Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 19)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

“بھائی میں آج ایک دفعہ پھر بہت اُمیدِ سے آپ سے کچھ مانگنے آئی ہوں ، جانتی ہوں آپ انکار نہیں کریں گے۔۔۔”

زہرام اور صائمہ بیگم ملازموں اور تحائف کے ساتھ ایک دفعہ پھر ملک مینشن میں موجود تھے۔

زہرام زریاب کے ساتھ بیٹھا تھا ، جبکہ صائمہ بیگم کے ساتھ عینا بیٹھی تھی۔

اذلان صاحب کے قریب عدیلہ بیگم بیٹھی تھیں ، سہانا نے آج لیٹ آنا تھا یونیورسٹی میں کو پارٹی تھی۔

اس وجہ اسے وہ یہاں موجود نہیں تھی۔

“بھابھی پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہیں۔ بتائیں کیا چاہیے آپ کو۔۔۔یقیناً آپ کو بھی مانگیں گی وہ اگر میرے بس میں ہوا تو آپ کو کہیں سے بھی لا کر دوں گا”

اذلان صاحب سنجیدگی سے بولے تھے ، اب سب ہی ان کی جانب متوجہ تھے۔

“دراصل میں میر ہادی کے لیے سہانا کا رشتہ لینے آئی ہُوں۔میر کی اپنی خواہش تھی اس میں۔وہ ابھی نکاح کرنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ بس سہانا کو راضی کر دیں۔”

انہیں نے پہلے عینا کو دیکھا پھر عدیلہ بیگم کی جانب دیکھتی بولیں۔

“ہممم۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ بہت خوشی ہوئی مجھے اس بات پر۔ میں سہانا کو پرائے ہاتھوں میں سونمپنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ ہادی اپنا بچہ ہے اور ماشاللہ بہت پیارا ہے۔میری طرف سے تو مکمل رضامندی ہے اور آپ پریشان مت ہوں میں سہانا بیٹی سے بھی بات کر لوں گا”

انہوں نے مسکرا کر جواب دیا ، تو صائمہ بیگم پرسکون ہوئیں۔

“بہت شکریہ مجھے پتہ تھا آپ انکار نہیں کریں گے”

انہوں نے خوشی سے کہا جبکہ زہرام بھی مسکرایا تھا۔

وہاں بیٹھے تمام لوگوں کو یہ فیصلہ پسند آیا تھا ، خاص کر عینا کو بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس کی بہن بھی اسی کے خاندان میں رہے گی۔

عینا جانتی تھی سہانا ابھی شادی کے لیے نہیں مانے گی مگر وہ منا ہی لیتی کسی طرح۔

“آنٹی علیزے اور میرو کو بھی لے آتیں آپ”

عینا کپس میں چائے انڈیلتی ان سے مخاطب ہوئی۔

“بیٹا میرو کی ٹیوشن کا ٹائم تھا اور علیزے کی طبیعت بہتر نہیں تھی تو آرام کرنے دیا اسے۔”

اُنھوں نے نرمی سے جواب دیا مگر عدیلہ بیگم پریشان ہو اٹھیں۔

“بھابھی کیا ہوا علیزے کو ؟”

انہوں نے فکرمندی سے سوال کیا۔

“بخار تھا حلکہ سا۔لیکن آپ پریشان نہیں ہوں زہرام نے ڈاکٹر بلوا کر چیک اپ کروایا ہے اور میڈیسن بھی دے کر ائے ہیں۔انشاءاللہ صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔”

صائمہ بیگم نے انہیں تسلی دی تو وہ کچھ مطمئین ہوئیں۔

عینا نے سب کو چائے سرو کی تو سب خوشگوار ماحول میں باتیں کرتے چائے سے لطف اندوز ہونے لگے۔

پھر زریاب سہانا کی کال آنے پر اسے پک کرنے چلا گیا جبکہ باقی سب وہیں رہے۔

“اب ڈنر تیار کروا رہی ہوں میں تو آپ لوگ کر کے ہی جائیے گا۔”

عدیلہ بیگم نے محبت سے کہا تو صائمہ بیگم مسکرائیں۔

“نہیں بھابھی پھر کبھی صحیح۔ ابھی بچے گھر ہیں تو جانا پڑے گا ہمیں۔”

انہوں نے رسان سے انکار کیا تھا ، جبکہ زہرام نے بھی سر ہلایا۔

“تو اس میں کیا ہے۔اذلان ابھی کال کر دیتے ہیں میر کو وہ بچیوں کو لے کر یہیں آ جائے گا”

انہوں نے پریشانی کا حل نکالا تھا۔

ان کی بات پر عینا بھی خوش ہوئی ، وہ بھی ان دونوں سے ملنا چاہتی تھی۔

“نہیں تائی ہم کبھی پھر کے لیں گے ڈنر۔ علیزے کی طبیعت ٹھیک نہیں تو اسے بھی آرام کرنا چاہیے اور ہم بھی اب چلتے ہیں۔”

زہرام سنجیدگی سے بولا۔

“بیٹا کیوں میری بیگم کی آفر کو بار بار رد کر رہے ہیں آپ لوگ۔ ان کا دل ہے ساتھ ڈنر کرنے کا تو کے لیں ناں بھئی”

اذلان صاحب نے مسکرا کر کہا تو زہرام بھی مسکرا دیا۔

پھر اذلان صاحب نے کال کر کے میر کو ان دونوں کے ساتھ مینشن آنے کا کہا تو اس نے کہا کچھ دیر تک پہنچتے ہیں۔

جبکہ زہرام اٹھ کر باہر آیا اور اس نے فوراً سے علیزے کا نمبر ڈائل کر کے سیل کان سے لگایا۔

“جی۔۔زہرام”

اس نے پک کرتے ہی نقاہت سے کہا تو زہرام کو تکلیف ہوئی۔

“کیسی ہے میری جان ؟”

اس نے محبت اور فکر مندی سے پوچھا۔

“ٹھیک ہوں لیکن آپ آئے کیوں نہیں ابھی تک ، اور کیا بنا ، کیا جواب دیا سب نے”

اس نے آہستہ سے بہت سارے سوال کیے تو زہرام مسکرایا۔

“حد ہے بخار میں بھی چین نہیں میری بیوی كو۔۔۔خیر ابھی تمہاری مما نے ہمیں یہیں روک لیا ہے ڈنر پر اور چاچو نے ہادی کو کہا ہے تم دونوں کو ساتھ لیے گا وہ اِدھر۔تو میں نے اس لیے کال کی ہے تمہیں کہ اچھے سے کوئی گرم شال اوڑھ کر آنا۔ طبیعت خراب ہو جائے گی سردی ہے۔”

اس میں نرمی سے سمجھایا تو دوسری طرف وہ مسکرا دی۔

“ٹھیک ہے مسٹر ! اور کوئی حکم ؟”

اس نے شرارت سے کہا۔

“نہیں فلحال بس اتنا ہی کر دو بہت ہے”

اس نے سنجیدگی سے کہا پھر وہ کال کٹ کرتا اندر آیا۔

کچھ دیر میں حال سب لوگوں سے بھر چکا تھا۔

سہانا یونی سے ابھی ائی تھی تو وہ اوپر فریش ہونے گئی تھی ، باقی سب حال میں جمع تھے۔

“کیسی ہے میری چھوٹی سی گڑیا”

عینا ميرال کی گال کھینچ کر محبت سے بولی ، علیزے کی طبیعت کے پیشِ نظر عدیلہ بیگم نے اسے کمبل اوڑھا دیا تھا۔

وہ اب کمبل میں لپٹی ان کے ساتھ بیٹھی تھی۔

میرال کا دل آج بہت اُداس تھا ، مگر وہ سب کے سامنے خوش ہونے کی اداکاری کرنے پر مجبور تھی۔

“میں ٹھیک۔آپ کیسی ہیں ؟”

اس نے آہستہ سے مسکرا کر کہا تو عینا نے منہ بنایا۔

“آج تو اس بے بی نے بہت تنگ کیا ہے مجھے ، سارا دن وومٹس ہوئی ہیں ، زریاب تو انجکشن لگوانے والے تھے اب مگر میں نے رو دھو کر روک لیا”

اس میں دکھ سے اپنی داستان سنائی تو علیزے بھی پریشان ہوئی۔

“عینا ہوا کیا ہے ؟ ڈاکٹر کے پاس جاؤ یار یوں تو طبیعت زیادہ خراب ہو گی”

علیزے نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے سر ہلایا۔

“کل گئی تھی ڈاکٹر کے پاس بھی انہوں نے میڈیسن دی تھیں اور کہا تھا کہ ڈائٹ کا خیال رکھوں جو کہ میں رکھ رہی ہوں۔”

اس نے آہستہ سے کہا تو علیزے نے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں سوچ رہی ہوں سہانا کے بعد میں کتنی اکیلی ہو جاؤں گی جبکہ تم سب ایک ساتھ رہو گی۔”

عینا اُداسی سے بولی ، بیشک اس کی بات ٹھیک تھی سہانا کے بعد وہ بہت اکیلی ہونے والی تھی۔

جبکہ وہ تینوں ایک ہی گھر میں رہنے والی تھیں۔

“ہممم بات تو ٹھیک ہے۔مگر ہم آتے جاتے رہیں گے یار اور ویسے بھی ان کی شادی تک تمہارے پاس اپنا بے بی آ جائے گا تو تم بلکل بور نہیں ہو گی”

علیزے نے مسکرا کر کہا تو عینا بھی دھیما سا مسکرا دی۔

تبھی سہانا ڈارک گرین شلوار قمیض پر اورنج دوپٹہ اوڑھے نیچے آئی۔

وہ سب کو سلام کرتی ، صائمہ بیگم سے گلے ملی پھر ان تینوں کے قریب آ کر بیٹھی۔

“آج تو ماشااللہ بہت رونق لگی ہے بھئی۔”

اس نے مسکرا کر کہا ، وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ رونق کا مقصد سے لگی ہے۔

ہاں میر ہادی کو اس نے اگنور کیا تھا ، جبکہ اس نے بھی سہانا کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا۔

“ہممم ماشاللہ”

علیزے مسکرا کر بولی۔

یہ تینوں اب آپس میں باتیں کرنے لگیں جبکہ میرال خاموش بیٹھی رہی تھی۔

اگر وہ اسے مخاطب کرتیں تو وہ جواب دے دیتی۔

کچھ دیر بعد عدیلہ بیگم نے کھانا لگوا دیا تو سب نے دل سے کھانا کھایا اور اتنے احتمام کا شکریہ ادا کیا۔

عینا نے اٹھ کر کھانا سرو کرنا چاہا تو زریاب نے سب کے سامنے اسے ڈانٹ دیا تھا۔

جس پر وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی تھی ، اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔

اذلان صاحب نے بہت پیار سے اسے سمجھایا تب جا کر اس نے کھانا کھایا تھا۔

چائے کے بعد وہ سب سے ملتے اپنے گھر کے لیے نکلے تھے۔

جبکہ اذلان صاحب نے سہانا کو اپنے کمرے میں بلوا لیا تھا۔

سہانا اندر داخل ہوئی تو وہ دونوں میاں بیوی اسے دیکھ کر مسکرائے۔

وہ بھی مسکرائی ، عدیلہ بیگم نے اسے ساتھ بٹھایا۔

“جی بابا”

وہ آہستہ سے بولی۔

“بیٹا بھابھی آج خاص طور پر میر کے لیے آپ کا رشتہ لائی تھیں۔ وہ سب اسی مقصد سے ائے تھے ادھر۔میں نے رضامندی دے دی ہے اب بس آپ سے آپ کی رضامندی چاہیے۔مجھے یقین ہے میری بیٹی اپنے لیے بہتر فیصلہ کرے گی”

اُنھوں نے سمجھداری سے بات کی تو سہانا نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

اس کے ذہن میں ہی نہیں رہی تھی میر کی دھمکی۔

سہانا کو لگا وہ صرف اپنی کہی بات پوری کرنا چاہ رہا ہے۔

“بابا۔۔۔آپ کو کیا بہتر لگتا ہے ؟”

اس نے سنجیدگی سے ان سے سوال کیا تھا۔

وہ بڑوں کے فیصلوں پر سر جھکانے والی لڑکی تھی۔

“بیٹا سچ بولوں گا ، بات یہ نہیں کہ وہ میرا بھتیجا ہے۔ وہ نہیں بھی ہوتا تب بھی میں یہی کہتا کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے، میں نے کبھی اس کی شکایت نہیں سنی ، مزاج بھی بہت اچھا ہے اس کا اور پڑھائی کے بعد وہ بھی اپنا بزنس سمبھالے گا۔مجھے نہیں لگتا کہ ہادی سے بہتر کوئی آپ کے لیے ہو سکتا ہے۔ہادی ایک ہیرا ہے۔ بلکل زہرام اور زریاب کی طرح وہ بھی بہت زمہ دار ہے۔لیکن خیر آپ اپنی مرضی بتائیں آپ کو کیا کرنا ہے۔”

انہوں نے سنجیدگی سے سوال کیا تو اس نے عدیلہ بیگم کو دیکھا۔

“مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن میں ابھی شادی نہیں رکھنا چاہتی کچھ عرصہ “

اس نے بہت اچانک ہی فیصلہ کیا تھا ، وہ دونوں اس کے فیصلے پر خوشی سے مسکرائے۔

“بہت اچھا انتخاب کیا آپ نے۔ اللہ میری بچی کو جہاں رکھے ہمیشہ خوش رکھے”

وہ اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے ، عدیلہ بیگم نے بھی اسے سر پر پیار کیا۔

وہ کچھ دیر بعد اپنے کمرے میں ائی تو بہت اُلجھی ہوئی تھی۔

ہاں اشیاء ہادی سے کوئی خاص مسلہ نہیں تھا اسی لیے اس نے ہاں کر دی تھی ، وہ جانتی تھی کبھی تو شادی کرنی ہی ہے تو اس سے ہی کر لے۔

ویسے بھی اس طرح وہ عینا اور سب کہ قریب رہ سکتی تھی۔

سہانا نے اپنا آپ اللہ کے سپرد کیا ، کِیُونکہ وہ ذات یقیناً اسے پر سکون رکھ سکتی تھی۔

اللہ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ، سہانا کو یقین تھا اس کا رب اس کے لیے بہتر ہی کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زہرام کے ساتھ میرال اور علیزے دونوں موجود تھیں۔

وہ ڈرائیو کر رہا تھا ، علیزے فرنٹ سیٹ لے تھی جبکہ میرال پیچھے بیٹھی تھی۔

وہ مسلسل باہر شیشے سے پار دیکھ رہی تھی ، جبکہ اس کی خاموشی پر وہ دونوں حیران تھے۔

“میرو کیا ہوا میری جان آج خاموش کیوں ہے ؟”

زہرام گاڑی آہستہ کرتا محبت سے بولا۔

علیزے نے بھی پیچھے دیکھا ، میرال اب اچانک سے سیدھی ہوئی تھی۔

“کک۔۔کچھ نہیں بھائی۔۔بس ایسے ہی کیا بولوں۔۔۔”

اس نے گھبرا کر کہا تھا۔

جبکہ اس کے جواب پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ، پھر زہرام نے بیک ویو مرر سے پیچھے اس کی جانب دیکھا۔

“میرا بچہ کب سے سوچنے لگا کہ کیا بولا جائے ؟”

اس نے نرمی سے پوچھا تو میرال کی آنکھوں میں پانی آیا تھا۔

کاش وہ اسے بتا سکتی کہ زمانہ اب اسے بچہ نہیں سمجھتا ، مگر وہ آہستہ سے ہاتھ رکھتی آنسو صاف کر گئی۔

“پتہ ہے میرو اب ہم جلدی سے ہادی کی بھی شادی کرنے والے ہیں پھر سہانا بھی ہمارے پاس آ جائے گی”

علیزے نے اسے باتوں میں لگانا چاہا۔

“جی”

اس نے آہستہ سے کہا ، وہ بولنا چاہ رہی تھی مگر وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی ، اسے لگ رہا تھا وہ اچانک چیخنے لگے گی۔

وہ بمشکل خود کو ضبط کیے ہوئے تھی۔

“گول گپے اور عائیس کریم کھلاؤں اپنی گڑیا کو ؟”

زہرام اس خوش کرنے کی خاطر بولا۔

“نہیں بھائی بس گھر لے چلیں مجھے نیند آئی ہے۔”

اس نے آہستہ سے کہا تھا۔

اب وہ دونوں خاموش ضرور ہوئے تھے مگر الجھ کر رہ گئے تھے۔

کِیُونکہ میرال نے کبھی اس طرح نہیں کیا تھا ، بیشک اس کی طبیعت خراب بھی ہو وہ پھر بھی مسکراتی رہتی تھی ، بولتی رہتی تھی۔

مگر آج اس کی خاموشی ان دونوں کو کھٹک رہی تھی۔

زہرام نے پورچ میں گاڑی روکی تو وہ تیزی سے باہر نکلتی اندر بھاگ گئی۔

“نجانے ہوا کیا ہے اسے۔ کہیں تائی امی نے ڈانٹا تو نہیں ؟”

زہرام پریشانی سے علیزے سے بولا تو اس میں نفی کے سر ہلایا۔

“نہیں زہرام صبح تک تو بلکل ٹھیک تھی۔جب آپ لوگ گئے تب بھی ٹھیک تھی۔لیکن شام کو ٹیوشن کے بعد جب میرے پاس آئی تب وہ خوشگواریت نہیں تھی اس کے لہجے میں ناں ہی پہلے کو طرح کھلی کھلی تھی۔”

اس نے سنجیدگی سے کہا اب وہ دونوں بھی باہر آ چکے تھے۔

ساتھ ساتھ چلتے اوپر کی طرف بڑھ رہے تھے۔

“ہممم۔۔۔تم پریشان مت ہو روم میں آؤ پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تمہاری۔ میں بات کروں گا اس سے”

زہرام نے سنجیدگی سے کہا تو علیزے نے سر اثبات میں ہلایا۔

وہ دونوں روم میں آئے تو علیزے کو اس نے بیڈ پر لٹایا ، پھر اشا میڈیسن دی۔

اس پر كمفرٹر ٹھیک کر کے زہرام نے اس کی پیشانی پر پیار کیا۔

“تم ریسٹ کرو میں میرو سے بات کر کے آتا ہُوں”

اس نے محبت سے کہا تو علیزے مسکرا دی۔

وہ کمرے سے چلا گیا۔

زہرام بہت خیال رکھنے والا تھا یہ احساس وہ کر چکی تھی۔

گھر کے ایک ایک فرد سے بہت محبت کرتا تھا وہ۔

علیزے کو اس کی یہ عادت بہت پسند تھی ، کہ وہ سب کو خوش رکھتا تھا ، سب سے پیار کرتا تھا۔

“میرے اینگری پلس لونگ اینڈ کیرنگ مین”

اس نے مسکرا کر آہستہ سے کہا تھا۔

پھر وہ آنکھیں موند گئی ،بخار اب کم تھا تو تو وہ پہلے سے بہتری محسوس کر رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *