Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 98 The Basement Trap

آخرکار یہ صرف ایک ڈنر ہی تو تھا۔
گہرا سانس لے کر نیسا رامے نے زبردستی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا لی۔ اُس نے سوچا کہ تھوڑی دیر رُک جائے گی اور پھر کسی بہانے سے واپس چلی جائے گی۔
جیسے ہی وہ ہوٹل کی سیڑھیوں پر قدم رکھنے لگی، ضیافت ہال کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک سایہ تیزی سے اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“اوہ، واقعی آ گئی تم؟”
زارمہ رامے نے بازو سینے پر باندھ رکھے تھے اور تکبر سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر حقارت بھری مسکراہٹ تھی۔
نیسا لمحہ بھر کو ٹھٹک گئی۔ ماننا پڑا کہ آج زارمہ نے خود کو خوب سنوار رکھا تھا۔ شوخ سرخ رنگ کا مرمیڈ گاؤن اُس کے جسم اور رنگت دونوں پر جچ رہا تھا۔
اس کے مقابلے میں نیسا کا سادہ سیاہ اور سفید لباس بہت عام سا لگ رہا تھا۔
زارمہ نے ناگواری سے بھنویں سکیڑیں۔
“نیسا، کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ آج زَینوشہ کاردار اس ڈنر کی مہمانِ خصوصی ہیں؟
تم اس حلیے میں آ کر رامے خاندان کی بےعزتی کرنا چاہتی ہو؟!”
نیسا نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
“تم نے کہا تھا یہ چیریٹی ڈنر ہے۔
کیا میں خیراتی تقریب میں جوکر بن کر آؤں؟”
“تم نے کیا کہا؟!”
“ڈنر کا مقصد خیرات ہے، کوئی زَینوشہ کاردار نہیں۔”
نیسا نے اُسے سرسری نظر سے دیکھا۔
“میرا خیال ہے باوقار نظر آنا کافی ہے۔
اگر توجہ حاصل کرنے کے لیے حد سے زیادہ نمائش کی جائے تو خیرات کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔”
غصّے سے زارمہ کا چہرہ سرخ اور پھر زرد پڑنے لگا۔ مگر آس پاس مہمانوں کی موجودگی کے باعث وہ خود کو قابو میں رکھنے پر مجبور تھی۔ اُس نے دبی مگر تیز آواز میں کہا:
“کمبخت! تم سمجھتی ہو تم مجھ سے زیادہ عقل مند ہو؟”
“میں ایسی جسارت کیسے کر سکتی ہوں۔”
نیسا ہلکی سی ہنسی۔
“ڈنر تو تم نے رکھا ہے۔ میں تو بس یہ دیکھنے آئی ہوں کہ تم کتنی قابل ہو!”
زارمہ کی آنکھیں تنگ ہو گئیں۔
نیسا آگے بڑھنے لگی مگر زارمہ جھپٹ کر اُس کے سامنے آ گئی۔
“مہمان اندر جا رہے ہیں۔ تمہارا لباس سراسر ذلت ہے!”
“ٹھیک ہے۔”
نیسا نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
“تو میں چلی جاتی ہوں۔”
“رُکو!”
زارمہ کی آواز میں حکم تھا۔
“ابّا نے تمہیں بلایا ہے اور تم جا رہی ہو؟
کیا تم مجھے مشکل میں ڈالنا چاہتی ہو؟”
نیسا لاجواب ہو گئی۔ وہ وہیں خاموش کھڑی رہ گئی۔
“اچھا…”
زارمہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“میں تمہیں گھر چھوڑ دیتی ہوں۔
ویسے بھی ہم صفائی کروا رہے تھے، ملازماؤں نے کچھ پرانا سامان اکٹھا کیا ہے…
ہاہ! مجھے لگا وہ تمہاری ماں کا سامان ہوگا، اس لیے میں نے پھینکنے نہیں دیا۔ تمہارے لیے رکھوا لیا ہے۔”
“کیا؟”
نیسا بری طرح چونک گئی۔
اُس کی ماں کبھی رامے خاندان میں ملازمہ رہی تھی، اس لیے کچھ ذاتی چیزوں کا وہاں رہ جانا ممکن تھا۔
مگر وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ زارمہ اتنی مہربان کیسے ہو سکتی ہے کہ اُس کی ماں کا سامان سنبھال کر رکھے؟
“اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہی ہو؟!”
زارمہ نے منہ بنایا اور جان بوجھ کر اُس کے آگے چل پڑی۔ اب اُس کا غصّہ کچھ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
“اصل میں، ابّا ٹھیک کہتے ہیں۔ ہم بہنیں ہیں، آخرکار۔ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے…”
اُس نے ہلکا سا توقف کیا۔
“اور پھر، تم نے جو میری جگہ اُس شادی کا بوجھ اُٹھایا تھا نا…
یہ تمہاری ماں کا سامان بچا کر رکھنا میرا بدلہ سمجھ لو۔
نیسا، اب ہم برابر ہو گئے!”
نیسا نے ہونٹ بھینچ لیے۔
اُسے لگا شاید زارمہ مکمل طور پر بُری نہیں۔
انسان پیچیدہ ہوتے ہیں۔
دل بدل بھی سکتا ہے۔
شاید ہر بُرے انسان کے اندر کہیں نہ کہیں کوئی نرم گوشہ بھی ہوتا ہے۔
“چلو، ابھی میرے ساتھ گھر چلو اور اپنی ماں کا سامان لے لو!”
زارمہ نے کہا۔
“مہمان پہلے اندر چلے جائیں گے۔ ہم اندھیرا ہوتے ہی اندر آ جائیں گے۔
کوئی تمہیں اس لباس میں نہیں دیکھے گا!”
نیسا ہچکچائی۔
اُس کے دل میں عجیب سا خدشہ جاگ اٹھا تھا۔
زارمہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی، پھر اچانک پلٹ کر کرخت آواز میں بولی:
“آ رہی ہو یا نہیں؟ اگر نہیں آئیں تو میں وہ سب پھینک دوں گی!”
“نہیں…”
نیسا نے ہونٹ کاٹے اور اُس کے پیچھے چل پڑی۔
“میں آ رہی ہوں۔”
زارمہ نے اُسے ایک نظر دیکھا، پھر آگے بڑھ گئی۔
اُس کے ہونٹوں کے کونے پر ایک سرد، خطرناک مسکراہٹ ابھر آئی۔
نیسا رامے زارمہ رامے کے پیچھے پیچھے چلتی رہی۔ وہ ہوٹل کی عمارت کے گرد چکر لگا کر بیسمنٹ والے کار پارک تک پہنچ گئیں۔
اطراف میں اندھیرا اور خاموشی تھی۔ وہاں شاذ و نادر ہی کوئی آتا۔ اور اگر کوئی آ بھی جاتا تو وہ ہوٹل کے اندر والے لفٹ سے جاتا، اس لمبے راستے سے نہیں جس سے وہ دونوں آئی تھیں۔ نیسا کے قدم سست پڑ گئے۔ اسے شک ہونے لگا۔
“کیا کر رہی ہو؟”
آگے چلتی زارمہ نے جھڑک کر کہا۔
“جلدی آؤ! میری گاڑی نیچے پارک ہے!”
“کیا تمہیں واقعی گاڑی کا راستہ یاد ہے؟”
“کیا تم سمجھتی ہو مجھے نہیں پتا میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟”
زارمہ نے طنز کیا۔
“کیا تم چاہتی ہو میں ہوٹل کے مرکزی دروازے پر جا کر تمہیں گاڑی میں بٹھاؤں؟ تاکہ سب دیکھیں تم اس حال میں پہنچی ہو؟ کیا تم ہمارے خاندان کی تذلیل کرنا چاہتی ہو؟”
نیسا نے ہونٹ بھینچ لیے اور مزید کچھ نہ بولی۔
بیسمنٹ کار پارک کا راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جیسے کوئی سیاہ سرنگ جس کا اختتام دکھائی نہ دے۔ زارمہ آگے تقریباً دوڑ رہی تھی۔ نیسا کے لیے اُس کے ساتھ چلنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ زارمہ کبھی اِدھر مڑتی کبھی اُدھر—نیسا کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا وہ کدھر جا رہی ہیں۔ اردگرد ایسا اندھیرا تھا کہ راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
نیسا کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ وہاں نمی بھری بدبو تھی جس سے اس کا دل اور بھی بےچین ہو رہا تھا۔
“باجی…”
نیسا نے آواز دی، مگر جواب میں صرف اس کی آواز کی گونج آئی۔
“یہ جگہ کہاں ہے؟”
کچھ دیر بعد، اندھیرے میں زارمہ کی تیز اور چالاک ہنسی گونجی۔
“یہی وہ جگہ ہے جہاں تمہیں ہونا چاہیے!”
نیسا کا دل زور سے دھڑکا۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اور پورا بدن سن ہو گیا!
اگلے ہی لمحے، اُسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا کہ ایک زبردست دھکے نے اُسے گرا دیا۔ وہ چیخ اٹھی۔ پلک جھپکتے ہی وہ ناہموار کنکریٹ پر بُری طرح گری۔ گھٹنے چوٹ کھا گئے! اسی کے ساتھ دروازہ بند ہونے کی زور دار آواز آئی۔
نیسا کا ذہن خالی ہو گیا۔ وہ تڑپ کر اُٹھی اور دوڑ کر آگے گئی۔ دھات کے دروازے کے اُس پار سے زارمہ کی سرد اور فاتحانہ آواز آئی، ہنسی میں زہر تھا۔
“میری پیاری بہن، تم ڈنر میں نہیں جا رہی! میں ابّا کو بتا دوں گی کہ تم آنا ہی نہیں چاہتی تھیں!”
“زارمہ!”
نیسا نے دروازہ زور زور سے پیٹا۔
“میں کہاں ہوں؟ مجھے باہر نکالو!”
“اس شاندار جگہ میں خوب مزے کرو۔”
زارمہ نے حقارت سے کہا اور پلٹ کر چل دی۔ صرف اس کی ایڑیوں کی آواز باقی رہ گئی جو دور ہوتی چلی گئی۔
نیسا دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ گئی۔
سردی تھی، اردگرد بس سرمئی دیواریں تھیں۔ فضا میں پھپھوندی کی تیز بدبو تھی، گھن آتا تھا۔
اگر دروازے کے نیچے سے ہلکی سی روشنی نہ آ رہی ہوتی تو مکمل اندھیرا ہوتا، جیسے جہنم۔
نیسا نے اپنے گھٹنوں کو بازوؤں میں سمیٹا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے فون ٹٹولا، مگر اندر کوئی سگنل نہ تھا—جیسے اسے دنیا سے کاٹ دیا گیا ہو۔
اس کے بدن میں سردی اتر گئی۔ وہ فون کی اسکرین کو خالی نظروں سے دیکھتی رہی، پھر آخرکار آنسو بہہ نکلے۔
زارمہ واپس اسی راستے سے اوپر جا رہی تھی کہ کسی نے راستے میں اسے روک لیا۔
“میڈم، سب تیار ہے۔ کیا ہم ابھی چھوڑ دیں؟”
زارمہ خوشی سے مسکرائی اور اُس کے ہاتھ میں پکڑے پنجرے کو دیکھا۔ اندر سے چرچراہٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
“یہیں رکو اور بعد میں چھوڑنا!” زارمہ نے خوشی سے کہا۔
“یہ تو ہمارا فائنل ہے۔ اتنی جلدی کیسے؟ ہاہ… اسے اندھیرے میں مزے کرنے دو۔ پھر یہ ننھے ننھے پیارے اندر چھوڑیں گے… اور مزہ دوبالا ہوگا!”
“جی میڈم۔”
اُس آدمی نے ہُڈی کے اوپر سے نظریں اٹھائیں اور اُسی جیسی شیطانی مسکراہٹ دکھائی۔
واپس جاتے ہوئے زارمہ کو پہلی بار سمجھ آیا کہ خوشی میں آدمی کتنا ہلکا محسوس کرتا ہے۔
نیسا کو اذیت دینا، اسے قید کرنا، اور پھر میرک کاردار کو اس گھناؤنے وائرس میں مبتلا کرنا—یہی تو اس کی سب سے بڑی خوشی تھی!
نیسا مر بھی جائے تو زارمہ اسے آسانی سے مرنے نہیں دے گی!
سینہ تان کر اور چمکتی مسکراہٹ کے ساتھ زارمہ نے ضیافت کی طرف قدم تیز کر دیے۔
مگر اسے ذرا بھی اندازہ نہ تھا کہ دور برگد کے درخت کے نیچے کھڑا کوئی شخص یہ سب کچھ دیکھ چکا تھا۔
نیسا ایک کونے میں سمٹ کر کانپ رہی تھی۔
کمرہ چھوٹا تھا، مگر کبھی دیوار سے پلاسٹر جھڑنے کی آواز آتی، کبھی پائپ میں پانی کے بہنے کی۔ اندھیرے اور سناٹے میں ہر آواز زیادہ واضح لگ رہی تھی۔
یہ ماحول اسے اسکول کے دنوں کی یاد دلا رہا تھا—جب زارمہ اسے تنگ کرتی تھی، سب کے سامنے کہتی تھی کہ وہ ناجائز اولاد ہے۔
ایک بار تو اس نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر نیسا کو اسکول کے ایک ویران کمرے میں بند کر دیا تھا اور پورا دن قید رکھا تھا۔
اُس وقت نیسا نے بے بسی کی جو اذیت دیکھی تھی، وہ آج بھی اس کے جسم میں جاگ گئی۔
اس دن کے بعد سے اسے بند اور اندھیری جگہوں سے خوف ہونے لگا تھا۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد جب وہ اور میرک الگ کمروں میں سوئے تھے، تب بھی وہ دروازہ پوری طرح بند کرنے کی ہمت نہیں کرتی تھی۔
اور اب…
اس نے میرک کو یاد کیا۔
یقیناً وہ اسے ڈھونڈ رہا ہوگا، گھبراہٹ میں ادھر ادھر۔
مگر وہ ٹوٹ گئی کہ وہ اسے فون بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اسی لمحے دروازے کے پاس سے ہلکی ہلکی چرچراہٹ سنائی دی۔
نیسا چونک گئی۔ وہ کان لگا کر سننے لگی۔ آواز نزدیک آ رہی تھی، جیسے کوئی چیز باہر اِدھر اُدھر چل رہی ہو… بالکل چوہوں جیسی۔
اسے گھن آنے لگا اور خوف بھی بڑھ گیا۔ آوازیں بےترتیب تھیں، اور لگ رہا تھا ایک سے زیادہ ہیں۔
کچھ دیر بعد اس نے ہمت کی، جھکی اور دروازے کے نیچے سے جھانکا۔
عین اسی وقت…
ایک بڑا چوہا سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا!
“آاااہ!”
نیسا کی چیخ نکل گئی۔ خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ دیوار سے لگ گئی۔
شور سنتے ہی باہر چوہے دروازے سے ٹکرانے لگے، درز سے اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے۔
نیسا سِمٹ گئی، ہاتھ منہ پر رکھ کر چیخ روکنے کی کوشش کی، مگر آنسو بہہ نکلے۔
“میرک… میرک…” وہ بے بسی سے پکارنے لگی۔
ہر خطرے میں اس کی آغوش اسے تحفظ دیتی تھی۔
مگر یہاں… اندھیرا تھا، دیواریں تھیں، اور کچھ بھی نہیں۔
نیسا نے اپنے ہاتھ کی پشت دانتوں میں دبا لی، آنسو رواں تھے۔
چوہوں کے ننگے پنجے اور دمیں درز سے اندر آنے لگیں۔ چرچراہٹ گھناؤنی تھی۔ اسے ان کی بدبو تک محسوس ہونے لگی۔
اس نے سوچا اگر اسے طاعون جیسی بیماری لگ گئی تو…؟
وہ پیچھے ہٹتی رہی، مگر دیوار تھی، جانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔
“دور جاؤ…”
وہ کانپتی ہوئی چیخی۔
“دور جاؤ!”
اچانک اسی لمحے دروازے کے باہر تیز قدموں کی آواز آئی۔ پھر زور زور سے کچھ ٹھک ٹھک ہوئی۔ چوہے چرچراتے ہوئے بھاگنے لگے۔ پنجے اور دمیں فوراً کھینچ لی گئیں۔
نیسا ششدر رہ گئی۔ اس کا ذہن چند سیکنڈ کے لیے بالکل خالی ہو گیا۔
پھر خاموشی چھا گئی—
ایسی خاموشی جیسے دنیا ہی سُن ہو گئی ہو۔ وہ خوفناک تھی۔
وہ کانپتی ہوئی آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھی۔
“ک… کون ہے؟”
اچانک دروازہ اکھاڑنے کی آواز آئی!
“کون ہے؟!”
“ڈرنا مت،”
دوسری طرف سے جواب آیا۔
“میں تمہیں باہر نکالنے آئی ہوں!”
نیسا رامے کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور اس کا ذہن بالکل خالی ہو چکا تھا۔
باہر سے آنے والی آواز…
کسی نوجوان لڑکی کی لگ رہی تھی۔
وہ کون تھی؟
اور وہ یہاں کیوں آئی تھی؟
“افف! یہ تالا تو حد سے زیادہ ضدی ہے!”
لڑکی نے جھنجھلا کر کہا۔
“اُم… آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں! میں پتھر سے تالا توڑنے والی ہوں!”
نیسا چونک گئی، مگر فوراً اس کی بات مان لی اور دیوار کے کونے کی طرف پیچھے ہٹ گئی۔
اگلے ہی لمحے دروازے پر زور زور سے ضربیں پڑنے لگیں۔ پوری بیسمنٹ میں آواز گونج اٹھی—یہ حد درجہ خوفناک تھا۔
کچھ ہی دیر بعد ایک بھاری دھماکے کی آواز آئی، پھر زنجیر کے گرنے کی کھنک سنائی دی۔
دروازہ کھل گیا۔
مگر نیسا وہیں جمی کھڑی رہ گئی۔ اس کے بازو اور ٹانگیں جیسے سن ہو گئی ہوں۔
“باجی؟”
ایک خوبصورت سی لڑکی تیزی سے اندر آئی۔
“آپ کھڑی کیوں ہیں؟!”
“تم…”
“چلو!”
نیسا کچھ کہہ پاتی، اس سے پہلے ہی نرم اور چھوٹے ہاتھوں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اس لمحے نیسا کے اندر سوچنے کی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ بس اس لڑکی کے ساتھ چلتی گئی—اس اندھیری قید سے نکلنے کے لیے۔
دروازے کے باہر کئی مردہ چوہے پڑے تھے۔ ایک بیس بال بیٹ اور ایک بڑا پتھر بھی وہیں تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ انہی چیزوں سے ان چوہوں کو مارا گیا تھا۔
لڑکی کے ہاتھ دبلے پتلے تھے، مگر بہت گرم۔ جیسے کسی نجات دہندہ کے ہاتھ۔
نیسا نے لاشعوری طور پر اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کا دل بھر آیا، آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ دونوں اندھیرے میں دوڑتی رہیں، یہاں تک کہ سامنے ہلکی سی روشنی نظر آنے لگی۔
“بس، اب آپ محفوظ ہیں۔”
وہ ہوٹل کی راہداری میں ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔ لڑکی نے مسکرا کر نیسا کو لفٹ میں داخل کیا اور سب سے اوپر والے فلور کا بٹن دبا دیا۔
اب جا کر نیسا نے اس لڑکی کا چہرہ دیکھا۔
وہ بےحد خوبصورت تھی۔ مسکراتی آنکھیں، اور ایسی دلکش مسکراہٹ جیسے رنگین کاٹن کینڈی۔
صرف یہی نہیں—
وہ… جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔
نیسا حیران رہ گئی، مگر اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے پہلے کبھی ملی ہو۔
“آپ ٹھیک ہیں نا، باجی؟”
“اَ… ہاں، میں ٹھیک ہوں۔”
ہوش میں آتے ہی نیسا نے شکر گزاری سے اسے دیکھا اور گہرا جھک کر سلام کیا۔
“ارے! یہ کیا؟!”
لڑکی گھبرا گئی۔
“ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں!”
“میرا نام زَینوشہ ہے،”
اس نے مسکرا کر تعارف کروایا۔
“آپ کا نام کیا ہے؟”
تو یہ وہی زَینوشہ ہے…
نیسا خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ اس کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکل سکی۔
کچھ دیر بعد اس نے دھیمی آواز میں پوچھا،
“آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں بیسمنٹ میں ہوں؟ اور آپ خود ایک لڑکی ہیں، وہاں جانا خطرناک تھا! وہ چوہے… کیا انہوں نے آپ کو کچھ نہیں کیا؟ ان پر وائرس ہوتا ہے، وہ بہت خطرناک ہوتے ہیں!”
زَینوشہ لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گئی۔
وہ اس خیراتی ضیافت میں جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ زارمہ رامے نے بار بار فون کر کے اسے مجبور کیا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ تقریب میں داخل ہونے سے پہلے باغ میں کچھ دیر ٹہلے۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ زارمہ کو کسی کو نیسا کو نقصان پہنچانے کی ہدایت دیتے ہوئے سن لے گی۔
یہ اس کی بھابھی تھی۔
وہ کیسے خاموش رہ سکتی تھی؟
اسی لیے اس نے چپکے سے دونوں کا پیچھا کیا، پھر ہوٹل کے سیکیورٹی گارڈ سے اوزار لے کر چوہوں کو مارا۔
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کی بھابھی—خود اپنی حالت کی پروا کیے بغیر—اس کی سلامتی کے بارے میں فکر مند تھی!
اسی لمحے زَینوشہ کے دل میں نیسا کے لیے اپنائیت کئی گنا بڑھ گئی۔
نیسا کے بال بکھرے ہوئے تھے، کپڑے گندے تھے، وہ بری طرح سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں جو روشنی تھی، وہ زَینوشہ کے دل کو چھو گئی۔
اسی لمحے وہ سمجھ گئی کہ میرک کاردار کیوں سینٹرولِس واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔
لفٹ کی گھنٹی بجی اور دروازہ کھل گیا۔
اوپر والے فلور کی شاندار روشنی دیکھ کر نیسا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ زَینوشہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک عالیشان سویٹ میں لے گئی۔
اندر موجود لوگ احترام سے جھک گئے۔
زَینوشہ نے مسکرا کر نیسا کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا۔ نیسا گھبرا گئی۔
“مس زَینوشہ… آپ کیا کر رہی ہیں؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *