Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Ankhen Teri (Episode 14)

Bheegi Ankhen Teri by Ayat Fatima

وہ تینوں ناشتہ لے کر پہنچ چکے تھے۔

ملازم ناشتے کا سامنا اندر لے گئے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی لاؤنج میں داخل ہوئے۔

ان کی نظر سیڑھیوں کی طرف گئی تو سامنے ہی میر زہرام نیچے آ رہا تھا ، اس سے دو تین سٹیپ پیچھے علیزے بھی نیچے ہی آ رہی تھی۔

وہ دونوں بہت بھرپور اور پر کشش لگ رہے تھے۔

ڈائننگ پر میر ہادی ، میرال اور صائمہ بیگم موجود تھے انہیں دیکھ کر وہ اٹھے۔

“اسلام و علیکم”

زہرام آ کر زریاب کے سینے سے لگ کر بولا تو زریاب نے سلام کا جواب دیا۔

پھر زہرام ملک نے عینا اور سہانا کے سر پر ہاتھ رکھے ، اس کے بعد علیزے تیزی سے نیچے آئی تھی۔

وہ سب سے پہلے آ کر زریاب کے سینے سے لگی تو زریاب نے اس کے سر پر پیار کیا ،اس کے بعد وہ ان دونوں سے ملی تھی۔

صائمہ بیگم نے ان تینوں کو بیٹھنے کا کہا تو وہ بھی خاموشی سے ٹیبل کے گرد بیٹھ گئے۔

میرال اب ان تینوں سے باتیں کر رہی تھی ، البتہ لڑکے آپس میں لگے تھے۔

یہاں کوئی تھا جسے میر ہادی کی نظروں نے تنگ کر رکھا تھا۔

وہ بہت ڈسٹرب ہو رہی تھی اس کی نظروں سے ، سب کے سامنے اس کا یوں دیکھنا سہانا کو خوفزدہ کر رہا تھا۔

“بیٹا اتنا سب لانے کی کیا ضرورت تھی بھلا۔۔۔پہلے ہی بہت کچھ بنوا چکی تھی میں۔ آپ لوگوں نے یونہی تکلف کیا”

صائمہ بیگم عینا سے مخاطب ہوئیں تو وہ مسکرائ۔

“آنٹی یہ رسم ہے کہ لڑکی کے گھر والے ہی پہلے روز ناشتہ لاتے ہیں اور ویسے بھی اس میں تکلف کی کوئی بات نہیں”

وہ احترام سے بولی تو صائمہ بیگم نے سر ہلایا۔

“سہانا بیٹے اب آپ کا آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ، پڑھائی کرتی ہو گی پہلے تو اب دوبارہ سے جوائن کر لو”

انہیں نے سہانا کو مخاطب کیا تھا جو کنفیوز سی بیٹھی تھی۔

“جی آنٹی دراصل میں پڑھائی نہیں کرتی تھی یونیورسٹی میں جاب کرتی ہوں لیکچرر کی اور انشاءاللہ جلد ہی دوبارہ جوائن کر لوں گی بس پہلے عینا اور اب علیزے کی شادی کی مصروفیات تھیں اس لیے اتنے دن سے بریک پر ہوں”

اس نے رسان سے کہا۔

“کون سی یونیورسٹی میں جاب کرتی ہو آپ ؟”

زہرام نے سوال کیا تو اس نے نظریں جھکائے اپنی یونی کا نام بتایا تھا۔

“اوہ میر بھی یہیں پڑھتا ہے”

نام سن کر زہرام بولا تو اس نے شانے اچکا دیئے جیسے اسے معلوم ہی نہ ہو۔

“ہممم اور میں ان سے کہیں دفعہ مل بھی چکا ہوں”

میر ہادی مسکراہٹ دبا کر بولا تھا ، جبکہ گہری نظروں سے اسے دیکھا جو شرمندہ سی تھی۔

“کیا ؟؟؟ سہانا نے تو مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ جانتی ہے تمہیں”

سب سے پہلے علیزے حیرت سے بولی تو سہانا سخت شرمندہ ہوئی۔

“وہ۔۔وہ دراصل مجھے نہیں پتہ تھا یہ آپ کے کچھ لگتے ہیں”

وہ گھبرا کر بولی۔

“اچھا اب سب بچی کے پیچھے مت پڑ جاؤ سکون سے ناشتہ کرنے دو اسے اور خود بھی کرو”

صائمہ بیگم اس کی گھبراہٹ نوٹ کر کے بولیں تو سب خاموش ہو گئے۔

“آفیس جا رہے ہو ؟”

زہرام نے زریاب کی مخاطب کیا۔

“ہممم بس شادی کے دنوں دو تین دن مس کیے ہیں اب آج سے جاؤں گا”

زریاب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

ناشتے کے بعد سب صوفوں پر آ بیٹھے ، باتیں جاری رہیں۔

“خوش ہو ؟”

عینا جو علیزے کے پاس بیٹھی تھی اس کا ہاتھ تھام کے سنجیدگی سے بولی۔

باقی سب ایک دوسرے میں مصروف تھے ، سہانا کو میرال اُوپر لے گئی تھی۔

“ہمم خوش ہوں بس تم سب کو بہت یاد کیا میں نے اور۔۔۔”

وہ روانگی میں کچھ بولنے والی تھی جب اچانک اس کی زبان کو بریک لگی۔

“کیا اور ؟ بولو بھی خاموش کیوں ہو گئی”

عینا نے سنجیدگی سے کہا تو وہ نظریں جھکا گئی۔

“صبح زہرام سے بحث ہو گئی میری کسی بات پر تو بہت اپ سیٹ ہوں میں۔”

اس نے غمزدہ ہو کر کہا تک عینا نے پریشانی سے اسے دیکھا تھا۔

“کیوں ہوئی بحث ؟ اور شادی کی پہلی صبح کوں میاں بیوی بحث کرتے ہیں علیزے تمہیں دھیان کرنا چاہیے تھا ، لڑکیوں کو بحث نہیں کرنی چاہیے اپنے شوہر سے”

عینا کی بات پر اس نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“تم لے لو ان کی سائڈ۔۔۔وجہ تھی تبھی بحث ہوئی ناں میں پاگل نہیں تھی کہ بلاوجہ بحث شروع کر دیتی”

علیزے ناراض ہوتی بولی تو عینا نے افسوس سے اسے گھورا۔

“اچھا چلو اب نکھرے نہیں کرو اور وجہ بتاؤ کیوں بحث ہوئی ؟”

عینا سنجیدگی سے بولی تو علیزے کی شرم محسوس ہوئی ، اسے کیسے بتاتی کی وہ زہرام کی شدتوں پر ناراض ہوئی تھی۔

“تم چھوڑو ناں میں نہیں بتا سکتی وجہ تھوڑی عجیب سی بات تھی”

علیزے نے ٹال دیا تو عینا بھی خاموش ہو گئی۔

“لیکن آئینہ خیال کرنا ، جو بھی ہو آرام سے بات کی کرو۔ وہ مرد ہیں غصّہ کے سکتے ہیں ہم عورتیں کریں تو مناسب نہیں لگتا”

عینا اسے بلکل کسی بڑی بہن کی طرح سمجھا رہی تھی اور وہ خاموش سی سن رہی تھی۔

“عینا اٹھو اب چلیں مجھے آفیس جانا ہے”

ابھی وہ مزید کچھ کہتیں جب زریاب نے اسے پکارا تھا۔

عینا اٹھ کھڑی ہوئی تب تک سہانا بھی آ گئی تو وہ تینوں سب سے مل کر باہر چلے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تائی امی میں آفیس جا رہا ہوں ، کوشش کروں گا جلدی آ جاؤں”

زہرام جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر کہتا اٹھا تھا ، علیزے نے دکھ سے اسے دیکھا ، اس کی آنکھیں بھیگ گئیں مگر وہ چھپا گئی۔

بات کوئی اتنی بڑی بھی نہیں تھی جتنا وہ اسے نظر انداز کر رہا تھا۔

“نہیں زہرام آج تم علیزے کو وقت دو بیٹا پہلا دن ہے اس کا ادھر ، تمہیں ساتھ رہنا چاہئے”

صائمہ بیگم نے اسے سمجھایا تو زہرام نے ایک نظر اس شمن جاں پر ڈالی مگر پھر پھیر گیا۔

“تائی امی اس نے اب کدھر جانا ہے ، اس نے تو اب ہمیشہ ہی اِدھر رہنا ہے یوں میں کب تک اس کے لیے گھر بیٹھا رہوں ، اور ویسے بھی آفیس جانا ضروری ہے اس وقت”

وہ تلخ لہجے میں کہتا اُوپر کی جانب بڑھ گیا پیچھے سب حیرت سے دنگ بیٹھے سیڑھیوں کو دیکھ رہے تھے ، جہاں سے ابھی ابھی وہ گیا تھا۔

“اسے کیا ہوا ، اتنا عجیب کیوں رییکٹ کر رہا ہے ؟ کوئی بات ہوئی ہے تم دونوں میں ؟”

صائمہ بیگم پریشانی سے اسے دیکھتی بولیں تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور سر جھکا گئی۔

“حد ہے بھائی بھی ناں کام کام اور بس کام”

ہادی چڑ کر بولا ، میرال کو بھی یہ بات پسند نہیں ائی تھی زہرام کی۔

“میں بھائی سے بات کرتی ہُوں”

میرال کہہ کر اٹھی اور تیزی سے اُوپر چلی گئی۔

علیزے کو سخت تذلیل محسوس ہو رہی تھی۔

میرال دستک دے کر اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو میر زہرام بیڈ کے سامنے کھڑا کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔

میرال اس کے قریب جا کر کھڑی ہوئی تو زہرام نے مسکرا کر اسے خود سے لگا لیا۔

آج صبح وہ غصّے کی وجہ سے اسے پیار کرنا بھول گیا تھا ، تو زہرام کو لگا میرال اسی لیے آئی ہے یہاں۔

اس نے چند ضروری باتیں کر کے کال کٹ کی۔

“کیا ہوا میرے بچے کو ؟”

وہ اس کی پیشانی پر پیار کر کے بیڈ پر بیٹھا تو وہ بھی اس کے قریب بیٹھ گئی۔

“آپ آفیس کیوں جا رہے ہیں آج ؟ نہیں جائیں ناں پلیز”

وہ ناراضگی سے بولی تو میر نے گھور کر اسے دیکھا۔

“نہ جانے کی وجہ ؟”

اس نے سوال کیا۔

“کِیُونکہ آپ آج علیزے آپی کو ٹائم دیں گے وہ بہت اپ سیٹ ہیں آپ کی وجہ سے”

اس نے سمجھداری سے کہ تو زہرام نے پھر سے اس کے بالوں پر پیار کیا تھا۔

یہ چھوٹی سی گڑیا جان تھی اس کی۔

“تمہیں ان چیزوں میں آنے کی ضرورت نہیں میں دیکھ لوں گا کہ کیا کرنا ہے تمہاری آپی کے ساتھ۔۔۔تم اب بس پڑھائی پر دھیان دو ، اور ہاں میں نے ٹیوٹر کا ارینج کروا دیا ہے آج شام سے وہ آئے گا تمہیں پڑھانے”

زہرام نے اس کا دھیان پڑھائی کی طرف دلایا تھا ، کِیُونکہ وہ اس معاملے میں کوتاہی برداشت کرنے کا ہرگز قائل نہیں تھا۔

“ہممم۔۔۔بٹ آپ کو نہیں جانا چاہیے آج”

اس نے پھر سے کہا مگر زہرام نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ اٹھ کر باہر چلی گئی تو زہرام نے اٹھ کر خود اپنے کپڑے لیے اور دوبارہ چینج کر کے بال سیٹ کرتا اپنا سیل اٹھا کر کمرے سے نکلا۔

وہ لاؤنج سے تیزی سے گزرتا باہر چلا گیا ، کچھ دیر بعد اس کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی تھی پھر وہ چلا گیا۔

علیزے کی آنکھیں بہت تیزی سے نم ہوئیں ، میرال اس کے پاس بیٹھی ہی تھی کہ علیزے اٹھتی تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی۔

اب مزید ضبط نہیں کر سکتی تھی وہ ، کمرے میں آ کر اس نے زور کے دروازہ بند کیا۔

وہ بیڈ پر گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ،اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی بات بڑھ رہی تھی اور بہت زیادہ بڑھ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“عینا کیا ہو گیا ہے بیٹا ، طبیعت ڈھیلی ڈھیلی محسوس ہو رہی ہے تمہاری”

عدیلہ بیگم اس سے مخاطب ہوئیں جو لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھی ، سہانا قریب بیٹھی سیل یوز کر رہی تھی۔

ان کی آواز پر وہ بھی متوجہ ہوئی۔

“کچھ نہیں ماما بس چکر آ رہے ہیں صبح سے”

اس نے کہا تو وہ پریشان ہوئیں۔

“کیوں میری جان ؟ خیال رکھا کرو ناں اپنا۔کچھ کھایا بھی نہیں تم نے شادی کے دنوں۔”

اُنھوں نے خفگی و محبت سے کہا تو اس نے مسکرا کے انہیں دیکھا۔

“آپ زیادہ پریشان ہو رہی ہیں ماما۔۔۔اتنی بھی طبیعت نہیں خراب میری”

اس کے کہنے پر انہوں نے گھور کے اسے دیکھا۔

“یہی حرکتیں ہیں تم لڑکیوں کہ جب تک کمزوری سے بے ہوش ناں ہو جاؤ تب تک تم لوگوں کو اب ٹھیک ہی لگتا ہے۔ آنے دو زریاب کو اسے بتاتی ہُوں میں کہ کس قدر لاپرواہ ہو رہی ہو تم اپنے آپ سے”

وہ فکر مندی سے بولیں اور آخر میں اسے ڈرایا۔

“پلیز ماما نہیں کیجئے گا ایسا۔۔۔آپ کو پتہ ہے ناں زریاب کا وہ کتنے پریشان ہی جاتے ہیں اور پھر مجھے ڈانٹتے بھی ہیں”

عینا ڈر کر بولی تو انہوں نے اسے دیکھا۔

“تو اور کیا کروں پھر میری تو تم سنتی نہیں۔۔۔تم اسی کی ہی سنو گی”

وہ بولیں ، ابھی عینا کچھ کہتی کہ تبھی لاؤنج میں زریاب داخل ہوا ، اس نے مسکراہٹ عینا کی طرف اچھالی اور آ کر سیدھا اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“ابھی تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا”

عدیلہ بیگم کی بات پر زریاب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو عینا نے فوراً آنکھیں میں ہی انہیں خاموش رہنے کی التجا کی تھی۔

“بیوی کی حالت کا اندازہ بھی ہے تمہیں ؟ ناں کچھ کھاتی ہے نہ پیتی۔۔۔یوں کیسے چلے گا بھلا۔ اب صبح سے طبیعت خراب ہے اس کی لیکن بتایا تک نہیں کسی کو”

وہ شاید زیادہ ہی پریشان تھیں اس لیے اس کے اشاروں کو نظر انداز کرتیں زریاب سے مخاطب ہوئیں۔

زریاب میں جھٹکے سے عینا کو دیکھا تھا۔

آنکھوں میں ٹینشن تھی ، پریشانی تھی ، فکرمندی تھی۔

عینا نے نظریں جھکا لیں۔

“کیا ہوا ہے اسے ؟”

وہ سنجیدگی سے عدیلہ بیگم سے مخاطب تھا۔

“چکرا رہی ہے ساتھ کمزروی بھی ہو رہی ہے اسے”

اُنھوں نے اس کی حالت بتائی تو زریاب نے غصّے سے اسے دیکھا تھا۔

“عینا روم میں آؤ فوراً”

وہ از حد سختی سے کہتا اوپر کی جانب بڑھا تھا۔

عینا نے بے بسی سے عدیلہ بیگم کو دیکھا۔

“اب وہ غصّہ کریں گے مجھ پر… مجھے نہیں جانا روم میں”

وہ نم آواز میں بولی۔

“نہیں کچھ کہے گا۔ جاؤ شاباش اس کی باتوں پر جی جی کرتی رہنا نرم پڑ جائے گا۔”

اُنھوں نے اسے سمجھایا تو عینا نے سہانا کو دیکھا تو اس نے بھی آنکھوں سے ہی اسے جانے کا کہا۔

“ماما مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”

عینا نے ایک دفعہ پھر کہا۔

“عینا بیٹے زریاب شوہر ہے تمہارا تو ڈرنے کی کیا بات ہے۔ اسے معلوم ہے تمہاری نازک مجازی کا تو نہیں ڈانٹے گے جاؤ اب جلدی کرو”

اُنھوں نے سمجھایا تو عینا بھری قدم لیتی اُوپر آئی۔

اس نے آہستہ سے روم کا دروازہ کھولا تو زریاب سامنے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ، دونوں ہاتھ پیچھے بندھے وہ اسی کو گھور رہا تھا۔

“دروازہ لاک کر دو”

اس نے سخت بھاری آواز میں کہا تو عینا کے ہاتھ کپکپائے۔

اس نے آہستہ سے دروازہ لاک کیا اور قدم اس کی جانب بڑھائے۔

“مجھے بتانا کیوں گوارہ نہیں کیا کہ طبیعت بہتر نہیں ہے تمہاری ہاں ؟”

وہ دھاڑا تو عینا نے آنسوؤں بھری نظریں اٹھائیں۔

“اگر تم روئی تو مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہو گا عینا۔ آنکھیں صاف کرو فوراً۔۔۔اور جواب دو میری بات کا”

زریاب بہت غصّے میں تھا ، اس کے لہجے میں فکر بھی تھی مگر زیادہ غُصہ تھا۔

عینا نے تو شادی کے بعد کبھی اس کا غصّہ نہیں دیکھا تھا ، اس لیے آج زریاب کا سخت لہجہ ہی اسے رلا رہا تھا۔

“زیادہ خراب نہیں تھی طبیعت۔۔۔بس تھوڑے سے چکر آ رہے تھے اس لیے نہیں بتایا”

وہ نظریں جھکا کر بولی تو زریاب نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی کو چھوا سد شکر کے بخار نہیں تھا۔

“کیوں کرتی ہی اتنی لاپرواہی۔ جانتی ہو ناں تمہاری صحت کس قدر اہم ہے میرے لیے۔؟”

زریاب اب نرمی نے اسے خود سے لگا کر بولا تو عینا بھی اس کے سینے میں چہرہ چھپاتی آنسو بہانے لگی۔

“بہت برے ہیں آپ۔۔۔چھوٹی سی بات پر اتنا ڈانٹا مجھے۔”

وہ بھرائی آواز میں بولی تو زریاب نے اس کی کمر سہلائی۔

“ڈانٹا کب میں نے ؟ میں صرف وجہ پوچھ رہا تھا۔ خیر اب کل ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں۔ تمہارا چیک اپ کروانا ہے”

زریاب نے سنجیدگی سے کہا۔

“لیکن میں ٹھیک ہوں”

وہ بچوں کے انداز میں بولی تو زریاب نے اس کی پیشانی پر پیار کیا۔

“ہممم لیکن پھر بھی کل چیک اپ کروا لو۔۔۔مجھے تسلی ہو جائے گی”

اس نے نرمی سے کہا تو عینا نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔

“یار خیال رکھو کرو اپنا”

زریاب اس کے بال سہلاتا ہوا بولا۔

“میں رکھتی ہُوں اپنا خیال”

اس نے بتایا تک زریاب میں افسوس سے نفی میں سر ہلایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *