Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 02)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

شام کو میر زریاب فری ہوا تو وہ گھر آیا تھا، سارا دن اس کا اس لڑکی کو سوچنے میں گزرا تھا۔

وہ آفیس میں بھی دل نہیں لگا سکا تھا۔

وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ ایک ویٹریس کو کیوں اتنا سوچ رہا ہے۔

اس کا ذہن اب بری طرح ڈسٹرب تھا تو اس کا ارادہ سیدھا روم میں جا کر آرام کرنے کا تھا۔

وہ گاڑی سے باہر آیا تو اس کی نظر لاونج میں گھاس پر بیٹھی علیزے پر گئی جو شائد کسی بہت گہری سوچ میں مہو تھی۔

اسے یوں دیکھ کر وہ چاہ کر بھی كمرے میں نہیں جا سکا۔

وہ مضبوط قدم لیتا اس تک آیا اور اس کے قریب کھڑا ہوا تو علیزے نے سر اٹھا کر زریاب کی طرف دیکھا۔

“بھائی آپ آ گئے۔۔۔اندر چلیں ماما آپ کا ویٹ کر رہی تھیں”

وہ تیزی سے اٹھتی اپنے لہجے کو ہشاش بشاش بناتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی مگر زریاب اس کی اُداسی پہچان چکا تھا۔

“یہاں آو”

زریاب نے اسے پاس رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ حیران ہوتی بیٹھ گئی۔

پھر میر زریاب ملک خود بھی اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا۔

وہ اب گہری جانچتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ، جبکہ وہ کنفیوز ہو رہی تھی۔

“کوئی پریشانی ہے تو مجھ سے ڈسکس کر سکتی ہو تم”

وہ سنجیدگی سے بولا تو علیزے نے گڑبڑا کر اسے دیکھا لیکن پھر پل میں خود کو کمپوز کر گئی۔

“نہیں بھائی۔ آپ کو لگتا ہے مجھے کوئی پریشانی ہو سکتی ہے۔۔۔پریشانی ہوتی تو بھی مجھے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی میں خود ہی کافی ہوں اپنے لیے”

وہ سنجیدگی سے بولی مگر میر زریاب مطمئین نہیں ہوا تھا۔

“اگر میر زہرام کی وجہ سے کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاؤ۔۔۔ویسے بھی کو اس سے ملنا ہے میں نے کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی”

زریاب نے جان بوجھ کر اس کا ذکر کیا تھا جانتا تھا اب علیزے کے تاثرات بدلیں گے اور وہ اس کی پریشانی کی وجہ جان لے گا۔

مگر علیزے اس ستم گر کے ذکر پر تلخئ سے مسکرائی۔

“نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے اور ویسے بھی میری زندگی میں وہ اتنے اہم ہرگز نہیں ہیں کہ میں ان کی وہ سے خود کو پریشان کروں۔۔۔میں اندر جا رہی ہوں آپ بھی آ جائیں”

وہ تلخ لہجے میں کہتی اٹھ کے اندر کی جانب بڑھ گئی جبکہ اس کے بعد میر زریاب کی پریشانی دگنی ہوئی تھی۔

وہ بلکل انجان تھا کہ ان دونوں کے بیچ کیا چل رہا ہے۔

مگر کل ذہرام سے پوچھنے کا ارادہ کر کے وہ بھی اٹھا اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔

زریاب لاؤنج میں داخل ہوا تو علیزے میر اذلان شاہ کے پہلو میں ان کے کندھے پر سے ٹکائے بیٹھی تھی۔

جبکہ ساتھ والے صوفے پر عدیلہ بیگم بیٹھیں ان سے کوئی بات کے رہی تھیں۔

زریاب بھی ان کے قریب آتا صوفے پر ٹانگیں اور ان کی گود میں اپنا سر رکھ گیا تو وہ

مسکرائیں اور اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگیں۔

“تھک گیا میرا بچہ ؟”

وہ اس کے بال پیشانی سے ہٹاتیں وہاں اپنے لب رکھ کر پیچھے ہوتیں محبت سے بولیں تو وہ بھی مسکرایا۔

“جی تھک تو گیا ہوں مگر آپ کے شوہر صاحب کو میرا کوئی خیال نہیں۔۔۔خود مزے سے راؤنڈ لگا کے آ جاتے ہیں گھر اور میں سارا دن وہاں آفیس میں کام سمبھالتا ہوں”

وہ مصنوعی ناراضگی سے بولا تو سب مسکرا دیئے۔

“تو بیٹا جی اب آپ کو اپنی زمہ داریاں سمبھال لینی چاہئیں ناں۔۔۔کب تک میں سنبھالتا یہ سب۔”

اذلان صاحب سنجیدگی سے بولے تو اس نے سر ہلایا۔

“تمہیں کہتی تو ہوں تمہیں شادی کر لو کسی پیاری سے لڑکی سے۔۔۔گھر آ کر اسے دیکھو تو ساری تھکن اتر جائے تمہاری۔۔۔”

عدیلہ بیگم نے ہمیشہ کی بات دہرائی تھی۔

ان کی بات پر میر زریاب کی آنکھوں کے پردے پر وہ سہما وجود جھلملایا۔

مگر اس نے آنکھیں سختی سے بند کر کے کھولیں پھر ان کی جانب ديکھا۔

“ہممم خیال برا نہیں ہے۔۔۔سوچتا ہوں کچھ”

وہ مسکرا کر بولا تو وہ تینوں وجود ہی حیران ہوئے تھے کِیُونکہ اس موضوع سے ہمیشہ زریاب چڑتا آیا تھا۔

“کہیں کوئی بچی پسند تو نہیں کر لی جو اس طرح مسکرایا جا رہا ہے۔۔۔”

اذلان ملک اس کی جانب دیکھتے آئبروں اچکا کر بولے تو اس نے شانے اچکائے۔

“شاید”

وہ آہستہ سے بولا تھا مگر عدیلہ بیگم سن چکی تھیں۔

“یا اللہ تیرا شکر۔۔۔میرے بیٹے کو بھی کوئی لڑکی پسند آئی۔ مجھے تو لگ رہا تھا اب مجھے کچھ تلاش شروع کر دینی چاہیے۔ لیکن شکر ہے تمہیں خود کوئی پسند آ گئی۔ نام بتاؤ اس کا ؟ اور مجھے کب ملاؤ گے اس سے ؟”

وہ خوش ہوتیں بولیں تو زریاب نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔

“خود تو مل لوں پھر آپ کو بھی ملاؤں گا۔۔۔

بس تھوڑا ویٹ کریں ابھی اس سے بات نہیں ہوئی میری”

وہ کہتا اٹھ کر تیزی سے اوپر کی جانب بڑھ گیا پیچھے اب نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

“چلو جو بھی ہے۔۔۔یہ ہی بہت ہے کہ بھائی کو کوئی پسند آ گئی۔”

علیزے سنجیدگی سے بولی تو عدیلہ اور اذلان صاحب نے بھی سر ہلائے۔

“ہممم بچے تم جاؤ اسے ڈنر کے لیے بلا کر لاؤ ، میں ٹیبل پر کھانا لگواتی ہوں”

عدلیہ بیگم اٹھ کر علیزے سے بولیں تو وہ بھی اٹھ کے اس کے کمرے کی طرف چلی گئی، پھر عدلیہ بیگم خود بھی کچن کی طرف

چلی گئیں جہاں ملازمہ کھانا برتنوں میں نکال رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میر زریاب ملک جیسے ہی آفیس میں داخل ہوا سہراب نے اس کا استقبال نہایت عزت سے کیا تھا۔

پھر وہ اسے ذہرام کے آفیس روم کے باہر چھوڑ کر خود کافی وغیرہ کا آرڈر دینے نیچے چلا گیا۔

میر زریاب مسکرا کر اس کے روم میں داخل ہوا تو سامنے ہی ذہرام ملک سنجیدگی سے اپنی چیئر پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا۔

“اسلام و علیکم! کیسے ہو”

زریاب ملک نے اپنی خوبصورت آواز میں سلام کیا تو ذہرام نے سر اٹھایا۔

اسے اتنے دنوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر وہ بھی مسکرا کر کھڑا ہوا ، پھر دونوں بغلگیر ہوئے۔

“وسلام۔۔۔میں ٹھیک۔ تم بیٹھو”

زہرام ملک کے لہجے میں چاہت تھی جسے وہ محسوس کر رہا تھا۔

“سناؤ کیسے سوچا ملنے کے لیے۔ مجھے تو لگا تھا کہ اب مجھے ہی تمہاری شکل دیکھنے کو آنا پڑے گا”

زہرام نے شکوہ کیا تو اس نے گھور کر زہرام کو دیکھا تھا۔

“لیکن تم آئے نہیں پھر بھی میں ہی آیا ہُوں۔۔۔”

اس نے جیسے طنز کیا تھا۔

زہرام ملک خاموش ہو گیا تو زریاب نے اس کی جانب دیکھا۔

“گھر میں سب کیسے ہیں ؟ تائی امی, میرال اور میر ؟”

زریاب کے سوال پر زہرام نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ، دونوں ایک دوسرے کو خوب سمجھتے تھے۔

“سب ٹھیک ہیں الحمدُللہ”

زہرام نے سنجیدگی سے کہا تبھی دستک دے کر ملازم اندر داخل ہوا۔

وہ ٹیبل پر کھانے پینے کی چیزیں سیٹ کر کے

جا چُکا تو زریاب نے کافی کا کپ اٹھا کے زہرام کو دیا پھر اپنا لیا۔

“تم نہیں پوچھو گے ؟”

زریاب ملک از حد سنجیدگی سے اس کے چہرے کو دیکھتا بولا تو زہرام نے سوالیہ نظریں سے اسے دیکھا۔

“فیملی کی خیر خیریت نہیں پوچھو گے ؟”

زریاب ملک نے میری فیملی نہیں کہا تھا۔

“اوہ۔۔۔تم بتاؤ کیسے ہیں سب ؟”

وہ بلا جھجک پوچھ گیا تھا۔

“سب ٹھیک ہیں۔۔۔بس علیزے پریشان رہتی ہے آج کل۔ میرا نہیں خیال کہ اسے گھر یا آفیس میں کوئی ٹینشن ہے۔۔۔اسے شاید تمہاری کسی بات یہ حرکت کی وجہ سے پریشانیِ ہے۔ میں

نے کل پوچھا اس سے لیکن اس نے بتایا نہیں۔۔۔”

زریاب ملک نے اپنا مسلہ اب بتایا تھا۔

“میں اس کے ریلیٹڈ بات نہیں کرنا چاہتا اور ہاں تم تسلی رکھو مجھے تو تمہاری بہن سے بات کیے بھی چار ماہ ہو گئے ہیں۔ میری وجہ سے اسے کوئی پریشانیِ نہیں ہے۔”

زہرام پل کو اس بات پر حیران ہوا تھا لیکن پھر فوراً ہی اپنی حیرت کو کنٹرول کرتے سنجیدگی سے بولا۔

“کیا اس ناراضگی کی وجہ وہی ہے جو میں بھی جانتا ہوں ؟”

زریاب کے سوال پر اس نے بس اس کی جانب دیکھا تھا۔

“شاید ہاں۔۔۔”

میر زہرام نے سپاٹ لہجے میں کہا تو زریاب میں نفی میں سر ہلایا تھا۔

“چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو بڑھا رہے ہی تم دونوں۔۔۔اور یقیناً یہ چیز تم دونوں کے رشتے کے لیے نقصاندہ ہے۔”

زریاب نے سنجیدگی سے کہا تھا ، وہ واقف تھا غلطی اس کی بہن کی تھی مگر وہ ان دونوں کو مزید ان کی زندگی خراب کرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔

“تم یہ سب چھوڑو اور بتاؤ تمہارا کیا سین ہے۔۔۔ستائیس کے ہو گئے ہو اب تو شادی کر لو”

زہرام مسکرا کے بولا تو زریاب بھی دھیما سا مسکرایا تھا لیکن صرف ایک لمحے کے لیے۔

“ہمم سوچ تو رہا ہوں اس بارے میں۔۔”

وہ ایک آنکھ ونک کر کے بولا تو زہرام کو شدید حیرت ہوئی کیونکہ اسے نہیں لگتا تھا کہ زریاب کو کوئی پسند ہو گی۔

“کوئی دیکھ رکھی ہے کیا ؟”

زہرام خوشگوار حیرت سے بولا تھا۔

“یہی سمجھ لو۔۔۔لیکن ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا۔کچھ دنوں تک فائنل کر کے بتاؤں گا تمہیں”

وہ سنجیدگی سے بولا تو زہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔

“کبھی گھر اس جاؤ۔۔۔ماما، بابا سے مل کو اکثر یاد کر رہے ہوتے ہیں تمہیں”

زریاب کی بات پر زہرام نے اس کی جانب دیکھ کے ائبرو اچکائی تھی۔

“نہیں تم لوگ آ جاؤ یار۔۔۔میں اب شاید ہی کبھی وہاں آؤں”

زہرام از حد سنجیدگی سے بولا ساتھ ہی ان کی دعوت بھی دی تو زریاب نے گھور کر اسے دیکھا۔

“وہ تمہیں کھا نہیں جائے گی اگر آ جاؤ گے تو۔”

زریاب نے زرہ خفگی سے کہا تھا۔

“کھا بھی نہیں سکتی”

وہ مسکرا کر بولا تو زریاب بھی مسکرایا۔

“اچھا برو اب میں نکلتا ہوں میٹينگ ہے ایک”

زریاب اٹھتا ہوا بولا تو زہرام بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اسے گلے سے لگایا۔

“گھر ضرور آنا سب کے ساتھ۔۔۔اور ہاں یار جلدی سے کچھ کرو میں اب تمہیں مزید ادھورا نہیں دیکھ سکتا”

زہرام زرہ شرارت سے بولا تو زریاب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پھر وہ آیت الکرسی پڑھتی ہوئی خود کو اچھے سے چادر میں ڈھانپے رکشے سے باہر آئی تھی۔

اسے خوف تھا کہ وہ درندہ کہیں سے نمودار نہ ہو جائے۔

اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے ، اسے ہوٹل سے جلدی چھٹی مل جاتی تھی۔

کِیُونکہ وہ پہلے ہی بات کر چکی تھی کہ چاہے و سارا دن ڈیوٹی دے گی مگر رات میں نہیں۔

ابھی وہ ایک گلی مڑ کے اپنے گھر والی گلی میں داخل ہوئی ہی تھی کہ سامنے سے اسے نصیر اپنی جانب اتا دکھا۔

ٹھیک عینا کا سانس اٹکا تھا ، یقیناً اب تک وہ اسے دیکھ چکا تھا۔

اس نے گرفت چادر پر مضبوط کی اور قدم تیزی سے لینے لگی۔

“ابے یار آج تو شام ہی خوبصورت ہو گئی۔۔۔تیرا دیدار ہو گیا”

وہ اس تک آتا خباثت سے بولا مگر اس نے قدم نہیں روکے اور تیزی سے چلنے لگی ،گلی اس وقت خالی تھی تو وہ مزید خوفزدہ ہو رہی تھی۔

“ایک تو صحیح۔۔۔تو تو اتنی جلدی کر رہی ہے جانے کی جیسے گھر میں کوئی یار بلایا ہو”

وہ بیغیرتی سے بولا تھا مگر وہ اسے جواب دے کے اپنی زبان گندی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے چلنے لگی۔

وہ اپنے گھر تک آئی اور اس نے دروازہ بجایا ، جانتی تھی اب تو سہانا بھی آ چکی ہوتی تھی۔

“آج رات میرے ساتھ بیتا لے زندگی آسان کر دوں گا تیری۔۔۔یہ دو ٹکے کی نوکریاں نہیں کرنا پڑیں گی تجھے۔ جب بھی ضرورت ہو میری ضرورت پوری کر دینا ، میں تیری کر دوں گا”

وہ کمینگی سے بولا تھا۔

اب وہ اس کے بلکل قریب کھڑا تھا اور وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔

اس نے مزید زور سے دروازہ پیٹا تو نصیر نے قہقہہ لگایا تھا۔

تبھی جھٹکے سے دروازہ کھلا اور سامنے ہی سہانا پریشان سی کھڑی تھی ، وہ ابھی بھی یونی والے لباس میں تھی ، بس دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا۔

اس کے پیچھے نصیر کو دیکھ کر وہ غصے سے سرخ ہوئی تھی۔

“الو کے پٹھے۔۔۔دفعہ ہو جاؤ اپنے گھر اور جا کر اپنی ماں بہن کو تاڑو۔ شرم نہیں آتی ہماری بے بسی کا مذاق بناتے”

وہ انتہائی غصّے سے بولی تھی البتہ وہ خبیث اب بھی سکون سے اس پری پیکر کو دیکھ رہا تھا۔

جس نے جلدی سے اندر داخل ہو کر سہانا کو پیچھے کیا تھا اور دروازہ جھٹکے سے بند کے کے کنڈی لگائی۔

اس کا سانس اب بہت پھول چکا تھا ، جسے محسوس کر کے سہانا اسے تهامتی اندر کی جانب بڑھی۔

اسے اس کے کمرے میں لا کے بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے لیے پانی کا گلاس لائی۔

عینا نے دو گھونٹ بھر کر سائڈ پر کے دیا ، اب اس کی آنکھوں سے شفاف موتی ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے گال بھگو رہے تھے۔

سہانا نے دکھ سے اسے دیکھا تھا۔

“کیوں ہیں اتنی مشکلات۔۔ہماری زندگی میں۔۔۔۔آخر قصور کیا ہے ہمارا۔۔کاش زین ہمیں اس طرح تنہا کر کے نہیں گئے ہوتے۔”

وہ تڑپتی ہوئی بولی تو سہانا اس کے پاس بیٹھی اور اسے خود سے لگایا۔

“ریلیکس عینا تم کیوں اپنی طبیعت خراب کر رہی ہو میری جان۔۔۔ہم دو ہیں ناں ایک دوسرے کے لیے اور انشاءاللہ اب تو کچھ وقت بعد ہمارے پاس ایک پیارا سا بے بی بھی آ جائے گا”

سہانا آخر میں مسکرا کر بولی تھی۔

“تم جس چیز پر خوش ہو رہی ہو ناں یہی تو سب سے بڑا مسلہ ہو گی ہمارے لیے۔۔۔لوگ یقین نہیں کریں گے کہ یہ میرے زین اور میری محبت کی نشانی ہے۔۔۔ہماری اولاد پاک ہے، لوگ تو مجھے غلط کہیں گے ناں سہانا۔۔۔لوگ کہیں گے۔۔میں۔۔میں۔۔میں نے کسی اور۔۔سے”

وہ شدت سے روتی بولی تھی مگر سہانا نے اس کی کمر تھپتھپاتے اسے پرسکون کیا۔

“کوئی کچھ بھی کہے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔۔۔ہم دونوں جانتی ہیں اور ہمارا اللہ جانتا ہے کہ تمہارے وجود میں کس کا خون پل رہا ہے”

سہانا نے اسے تسلی دی۔

“یہ مجھے آج سیلری ملی تھی تو میں تمہارے لیے فروٹس اور دوائیاں لائی ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا تھا تم تھوڑی ویک ہو گئی ہو تو اپنی صحت کا خیال رکھو۔ باقی پیسے الماری میں رکھ دیئے ہیں کل شاپنگ پر چلیں گی”

سہانا سنجیدگی سے بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“کیا ضرورت تھی پیسے ضائع کرنے کے۔۔۔تم جانتی بھی ہو میں نہیں کھاتی فروٹس اور دوائیوں کے بغیر بھی ٹھیک ہی تھی میں۔۔۔اور شاپنگ پر ضرور چلیں گے تمہاری یونی میں پارٹی ہے ناں۔۔۔تو پیارا سا ڈریس لایں ہے تمہارا”

وہ آخر میں مسکرا کر بولی تو سہانا نے گھور کر اسے دیکھا۔

“جی نہیں میڈم میرے پاس بہت ڈریسز ہیں۔۔۔پچھلےمہینے بھی چار سوٹ لیے تھے میں نے۔۔۔الماری بھری ہے میری ڈریسز سے انہیں میں سے کوئی پہن لوں گی۔۔۔کل ہم صرف اور صرف تمہاری شاپنگ پر جا رہی ہیں”

سہانا خفگی سے بولی تو عینا اس کی محبت پر نم آنکھوں سے مسکرائی لیکن جب اسے زین کی یاد آئی تو اس نے بمشکل آنکھیں میچ کر آنسو اندر دھکیلے۔

“کاش زین کاش آپ ہمارے ساتھ ہوتے۔۔۔اتنا جلدی کیوں چھوڑا آپ نے ہمیں۔”

وہ دل میں ہی بولی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *