پر بلو ڈینم جیکٹ پہنے نیچے وائٹ جوگرز پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔

کلاس میں موجود سب لڑکیوں کی نظریں اسی پر ٹکی تھیں۔

وہ خوبصورت چال چلتا اسٹیج پر آیا۔

سہانا جو ڈائس کے قریب کھڑی تھی اسے اپنی طرف آتے دیکھ گھبرا کر قدم پیچھے گئی۔

ہادی اس کی حرکت پر مسکرایا اور ڈائس سے

مارکر لیتا بورڈ تک گیا۔

اور ہمیشہ کی طرح میر ہادی کی پریزنٹیشن سب سے زبردست رہی تھی ، مگر سہانا چاہ کر بھی اس کی تعریف نہیں کر پائی تھی۔

“پریڈ ختم ہونے کے بعد تم مجھے میٹنگ روم میں ملو گی”

وہ مارکر رکھنے کے بہانے دوبارہ اس کے قریب اتا سنجیدگی سے اپنی بات کرتا واپس اپنی چیئر پر کا کر بیٹھ گیا تھا۔

جبکہ سہانا اس کی بات اور لہجے اور دنگ رہ گئی تھی۔

اس نے آپ کہنے کا تکلف بھی بھی کیا تھا اور کیس طرح تم کے کر بات کرتا چلا گیا تھا۔

سہانا پریشان تھی کہ وہ اسے ملنے کا کیوں

کہہ رہا ہے۔

پھر سارا پریڈ وہ یہی سوچ سوچ کر گھبراہٹ میں مبتلا رہی کہ اب وہ کرے تو کیا کرے۔

میر ہادی نے تو اسے لوگوں میں بے عزت کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی۔

اس کے لیے اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا ، وہی جانتی تھی کتنی مشکلوں سے اسے یہ جاب ملی تھی اور کتنی ضرورت تھی اسے اس جاب کی۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہادی کی کسی بھی حرکت کی وجہ سے اس کی جاب خطرے میں پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کہاں رہ گئے تھے تم زریاب ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے۔”

میر زریاب کو آتا دیکھ علیم بے چینی سے بولا تھا۔

آج وہ سب ایک ریسٹورنٹ آئے تھے جہاں زریاب ملک نے انہیں ٹریٹ دینی تھی۔

ٹریٹ کی وجہ یہ تھی کہ زریاب کی پہلی بزنس ڈیل بہت اچھے سے ہوئی تھی۔

اذلان ملک بھی بیٹے کی پہلی کامیابی پر بہت خوش تھے، ان کا بزنس پہلے ہی پورے پاکستان میں پھیلا تھا۔

مگر زریاب انٹرسٹ نہیں لے رہا تھا ، جب

انہوں نے بہت اسرار کیا تب جا کر زریاب نے کچھ دیر آفیس جانا شروع کیا تھا۔

اور اب وہ بہت دانش مندی سے اپنی پہلی ڈیل سے بھی بہت پروفٹ لے چکا تھا۔

علیم ، عامر اور سلمان تینوں اس کے دوست تھے تو اس نے انہیں ٹریٹ دینے کا سوچا اور آج وہ یہاں موجود تھے۔

“میں نے ہزار مرتبہ تم سے کہا تھا کہ کوئی اچھا ریسٹورانٹ ڈیسائڈ کر لو لیکن تمہیں نجانے اس لو کلاس ریسٹورنٹ میں کیا دکھا کہ تمہاری سوئی یہیں اٹکی رہی۔جانتے بھی ہو مجھے اس قسم کی جگہ پر کھانا نہیں پسند تو تمھاری اس بیوقوفی کی وجہ جان سکتا ہوں ؟”

زریاب حقیر نظروں سے ارد گرد دیکھتا عامر

سے مخاطب ہوا تو وہ معنی خیزی سے مسکرایا اور اسے زبردستی ایک چیئر پر بٹھایا۔

“جانتا ہوں تمہیں اس قسم کے ریسٹورنٹ نہیں پسند مگر اس ریسٹورنٹ کی ایک خاص

بات ہے کہ یہاں سرو فیمیل ویٹرز کرتی ہیں۔۔۔۔”

عامر ایک آنکھ دبا کے بولا تو علیم اور سلمان نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا جبکہ مّیر زریاب نے گھور کر ان تینوں کو دیکھا تھا۔

“اور تو لعxنتxی انسان یہ بات ہمیں اب بتا رہا ہے۔۔۔شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تجھے۔ اتنے عرصے سے اکیلے اکیلے مزے لوٹتے تجھے ہماری زرہ یاد نہ ائی”

سلمان نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھتے

غصّے سے کہا تو زریاب کا دل کیا دونوں کے منہ تھپڑوں سے سجا دے۔

کس قدر فضول چیز پر بحث کر رہے تھے وہ دونوں۔

“شرم سے ڈوب مرو دونوں۔۔۔اور عامر تم۔تم نے بہت غلط کیا یہاں آ کر۔خیر اٹھو اب ہم چاروں یہاں سے جا رہے ہیں میں مزید اس ماحول میں نہیں بیٹھ سکتا”

زریاب غصّے سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

دراصل وہ فائیو سٹار ہوٹلز میں جانے والا اس چھوٹے مگر خوبصورت ترین ریسٹورنٹ میں گزارا نہیں کر پا رہا تھا۔

ابھی وہ قدم آگے بڑھاتا کے علیم اور عامر تیزی سے اس تک ائے اور اسے کھینچ کر

دوبارہ بٹھایا۔

“یار بیٹھ تو صحیح۔ بیشک کھانا نہ کھانا لیکن یہاں اور بھی بہت کچھ ہے کرنے کو وہ تمہیں کچھ ہی دیر میں معلوم ہو جائے گا”

عامر بھی شاید آج یہاں سے نہیں جانے والا تھا اور ناں ہی وہ اسے جانے دے سکتا تھا۔

“میں سمجھ رہا ہوں یہ صاحب زادہ اس لیے جانا چاہئے رہا ہے کیونکہ اسے تو ان چیزوں کی کمی نہیں۔ جہاں ہم لڑکیاں پٹاتے ہیں وہیں لڑکیاں اسے پٹاتی ہیں تو اسے کیا مجبوری یہاں آ کر ان نظاروں سے لطف اٹھانے کی۔”

سلمان جلتا ہوا بولا تو زریاب نے ذرہ سخت نگاہوں سے اسے دیکھا تھا، شاید اسے اس کی بات پسند نہیں آئی تھی۔

“میرے بارے میں بات کرنے سے پہلے سوچا کرو یونہی نہیں بول دیا کرو”

وہ روعب سے بولا تو تینوں ہی خاموش ہوئے تھے۔

“اب کسی کو بلاؤ بّھی آرڈر کے لیے یا بس جگتیں ہی مارتے رہو گے تم”

میر زریاب عامر کی جانب دیکھتا سنجیدگی سے بولا تو عامر نے مسکرا کر سر ہلایا۔

پھر اس نے ٹیبل پر چمچ کھٹکایا اور بلند آواز میں ویٹر پکارا۔

اب زریاب تو سیل میں مگن تھا جبکہ وہ تینوں بے چینی سے دروازے کی جانب دیکھ رہے تھے۔

تبھی اچانک ایک لڑکا ہاتھ میں مینیو بک لیے دروازے سے داخل ہوا اور سیدھا ان کے پاس آ کر اس نے بک اس کی ٹیبل پر رکھی۔

“اسلام و علیکم سر۔۔۔آپ آرڈر ڈیسائڈ کر لیں پھر کال دیجئے گا “

وہ احترام سے کہتا دوبارہ جا چکا تھا۔

ذریاب نے جب لڑکے کی آواز پر پر اٹھایا اور سامنے میل ویٹر کو دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔

پھر اس کی نظر آئیں تینوں پر گئی ہو شاید ابھی بھی سکتے میں ہی تھے۔

“ہیلو گایز ہوش میں آؤ یار۔۔۔ہاہاہاہا”

اس نے انہیں پکارا پھر وہ زبردست قہقہہ

لگایا۔

اب سلمان اور علیم کی سرخ نظریں عامر پر تھیں جو خود حیران تھا۔

“بے غیرت انسان بتا کہاں ہیں فیمیل ویٹرز ہاں۔”

علیم اس کی طرف دیکھتا تپ کر بولا تو عامر

نے گڑبڑا کے اسے دیکھا۔

“یار میں تو خود حیران ہوں۔۔۔خبر تو پکی تھی جانے کیا ہوا ہے یہ”

وہ صدمے میں دھیمی آواز میں ہی بولا تو زریاب نے مسکرا کے اسے دیکھا۔

“تیری ساری خبریں پکی ہی ہوتی ہیں۔ چل اٹھ اب چلیں۔”

زریاب طنز کرتا اٹھا تو سلمان نے اسے دیکھا۔

“زریاب یار بیٹھ جا اب بھوک لگ رہی ہے مجھے اور اب آ ہی گئے ہیں تو کچھ کھا کر ہی جائیں گے۔”

سلمان سنجیدگی سے بولا تو زریاب بھی سر ہلا کر ایک دفعہ پھر بیٹھ گیا کیونکہ ویسے بھی ابھی اسے آفیس بھی جانا تھا لنچ کے

بعد۔

اگر وہ لوگ کسی اور ریسٹورنٹ جاتے تو اس کا ٹائم مزید ویسٹ ہونا تھا۔

اس کے بعد ان کے درمیان ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں تھی ساتھ ہی ساتھ وہی ویٹر دوبارہ آ کے آرڈر لے گیا تھا۔

ابھی وہ لوگ باتیں کے ہی رہے تھے کے سلمان کی نظر ایک نازک سی لڑکی پر پڑی جو انہی کی طرف آ رہی تھی۔

وہ ایک ٹرالی گھسیٹ کر لا رہی تھی جس میں ان سب کا کھانا موجود تھا۔

“بوائز لک ایٹ ہر”

سلمان بے حد پر جوشی سے بولا تھا مگر آواز

کم ہی رکھی تھی تاکہ وہ سن نہ لے۔

اس کی بات پر تینوں نے ہی اس جانب دیکھا تھا۔ جہاں اب وہ خوبصورت سی لڑکی ان سب لڑکوں کو اپنی جانب دیکھتے محسوس کر کے سہم گئی تھی۔

میر زریاب ملک جو لڑکیوں کو چھونا تو دور کی بات ان پر دوسری نظر ڈالنا بھی گوارہ نہیں سمجھتا تھا۔

آج وہ بھی بس اس لڑکی کو دیکھے جا رہا تھا ، اسے ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں رہا تھا۔

اگر کچھ نظر آ رہا تھا تو وہ تھی وہ ویٹريس جو اب ان کی ٹیبل کے قریب آ کر رک چکی تھی۔

وہ سلمان کی چیئر کے بہت قریب کھڑی تھی

جو بات میر زریاب کو بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی۔

وہ اپنی فیلینگز سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسے کیوں اتنی آگ لگ رہی ہے مگر جو بھی تھا اسے یہ چیز پسند نہیں آ رہی تھی۔

چاروں کی نظریں ہی اس پری پیکر پر گڑھی تھیں جس کی وجہ سے اب اس کے سرو کرتے ہاتھ بری طرح کپکپا رہے تھے۔

زریاب کی نظر جب اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر گئی تو اس نے تیزی سے نظریں

اس کے چہرے کی طرف کی تھیں جو اب سرخ پڑ رہا تھا۔

زریاب کو لگ رہا تھا وہ ابھی رو دے گی اسے اپنی بے اختیاری پر غصّہ آیا کہ اس کی وہ سے ایک لڑکی انکمفرٹیبل محسوس کر رہی

تھی۔

“نظریں نیچی کرو”

وہ اچانک ان تینوں پر دھاڑا تھا۔

وہ جو لالچی نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہے تھے زریاب کی آواز پر بد مزہ ہوئے۔

ساتھ انہیں حیرت بھی ہوئی تھی کیونکہ زریاب بیشک خود لڑکیوں کہ جانب نہیں دیکھتا تھا مگر اس نے کبھی ان تینوں کو منع نہیں کیا تھا۔

تینوں نے پہلی اس کی جانب دیکھا جو اب

خود کو سیل میں مصروف کرنے کی کوشش کر رہا تھا ، پھر تینوں اسے اگنور کرتے دوبارہ سے اس کی جانب دیکھنے لگے۔

وہ آہستہ آہستہ ڈشز ٹیبل پر رکھ رہی ہے اور

سلمان ہر بار جان بوجھ کے ڈش اس کے ہاتھ سے لینے کے بہانے اس کی کلائی یا ہاتھ کو چھو رہا تھا۔

اس کی آنکھیں اب آنسوؤں سے بھر چکی تھیں مگر اسے یہاں رونے کی اجازت نہیں تھی اس لیے وہ کوشش کر رہی تھی کہ آنسو پی جائے کسی طرح۔

“سلمان آئی سیڈ سٹاپ اٹ رائٹ ناؤ”

وہ سیل کی سکرین پر نظریں جمائے ہی وحشت سے بولا تھا۔

اس لڑکی نے ایک نظر اس کو دیکھا جو

دیکھنے میں بلا کا ہینڈسم تھا۔

سلمان نے نہ گواری سے اسے دیکھا اور دو منٹ بعد وہ دبرا اپنی حرکتوں پر اُتر آیا تھا۔

اس دفعہ سلمان نے جیسے ہی ہاتھ اس کی کلائی پر رکھا میر زریاب ملک اٹھا تھا اور اس نے اپنا سیل کھینچ کر دیوار میں مارا۔

وہ تینوں بھی تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ وہ ویٹریس خوفزدہ ہوتی پیچھے ہو گئی تھی۔

“تم لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی گھنٹے سے کیا بکواس کیے جا رہا ہوں میں۔۔۔ہاں”

وہ اس قدر بلند آواز میں دھاڑا تھا کہ وہ سہم کر مزید دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔

“زریاب یار تو اتنا اوور ریکٹ کیوں کر رہا ہے۔ تجھے کیا فرق پڑتا ہے یہ اسے چھوئے یا”

“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ ایک لفظ بھی مزید مت نکالنا”

ابھی عامر اس کے بارے میں مزید کچھ کہتا جب وہ پھر سے چلایا تو علیم نے ان دونوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

وہ کہیں نہ کہیں زریاب کے جذبات سمجھ رہا تھا جو زریاب خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔

“تم سب کر کیا رہے ہو یار بے مقصد لڑنے کہا فائدہ ؟ ۔۔۔۔اور پلیز آپ یہاں سے جائیں”

علیم ان اب سے کہتا اس لڑکی سے مخاطب ہوا تو وہ تیزی سے پلٹ گئی زریاب نے گہری

نظروں سے اسے دیکھا جو سیاہ شلوار ، قمیض پر سیاہ دوپٹا شلوڈرز میں ڈالے ہوئے تھی جو صرف اور صرف اس کا سینے ڈھانپ رہا تھا۔

“اب خود کیوں دیکھ رہے ہو اسے”

عامر ذرہ خفگی سے بولا تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔

“آئندہ تم لوگ یہاں نہیں آؤ گے”

وہ حکم دیتا بولا تو تینوں نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔

“اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم نہیں آئیں گے”

سلمان آئیبرو اچکا کر بولا تو زریاب نے خوں خوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

“ایک بار کہہ دیا ہے ناں کہ نہیں آؤ گے تو اس

کا مطلب ہے نہیں آؤ گے”

وہ دھاڑا اور ٹیبل پر کافی سارے نوٹ رکھتا اپنی گاڑی کی کیز اور والیٹ اٹھاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

پیچھے وہ تینوں بھی بغیر کچھ کھائے نکل

گئے تھے کیونکہ ان کے لیے ان کا دوست اب سے اہم تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *